صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
Chapter 22 of زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر مسلمان ، وہ آزاد ہو یا غلام اور مرد ہو یا عورت، پر ایک صاع کھجور یا جو کی صورت میں رمضان کا صدقۂ فطر فرض کیا ہے۔
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر فرض کیا ہے۔
Takhreej
(۳۵۶۰)تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ایک صاع کا وزن دو کلو اور سو گرام ہے، تخمینی وزن اڑھائی کلو بتا دیا جاتا ہے۔ جو کہ درست نہیں۔ حدیث نمبر (۳۳۸۲) میں صاع کی مقدار کی مکمل تفصیل بیان کی گئی ہے، قارئین کو اُس مفید بحث کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔
۔ ابو عمار کہتے ہیں: میں نے سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے صدقۂ فطر کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں زکوٰۃ کی فرضیت سے پہلے تو صدقۂ فطر کی ادائیگی کا حکم دیا تھا، البتہ جب زکوٰۃ (کی فرضیت) نازل ہو گئی تو اس کے بعد نہ اس صدقہ سے ہمیں روکا گیا اور نہ از سرِ نو اس کا حکم دیا گیا، البتہ ہم ادا کرتے آ رہے ہیں۔ پھر میں نے ان سے یومِ عاشوراء کے روزے کے بارے میں سوال کیا،انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، اس کے بعد جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو نہ ہمیں از سرِ نو اس روزے کا حکم دیا گیا اور نہ اس سے منع کیا گیا، البتہ ہم اس کا روزہ رکھتے ہیں۔
فوائد:… صدقۂ فطر اب بھی مشروع ہے، زکوۃ کی فرضیت سے اس کی فرضیت میں کوئی فرق نہیں پڑا، زکوۃ کے حکم کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صدقۂ فطر کے بارے میں از سرِ نو حکم نہ دینا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں جو، کھجور، منقی اور پنیر کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر ادا کیا کرتے تھے، لیکن جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ (اپنے دور میں حج یا عمرہ ادا کرنے کے لیے) تشریف لائے تو اس وقت شامی گندم بھی آ گئی تھی، انہوں نے یہ خیال ظاہر کیاکہ گندم کا ایک مُدّ دیگر اجناس کے دو مُد کے برابر ہے۔
۔ (دوسری سند)سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جب ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود تھے تو ہم کھانے، کھجور، جو، منقیٰ اور پنیر کا ایک ایک صاع بطور صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ ہمارے پاس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔
Takhreej
(۳۵۶۳) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… گندم میں سے پورا یا نصف صاع صدقہ فطر دیا جائے گا؟ یہ صحابہ کرام میں بھی ایک مختلف فیہ مسئلہ تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جس طرح ہمارے ہاں پاکستان میں گندم سستی اور کھجور مہنگی ہے، اسی طرح اُس وقت عرب میں کھجور سستی اور گندم مہنگی ہوتی تھی۔ جب سیدناامیر معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرے کے موقع پر مکہ مکرمہ تشریف لائے، تو لوٹنے سے پہلے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: میرا خیال ہے کہ شام کی گندم کا نصف صاع (قیمت میں) کھجور کے ایک صاع کے برابر ہے، لہٰذا آئندہ گندم کا نصف صاع ادا کیا کریں گے۔ لیکن سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ اسی طرح (ایک صاع) ہی ادا کرتا رہوں گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تھا۔ (مسلم) اس حدیث سے یوں معلوم ہو رہا ہے کہ گندم کا نصف صاع بطورِ صدقۂ فطر ادا کرنا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اجتہاد ہے۔ اگلے باب میں اس مسئلہ کی وضاحت آ رہی ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مذکرو مونث اور آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر فرض کیا ہے، بعد میں لوگوں نے گندم کے نصف صاع کو ان اجناس کے ایک صاع کے مساوی قرار دیا تھا۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ صدقۂ فطر کے سلسلہ میں کھجور ہی ادا کیا کرتے تھے، لیکن ایک سال کھجور کی قلت ہو گئی تھی، اس لیے انھوں نے جو عطا کیے تھے۔