TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان - تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان - خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 10 of خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 48 · 8 Hadith
۔ (۵۷۸۸)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ فَرُّوْخٍ مَوْلَی الْقُرَشِیِّیْنَ أَنَّ عُثْمَانَ اشْتَرٰی مِنْ رَجُلٍ أَرْضًا فَاَبْطَأَ عَلَیْہِ فَلَقِیَہُ فَقَالَ لَہُ: مَا مَنَعَکَ مِنْ قَبْضِ مَالِکَ؟ قَالَ: إِنَّکَ غَبَنْتَنِیْ فَمَا أَلْقٰی مِنَ النَّاسِ أَحَدًا اِلَّا وَھُوَ یَلُوْمُنِیْ، قَالَ: أَوَ ذٰلِکَ یَمْنَعُکَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاخْتَرْ بَیْنَ أَرْضِکَ وَمَالِکَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَدْخَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْجَنَّۃَ رَجُلًا، کَانَ سَہْلًا مُشْتَرِیًا وَبَائِعًا وَقَاضِیًا وَمُقْتَضِیًا۔)) (مسند احمد: ۴۱۰)
۔ قریشیو ں کے غلام عطاء بن فروخ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک آدمی سے زمین خریدی، لیکن اس آدمی نے ملنے میں تاخیر کی، پھر جب وہ ملا تو اس (عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) نے کہا: کس چیز نے آپ کو اپنا مال قبضے میں لینے سے روک رکھا ہے؟ کہا: تم نے مجھ سے دھوکہ کیا ہے، میں جس بندے کو ملتا ہوں، وہ مجھے ملامت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا: کیایہ رکاوٹ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: ٹھیک ہے، آپ اپنی زمین اور مال میں سے ایک چیز کو پسند کریں، پھرانھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس آدمی کو جنت میں داخل کرے گا،جو خریدتے وقت، بیچتے وقت، تقاضا چکاتے وقت یا تقاضا کرتے وقت نرم خوئی اختیار کرتا ہے۔
Takhreej
(۵۷۸۸) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۲۰۲، والنسائی: ۷/ ۳۱۸ (انظر: ۴۱۰)
Explanation
فوائد:… معاملات میں نرم خوئی والی زندگی انتہائی آسان ہے، کاش ہم اللہ تعالی کا حکم سمجھ کر اس کو اختیار کر لیتے، مصیبتیہ ہے کہ جب ہم کسی شخصیت کی خاطر چند دن نرمی کا اختیار کرتے ہیں اور نتیجہ جلدی وصول نہیں ہوتا تو ہم پر مایوسی چھا جاتی ہے اور ہم یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ آئندہ ہم سختی کے ساتھ اپنے معاملات ڈیل کریں گے، ہمیں ہمارے معاملات میں دو چیزوں نے دھوکہ دیا ہے، ایک جلد باز مزاج اور دوسرا اللہ تعالی کی ذات مقدم نہ رکھنا، یعنی اللہ تعالی کا لحاظ کرتے ہوئے نرمی کو اختیار نہ کرنا۔
5788
Sahih
۔ (۵۷۸۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَاشْتَرٰی مِنِّیْ بَعِیْرًا فجَعَلَ لِیْ ظَہْرَہُ حَتّٰی أَقْدَمَ الْمَدِیْنَۃَ فَلَمَّا قَدِمْتُ أَتَیْتُہُ بِالْبَعِیْرِ فَدَفَعْتُہُ إِلَیْہِ وَأَمَرَ لِیْ بِالثَّمَنِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَاِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ لَحِقَنِیْ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ بَدَا لَہُ، قَالَ: فَلَمَّا أَتَیْتُہُ دَفَعَ اِلَیَّ الْبَعِیْرَ وَقَالَ: ((ھُوَ لَکَ)) فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ مِنَ الْیَہُوْدِ فَأَخْبَرْتُہُ، قَالَ: فَجَعَلَ یُعْجِبُ، قَالَ: فقَالَ: اشْتَرٰیمِنْکَ الْبَعِیْرَ وَدَفَعَ اِلَیْکَ الثَّمَنَ وَوَھَبَ لَکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۰۱)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے اونٹ خریدا اور مدینہ منورہ تک مجھے اس پر سواری کر لینے کا حق دیا، جب میں مدینہ پہنچا تو میں اونٹ لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اونٹ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حوالے کر دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے قیمت دینے کا حکم دیا، جب میں واپس ہوا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پیچھے ہولئے، میں نے خیال کیا کہ شاید آپ کوئی بات کرنا چاہتے ہوں، جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضرہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ مجھے تھما دیا اور فرمایا: یہ بھی تیرے لیے ہے۔ پھر میرا گزر ایکیہودی کے پاس سے ہوا، جب میں نے یہ ساری بات بتلائی تو وہ بڑا تعجب کرنے لگا، اس نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تجھ سے اونٹ خریدا ہے اور پھر قیمت ادا کر کے اونٹ بھی ہبہ کر دیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، بالکل ایسے ہی ہوا۔
Takhreej
(۵۷۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۷۹، ۵۲۴۵، ومسلم: ۲۹۹۷(انظر: ۱۴۲۵۱)
Explanation
فوائد:… یہ نبی کریمa کا اعلی اخلاق تھا کہ آپ a نے پہلے اونٹ پر سواری کرنے کا حق دیا، پھر اونٹ کی قیمت ادا کی اور بعد ازاں وہ اونٹ بھی دے دے،یہودی کے تعجب کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ انتہائی حریص تھے، اس لیے اس کو آپ a کے اس حسن اخلاق پر حیرانی ہوئی۔
5789
Sahih
۔ (۵۷۹۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰـہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((غَفَرَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ کَانَ مِنْ قَبْلِکُمْ سَہْلًا اِذَا بَاعَ سَہْلًا اِذَا اشْتَرٰی سَہْلًا اِذَا قَضٰی سَہْلًا اِذَا اقْتَضٰی۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۱۲)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے ایک آدمی تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو اس بنا پر بخش دیا تھا کہ بیچتے وقت، خریدتے وقت، تقاضا دیتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی کرتا تھا۔
Takhreej
(۵۷۹۰) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۱۳۲۰(انظر: ۱۴۶۵۸)
5790
Sahih
۔ (۵۷۹۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلَتْ اِمْرَأَۃٌ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: أَیْ بِاَبِیْ وَأُمِّیْ اِنِّیْ اِبْتَعْتُ أَنَا وَابْنِیْ مِنْ فُلَانٍ ثَمْرَ مَالِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: مِنْ ثَمَرَۃِ أَرْضِہِ) فأَحْصَیْنَاہُ وَحَشَدْنَاہُ، لَا وَالَّذِیْ أَکْرَمَکَ بِمَا أَکْرَمَکَ بِہٖمَاأَصَبْنَامِنْہُشَیْئًا اِلَّا شَیْئًا نَأْکُلُہُ فِیْ بُطُوْنِنَا أَوْ نُطْعِمُہُ مِسْکِیْنًا رَجَائَ الْبَرَکَۃِ فَنَقَصْنَا عَلَیْہِ فَجِئْنَا نَسْتَوْضِعُہُ مَانَقَصْنَاہُ فَحَلَفَ بِاللّٰہِ لَایَضَعُ شَیْئًا، قَالَتْ: فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَأَلّٰی لَا أَصْنَعُ خَیْرًا (وَفِیْ لَفْظٍ: تَاَلّٰی أَنْ لَا یَفْعَلَ خَیْرًا)۔)) ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَتْ: فَبَلَغَ ذٰلِکَ صَاحِبَ التَّمْرِ فَجَائَ ہُ، فَقَالَ: أَیْ بِاَبِیْ وَأُمِّیْ إِنْ شِئْتَ وَضَعْتُ مَانَقَصُوْا وَإِنْ شِئْتَ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ مَاشِئْتَ، فَوَضَعَ مَانَقَصُوْا، قَالَ اَبُوْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ (عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْاِمَامِ اَحْمَدَ): وَسَمِعْتُہُ اَنَا مِنَ الْحَکَمِ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۰۹)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضرہوئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ فداہوں، گزارش یہ ہے کہ ایک آدمی سے میں اور میرے بیٹے نے پھل خریدا ہے، اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو وہ عزت دی ہے، جو دی ہے، جب ہم نے اسے جمع کیا اور ماپا تو اس سے صرف اتنی مقدار ہی حاصل ہوئی کہ جس سے صرف ہمارا پیٹ بھرتا ہے یا پھر حصول برکت کے لئے ہم کسی مسکین کو کھلا دیتے ہیں، اس کے علاوہ تو کوئی چیز باقی نہیں بچتی، اس پھل میں ہمارا نقصان ہوا ہے، بہرحال ہم نے جس سے خریدا ہے، اس سے اس نقصان کے بقدر معافی کامطالبہ کیا ہے، لیکن اس نے تو قسم اٹھا لی ہے کہ وہ قیمت میں کمی نہیں کرے گا، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا اس نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ خیر والا کام نہیں کرے گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔ادھرکسی طرح پھل فروخت کرنے والے اس شخص کو اطلاع ہوگئی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے، چنانچہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں، اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے نقصان کے بقدر معاف کر دیتا ہوں،نیز آپ راس المال میں سے جو چاہتے ہیں، وہ بھی کم کر دیتا ہوں۔ پھر اس نے ان کے نقصان کے بقدر معاف کر دیا تھا۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میں نے یہ حدیث حکم سے سنی ہے۔
Takhreej
(۵۷۹۱) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن حبان: ۵۰۳۲(انظر: ۲۴۴۰۵)
Explanation
فوائد:… اس صحابی نے نبی کریمa کی اطاعت میں کمال کردار ادا کیا، اس مسئلہ کی وضاحت حدیث نمبر (۵۸۶۹) میں آئے گی۔
5791
Sahih
۔ (۵۷۹۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اِبْتَاعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْاَعْرَابِ جَزُوْرًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِیْرَۃِ، وَتَمْرُ الذَّخِیْرَۃِ الْعَجْوَۃُ، فَرَجَعَ بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی بَیْتِہِ وَالْتَمَسَ لَہُ التَّمْرَ فَلَمْ یَجِدْہُ فَرجَعَ إِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا عَبْدِ اللّٰہِ! اِنَّا قَدِ ابْتَعْنَا مِنْکَ جَزُوْرًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِیْرَۃِ فَالْتَمَسْنَاہُ فَلَمْ نَجِدْہُ، قَالَتْ: فَقَالَ الْاَعْرَابِیُّ: وَاغَدْرَاہُ! قَالَتْ: فَنَہَمَہُ النَّاسُ وَقَالُوْا: قَاتَلَکَ اللّٰہُ، أَیَغْدِرُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَتْ: فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعَوْہُ فَاِنََّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا۔)) ثُمَّ عَادَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((یَا عَبْدَ اللّٰہِ! اِنَّا قَدِ ابْتَعْنَا مِنْکَ جَزَائِرَکَ وَ نَحْنُ نَظُنُّ أَنَّ عِنْدَنَا مَاسَمَّیْنَا لَکَ فَالْتَمَسْنَاہُ فَلَمْ نَجِدْہُ)) فَقَالَ الْاَعْرَابِیُّ: وَاغَدْرَاہُ! فَنَہَمَہُ النَّاسُ وَقَالُوْا: قَاتَلَکَ اللّٰہُ، أَیَغْدِرُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعَوْہُ فَاِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا۔)) فَرَدَّدَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّتَیْنِ اَوْثَلَاثًا، فَلَمَّا رَاٰہُ لَا یَفْقَہُ عَنْہُ، قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِہِ: ((اِذْھَبْ اِلَی خُوَیَلَۃَ بِنْتِ حَکَیْمِ بْنِ أُمَیَّۃَ فَقُلْ لَھَا: رَسُوْلُ اللّٰہِ یَقُوْلُ لَکَ اِنْ کَانَ عِنْدَکَ وَسْقٌ مِنْ تَمْرِ الذَّخِیْرَۃِ فَاَسْلِفِیْنَاہُ حَتّٰی نُؤَدِّیَہُ إِلَیْکِ إِنْ شَائَ اللّٰہُ۔)) فَذَھَبَ اِلَیْہَا الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ، فقَالَ: قَالَتْ: نَعَمْ ھُوَ عِنْدِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَابْعَثْ مَنْ یَقْبِضُہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلرَّجُلِ: ((اِذْھَبْ فَأَوْفِہِ الَّذِیْ لَہُ۔)) قَالَ: فَذَھَبَ بِہٖفَأَوْفَاہُالَّذِیْ لَہُ، قَالَتْ: فَمَرَّ الْأَعْرَابِیُّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ جَالِسٌ فِیْ أَصْحَابِہِ، فَقَالَ: جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا فَقَدْ أَوْفَیْتَ وَأَطْیَبْتَ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُوْلٰئِکَ خِیَارُ عِبَادِ اللّٰہِ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الْمُوْفُوْنَ الْمُطِیَّبُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۴۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی سے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک وسق یعنی ساٹھ صاع ذَخِیرہ کییعنی عجوہ کھجور کے عوض چند اونٹ خریدے، جب رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قیمت کی ادائیگی کے لئے گھر تشریف لائے تو گھر میں کھجور یں ختم ہوچکی تھیں، پس باہر آکر اس یہاتی سے فرمایا: اللہ کے بندے!میںنے بسیار تلاش تو کیا ہے، مگر تیرے اونٹوںکی قیمت اداکرنے کے لئے مجھے کھجور یں نہ مل سکیں۔)) اس دیہاتی نے تو یہ کہنا شروع کردیا: ہائے یہ کیاعہد شکنی ہے ؟ لوگوں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا: اللہ تجھے ہلاک کرے، کیا اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی عہد شکنی کرتے ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو، حق لینے والا باتیں سناتا رہتاہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بات دوہرائی اور فرمایا: او اللہ کے بندے! ہم نے تجھ سے اونٹ خریدے تھے اور ہمارا خیال تھا کہ ہمارے پاس وہ چیزیں ہیں، جو ہم نے تجھ سے ان کا بھاؤ طے کیا اور تلاش بھی کیا ہے، لیکن وہ مل نہیں سکیں۔ یہ سن کر وہ پھر کہنے لگا: ہائے یہ کیا عہد شکنی ہے، لوگوں نے اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے کہا: اللہ تجھے ہلاک کرے، کیا اللہ کے رسول بھی دھوکہ کرتے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو کچھ نہ کہو، جس نے حق لینا ہوتا ہے، وہ باتیں کرتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو تین مرتبہ یہی بات دہرائی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب دیکھاکہ وہ دیہاتی بات سمجھ نہیں پارہاتو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: خویلہ بنت حکیم کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ اللہ کے رسول کہہ رہے ہیں کہ اگر تمہارے پاس ایک وسق عجوہ کھجوریں ہیں تو ہمیں ادھار دے دو، ہم ان شاء اللہ تجھے اداکردیں گے۔ وہ آدمی گیا اور اس نے آکر بتایاکہ وہ کہتی ہے کہ اس کے پاس کھجوریں ہیں، کوئی لے جانے والا آدمی بھیج دیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: جاؤ اور پوری طرح اس دیہاتی کو اس کا حق دلواؤ۔ پس وہ اِس کو لے گیا اور اس کا پورا پورا حق اس کو دلوا دیا، پھر وہ بدّو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا اور اس نے کہا: اللہ آپ کو جزائے خیر دے، آپ نے پورا حق ادا کیا اور بڑے اچھے طریقے سے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے نزدیک وہ لوگ سب سے بہتر ہیں، جو خوشدلی سے پوری طرح ادائیگی کرتے ہیں۔
Takhreej
(۵۷۹۲) اسنادہ حسن۔ أخرجہ البیھقی: ۶/ ۲۰، والحاکم: ۲/ ۳۲، والبزار: ۱۳۱۰(انظر: ۲۶۳۱۲)
Explanation
فوائد:… یہ نبی کریمa کا عظیم حسن اخلاق تھا کہ آپ a نے اس بدّو کے اس قدرسخت رویے کو برداشت کیا اور اُدھار لے کر اس کا حق ادا کیا، اگرچہ حق لینے والاباتیں تو کر سکتا ہے، لیکن اس کو مخاطَب کے آداب کا بھی لحاظ کرنا چاہیے۔
5792
Sahih
۔ (۵۷۹۳)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا أَتَی اللّٰہُ بِہٖعَزَّوَجَلَّفَقَالَ: مَاذَاعَمِلْتَفِی الدُّنْیَا؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا عَمِلْتُ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّۃٍ مِنْ خَیْرٍ أَرْجُوْکَ بِہَا، فَقَالَھا لَہُ ثَلَاثًا وَقَالَ فِی الثَّالِثَۃِ: أَیْرَبِّ! کُنْتَ اَعْطَیْتَنِیْ فَضْلًا مِنْ مَالٍ فِی الدُّنْیَا فَکُنْتُ اُبَایِعُ النَّاسَ وَکَانَ مِنْ خُلُقِیْ اَتَجَاوَزُ عِنْہُ وَکُنْتُ اُیَسِّرُ عَلَی الْمُوْسِرِ وَاُنْظِرُ الْمُعْسِرِ، فَقَالَ عَزَّوَجَلَّ: نَحْنُ أَوْلٰی بِذٰلِکَ مِنْکَ تَجَاوَزُوْا عَنْ عَبْدِیْ فَغُفِرَلَہُ، فَقَالَ اَبُوْ مَسْعُوْدٍ: ھٰکَذَا سَمِعْتُ مِنْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۹۰)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو اللہ تعالی کے حضور پیش کیاگیا، اللہ تعالی نے اس سے کہا: دنیا میں کون سا عمل کیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے ذرہ برابر کوئی ایسی نیکی نہیں کی کہ جس کی امیدرکھ سکوں۔ اللہ تعالیٰ نے تین بار یہ سوال دہرایا، تیسری مرتبہ اس نے کہا: اے میرے رب ! تونے مجھے دنیا میں وافر مال دیا تھا، اس لیے میں لوگوں سے تجارتی لین دین کرتاتھا، اس میںمیرا طریقہیہ تھا کہ مالداروں پرآسانی کرتاتھااور تنگدستوں کو مہلت دیتا تھا، اللہ تعالی نے کہا: ہم تیرے ساتھ ایسا حسن سلوک کرنے کے زیادہ حقدار ہیں، فرشتو!میرے اس بندے سے درگزر کردو، پس اس کو معاف کر دیا گیا۔ سیدنا ابومسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اسی طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سناہے۔
Takhreej
(۵۷۹۳) تخریج: أخرجہ بنحوہ البخاری: ۳۴۵۱، ومسلم: ۲۹۳۴(انظر: ۱۷۰۶۴)
5793
Sahih
۔ (۵۷۹۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ اَتَاہُ مَلَکُ الْمَوْتِ لِیَقْبِضَ نَفْسَہُ فَقَالَ لَہُ: ھَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَیْرٍ؟ فقَالَ: مَا أَعْلَمُ، قِیْلَ لَہُ: انْظُرْ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ شَیْئًا غَیْرَ اَنِّیْ کُنْتُ اُبَایِعُ النَّاسَ وَأُجَازِفُہُمْ فَأُنْظِرُ الْمُوْسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ، فَأَدْخَلَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۴۴)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے (یہ بھی) روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے کی بات ہے کہ ایک آ دمی کے پاس ملک الموت اس کی روح قبض کرنے کے لیے آ یا، اُس نے اس شخص سے پوچھا: تونے بھلائی کا کوئی کام کیا ہے؟ اس نے آدمی نے کہا:مجھے تو معلوم نہیں ہے، اس نے کہا: مزید دیکھ لے، اس نے کہا: کوئی نیک عمل ذہن میں نہیں آ رہا، البتہ میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا اور اندازے سے لین دین کرتا تھا اور مالدار کو مہلت دیتا تھا اور تنگدست سے تجاوز کر جاتا تھا، پس اللہ تعالی نے اس کو اس عمل کی وجہ سے جنت میں داخل کر دیا۔
Takhreej
(۵۷۹۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۷۷، ۳۴۵۱، ومسلم: ۱۵۶۰ (انظر: ۲۳۳۵۳)
5794
Sahih
۔ (۵۷۹۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((إِنَّ رَجُلًا لَمْ یَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ فَکَانَ یُدَایِنُ النَّاسَ فَیَقُوْلُ لِرَسُوْلِہِ: خُذْ مَا تَیَسَّرَ وَاتْرُکْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللّٰہَ یَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَمَّا ھَلَکَ قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ: ھَلْ عَمِلْتَ خَیْرًا قَطُّ؟ قَالَ: لَا، اِلَّا أَنَّہُ کَانَ لِیْ غُلَامٌ وَکُنْتُ أُدَایِنُ النَّاسَ فَاِذَا بَعَثْتُہُ یَتَقَاضٰی قُلْتُ لَہُ: خُذْ ماَ تَیَسَّرَ وَاتْرُکْ مَا عَسُرَ وَ تَجَاوَزَ لَعَلَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَتَجَاوَزُ عَنَّا، قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَ جَلَّ: تَجَاوَزْتُ عَنْکَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، ایک آدمی نے کبھی کوئی نیکی نہ کی تھی، تاہم وہ لوگوں کے ساتھ تجارتی لین دین رکھتاتھا اس نے اپنے نائب سے کہہ رکھا تھا جوآسانی سے دے سکے اس سے قیمت لے لینا اور جو تنگدست ہواس سے درگزر کرنا، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں بھی معاف کردے، جب وہ فوت ہواتو اللہ تعالی نے اس سے پوچھاکبھی کوئی عمل خیر کیاہے، اس نے کہا نہیں ایک کام ہے کہ میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا تو میںجب اپنے نائب کو قر ضہ کے تقاضا کے لئے بھیجتاتواس سے کہہ رکھا تھا کہ جو آسان دست ہو اس سے لے لینا اور جو تنگدست ہو اس سے درگزر کرنا شاید اللہ تعالیٰ ہم سے درگزر فرمائے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جامیں نے بھی تجھے معاف کردیا۔
Takhreej
(۵۷۹۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۸۰، ومسلم: ۱۵۶۲ (انظر: ۸۷۳۰)
Explanation
فوائد:… ان احادیث ِ مبارکہ میں جن جن مواقع پر نرم خوئی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس وقت ہر تاجر، دوکاندار، قرض خواہ اور حقدار اس نرمی کی رعایت کرنے سے یکسر محروم ہے، الا ما شاء اللہ، ممکن ہے کہ کوئی رعایت کرنے والا ہو، لیکن عوام نے اس کو نہیں دیکھا، ہر قرض خواہ اور قرض دار کے مابین سختی اور تلخی کا معاملہ نظر آتا ہے، اس وجہ سے ہمارے مزاجوں میں تناؤ آ گیا ہے اور ہماری زندگیاں برکتوں سے خالی ہو گئی ہیں۔ قارئین کرام! کچھ افراد تو طبعی طور پر نرم ہوتے ہیں، اگر وہ کچھ سعی کریں تو ان کا مزاج آسانی سے شریعت کے تابع ہو سکتا ہے، لیکن سخت مزاج لوگوں کو شریعت کے مطابق نرم خوئی سے متصف ہونے کے لیے خاصی محنت کرنا پڑے گی اور اس قسم کے ہر معاملے میں تکلف کر کے اپنے مزاج کو شریعت کے تابع کرنا ہو گا، نتیجتاً نہ قرضے لیٹ ہو جانے سے بے سکونی ہو گی اور نہ معاف کرنے سے معاملات رکیں گے، ایسے افراد کو یہ عقیدہ مضبوط کر لینا چاہیے کہ روزی کے اسباب کا مالک اللہ تعالی ہے، ہم خود نہیں ہیں۔
5795
Sahih

Chapters

48
01
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
9 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
6 Hadith
03
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
9 Hadith
04
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
05
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
5 Hadith
06
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
14 Hadith
07
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
9 Hadith
08
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
09
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
10
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
11
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
3 Hadith
12
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
11 Hadith
13
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
14
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
6 Hadith
15
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
16
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
18
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
7 Hadith
19
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
2 Hadith
20
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
12 Hadith
21
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
3 Hadith
22
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
23
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
3 Hadith
24
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
25
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
26
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
27
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
9 Hadith
28
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
29
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
1 Hadith
30
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
2 Hadith
31
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
1 Hadith
32
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
3 Hadith
33
مجلس کے اختیار کا بیان
7 Hadith
34
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
7 Hadith
35
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
5 Hadith
36
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
3 Hadith
37
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
4 Hadith
38
بھائو مقرر کرنے کا بیان
4 Hadith
39
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
5 Hadith
40
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
9 Hadith
41
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
11 Hadith
42
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
7 Hadith
43
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
7 Hadith
44
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
3 Hadith
45
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
1 Hadith
46
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
5 Hadith
47
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
5 Hadith
48
بیع سلم (بیع سلف) کے مسائل
5 Hadith
No chapter matched that.