TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3625 - شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 6 in this chapter
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
۔ (۳۶۲۵) عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍِالضَّبِّیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الصَّدَقَۃُ عَلَی الْمِسْکِیْنِ صَدَقَۃٌ، وَعَلٰی ذِی الْقَرَابَۃِ اثْنَتَانِ، صِلَۃٌ وَصَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۳۱)
۔ سیدناسلیمان بن عامر ضبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنے سے صرف صدقے کا ثواب ملتا ہے اور رشتہ دار پر صدقہ کرنے سے دو اجر ملتے ہیں، ایک صلہ رحمی کا اور دوسرا صدقے کا۔
3625
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۶۲۵) حدیث صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الترمذی: ۶۵۸، ۶۹۵، ابن ماجہ: ۱۸۴۴، والنسائی: ۵/ ۹۲(انظر: ۱۶۲۲۷)

Related Chapters

334
1
Chapter: What Has Been Related About Charity For Near Relatives
باب: رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
(17) CHAPTER. The proof of the fact that Khumus is for the lmam (i.e., ruler), and taht he has the right to give thereof to some of his relatives to exclusion of others. Whatr the Prophet (p.b.u.h) distributed to Bani Al-Muttalib and Bani Hashim from the Khumus of the Khaibar booty.
اس کی دلیل کہ خمس میں امام کو اختیار ہے وہ اسے اپنے بعض ( مستحق ) رشتہ داروں کو بھی دے سکتا ہے
Sahih Bukhari
3
Chapter: The virtue of spending and giving charity to relatives, spuses, children and parents, even if they are idolaters
رشتہ داروں ‘خاوند‘اولاد ‘اور والدین پرچاہے وہ کافر ہوں ‘خرچ کرنے اور صدقہ کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
4
باب: رشتہ داروں کو صدقہ دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
Chapter: What Has Been Related About: Charity Is Taken from The Rich To Be Distributed To The Poor
باب: مالداروں سے صدقہ لے کر فقراء و مساکین کو لوٹانے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: (What Has Been Related About) The Indebted And Others For Whom Charity Is Lawful
باب: قرض داروں اور دیگر لوگوں میں سے کس کس کے لیے زکاۃ حلال ہے؟
Jam e Tirmazi
7
اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
Musnad Ahmad
8
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
Musnad Ahmad
9
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
10
کیا دودھ پلانے والی خاتون کے خاوند اور اس کے رشتہ داروں کے لیے بھی رضاعت کا حکم ثابت ہو جائے گا یا نہیں
Musnad Ahmad
11
خاوند کی حیثیت کے مطابق بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے، دوسرے رشتہ داروں پر اس کا حق مقدم ہے اور اس خدمت میں خاوند کا اجر و ثواب
Musnad Ahmad
12
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
Musnad Ahmad
13
(21) CHAPTER. To exhort one to give in charity and to intercede for the same purpose.
لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلانا اور اس کے لیے سفارش کرنا
Sahih Bukhari
14
(44) CHAPTER. The giving of Zakat to relatives.
اپنے رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا
Sahih Bukhari
15
(3) CHAPTER. Al-Mukatab is permitted to ask others to help him (get his liberation).
اگر مکاتب دوسروں سے مدد چاہے اور لوگوں سے سوال کرے تو کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
16
(37) CHAPTER. If somebody gives another person a horse (as a gift) then the rule is the same as that concerning the Umra or Sadaqa (i.e., the giver has no right to claim restitution).
جب کوئی کسی شخص کو گھوڑا سواری کے لیے ہدیہ کر دے تو وہ عمریٰ اور صدقہ کی طرح ہوتا ہے ( کہ اسے واپس نہیں لیا جا سکتا ) لیکن بعض لوگوں نے کہا ہے کہ وہ واپس لیا جا سکتا ہے ۔
Sahih Bukhari
17
(12) CHAPTER. The virtues of the relatives of Allah's Messenger . And the merits of Fatima the daughter of the Prophet.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہداروں کے فضائل اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کا بیان
Sahih Bukhari
18
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
Sahih Muslim
19
Chapter: Straightening The Rows; The Virtue Of The Front Row And Then The Next; Competing With One Another For The Front Row; The People Of Virtue Should Take Precedence And Be Closest To The Imam
صفوں کو برابر اور سیدھا کرنا اور اولیت کے حساب سے صفوں کی فضیلت، پہلی صف میں شرکت کے لیے ازدحام اور مسابقت، جن لوگوں کو (دوسروں پر) فضیلت حاصل ہے ان کو آگے کرنا اور امام کے قریب جگہ دینا۔
Sahih Muslim
20
جنین کی دیت اور قتل خطا اورقتل شبہ عمد میں مجرم کے عاقلہ (باپ کی طرف سے عصبہ رشتہ داروں )پر دیت واجب ہے
Sahih Muslim
21
CHAPTER: What Has Been Related About Abrogating The Will For The Parents And Near Relatives.
باب: ماں باپ اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
22
CHAPTER: An Oath To Sever Ties Of Kinship.
باب: رشتہ داروں سے بے تعلقی کی قسم کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
23
بچے کا حقدار بستر والا (شوہر) ہے اور پتھر کا مستحق زانی
Sunnan Ibn e Maja
24
کیا شوہر کے علاوہ عورت دوسرے لوگوں کا سوگ منا سکتی ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
25
عورت کی دیت اس کے عصبہ (باپ کے رشتہ داروں) پر ہے اور اس کی میراث اس کی اولاد کو ملے گی
Sunnan Ibn e Maja
26
عیدین کے خطبے میں امام لوگوں کو صدقہ کرنے پر ابھارے۔
Sunnan Nisai
27
Chapter: [What Has Been Related] About It Being Disliked To Step Over (The Necks Of Others) On Friday
باب: جمعہ کے دن (دوران خطبہ) لوگوں کی گردنیں پھاندنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The One Who Prays The Obligatory Prayer, Then Leads The People In Prayer After That
باب: فرض نماز پڑھنے کے بعد لوگوں کی امامت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Begging
باب: دوسروں سے مانگنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Mawaqit For Ihram For Each Region's People
باب: آفاقی لوگوں کے لیے احرام باندھنے کی میقاتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For The People To Crowd When Stoning The Jimar
باب: جمرات کی رمی کے وقت لوگوں کو دھکیلنے اور ہٹانے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
33
Chapter: About Who Is Given Spoils Of War (Al-Fay')
باب: مال غنیمت کن لوگوں کے درمیان تقسیم ہو گا
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The People Who Have An Excuse Not To Participate
باب: معذور لوگوں کے لیے جہاد نہ کرنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Those On The Right Have More Right To The Drink
باب: دائیں طرف والے مشروب کے زیادہ مستحق ہیں
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Being Merciful With People
باب: لوگوں پر مہربانی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Having Amicable Relations With People
باب: حسن معاشرت (یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے رہنے) کا بیان
Jam e Tirmazi
38
باب: ترکہ کے مستحق میت کے وارث ہیں
Jam e Tirmazi
39
باب: لوگوں کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں
Jam e Tirmazi
40
Chapter: When The Evil Among My Ummah Will Be Set Over The Best Of Them
باب: برے لوگ اچھے لوگوں پر غلبہ پا لیں گے اس زمانے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
باب: ان لوگوں کا بیان جن کی گواہی درست نہیں
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About 'The Parable Of Th World Is That Of Four People'
باب: دنیا کی مثال چار قسم کے لوگوں کی مانند ہے
Jam e Tirmazi
43
باب: صرف موحد ہی شفاعت نبوی کا مستحق ہو گا
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Group That Sits And They Do Not Remember Allah
باب: لوگوں کی مجلس اللہ کے ذکر سے غافل ہو اس کی برائی کا بیان
Jam e Tirmazi
46
بَاب تغير النَّاس
لوگوں میں تغیر و تبدل کا بیان
Mishkat
47
بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاس
قیامت بُرے لوگوں پر ہی قائم ہو گی
Mishkat
48
عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا
Musnad Ahmad
49
آپ کے ارشاد تم پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے کا بیان
Musnad Ahmad
50
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو چمڑے کو رنگنے کے بعد مردار کے بالوں کی طہارت کے قائل ہیں
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

4
Musnad Ahmad
3363
۔ (۳۳۶۳) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّہُ قَالَ: أَتٰی رَجُلٌ مِنْ بَنِی تَمِیْمٍ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ ذُوْمَالٍ کَثِیْرٍ وَذُوْ أَہْلٍ وَوَلَدٍ وَحَاضِرَۃٍ، فَاَخْبِرْنِی کَیْفَ اُنْفِقُ وَکَیْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُخْرِجُ الزَّکَاۃَ مِنْ مَالِکَ،فَإِنَّہَا طُہْرَۃٌ تُطَہِّرُکَ، وَتَصِلُ أَقْرِبَائَکَ وَتَعْرِفُ حَقَّ السَّائِلِ وَالْجَارِ وَالْمِسْکِیْنِ۔)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَقْلِلْ لِیْ۔ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَآتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہُ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًاَ)) قَالَ: حَسْبِی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِذَا أَدَّیْتُ الزَّکَاۃَ إِلٰی رَسُوْلِکَ فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْہَا إِلٰی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ إِذَا أَدَّیْتَہَا إِلٰی رَسُوْلِیْ فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْھَا، فَلَکَ أَجْرُہَا وَإِثْمُہَا عَلٰی مَنْ بَدَّلَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۲۱)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: بنو تمیم کا ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کافی مال دار ہوں اور میرا خاندان بھی بڑا ہے، بچے بھی ہیں اور میرے ہاں مہمان بھی بکثرت آتے ہیں، اب آپ مجھے بتائیں کہ میں مال کیسے خرچ کروں یا کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے مال کی زکوۃ ادا کیا کر، یہ پاکیزہ عمل تجھے پاک کر دے گا، اسی طرح اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کیا کر اور تجھے سائل، پڑوسی اور مسکین کے حق کی بھی معرفت ہونی چاہیے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان باتوں کو میرے لیے ذرا اختصار کے ساتھ واضح کرو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کے حقوق ادا کر اور فضول خرچی سے بچ۔ یہ سن کر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرے لیے کافی ہے کہ جب میں آپ کے قاصد کو زکوۃ ادا کردوں تو کیا میں اللہ اور رسول کے ہاں اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو جائوں گا؟رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب تو میرے قاصد کو زکوۃ ادا کردے گا تو تو اس سے بری ہو جائے گا اور تجھے اس کا اجر مل جا ئے گا، ہاں جو اس کو (ناجائز انداز میں) تبدیل کر دے گا تو اس کا گناہ اسی پر ہی ہو گا۔
Musnad Ahmad
3546
۔ (۳۵۴۶) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ بُجَیْدٍ عَنْ جَدَّتِہِ اُمِّ بُجَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَاْتِیْنَا فِی بَنِیْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَاَتَّخِذُ لَہُ سَوِیقَۃً فِی قَعْبَۃٍ لِیْ فإِذَا جَائَ سَقَیْتُہَا إِیَّاُہ قاَلَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّہُ یَأْتِیْنِیْ السَّائِلُ فَاَتَزَہَّدُ لَہُ بَعْضَ مَا عِنْدِی، (وَفِی رِوَایَۃٍ فَلَا اجِدُ فِی بَیْتِی مَا اَرْفَعُ فِییَدِہِ) فَقَالَ: ((ضَعِی فِییَدِ الْمِسْکِیْنِ وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۹۲)
۔ سیدہ ام بُجَیْد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں تشریف لایا کرتے تھے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے لکڑی کے ایک پیالہ میں ستو بنا تی تھی، جب آپ تشریف لاتے تو میں وہ انہیں پلاتی۔ (ایک دن) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بسا اوقات ایک سائل میرے پاس آتا ہے اور میں اسے اس بنا پر کچھ نہیں دیتی کہ جو کچھ میرے پاس ہوتا ہے، میں اسے بہت معمولی سمجھتی ہوں، ایک روایت میں ہے: اس کو دینے کے لیے میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی، (ایسی صورت میں میں کیا کروں)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مسکین کے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو، خواہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔
Musnad Ahmad
9061
۔ (۹۰۶۱)۔ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الْضَّبِّیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صَدَقَتُکَ عَلَی الْمِسْکِیْنِ صَدَقَۃٌ وَعَلٰی ذِیْ الْقُرْبَی الرَّحِمِ ثِنْتَانِ، صَدَقَۃٌ وَصِلَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۲۹)
۔ سیدنا سلمان بن عامر ضَبّی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنے میں صرف صدقے کا ثواب ہوتا ہے اور رشتہ دار پر کرنے سے دو ثواب ہوتے ہیں، ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔
Musnad Ahmad
9069
۔ (۹۰۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((السَّاعِیْ عَلَی الْاَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، اَوْ کَالَّذِیْیَقُوْمُ اللَّیْلَ وَیَصُوْمُ النَّھَارَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ اور مسکین کے لیے محنت کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔