TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے - ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے - دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 8 of دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 16 · 22 Hadith
۔ (۵۶۲۹۔) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَإِسْرَافِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ۔)) (مسند أحمد: ۷۹۰۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَإِسْرَافِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ (اے اللہ!میرے لیے بخش دے ان گناہوں کو، جو میں نے پہلے کیے، جو بعد میں کروں گا، جو مخفی طور پر کیے، جو ظاہری طور پر کیے، جو میں نے حد سے تجاوز کیا اور جن گناہوں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو آگے کرنے والا ہے اور تو پیچھے کرنے والا ہے اور نہیں کوئی معبودِ برحق مگر تو ہی)۔
Takhreej
(۵۶۲۹) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ البخاری فی الادب المفرد : ۶۷۳، والطبرانی فی الدعائ : ۱۷۹۶(انظر: ۷۹۱۳)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم معصوم تھے، لیکن صفائے قلب اور دل سے مختلف عارضوں اور پردوں کو زائل کرنے کے لیے استغفار کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حضور دائمی ہو، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بشری تقاضوں کی طرف توجہ کرتے، جیسے کھانا پینا وغیرہ، جس سے کمال حضور میں کمی آجاتی، استغفار کے ذریعے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس صورت کا ازالہ کرتے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عبدیت اور تواضع کے اظہار کے لیے، ربّ تعالیٰ کے کرم کا فقیر بننے کے لیے اور اپنی امت کو تعلیم دینے کے لیے استغفار کیا کرتے تھے۔
5629
Sahih
۔ (۵۶۳۰۔) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْہُدٰی وَالتُّقٰی وَالْعِفَّۃَ وَالْغِنٰی)) (مسند أحمد: ۳۶۹۲)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، پاکدامنی اور غِنٰی کا سوال کرتا ہوں۔
Takhreej
(۵۶۳۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۲۱(انظر: ۳۶۹۲)
5630
Sahih
۔ (۵۶۳۱۔) (وَعَنْہٗ اَیْضًا) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((اَللّٰھُمَّ اَحْسَنْتَ خَلْقِیْ فَاَحْسِنْ خُلُقِیْ۔)) (مسند أحمد: ۳۸۲۳)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اَحْسَنْتَ خَلْقِیْ فَاَحْسِنْ خُلُقِیْ (اے اللہ! تو نے میری تخلیق کو اچھا بنایا ہے، پس تو میرے اخلاق کو بھی اچھا بنا دے)۔
Takhreej
(۵۶۳۱) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطیالسی: ۳۷۴، وبن حبان: ۹۵۹ (انظر: ۳۸۲۳)
Explanation
فوائد:… جس حدیث میں اس دعا کو آئینہ کے ساتھ خاص کیا گیا ہے، اس کو ابن سنی نے روایت کیا ہے، لیکن وہ روایت ضعیف ہے۔ لہذا یہ دعا تو ثابت ہے، لیکن اس کا کسی موقع کے ساتھ خاص کرنا ثابت نہیں ہے، یہ الگ بات ہے کہ اپنی تخلیق کے حسن کو دیکھ کر یہ دعا پڑھ لینی چاہیے۔
5631
Sahih
۔ (۵۶۳۲۔) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِنْ کُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَجْلِسِ یَقُولُ: ((رَبِّ اغْفِرْ لِی وَتُبْ عَلَیَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ۔)) مِائَۃَ مَرَّۃٍ۔ (مسند أحمد: ۴۷۲۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے اعداد و شمار کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک ایک مجلس میں یہ دعا سو سو بار پڑھ لیتے تھے: رَبِّ اغْفِرْ لِی وَتُبْ عَلَیَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ (اے میرے ربّ! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول کر، بیشک تو توبہ قبول کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
Takhreej
(۵۶۳۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابوداود: ۱۵۱۶، وابن ماجہ: ۳۸۱۴، والترمذی: ۳۴۳۴(انظر: ۴۷۲۶)
5632
Sahih
۔ (۵۶۳۳۔) عن أَبی صِرْمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَقُوْلُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ غِنَایَ وَغِنَی مَوْلَایَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۴۸)
۔ سیدنا ابو صرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! بیشک میں تجھ سے اپنے (نفس کے) غِنٰی کا اور اپنے مولی کے غِنٰی کا سوال کرتا ہوں۔
Takhreej
(۵۶۳۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ لؤلؤۃ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۲۰۸، والطبرانی فی الکبیر : ۲۲/۸۲۸(انظر: ۱۵۷۵۶)
Explanation
فوائد:… مَوْلٰی سے مراد یہ افراد ہو سکتے ہیں: باپ، بھائی، بھتیجا، چچا، چچا زاد، تمام عصبہ، ساتھی، پڑوسی، حلیف، مدد گار، محبت کرنے والا، پیروی کرنے والا، سسرال۔ جتنے افراد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے مراد لیے جا سکتے ہوں گے، وہ مراد لیے جائیں گے، یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے لیے اور اپنے متعلقہ افراد کے لیے نفس کے غِنٰی کا سوال کر رہے ہیں، تاکہ حرص اور لالچ ختم ہو جائے۔
5633
Zaeef
۔ (۵۶۳۴۔) عَنْ زَیْدٍ أَبِی الْقَمُوصِ، عَنْ وَفْدِ عَبْدِ الْقَیْسِ أَنَّہُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِکَ الْمُنْتَخَبِینَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِینَ۔)) قَالَ: فَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا عِبَادُ اللّٰہِ الْمُنْتَخَبُونَ، قَالَ: ((عِبَادُ اللّٰہِ الصَّالِحُونَ۔)) قَالُوْا: فَمَا الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ قَالَ: ((الَّذِینَ یَبْیَضُّ مِنْہُمْ مَوَاضِعُ الطُّہُورِ۔)) قَالُوْا: فَمَا الْوَفْدُ الْمُتَقَبَّلُونَ؟ قَالَ: ((وَفْدٌ یَفِدُونَ مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ مَعَ نَبِیِّہِمْ إِلٰی رَبِّہِمْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۳۹)
۔ ابو قموص زید سے مروی ہے کہ عبد القیس کا وفد بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِکَ الْمُنْتَخَبِینَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِینَ (اے اللہ! ہمیں اپنے ان بندوں میں سے بنا، جو منتخب ہوں، جن کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں اور وہ مقبول وفد میں سے ہوں)۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اللہ کے منتخب بندے کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کے نیک بندے۔ لوگوں نے کہا: وہ لوگ کون ہوں گے، جن کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جن کے وضو والے اعضاء چمکتے ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: مقبول وفد سے مراد کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اس امت کا وہ وفد ہے، جو اپنے نبی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف جائے گا۔
Takhreej
(۵۶۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن عبد اللہ العمری لم نعرفہ (انظر: ۱۵۵۵۴)
5634
Zaeef
۔ (۵۶۳۵۔) عَنْ أَبِی الْعَلَائِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَامْرَأَۃٍ مِنْ قَیْسٍ أَنَّہُمَا سَمِعَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ أَحَدُہُمَا: سَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی وَخَطَئِی وَعَمْدِی۔)) و قَالَ الْآخَرُ سَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ أَسْتَہْدِیکَ لِأَرْشَدِ أَمْرِی وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۳۷۷)
۔ سیدنا عثمان بن ابی العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور بنو قیس کی ایک خاتون سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا، ان میں سے ایک نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذَنْبِیْ وَخَطَئِیْ وَعَمْدِیْ (اے اللہ! میرے لیے بخش دے میرے گناہ، میں نے نادانستہ طور پر کیے اور جو جان بوجھ کر کیے )۔ دوسرے نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ أَسْتَہْدِیکَ لِأَرْشَدِ أَمْرِی وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ (اے اللہ! میں تجھ سے وہ ہدایت طلب کرتا ہوں، جو میرے معاملے میں سب سے زیادہ افضل ہو اور میں تجھ سے اپنے نفس کے شرّ سے پناہ طلب کرتا ہوں)۔
Takhreej
(۵۶۳۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابن حبان: ۹۰۱، والطبرانی فی الکبیر : ۸۳۶۹ (انظر: ۱۶۲۶۹)
5635
Sahih
۔ (۵۶۳۶۔) عَنْ أَبِی السَّلِیلِ، عَنْ عَجُوزٍ مِنْ بَنِی نُمَیْرٍ أَنَّہَا رَمَقَتْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُصَلِّی بِالْأَبْطَحِ تُجَاہَ الْبَیْتِ قَبْلَ الْہِجْرَۃِ، قَالَ: فَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ خَطَئِیْ وَجَھْلِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۶۷۰)
۔ ابو سلیل بیان کرتے ہیں کہ بنو نمیر کی ایک بڑھیا خاتون سے مروی ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غور سے دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت سے پہلے وادیٔ ابطح میں بیت اللہ کے سامنے نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ خَطَئِیْ وَجَھْلِیْ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، جو میں نے نادانستہ طور پر اور جہالت کی وجہ سے کیے)۔
Takhreej
(۵۶۳۶) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ (انظر: ۱۶۵۵۵)
5636
Sahih
۔ (۵۶۳۷۔) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِیِّ قَالَ: قَالَ مُعَاوِیَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلَی الْمِنْبَرِ: ((اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ، مَنْ یُّرِدْ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًا یُفَقِّہُّ فِی الدِّینِ۔)) سَمِعْتُ ہَؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ہٰذَا الْمِنْبَرِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۹۶۴)
۔ محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ کلمات منبر پر کہے: اے اللہ! تیری عطا کو کوئی روکنے والا نہیں اور تیری روکی ہوئی چیز کو کوئی عطا کرنے والا نہیں، اور دولت مند کو (اس کی دولت) تیرے عذاب سے نہیں بچا سکتی، اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں فقہ عطا کر دیتا ہے۔ پھر کہتے: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ کلمات سنے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس منبر پر ارشاد فرمائے تھے۔
Takhreej
(۵۶۳۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ مالک فی المؤطا : ۲/۹۰۰، والطبرانی فی الکبیر : ۱۹/۷۸۲ (انظر: ۱۶۸۳۹)
5637
Sahih
۔ (۵۶۳۸) عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاۃَ الْقُرَشِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْعُو: ((اَللّٰھُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْأُمُورِ کُلِّہَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا، وَعَذَابِ الْآخِرَۃِ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَسَمِعْتُہُ أَنَا مِنْ ہَیْثَمٍ۔ (مسند أحمد: ۱۷۷۷۸)
۔ سیدنا بسر بن ارطاۃ قریشی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْأُمُورِ کُلِّہَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا، وَعَذَابِ الْآخِرَۃِ (اے اللہ! ہمارے تمام امور میں ہمارے انجام کو اچھا کر دے اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے پناہ میں رکھنا۔)۔ ]
Takhreej
(۵۶۳۸) تخریج: ایوب بن میسرۃ فی عداد المجھولین، وبسر بن ارطاۃ مختلف فی صحبتہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۱۹۶، وفی الاوسط : ۱/۲۸۱، وفی الدعائ : ۱۴۳۶(انظر: ۱۷۵۲۸)
5638
Sahih
۔ (۵۶۳۹۔) عَنْ أَبِی مُوسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْعُو بِہٰؤُلَائِ الدَّعَوَاتِ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی خَطَایَایَ وَجَہْلِی وَإِسْرَافِی فِی أَمْرِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی جَدِّی وَہَزْلِی وَخَطَئِی وَعَمْدِی، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۷۶)
۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعاکیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی خَطَایَایَ وَجَہْلِی وَإِسْرَافِی فِی أَمْرِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی جَدِّی وَہَزْلِی وَخَطَئِی وَعَمْدِی، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِیْ ((اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، جو میں نے جہالت کی وجہ سے کیے، جو میں نے حد سے تجاوز کیا اور جن گناہوں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، اے اللہ! (تو میرے وہ گناہ بخش دے) جو میں نے سنجیدگی میں کیے، جو مذاق میں کیے، جو نادانستہ طور پر کیے اور جو جہالت کی وجہ سے کیے اور یہ سارے گناہ مجھ میں ہیں)۔
Takhreej
(۵۶۳۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۳۹۸، ومسلم: ۲۷۱۹ (انظر: ۱۹۷۳۸)
5639
Sahih
۔ (۵۶۴۰) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدْعُوْ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَظُلْمَنَا وَہَزْلَنَا وَجِدَّنَا وَعَمْدَنَا، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدَنَا۔)) (مسند أحمد: ۶۶۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر و ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَظُلْمَنَا وَہَزْلَنَا وَجِدَّنَا وَعَمْدَنَا، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدَنَا۔ (اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے گناہ، ظلم، مذاق، سنجیدگی اور جان بوجھ کر کیے گئے گنا، اور یہ سارے ہمارے اندر ہیں )۔
Takhreej
(۵۶۴۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف ابن لھیعۃ، وحُیی بن عبد اللہ المعافری، أخرجہ ابن حبان: ۱۰۲۷ (انظر: ۶۶۱۷)
5640
Zaeef
۔ (۵۶۴۱۔) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِی وَتَرْحَمَنِی، وَإِذَا أَرَدْتَّ فِتْنَۃً فِی قَوْمٍ فَتَوَفَّنِی غَیْرَ مَفْتُونٍ، وَأَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِی إِلٰی حُبِّکَ۔)) وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہَا حَقٌّ فَادْرُسُوہَا وَتَعَلَّمُوہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۶۰)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ …… وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِی إِلَی حُبِّکَ، (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے، مساکین سے محبت کرنے اور مجھے بخشنے اور مجھ پر رحم کرنے کا سوال کرتا ہوں، جب تو کسی قسم میں فتنہ نازل کرنا چاہے تو مجھے وفات دے دے، اس حال میں کہ میں اس فتنے سے بچا ہوا ہوں، میں تجھ سے تیری محبت کا، تجھ سے محبت کرنے والوں کی محبت کا اور تیری محبت کے قریب کر دینے والے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں)۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس دعا کے کلمات حق ہیں ، اس کو سیکھو اور اس کی تعلیم حاصل کرو۔
Takhreej
(۵۶۴۱) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ الترمذی: ۳۲۳۵(انظر: ۲۲۱۰۹)
5641
Sahih
۔ (۵۶۴۲۔) عَنِ ابْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ یَرْصُدُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَ یَقُولُ فِی دُعَائِہِ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی، وَوَسِّعْ لِی فِی ذَاتِیْ، وَبَارِکْ لِی فِیمَا رَزَقْتَنِی۔)) ثُمَّ رَصَدَہُ الثَّانِیَۃَ فَکَانَ یَقُولُ: مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۵۰۲)
۔ ابن قعقاع ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نگاہ رکھتا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تاک میں رہتا تھا، وہ کہتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی، وَوَسِّعْ لِی فِی ذَاتِیْ، وَبَارِکْ لِی فِیمَا رَزَقْتَنِی۔ (اے اللہ! میرے لیے میرا گناہ بخش دے، میرے لیے میری ذات وسیع کر دے اور میرے لیے اس رزق میں برکت ڈال جو تو نے مجھے عطا کیا ہے)۔ وہ دوسرے دن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تاڑ میں رہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر یہی دعا پڑھی۔
Takhreej
(۵۶۴۲) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۳۱۱۴)
Explanation
فوائد:… ذات کی وسعت سے مراد اخلاق کی وسعت اور انشراح صدر ہے۔
5642
Sahih
۔ (۵۶۴۳۔) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ الَّذِینَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا، وَإِذَا أَسَائُ وْا اسْتَغْفَرُوا۔)) (مسند أحمد: ۲۶۵۴۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ الَّذِینَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا، وَإِذَا أَسَائُ وْا اسْتَغْفَرُوا (اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو نیکی کر کے خشک ہوتے ہیں اورجب ان سے برائی ہو جاتی ہے تو وہ استغفار کرتے ہیں)۔
Takhreej
(۵۶۴۳) اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۸۲۰(انظر: ۲۶۰۲۱)
5643
Zaeef
۔ (۵۶۴۴۔) عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حُدِّثْتُ عَنِ الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْتَغْفِرُکَ لِمَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، إِنَّکَ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۱۸)
۔ سیدنا ابن بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے سیدنااشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا گیا کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْتَغْفِرُکَ… کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ(اے اللہ! میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں، ان گناہوں کی جو میں نے پہلے کیے، جو بعد میں کروں گا، جو مخفی طور پر کیے، جو ظاہری طور پر کیے، بیشک تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے)۔
Takhreej
(۵۶۴۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۳۹۸، ومسلم: ۲۷۱۹(انظر: ۱۹۴۸۹)
5644
Sahih
۔ (۵۶۴۵۔) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ: ((رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی لِلطَّرِیقِ الْأَقْوَمِ (وَفِیْ لَفْظٍ: رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاھْدِنِی السَّبِیْلَ الْاَقْوَمَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۱۲۶)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے ہمارے ربّ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھے سب سے زیادہ سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہے: اے میرے ربّ! بخش دے، رحم فرمااور سب سے سیدھے راستے کی طرف مجھے ہدایت دے۔
Takhreej
(۵۶۴۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان ، ولانقطاعہ، فان الحسن البصری لم یسمع من ام سلمۃ، أخرجہ ابویعلی: ۶۸۹۳(انظر: ۲۶۵۹۱)
5645
Zaeef
۔ (۵۶۴۶۔) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدْعُوْ: ((رَبِّ أَعِنِّی وَلَا تُعِنْ عَلَیَّ، وَانْصُرْنِی وَلَا تَنْصُرْ عَلَیَّ، وَامْکُرْ لِی وَلَا تَمْکُرْ عَلَیَّ، وَاہْدِنِی وَیَسِّرِ الْہُدٰی إِلَیَّ، وَانْصُرْنِی عَلٰی مَنْ بَغٰی عَلَیَّ، رَبِّ اجْعَلْنِی لَکَ شَکَّارًا، لَکَ ذَکَّارًا، لَکَ رَہَّابًا، لَکَ مِطْوَاعًا، إِلَیْکَ مُخْبِتًا، لَکَ أَوَّاہًا مُنِیبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِی، وَاغْسِلْ حُوْبَتِی، وَأَجِبْ دَعْوَتِی، وَثَبِّتْ حُجَّتِیْ، وَسَدِّدْ لِسَانِیْ، وَاسْلُلْ سَخِیْمَۃَ قَلْبِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے تھے: رَبِّ أَعِنِّی وَلَا تُعِنْ عَلَیَّ، …… وَاسْلُلْ سَخِیْمَۃَ قَلْبِیْ (اے میرے ربّ! میری مدد فرما، میرے خلاف مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف تائید نہ کر، میرے حق میں تدبیر کر، میرے خلاف تدبیر نہ کر، مجھے ہدایت دے، میرے لیے ہدایت کو آسان کر دے، مجھ پر سرکشی کرنے والے کے خلاف میری مدد فرما، اے میرے ربّ! مجھے بنا دے تیرا زیادہ شکر کرنے والا، تیرا زیادہ ذکر کرنے والا، تجھ سے زیادہ ڈرانے والا، تیری زیادہ اطاعت کرنے والا، تیری طرف عاجزی کرنے والا، تیرے لیے زیادہ آہ وزاری کرنے والا اور تیری طرف رجوع کرنے والا، اے میرے ربّ ! میری توبہ قبول فرما، میرا گناہ دھو ڈال، میری دعا قبول کر، میری دلیل کو ثابت کر دینا، میری زبان کو درستگی پر رکھنا اور میرے دل سے کینہ اور حسد نکال دے)۔
Takhreej
(۵۶۴۶) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ أبوداود: ۱۵۱۱، وابن ماجہ: ۳۸۳۰، والترمذی: ۳۵۵۱(انظر: ۱۹۹۷)
5646
Sahih
۔ (۵۶۴۷۔) (وَعَنْہٗ اَیْضًا) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ، أَعُوذُ بِعِزَّتِکَ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْ تُضِلَّنِی، أَنْتَ الْحَیُّ الَّذِی لَا تَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ یَمُوتُونَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ، أَعُوذُ بِعِزَّتِکَ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْ تُضِلَّنِی، أَنْتَ الْحَیُّ الَّذِی لَا تَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ یَمُوتُونَ (اے اللہ! میں تیرے لیے مطیع ہوا، تیرے ساتھ ایمان لایا، تجھ پر توکل کیا، تیری طرف رجوع کیا، تیرے ذریعے جھگڑا کیا، تیری عزت کی پناہ میں آتا ہوں، جبکہ تو ہی معبودِ برحق ہے، اس بات سے کہ تو مجھے گمراہ کر دے، تو وہ زندہ ہے کہ جس کو موت نہیں آئے گی، جبکہ جن ااور انسان مر جائیں گے)۔
Takhreej
(۵۶۴۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۳۸۳، ومسلم: ۲۷۱۷(انظر: ۲۷۴۸)
5647
Zaeef
۔ (۵۶۴۸۔) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَعَوَاتٌ سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا أَتْرُکُہَا مَا عِشْتُ حَیًّا سَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی أُعْظِمُ شُکْرَکَ، وَأُکْثِرُ ذِکْرَکَ، وَأَتْبَعُ نَصِیحَتَکَ، وَأَحْفَظُ وَصِیَّتَکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۸۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، چند دعائیہ کلمات ہیں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنے، جب تک میں زندہ ہوں، ان کو نہیں چھوڑوں گا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی أُعْظِمُ شُکْرَکَ، وَأُکْثِرُ ذِکْرَکَ، وَأَتْبَعُ نَصِیحَتَکَ، وَأَحْفَظُ وَصِیَّتَکَ (اے اللہ! مجھے ایسا بنا دے کہ تیرا زیادہ شکریہ ادا کروں، کثرت سے تیرا ذکر کروں، تیری نصیحت کی پیروی کروں اور تیری وصیت کی حفاظت کروں)۔
Takhreej
(۵۶۴۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف الفرج بن فضالۃ، أخرجہ الطیالسی: ۲۵۵۳(انظر: ۸۱۰۱)
5648
Sahih

Chapters

16
01
دعا کرنے کی ترغیب، اس کی فضیلت، اس کے آداب اور اس چیز کا بیان کہ دعا لازمی طور پر فائدہ دے گی
12 Hadith
02
دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے کا، ہاتھ اٹھانے کا اور اس چیز کا کہ کس چیز سے دعا کو شروع کیا جائے، نیز دعا سے فراغت کے وقت ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بیان
11 Hadith
03
دعاء میں حضورِ قلب کی تاکید، عام دعا اور اپنی ذات سے آغاز کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
5 Hadith
04
اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
6 Hadith
05
دعا میں زیادتی کی کراہت کا بیان
2 Hadith
06
ان اوقات کا بیان، جن میں دعا قبول ہوتی ہے
4 Hadith
07
ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
7 Hadith
08
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
22 Hadith
09
ان دعاؤں کا بیان ، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے پڑھا کرتے تھے، ان میں سے ایک دعا یہ ہے: رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً
2 Hadith
10
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ
7 Hadith
11
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا اَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ…
18 Hadith
12
اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وسیلہ دیا تھا
3 Hadith
13
تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
23 Hadith
14
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کا بیان
2 Hadith
15
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود چھوڑ دینے والے شخص کی مذمت کا بیان
2 Hadith
16
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا
12 Hadith
No chapter matched that.