TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4745 - اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک سب سے محبوب نام - ہدی اور قربانی کے جانوروں کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 5 in this chapter
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک سب سے محبوب نام
۔ (۴۷۴۵)۔ عَنْ أَبِيْ وَھْبٍ الْجُشَمِيِّ۔ وَ کَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَسَمَّوْا بِأَسْمَائِ الْاَنْبِیَائِ، وَ أَحَبُّ الأسْمَائِ إِلَی اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدُ اللّٰہِ وَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ، وَ أَصْدَقُھَا حَارِثٌ وَ ھَمَّامٌ، وَ أَقْبَحُھَا حَرْبٌ وَ مُرَّۃُ، وَارْتَبِطُوا الْخَیْلَ وَ امْسَحُوا بِنَوَاصِیھَا وَ أَعْجَازِھَا، (أوْ قَالَ: وَ أَکْفَالِھَا) وَ قَلِّدُوْھَا وَ لا تُقَلِّدُوْھَا الأوْتَارَ، وَ عَلَیْکُمْ بِکُلِّ کُمَیْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، أَوْ أَدْھَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۴۱)
۔ سیدنا ابو وہب جشمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کو صحبت کا شرف حاصل تھا، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام کے ناموں کے ساتھ نام رکھا کرو اور اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب نام عبد اللہ اور عبد الرحمن ہیں، سب سے زیادہ سچے نام حارث اور ہمام ہیں، سب سے زیادہ برے نام حرب اور مرہ ہیں، گھوڑوں کو باندھ کر رکھو اور ان کی پیشانیوں اور ان کے پچھلے حصوں یا ان کے سرینوں کو چھوا کرو، ان کو قلادے ڈالا کرو، البتہ تانت کا قلادہ نہ ڈالا، اور تم سیاہ و سرخ رنگ کے گھوڑے کا ، جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو، یا سفید سرخی مائل گھوڑے کا، جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو، یا سیاہ گھوڑے کا اہتمام کرو، جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو۔
4745
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۴۷۴۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عقیل بن شبیب، وقد اختلف فیہ علی محمد بن مھاجر ، أخرجہ أبوداود: ۲۵۴۳، ۲۵۵۳، ۴۹۵۰ مقطعا، والنسائی: ۶/ ۲۱۸ (انظر: ۱۹۰۳۲)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… لیکن دوسری احادیث صحیحہ میں ثابت ہیں کہ حارث اور ہمام سب سے سچا نام ہیں اور حرب اور مرہ بدترین نام ہیں۔

Related Chapters

2,005
1
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ دینی کام کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
Chapter: What Has Been Related About The Excellence Of Martyrs With Allah
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہیدوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About The Insignificance Of The World To Allah, The Mighty And Sublime
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حقارت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: Which Speech Is Most Beloved To Allah?
باب: اللہ کے نزدیک سب سے محبوب اور پسندیدہ کلام کون سا ہے؟
Jam e Tirmazi
5
بَاب أَسمَاء الله تَعَالَى
اللہ تعالیٰ کے ناموں کا بیان
Mishkat
6
اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
7
جماع کے وقت اللہ تعالی کا نام لینے اور پردہ کرنا اور دوبارہ جماع کرنے کے لیے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
8
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
9
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
Musnad Ahmad
10
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بسیسہ نامی شخص کو جاسوس بنا کر بھیجنا تاکہ وہ ابو سفیان کے قافلہ پر نظر رکھے اور بعدازاں قتال کی اجازت کا بیان
Musnad Ahmad
11
غزوۂ خندق( احزاب) کے موقع پر اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کی دعا کو قبول کرنے، کفار کی جماعتوں کو شکست دینے، ان کے تتر بتر ہو جانے اور ان کے ناکام ونامراد واپس لوٹ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
12
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہرقل کے نام مکتوب اور اس کی طرف سے اس کے جواب کا بیان
Musnad Ahmad
13
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شفقت و رحمت، اللہ تعالیٰ پر توکل اور طہارت قلبی کا بیان
Musnad Ahmad
14
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطوط اور کاتبین کا بیان اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: غیر مسلم حکمرانوں کے نام رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مکتوبات کا بیا ن
Musnad Ahmad
15
(13) CHAPTER. The statement of the Prophet I know Allah تعالیٰ better, than all of you do.”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں
Sahih Bukhari
16
(42) CHAPTER. The statement of the Prophet : Religion is An-Nasihah (to be sincere and true) to Allah, to His Messenger (Muhammad ), to the Muslim rulers, and to all the Muslims.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ دین سچے دل سے اللہ کی فرمانبرداری اور اس کے رسول اور مسلمان حاکموں اور تمام مسلمانوں کی خیرخواہی کا نام ہے
Sahih Bukhari
17
(10) CHAPTER. Whoever thinks that Allah has not made prostration of recitation (i.e., during the recitation of the Quran) compulsory.
اس شخص کی دلیل جس کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت کو واجب نہیں کیا
Sahih Bukhari
18
(1b) CHAPTER.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا ، اے رسول ! وہ وقت یاد کر جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا میں زمین میں ایک ( قوم کو ) جانشین بنانے والا ہوں ۔
Sahih Bukhari
19
(22) CHAPTER: And a believing man of Firaun's (Pharaoh) family, who hid his faith said.. (up to).. A Musrif (a polytheist, or a murderer who shed blood without a right, or those who commit great sins, oppressor, transgressor), a liar! (V.40:28)
( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) اور فرعون کے خاندان کے ایک مومن مرد ( شمعان نامی ) نے کہا جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھے ہوئے تھا ‘ اللہ تعالیٰ کے ارشاد مسرف کذاب تک ۔
Sahih Bukhari
20
(17) CHAPTER. What has been said the names of Allah's Messenger (p.b.u.h).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں کا بیان ۔
Sahih Bukhari
21
(26) CHAPTER. The Statement of Allah: “[Those to whom We gave the Scripture (Jews and Christians)] recognise him (Muhammad (p.b.u.h) or the Kabah at Makkah) as they recognise their own sons. But verily, a party of them conceal the truth while they know it - [i.e., the qualities of Muhammad (p.b.u.h) which are written in the Taurat (Torah) and the Injeel (Gospel)]. (V.2:146)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ ارشاد کہ اہل کتاب اس رسول کو اس طرح پہچان رہے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بیشک ان میں سے ایک فریق کے لوگ حق کو جانتے ہیں پھر بھی وہ اسے چھپاتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
22
(3) CHAPTER. To eat of the dish what is nearer to you.
برتن میں سامنے سے کھانا اور حضرت انس رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کھانے سے پہلے ) اللہ کا نام لیا کرو اور ہر شخص اپنے نزدیک سے کھائے 2
Sahih Bukhari
23
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “Say: Invoke Allah or invoke the Most Gracious (Allah), by whatever name you invoke Him (it is the same), for to Him belong the Best Names.” (V.17:110)
اللہ تعالیٰ کاارشاد سورۃ بنیاسرائیل میں کہ آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ کو پکارو یا رحمن کو ‘ جس نام سے بھی پکارو گے تو اللہ کے سب اچھے نام ہیں
Sahih Bukhari
24
(46) CHAPTER. The Statement of Allah: “O Messenger (Muhammad (p.b.u.h.))! Proclaim (the Message) which has been sent down to you from your Lord. And if you do not, then you have not conveyed His Message...” (V.5:67)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ المائدہ میں فرمانا اے رسول ! تیرے پروردگار کی طرف سے جو تجھ پر اترا اس کو لوگوں تک پہنچا دے ۔
Sahih Bukhari
25
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر ایمان ، دینی احکام پر عمل ، اس کی طرف دعوت ، اس کے بارے میں سوال کرنے ، دین کے تحفظ اور جن لوگوں تک دین نہ پہنچا ہو ان تک پہنچانے کا حکم
Sahih Muslim
26
اس بات کی دلیل کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے رب ، اسلام کے دین اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے رسول ہونے پر راضی ہوا وہ مومن ہے ، چاہے کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو
Sahih Muslim
27
Chapter: Allah will say to Adam: Bring out the Portion of the Fire; Nine Hundred and Ninety-Nine Out of Every Thousand.
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا قول کہ اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے فرمائے گا دوزخ میں بھیجنے کے لیے ہر ہزار(1000) میں سے نو سو ننانوے (999) الگ کر دو
Sahih Muslim
28
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کہ لوگ شراب کا نام بدل کر اسے پیئیں گے
Sunnan Ibn e Maja
29
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے نکاح کا بیان اور اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جائز قرار دیا اور اپنی مخلوق کو منع کیا تاکہ ساری مخلوق پر آپ کی بزرگی اور فضیلت ظاہر ہو سکے۔
Sunnan Nisai
30
باب: اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے اپنی قربت دکھانے کے لیے حلال رکھا اور اپنی مخلوق کے لیے حرام کر دیا۔
Sunnan Nisai
31
Chapter: What Has Been Related About How Many Prayers Allah Made Obligatory Upon His Servants
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related From The Messenger of Allah About The Judge
باب: قاضی اور قضاء کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Khumus
باب: مال غنیمت میں اللہ و رسول کے حصے خمس نکالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About What The Messenger Of Allah (saws) Left Behind
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ترکہ کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Sword Of The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی تلوار کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Garment The Messenger Of Allah (saws) Like Most To Wear
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پسندیدہ کپڑوں کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About What The Prophet (saws) Ate Upon
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Which Meat The Messenger Of Allah (saws) Used To Like Most
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا گوشت زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Which Drink Was The Most Beloved To The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا مشروب زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
41
باب: اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں کو اپنی کتاب میں لکھ رکھا ہے
Jam e Tirmazi
42
Chapter: Whoever Loves To Meet Allah, Allah Loves To Meet Him
باب: جس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کیا اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے ملاقات کو پسند کیا
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Crying Out Of Fear Of Allah, Most High
باب: اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Lying Against The Messenger Of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے
Jam e Tirmazi
45
Chapter: Regarding Refraining From What Was Prohibited By The Messenger of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جس چیز سے روک دیں اس سے رک جاؤ
Jam e Tirmazi
46
باب: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
47
باب: اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
48
باب: اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مثال کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: “Allah Created a Hundred Mercies”
باب: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں
Jam e Tirmazi
50
Chapter: “Humiliated is a Man Before Whom I am Mentioned...”
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا فرمان: ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو …“
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

3
Musnad Ahmad
10391
۔ (۱۰۳۹۱)۔ عَنْ اَبِيْ ھُرَیْرَۃَ مَرْفُوْعًا: (( اِنَّ الشَّمْسَ لَمْ تُحْبَسْ عَلٰی بَشَرٍ اِلَّا لِیُوْشَعَ لَیَالِيَ سَارَ اِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ (وَفِيْ رِوَایَۃٍ: غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْاَنْبِیَائِ، فَقَالَ لِقَوْمِہِ : لَا یَتَّبِعُنِيْ رَجُلٌ قَدْ مَلَکَ بُضْعَ امْرَاَۃٍ، وَھُوَیُرِیْدُ اَنْ یَبْنِيَ بِھَا، وَلَمَّا یَبْنِ بِھَا، وَلَا آخَرُ قَدْ بَنٰی بُنْیَانًا، وَلَمَّا یَرْفَعْ سَقْفَھَا ، وَلَا آخَرُ قَدِ اشْتَرٰی غَنَمًا اَوْ خَلِفَاتٍ وَھُوَ مُنْتَظِرٌ وِلَا دَھَا۔) قَالَ فَغَزَا ، فَاَدْنٰي لِلْقَرْیَۃِ حِیْنَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ اَوْ قَرِیْبًا مِنْ ذٰلِکَ (وَفِيْ رِوَایَۃٍ: فَلَقِيَ الْعَدُوَّ عِنْدَ غَیْبُوْبَۃِ الشَّمْسِ)، فَقَالَ لِلشَّمْسِ: اَنْتِ مَاْمُوْرَۃٌ، وَاَنَا مَاْمُوْرٌ، اَللّٰھُمَّ احْبِسْھَا عَلَيَّ شَیْئًا، فَحُبِسَتْ عَلَیْہِ، حَتّٰی فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، فَغَنِمُوْا الْغَنَائِمَ، قَالَ: فَجَمَعُوْا مَا غَنِمُوْا، فَاَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَاْکُلَہٗ،فَاَبَتْاَنْتَطْعَمَہٗ،وَکَانُوْاِذَاغَنِمُوْاالْغَنِیْمَۃَ بَعَثَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْھَا النَّارَ فَاَکَلَتْھَا، فَقَالَ: فِیْکُمْ غُلُوْلٌ، فَلْیُبَایِعْنِيْ مِنْ کُلِّ قَبِیْلَۃٍ رَجُلٌ فَبَایَعُوْہُ، فَلَصَقَتْ یَدُرَجُلٍ بِیَدِہِ، فَقَالَ: فِیْکُمُ الْغُلُوْلُ فَلْتُبَایِعْنِيْ قَبِیْلَتُکَ، فَبَایَعَتْہُ۔ قَالَ: فَلَصِقَتْ بِیَدِ رَجُلَیْنِ اَوْثَلَاثَۃٍیَدُہٗ، فَقَالَ: فِیْکُمُ الْغُلُوْلُ اَنْتُمْ غَلَلْتُمْ۔قَالَ: اَجَلْ! قَدْ غَلَلْنَا صُوْرَۃَ وَجْہِ بَقَرَۃٍ مِنْ ذَھَبٍ قَالَ: فَاَخْرَجُوْا لَہٗمِثْلَرَاْسِبَقَرَۃٍ مِنْ ذَھَبٍ، قَالَ: فَوَضَعُوْہُ فِيْ الْمَالِ وَھُوَ بِالصَّعِیْدِ، فَاَقْبَلَتِ النَّارُ فَاَکَلَتْہُ، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِاَحَدٍ مِنْ قَبْلَنَا، ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی رَاٰی ضُعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَیَّبَھَا لَنَا۔(وَفِيْ رِوَایَۃٍ:فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ: اِنَّ اللّٰہَ اَطْعَمَنَا الْغَنَائِمَ رَحْمَۃً بِنَا وَتَخْفِیْفًا لِمَا عَلِمَ مِنْ ضُعْفِنَا۔)) (مسند احمد: ۸۲۲۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک سورج کسی بشر کے لیے کبھی بھی نہیں روکا گیا، سوائے یوشع بن نون کے، یہ ان دنوں کی بات ہے جب وہ بیت المقدس کی طرف جا رہے تھے، ایک روایت میں ہے: انبیاء میں سے ایک نبی نے جہاد کیا، اس نے اپنی قوم سے کہا: وہ آدمی میرے ساتھ نہ آئے جو کسی عورت کی شرمگاہ کا مالک بن چکا ہے (یعنی اس نے نکاح کر لیا ہے) اور رخصتی کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی تک نہیں کی، وہ آدمی بھی (میرے لشکر میں شریک) نہ ہو، جس نے کوئی گھر بنانا شروع کیا ہے، لیکن ابھی تک چھت نہیں ڈالی اور جو آدمی بکریاںیا ایسے حاملہ جانور خرید چکا ہے، کہ جن کے بچوں کی ولادت کا اسے انتظار ہے، وہ بھی ہمارے ساتھ نہ آئے۔(یہ اعلان کرنے کے بعد) وہ غزوہ کے لیے روانہ ہو گیا، جب وہ ایک گاؤں کے پاس پہنچے تو نماز عصر کا وقت ہو چکا تھا، یا قریب تھا۔ (اور ایک روایت میں ہے کہ کہ غروبِ آفتاب سے پہلے دشمنوں سے مقابلہ ہوا)۔ اس وقت اس نبی نے سورج سے کہا: تو بھی (اللہ تعالیٰ کا) مامور ہے اور میں بھی (اسی کا) مامور ہوں۔ اے اللہ! تو اس سورج کو میرے لیے کچھ دیر تک روک لے۔ پس اسے روک دیا گیا، ( وہ جہاد میں مگن رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کی اور کافی غنیمتیں حاصل ہوئیں۔ اس لشکر والوں نے (اس وقت کے شرعی قانون کے مطابق) غنیمتوں کا مال جمع کیا، اسے کھانے کے لیے آگ آئی، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا اصول یہ تھا کہ جب وہ غنیمت کا مال حاصل کرتے تو اللہ تعالیٰ آگ بھیجتا جو اسے کھا جاتی۔ اس نبی نے (آگ کے نہ کھانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے) کہا: تم میں سے کسی نے خیانت کی ہے، لہٰذا ہر قبیلے سے ایک ایک آدمی میری بیعت کرے۔ انھوں نے بیعت کی۔ بیعت کے دوران ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چپک گیا۔ اس وقت انھوں نے کہا: تم میں خیانت ہے۔ اب تیرے قبیلے کا ہر آدمی میری بیعت کرے گا (تاکہ مجرم کا پتہ چل سکے)، انھوں نے بیعت شروع کی، بالآخر دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ چپک گئے۔ نبی نے کہا: تم میں خیانت ہے، تم نے خیانت کی ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، ہم نے گائے کے چہرے کی مانند بنی ہوئی سونے کی ایک مورتی کی خیانت کی ہے۔ پھر وہ گائے کے چہرے کی طرح کی بنی ہوئی چیز لے کر آئے اور اسے زمین پر مالِ غنیمت میں رکھ دیا، پھر آگ متوجہ ہوئی اور مالِ غنیمت کھا گئی۔ ہم (امتِ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) سے پہلے کسی کے لیے بھی مالِ غنیمت حلال نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ ہم ضعیف اور بے بس ہیں تو غنیمتوں کو ہمارے لیے حلال قرار دیا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس وقت فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ رحم کرتے ہوئے اورہماری کمزوری کی بنا پر ہمارے ساتھ تخفیف کرتے ہوئے ہمیں غنیمت کا مال کھانے کی اجازت دے دی۔
Musnad Ahmad
12988
۔ (۱۲۹۸۸)۔ وَعَنْ سَفِیْنَۃَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلَا اِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ قَبْلِیْ اِلَّاوَقَدْ حَذَّرَ الدَّجَّالَ اُمَّتَہُ، ھُوَ اَعْوَرُ عَیْنِہِ الْیُسْرٰی بِعَیْنِہِ الْیُمْنٰی ظَفَرَۃٌ غَلِیْظَۃٌ، مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ یَخْرُ جُ مَعَہُ وَادِیَانِ، اَحَدُھُمَا جَنَّۃٌ وَلْاٰخَرُ نَارٌ، فَنَارُہُ جَنَّۃٌ وَجَنَّتُہُ نَارٌ، مَعَہُ مَلَکَانِ مِنَ الْمَلَائِکَۃِیَشْبَہَانِ نَبِیَِّیْنِ مِنَ الْاَنْبِیَائِ، لَوْ شِئْتُ سَمَّیْتُہُمَا بِاَسْمَائِہِمَا وَاَسْمَائِ آبَائِہِمَا، وَاحِدٌ مِنْہُمَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَالآْخَرُ عَنْ شِمَالِہِ وَذٰلِکَ فِتْنَۃٌ، فَیَقُوْلُ الدَّجَّالُ: اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟ اَلَسْتُ اُحْیِیْ وَاُمِیْتُ؟ فَیَقُوْلُ لَہُ اَحَدُ الْمَلَکَیْنِ: کَذَبْتَ مَا یَسْمَعُہُ اَحَدٌ مِنَ النَّاسِ اِلَّا صَاحِبُہُ، فَیَقُوْلُ لَہُ: صَدَقْتَ، فَیَسْمَعُہُ النَّاسُ فَیَظُنُّوْنَ اِنَّمَا یُصَدِّقُ الدَّجَّالَ، وَذٰلِکَ فِتْنَۃٌ ثُمَّیَسِیْرُ، حَتّٰییَاْتِیَ الْمَدِیْنَۃَ، فَلَا یُوْذَنُ لَہُ فِیْہَا، فَیَقُوْلُ: ہٰذَا قَرْیَۃُ ذٰلِکَ الرَّجُلِ، ثُمَّ یَسِیْرُ حَتّٰییَاْتِیَ الشَّامَ، فَیُہْلِکُہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عِنْدَ عَقَبَۃِ اَفِیْقَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۷۵)
مولائے رسول سیدنا سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: مجھ سے قبل جو نبی بھی آیا، اس نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا ہے، وہ بائیں کانی آنکھ والا ہوگا اور اس کی دائیں آنکھ پر موٹی سی جھلی ہو گی، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِر کا لفظ لکھا ہوگا، اس کے پاس دو وادیاں ہوں گی، ایک اس کی جنت اور دوسری اس کی جہنم ہوگی، مگر اس کی جہنم درحقیقت جنت اور اس کی جنت درحقیقت جہنم ہوگی، اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے، جو دو نبیوں کے ہم شکل ہوں گے، اگر میں چاہوں تو ان کے اور ان کے آباء کے نام بیان کرسکتا ہوں، ایک دائیں طرف ہوگا اور دوسرا بائیں طرف، یہ بھی ایک آزمائش ہوگی، دجال لوگوں سے کہے گا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ کیا میں زندہ کرنے اور مارنے پر قادر نہیں ہوں؟ ایک فرشتہ کہے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، اس بات کو صرف دوسرا فرشتہ ہی سن سکے گا، لوگوں میں سے کوئی نہیں سنے گا، اس کی بات سن کر دوسرا فرشتہ کہے گا: تو نے سچ کہا، اس بات کولوگ سنیںگے تو سہی، لیکن وہ سمجھیں گے کہ وہ فرشتہ دجال کی بات کی تصدیق کر رہا ہے، یہ بھی لوگوں کے لیے ایک آزمائش ہوگی، پھر دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا، لیکن اسے مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی، وہ کہے گا کہ یہ تو اس آدمی کا شہر ہے، پھر وہ وہاں سے چلے گا اور شام کی سرزمین میں پہنچ جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے وہاں اَفِیْق کی گھاٹی میں ہلاک کرے گا۔
Musnad Ahmad
13101
۔ (۱۳۱۰۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: اُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِلَحْمٍ فَرُفِعَ اِلَیْہِ الذِّرَاعُ وَکَانَتْ تُعْجِبُہُ، فَنَہَسَ مِنْہَا نَہْسَۃً ثُمَّ قَالَ: ((اَنَا سَیِّدُ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَھَلْ تَدْرُوْنَ لِمَ ذٰلِکَ؟ یَجْمَعُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّّ الْاَوَّلِیْنَ وَالْآخَرِیْنَ فِیْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ، یُسْمِعُہُمُ الدَّاعِیْ وَیَنْفُذُھُمُ الْبَصَرُ وَتَدْنُو الشَّمْسُ فَیَبْلُغَ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْکُرَبِ مَالَا یُطِیْقُوْنَ وَلَایَحْتَمِلُوْنَ، فَیَقُوْلُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ: اَلَاتَرَوْنَ اِلٰی مَا اَنْتُمْ فِیْہِ، اَلَا تَرَوْنَ اِلٰی مَا قَدْ بَلَغَکُمْ، اَلَاتَنْظُرُوْنَ مَنْ یَّشْفَعُ لَکُمْ اِلٰی رَبِّکُمْ عَزَّوَجَلَّ! فَیَقُوْلُ بَعْضُ النَّاسِ: أَبُوْکُمْ آدَمُ، فَیَاتُوْنَ آدَمَ علیہ السلام فَیَقُوْلُوْنَ: یَاآدَمُ! اَنْتَ أَبُوالْبَشَرِ، خَلَقَکَ اللّٰہُ بِیَدِہِ، وَنَفَخَ فِیْکَ مِنْ رُوْحِہٖ،وَاَمَرَالْمَلَائِکَۃَ فَسَجَدُوْا لَکَ، فَاشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّکَ، اَلَا تَرٰی اِلٰی مَا نَحْنُ فِیْہِ اَلَا تَرٰی مَا قَدْ بَلَغَنَا۔ فَیَقُوْلُ آدَمُ علیہ السلام : اِنَّ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ قَدْ غَضِبَ الْیَوْمَ غَضْبًا لَمْ یَغْضَبْ مِثْلَہُ وَلَنْ یَّغْضَبَ بَعْدَہُ مِثْلَہُ وَاِنَّہ نَہَانِیْ عَنِ الشَّجَرَۃِ فَعَصَیْتُہُ، نَفْسِیْ نَفْسِیْ نَفْسِیْ نَفْسِیْ، اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِی، اِذْھَبُوْا اِلٰی نُوْحٍ، فَیَاْتُوْنَ نُوْحًا، فَیَقُوْلُوْنَ: یَا نُوْحُ! اَبُوْ الرُّسُلِ اِلَی اَھْلِ الْاَرْضِ وَسَمَّاکَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَبْدًا شَکُوْرًا، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّکَ ، اَلَا تَرٰی اِلٰی مَا نَحْنُ فِیْہِ اَلَا تَرٰی اِلٰی مَا قَدْ بَلَغَنَا۔ فَیَقُوْلُ نُوْحٌ: اِنَّ رَبِّیْ قَدْ غَضِبَ الْیَوْمَ غَضْبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَہُ مِثْلَہُ وَلَنْ یَّغْضَبَ بَعْدَہُ مِثْلَہُ، وَاِنَّہُ کَانَتْ لِیْ دَعْوَۃٌ عَلٰی قَوْمِیْ، نَفْسِیْ نَفْسِیْ نَفْسِیْ نَفْسِیْ، اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ، اِذْھَبُوْا اِلٰی اِبْرَاہِیْمَ، فَیَاْتُوْنَ اِبْرَاہِیْمَ، فَیَقُوْلُوْنَ: یَا اِبْرَاہِیْمُ! اَنْتَ نَبِیُّ اللّٰہِ وَخَلِیْلُہُ مِنْ اَھْلِ الْاَرْضِ، اِشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّکَ اَلَا تَرٰی اِلٰی مَا نَحْنُ فِیْہَ، اَلَا تَرٰی مَا قَدْ بَلَغَنَا، فَیَقُوْلُ لَھُمْ اِبْرَاہِیْمُ: اِنَّ رَبِّیْ قَدْ غَضِبَ الْیَوْمَ غَضْبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَہُ مِثْلَہُ وَلَنْ یَّغْضَبَ بَعْدَہُ مِثْلَہُ، فَذَکَرَ کَذِبَاتِہِ، نَفْسِیْ نَفْسِیْ نَفْسِیْ نَفْسِیْ، اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ، اِذْھَبُوْا اِلٰی مُوْسٰی علیہ السلام ، فَیَاْتُوْنَ مُوْسٰی فَیَقُوْلُوْنَ: یَا مُوْسٰی! اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، اِصْطَفَاکَ اللّٰہُ بِرِسَالَاتِہِ وَبِتَکْلِیْمِہِ عَلٰی النَّاسِ، اِشْفَعْ اِلٰی رَبِّکَ، اَلَا تَرٰی اِلٰی مَا نَحْنُ فِیْہِ، اَلَا تَرٰی اِلٰی مَا قَدْ بَلَغَنَا، فَیَقُوْلُ لَھُمْ مُوْسٰی: اِنَّ رَبِّیْ قَدْ غَضِبَ الْیَوْمَ غَضْبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَہُ مِثْلَہُ وَلَنْ یَّغْضَبَ بَعْدَہُ مِثْلَہُ وَاِنِّیْ قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ اُوْمَرْ بِقَتْلِہَا، نَفْسِیْ نَفْسِیْ نَفْسِیْ،اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ اِذْھَبُوْا اِلٰی عِیْسٰی علیہ السلام فَیَاْتُوْنَ عِیْسٰی، فَیَقُوْلُوْنَ: یَا عِیْسٰی! اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَکَلِمَتُہُ اَلْقَاھَا اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوْحٌ مِّنْہُ، قَالَ: ہٰکَذَا ھُوَ، وَکَلَّمْتَ النَّاسَ فِی الْمَہْدِ، فَاشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّکَ، اَلَا تَرٰی اِلٰی مَا نَحْنُ فِیْہِ، اَلَا تَرٰی اِلٰی مَا قَدْ بَلَغَنَا، فَیَقُوْلُ لَھُمْ عِیْسٰی علیہ السلام : اِنَّ رَبِّیْ غَضِبَ الْیَوْمَ غَضْبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَہُ مِثْلَہُ وَلَنْیَّغْضَبَ بَعْدَہُ مِثْلَہُ وَلَمْ یَذْکُرْ لَہُ ذَنْبًا، اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ، اِذْھَبُوْ اِلٰی مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَاْتُوْنِّیْ فَیَقُوْلُوْنَ: یَامُحَمَّدُ! اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَخَاتَمُ الْاَنْبِیَائِ، غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ ذَنْبَکَ مَاتَقَدَّمَ مِنْہُ وَمَا تَاَخَّرَ، اِشْفَعَ لَنَا اِلٰی رَبِّکَ اَلَا تَرٰی اِلٰی مَا نَحْنُ فِیْہِ، اَلَا تَرٰی اِلٰی مَا قَدْبَلَغَنَا، فَاَقُوْمُ فَاٰتِیْ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَاَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ، ثُمَّ یَفْتَحُ اللّٰہُ عَلَیَّ وَیُلْھِمُنِیْ مِنْ مَحَامِدِہٖوَحُسْنِالثَّنَائِعَلَیْہِ شَیْئًا لَمْ یَفْتَحْہُ عَلٰی اَحَدٍ قَبْلِیْ، فَیُقَالُ: یَامُحَمَّدُ! اِرْفَعْ رَاْسَکَ وَسَلْ تُعْطَہُ اِشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَاَقُوْلُ: یَارَبِّ! اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ،یَارَبِّ! اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ،یَارَبِّ! اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ،یَا رَبِّ! فَیَقُوْلُ: یَامُحَمَّدُ! اَدْخِلْ مِنْ اُمَّتِکَ مَنْ لَاحِسَابَ عَلَیْہِ مِنَ الْبَابِ الْاَیْمَنِ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ وَھُمْ شُرَکَائُ النَّاسِ فِیْمَا سِوَاہُ مِنَ الْاَبْوَابِ، ثُمَّ قَالَ وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! لَمَا بَیْنَ مِصْرَاعَیْنِ مِنْ مَصَارِیْعِ الْجَنَّۃِ کَمَا بَیْنَ مَکَّۃَ وَھَجَرٍ اَوْ کَمَا بَیْنَ مَکَّۃَ وَبُصْرٰی۔)) (مسند احمد: ۹۶۲۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور دستی کا گوشت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیش کیا گیا، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پسند بھی بڑا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دانتوں سے اس سے گوشت نوچا اور پھر فرمایا: قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار ہوں گا، کیا تم جانتے ہو کہ یہ ہو گا کیسے؟ اللہ تعالیٰ پہلوں اور پچھلوں سب کو ایک میدان میں جمع کرے گا، وہ سب یوں جمع ہوں گے کہ ایک آواز دینے والا آدمی سب کو اپنی بات سنا سکے گا اور دیکھنے والے کی نظر سب پر پڑ سکے گی، سورج انتہائی قریب آچکا ہوگا، لوگ ناقابل ِ برداشت غم اور تکلیف میں مبتلا ہوں گے، اس کیفیت میں وہ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ تمہارا حال کیا ہوا ہوا ہے؟ تم جس صورت ِ حال سے دو چار ہو وہ تمہیں نظر نہیں آتی؟ ذرا دیکھو کہ کون آدمی ایسا ہوسکتا ہے، جو تمہارے رب کے سامنے تمہارے حق میں شفاعت کر سکے؟ بعض لوگ کہیں گے: تمہارے باپ آدم علیہ السلام ہی اس قابل ہوسکتے ہیں، پھر لوگ آدم علیہ السلام کے پاس جا کر کہیں گے: اے آدم! آپ ابو البشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آپ کو پیدا کیا،اس نے تمہارے اندر اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو یہ حکم دیا کہ وہ آپ کو سجدہ کریں، آپ اپنے رب کے ہاں ہمارے لیے یہ سفارش تو کر دیں، ہم کس قدر تکلیف سے دو چار ہیں؟کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس قدر پریشان ہیں؟ آدم علیہ السلام جواب دیں گے: میرا ربّ آج اتنے شدید غصے میں ہے کہ ایسا غصہ نہ کبھی پہلے آیا تھا اور نہ بعد میں آئے گا۔ اس نے مجھے ایک درخت کے قریب جانے سے منع کیا تھا اور مجھ سے اس کی نافرمانی ہوگئی تھی، میری جان !میری جان! میری جان! میری جان! تم کسی اور کے پاس چلے جاؤ، نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، چنانچہ وہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس جا کر ان سے کہیں گے: اے نوح! آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ِ زمین کی طرف بھیجے گئے رسولوں میں سب سے پہلے آپ تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا شکر گزار بندہ قرار دیا ہے، آپ آج ربّ تعالیٰ کے ہاں ہمارے حق میں سفارش تو کر دیں، کیا آپ ہماری حالت ِ زار نہیں دیکھ رہے؟ اور کیا آپ ہماری پریشانی کو ملا حظہ نہیں کر رہے؟ نوح علیہ السلام کہیں گے: میرا ربّ آج اتنے شدید غصے میں ہے کہ ایسا غصہ نہ کبھی پہلے آیا تھا اور نہ بعد میں آئے گا، میں تو اپنی امت کے عذاب کے سلسلہ میں ایک دعا کرچکا ہوں، ہائے میری جان ، میری جان، میری جان، میری جان، تم کسی اور کے پاس چلے جاؤ، ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاو، پس وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جائیں گے اور ان سے کہیں گے: اے ابراہیم! آپ اللہ تعالیٰ کے نبی اور تمام انسانوں میں سے اس کے خلیل ہیں، آپ ربّ تعالیٰ کے ہاں ہمارے حق میں سفارش تو کر دیں، کیا آپ ہماری پریشان حالی اور حالت ِ زار نہیں دیکھ رہے؟ ابراہیم علیہ السلام ان سے فرمائیں گے: میرا ربّ آج اتنے شدید غصے میں ہے کہ ایسا غصہ نہ کبھی پہلے آیا تھا اور نہ بعد میں آئے گا۔ پھر وہ اپنے جھوٹوں کا ذکر کریں گے (اور سفارش کرنے سے انکار کر دیں گے) ہائے میری جان، میری جان، میری جان، میری جان، تم کسی اور کے پاس چلے جاؤ، موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، سو وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جا کر ان سے گزارش کریںگے کہ اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے آپ کو اپنی رسالت اور ہم کلامی کے لیے منتخب فرمایا، آپ ہمارے حق میں اپنے ربّ کے ہاں سفارش تو کر دیں، دیکھیں کہ ہم کس قدر پریشان اور غم و تکلیف میں مبتلا ہیں، موسی علیہ السلام ان سے کہیں گے: میرا ربّ آج اتنے شدید غصے میں ہے کہ ایسا غصہ نہ کبھی پہلے آیا تھا اور نہ بعد میں آئے گا، جبکہ میں ایک ایسے آدمی کو قتل کر چکا ہوں کہ جسے مارنے کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا، ہائے میری جان ، میری جان، میری جان، میری جان، تم کسی اور کے پاس چلے جاؤ، عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ وہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں جا کر ان سے عرض گزار ہوں گے اور کہیں گے: اے عیسی!آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ اللہ کا وہ کلمہ ہیں، جسے اس نے سیدہ مریم علیہا السلام کی طرف القاء کیا اور آپ اللہ تعالیٰ کی خاص انداز میں پیدا کردہ روح ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا: ہاں یہ بات درست ہے۔ اور آپ نے ماں کی گود میں لوگوں سے کلام کی، آپ ہمارے لیے اپنے ربّ کے ہاں سفارش تو کر دیں، دیکھیں ہم کس قدر پریشان حال ہیں، عیسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے:میرا ربّ آج اتنے شدید غصے میں ہے کہ ایسا غصہ نہ کبھی پہلے آیا تھا اور نہ بعد میں آئے گا، وہ اپنی کسی خطا کا ذکر نہیں کریں گے، تم کسی اور کے پاس چلے جاؤ، تم محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چلے جاؤ، پس اس کے بعدلوگ میرے پاس آجائیں گے اور کہیں گے: اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کیے ہیں، آپ اپنے ربّ کے ہاں ہمارے حق میں سفارش کریں۔ دیکھیں ہم کیسی پریشانی اور کرب و غم میں مبتلا ہیں، میں اٹھ کر عرش کے نیچے جا کر اپنے ربّ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی حمد و ثناء کے ایسے ایسے کلمات میری طرف الہام فرمائے گا کہ اس نے مجھ سے پہلے کسی کو یہ کلمات نہیں سکھلائے ہوں گے، بالآخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا: اے محمد! تم سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤ، مانگو تمہیں د یا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے میرے ربّ! میری امت، میری امت ، اے میرے ربّ ! میری امت، امیری امت، اے میرے ربّ ! میری امت ، میری امت، اے میرے ربّ ! تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا:اے محمد! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو جنت کی دائیں طرف والے دروازے سے جنت میں لے جاؤ، جن کا کوئی حساب نہیں ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگ باقی دروازوں سے بھی داخل ہونے کا حق رکھتے ہوں گے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جنت کے دروازے کے دو پٹوں میں اتنی مسافت ہے، جتنی مکہ مکرمہ اور ہجر یا مکہ مکرمہ اور بصریٰ شہر کے درمیان ہے۔