ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
۔ (۶۰۲۴)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حَجْشٍ أَنَّ رَجُلًا جَائَ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: مَالِیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ قُتِلْتُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الْجَنَّۃُ۔)) فَلَمَّا وَلّٰی قَالَ: (( اِلَّا الدَّیْنَ سَارَّنِیْ بِہٖجِبْرِیْلُ آنِفًا۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۸۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو انسان لوگوں سے (قرض وغیرہ کے طور پر) مال لیتا ہے اور اس کاارادہ واپس اداکرنے کا بھی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ادائیگی میں اس کی مدد کرتا ہے، لیکن جوانسان لوگوں کامال اس ارادہ سے لیتا ہے کہ اسے ضائع کر دے تو اللہ تعالی بھی اس کو تلف کر دیتا ہے۔
6024
Sahih