TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عذاب قبر کے ابواب - عذاب قبر کے ابواب - Book 62 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 62 of Musnad Ahmad, with 7 chapters and 46 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

46 Hadith · 7 Chapters
قبروں کے اوپر مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۳۳۳۷) عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَدْخِلْ عَلَیَّ أَصْحَابِی، فَدَخَلُوْا عَلَیْہِ فَکَشَفَ القِنَاعَ، ثُمَّ قَالَ: ((لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی، اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ)) (مسند احمد: ۲۲۱۱۷)
سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: میرے صحابہ کو میرے پاس بلاؤ۔ پس وہ آگئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر والا کپڑا ہٹایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود ونصاریٰ پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا ۔
Takhreej
(۳۳۳۷) تخر یـج:…صحیح لغیرہ أخرجہ الطیالسی: ۶۳۴، والبزار سی ’’مسندہ‘‘: ۲۶۰۹، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۳۹۳، ۴۱۱ (انظر: ۲۱۷۷۴)
3337
Sahih
قبروں کے اوپر مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۳۳۳۸)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) إلِاَّ إِنَّہُ قَالَ فَدَخَلُوْا عَلَیْہِ وَہُوَ مُتَقَنِّعٌ بِبُرْدٍ لَہُ مَعَافِرِیٍّ وَلَمْ یَقُلْ وَالنَّصَارٰی۔ (مسند احمد: ۲۲۱۱۸)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: جب صحابہ آئے تو اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یمن کی بنی ہوئی معافری چادر لپیٹی ہوئی تھی، اس روایت میں نصاری کا لفظ نہیں ہے۔
Takhreej
(۳۳۳۸)تخر یـج:…انظر الحدیث بالطریق الاول
3338
Sahih
قبروں کے اوپر مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۳۳۳۹) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِی وَثَنًا، لَعَنَ اللّٰہُ قَوْمًا، اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ۔)) (مسند احمد: ۷۳۵۲)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا، اللہ ایسے لوگوں پر لعنت کرے، جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔
Takhreej
(۳۳۳۹) تخر یـج:…اسنادہ قوی أخرجہ الحمیدی: ۱۰۲۵، وابن سعد: ۲/ ۲۴۱، وابن عبد البر فی ’’التمھید‘‘: ۵/ ۴۴(انظر: ۷۳۵۸)
Explanation
فوائد: چونکہ یہود و نصاری انبیاء کی تعظیم میں ان کی قبروں کو سجدہ کرتے تھے اور نماز میں ان کی طرف متوجہ ہوتے تھے، اس طرح انھوں نے ان قبروں کو بت بنا رکھا تھا، اس لیے آپ a نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ آپa کی قبر بت نہ بن جائے۔ جو لوگ مخصوص ہیئت اور عجزو انکساری کے ساتھ مسجد نبوی میں آپ a کی قبر مبارک کی طرف رخ کر کے ذکر و اذکار یا درود و سلام کا اہتمام کرتے ہیں، ان کو اس قسم کی احادیث کی روشنی میں اپنے کیے سے باز آ جانا چاہیے۔
3339
Sahih
قبروں کے اوپر مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۳۳۴۰) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَتَّخِذُوْا قَبْرِیْ عِیْدًا وَلاَ تَجْعَلُوْا بُیُوتَکُمْ قُبُوْرًا، وَحَیْثُمَا کُنْتُمْ فَصَلُّوْا عَلَیَّ فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ تَبْلُغُنِیْ۔)) (مسند احمد: ۸۷۹۰)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری قبر کو عید نہ بنا لینا اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنا لینا، تم جہاں کہیں بھی ہو، مجھ پر درود بھیج دیا کرو، بے شک تمہارا درود مجھ تک پہنچ جائے گا۔
Takhreej
(۳۳۴۰) تخر یـج:…اسنادہ حسن أخرجہ ابوداود: ۲۰۴۲ (انظر: ۸۸۰۴)
Explanation
فوائد: ’’میری قبر کو عید نہ بنا لینا ‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ a کی قبر مبارک کو میلہ گاہ نہ بنا لیا جائے اور اس کی زیارت کے لیے ایام و اوقات کو مخصوص نہ کر لیا جائے اور حج و عمرہ یا مسجد ِ حرام اور مسجد ِ نبوی کی طرح کسی سفر کا مقصود اس کی زیارت نہ ہو، وگرنہ یہودو نصاری کے ساتھ مشابہت قرار پائے گی۔
3340
Sahih
قبروں کے اوپر مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۳۳۴۱) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی مَرَضِہِ الَّذِی لَمْ یَقُمْ مِنْہُ: ((لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی فَإِنَّہُمُ اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ۔)) قَالَتْ: وَلَوْلَا ذَالِکَ أُبْرِزَ قَبْرُہُ، غَیْرَ أَنَّہُ خُشِیَ أَنْ یُتَّخَذَ مَسْجِدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۰۱۸)
اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنا لینا اس کا مفہوم یہ ہے کہ گھروں میں نفلی عبادت کا اہتمام کیا جائے اور اسے قبر نہ بنا دیا جائے کہ اس میں کوئی عبادت نہ ہوتی ہو۔
Takhreej
(۳۳۴۱) تخر یـج:…أخرجہ البخاری: ۱۳۳۰،ومسلم: ۵۲۹(انظر: ۲۴۵۱۳)
3341
Sahih
قبروں کے اوپر مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۳۳۴۲) عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: آخِرُ مَا تَکَلَّمَ بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَخْرِجُوْا یَہُوْدَ أَہْلِ الْحِجَازِ وَأَہْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ شِرَارَ النَّاسِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ)) (مسند احمد: ۱۶۹۱)
سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے آخری بات یہ فرمائی تھی: حجاز کے یہودیوں اور نجران والوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دو اور یاد رکھو کہ سب سے برے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا۔
Takhreej
(۳۳۴۲) تخر یـج:…اسنادہ صحیح أخرجہ الطیالسی: ۲۲۹،والدارمی: ۲۴۹۸، والبزار: ۴۳۹، والطحاوی فی ’’شرح مشکل الآثار‘‘: ۴/ ۱۲، والبیھقی: ۹/ ۲۰۸(انظر: ۱۶۹۱)
Explanation
فوائد:ان احادیث سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانا، ان پر مسجدیں تعمیر کرنا اور ان پر سجدہ کرنا شرعاً حرام ہے، جب نبی کریمa، سیدنا ابو بکر اور سیدناعمرcکی قبریں سیدہ عائشہcکے حجرے میں بنائی گئی تھیں تو اس وقت وہ جگہ مسجد نبوی کا حصہ نہیں تھی، بعدمیں کی جانے والی توسیع کی وجہ سے اس مقام کو مسجدکی حدود نے گھیر لیا۔
3342
Sahih