TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حیض کے خون کو پاک کرنے کا بیان - حیض کے خون کو پاک کرنے کا بیان - نجاست کو پاک کرنے کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of نجاست کو پاک کرنے کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 10 · 3 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۴۰۵)۔ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِیْ بَکْرٍؓ قَالَتْ: أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِمْرَأَۃٌ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الْمَرْأَۃُ یُصِیْبُہَا مِنْ دِمِ حَیْضِہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لِتَحُتُّہ ثُمَّ لِتَقْرِصْہُ بِمَائٍ ثُمَّ لِتُصَلِّ فِیْہِ۔)) (مسند أحمد:۲۷۴۵۹)
سیدہ اسماء بنت ابو بکر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! عورت کو حیض کا خون لگ جاتا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ وہ اس کو کھرچے، پھر پانی کے ساتھ ملے اور پھر اس میں نماز پڑھ لے۔
Takhreej
(۴۰۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۷، ومسلم: ۲۹۱(انظر: ۲۶۹۲۰)
405
Sahih
۔ (۴۰۶)۔عَنْ أُمِّ قَیْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍؓ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ عَنْ دَمِ الْحَیْضِ یُصِیْبُ الثَّوْبَ فَقَالَ: ((اغْسِلِیْہِ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَحُکِّیْہِ بِضِلَعٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۵۴۲)
سیدہ ام قیس بنت محصن ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کپڑے کو لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں سوا ل کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے پتوںکے ساتھ دھو اور کسی ہڈی کے ساتھ کھرچ ڈال۔
Takhreej
(۴۰۶) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۳، والنسائی: ۱/ ۱۵۴، وابن ماجہ: ۶۲۸ (انظر: ۲۷۰۰۲)
406
Sahih
۔ (۴۰۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ خَوْلَۃَ بِنْتَ یَسَارٍؓ أَتَتِ النَّبِیَّ فِیْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَۃٍ فقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَیْسَ لِیْ الِاَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِیْضُ فِیْہِ، قَالَ: ((فَاِذَا طَہُرْتِ فَاغْسِلِیْ مَوْضِعَ الدَّمِ ثُمَّ صَلِّیْ فِیْہِ۔)) قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ لَمْ یَخْرُجْ أَثَرُہُ؟ قَالَ: ((یَکْفِیْکِ الْمَائُ وَلَا یَضُّرُکِ أَثَرُہُ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۵۲)
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ خولہ بنت یسار ؓحج یا عمرہ کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے اور مجھے اسی میں حیض بھی آ جاتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو پاک ہو جائے تو خون والی جگہ دھو لے اور اسی میں نماز پڑھ۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر اس کااثر ختم نہ ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تجھے پانی کافی ہے اور اس کا (باقی رہ جانے والا) نشان تجھے نقصان نہیں دے گا۔
Takhreej
(۴۰۷) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۵ (انظر: ۸۷۶۷)
Explanation
فوائد:…اس امر پر مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ حیض کا خون پلید ہے، مذکورہ بالا احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ اس خون کی مکمل صفائی ہونی چاہیے۔ اس کا (باقی رہ جانے والا) نشان تجھے نقصان نہیں دے گا۔ اس چیز کو سمجھنے کے لیے ایک مثال دینا ضروری ہے، جن لوگوں کو بغلوں میں بہت زیادہ پسینہ آتا ہے، بسا اوقات ایسے ہوتا ہے کہ کپڑے کے اس حصے کا رنگ زرد ہو جاتا ہے اور دھونے کے باوجود نہیں اترتا ہے، جبکہ اس زردی کے باقی رہنے کا یہ معنی نہیں ہوتا ہے کہ ابھی تک پسینہ باقی ہے، دراصل یہ پسینہ کی وجہ سے پڑ جانے والا رنگ ہوتا ہے، یہی معاملہ حیض کے خون اور دوسری اس قسم کی چیزوں کا ہے۔ مقصودِ شریعت یہ ہے کہ حیض کے خون کو صاف کیا جائے اور اگر اس کی وجہ سے کپڑے کی رنگت ہی تبدیل ہو گئی ہے، تو اس کے باقی رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
407
Sahih