TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 230 - ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - Silsila Sahih in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 26 of 270 in this chapter
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَرفُوعاً: إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ بِالْحَدِيثِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ.
جابر بن عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے جب کوئی آدمی بات کرے اور آس پاس جھانکے تو اس کی وہ بات امانت ہے۔
230
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
الصحيحة رقم (1090) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي نَقْلِ الْحَدِيثِ رقم (4225)

Related Chapters

211
1
بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ
نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان
Mishkat
2
بَاب الاسْتِئْذَان
اجازت طلب کرنے کا بیان
Mishkat
3
اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
4
اس چیز کا بیان کہ تین بار اجازت طلب کی جائے، اگر اجازت نہ دی جائے تو آدمی واپس چلا جائے
Musnad Ahmad
5
Chapter: Seeking Permission To Enter A House
اجازت طلب کرنا
Sahih Muslim
6
Chapter: It Is Disliked For The Person Who Is Seeking Permission To Say Me When Asked Who Is It?
اجازت طلب کرنے والے سے جب پوچھا جا ئے کون ہے تو جواب میں (صرف) میں کہنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
7
CHAPTER: Seeking permission to enter.
باب: گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
8
CHAPTER: How is permission to be sought.
باب: گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت کس طرح طلب کی جائے ؟
Sunnan Abu Dawood
9
CHAPTER: Asking permission to enter at the three times of undress.
باب: پردے کے تینوں اوقات میں اجازت طلب کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
10
9)Chapter: What Has Been Related About The Permission For That
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اجازت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Mentioned About The Permission For The Sexually Impure (Junub) Person To Eat And Sleep When He Performs Wudu
باب: جنبی وضو کر لے تو اس کو کھانے اور سونے کی اجازت ہے
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For A Woman To Fast Except With The Permission Of Her Husband
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے نفل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About: One Who Stays With A People Should Not Fast Without Their Permission
باب: جو کسی جماعت کے یہاں آئے تو ان کی اجازت کے بغیر (نفل) روزہ نہ رکھے
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Those Killed At Uhud, and Mention of Hamzah
باب: شہدائے احد اور حمزہ بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کا ذکر
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Seeking The Permission Of The Virgin And The Matron
باب: کنواری اور ثیبہ (شوہر دیدہ) سے اجازت لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About A Slave Marrying Without The Permission Of His Owner
باب: مالک کی اجازت کے بغیر غلام کے نکاح کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Milking Livestock Without Permission Of The Owners
باب: مالک کی اجازت کے بغیر جانور کے دوہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About One Who Farms A Prople's Land Without Their Permission
باب: دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت فصل بونے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About One Who Fights For Show And For Worldly Matters
باب: ریا و نمود اور دنیا طلبی کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Seeking Assistance (From Allah) By The Destitute Muslims
باب: غریب اور مسکین مسلمانوں کی دعا کے ذریعہ مدد طلب کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Eat Cooked Garlic
باب: پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Disciplining The Son
باب: لڑکے کو ادب سکھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
باب: جھاڑ پھونک کی اجازت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: The Hadith: Two Wolves Free Among Sheep
باب: دولت کی ہوس اور جاہ طلبی دین کے لیے انتہائی خطرناک ہیں
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Permitting That
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے احادیث لکھنے کی اجازت
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Narrations From The Children of Isra'il
باب: اسرائیلی روایات کے بیان کرنے کی اجازت
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About That Seeking Permission Is Three Times
باب: کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت حاصل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Seeking Permission To Enter From In Front Of The House
باب: گھر کے (دروازے) کے سامنے کھڑے ہو کر اجازت مانگنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: Whoever Gazed Into a People's Home Without Their Permission
باب: کسی کے گھر میں بغیر اجازت جھانکنا کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam Before Seeking Permission Enter
باب: گھر میں داخلہ کی اجازت لینے سے پہلے سلام کرنا (کیسا ہے؟)
Jam e Tirmazi
31
باب: بغیر اجازت دو آدمیوں کے بیچ میں بیٹھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر ان کی عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
33
باب: مردوں کے لیے سرخ لباس پہننے کی اجازت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: The Supplication: “O Allah, I Seek Refuge In You From Sadness And Grief”
باب: بعض چیزوں سے پناہ طلب کرنے کا باب
Jam e Tirmazi
35
Chapter: Concerning The Virtue Of Asking For Al-Afiyah And Al-Mu’afah
باب: اللہ سے عافیت طلب کرنے کا باب
Jam e Tirmazi
36
Chapter: Concerning Pardon And Al-Afiyah
باب: دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان
Jam e Tirmazi
37
باب: عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
38
باب: صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
Jam e Tirmazi
39
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
Mishkat
40
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
41
ان جگہوں کا بیان جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا اور جن میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے
Musnad Ahmad
42
عورتوں کو مسجد میں جانے کے لیے اجازت کا بیان
Musnad Ahmad
43
نیک لوگوں اور جن کی برکت کی امید رکھی جاتی ہو، کے واسطے سے بارش طلب کرنا
Musnad Ahmad
44
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
خاوند کی موجودگی میں بیوی کا اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
46
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
47
بخشش طلب کرنے کی اور قرضہ ادا کرنے کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
48
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
Musnad Ahmad
49
اس شخص کا بیان جس نے مالک کی اجازت کے بغیر بکری پکڑ کر اس کو ذبح کیا اور اس کو بھونا یا پکایا
Musnad Ahmad
50
دوسروں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کھیتی کاشت کرنے والے اور مالکوں کی اجازت کے بغیر پھل یا کھیتی میں سے کچھ لینے والے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

449
Sunnan Abu Dawood
4868
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ،‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ بِالْحَدِيثِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: When a man tells something and then departs, it is a trust.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کوئی بات کرے، پھر ادھر ادھر مڑ مڑ کر دیکھے تو وہ امانت ہے ( اسے افشاء نہیں کرنا چاہیئے ) ۔
Jam e Tirmazi
576
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَتَأَوَّلَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ لِأَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حِينَ قَرَأَ فَلَمْ يَسْجُدْ لَمْ يَسْجُدِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ السَّجْدَةُ وَاجِبَةٌ عَلَى مَنْ سَمِعَهَا فَلَمْ يُرَخِّصُوا فِي تَرْكِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنْ سَمِعَ الرَّجُلُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا تَوَضَّأَ سَجَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِنَّمَا السَّجْدَةُ عَلَى مَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏وَالْتَمَسَ فَضْلَهَا وَرَخَّصُوا فِي تَرْكِهَا إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجُّوا بِالْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ، ‏‏‏‏‏‏حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏حَيْثُ قَالَ:‏‏‏‏ قَرَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ لَوْ كَانَتِ السَّجْدَةُ وَاجِبَةً لَمْ يَتْرُكِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا حَتَّى كَانَ يَسْجُدَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَسْجُدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَرَأَ سَجْدَةً عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَلَ فَسَجَدَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَهَا فِي الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةَ فَتَهَيَّأَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْنَا إِلَّا أَنْ نَشَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَسْجُدْ وَلَمْ يَسْجُدُوا. فَذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ.
Zaid bin Thabit narrated: I recited Surat An-Najm to the Messenger of Allah, and he did not prostrate for it.
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم پڑھی مگر آپ نے سجدہ نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تاویل کی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ اس لیے نہیں کیا کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ نے جس وقت یہ سورۃ پڑھی تو خود انہوں نے بھی سجدہ نہیں کیا، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سجدہ نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں: یہ سجدہ ہر اس شخص پر واجب ہے جو اسے سنے، ان لوگوں نے اسے چھوڑنے کی اجازت نہیں دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ آدمی اگر اسے سنے اور وہ بلا وضو ہو تو جب وضو کر لے سجدہ کرے۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے، اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ اور بعض اہل علم کہتے ہیں: یہ سجدہ صرف اس پر ہے جو سجدہ کرنے کا ارادہ کرے، اور اس کی خیر و برکت کا طلب گار ہو، انہوں نے اسے ترک کرنے کی اجازت دی ہے، اگر وہ ترک کرنا چاہے، ۳- اور انہوں نے حدیث مرفوع یعنی زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث سے جس میں ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم پڑھی، لیکن آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔ استدلال کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سجدہ واجب ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زید کو سجدہ کرائے بغیر نہ چھوڑتے اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سجدہ کرتے۔ اور ان لوگوں نے عمر رضی الله عنہ کی حدیث سے بھی استدلال ہے کہ انہوں نے منبر پر سجدہ کی آیت پڑھی اور پھر اتر کر سجدہ کیا، اسے دوسرے جمعہ میں پھر پڑھا، لوگ سجدے کے لیے تیار ہوئے تو انہوں نے کہا: یہ ہم پر فرض نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم چاہیں تو چنانچہ نہ تو انہوں نے سجدہ کیا اور نہ لوگوں نے کیا، بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں اور یہی شافعی اور احمد کا بھی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
1370
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ،‏‏‏‏ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ،‏‏‏‏ فَلَا شُفْعَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ،‏‏‏‏ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ،‏‏‏‏ وَبِهِ يَقُولُ بَعْضُ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ،‏‏‏‏ مِثْلَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ،‏‏‏‏ وَغَيْرِهِ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ،‏‏‏‏ وَرَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ لَا يَرَوْنَ الشُّفْعَةَ إِلَّا لِلْخَلِيطِ،‏‏‏‏ وَلَا يَرَوْنَ لِلْجَارِ شُفْعَةً إِذَا لَمْ يَكُنْ خَلِيطًا،‏‏‏‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ:‏‏‏‏ الشُّفْعَةُ لِلْجَارِ،‏‏‏‏ وَاحْتَجُّوا بِالْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الثَّوْرِيِّ،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.
Narrated Jabir bin 'Abdullah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: When the boundaries are defined and the streets are fixed, then there is no preemption.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حد بندی ہو جائے اور راستے الگ الگ کر دیے جائیں تو شفعہ نہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے بعض لوگوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، ۳- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم کا جن میں عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان بھی شامل ہیں اسی پر عمل ہے اور بعض تابعین فقہاء جیسے عمر بن عبدالعزیز وغیرہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے، جن میں یحییٰ بن سعید انصاری، ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن اور مالک بن انس شامل ہیں، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، یہ لوگ صرف ساجھی دار کے لیے ہی حق شفعہ کے قائل ہیں۔ اور جب پڑوسی ساجھی دار نہ ہو تو اس کے لیے حق شفعہ کے قائل نہیں۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ پڑوسی کے لیے بھی شفعہ ہے اور ان لوگوں نے مرفوع حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گھر کا پڑوسی گھر کا زیادہ حقدار ہے ۲؎“، نیز فرماتے ہیں: ”پڑوسی اپنے سے لگی ہوئی زمین یا مکان کا زیادہ حقدار ہے اور یہی ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
Mishkat
4863
وَعَن ابْن مسعودٍ قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَتَمَثَّلُ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ فَيَأْتِي الْقَوْمَ فَيُحَدِّثُهُمْ بِالْحَدِيثِ مِنَ الْكَذِبِ فَيَتَفَرَّقُونَ فَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ: سَمِعْتُ رَجُلًا أَعْرِفُ وَجْهَهُ وَلَا أَدْرِي مَا اسْمُهُ يُحَدِّثُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، شیطان انسانی روپ دھار کر لوگوں کے پاس آتا ہے ، ان سے جھوٹی باتیں کرتا ہے ، پھر جب لوگ منتشر ہو جاتے ہیں تو ان میں سے ایک آدمی کہتا ہے : میں نے ایک آدمی کو سنا ۔ میں اس کے چہرے سے شناسا ہوں لیکن میں اس کا نام نہیں جانتا ، وہ یہ بات بیان کرتا تھا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Sahih Muslim
17
وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنَّ الشَّيْطَانَ لِيَتَمَثَّلُ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ، فَيَأْتِي الْقَوْمَ، فَيُحَدِّثُهُمْ بِالْحَدِيثِ مِنَ الْكَذِبِ، فَيَتَفَرَّقُونَ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ: سَمِعْتُ رَجُلًا أَعْرِفُ وَجْهَهُ، وَلَا أَدْرِي مَا اسْمُهُ يُحَدِّثُ
Abū Sa’īd al-Ashajj narrated to me, Wakī’ narrated to us, al-A’mash narrated to us, on authority of al-Musayyab bin Rāfi’, on authority of Āmir bin Abdah, he said, Abd Allah [bin Mas’ūd] said: ‘Indeed Satan will appear in the form of a man and he will come to the people, narrating to them false Ḥadīth, and they will then depart. Then a man among them will say: ‘I heard a man whose face I recognize but I do not know his name narrating [such and such]…’
ابو سعید اشج ‘ وکیع ‘ اعمش ‘ مسیب بن رافع ‘ عامر بن عبدہ سے روایت ہے ، کہا : حضرت عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : بلاشبہ شیطان کسی آدمی کی شکل اختیار کرتا ہے ، پھر لوگوں کے پاس آتا ہے اور انہیں جھوٹ ( پر مبنی ) کوئی حدیث سناتا ہے ، پھر وہ بکھر جاتے ہیں ، ان میں سے کوئی آدمی کہتا ہے : میں نے ایک آدمی سے ( حدیث ) سنی ہے ، میں اس کا چہرہ تو پہنچانتا ہوں پر اس کا نام نہیں جانتا ، وہ حدیث سنا رہا تھا ۔
Silsila Sahih
208
عن جابر رضی اللہ عنہ مرفوعاً: « أَحبُ الطَعَام إلَى الله مَا كَثُرَتْ عَلَيه الأَيدي ».
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے اللہ کو سب سے پیارا کھانا وہ لگتا ہے جس میں کھانے والے ہاتھ زیادہ ہوں
Silsila Sahih
247
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ فَإِذَا ذَهَبَتْ سَاعَةٌ مِّنَ العِشَاءِ فَخَلُّوهُمْ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: جب شام کا وقت ہوجائے تو اپنے بچوں کو روک لو، کیونکہ اس وقت شیطان پھیل جاتے ہیں ،پھر جب عشاء کی ایک گھڑی گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو
Silsila Sahih
267
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَرفُوعاً: أَقِلُّوا الْخُرُوجَ بَعْدَ هَدْأَةِ الرِّجْلِ فَإِنَّ لِلهِ تَعَالَى دَوَابَّ يَبُثُّهُنَّ فِي الْأَرْضِ فِي تِلْكَ السَّاعَة.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : رات ہونے کے بعد باہر نکلنا کم کر دو کیونکہ اللہ کے کچھ جانور ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اسی گھڑی میں زمین کے اندر پھیلا دیتا ہے
Silsila Sahih
325
عن جَابَر مرفوعا: تَسْلِيمُ الرجل بِإِصْبَع وَّاحِدَة يُشِيْر بِهَا فِعلُ الْيَهُود .
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : آدمی کا ایک انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے سلام کرنا یہودیوں کا فعل ہے