TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا

Chapter 29 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 29 of 40 · 7 Hadith
۔ (۴۵۲۲) حدثنا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی سُفْیَانُ حَدَّثَنَا ھِشَامٌ أَبُوْعَبْدِ اللّٰہِ عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا رَمَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ وَنَحَرَ ھَدْیَہُ حَجَمَ وَأَعْطَی الْحَجَّامَ، وَقَالَ: سُفْیَانُ مَرَّۃً: وَأَعْطَی الْحَالِقَ شِقَّہُ الْأَیْمَنَ فَحَلَقَہُ فَأَعْطَاہُ أَبَا طَلْحَۃَ ثُمَّ حَلَقَ الْأَیْسَرَ فَأَعْطَاہُ النَّاسَ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۱۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی کی اور قربانی ذبح کی تو حجامت کروائی اور پہلے سر کی دائیں جانب کو حجام کی طرف کیا اور اس طرف کے مونڈے ہوئے بال سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دے دیئے، پھر اس کی طرف بائیں جانب کی اور یہ بال دوسرے لوگوں کو دے دیئے۔
Takhreej
(۴۵۲۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۳۰۵(انظر: ۱۲۰۹۲)
Explanation
فوائد:… سر کی حجامت کرتے وقت دائیں طرف سے آغاز کرنا سنت ہے، لوگوں کی اکثریت جہالت یا لاپرواہی کی وجہ سے اس سنت سے غافل ہے۔ نیز معلوم ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جسد اطہر اور بالوں سے تبرّ ک حاصل کرنا مشروع ہے۔
4522
Sahih
۔ (۴۵۲۳)عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَلَقَ رَأْسَہُ فِیْ حَجَّۃِالْوَدَاعِ۔ (مسند احمد: ۵۶۱۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سر منڈوایا تھا۔
Takhreej
(۴۵۲۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۴۱۰، ۴۴۱۱، ومسلم: ۱۳۰۴(انظر: ۵۶۱۴)
4523
Sahih
۔ (۴۵۲۴) عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (الْعَدَوِیِّ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ أُرَحِّلُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، قَالَ: فَقَالَ لِی لَیْلَۃً مِنَ اللَّیَالِیْ: ((یَا مَعْمَرُ! لَقَدْ وَجَدْتُ فِیْ أَنْسَاعِی اِضْطِرَابًا۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: أَمَا وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَقَدْ شَدَدْتُّہَا کَمَا کُنْتُ أَشُدُّھَا وَلٰکِنَّہُ أَرْخَاھَا مَنْ قَدْ کَانَ نَفَسَ عَلَیَّ لِمَکَانِیْ مِنْکَ لِتَسْتَبْدِلَ بِیْ غَیْرِیْ، قَالَ: فَقَالَ: ((أَمَا إِنِّی غَیْرُ فَاعِلٍ۔)) قَالَ: فَلَمَّا نَحَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھَدْیَہُ بِمِنًی أَمَرَنِیْ اَنْ أَحْلِقَہُ، قَالَ: فَأَخَذْتُ الْمُوْسٰی فَقُمْتُ عَلٰی رَأْسِہِ، قَالَ: فَنَظَر رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ وَجْہِی وَقَالَ لِیْ: ((یَا مَعْمَرُ! أَمْکَنَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ شَحْمَۃِ أُذُنِہِ وَفِییَدِکَ الْمُوْسٰی۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: أَمَا وَاللّٰہِ! یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنَّ ذَالِکَ لَمِنْ نِعْمَۃِ اللّٰہِ عَلَّی وَمَنِّہِ، قَالَ: فَقَالَ: ((أَجَلْ إِذًا أُقِرُّ لَکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ حَلَقْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۹۱)
۔ سیدنا معمر بن عبد اللہ عدوی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اونٹ کا پالان تیار کرتا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک رات کو مجھے فرمایا: اے معمر!آج رات میں نے کجاوے والے قسموں کو ڈھیلا پایا ہے۔ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے؟ میں نے تو پہلے کی طرح ان کو کسا تھا، لیکن آپ کے ہاں میرے مرتبے پر حسد کرتے ہوئے کسی نے اس کو ڈھیلا کر دیا ہو گا، تاکہ آپ میری جگہ پر کسی اور خادم کا تعین کر دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! میں یہ کام کرنے والا نہیں ہوں۔ پھر جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منی میں اپنی قربانی ذبح کی تو مجھے حکم دیا کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مونڈوں، پس میں نے استرا پکڑا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے پاس کھڑا ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور فرمایا: معمر! (تیری بھی کیا شان ہے کہ) اللہ کے رسول نے تجھے اپنے کان کی لو کے پاس کھڑا کیا اور تیرے ہاتھ میں استرا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! یہ مجھ پر اللہ تعالی کی نعمت اور احسان ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں، میں یہ اعزاز تیرے لیے برقرار رکھوں گا۔ پھر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مونڈ دیا۔
Takhreej
(۴۵۲۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال عبد الرحمن بن عقبۃ ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۰/ ۱۰۹۶(انظر: ۲۷۲۴۹)
4524
Zaeef
۔ (۴۵۲۵) عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: مَنْ ضَفَرَ فَلْیَحْلِقْ وَلَا تَشَبَّہُوْا بِالتَّلْبِیْدِ، وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ: یَقُوْلُ لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُلَبِّدًا۔ (مسند احمد: ۶۰۲۷)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کرتے تھے کہ جس نے بالوں کی لٹیں بنائی ہوئی ہیں، وہ اپنے بال مونڈ دے اور تم لوگ تلبید کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ لیکن سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے تھے: میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تلبید کر رکھی تھی۔
Takhreej
(۴۵۲۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۹۱۴(انظر: ۶۰۲۷)
Explanation
فوائد:… تلبید: بالوں کو گوند جیسی چیز لگا کر چپکا دینا، تاکہ نہ وہ بکھر سکیں اور نہ ان میں گرد وغبار پڑ سکے، زیادہ دنوں تک احرام باندھنا ہو تو ایسے کیا جاتا ہے۔
4525
Sahih
۔ (۴۵۲۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ أَوْ مَعْمَرٍ وَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ قَالَ: ثَنَا ابْنُ عُیَنْیَۃَ عَنْ ھِشَامِ بْنِ حُجَیْرٍ عَنْ طَاؤُوْسٍ قَالَ: قَالَ مُعَاوِیَۃُ لِابْنِ عَبَّاسٍ (وَفِیْ لَفْظٍ عَنْ طَاؤُوْسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ لِی مُعَاوِیَۃُ:) أَمَا عَلِمْتَ أَنِّی قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِشْقَصٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا، قَالَ ابْنُ عَبَّادٍ فِی حَدِیْثِہِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَھٰذِہِ حُجَّۃٌ عَلٰی مُعَاوِیَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۱۱)
۔ طاوس کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ میں نے ایک چوڑے پھل سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے بال تراشے تھے؟ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی نہیں، پھر انھوں نے کہا: یہ بات سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر حجت ہے ۔
Takhreej
(۴۵۲۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۳۰، ومسلم: ۱۲۴۶ (انظر: ۱۶۸۸۷)
4526
Sahih
۔ (۴۵۲۷) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ قَالَ: قَصَّرْتُ عَنْ رَأْسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ الْمَرْوَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۰۹)
۔ (دوسری سند) سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے مروہ کے پاس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے بال تراشے تھے۔
Takhreej
(۴۵۲۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4527
Sahih
۔ (۴۵۲۸) عَنْ مُجَاھِدِ وَعَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ مُعَاوِیَۃَ (ابْنَ أَبِی سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَخْبَرَہُ أَنَّہُ رَاٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَصَّرَ مِنْ شَعْرِہِ بِمِشْقَصٍ، فَقُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا بَلَغَنَا ھٰذَا إِلَّاعَنْ مُعَاوِیَۃَ، فَقَالَ: مَا کَانَ مُعَاوِیَۃُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَّہَمًا۔ (مسند احمد: ۱۶۹۸۸)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو خبر دی کہ انھوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک چوڑے پھل سے اپنے بال تراشے تھے۔ مجاہد اور عطاء کہتے ہیں: ہم نے سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: یہ بات ہمیں صرف سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے موصول ہوئی ہے۔ انھوں نے جواباً کہا: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں تہمت زدہ نہیں ہیں (یعنی وہ یہ خبر دینے میں سچے ہیں)۔
Takhreej
(۴۵۲۸) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال تراشنا، یہ عمرۂ جعرانہ کا واقعہ ہے، اس کی تفصیل حدیث نمبر (۴۲۰۰)میں گزر چکی ہے۔حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے کے بعد قربانیاں کیں اور پھر سر منڈوایا۔
4528
Sahih

Chapters

40
01
حج افراد کرنے والے کا طواف
3 Hadith
02
حج قران کرنے والے کا طواف
4 Hadith
03
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
2 Hadith
04
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
3 Hadith
05
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
5 Hadith
06
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
5 Hadith
07
صفا مروہ کی سعی
3 Hadith
08
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
6 Hadith
09
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
2 Hadith
10
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
3 Hadith
11
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
6 Hadith
12
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
19 Hadith
13
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
6 Hadith
14
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
2 Hadith
15
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
3 Hadith
16
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
7 Hadith
17
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
7 Hadith
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
9 Hadith
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
3 Hadith
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
9 Hadith
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
8 Hadith
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
4 Hadith
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
8 Hadith
24
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
4 Hadith
25
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
7 Hadith
26
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
5 Hadith
27
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
28
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
4 Hadith
29
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
7 Hadith
30
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
31
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
6 Hadith
32
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
6 Hadith
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
6 Hadith
34
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
5 Hadith
35
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
3 Hadith
36
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
3 Hadith
37
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
3 Hadith
38
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
8 Hadith
39
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
1 Hadith
40
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
5 Hadith
No chapter matched that.