۔ (۱۱۲۰۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ یَتْرُکُ الْعَمَلَ وَھُوَ یُحِبُّ أَنْ یَعْمَلَہٗ کَرَاھِیَۃَ أَنْ یَسْتَنَّ النَّاسُ بِہِ فَیُفْرَضَ عَلَیْہِمْ، فَکَانَ یُحِبُّ مَا خُفِّفَ عَلَیْہِمْ مِنَ الْفَرَائِضِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۵۷)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بعض کام ایسے ہوتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر دائمی عمل کرنا چاہتے تو تھے، لیکن محض اس لیے اسے ترک کر دیتے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ اس پر عمل کرنے لگیں اور اللہ کی طرف سے اسے ان پر فرض ہی کر دیا جائے، اللہ کے فرائض میں سے لوگوں پر جو تخفیف کر دی جاتی تھی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند تھی ۔
Takhreej
(۱۱۲۰۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۲۸، ومسلم: ۷۱۸ (انظر: ۲۴۰۵۶)
Explanation
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش یہ تھی کہ لوگ کامیاب بھی ہو جائیں، لیکن ان کو مشقت بھی نہ کرنا پڑے، حقیقت ِ حال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساری کی ساری شریعت آسانی پر مشتمل ہے۔
11208
Sahih