أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، وَأَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ .
It was narrated from Abu Hurairah that:
the Messenger of Allah forbade Mulamash and Munabadha.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع ۶۳ (۲۱۴۶)، (تحفة الأشراف: ۱۳۸۲۷)، موطا امام مالک/البیوع ۳۵ (۷۶)، مسند احمد (۲/۲۷۹، ۳۱۹، ۴۱۹، ۴۶۴، ۴۷۶، ۴۸۰، ۴۹۱، ۴۹۶، ۵۲۱، ۵۲۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : زمانہ جاہلیت میں منابذہ، ملامسہ، یا کنکری پھینک کر خرید و فروخت کا عام رواج تھا، ان سارے معاملات میں دھوکا، اور مال وقیمت کی تحدید و تعیین نہیں ہوتی تھی، اس لیے یہ معاملات جھگڑے کا سبب ہوتے ہیں یا کسی فریق کے سخت گھاٹے میں پڑ جانے سے اسے سخت تکلیف ہوتی ہے، اس لیے ان سے شریعت اسلامیہ نے منع کر دیا ہے۔
4513
Sahih