TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عمرۂ قضاء کا بیان - عمرۂ قضاء کا بیان - عمرہ کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of عمرہ کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 11 · 2 Hadith
۔ (۴۱۱۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ اعْتَمَرَ، فَطَافَ وَطُفْنَا مَعَہُ، وَصَلّٰی وَصَلَّیْنَا مَعَہُ، وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَکُنَّا نَسْتُرُہْ ُمِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ لَا یُصِیْبُہُأَحَدٌ بِشَیْئٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۴۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرہ کیا تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف کیا تو ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ طواف کیا اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی تو ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفا مروہ کی سعی کی، ہم نے اس دوران آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گھیرے میں لئے رکھا تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مکہ والے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کوئی نقصان پہنچا دیں۔
Takhreej
(۴۱۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۱۸۸(انظر: ۱۹۱۲۹)
4118
Sahih
۔ (۴۱۱۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ اعْتَمَرَ، فَطَافَ وَطُفْنَا مَعَہُ، وَصَلّٰی وَصَلَّیْنَا مَعَہُ، وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَکُنَّا نَسْتُرُہْ ُمِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ لَا یُصِیْبُہُأَحَدٌ بِشَیْئٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۴۰)
۔ اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھاکہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمرہ کے موقع پر بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں۔
Takhreej
(۴۱۱۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۰۰، ۱۷۹۱، ومسلم: ۱۳۳۲(انظر: )
Explanation
فوائد: … اس عمرہ کو عمرۂ قضیہ، عمرۂ صلح اور عمرۂ قصاص بھی کہتے ہیں، عمرۂ قضاء کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ یہ عمرہ اس فیصلے کے مطابق تھا، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر مشرکوں کے ساتھ کیا تھا، اس سے مراد قضائی والا عمرہ نہیں ہے، کیونکہ جس کو راستے میں روک دیاجائے، اس پر قضائی واجب نہیں ہوتی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمرہ ٔ قضاء کے موقع پر کعبہ میں داخل نہیں ہوئے تھے، فتح مکہ کے موقع پر داخل ہوئے تھے، حجۃ الوداع کے موقع پر ایسے ہوا تھا یا نہیں، اس میں اختلاف ہے، وضاحت آ گے آ رہی ہے۔
4119
Sahih

Chapters

11