TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2802 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 10 in this chapter
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
۔ (۲۸۰۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ أَنْصِتْ فَقَدْ لَغَیْتَ۔)) قَالَ سُفْیَانُ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ ھِیَ لُغَۃُ أَبِی ھُرَیْرَۃَ۔ (مسند احمد: ۷۳۲۸)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو جمعہ کے دن اپنے ساتھی کو کہے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو، کہ تو خاموش ہوجا تو تحقیق تو لغو کام کرے گا۔ ابوزناد نے کہا: لَغَوْتَ کو لَغَیْتَ پڑھنا سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی لغت ہے۔
2802
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۸۰۲) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۹۳۴، ومسلم: ۸۵۱ (انظر: ۷۳۳۲، ۷۶۸۶)

Related Chapters

118
1
Chapter: [What Has Been Related] About Two Rak'ah When One Arrives While the Imam Is Delivering The Khubah
باب: خطبہ کے دوران آدمی آئے تو پہلے دو رکعت نماز پڑھے
Jam e Tirmazi
2
Chapter: [What Has Been Related] About It Being Disliked To Step Over (The Necks Of Others) On Friday
باب: جمعہ کے دن (دوران خطبہ) لوگوں کی گردنیں پھاندنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
3
قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہنے کی کراہیت کا بیان
Musnad Ahmad
4
جو لوگ خطبۂ جمعہ کے دوران نبی کریمaسے بھاگ گئے تھے، ان کے قصے کا بیان
Musnad Ahmad
5
ایامِ تشریق کے دوران آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطبہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
6
(23) CHAPTER. The talk of the Imam and if the Imam is asked about something while he is delivering the Khutba.
عید کے خطبہ میں امام کا اور لوگوں کا باتیں کرنا
Sahih Bukhari
7
(20) CHAPTER. Whoever starts his Salat (prayer) sitting (because of ailment) and then during the Salat (prayer) feels better, can finish the rest while standing. 138
اگر کسی شخص نے نماز بیٹھ کر شروع کی لیکن دوران نماز میں وہ تندرست ہو گیا یا مرض میں کچھ کمی محسوس کی تو باقی نماز کھڑے ہو کر پوری کرے
Sahih Bukhari
8
CHAPTER: The Imam Talking To Someobe During His Khutbah.
باب: امام کا خطبہ کے دوران کسی آدمی سے بات کرنا جائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
9
CHAPTER: A Person Yawns When The Imam Delivers The Khutbah.
باب: امام کے خطبہ کے دوران آدمی کو اونگھ آئے تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
10
دوران خطبہ مسجد میں آنے والا کیا کرے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
11
نماز جمعہ سے پہلے حلقہ بنا کر اور دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
12
دوران خطبہ امام کی جانب منہ کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
13
خطبہ کے دوران امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
14
Chapter: What Has Been Related About The Hands No Being Cut In Battles
باب: دوران جنگ چور کے ہاتھ نہ کاٹے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: Regarding Burning And Destroying
باب: دوران جنگ کفار و مشرکین کے گھر جلانے اور ویران کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Fasting In The Cause Of Allah
باب: دوران جہاد روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Permitting The Wearing Of Silk During War
باب: دوران جنگ ریشم پہننے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Sittings Are To Be Held In Trust
باب: مجلس کی باتیں امانت ہیں
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About: Indeed There Is Magic In Eloquence (Al-Bayan)
باب: کچھ باتیں جادو کی سی اثر رکھتی ہیں
Jam e Tirmazi
20
باب: بعض اشعار میں حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں
Jam e Tirmazi
21
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ
دوران نماز نا جائز اور مباح اعمال کا بیان
Mishkat
22
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
23
اس معاملے میں رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
24
نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
25
اس امام کے حکم کا بیان، جس کو (دورانِ نماز) یہ یاد آجائے کہ وہ بے وضو ہے
Musnad Ahmad
26
اکیلے آدمی کا (دورانِ نماز) امامت کی طرف منتقل ہوجانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
27
امام اور لوگوں کا دعا کے دوران اپنی اپنی چادریں تبدیل کرنے اور ان کی کیفیت اور وقت کا بیان
Musnad Ahmad
28
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
Musnad Ahmad
29
رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
Musnad Ahmad
30
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
Musnad Ahmad
31
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
32
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
34
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
35
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
36
وہ افراد جن کے نام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
Musnad Ahmad
37
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
38
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
Musnad Ahmad
39
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
Musnad Ahmad
40
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
41
ذمیوں اورمعاہدہ والوں کے قتل کے حرام ہونے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
42
اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
43
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریمa کے خاصے کا بیان
Musnad Ahmad
44
میاں بیوی کو جماع کے دوران والے امور کو دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے منع کرنا
Musnad Ahmad
45
ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
Musnad Ahmad
46
پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
47
پانی پینے کے دوران برتن سے باہر تین سانس لینا مستحب ہے
Musnad Ahmad
48
لباس کے معاملے میں شہرت اور کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی ممانعت اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
49
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بھوک کا واقعہ اور اس معاملے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عظیم معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
50
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

7
Musnad Ahmad
2762
۔ (۲۷۶۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمَلَائِکَۃَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ عَلٰی أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ یَکْتُبُوْنَ النَّاسَ عَلَی مَنَازِلِھِمْ، جَائَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَۃِ کَذَا، جَائَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَۃِ کَذَا، جَائَ فُلَانٌ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ، جَائَ فُلَانٌ فَأَدْرَکَ الصَّلَاۃَ وَلَمْ یُدْرِکِ الْجُمُعَۃَ اِذَا لَمْ یُدْرِکِ الْخُطْبَۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۰۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک فرشتے جمعہ کے دن مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور مراتب کے لحاظ سے لوگوں کا اندراج کرتے ہیں کہ فلاں آدمی فلاں گھڑی میں اور فلاں فلاں ٹائم پر پر آیا اور فلاں اس وقت آیا جب امام خطبہ دے رہا تھا اور فلاں نے نماز تو پالی لیکن جمعہ نہ پا سکا، کیونکہ اس سے خطبہ رہ گیا تھا۔
Musnad Ahmad
2803
۔ (۲۸۰۳)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ أَنْصِتْ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَقَدْ لَغَوْتَ۔ (مسند احمد: ۹۱۳۶)
(دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے ساتھی کو جمعہ کے دن یہ کہے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو، کہ تو خاموش ہوجا اور امام خطبہ دے رہا ہو، پس تحقیق تو نے لغو کام کیا۔
Musnad Ahmad
2600
۔ (۲۶۰۰) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ أَوْ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَا یَخَافُ الَّذِی یَرْفَعُ رَأْسَہُ وَالْاِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ یُحَوِّلَ اللّٰہُ رَأْسَہُ رَأْسَ حِمَارٍ۔)) (مسند احمد: ۷۵۲۵)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا جو شخص اپنا سر اٹھا لیتا ہے، جبکہ امام سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کے سر میں تبدیل کر دے۔
Musnad Ahmad
2773
۔ (۲۷۷۳) عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُہَنِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ نَھٰی عَنِ الْحَبْوَۃِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۱۵)
سیّدنا معاذ بن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمعہ کے دن حبوہ سے منع فرمایا ہے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو۔
Musnad Ahmad
2778
۔ (۲۷۷۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ سُلَیْکًا جَائَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ فَجَلَسَ فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُصَلِّیَ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ: ((اِذَا جَائَ أَحَدُکُمْ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ فَلْیُصَلِّ رَکْعَتَیْنِ یَتَجَوَّزْ فِیْہِمَا)) (مسند احمد: ۱۴۲۲۰)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا سلیک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور بیٹھ گئے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا اور پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: جب تم میں سے کوئی (مسجد میں) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو، تو وہ تخفیف کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھ لیا کرے۔
Musnad Ahmad
10792
۔ (۱۰۷۹۲)۔ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ذِی الْقَعْدَۃِ، فَأَبٰی أَہْلُ مَکَّۃَ أَنْ یَدَعُوہُیَدْخُلُ مَکَّۃَ حَتّٰی قَاضَاہُمْ عَلٰی أَنْ یُقِیمَ بِہَا ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ، فَلَمَّا کَتَبُوا الْکِتَابَ کَتَبُوا ہٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ، قَالُوا: لَا نُقِرُّ بِہٰذَا، لَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ مَا مَنَعْنَاکَ شَیْئًا، وَلٰکِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: ((أَنَا رَسُولُ اللّٰہِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ۔)) قَالَ لِعَلِیٍّ: ((امْحُ رَسُولُ اللّٰہِ۔)) قَالَ: وَاللّٰہِ! لَا أَمْحُوکَ أَبَدًا، فَأَخَذَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْکِتَابَ وَلَیْسَیُحْسِنُ أَنْ یَکْتُبَ فَکَتَبَ مَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ہٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، أَنْ لَا یُدْخِلَ مَکَّۃَ السِّلَاحَ إِلَّا السَّیْفَ فِی الْقِرَابِ، وَلَا یَخْرُجَ مِنْ أَہْلِہَا أَحَدٌ إِلَّا مَنْ أَرَادَ أَنْ یَتَّبِعَہُ، وَلَا یَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِہِ أَنْ یُقِیمَ بِہَا، فَلَمَّا دَخَلَہَا وَمَضَی الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِیًّا فَقَالُوْا: قُلْ لِصَاحِبِکَ فَلْیَخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَی الْأَجَلُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۳۸)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذوالقعدہ کے مہینے میں عمرہ کا قصد کیا، لیکن اہلِ مکہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیا،یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان سے یہ معاہدہ ہوا کہ آپ آئندہ سال مکہ میں تین دن قیام کر سکیں گے، جب معاہدہ کی عبارت لکھنے لگے تو انہوں نے لکھا: یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول اللہ نے اتفاق کیا ہے، قریش کہنے لگے: ہم تو اس کا اقرار ہی نہیں کرتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول تسلیم کرتے تو ہم آپ کو کسی بھی بات سے نہ روکتے، آپ تو محمد بن عبداللہ ہیں ( یہی لکھو)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں رسول اللہ بھی ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی ہوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: رسول اللہ کا لفظ کو مٹا دو۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں کبھی بھییہ نہیں مٹاؤں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ کاغذ لے لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اچھی طرح لکھ نہیں سکتے تھے۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اس لفظ کو مٹا دو۔ انہوں نے عرض کیا: میں تو ان الفاظ کو مٹا نہیں سکتا۔تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس لفظ کو مٹا دیا۔ اس کے بعد سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لفظ کی جگہ یوں لکھا: یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی ہے، وہ مکہ میں اسلحہ لے کر داخل نہ ہوں گے، ان کے پاس صرف تلواریں ہوں گی اور وہ بھی نیام کے اندر ہوں گی اور وہ اہل مکہ میں سے کسی کو بھی اپنے ساتھ نہیں لے جا سکیں گے، مگر وہ جو اس کی پیروی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو1 اور اگر ان کے ساتھیوں میں سے کوئی مستقل طور پرمکہ مکرمہ میں رہنا چاہے تو یہ اسے نہیں روکیں گے، اگلے سال جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ آئے اور مقرر وقت گزر گیا تو قریشی لوگ سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ اپنے رسول سے کہیں کہ مقرر وقت گزر گیا ہے، اب یہاں سے نکل لے جائیں۔ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے روانہ ہو گئے۔
Musnad Ahmad
10835
۔ (۱۰۸۳۵)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا دَخَلَ مَکَّۃَ فِیْ عُمْرَۃِ الْقَضَائِ اَتَوْا عَلِیًّا فَقَالُوْا: قُلْ لِصَاحِبِکَ فَلْیَخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَی الْاَجَلُ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۳۸)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ عمرۂ قضاء کے موقع پر جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو ( مقرر وقت گزرنے پر ) قریشِ مکہ نے سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو آکر کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ساتھی سے کہیں کہ مقرر وقت ختم ہو چکا ہے، لہٰذا وہ یہاں سے روانہ ہو جائیں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ سے روانہ ہو گئے۔