۔ (۴۶۰۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صَلَّی الظُّھْرَ بِذِي الْحُلَیْفَۃِ ، ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَتِہِ، أَوْ أُتِيَ بِبَدَنَتِہِ ، فَأَشْعَرَ صَفْحَۃَ سَنَامِھَا الْأَیْمَنِ ، ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْھَا۔ وَ قَلَّدَھَا بِنَعْلَیْنِ ، ثُمَّ أُتِيَ برَاحِلَتِہِ، فَلَمَّا قَعَدَ عَلَیْھَا وَاسْتَوَتْ بِہِ عَلَی الْبَیْدَائِ أَھَلَّ بِالْحَجِّ۔ (مسند احمد: ۲۲۹۶)
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالحلیفہ مقام پر نمازِ ظہر ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹ لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی کوہان کے دائیں پہلو پر علامت لگائی اور پھر اس سے خون صاف کر دیا اور دو دو جوتوں کے قلادے ڈالے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمیت بیداء مقام پر کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا۔
Takhreej
(۴۶۰۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۴۳(انظر: ۲۲۹۶)
Explanation
فوائد:… امام نووی نے کہا: اشعار یہ ہے کہ اونٹنی کی کوہان کی دائیں جانب پر کسی برچھی یا چھری وغیرہ سے زخم لگایا جائے اور پھر خون کو صاف کر لیا جائے، یہ جانور کے ہدی ہونے کی علامت ہو گی، اگر ایسا جانور گم ہو جائے تو دوسرے لوگ خود ہی اس کو حاجیوں تک پہنچا دیتے ہیں، چور وغیرہ بھی اس کو چرانے سے باز رہتے ہیں اور اگر وہ دوسرے اونٹوں میں مل جائے تو اس کو پہنچان لیا جاتا ہے ، یہ کام قلادے سے بھی لیا جا سکتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیتے بھی تھے، بہرحال اشعار ایسی علامت ہے جو زائل نہیں ہوتی۔
4603
Sahih