TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2795 مشکوۃ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 11 in this chapter
بَاب المساهلة فِي الْمُعَامَلَات
معاملہ کرنے میں نرمی کا بیان
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» . قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا وَخَسِرُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانٌ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحلف الْكَاذِب» . رَوَاهُ مُسلم
ابوذر ؓ نبی سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ روز قیامت تین قسم کے لوگوں سے کلام فرمائے گا نہ (نظر رحمت سے) اُن کی طرف دیکھے گا اور نہ ہی ان کا تزکیہ فرمائے گا اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہو گا ۔‘‘ ابوذر ؓ نے عرض کیا ، وہ تو ناکام و نامراد ہو گئے ، اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا :’’ ازار لٹکانے والا ، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم سے اپنا سودا بیچنے والا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
2795
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ مسلم (۱۷۱ / ۱۰۶) ۔

Related Chapters

54
1
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
2
Chapter: What has been related about: Your case is up to you
باب: بیوی سے تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Giving Respite To The Indigent And Being Kind To Him
باب: تنگ دست قرض دار کو مہلت دینے اور تقاضے میں نرمی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Being Polite
باب: حسن معاملہ کا بیان
Jam e Tirmazi
5
بَابُ الرِّفْقِ وَالْحَيَاءِ
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
Mishkat
6
عورتوں کے سفر کرنے،ان کے ساتھ نرمی کرنے، سفر کے لیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کرنے اور محرم کے بغیر ان کا سفر نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
7
اس شخض کا بیان جو گرہن والا معاملہ صاف ہونے تک دو دو رکعت کر کے نماز کسوف ادا کرتا رہتا ہے
Musnad Ahmad
8
میت کے امور کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے اس پر پردہ ڈالنے اور اس کے ثواب کا بیان
Musnad Ahmad
9
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
10
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
Musnad Ahmad
11
پریشانی، رنج اور غم کے وقت کے اذکار کا اور اس آدمی کی دعا کا بیان، جس کو کوئی معاملہ مغلوب کر دے
Musnad Ahmad
12
ذبیحہ سے نرمی کرنے، اس کو جلدی جلدی ذبح کر دینے، چھری کو تیز کرنے اور دودھ والے جانور کو چھوڑ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
13
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
14
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
15
نرمی کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
16
حیوان کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
17
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
Musnad Ahmad
18
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی ازواج کے ساتھ نرمی اور ان کے امور کا اہتمام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
19
(16) CHAPTER. One should be lenient and generous in bargaining, and whoever demands his debts back should do so in a modest lenient manner.
خریدوفروخت کے وقت نرمی ، وسعت اور فیاضی کرنا اور کسی سے اپنا حق پاکیزگی سے مانگنا
Sahih Bukhari
20
(98) CHAPTER. If somebody buys something for another without his permission and the latter accepts it.
کسی نے کوئی چیز دوسرے کے لیے اس کی اجازت کے بغیر خرید لی پھر وہ راضی ہو گیا تو یہ معاملہ جائز ہے
Sahih Bukhari
21
(10) CHAPTER. If a person deputes somebody, and the deputy leaves something, and the owner agrees that, then it is allowed, and the deputy lends something of what is in his custody, for a specific time, it is permissible (if the owner agrees).
کسی نے ایک شخص کو وکیل بنایا پھر وکیل نے ( معاملہ میں ) کوئی چیز ( خود اپنی رائے سے ) چھوڑ دی
Sahih Bukhari
22
(11) CHAPTER. Share-cropping with the Jews.
یہود کے ساتھ بٹائی کا معاملہ کرنا
Sahih Bukhari
23
(17) CHAPTER. If the owner of the land (says to the tenant), let you utilize the land as long as Allah permits you, and does not mention a specfic time for the expiration of the lease, then the lease can be continued according to the approval of both the parties.
اگر زمین کا مالک کاشتکار سے یوں کہے میں تجھ کو اس وقت تک رکھوں گا جب تک اللہ تجھ کو رکھے اور کوئی مدت مقرر نہ کرے تو معاملہ ان کی خوشی پر رہے گا ( جب چاہیں فسخ کر دیں )
Sahih Bukhari
24
(5) CHAPTER. Demanding debts handsomely.
تقاضے میں نرمی کرنا
Sahih Bukhari
25
(11) CHAPTER. The witness of a blind man, his marriage, his affairs, the marriage conducted by him, and his buying and selling; and accepting his call for the Salat (prayer), etc., and what can be known by sound or voice.
اندھے آدمی کی گواہی اور اس کے معاملہ کا بیان اور اس کا اپنا نکاح کرنا یا کسی اور کا نکاح کروانا یا اس کی خریدوفروخت
Sahih Bukhari
26
(18) CHAPTER. The Statement of Allah: “And when the relatives and the orphans and Al-Masakin (the poor) are present at the time of division, give them out of the property ...” (V.4:8)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ”جب (میراث کی تقسیم) کے وقت رشتہ دار (جو وارث نہ ہوں) اور یتیم اور مسکین آ جائیں تو ان کو بھی ترکے میں سے کچھ کچھ کھلا دو (اور اگر کھلانا نہ ہو سکے تو) اچھی بات کہہ کر نرمی سے ٹال دو۔
Sahih Bukhari
27
(176) CHAPTER. Can one intercede for the Dhimmi or deal with them?
ذمیوں کی سفارش اور ان سے کیسا معاملہ کیا جائے
Sahih Bukhari
28
(41) CHAPTER. The dealing of the Prophet with the people of Khaibar.
خیبر والوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ طے کرنا
Sahih Bukhari
29
(36) CHAPTER. The co-operation between the believers.
ہر کام میں نرمی اور عمدہ اخلاق اچھی چیز ہے
Sahih Bukhari
30
(2) CHAPTER. Selling (one's property) under coercion or other circumstances to repay a debt or the like.
جس کے ساتھ زبرستی کی جائے یا اسی طرح کسی شخص کا بیچناحق وغیرہ کو مجبوری سے کوئی بیچ کھوچ کایا اور معاملہ کرے ۔
Sahih Bukhari
31
(12) CHAPTER. Whoever disliked to increase the number of (those people who practice) Al-Fitan (trials and afflictions) and oppressions (against the believers).
جب ( مسلمانوں کی ) جماعت نہ ہو تو معاملہ کیسے ہو گا ؟
Sahih Bukhari
32
Chapter: The virtue of a just ruler and the punishment of a tyrant; Encouragement to treat those under one's authority with kindness and the prohibition against causing them hardship
عادل حاکم کی فضیلت ‘ظالم حاکم کی سزا ‘رعایہ طے ساتھ نرمی کی تلقین‘اور ان پر مشقت ڈالنے کی ممانعت
Sahih Muslim
33
Chapter: The Virtue Of Gentleness
نرمی کی فضیلت
Sahih Muslim
34
Chapter: The Believer's Affair Is All Good
مومن کا ہر معاملہ بھلائی کا ہوتا ہے
Sahih Muslim
35
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
Silsila Sahih
36
سفر، جہاد اور جانوروں سے نرمی کا بیان
Silsila Sahih
37
CHAPTER: Regarding The Phrase: ’Your Matter Is In Your Hands’
باب: عورت سے یہ کہنا کہ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
38
CHAPTER: Regarding The Prohibition Of The Animals Being Confined (To Be Shot At), And, Being Gentle With Animal To Be Slaughtered.
باب: جانوروں کو بغیر کھانا پانی دئیے باندھ رکھنے کی ممانعت اور قربانی کے جانور کے ساتھ نرمی اور شفقت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
39
CHAPTER: What Has Been Related About A Man Who Dies And Leaves Behind A Debt, And He Has What Will Fulfill The Debt, The Creditors Will Be Asked To Defer Repayment For A While, And The Heirs Should Be Treated With Leniency.
باب: مال چھوڑ کر مرنے والے قرضدار کے وارث کو قرض خواہوں سے مہلت دلانا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
40
CHAPTER: Regarding exaltation being disliked in (worldly) matters.
باب: معاملہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا یا ڈینگیں مارنا برا ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
41
CHAPTER: Regarding gentleness.
باب: نرمی کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
42
خرید و فروخت میں نرمی اور آسانی برتنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
43
Chapter: A Man Who Has Testimony To Give, When The Person To Whom It Pertains Is Unaware Of That
گواہ موجود ہے لیکن صاحب معاملہ کو اس کی خبر نہیں ہے تو گواہ کیا کرے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
44
حق کا مطالبہ نرمی سے کرنے اور حق کو اچھے ڈھنگ سے وصول کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
45
کھجور اور انگور کی کھیتی کو بٹائی پر دینے کا معاملہ
Sunnan Ibn e Maja
46
Chapter: The Virtue of giving water in charity
نرمی اور ملائمیت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
47
باب: شک کے دن روزہ رکھنے میں نرمی کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
باب: شوہر عورت سے کہے تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے؟
Sunnan Nisai
49
باب: ہجرت کے معاملہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
50
باب: جانور میں بیع سلم یا ادھار معاملہ کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,231
Sahih Muslim
293
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» قَالَ: فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِرَارًا، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا وَخَسِرُوا، مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «الْمُسْبِلُ، وَالْمَنَّانُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ»
It is narrated o the authority of Abu Dharr that the Messenger of Allah (may ace he upon him) observed: Three are the (persons) with whom Allah would neither speak on the Day of Resurrection, nor would look at them nor would absolve the and there is a painful chastisement for them. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) repeated it three times. Abu Dharr remarked: They failed and they lost; who are these persons, Messenger of Allah? Upon this he (the Holy) Prophet) observed: They are: the dragger of lower garment, the recounter of obligation the seller of goods by false oath.
ابو زرعہ سے خرشہ بن حر سے انہوں نے حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’ تین ( قسم کے لوگ ) ہیں اللہ ان سے گفتگو نہیں کرے گا ، نہ قیامت کے روز ان کی طرف سے دیکھے گا اور نہ انہیں ( گناہوں سے ) پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا ۔ ‘ ‘ ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : آپ نے اسے تین دفعہ پڑھا ۔ ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : ناکام ہو گئے اور نقصان سے دو چار ہوئے ، اے اللہ کے رسول ! یہ کون ہیں ؟ فرمایا : ’’ اپنا کپڑا ( ٹخنوں سے ) نیچے لٹکانےوالا ، احسان جتانے والا اور جھوٹی قسم سے اپنے سامان کی مانگ بڑھانے والا ۔ ‘ ‘
Sunnan Abu Dawood
4087
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُزَكِّيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا ؟ فَأَعَادَهَا ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَابُوا وَخَسِرُوا ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ الْمُسْبِلُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَنَّانُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ أَوِ الْفَاجِرِ .
Narrated Abu Dharr: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: There are three to whom Allah will not speak and at whom He will not look on the Day of Resurrection, and whom He will not declare pure, and they will have a painful punishment. I asked: Who are they, Messenger of Allah, they are losers and disappointed ? He repeated it three times. I asked: Who are they. Messenger of Allah, they are losers and disappointed ? He replied: The one who wears a trailing robe, the one who takes account of what he gives, and the one who produces a ready sale of a commodity by false swearing.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن نہ بات کرے گا، نہ انہیں رحمت کی نظر سے دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا میں نے پوچھا: وہ کون لوگ ہیں؟ اللہ کے رسول! جو نامراد ہوئے اور گھاٹے اور خسارے میں رہے، پھر آپ نے یہی بات تین بار دہرائی، میں نے عرض کیا: وہ کون لوگ ہیں؟ اللہ کے رسول! جو نامراد ہوئے اور گھاٹے اور خسارے میں رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹخنہ سے نیچے تہ بند لٹکانے والا، اور احسان جتانے والا، اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا ۔
Sunnan Ibn e Maja
2208
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمَسْعُودِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ وَالْمَنَّانُ عَطَاءَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ .
It was narrated from Abu Dharr that the Prophet (ﷺ) said: There are three to whom Allah will not speak on the Day of Resurrection nor will He look at them or purify them, and theirs will be a painful torment. I said: Who are they, O Messenger of Allah? For they are indeed losers. He said: The one who lets his garment hang beneath his ankles, the one who reminds another of what he has given him, and the one who sells his product by means of false oaths.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ وہ نامراد ہوئے اور بڑے نقصان میں پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا تہمد ( لنگی ) ٹخنے سے نیچے لٹکائے، اور جو دے کر احسان جتائے، اور جو اپنے سامان کو جھوٹی قسم کے ذریعہ رواج دے ۔
Sunnan Nisai
2564
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُدْرِكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ:‏‏‏‏ خَابُوا وَخَسِرُوا، ‏‏‏‏‏‏خَابُوا وَخَسِرُوا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَنَّانُ عَطَاءَهُ .
It was narrated from Abu Dharr that the Prophet said: There are three to whom Allah will not speak on the Day of Resurrection, or look at them, or sanctify them, and theirs will be a painful torment. The Messenger of Allah repeated and Abu Dharr said: May they be lost and doomed. He said: The one who lets his garment hang beneath his ankles, a vendor who tries to sell his product by means of false oaths, and the one who reminds people of what he has given them.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی۔ تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لوگ نامراد ہوئے، گھاٹے میں رہے، آپ نے فرمایا: ” ( وہ تین یہ ہیں ) اپنا تہبند ٹخنے کے نیچے لٹکانے والا، جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اپنے سامان کو رواج دینے والا، اپنے دیے ہوئے کا احسان جتانے والا“۔
Sunnan Nisai
4463
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُزَكِّيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو ذَرٍّ:‏‏‏‏ خَابُوا، ‏‏‏‏‏‏وَخَسِرُوا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَنَّانُ عَطَاءَهُ .
It was narrated from Abu Dharr that the Prophet said: There are three to whom Allah will not speak on the Day of Resurrection, or will He look at them, or sanctify them, and theirs will be a painful torment: Abu Dharr said: May they be lost and doomed: He said: The one who drags his Izar (below the ankles) the one who sells his product by means of false oaths, and the one who reminds others (Al-Mannan) of what he has given to them
ابوذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات چیت کرے گا، اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ہی انہیں گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت پڑھی ۱؎ تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لوگ ناکام ہو گئے اور خسارے میں پڑ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے تہبند کو ٹخنے سے نیچے لٹکانے والا ۲؎، جھوٹی قسم کھا کر اپنے سامان کو بیچنے والا، دے کر باربار احسان جتانے والا“۔
Jam e Tirmazi
1211
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحَرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الْمَنَّانُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Dharr: That the Prophet (ﷺ) said: There are three whom Allah will not look at on the Day of Judgement, nor will He purify them, and theirs is a painful punishment. We said: Who are they O Messenger of Allah ? For they have indeed failed and are lost! He sai: The Mannan, the one whose Izar hangs (below the ankels) and the one who promotes his merchandise with false oath. [He said:] There are narrations on this topic from Ibn Mas'ud, Abu Hurairah, Abu Umamah bin Tha'labah, 'Imran bin Husain, and Ma'qil bin Yasar [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Dharr is a Hasan Sahih Hadith.
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ایسے ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ ( رحمت کی نظر سے ) نہیں دیکھے گا، نہ انہیں ( گناہوں سے ) پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا“، ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ یہ تو نقصان اور گھاٹے میں رہے، آپ نے فرمایا: ”احسان جتانے والا، اپنے تہبند ( ٹخنے سے نیچے ) لٹکانے والا ۱؎ اور جھوٹی قسم کے ذریعہ اپنے سامان کو رواج دینے والا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، ابوامامہ بن ثعلبہ، عمران بن حصین اور معقل بن یسار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sunnan Nisai
2565
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ وَهُوَ الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ:‏‏‏‏ الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ .
It was narrated that Abu Dharr said: The Messenger of Allah said: There are three to whom of Allah will not speak on the Day of Resurrection or look at them or purify them, and theirs will be a painful torment: the one who reminds people of what he has given them, the one who lets his garment hang beneath his ankles, and a vendor who tries to sell his product by means of false oaths.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ عزوجل نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک و صاف کرے گا، اور انہیں درد ناک عذاب ہو گا: اپنے دئیے ہوئے کا احسان جتانے والا، اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، اپنے سامان کو جھوٹی قسمیں کھا کر رواج دینے والا“۔
Sunnan Nisai
5335
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مِهْرَانَ الْأَعْمَشَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ:‏‏‏‏ الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُنَفِّقُ سَلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ .
It was narrated that Abu Dharr said: The Messenger of Allah [SAW] said: 'There are three to whom Allah (the Mighty and Sublime) will not speak on the Day of Resurrection, nor will He sanctify them, and theirs will be a painful torment: The one who reminds others of what he has given them (Al-Mannan), the one who lets his Izar come below his ankles, and the one who sells his product by means of false oaths.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا، نہ انہیں ( گناہوں سے ) پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: کچھ دے کر حد سے زیادہ احسان جتانے والا، ( ٹخنے سے نیچے ) تہبند لٹکانے والا، اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا“۔
Jam e Tirmazi
1595
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ:‏‏‏‏ رَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ أَعْطَاهُ وَفَى لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَى ذَلِكَ الْأَمْرُ بِلَا اخْتِلَافٍ.
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Three will not be spoken to by Allah on the Day of Judgement, nor will they be purified, and for them is a painful torment: A man that gave a pledge to an Imam, and if he gives to him he fulfills it, and if he does not give to him he does not fulfill not fulfill it. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات نہیں کرے گا نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: ایک وہ آدمی جس نے کسی امام سے بیعت کی پھر اگر امام نے اسے ( اس کی مرضی کے مطابق ) دیا تو اس نے بیعت پوری کی اور اگر نہیں دیا تو بیعت پوری نہیں کی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور بلا اختلاف اسی کے موافق حکم ہے۔