TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4004 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 14 of 23 in this chapter
باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَمَّنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ ! سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ يَجِيءُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَيْ رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا اللَّهُ ثُمَّ مَا نَسَخَهَا .
It was narrated from Salim bin Abi Ja'd that: Ibn 'Abbas was asked about someone who killed a believer deliberately, then he repented, believed and did righteous deeds, and followed true guidance. Ibn 'Abbas said: There is no way the repentance could avail him! I heard the Prophet [SAW] say: 'He (the victim) will come hanging onto his killer, with his jugular veins flowing with blood and saying: O Lord, ask him why he killed me. Then he said: By Allah, Allah revealed it and never abrogated anything of it.'
سالم بن ابی الجعد سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا کیا گیا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا، پھر توبہ کی، ایمان لایا، اور نیک عمل کئے پھر راہ راست پر آ گیا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کی توبہ کہاں ہے؟ میں نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے:  وہ قاتل کو پکڑے آئے گا اور اس کی گردن کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! اس سے پوچھ، اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟  پھر  ( ابن عباس رضی اللہ عنہما نے )  کہا: اللہ تعالیٰ نے اس آیت  ( «ومن يقتل مؤمنا متعمدا...» )  کو نازل کیا اور اسے منسوخ نہیں کیا ۱؎۔
4004
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 3999 In-book reference : Book 37, Hadith 34 English translation : Vol. 5, Book 37, Hadith 4004
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3999
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الدیات ۲ (۲۶۲۱)، (تحفة الأشراف: ۵۴۳۲)، مسند احمد (۱/۲۴۰، ۲۹۴، ۳۶۴)، ویأتي عند المؤلف في القسامة (برقم: ۴۸۷۰) (صحیح)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎: یہ آیت: «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها»  جو کوئی مؤمن کو عمداً قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہے گا (النساء:۹۳)مدنی ہے اور بقول ابن عباس مدنی زندگی کے آخری دور میں نازل ہونے والی آیات میں سے ہے۔ اس لیے یہ اس مکی آیت کی بظاہر ناسخ ہے جو سورۃ الفرقان میں ہے: «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق» سے لے کر«إلا من تاب و عمل صالحا» تک اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کر دیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے۔۔۔۔ مگر جس نے توبہ کر لی اور نیک عمل کیے۔۔۔ (الفرقان:۶۸-۷۰)علماء نے تطبیق کی صورت یوں نکالی ہے کہ پہلی آیت کو اس صورت پر محمول کریں گے جب قتل کرنے والا مؤمن کے قتل کو مباح بھی سمجھتا ہو تو اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی اور وہ جہنمی ہو گا۔ ایک جواب یہ دیا جاتا ہے کہ مدنی آیت میں «خلود» سے مراد زیادہ عرصہ تک ٹھہرنا ہے، ایک نہ ایک دن توحید کی بدولت اسے ضرور جہنم سے خلاصی ہو گی۔ یہ بھی جواب دیا جا سکتا ہے کہ آیت میں زجر و توبیخ مراد ہے۔ یا جو بغیر توبہ مر جائے، یہ ساری تاویلات اس لیے کی گئی ہیں کہ جب کفر و شرک کے مرتکب کی توبہ مقبول ہے تو مومن کو عمداً قتل کرنے والے کی توبہ کیوں قبول نہیں ہو گی، یہی وجہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے اس قول سے رجوع کر لیا۔ دیکھئیے (صحیح حدیث نمبر:۲۷۹۹)

Related Chapters

71
1
(9) CHAPTER. Whoever seeks to shed somebody's blood without any right.
جو کوئی ناحق کسی کا خون کرنے کی فکر میں ہو اس کا گناہ
Sahih Bukhari
2
Chapter: The evidence that the blood of one who aims to seize other people's wealth without right may be shed, if he is killed he will be in the fire, and the one who is killed defending his property is a martyr
اس بات کی دلیل کہ کوئی شخص دوسرے کا مال ناحق چھیننا چاہے تو اس کے خون کا قصاص نہ ہو گا اور اگر (ایسا کرتے ہوئے ) وہ مارا گیا تو جہنم میں جائے گا اور جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے
Sahih Muslim
3
(104)Chapter: What Has Been Related About Washing Menstrual Blood From The Garment
باب: کپڑے سے حیض کا خون دھونے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Killing A Believer
باب: مومن کے قتل ناحق پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: Judgements For Cases Involving Bloodshed
باب: خون کے فیصلہ کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About 'The Blood Of A Muslim Man Is Not Lawful Except For One Of Three Cases'
باب: ان تین اسباب میں سے کسی ایک کے پائے جانے پر ہی کسی مسلم کا خون حلال ہوتا ہے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What has been Related About 'The Blood Of A Muslim is Not Lawful Except For One Of Three'
باب: تین صورتوں کے سوا کسی مسلمان کا خون حلال نہیں
Jam e Tirmazi
8
حیض کے خون کو پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
9
جن جانداروں میں بہنے والا خون نہ ہو،ان کی طہارت کا بیان، وہ زندہ ہوںیا مردہ
Musnad Ahmad
10
مذی، ودی اور استحاضہ کے خون سے وضو کرنا
Musnad Ahmad
11
حائضہ عورت کے جسم اور کپڑوں کے پاک ہونے کا بیان، الّا یہ کہ وہ جگہ جہاں خون لگا ہوا ہو
Musnad Ahmad
12
اس مستحاضہ کا بیان جو خون میں فرق کر کے عمل کرتی ہے
Musnad Ahmad
13
جس مستحاضہ کی عادت بھی نامعلوم ہو اور وہ خون میں تمیز بھی نہ کر سکتی ہو، وہ کیا کرے؟
Musnad Ahmad
14
اس چیز کا بیان کہ استحاضہ کا خون ان امور سے نہیں روکتا، جو حیض کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں
Musnad Ahmad
15
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
Musnad Ahmad
16
امان کی وجہ سے خون کی حرمت کا ثابت ہو جانا اور ایک آدمی کی امان کا معتبر ہونا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت
Musnad Ahmad
17
دعووں، گواہیوں اور قسم کی صورتوں وغیرہ کے ابواب مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مُدَّعِی کے پاس گواہ نہ ہو تو مُدّعٰی علیہ سے قسم لینے کا بیان
Musnad Ahmad
18
مسلمان کا خون کو جائز قرار دینے والے امور کا بیان
Musnad Ahmad
19
جو چیز بھی خون بہا دے،اس کے ذریعے ذبح کرنے کے جواز کا بیان، ما سوائے دانت اور ناخن کے، نیز اس امر کی وضاحت کہ بدک جانے والے اونٹ کے ساتھ کیا کیا جائے گا
Musnad Ahmad
20
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
Musnad Ahmad
21
(63) CHAPTER. The washing out of blood.
حیض کا خون دھونا ضروری ہے
Sahih Bukhari
22
(65) CHAPTER. If the (traces of) Janaba (semen) or other spots are not removed completely on washing.
اگر منی یا کوئی اور نجاست ( مثلاً حیض کا خون ) دھوئے اور ( پھر ) اس کا اثر نہ جائے ( تو کیا حکم ہے ؟ )
Sahih Bukhari
23
(72) CHAPTER. Washing blood by a woman off her father's face.
عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا جائز ہے
Sahih Bukhari
24
(9) CHAPTER. Washing out the menstrual blood.
حیض کا خون دھونے کے بیان میں
Sahih Bukhari
25
(6) CHAPTER. To suspend fighting on hearing the Adhan.
اذان کی وجہ سے خون ریزی رکنا
Sahih Bukhari
26
(163) CHAPTER. The treatment of a wound with the ashes of a mat (made of date-palm leaves), and the washing of blood bay a lady off her father's face, and conveying water in a shield (for this purpose).
بوریا جلا کر زخم کی دوا کرنا اور عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا اور ڈھال میں پانی بھربھر کر لانا
Sahih Bukhari
27
(5) CHAPTER. The sin of one who kills an innocent person having a treaty with the Muslims.
کسی ذمی کافر کو ناحق مار ڈالنا کیسا گناہ ہے ؟
Sahih Bukhari
28
(72) CHAPTER. It is obligatory to accept the invitation to a Walima (wedding banquet) and other invitations.
ولیمہ کی دعوت اور ہر ایک دعوت کو قبول کرناحق ہے ۔
Sahih Bukhari
29
(18) CHAPTER. (About the instruments) that cause the blood (of slaughter animals) to gush out, e.g., of cane, granite stone, or iron.
بانس ، سفید دھاردار اور لوہار جو خون بہادے اس کاحکم کیا ہے ؟
Sahih Bukhari
30
(27) CHAPTER. To burn a mat made of palm-tree leaves (and put its ashes into a wound) to stop bleeding.
زخموں کا خون روکنے کے لیے بو ریا جلا کر زخم پر لگانا
Sahih Bukhari
31
(36) CHAPTER. The effect of an evil eye is a fact.
نظربد کا لگناحق ہے
Sahih Bukhari
32
(45) CHAPTER. Slandering the slaves (accusing them for committing illegal sexual intercourse).
غلاموں پر ناحق تہمت لگانا بڑا گناہ ہے
Sahih Bukhari
33
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
پیٹ کے بچے کا بیان اور اگر کوئی عورت خون کرے تو اس کی دیت ددھیال والوں پر ہو گی نہ کہ اس کی اولاد پر
Sahih Bukhari
34
(2) CHAPTER. Selling (one's property) under coercion or other circumstances to repay a debt or the like.
جس کے ساتھ زبرستی کی جائے یا اسی طرح کسی شخص کا بیچناحق وغیرہ کو مجبوری سے کوئی بیچ کھوچ کایا اور معاملہ کرے ۔
Sahih Bukhari
35
(15) CHAPTER. The milk (see in a dream).
جب دودھ کسی کے اعضاء و ناخون سے پھوٹ نکلے تو کیا تعبیر ہے ؟
Sahih Bukhari
36
(30) CHAPTER. Judgement regarding cases involving wells, etc.
اگر کسی شخص کو حاکم دوسرے مسلمان بھائی کا مال ناحق دلا دے تو اس کو نہ لے کیونکہ حاکم کے فیصلہ سے نہ حرام حلال ہو سکتا ہے نہ حلال حرام ہو سکتا ہے
Sahih Bukhari
37
(32) CHAPTER. The selling of the people's real or personal estates by the ruler on their behalf.
ناحق مال اڑانے میں جو وعید ہے وہ تھوڑے اور بہت دونوں مالوں کو شامل ہے
Sahih Bukhari
38
Chapter: The impurity of blood and how to wash it
خون کی نجاست اور اس کے دھونے کا طریقہ
Sahih Muslim
39
Chapter: It is recommended for the woman who is performing ghusl following menses to apply a piece of cloth scented with musk to the site of the bleeding
حیض غسل کرنے والی عورت کے لیے مستحب ہے کہ وہ خون کی جگہ پر کستوری لگاروئی کا ٹکڑا استعمال کرے
Sahih Muslim
40
مسلمان کا خون کس وجہ سے مباح ہو سکتا ہے
Sahih Muslim
41
آخرت میں خون کی جزا اور یہ کہ قیامت کے دن لوگوں کے مابین سب سے پہلے اسی کا فیصلہ کیا جائے گا
Sahih Muslim
42
خون ‘عزت اور اموال کی حرمت کی تاکید
Sahih Muslim
43
Chapter: Permissibility of killing women and children in night raids, so long as it is not done deliberately
شب خون میں عورتوں اور بچوں کے بلا ارادہ قتل ہو جانے کا جواز
Sahih Muslim
44
Chapter: The permissibility of slaughtering with anything that makes the blood flow, except teeth and other bones
دانت اور ہر قسم کے ہڈی کے سوا ہر تیز چیز سے ،جو خون بہانے والی ہے،ذبح کرنا جائز ہے
Sahih Muslim
45
Chapter: The Prohibition Of Wronging, Forsaking, Or Despising A Muslim And The Inviolability Of His Blood, Honor And Wealth
باب: مسلمان پر ظلم کرنے، اس کو رسوا کرنے، اس کی تحقیر کرنے اور اس کے خون، اس کی عزت اور اس کے مال کی حرمت
Sahih Muslim
46
Chapter: Stern Warning To One Who Torments People Unlawfully
اس شخص کے لیے سخت وعید جو لوگوں کو ناحق سزا دے
Sahih Muslim
47
Chapter: Fighting The Byzantines, And A Great Deal Of Killing When Ad-Dajjal Emerges
دجال کے ظہور سے پہلے سخت خونریزی کے عالم میں رومیوں (عیسائیوں)کی چڑھائی
Sahih Muslim
48
CHAPTER: Wudu’ From Bleeding.
باب: خون نکلنے سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
49
CHAPTER: Those Who Said: She Should Perform Ghusl From One Purity To The Other.
باب: مستحاضہ حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کرے پھر جب دوسرے حیض سے پاک ہو تو غسل کرے ( یعنی استحاضہ کے خون میں وضو ہے غسل نہیں ہے ) ۔
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: Attacking The Enemy During The Night.
باب: شب خون ( رات میں چھاپہ ) مارنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

15
Sunnan Nisai
4870
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَمَّنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَابَ، ‏‏‏‏‏‏وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اهْتَدَى ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ يَجِيءُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا يَقُولُ:‏‏‏‏ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ؟ ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا وَمَا نَسَخَهَا.
It was narrated from Salim bin abi Ja'd that: Ibn 'Abbas was asked about someone who killed a believer deliberately then he repented, believed and did righteous deeds, and followed true guidance. Ibn 'Abbas said: There is no way he could repent! I heard your Prophet say; He (the victim) will come hanging onto his killer with his jugular veins flowing with blood and saying: Ask him why he killed me. Then he said: by Allah, Allah revealed it and never abrogated anything of it.
سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا پھر توبہ کی، ایمان لایا، عمل صالح کیا اور ہدایت پائی؟ تو انہوں نے کہا: اس کی توبہ کہاں قبول ہو گی؟ میں نے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”مقتول ( قیامت کے روز ) قاتل کو پکڑ کر لائے گا، اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا، وہ کہے گا: اے اللہ! اس سے پوچھ، اس نے کس جرم میں مجھے قتل کیا تھا“، پھر ابن عباس نے کہا: یہ حکم اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور اسے منسوخ نہیں کیا۔
Sunnan Ibn e Maja
2621
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَمَّنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيْحَهُ وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ يَجِيءُ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَلِّقٌ بِرَأْسِ صَاحِبِهِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ رَبِّ سَلْ هَذَا لِمَ قَتَلَنِي؟ ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّكُمْ ثُمَّ مَا نَسَخَهَا بَعْدَ مَا أَنْزَلَهَا .
It was narrated that Salim bin Abu Jad said: “Ibn Abbas was asked about one who kills a believer deliberately, then repents, believes, does righteous deeds and follows true guidance. He said: 'Woe to him can there be any guidance for him? I heard your Prophet (ﷺ) say: “The killer and his victim will be brought on the day of Resurrection, with slain holding onto the head of his killer, saying: 'O Lord, ask this one, why did he kill me?” By Allah (SWT), Allah (SWT) the Mighty and Sublime revealed it to your Prophet (ﷺ) then He did not abrogate it after He revealed it.”
سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دیا، پھر توبہ کر لی، ایمان لے آیا، اور نیک عمل کیا، پھر ہدایت پائی؟ تو آپ نے جواب دیا: افسوس وہ کیسے ہدایت پا سکتا ہے؟ میں نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: قیامت کے دن قاتل اور مقتول اس حال میں آئیں گے کہ مقتول قاتل کے سر سے لٹکا ہو گا، اور کہہ رہا ہو گا ، اے میرے رب! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ اللہ کی قسم! اس نے تمہارے نبی پر اس ( قتل ناحق کی آیت ) کو نازل کرنے کے بعد منسوخ نہیں کیا ۱؎۔
Sunnan Nisai
697
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّارٍ الدُّهْنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ قَوَائِمَ مِنْبَرِي هَذَا رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ .
It was narrated from Umm Salamah that the Prophet (ﷺ) said: The columns of this Minbar of mine will be in Paradise.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  میرے اس منبر کے پائے جنت میں گڑے ہوئے ہیں ۔
Jam e Tirmazi
3029
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ بِيَدِهِ وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ هَذَا قَتَلَنِي حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ الْعَرْشِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَذَكَرُوا لِابْنِ عَبَّاسٍ التَّوْبَةَ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا نُسِخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا بُدِّلَتْ وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنَ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
Narrated 'Amr bin Dinar: from Ibn 'Abbas that the Prophet (ﷺ) said: On the Day of Judgement, the murdered will come with the murderer's scalp and his head in his hand, and his jugular vein flowing blood saying: 'O Lord! This one killed me!' Until he comes close to the Throne. So they mentioned repentance to Ibn 'Abbas, and he recited this Ayah: And whoever kills a believer intentionally then his recompense is Hell (4:93). He said: This Ayah was not abrogated nor (its ruling) replaced so from where is his repentance?
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آ جائے گا، اس کی پیشانی اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہوں گے، مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا، کہے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا، ( یہ کہتا ہوا ) اسے لیے ہوئے عرش کے قریب جا پہنچے گا۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے ابن عباس رضی الله عنہما سے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» ۱؎ تلاوت کی، اور کہا کہ یہ آیت نہ منسوخ ہوئی ہے اور نہ ہی تبدیل، تو پھر اس کی توبہ کیوں کر قبول ہو گی؟ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو بعض راویوں نے عمر بن دینار کے واسطہ سے ابن عباس سے اسی طرح روایت کی ہے اس کو مرفوع نہیں کیا ہے۔
Sunnan Nisai
4010
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ فِي يَدِهِ،‏‏‏‏ وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا يَقُولُ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ،‏‏‏‏ قَتَلَنِي. حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ الْعَرْشِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَذَكَرُوا لِابْنِ عَبَّاسٍ التَّوْبَةَ،‏‏‏‏ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93 قَالَ:‏‏‏‏ مَا نُسِخَتْ مُنْذُ نَزَلَتْ،‏‏‏‏ وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ.
It was narrated from Ibn 'Abbas that: The Prophet [SAW] said: The slain will bring his killer on the Day of Resurrection with his forelock and his head in his hand, and with his jugular veins flowing with blood, and will say: 'O Lord, he killed me,' until he draws near to the Throne. They mentioned repentance to Ibn 'Abbas and he recited this Verse: And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell He said: It has not been abrogated since it was revealed; there is no way he could repent.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آئے گا، اس کی پیشانی اور اس کا سر اس ( مقتول )  کے ہاتھ میں ہوں گے اور اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر عرش کے قریب جائے گا ۔ راوی  ( عمرو )  کہتے ہیں: لوگوں نے ابن عباس سے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت: «ومن يقتل مؤمنا متعمدا»  جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے گا  تلاوت کی اور کہا: جب سے یہ نازل ہوئی منسوخ نہیں ہوئی پھر اس کے لیے توبہ کہاں ہے؟۔
Mishkat
3465
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ بِيَدِهِ وَأَوْدَاجُهُ تَشْخُبُ دَمًا يَقُولُ: يَا رَبِّ قَتَلَنِي حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ العرشِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
ابن عباس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت مقتول قاتل کو لے کر آئے گا اس (قاتل) کی پیشانی اور اس کا سر مقتول کے ہاتھ میں ہو گا اور اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا ۔ اور وہ کہے گا : رب جی ! اس نے مجھے کیوں قتل کیا ؟ حتی کہ وہ اسے عرش کے قریب لے جائے گا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
Musnad Ahmad
6443
۔ (۶۴۴۳) عَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِیْ الْجَعْدِ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ قَتَلَ مُؤْمِنًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اھْتَدٰی؟ قَالَ: وَیْحَکَ وَأَنّٰی لَہُ الْھُدٰی؟ سَمِعْتُ نَبِیَّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَجِیْئُ الْمَقْتُوْلُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِیَقُوْلُ: یَارَبِّ! سَلْ ھٰذَا فِیْمَ قَتَلَنِیْ)) وَاللّٰہِ! لَقَدْ اَنْزَلَھَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی نَبِیِّکُمْ وَمَا نَسَخَہَا بَعْدَ إِذْ أَنْزَلَھَا، قَالَ: وَیْحَکَ وَأَنّٰی لَہُ الْھُدٰی؟۔ (مسند احمد: ۱۹۴۱)
۔ سالم بن ابی جعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کسی نے دریافت کیا کہ ایک آدمی ایک مؤمن کو قتل کرتا ہے، لیکن پھر توبہ کر لیتا ہے،ایمان لے آتا ہے، نیک عمل کرتا ہے اور ہدایتیافتہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا: بڑا افسوس ہے تجھ پر، ایسے قاتل کے لئے ہدایت کہاں سے آئے گی؟ میں نے تمہارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: مقتول اپنے قاتل کے ساتھ چمٹ کر آئے گا اور کہے گا: اے میر ے رب ! اس سے پوچھ کہ اس نے کس وجہ سے مجھے قتل کیا تھا۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالی نے تمہارے نبی پر اس آیت کو نازل کیا اور اس کو نازل کرنے کے بعد منسوخ نہیں کیا۔ بڑا فسوس ہے تجھ پر، ایسے قاتل کو ہدایت کہاں سے ملے گی؟
Sahih Muslim
3310
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ»
Jabir b. Abdullah reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) entered on the day of Victory of Mecca wearing a black turban on his head.
شریک نے ہمیں عمار دہنی سے خبر دی انھوں نے ابو زبیر سے انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن دا خل ہو ئے تو آپ ( کے سرمبارک ) پر سیا ہ رنگ کا عمامہ تھا ۔
Sunnan Abu Dawood
2592
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ وَهُوَ ابْنُ رَاهَوَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ لِوَاؤُهُ يَوْمَ دَخَلَ مَكَّةَ أَبْيَضَ.
Narrated Jabir ibn Abdullah: When the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم entered Makkah his banner was white.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس دن مکہ میں داخل ہوئے آپ کا پرچم سفید تھا۔