TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان

Chapter 47 of کتاب الفضائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 47 of 66 · 12 Hadith
۔ (۱۲۷۱۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حَوَالَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَیَصِیْرُ الْاَمْرُ اِلٰی اَنْ تَکُوْنَ جُنُوْدٌ مجَنَّدَۃٌ، جُنْدٌ بِالشَّامِ، وَجُنْدٌ بِالْیَمَنِ، وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: فَخِرْ لِییَا رَسُولَ اللّٰہِ إِذَا کَانَ ذٰلِکَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((عَلَیْکَ بِالشَّامِ، عَلَیْکَ بِالشَّامِ ثَلَاثًا، عَلَیْکَ بِالشَّامِ، فَمَنْ أَبٰی فَلْیَلْحَقْ بِیَمَنِہِ، وَلْیَسْقِ مِنْ غُدُرِہِ، فَإِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَدْ تَکَفَّلَ لِی بِالشَّامِ وَأَہْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۳۰)
سیدنا عبداللہ بن حوالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب اسلام کو اس قدر غلبہ حاصل ہو گا کہ اہل اسلام کے بہت سے لشکر ہوں گے، ایک لشکر شام میں ایک یمن میں اور ایک عراق میں ہوگا۔ تو ابن حوالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرمجھے یہ دور نصیب ہوتو میرے لیے کسی علاقہ کا انتخاب فرما دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ملک شام میں رہنا، تم شام کو لازم پکڑنا، بس تم شام میں رہنا، جو اس علاقے کا انکار کرے تو وہ یمن میں چلا جائے اور وہاں کے جوہڑوں کا پانی پیے، پس بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۱۷) تخریج: حدیث صحیح بطرقہ وشواھدہ، اخرجہ ابوداود: ۲۴۸۳ (انظر: ۱۷۰۰۵)
12717
Sahih
۔ (۱۲۷۲۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((بَیْنَا أَنَا فِی مَنَامِی أَتَتْنِی الْمَلَائِکَۃُ، فَحَمَلَتْ عَمُودَ الْکِتَابِ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِی فَعَمَدَتْ بِہِ إِلَی الشَّامِ أَلَا فَالْإِیمَانُ حَیْثُ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۲۸)
سیدناعمر وبن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میںسویا ہوا تھا کہ میرے پاس فرشتے آئے، میں نے خواب دیکھا کہ انہوں نے کتاب کا عمود میرے تکیے کے نیچے سے کھینچ لیا، پھر اس کو لے کر شام کی طرف کا قصد کیا، خبردار اصل ایمان شام کے اس علاقے میں ہو گا، جہاں فتنے بپا ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۷۲۰) تخریج: صحیح، أخرجہ الطبرانی فی مسند الشامیین : ۱۳۵۷(انظر: ۱۷۷۷۵)
Explanation
فوائد:… حافظ ابن حجر نے کہا: معبرین اہل علم کا خیال یہ ہے کہ جو آدمی خواب میں عمود دیکھے گا، اس سے مراد دین یا قابل اعتماد شخص ہو گا، اس لیے انھوں نے عمود کی تعبیر دین اور سلطنت کی صورت میں کی ہے۔ (فتح الباری: ۱۲/ ۴۰۳) عمود کے مختلف معانی ہیں، مثال کے طور پر: صبح کی کرن، سہارا، ستون، قابل اعتماد سردارِ قوم، آسمان میں چمکنے والا بگولا، موٹا بانس وغیرہ۔
12720
Sahih
۔ (۱۲۷۲۱)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَیْتُ عَمُودَ الْکِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِی، فَظَنَنْتُ أَنَّہُ مَذْہُوبٌ بِہِ، فَأَتْبَعْتُہُ بَصَرِی فَعُمِدَ بِہِ إِلَی الشَّامِ، أَلَا وَإِنَّ الْإِیمَانَ حِینَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۷۶)
سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا، میں نے دیکھا کہ کتاب کا عمود میرے سر کے نیچے سے اٹھایا گیا، پھر میں نے گمان کیا کہ اسے لے جایا جا رہا ہے، میں نے اپنی نگاہ کو اس کے پیچھے لگائے رکھا، پس اس کو شام لے جایا گیا، خبردار! جب فتنے واقع ہوں گے تو اصل ایمان شام میں ہو گا۔
Takhreej
(۱۲۷۲۱) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ البزار: ۳۳۳۲، والطبرانی فی الشامیین ‘: ۴۴۹ (انظر: ۲۱۷۳۳)
12721
Sahih
۔ (۱۲۷۲۲)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ، إِذْ قَالَ: ((طُوبٰی لِلشَّامِ۔)) قِیلَ: وَلِمَ ذٰلِکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِِ، قَالَ: ((إِنَّ مَلَائِکَۃَ الرَّحْمٰنِ بَاسِطَۃٌ أَجْنِحَتَہَا عَلَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۴۳)
سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بیٹھے مختلف اشیاء پر مکتوب قرآن مجید جمع کر رہے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شام کے لیے خوشخبری ہے؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول! وہ کیوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کے فرشتوں نے اپنے پروں کو اس پر پھیلارکھا ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۲۲) تخریج: اسنادہ حسن، اخرجہ الترمذی: ۳۹۵۴(انظر: ۲۱۶۰۷)
12722
Sahih
۔ (۱۲۷۲۳)۔ عَنِ الْجُرَیْرِیِّ، عَنْ أَبِی الْمَشَّائِ، وَہُوَ لَقِیطُ بْنُ الْمَشَّائِ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ: لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَتَحَوَّلَ خِیَارُ أَہْلِ الْعِرَاقِ إِلَی الشَّامِ، وَیَتَحَوَّلَ شِرَارُ أَہْلِ الشَّامِ إِلَی الْعِرَاقِ، وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیْکُمْ بِالشَّامِ۔)) قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو الْمُثَنّٰییُقَالُ لَہُ: لَقِیطٌ، وَیَقُولُونَ: ابْنُ الْمُثَنّٰی وَأَبُو الْمُثَنّٰی۔ (مسند احمد: ۲۲۴۹۷)
سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:قیامت اس وقت تک بپا نہ ہوگی، جب تک کہ اہل عراق میں سے اچھے لوگ شام کی طرف اور شام کے بد ترین لوگ عراق کی طرف منتقل نہ ہوجائیں اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم شام کے ملک میں سکونت اختیار کرنا۔
Takhreej
(۱۲۷۲۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو المشاء لقیط بن المشاء الباھلی، لم یرو عنہ غیر اثنین، وذکرہ ابن حبان فی الثقات وقال: یخطیء ویخالف اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۲۴۵ (انظر: ۲۲۱۴۵)
12723
Zaeef
۔ (۱۲۷۲۴)۔ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی شَامِنَا ویَمَنِنَا۔)) مَرَّتَیْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ وَفِی مَشْرِقِنَا، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مِنْ ہُنَالِکَ یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ وَلَہَا تِسْعَۃُ أَعْشَارِ الشَّرِّ۔)) (مسند احمد: ۵۶۴۲)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو مرتبہ یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے شام اور یمن میں برکت فرما۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور ہمارے مشرق کے حق میں بھی دعا ہو جائے، لیکن اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہاں سے تو شیطان کے سینگ نمودار ہوں گے اور دنیا کے شر و فساد کے دس1 حصوں میں سے نو حصے وہیں ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۷۲۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۰۹۴ (انظر: ۵۶۴۲)
12724
Sahih
۔ (۱۲۷۲۵)۔ وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا فَسَدَ اَھْلُ الشَّامِ فَلَا خَیْرَ فِیْکُمْ، وَلَنْ تَزَالَ طَائِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِیْ مَنْصُوْرِیْنَ، لَا یَضُرُّھُمْ مَنْ خَالَفَھُمْ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۳۲)
سیدنا قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اہل شام خرابیوں اور فساد میںمبتلا ہوگئے، تو تم مسلمانوں میںکوئی بھلائی نہ ہوگی اور میری امت میں سے ایک گروہ کی اللہ کی طرف سے ہمیشہ مدد کی جائے گی، ان سے ! دس حصوں میں سے نو حصوں والا جملہ بیان کرنے میں عبدالرحمن بن عطاء راوی متفرد ہے اور اس کی متابعت کسی نے نہیں کی، اس لیے یہ الفاظ منکر ہیں۔ تفصیل مسند احمد محقق میں دیکھیں۔ (عبداللہ رفیق)
Takhreej
(۱۲۷۲۵) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ ابن ماجہ: ۶، والترمذی: ۲۱۹۲ (انظر: ۲۰۳۶۱)
Explanation
فوائد:… علاقہ شام مبارک علاقوں میں سے ہے، اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کے علاوہ اسے اپنی ظاہری اور باطنی خیرات و برکات کا مرکز بنایا ہے، علاقے کی زرخیزی و شادابی تو واضح ہے اور باطنی طور پر یہ علاقہ انبیا کی سر زمین رہا ہے۔ لوگ بالعموم فطری طور پر خیر چاہنے والے اور دین حق کے پیروں ہیں، بالخصوص اب اردن اور لبنان کے عوام میں خیر پائی جاتی ہے۔ آخر میں عیسی کا نزول اسی علاقہ میں ہو گا۔ اسی وجہ سے اس علاقے کی طرف ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے۔ ہمیں جو سیاسی اور غیر سیاسی فتنے نظر آتے ہیں، یہ سب وقتی ہیں اور ان سے کوئی علاقہ بھی خالی نہیں ہے، یہ ان شاء اللہ وقت آنے پر ختم ہو جائیں گے۔ ایک مثال یہ ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَوْضِعُ فُسْطَاطِ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ الْمَلَاحِمِ اَرْضٌ یُقَالُ لَھَا الْغُوْطَۃُ۔)) … جنگوں اور فتنوں کے دنوں میں مسلمان ایک ایسی جگہ خیمہ زن ہوں گے، جسے غوطہ کہتے ہوں گے۔ (ابوداود: ۴۶۴۰) سیدنا ابو الدرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ فُْسَطَاطَ الْمُسْلِمِیْنَ یَوْمَ الْمَلْحَمَۃِ بِالْغُوْطَۃِ، اِلٰی جَانِبِ مَدِیْنَۃٍ یُقَالُ لَھَا دِمَشْقُ مِنْ خَیْرِ مَدَائِنِ الشَّامِ۔))… جنگ کے موقع پر مسلمانوں کا خیمہ (مرکز) دمشق نامی شہر کی جانب میں واقع مقام غوطہ ہو گا اور دمشق شام کے بہترین شہروں میں سے ہو گا۔ (ابوداود: ۴۲۴۸)
12725
Sahih
۔ (۱۲۷۲۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ، وَإِنِّی لَأَرْجُو أَنْ تَکُونُوْا ہُمْ یَا أَہْلَ الشَّامِ)) (مسند احمد: ۱۹۵۰۵)
سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، بلاشبہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمیشہ میری امت میں سے ایک گروہ حق پر رہے گا اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اہل شام ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۷۲۶) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ الطیالسی: ۶۸۹، والبزار: ۳۳۱۹، والطبرانی فی الکبیر : ۴۹۶۷ (انظر: ۱۹۲۹۰)
12726
Sahih
۔ (۱۲۷۲۷)۔ وَعَنْ شُرَیْحٍیَعْنِی ابْنَ عُبَیْدٍ قَالَ: ذُکِرَ أَہْلُ الشَّامِ عِنْدَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَہُوَ بِالْعِرَاقِ، فَقَالُوْا: الْعَنْہُمْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ!، قَالَ: لَا، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((الْأَبْدَالُ یَکُونُونَ بِالشَّامِ، وَہُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، کُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللّٰہُ مَکَانَہُ رَجُلًا، یُسْقٰی بِہِمُ الْغَیْثُ، وَیُنْتَصَرُ بِہِمْ عَلَی الْأَعْدَائِ، وَیُصْرَفُ عَنْ أَہْلِ الشَّامِ بِہِمُ الْعَذَابُ۔)) (مسند احمد: ۸۹۶)
شریح بن عبید سے مروی ہے کہ امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عراق میں تھے اور ان کے سامنے اہل شام کا تذکرہ ہونے لگا،لوگوں نے کہا: امیر المومنین! آپ ان پر لعنت کریں، انہوں نے کہا: نہیں، نہیں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ شام میں چالیس آدمی ابدال کے مرتبہ سے شرف یاب ہوں گے، ان میں سے جب ایک فوت ہو گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا، ان کی وساطت سے بارش طلب کی جائے گی اور دشمن کے مقابلہ میں ان کے ذریعے مدد حاصل کی جائے گی اور ان کے سبب اہل شام سے عذاب ٹلیں گے۔
Takhreej
(۱۲۷۲۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، شریح بن عبید لم یُدرک علیا(انظر: ۸۹۶)
Explanation
فوائد:… ابدال کے بارے میں جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں، ان تمام کی اسانید ضعیف ہیں اور وہ اس قابل نہیں ہیں کہ مطلب پورا ہو سکے۔
12727
Zaeef
۔ (۱۲۷۲۸)۔ وَعَنْ خُرَیْمِ بْنِ فَاتِکٍ الْأَسَدِیَّ،یَقُولُ: أَہْلُ الشَّامِ سَوْطُ اللّٰہِ فِی الْأَرْضِ یَنْتَقِمُ بِہِمْ مِمَّنْ یَشَائُ کَیْفَیَشَائُ؟ وَحَرَامٌ عَلٰی مُنَافِقِیہِمْ أَنْ یَظْہَرُوْا عَلٰی مُؤْمِنِیہِمْ، وَلَنْ یَمُوتُوْا إِلَّا ہَمًّا أَوْ غَیْظًا أَوْ حُزْنًا۔ (مسند احمد: ۱۶۱۶۲)
سیدنا خریم بن فاتک اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اہل شام زمین پر اللہ کی لاٹھی ہیں، اللہ ان کے ذریعے جس سے جس طرح چاہے گا، انتقام لے گا، اہل شام کے منافقین وہاں کے مومنین پر غالب نہ آسکیں گے اور وہ کسی نہ کسی پریشانی غصے یا غم سے ہلاک ہوجائیں گے۔
Takhreej
(۱۲۷۲۸) تخریج: اثر ضعیف، ایوب بن میسرۃ بن حلبس، لم یرو عنہ غیر اثنین، و قال ابن حجر: رایت لہ ما ینکر، اخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۴۱۶۳(انظر: ۱۶۰۶۵)
Explanation
فوائد:… عمیر بن اسود اور کثیر بن مرہ حضرمی کہتے ہیں کہ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ابن سمط کہتے تھے: لَایَزَالُ الْمُسْلِمُوْنَ فِیْ الْأَرْضِ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ، وَذٰلِکَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((لَاتَزَالُ مِنْ أُمَّتِیْ عِصَابَۃٌ قَوَّامَۃٌ عَلٰی أَمْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَایَضُرُّھَا مَنْ خَالَفَھَا، تُقَاتِلُ أَعْدَائَ ھَا، کُلَّمَا ذَھَبَ حَرْبٌ نَشَبَ حَرْبُ قَوْمٍ آخَرِیْنَ، یَزِیْغُ اللّٰہُ قُلُوْبَ قَوْمٍ لِیَرْزُقَھُمْ مِنْہُ، حَتّٰی تَأْتِیَھُمُ السَّاعَۃُ، کَأَنَّھَا قِطَعُ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، فَیَفْزَعُوْنَ لِذٰلِکَ حَتّٰی یَلْبَسُوْا لَہٗ أَبْدَانَ الدُّرُوْعِ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھُمْ أَھْلُ الشَّامِ۔)) وَنَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِإِصْبَعِہٖ، یُوْمِیُٔ إِلَی الشَّامِ حَتّٰی أَوْجَعَھَا۔ … مسلمان زمین میں قیامت کے برپا ہونے تک موجود رہیں گے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی ایک جماعت اللہ کے حکم پر قائم دائم رہے گی، اس کا مخالف اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، وہ اپنے دشمنوں سے جہاد کرتی رہے گی، جب کبھی ایک لڑائی ختم ہو گی تو دوسری جنگ چھڑ جائے گی، اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کو راہِ راست سے ہٹاتا رہے گا تاکہ ان سے (مالِ غنیمت کے ذریعے) ان کو رزق دیتا رہے، حتی کہ قیامت آ جائے گی، گویا کہ وہ اندھیری رات کے ٹکڑے ہوں گے، اس وجہ سے وہ گھبرا جائیں گے، حتی کہ وہ چھوٹی چھوٹی زرہیں پہنیں گے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اہل شام ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی انگلی کے ساتھ زمین کو کریدا (یعنی شام کی طرف خط کھینچا)، حتی کہ آپ کو تکلیف بھی ہوئی۔ (تاریخ ابن عساکر: ۱/ ۵۲۸، صحیحہ: ۳۴۲۵) امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس حدیث پر بُشْرٰی لِاَھْلِ الشَّامِ الْمُؤْمِنِیْنَ کی سرخی ثبت کی۔ جغرافیائی حدود تبدیل ہونے کی وجہ سے موجودہ شام اور احادیث میں مذکورہ شام کی حدود میں بہت زیادہ فرق ہے، قدیم شام کئی ممالک میں تقسیم ہو چکا ہے، معجم البلدان کے بیان کے مطابق جزیرہ نماعرب کا شمالی علاقہ شام کہلاتا تھا، یہ علاقہ انطاکیہ ، موجودہ شام، اردن پر اور فلسطین سے عسقلان پر مشتمل تھا۔ مختلف احادیث ِ صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حجاز، شام اور یمن اسلام و ایمان کے مراکز ہیں اور یہاں سے اسلام اور ایمان کاعلم بلند ہوتا رہے گا اور مدینہ سے مشرق کی جانب واقع عراق کا علاقہ فتنوں کا سرچشمہ اور ضلالت و گمراہی کا مرکز ہے، یہاں سے بہت سے فتنوں نے جنم لیا، یہاں خیر کم اور شر زیادہ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یمن و شام کے لیے خصوصی برکت کی دعا فرمائی۔ اس لیے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پیدائشی اور آبائی علاقہ مکہ مکرمہ یمن کا اور مدینہ منورہ شام کا شہر تھا، جیسا کہ علامہ شرف الدین طیبی نے مشکوۃ المصابیح کی شرح میں کہا ہے۔ ان احادیث میں شام میں بسیرا کرنے والے ان لوگوں کے لیے بشارت ہے، جو سنت کی تائید کرنے والے، اس پر عمل کرنے والے، اس کا دفاع کرنے والے اور اس کی طرف دعوت دینے میں صبر کرنے والے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں بھی ان میں سے بنا دے اور ان کے زمرے میں ہمارا حشر کرے، جبکہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جھنڈے کے سائے میں ہوں۔ احادیث ِ مبارکہ میں سرزمینِ شام اور اہل شام کو سراہا گیا، ماضی میں یہ علاقہ اہل علم اور اہل تقوی لوگوں کی آماجگاہ بنا رہا، مستقبل میں بھی اس علاقے میں خیر و بھلائی زیادہ ہو گی۔ سیدنا ابن حوالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انجام یہ ہو گا کہ تم مختلف لشکروں میں بٹ جاؤ گے، ایک لشکر شام میں، ایک یمن میں اور ایک عراق میں ہو گا۔ ابن حوالہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں یہ زمانہ پا لوںتو آپ میرے لیے کون سا علاقہ مختار (وپسندیدہ) سمجھیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شام کو لازم پکڑنا، یہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ زمین ہے، اللہ تعالیٰ اپنے مختار بندوں کو اس کی طرف لائے گا، اگر تم ایسا کرنے سے انکار کرو تو پھر یمن کو لازم پکڑنا اور اپنے حوض سے پینا، بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کی ضمانت دی ہے، (یعنی وہ فتنوں سے محفوظ رہیں گے)۔ (ابوداود: ۲۴۸۳)
12728
Zaeef

Chapters

66
01
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
20 Hadith
02
باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
7 Hadith
03
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
9 Hadith
04
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
5 Hadith
05
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
4 Hadith
06
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
7 Hadith
07
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
2 Hadith
08
باب دوم: دور اول اور دورثانی کی فضیلت
4 Hadith
09
باب سوم: دور اول، دورِ دوم اور دورِ سوم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
10
باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
4 Hadith
11
عربوں کی مطلق فضیلت کا بیان
4 Hadith
12
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
4 Hadith
13
باب دوم: اس امر کا بیان کہ قریش کی اقتداء کی جائے اور خلافت ان ہی کا استحقاق ہے
6 Hadith
14
باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کا بیان
9 Hadith
15
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
2 Hadith
16
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
17
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
4 Hadith
18
باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
7 Hadith
19
بجیلہ، احمس، قیس اورناجیہ کے قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
20
بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
21
بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
3 Hadith
22
ربیعہ اور مضر ے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
4 Hadith
23
بنو نجران، بنو تغلب، بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
2 Hadith
24
مضر قبیلے کی مذمت میں وارد شدہ احادیث
2 Hadith
25
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
26
باب دوم: مسجد حرام یعنی مکہ کی مسجد کا تذکرہ
3 Hadith
27
باب سوم: آب زمزم کی فضیلت
3 Hadith
28
باب چہارم: مکہ مکرمہ کے راستے میں واقع وادی سرر کا تذکرہ
1 Hadith
29
باب پنجم: مکہ کے قبرستان اور بیت اللہ کے بالمقابل واقع گھاٹی کا تذکرہ
1 Hadith
30
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
17 Hadith
31
باب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
10 Hadith
32
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
14 Hadith
33
باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
6 Hadith
34
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
5 Hadith
35
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
5 Hadith
36
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
7 Hadith
37
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
7 Hadith
38
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
4 Hadith
39
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
3 Hadith
40
فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
2 Hadith
41
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
42
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
3 Hadith
43
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
3 Hadith
44
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
5 Hadith
45
باب نہم: بقیع، احد اور حجاز کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
46
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
5 Hadith
47
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
12 Hadith
48
فصل دوم: دمشق اور غوطہ کی فضیلت
3 Hadith
49
فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
50
فصل چہارم: عسقلان کی فضیلت
1 Hadith
51
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
52
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
8 Hadith
53
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
4 Hadith
54
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
55
باب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
1 Hadith
56
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
3 Hadith
57
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
1 Hadith
58
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
59
فصل: صبح کے اوقات کی فضیلت
2 Hadith
60
باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
61
فصل: نصف شعبان کی رات فضیلت
2 Hadith
62
فصل: یوم عرفہ کی فضیلت
1 Hadith
63
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
4 Hadith
64
فصل: کھجور اور عجوہ کی فضیلت
5 Hadith
65
نر کھجور کا بور مادہ کھجور پر ڈالنے کا بیان
1 Hadith
66
فصل: شجر کاری وغیرہ کی فضیلت
2 Hadith
No chapter matched that.