TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6024 - ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان - قرض کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 6 in this chapter
ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
۔ (۶۰۲۴)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حَجْشٍ أَنَّ رَجُلًا جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَالِیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ قُتِلْتُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الْجَنَّۃُ۔)) فَلَمَّا وَلّٰی قَالَ: (( اِلَّا الدَّیْنَ سَارَّنِیْ بِہٖجِبْرِیْلُ آنِفًا۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۸۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو انسان لوگوں سے (قرض وغیرہ کے طور پر) مال لیتا ہے اور اس کاارادہ واپس اداکرنے کا بھی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ادائیگی میں اس کی مدد کرتا ہے، لیکن جوانسان لوگوں کامال اس ارادہ سے لیتا ہے کہ اسے ضائع کر دے تو اللہ تعالی بھی اس کو تلف کر دیتا ہے۔
6024
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۰۲۴) صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۷۲، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۹/ ۵۵۷ (انظر: ۱۹۰۷۷)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… یہ حسنِ نیت کا انجام ہے کہ اللہ تعالی ادائیگی کے یا معافی کے اسباب کر دے گا، جبکہ اس معاملے میں بری نیت ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے۔

Related Chapters

324
1
Chapter: What Has Been Related About Hatred
باب: آپس میں بغض رکھنے کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
مسجد میں وضو کر لینے اور سونے کا ارادہ رکھنے والے کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
3
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
4
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
5
ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
Musnad Ahmad
6
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
Musnad Ahmad
7
مقروض آدمی کی نماز جنازہ ادا نہ کرنے کے حکم کا منسوخ ہونا
Musnad Ahmad
8
جماع سے پہلے مہر کی کچھ ادائیگی کردینے اور اس کو چھوڑ دینے کا بیان اور اس شخص کی وعید کا بیان کہ جس نے بظاہر مہر کا تعین تو کیا، لیکن اس کا ارادہ ادائیگی کا نہ تھا
Musnad Ahmad
9
اہل فضل اور مہارت رکھنے والوں کو قرآن مجید سنانا مستحب ہے ‘چاہے پڑھنے والاسننے والے سے افضل ہو
Sahih Muslim
10
قربانی کا ارادہ رکھنے والا شخص ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
Sunnan Ibn e Maja
11
باب: مقروض آدمی کی نماز جنازہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
باب: جنازہ رکھنے سے پہلے بیٹھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
13
باب: رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (رات کو) قیام کرنے یعنی صلاۃ تراویح پڑھنے اور (دن کو) روزہ رکھنے والے کے ثواب کا بیان اور اس سلسلہ کی حدیث میں زہری پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
14
(107)Chapter: What Has Been Related [About The Junub Person] When He Wants To Repeat (Sexual Relations) He Should Perform Wudu
باب: بیوی سے دوبارہ صحبت کرنے کا ارادہ کرنے پر جنبی وضو کر لے
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Spreading The Fingers With The Takbir
باب: اللہ اکبر کہتے وقت انگلیاں کھلی رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Placing The Right Hand Over The Left During the Salat
باب: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Placing the Hands On The Knees While Bowing
باب: رکوع میں دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Him (pbuh) holding His Forearms Away From His Sides While Bowing.
باب: رکوع میں اپنے ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Placing The Knees (On The Ground) Before The Hands For Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ سے پہلے دونوں گھٹنے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: Something Else About That
باب: سجدے میں ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Holding The Forearms Away From The Sides During Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے جدا رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Placing The Hands and Planting The Feet During Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ زمین پر رکھنے اور دونوں پاؤں کھڑے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Al-Ikhtisar (Holding The Hip) In Salat
باب: نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day OF Doubt
باب: شک کے دن روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About: Fasting And Breaking Fast Are Based Upon The Sighting (Of The Crescent)
باب: چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور دیکھ کر روزہ بند کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Fasting Based Upon Testimony
باب: چاند دیکھنے کی گواہی پر روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast While Traveling
باب: سفر میں روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Fast While Traveling
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Behalf Of The Dead
باب: میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Atonement For Breaking The Fast During Ramadan
باب: رمضان میں روزہ نہ رکھنے پر عائد کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: Performing A Voluntary Fast Without Planning It The Night Before
باب: رات میں روزے کی نیت کئے بغیر نفلی روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast During The Second Half Of Sha'ban For The Sake of Ramdan
باب: رمضان کی تعظیم میں شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Friday
باب: جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast On Friday Alone
باب: خاص کر صرف جمعہ کو روزہ رکھنے کی کراہیت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Monday And Thursday
باب: سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کے دن روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Encouragement To Fast The Day Of Ashura
باب: عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Not Fast The Day Of Ashura
باب: یوم عاشوراء کا روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Fasting Three (Days) Of Every Month
باب: ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Fasting Consecutive Days
باب: پے در پے روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About It Being Dislike To Fast On The Day Of Fitr And The Day Of Nahr
باب: عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Days Of Tashriq
باب: ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Al-Wisal (Continuous) Fasting Is Disliked
باب: افطار کیے بغیر مسلسل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For A Woman To Fast Except With The Permission Of Her Husband
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے نفل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What has been related about the one who has uttered Zihar and has intercourse (with his wife) before atoning
باب: ظہار کرنے والے کا بیان جو کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جماع کر بیٹھے
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Those Who Deal In Trade And What The Prophet (S) Called Them
باب: تاجروں کا ذکر اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ان کے نام رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About 'Both The Buyer And The Seller Retain The Option As Long As They Have Not Separated'
باب: بیچنے والا اور خریدار دونوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں بیع کو باقی رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہے
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About The Rich Person's Procrastination (Paying Debt) Is Oppression
باب: مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About A Man Placing A Beam On His Neighbor’s Enclosure Wall
باب: پڑوسی کی دیوار پر لکڑی رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

1
Musnad Ahmad
13104
۔ (۱۳۱۰۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، قَالَ: ثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ اِسْحٰقَ الطَّالقَانِیُّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلِ نِ الْمَازِنِیُّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ نَعَامَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ ھُنَیْدَۃَ الْبَرَائُ بْنُ نَوْفَلٍ عَنْ وَالَانَ الْعَدَوِیِّ عَنْ حُذَیْفَۃَ عَنْ اَبِی بَکْرِ نِ الصِّدِّیْقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَصْبَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ فَصَلّٰی الْغَدَاۃَ، ثُمَّ جَلَسَ حَتّٰی اِذَا کَانَ مِنَ الضُّحٰی ضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ جَلَسَ مَکَانَہُ حَتّٰی صَلّٰی الْاُوْلٰی وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ، کُلَّ ذٰلِکَ لاَیَتَکَلَّمُ حَتّٰی صَلّٰی الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ، ثُمَّ قَامَ اِلٰی اَھْلِہِ فَقَالَ النَّاسُ لِاَبِیْ بَکْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اَلَا تَسْاَلُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا شَاْنُہُ، صَنَعَ الْیَوْمَ شَیْئًا لَمْ یَصْنَعْہُ قَطُّ، قَالَ: فَسَاَلَہُ فَقَالَ: ((نَعَمْ عُرِضَ عَلَیَّ مَا ھُوَکَائِنٌ مِنْ اَمْرِ الدُّنْیَا وَاَمْرِالْآخِرَۃِ فَجُمِعَ الْاَوَّلُوْنَ وَالْآخَرُوْنَ بِصَعِیْدٍ وَاحِدٍ، فَزِعَ النَّاسُ بِذٰلِکَ حَتّٰی انْطَلَقُوْا اِلٰی آدَمَ علیہ السلام وَالْعَرَقُ یَکَادُیُلْجِمُہُمْ فَقَالُوْا: یَاآدَمُ! اَنْتَ اَبُو الْبَشَرِ وَاَنْتَ اصْطَفَاکَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، اِشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّکَ، قَالَ: لَقَدْ لَقِیْتُ مِثْلَ الَّذِیْ لَقِیْتُمْ، اِنْطَلِقُوْا اِلٰی اَبِیْکُمْ بَعْدَ اَبِیْکُمْ اِلٰی نُوْحٍ {اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی آدَمَ وَنُوْحًا وَآلَ اِبْرَاہِیْمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلٰی الْعَالَمِیْن} قَالَ: فَیَنْطَلِقُوْنَ اِلٰی نُوْحٍ علیہ السلام فَیَقُوْلُوْنَ: اِشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّکَ, فَاَنْتَ اصْطَفَاکَ اللّٰہُ وَاسْتَجَابَ لَکَ فِیْ دُعَائِکَ وَلَمْ یَدَعْ عَلٰی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا, فَیَقُوْلُ: لَیْسَ ذَاکُمْ عِنْدِیْ, اِنْطَلِقُوْا اِلٰی اِبْرَاہِیْمَ علیہ السلام فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِتَّخَذَہُ خَلِیْلاً، فَیَنْطَلِقُوْنَ اِلٰی اِبْرَاہِیْمَ فَیَقُوْلُ: لَیْسَ ذَاکُمْ عِنْدِیْ، وَلٰکِنْ اِنْطَلِقُوْا اِلٰی مُوْسٰی علیہ السلام فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ کَلَّمَہُ تَکْلِیْمًا فَیَقُوْلُ مُوْسٰی علیہ السلام : لَیْسَ ذَاکُمْ عِنْدِیْ وَلٰکِنِ انْطَلِقُوْا اِلٰی عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ فَاِنَّہُ یُبْرِیئُ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَیُحْیِی الْمَوْتٰی فَیَقُوْلُ عِیْسٰی: لَیْسَ ذَاکُمْ عِنْدِیْ، وَلٰکِنِ انْطَلِقُوْا اِلٰی سَیِّدِ وُلْدِ آدَمَ فَاِنَّہ اَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْاَرْضُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِنْطَلِقُوْا اِلٰی مَحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَشْفَعُ لَکُمْ اِلٰی رَبِّکُمْ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: فَیَنْطَلِقُ فَیَاْتِیْ جِبْرِیْلُ علیہ السلام رَبَّہُ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اِئْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ، قَالَ: فَیَنْطَلِقُ بِہٖجِبْرِیْلُ فَیَخِرُّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَۃٍ وَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اِرْفَعْ رَاْسَکَ یَا مُحَمَّدُ! وَقُلْ یُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعُ قَالَ: فَیَرْفَعُ رَاْسَہُ فَاِذَا نَظَرَ اِلٰی رَبِّہٖعَزَّوَجَلَّخَرَّسَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَۃٍ اُخْرٰی، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اِرْفَعْ رَاْسَکَ وَقُلْ یُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، قَالَ: فَیَذْھَبُ لِیَقَعَ سَاجِدًا فَیَاْخُذُ جِبْرِیْلُ علیہ السلام بِضَبْعَیْہِ فَیَفْتَحُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ مِنَ الدُّعَائِ شَیْئًالَمْیَفْتَحْہُ عَلٰی بَشَرٍ قَطُّ فَیَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ خَلَقْتَنِیْ سَیِّدَ وُلْدِ آدَمَ وَلَافَخْرَ وَاَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْاَرْضُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَافَخْرَ، حَتّٰی اِنَّہُ لَیَرِدُ عَلَیَّ الْحَوْضَ اَکْثَرُ مِمَّا بَیْنَ صَنْعَائَ وَاَیْلَۃَ ، ثُمَّ یُقَالُ: اُدْعُوا الصِّدِّیْقِیْنَ فَیَشْفَعُوْنَ، ثُمَّ یُقَالُ: اُدْعُوالْاَنْبِیَائَ قَالَ: فَیَجِیْئُ النَّبِیُّ وَمَعَہُ الْعِصَابَۃُ وَالنَّبِیُّ وَمَعَہُ الْخَمْسَۃُ وَالسِّتَّۃُ وَالنَّبِیُّ وَلَیْسَ مَعَہُ اَحَدٌ، ثُمَّ یُقَالُ: اُدْعُو الشُّہَدَائَ فَیَشْفَعُوْنَ لِمَنْ اَرَادُوْا، وَقَالَ: فَاِذَا فَعَلَتِ الشُّہَدَائُ ذٰلِکَ قَالَ: یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَنَا اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ اَدْخِلُوْا جَنَّتِیْ مَنْ کَانَ لَا یُشْرِکُ بِیْ شَیْئًا، قَالَ: فَیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اُنْظُرُوْا فِی النَّارِ ھَلْ تَلْقَوْنَ مِنْ اَحَدٍ عَمِلَ خَیْرًا قَطُّ؟ قَالَ: فَیَجِدُوْنَ فِی النَّارِ رَجُلًا فَیَقُوْلُ لَہُ: ھَلْ عَمِلْتَ خَیْرًا قَطُّ؟ فَیَقُوْلُ: لَاغَیْرَ اَنِّیْ کُنْتُ اُسَامِحُ النَّاسَ فِی الْبَیْعِ وَالشِّرَائِ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اِسْمَحُوْا لِعَبْدِیْ کَاِسْمَاحِہٖاِلٰی عَبِیْدِیْ، ثُمَّ یُخْرِجُوْنَ مِنَ النَّارِ رَجُلًا فَیَقُوْلُ لَہُ: ھَلْ عَمِلْتَ خَیْرًا قَطُّ، فَیَقُوْلُ: لَا غَیْرَ اَنِّیْ قَدْ اَمَرْتُ وَلَدِیْ اِذَا مِتُّ فَاَحْرِقُوْنِیْ بِالنَّارِ ثُمَّ اطْحَنُوْنِیْ حَتّٰی اِذَا کُنْتُ مِثْلَ الْکُحْلِ، فَاذْھَبُوْا بِیْ اِلَی الْبَحْرِ، فَاذْرُوْنِیْ فِی الرِّیْحِ، فَوَ اللّٰہِ لَایَقْدِرُ عَلَیَّ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ اَبَدًا، فَقَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: لِمَ فَعَلْتَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: مِنْ مَّخَافَتِکَ، قَالَ: فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اُنْظُرْ اِلٰی مُلْکِ اَعْظَمِ مَلِکٍ، فَلَکَ مِثْلُہُ وَعَشْرَۃُ اَمْثَالِہٖ،فَیَقُوْلُ: لِم تَسْخَرُ بِیْ وَاَنْتَ الْمَلِکُ؟ قَالَ: وَذٰلِکَ الَّذِیْ ضَحِکْتُ مِنْہُ مِنَ الضُّحٰی۔)) (مسند احمد: ۱۵)
سیدناابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر کی نماز ادا کر کے بیٹھ گئے، یہاں تک کہ چاشت کا وقت ہوگیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرائے اور اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہیں بیٹھے رہے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر، عصر اور مغرب کی نمازیں بھی وہیں ادا کیں اور کسی سے کوئی بات نہیں کی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عشاء کی نماز ادا کی اور اٹھ کر اپنے اہل ِ خانہ کی طرف چلے گئے تو لوگوں نے سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا آپ اللہ کے رسول سے دریافت نہیں کرتے کہ کیا وجہ ہے کہ آج آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسا عمل کیا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے کبھی بھی ایسا نہیں کیا، چنانچہ ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، دنیا اور آخرت میں جو کچھ ہونے والا ہے، آج میرے سامنے پیش کیا گیا، پہلے والے اور بعد والے لوگوں کو ایک چٹیل میدان میں جمع کیا جائے گا، وہاں وہ شدید کر ب و اذیت میں مبتلا ہوں گے کہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے، لوگوں کو منہوں تک پسینہ آیا ہوگا، وہ کہیں گے: اے آدم ! آپ ابو البشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخلوق میں سے منتخب کیا، آپ اپنے ربّ کے ہاں ہمارے حق میں سفارش کریں۔ وہ کہیں گے:میں بھی اسی قسم کی بے چینی میں مبتلا ہوں، جس میں تم پھنسے ہوئے ہو، تم اس طرح کرو کہ میرے بعد اپنے دوسرے باپ نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰٓی اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرَھِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلٰی الْعٰلَمِیْنَ} ( بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام ، نوح علیہ السلام ، آلِ ابراہیم اور آل عمران کو سارے جہان والوں میں سے منتخب فرمایا ہے۔) چنانچہ لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں جا کر ان سے گزارش کریں گے کہ وہ ان کے حق میں ربّ سے سفارش کریں، آخر اللہ تعالیٰ نے ان کولوگوں میں سے منتخب کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی، جس کے نتیجے میں اس نے زمین پر بسنے والے ایک کافر کو بھی نہیں چھوڑا، لیکن نوح علیہ السلام معذرت کرتے ہوئے کہیں گے:میں یہ کام نہیں کر سکتا، تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا خلیل بنایا تھا، پس وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جا کر ان سے اپنی بات ذکر کریں گے، لیکن وہ بھی معذرت کرتے ہوئے کہیں گے:میں یہ کام نہیں کر سکتا، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ اعزاز عطا کیا ہے کہ ان سے براہ راست کلام کیا۔لیکن موسی علیہ السلام بھی یہ کہیں گے کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا، تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ خصوصیت دی تھی کہ وہ مادر زا اندھوں کو بینا کر دیتے تھے، برص کے مریضوں کو ٹھیک کر دیتے اور مردوں کو زندہ کر دیتے تھے، لیکن عیسیٰ علیہ السلام بھی کہیں گے کہ میں یہ کام نہیں کرسکتا، البتہ تم اولادِ آدم کے سردار محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں چلے جاؤ۔ قیامت کے دن سب سے پہلے زمین ان سے پھٹی ہے اور وہ سب سے پہلے اٹھے ہیں، بس تم لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ہی چلے جاؤ، وہ تمہارے ربّ کے ہاں تمہارے حق میں سفارش کر سکتے ہیں۔ اُدھر جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچے گے اور اللہ تعالیٰ ان کو حکم دیتے ہوئے کہیں گے: تم حضرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی دے دو، حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ساتھ لے کر جائیں گے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک ہفتے کے برابر طویل سجدہ کریں گے،بالآخر اللہ تعالیٰ فرمائے گا:اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، کہو آپ کی بات سنی جائے گی، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنا سر اٹھائیں گے، لیکن جونہی اپنے ربّ کو دیکھیں گے تو دوبارہ سجدہ ریز ہوجائیں گے اور ایک ہفتہ بھر سجدہ کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا:سر اٹھاؤ، کہو آپ کی بات سنی جائے گی، سفارش کرو آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، آپ پھر سجدہ ریز ہونے لگیں گے کہ جبرائیل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بازوؤں سے پکڑ لیں گے، تب اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی ایسی دعائیں سکھا دے گا کہ اس نے ایسی دعائیں آج تک کسی فرد کو نہیں سکھائی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہیں گے: اے میرے رب! تو نے مجھے اولادِ آدم کا سردار بنایا، میں اس پر فخر نہیں کرتا، قیامت کے دن سب سے پہلے زمین سے میں اٹھا، میں اس پر بھی فخر نہیںکرتا اور صنعاء اور ایلہ کے درمیان میں سما جانے والے لوگوں سے زیادہ لوگ پانی پینے کے لیے میرے حوض پر آئیں گے۔ پھر اعلان کیا جائے گا کہ صدّیقوں کو بلاؤ، وہ آکر گنہگاروں کے حق میں سفارش کریںگے، پھر اعلان کیا جائے گا کہ انبیاء کو بلاؤ،چنانچہ کوئی نبی آئے گا اوراس کے ساتھ امتیوں کی چھوٹی سی جماعت ہوگی، کسی نبی کے ساتھ پانچ،کسی کے ساتھ چھ افراد ہوں گے اور بعض نبی ایسے بھی ہوں گے کہ جن کے ساتھ کوئی آدمی نہیں ہوگا، پھر اعلان کیا جائے گا کہ شہداء کو بلاؤ، وہ بھی جن جن کے حق میں چاہیں گے سفارشیں کر یں گے، جب شہداء سفارش سے فارغ ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میںارحم الرحمین (سب سے زیادہ رحم کرنے والا) ہوں، تم ہر اس آدمی کو جنت میں لے جاؤ، جو میرے ساتھ شرک نہیں کرتا تھا، چنانچہ ایسے لوگ جنت میں چلے جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جہنم میں دیکھو، کیا تمہیں کوئی ایسا آدمی نظر آ رہا ہو، جس نے کبھی کوئی نیکی کی ہو؟ چنانچہ جہنم میں ایک آدمی سے کہا جائے گا: تو نے بھی کبھی کوئی نیکی کی تھی؟ وہ کہے گا: جی نہیں، کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی، البتہ خرید و فروخت کرتے وقت میں لوگوں سے نرمی کیا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ جس طرح میرے بندوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرتا تھا، تم بھی میرے اس بندے کے ساتھ اسی طرح نرمی کرو۔اس کے بعد پھر وہ جہنم سے ایک آدمی کو نکال کر لائیں گے، اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا اس نے کبھی کوئی نیکی کی ہے؟ وہ کہے گا: جی نہیں، میں نے تو اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ جب میں مر جاؤں تو تم مجھے آگ سے جلا ڈالنا، پھر میری راکھ کو پیسنا، جب میں سرمہ کی مانند باریک ہوجاؤں تو میری راکھ کو سمندر کی طرف لے جاکر ہواؤں میں اڑاد ینا، اللہ کی قسم، ایسا کرنے سے اللہ ربّ العالمین کو مجھ پر کوئی قدرت نہیں رہے گی، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: تو نے یہ کام کیوں کیا تھا؟ وہ کہے گا: اے اللہ! تیرے خوف کی وجہ سے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کی بادشاہت کو تصور کرو، تمہیں جنت میں وہ اور اس کا دس گنا دیا جائے گا۔ یہ سن کر وہ کہے گا: اے اللہ! تو تو بادشاہ ہے، تو میرے ساتھ مذاق کیوں کرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ بات تھی، جس کی وجہ سے میں چاشت کے وقت مسکرایا تھا۔