TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4604 - قربانی کے اونٹوں کو اشعار کرنا اور ہدی کے تمام جانوروں کو قلادے ڈالنا - ہدی اور قربانی کے جانوروں کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 4 in this chapter
قربانی کے اونٹوں کو اشعار کرنا اور ہدی کے تمام جانوروں کو قلادے ڈالنا
۔ (۴۶۰۴)۔ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَھْدٰی فِي بُدْنِہِ جَمَلاً ، کَانَ لأَبِيْ جَھْلٍ بُرَتُہُ فِضَّۃٌ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۹)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قربانی کے اونٹوں میں ابو جہل کا اونٹ بھی تھا، اس کی نکیل کا کڑا چاندی کا تھا۔
4604
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۶۰۴) تخریج: حسن ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۰۷۶، ۳۱۰۰ (انظر: ۲۰۷۹)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… یہ عمرۂ حدیبیہ کا واقعہ ہے، یہ اونٹ غزوۂ بدر میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت میں سے تھا۔

Related Chapters

219
1
(107) CHAPTER. To twist (and make) the garlands for the Budn (Hady camels for sacrifice) and cows.
گائے اونٹ وغیرہ قربانی کے جانوروں کے قلادے بٹنے کا بیان
Sahih Bukhari
2
(108) CHAPTER. The marking of the Budn (camels for sacrifice).
قربانی کے جانور کا اشعار کرنا
Sahih Bukhari
3
(15) CHAPTER. Sharing the Hady and Budn. (Is it permissible for one) to share the Hady with somebody else after it has been slaughtered?
قربانی کے جانوروں اور اونٹوں میں شرکت اور اگر کوئی مکہ کو قربانی بھیج چکے پھر اس میں کسی کو شریک کر لے تو جائز ہے
Sahih Bukhari
4
Chapter: Marking and Garlanding the sacrificial animal when entering Ihram
احرام کے وقت قربانی کے اونٹوں کا اشعار (کوہان پرچیرلگانا )اور انھیں ہار پہنانا
Sahih Muslim
5
باب: قربانی کے اونٹوں سے اشعار کے بعد خون صاف کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
6
Chapter: What Has Been Related About Marking The Budn (Sacrificial Camels)
باب: اونٹوں کے اشعار کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Is Not Allowed For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Is Disliked For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
9
Chapter: Regarding A Sacrificial Animal With A Stump Horn Or Ear
باب: ٹوٹی سینگ اور پھٹے کان والے جانوروں کی قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: To Avoid Removing One's Hair For Those Who Want To Offer Sacrifice
باب: جو قربانی کرنا چاہتا ہو وہ بال نہ کاٹے
Jam e Tirmazi
11
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
Musnad Ahmad
12
ان جانوروں کا بیان کہ عیب کی وجہ سے جن کی قربانی نہیں کی جا سکتی اور جن کی قربانی مکروہ ہے اور جن کی مستحبّ ہے
Musnad Ahmad
13
خصی جانور کی قربانی کرنا
Musnad Ahmad
14
اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
Musnad Ahmad
15
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
16
(109) CHAPTER. Whoever puts the garlands round the necks of the Hady (animals meant for sacrifice) with one's own hands.
اس کے بارے میں جس نے اپنے ہاتھ سے ( قربانی کے جانوروں کو ) قلائد پہنائے
Sahih Bukhari
17
(113) CHAPTER. The covering (sheet) of the Budn (camels for sacrifice).
قربانی کے جانوروں کے لیے جھول کا ہونا
Sahih Bukhari
18
(115) CHAPTER. To slaughter cows (as sacrifices) on behalf of one's wives without being ordered by them.
کسی آدمی کا اپنی بیویوں کی طرف سے ان کی اجازت کے بغیر گائے کی قربانی کرنا
Sahih Bukhari
19
(119) CHAPTER. To slaughter the Budn (camels for sacrifice) while they are standing.
اونٹوں کو کھڑا کر کے نحر کرنا
Sahih Bukhari
20
(120) CHAPTER. The butcher should not be given anything of the Hady.
قصاب کو بطور مزدوری اس قربانی کے جانوروں میں سے کچھ نہ دیا جائے
Sahih Bukhari
21
(122) CHAPTER. The covering sheets of Budn are to be given in charity.
قربانی کے جانوروں کے جھول بھی صدقہ کر دیے جائیں
Sahih Bukhari
22
(124) CHAPTER. What is to be eaten of Budn (by the one who offers them) and what is to be distributed in charity.
قربانی کے جانوروں میں سے کیا کھائیں اور کیا خیرات کریں
Sahih Bukhari
23
(7) CHAPTER. The performance of Umra after performing Hajj without having a Hady.
حج کے بعد عمرہ کرنا اور قربانی نہ دینا
Sahih Bukhari
24
(3) CHAPTER. The slaughtering (of Hady) before shaving the head (in case) one is prevented from performing (Hajj or Umra).
رک جانے کے وقت سر منڈوانے سے پہلے قربانی کرنا
Sahih Bukhari
25
(14) CHAPTER. To depute someone to sacrifice Budn (camels for sacrifice) and to look after them.
قربانی کے اونٹوں میں وکالت اور ان کا نگرانی کرنے میں
Sahih Bukhari
26
(35) CHAPTER. Branding the faces.
جانوروں کے چہروں پر داغ دینا یا نشان کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
27
(1) CHAPTER. The legal way of Al-Udhiya.
قربانی کرنا سنت ہے اور حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما نے کہا کہ یہ سنت ہے اور یہ امرمشہور ہے ۔
Sahih Bukhari
28
(2) CHAPTER. The distribution of the animals (for sacrifice by Imam) among the people.
امام کا قربانی کے جانور لوگوں میں تقسیم کرنا ۔
Sahih Bukhari
29
(4) CHAPTER. Meat is desired on the day of Nahr.
قربانی کے دن گوشت کی خواہش کرنا جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
30
(11) CHAPTER. To slaughter the sacrifice after the (Eid) Salat (prayer).
قربانی کا جانور نماز عیدالاضحی کے بعد ذبح کرنا چاہیئے ۔
Sahih Bukhari
31
(27) CHAPTER. (What is said regarding) being merciful to the people and to the animals.
انسانوں اور جانوروں سب پر رحم کرنا
Sahih Bukhari
32
Chapter: It is recommended to pray Subh when it is still dark on the day of sacrifice in Al-Muzdalifah, and to do it very early after ascertaining that dawn has broken
قربانی کے دن مزدلفہ میں صبح کی نماز خوب اندھیرے میں پڑھنا اور طلوع فجر کا یقین ہونے کے بعد اس (کی جلدی )میں مبالغہ کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
33
Chapter: It is permissible to offer the sacrifice before stoning the Jamrah, or to shave before offering the sacrifice or stoning the Jamrah, or to perform Tawaf before any of them
قربانی کو رمی سے ‘اور بال منڈوانے کو قربانی اور رمی (دونوں )سے مقدم کرنا اور ان سب سے پہلے طواف افاضہ کرنا جائز ہے
Sahih Muslim
34
Chapter: It is recommended to perform Tawaf Al-Ifadah on the day of sacrifice
قربانی کے دن طواف افاضہ کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
35
Chapter: Giving the meat, skin and blankets of the Hadi in charity; the butcher should not be given any of it; It is permissible to delegate someone else to offer the sacrifice
قربانی کے لیے لائے گئے جانوروں کا گوشت ‘ان کی کھالیں اور جھولیں (اوپر ڈالے گئے کپڑے )وغیرہ صدقہ کرنے چاہییں ‘ان میں سے کچھ بھی قصاب کو (بطور اجرت )نہیں دیا جا سکتا ‘اور ان کی نگرانی کےلیے کسی کو نائب بنانا جائز ہے
Sahih Muslim
36
Chapter: It is recommended to select a good animal for the sacrifice and to slaughter it oneself, not delegating it to anyone else, and to say the name of Allah, and to say the Takbir
اچھی قربانی کرنا کسی کو وکیل بنا ئے بغیر خود ذبح کرنا مستحب ہے اور بسم اللہ اور تکبیر پڑھنا
Sahih Muslim
37
CHAPTER: Regarding The Prohibition Of The Animals Being Confined (To Be Shot At), And, Being Gentle With Animal To Be Slaughtered.
باب: جانوروں کو بغیر کھانا پانی دئیے باندھ رکھنے کی ممانعت اور قربانی کے جانور کے ساتھ نرمی اور شفقت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
38
اونٹوں کے اشعار کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
39
کن جانوروں کی قربانی مستحب ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
40
کن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
41
باب: ہدی کا اشعار کرنا۔
Sunnan Nisai
42
باب: ممنوع جانوروں میں سے کانے جانور کی قربانی منع ہے۔
Sunnan Nisai
43
باب: لنگڑے جانوروں کی قربانی منع ہے۔
Sunnan Nisai
44
باب: کمزور اور دبلے جانوروں کی قربانی منع ہے۔
Sunnan Nisai
45
Chapter: What Has Been Related That The Injuries Caused By The Animal Are Without Liability And The Khumus Is Due On Rikaz
باب: جانوروں کا زخم رائیگاں ہے یعنی اس میں تاوان نہیں اور مدفون مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا​
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Talbiyah And the Nahr (Sacrifice)
باب: تلبیہ اور نحر (قربانی) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Stoning On The Day Of An-Nahr During Duha (The Morning Light)
باب: قربانی کے دن چاشت کے وقت رمی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Sharing In Badanah (Sacrificial Camels) and Cows
باب: قربانی میں اونٹ یا گائے میں شرکت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: (Purchasing the Hadi)
باب: قربانی کے جانور سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About One Who Shaved Before He Slaughtered, Or Offered The Sacrifice Before He Stoned
باب: ذبح کرنے سے پہلے سر مونڈا لینے یا رمی جمرات سے پہلے قربانی کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,957
Musnad Ahmad
4589
۔ (۴۵۸۹)۔ عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِذْ قَالَ لَہُ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ : أَنْتَ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ قَبْلَ أَنْ یَکُوْنَ آخِرُ عَھْدِھَا بِالْبَیْتِ؟ قَالَ : نَعَمْ، قَالَ : فَلا تُفْتِ بِذٰلِکَ ! فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِمَّا لا ، فَسَلْ فُلانَۃَ الأَ نْصَارِیَّۃَ ، ھَلْ أَمَرَھَا بِذٰلِکَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَرَجَعَ إِلَیْہِ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ یَضْحَکُ، وَ یَقُوْلُ : مَا أُرَاکَ إِلاَّ قَدْ صَدَقْتَ۔ (مسند احمد: ۳۲۵۶)
۔ طاؤوس کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ تھا، سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: تم یہ فتوی دیتے ہو کہ حائضہ عورت بیت اللہ کا طواف کیے بغیر جا سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: تم یہ فتوی نہ دو، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اگر تم نہیں مانتے تو فلاں انصاری خاتون سے پوچھ لو، کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اس چیز کا حکم دیا تھا؟ سیدنا زید وہاں سے ہنستے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے لوٹ پڑے: میرا یہی خیال ہے کہ تو نے سچ کہا ہے۔
Silsila Sahih
2201
وُلِدَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَامَ الْفِيلِ . روی من حدیث عبداللہ بن عباس، و قیس بن محزمہ رضی اللہ عنہم
نبی صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے۔یہ حدیث عبداللہ بن عباس اور قیس بن محزمہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Silsila Sahih
2915
عن ابن عباس، عن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: «كَلِمَات الْفَرَجِ لَا إِلَه إِلَا الله الْحَلِيم الْكَرِيم، لَا إِلَه إِلَا الله العلي الْعَظِيم، لَا إِلَه إِلَا هَو رَبّ السَّمَاوَات السَّبع وَرَبّ الْعَرْش الْعَظِيم.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کشادگی کے الفاظ یہ ہیں: لا الہ الا اللہ ۔۔۔ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، بردبار اور مہربان ہے، اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں بلند اور عظمت والا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ،ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب ہے۔
Jam e Tirmazi
20
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ فَأَبْعَدَ فِي الْمَذْهَبِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب:‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي قَتَادَةَ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَيَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ وَأَبِي مُوسَى،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَبِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَيُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَرْتَادُ لِبَوْلِهِ مَكَانًا كَمَا يَرْتَادُ مَنْزِلًا،‏‏‏‏ وَأَبُو سَلَمَةَ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ.
Al-Mughirah bin Shu'bah said: I was with the Prophet on a journey. The Prophet had to relieve himself, so he went far away.
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے نکلے تو بہت دور نکل گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن ابی قراد، ابوقتادہ، جابر، یحییٰ بن عبید عن أبیہ، ابو موسیٰ، ابن عباس اور بلال بن حارث رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- روایت کی جاتی ہے کہ نیز نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پیشاب کے لیے اس طرح جگہ ڈھونڈتے تھے جس طرح مسافر اترنے کے لیے جگہ ڈھونڈتا ہے۔ ۴- ابوسلمہ کا نام عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری ہے۔
Jam e Tirmazi
38
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ وَهَنَّادٌ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ . قال:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَالْمُسَتَوْرِدِ وَهُوَ:‏‏‏‏ ابْنُ شَدَّادٍ الْفِهْرِيُّ،‏‏‏‏ وَأبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ يُخَلِّلُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ فِي الْوُضُوءِ،‏‏‏‏ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ يُخَلِّلُ أَصَابِعَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فِي الْوُضُوءِ،‏‏‏‏ وَأَبُو هَاشِمٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ إِسْمَاعِيل بْنُ كَثِيرٍ الْمَكِّيُّ.
Asim bin Laqit bin Sabirah narrated from his father that : the Prophet Muhammad said: When performing Wudu go between the fingers.
لقیط بن صبرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو انگلیوں کا خلال کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عباس، مستورد بن شداد فہری اور ابوایوب انصاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ وضو میں اپنے پیروں کی انگلیوں کا خلال کرے اسی کے قائل احمد اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ وضو میں اپنے دونوں ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کا خلال کرے۔
Jam e Tirmazi
157
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ،‏‏‏‏ وَأَبِى سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي ذَرٍّ،‏‏‏‏ وَابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَالْمُغِيرَةِ،‏‏‏‏ وَالْقَاسِمِ بْنِ صَفْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ وَأَبِي مُوسَى،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا وَلَا يَصِحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَارَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ تَأْخِيرَ صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الْإِبْرَادُ بِصَلَاةِ الظُّهْرِ إِذَا كَانَ مَسْجِدًا يَنْتَابُ أَهْلُهُ مِنَ الْبُعْدِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا الْمُصَلِّي وَحْدَهُ وَالَّذِي يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَالَّذِي أُحِبُّ لَهُ أَنْ لَا يُؤَخِّرَ الصَّلَاةَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَمَعْنَى مَنْ ذَهَبَ إِلَى تَأْخِيرِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ هُوَ أَوْلَى وَأَشْبَهُ بِالِاتِّبَاعِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الرُّخْصَةَ لِمَنْ يَنْتَابُ مِنَ الْبُعْدِ وَالْمَشَقَّةِ عَلَى النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ مَا يَدُلُّ عَلَى خِلَافِ مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو ذَرٍّ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَذَّنَ بِلَالٌ بِصَلَاةِ الظُّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا بِلَالُ أَبْرِدْ ،‏‏‏‏ ثُمَّ أَبْرِدْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَوْ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ لَمْ يَكُنْ لِلْإِبْرَادِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ مَعْنًى لِاجْتِمَاعِهِمْ فِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانُوا لَا يَحْتَاجُونَ أَنْ يَنْتَابُوا مِنَ الْبُعْدِ.
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: In very hot weather, delay the (Zuhr) prayer until it becomes (a bit) cooler, because the severity of heat is from the raging of the Hell.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈا ہونے پر پڑھو ۱؎ کیونکہ گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوسعید، ابوذر، ابن عمر، مغیرہ، اور قاسم بن صفوان کے باپ ابوموسیٰ، ابن عباس اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس سلسلے میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، ۴- اہل علم میں کچھ لوگوں نے سخت گرمی میں ظہر تاخیر سے پڑھنے کو پسند کیا ہے۔ یہی ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: ظہر ٹھنڈا کر کے پڑھنے کی بات اس وقت کی ہے جب مسجد والے دور سے آتے ہوں، رہا اکیلے نماز پڑھنے والا اور وہ شخص جو اپنے ہی لوگوں کی مسجد میں نماز پڑھتا ہو تو میں اس کے لیے یہی پسند کرتا ہوں کہ وہ سخت گرمی میں بھی نماز کو دیر سے نہ پڑھے، ۵- جو لوگ گرمی کی شدت میں ظہر کو دیر سے پڑھنے کی طرف گئے ہیں ان کا مذہب زیادہ بہتر اور اتباع کے زیادہ لائق ہے، رہی وہ بات جس کی طرف شافعی کا رجحان ہے کہ یہ رخصت اس کے لیے ہے جو دور سے آتا ہوتا کہ لوگوں کو پریشانی نہ ہو تو ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو اس چیز پر دلالت کرتی ہیں جو امام شافعی کے قول کے خلاف ہیں۔ ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے، بلال رضی اللہ عنہ نے نماز ظہر کے لیے اذان دی، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! ٹھنڈا ہو جانے دو، ٹھنڈا ہو جانے دو“ ( یہ حدیث آگے آ رہی ہے ) ، اب اگر بات ایسی ہوتی جس کی طرف شافعی گئے ہیں، تو اس وقت ٹھنڈا کرنے کا کوئی مطلب نہ ہوتا، اس لیے کہ سفر میں سب لوگ اکٹھا تھے، انہیں دور سے آنے کی ضرورت نہ تھی۔
Jam e Tirmazi
167
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُؤَخِّرُوا الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِهِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ،‏‏‏‏ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَأَبِي بَرْزَةَ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَالتَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ رَأَوْا تَأْخِيرَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاقُ.
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: If it were not that it would be a hardship on my Ummah, then I would have ordered you to delay Isha until the third of the night, or its half.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ سمجھتا تو میں عشاء کو تہائی رات یا آدھی رات تک دیر کر کے پڑھنے کا حکم دیتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن سمرہ، جابر بن عبداللہ، ابوبرزہ، ابن عباس، ابو سعید خدری، زید بن خالد اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی کو صحابہ کرام اور تابعین وغیرہم میں سے اکثر اہل علم نے پسند کیا ہے، ان کی رائے ہے کہ عشاء تاخیر سے پڑھی جائے، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
184
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ أَتَاهُ مَالٌ فَشَغَلَهُ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لَمْ يَعُدْ لَهُمَا ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَأُمِّ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ وَمَيْمُونَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي مُوسَى. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا خِلَافُ مَا رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏حَيْثُ قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَعُدْ لَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوُ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذَا الْبَابِ رِوَايَاتٌ، ‏‏‏‏‏‏رُوِيَ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَخَلَ عَلَيْهَا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي اجْتَمَعَ عَلَيْهِ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى كَرَاهِيَةِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا مَا اسْتُثْنِيَ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلُ الصَّلَاةِ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ بَعْدَ الطَّوَافِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُخْصَةٌ فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ بِهِ:‏‏‏‏ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمُ الصَّلَاةَ بِمَكَّةَ أَيْضًا بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ،‏‏‏‏ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَبَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
Ibn Abbas narrated: The Prophet only performed the two rak'ah (units of prayer) after Asr because some wealth came to him which distracted him from the two rak'ah after Zuhr, so he prayed them after Asr, then he did not repeat that.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، اس لیے کہ آپ کے پاس کچھ مال آیا تھا، جس کی وجہ سے آپ کو ظہر کے بعد کی دونوں رکعتیں پڑھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا تو آپ نے انہیں عصر کے بعد پڑھا پھر آپ نے انہیں دوبارہ نہیں پڑھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ام سلمہ، میمونہ اور ابوموسیٰ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- دیگر کئی لوگوں نے بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے عصر بعد دو رکعتیں پڑھیں یہ اس چیز کے خلاف ہے جو آپ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، ۴- ابن عباس والی حدیث جس میں ہے کہ آپ نے دوبارہ ایسا نہیں کیا، سب سے زیادہ صحیح ہے، ۵- زید بن ثابت سے بھی ابن عباس ہی کی حدیث کی طرح مروی ہے، ۶- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی کئی حدیثیں مروی ہیں، نیز ان سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب بھی ان کے یہاں عصر کے بعد آتے دو رکعتیں پڑھتے، ۷- نیز انہوں نے ام سلمہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے اور فجر کے بعد جب تک نکل نہ آئے نماز پڑھنے سے منع فرماتے تھے۔ ۸- اکثر اہل علم کا اتفاق بھی اسی پر ہے کہ عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے اور فجر کے بعد جب تک نکل نہ آئے نماز پڑھنا مکروہ ہے سوائے ان نمازوں کے جو اس سے مستثنیٰ ہیں مثلاً مکہ میں عصر کے بعد طواف کی دونوں رکعتیں پڑھنا یہاں تک سورج ڈوب جائے اور فجر کے بعد یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اس سلسلے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے رخصت مروی ہے، صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے یہی کہا ہے۔ اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم نے عصر اور فجر کے بعد مکہ میں بھی نماز پڑھنے کو مکروہ جانا ہے، سفیان ثوری، مالک بن انس اور بعض اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں۔
Jam e Tirmazi
245
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ بْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ:‏‏‏‏ بِهَذَا عِدَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ وَابْنُ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَابْنُ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَابْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ رَأَوْا الْجَهْرَ بْ:‏‏‏‏ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْمَاعِيل بْنُ حَمَّادٍ هُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو خَالِدٍ يُقَالُ:‏‏‏‏ هُوَ أَبُو خَالِدٍ الْوَالِبِيُّ وَاسْمُهُ:‏‏‏‏ هُرْمُزُ وَهُوَ كُوفِيٌّ.
Ibn Abbas narrated: The Prophet would open his Salat with (Bismillahir-Rahmanir-Rahim).
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز «بسم الله الرحمن الرحيم» سے شروع کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس کی سند قوی نہیں ہے، ۲- صحابہ کرام میں سے جن میں ابوہریرہ، ابن عمر، ابن عباس اور ابن زبیر رضی الله عنہم شامل ہیں اور ان کے بعد تابعین میں سے کئی اہل علم «بسم الله الرحمن الرحيم» زور سے کہنے کے قائل ہیں، اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔