TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3526 - Chapter: It is not permissible for a woman who has been thrice-divorced to return to the one who divorced her until she marries another husband who has intercourse with her, then divorces her, and she completes the 'Iddah - The book of marriage - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 7 in this chapter
Chapter: It is not permissible for a woman who has been thrice-divorced to return to the one who divorced her until she marries another husband who has intercourse with her, then divorces her, and she completes the 'Iddah
جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں وہ طلاق دینے والے کے لیے حلال نہیں حتی کہ وہ اس کے سوا کسی اور خاوند سے نکاح کرے اور وہ اس سے مباشرت کرے ‘پھر وہ اس سے علیحدگی اختیار کرے اور اس کی عادت پور ی ہو جائے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ، فَطَلَّقَنِي، فَبَتَّ طَلَاقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ، وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ»، قَالَتْ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَهُ وَخَالِدٌ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ، فَنَادَى: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا تَسْمَعُ هَذِهِ مَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
A'isha (Allah he pleased with her) reported: There came the wife of Rifa'a to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: I was married to Rifa'a but he divorced me, making may divorce irrevocable. Afterwards I married Abd al-Rahman b. al-Zubair, but all he possesses is like the fringe of a garment (i. e. he is sexually weak). Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) smiled, and said: Do you wish to return to Rifa'a. (You) cannot (do it) until you have tasted his sweetness and he ('Abd al-Rahman) has tasted your sweetness. Abu Bakr was at that time near him (the Holy Prophet) and Khalid (b. Sa'id) was at the door waiting for the permission to be granted to him to enter), He (Khalid) said; Abu Bakr, do you hear what she is saying loudly in the presence of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ )?
سفیان نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رفاعہ ( بن سموءل قرظی ) کی بیوی ( تمیمہ بنت وہب قرظیہ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : میں رفاعہ کے ہاں ( نکاح میں ) تھی ، اس نے مجھے طلاق دی اور قطعی ( تیسری ) طلاق دے دی تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر ( بن باطا قرظی ) سے شادی کر لی ، مگر جو اس کے پاس ہے وہ کپڑے کی جھالر کی طرح ہے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا : "" کیا تم دوبارہ رفاعہ کے پاس لوٹنا چاہتی ہو؟ نہیں ( جا سکتی ) ، حتی کہ تم اس ( دوسرے خاوند ) کی لذت چکھ لو اور وہ تمہاری لذت چکھ لے ۔ "" ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس موجود تھے اور خالد رضی اللہ عنہ ( بن سعید بن عاص ) دروازے پر اجازت ملنے کے منتظر تھے ، تو انہوں نے پکار کر کہا : ابوبکر! کیا آپ اس عورت کو نہیں سن رہے جو بات وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونچی آواز سے کہہ رہی ہے
3526
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

301
1
CHAPTER: The Thrice Divorced Woman Cannot Return To Her Husband Until She Re-Marries.
باب: تین طلاق کے بعد عورت دوسرے شخص سے نکاح کئے بغیر پہلے شوہر کے پاس نہیں آ سکتی ۔
Sunnan Abu Dawood
2
Chapter: What Has Been Related About A Person Who Marries A Woman, Then Divorces Her Before Having Intercourse With Her: Can He Marry Her Daughter Or Not?
باب: جو کسی عورت سے شادی کرے پھر دخول سے پہلے ہی اسے طلاق دیدے تو کیا وہ اس عورت کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے؟​
Jam e Tirmazi
3
(15) CHAPTER. It is permissible for a women to giving gifts to somebody other than her husband.
اگر عورت اپنے خاوند کے سوا اور کسی کو کچھ ہبہ کرے یا غلام لونڈی آزاد کرے اور ہبہ کے وقت اس کا خاوند موجود ہو ، تو یہ ہبہ جائز ہے
Sahih Bukhari
4
(3) CHAPTER. Whoever divorced (his wife), and should a man tell his wife face to face that she is divorced.
طلاق دینے کا بیان اور کیا طلاق دیتے وقت عورت کے منہ در منہ طلاق دے ؟
Sahih Bukhari
5
(44) CHAPTER. “And their husbands have the better right to take them (divorced ladies) back,” (V.2:228) during the period of the Idda.
اور اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ عدت کیاندر عورتوں کے خاندان کے زیادہ حقدار ہیں یعنی رجعت کر کے اور اس بات کا بیان کہ جب عورت کو ایک یاد و طلاق دی ہوں تو کیونکر رجعت کرے ۔
Sahih Bukhari
6
Chapter: It is permissible for a menstruating woman to wash her husband’s head, and comb his hair; her leftovers are pure (tahir); and regarding reclining in her lap and reciting Qur’an
خصوصی ایام میں عورت کے لیےجائز ہے کہ وہ اپنے خاوند کا سر دھوئے اور اسے کنگھی کرے، اس کا جھوٹا پا ک ہے ، اس کی گود میں سر رکھنا اور اس (عالم) میں قرآن پڑھنا جائز ہے
Sahih Muslim
7
CHAPTER: Regarding Allowing The Wife To Choose.
باب: عورت کو طلاق کا اختیار دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
8
باب: دخول سے پہلے عورت کو الگ الگ تین طلاقیں دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
Chapter: : What Has Been Related About One Who Divorced His Wife Three Times, Then She Married Someone Else, And He Divorced Her Before Having Intercourse With Her
باب: آدمی بیوی کو تین طلاق دیدے پھر اس سے کوئی اور شادی کر کے دخول سے پہلے اسے طلاق دیدے تو اس کے حکم کا بیان​
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What has been related about the choice
باب: عورت کو ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے اختیار دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
بَاب الْمُطلقَة ثَلَاثًا
جس عورت کو تین طلاقیں دی جائیں اس کا بیان
Mishkat
12
(112) CHAPTER. A man should not stay with a woman in seclusion unless he is a Dhu-Mahram (a person who is legally not allowed to marry that woman, e.g. her father or brother, etc.). (And it is unlawful for one) to enter upon a woman whose husband is absent.
محرم کے سوا کوئی غیر مردکسی غیر عورت کے ساتھ تنہائی نہ اختیار کرے ۔
Sahih Bukhari
13
(29) CHAPTER. Al-Lian, and whoever divorced (his wife) after the process of Lian.
لعان اور لعان کے بعد طلاق دینے کا بیان ۔
Sahih Bukhari
14
(35) CHAPTER. The child is to be given to the lady (accused by her husband for an illegal sexual intercourse).
لعان کے بعد عورت کا بچہ ( جس کو مرد کہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے ) ماں سے ملادیا جائے گا ( اسی کا بچہ کہلائے گا ) ۔
Sahih Bukhari
15
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
Sahih Bukhari
16
(53) CHAPTER. The gift given by a husband to a divorced lady for whom Mahr has not been fixed.
عورت کو بطور سلوک کچھ کپڑا یا زیور یا نقد دینا جب اس کا مہر نہ ٹھہرا ہو ۔
Sahih Bukhari
17
Chapter: The prohibition of intercourse with a pregnant captive woman
قید کی جانے والی حاملہ عورت سے مباشرت کی حرمت
Sahih Muslim
18
Chapter: It is permissible to have intercourse with a breastfeeding woman (Ghilah), and 'Azl is disliked
غیلہ یعنی دودھ پلانے والی عورت سے صحبت کرنا جائز ہے اور عزل کرنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
19
Chapter: It is permissible to have intercourse with a female captive after it is established that she is not pregnant, and if she has a husband, then her marriage is annulled when she is captured
استبرائے رحم کے بعد جنگ میں قید ہونے والی لونڈی کے ساتھ مجامعت کرنا جائز ہے اور اگر اس کا شوہر تھا تز غلامی کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ ہو گیا
Sahih Muslim
20
Chapter: Giving one's wife the choice does not count as a divorce, unless it is intended as such
طلاق دینے کی نیت کیے بغیر محض بیوی کو اختیار دے دینے سے طلاق واقع نہیں ہو تی
Sahih Muslim
21
Chapter: Ila', Keeping away from one's wives and giving them the choice, And the saying of Allah, The Most High: But if you help one another against him
ایلاء اور عورتوںسے علیحدگی اختیار کرنا اور انھیں اختیار دینا ‘نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور اگر تم دونوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کروگی ‘‘
Sahih Muslim
22
Chapter: The woman who has been irrevocably divorced is not entitled to spending
جس عورت کو طلاق بائنہ دی گئی ہو اسے خرچہ نہیں دیا جاتا
Sahih Muslim
23
Chapter: It is permissible for a woman who is observing 'Iddah after an irrevocable divorce or the death of her husband to go out during the day if she needs to
طلاق بائن کی عدت گزرنے والی اور جس کا شوہر فوت ہوگیا ہو ‘اس کے لیے اپنی کسی ضرورت کے تحت دن کے وقت گھر سے نکلنا جائز ہے
Sahih Muslim
24
CHAPTER: Regarding The Maintenance Of One Who Has Been Irrevocably Divorced.
باب: تین طلاق دی ہوئی عورت کے نفقہ کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
25
باب: ایک ساتھ تین طلاقیں دے دینے کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Have Intercourse With Pregnant Female Prisoners
باب: حاملہ قیدی عورتوں سے جماع کرنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
27
باب: مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
28
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
Musnad Ahmad
29
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
Musnad Ahmad
30
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
31
پرورش میں والدین کے تنازعہ اور اختلاف کے وقت بچے کے سلسلے میں قرعہ اندازی کرنے اور سن تمیز تک پہنچنے کی صورت میں اس کا اختیار دینے کا بیان
Musnad Ahmad
32
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
33
(5) CHAPTER. Clapping [during the Salat (prayer)] is permissible only for women.
تالی بجانا یعنی ہاتھ پر ہاتھ مارنا صرف عورتوں کے لیے ہے
Sahih Bukhari
34
(29) CHAPTER. (Is it permissible for) women to accompany the funeral procession?
عورتوں کا جنازے کے ساتھ جانا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
35
(46) CHAPTER. Is selling permissible if the seller has the option of cancelling the bargain?
اگر بائع اپنے لیے اختیار کی شرط کر لے تو بھی بیع جائز ہے
Sahih Bukhari
36
(8) CHAPTER. If someone deputes a person to give something but does not mention how much to give, it is permissible for the deputy to distribute it amongst the people according to the conventional custom.
ایک شخص نے کسی دوسرے شخص کو کچھ دینے کے لیے وکیل کیا ، لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کتنا دے ، اور وکیل نے لوگوں کے جانے ہوئے دستور کے مطابق دے دیا
Sahih Bukhari
37
(21) CHAPTER. If someone claims something or accuses somebody of illegal sexual intercourse, he should search for the proof and he is to be given respite to get evidence.
اگر کسی نے کوئی دعویٰ کیا یا ( اپنی عورت پر ) زنا کا جرم لگایا اور گواہ لانے کے لیے مہلت چاہی تو مہلت دی جائے گی
Sahih Bukhari
38
(146) CHAPTER. (Is it permissible) to attack the enemies wilth the probability of killing the babies and children (unintentionally)?
اگر ( لڑنے والے ) کافروں پر رات کو چھاپہ ماریں اور بغیر ارادہ کے عورتیں ، بچے بھی زخمی ہو جائیں تو پھر کچھ قباحت نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
39
(195) CHAPTER. (It is permissible for a man) to look in (or search) the hair of the Dhimmi women (i.e., non-Muslims living under the protection of Muslims) and that of the lady-believers if they disobey Allah, and to compel them to take off their clothes if there is necessity.
ذمی یا مسلمان عورتوں کے ضرورت کے وقت بال دیکھنا درست ہے اس طرح ان کا ننگا کرنا بھی جب وہ اللہ کی نافرمانی کریں
Sahih Bukhari
40
(40) CHAPTER. “And when you have divorced women and they have fulfilled the term of their prescribed period, do not prevent them from marrying their (former) husbands...” (V.2:232)
آیت ( ( واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن ) ) الآیۃ کی تفسیر
Sahih Bukhari
41
(2) CHAPTER. ...And for those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead), their Idda (prescribed period) is until they lay down their burdens, and whoever keeps his duty to Allah and fears Him, He will make his matter easy for him.” (V.63:4)
آیت ( ( واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
42
(10) CHAPTER. The marrying of matrons (divorced or widowed ladies).
بیوہ عورتوں کا بیان ۔
Sahih Bukhari
43
(30) CHAPTER. Is it permissible for a woman to present herself for marriage to somebody?
کیا کوئی عورت کسی سے نکاح کے لئے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے ؟
Sahih Bukhari
44
(36) CHAPTER. (It is permissible) to look at a woman before marrying her.
نکاح سے پہلے عورت کو دیکھنا ۔
Sahih Bukhari
45
(115) CHAPTER. The looking of a woman at the Ethiopians and the like (is permissible) if it does not lead to bad consequences.
عورت حبشیوں کو دیکھ سکتی ہے اگر کسی فتنے کا ڈر نہ ہو ۔
Sahih Bukhari
46
(2) CHAPTER. If a woman is divorced during her menses, then that divorce is counted as one legal divorce.
اگر حائضہ کو طلاق دے دی جائے تو یہ طلاق شمار ہو گی یا نہیں ؟
Sahih Bukhari
47
(5) CHAPTER. Whoever gave option to his wives.
جس نے اپنی عورتوں کو اختیار دیا ۔
Sahih Bukhari
48
(61) CHAPTER. About those men who are in the similitude (assume the manners) of women, and those women who are in the similitude (assume the manners) of men.
عورتوں کا چال ڈھال اختیار کرنے والے مرد اور مردوں کی چال ڈھال اختیار کرنے والی عورتیں عنداللہ ملعون ہیں
Sahih Bukhari
49
(62) CHAPTER. The dismissal of such men as are in the similitude (assume the manners) of women, from the houses.
زنانوں اورہیجڑوں کو جو عورتوں کی چال ڈھال اختیارکرتے ہیں گھر سے نکال دینا
Sahih Bukhari
50
(31) CHAPTER. The Rajm (stoning to death) of a married lady who has become pregnant through illegal sexual intercourse.
زنا سے حاملہ ہونے والی عورت کو رجم کرنے کا بیان جب کہ وہ شادیشدہ ہو
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,456
Sunnan Nisai
3438
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي كُنْتُ تَحْتَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ، ‏‏‏‏‏‏فَطَلَّقَنِي الْبَتَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الْهُدْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ جِلْبَابِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ بِالْبَاب،‏‏‏‏ فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا تَسْمَعُ هَذِهِ تَجْهَرُ بِمَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، ‏‏‏‏‏‏لَا، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ .
It was narrated that 'Aishah said: The wife of Rifa'ah Al-Qurazi came to the Prophet when Abu Bakr was with him, and she said: 'O Messenger of Allah! I was married to Rifa'ah Al-Qurazi and he divorced me, and made it irrevocable. Then I married 'Abdur-Rahman bin Az-Zabir, and by Allah, O Messenger of Allah, what he has is like this fringe;' and she held up a fringe of her Jilbab. Khalid bin Sa'eed was at the door and he did not let him in. He said: 'O Abu Bakr? Do you not hear this woman speaking in such an audacious manner in the presence of the Messenger of Allah?' He said: 'Do you want to go back to Rifa'ah? No, not until you taste his sweetness and he tastes your sweetness.'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں رفاعہ قرظی کی بیوی تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی ہے تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی، اور اللہ کے رسول! قسم اللہ کی ان کے پاس تو اس جھالر جیسی چیز کے سوا کچھ نہیں ہے ۱؎ انہوں نے اپنی چادر کا پلو پکڑ کر یہ بات کہی۔ اس وقت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہ دی، انہوں نے ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے ) کہا: ابوبکر! آپ سن رہے ہیں نا جو یہ زور زور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس عورت سے ) کہا: تم رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو، یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ تم اس کے شہد کا مزہ نہ چکھ لو اور وہ تمہارے شہد کا مزہ نہ چکھ لے۔
Jam e Tirmazi
1118
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي، ‏‏‏‏‏‏فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّمَيْصَاءِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ الْغُمَيْصَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا لَا تَحِلُّ لِلزَّوْجِ الْأَوَّلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ جَامَعَ الزَّوْجُ الْآخَرُ.
Aishah narrated: The wife of Rifa'ah Al-Qurzi came to the Messenger of Allah and said: 'I was with Rifa'ah and he divorced me irrevocably. Then I married Abdur-Rahman bin Az-Zubair, but he only has the likes of the fringe of a garment.' So he said: 'Perhaps you want me to return to Rifa'ah? No, not until you taste his sweetness, and he tastes your sweetness.'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں رفاعہ کے نکاح میں تھی۔ انہوں نے مجھے طلاق دے دی اور میری طلاق طلاق بتہ ہوئی ہے۔ پھر میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی، ان کے پاس صرف کپڑے کے پلو کے سوا کچھ نہیں ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: ”تو کیا تم رفاعہ کے پاس لوٹ جانا چاہتی ہو؟ ایسا نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم ان ( عبدالرحمٰن ) کی لذت نہ چکھ لو اور وہ تمہاری لذت نہ چکھ لیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، انس، رمیصاء، یا غمیصاء اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کو تین طلاق دیدے پھر وہ کسی اور سے شادی کر لے اور وہ دوسرا شخص دخول سے پہلے اسے طلاق دیدے تو اس کے لیے پہلے شوہر سے نکاح درست نہیں جب تک کہ دوسرے شوہر نے اس سے جماع نہ کر لیا ہو۔
Sahih Bukhari
2731
حدثني عبد الله بن محمد، ‏‏‏‏‏‏حدثنا عبد الرزاق، ‏‏‏‏‏‏اخبرنا معمر، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اخبرني الزهري، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اخبرني عروة بن الزبير، ‏‏‏‏‏‏عن المسور بن مخرمة، ‏‏‏‏‏‏ومروان يصدق كل واحد منهما حديث صاحبه، ‏‏‏‏‏‏قالا:‏‏‏‏ خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم زمن الحديبية حتى إذا كانوا ببعض الطريق، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ إن خالد بن الوليد بالغميم في خيل لقريش طليعة، ‏‏‏‏‏‏فخذوا ذات اليمين، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما شعر بهم خالد حتى إذا هم بقترة الجيش، ‏‏‏‏‏‏فانطلق يركض نذيرا لقريش، ‏‏‏‏‏‏وسار النبي صلى الله عليه وسلم حتى إذا كان بالثنية التي يهبط عليهم منها بركت به راحلته، ‏‏‏‏‏‏فقال الناس:‏‏‏‏ حل، ‏‏‏‏‏‏حل، ‏‏‏‏‏‏فالحت، ‏‏‏‏‏‏فقالوا:‏‏‏‏ خلات القصواء، ‏‏‏‏‏‏خلات القصواء، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ما خلات القصواء وما ذاك لها بخلق، ‏‏‏‏‏‏ولكن حبسها حابس الفيل، ‏‏‏‏‏‏ثم قال:‏‏‏‏ والذي نفسي بيده لا يسالوني خطة يعظمون فيها حرمات الله إلا اعطيتهم إياها، ‏‏‏‏‏‏ثم زجرها فوثبت، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فعدل عنهم حتى نزل باقصى الحديبية على ثمد قليل الماء يتبرضه الناس تبرضا فلم يلبثه الناس حتى نزحوه، ‏‏‏‏‏‏وشكي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم العطش، ‏‏‏‏‏‏فانتزع سهما من كنانته، ‏‏‏‏‏‏ثم امرهم ان يجعلوه فيه، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما زال يجيش لهم بالري حتى صدروا عنه، ‏‏‏‏‏‏فبينما هم كذلك إذ جاء بديل بن ورقاء الخزاعي في نفر من قومه من خزاعة، ‏‏‏‏‏‏وكانوا عيبة نصح رسول الله صلى الله عليه وسلم من اهل تهامة، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ إني تركت كعب بن لؤي، ‏‏‏‏‏‏وعامر بن لؤي نزلوا اعداد مياه الحديبية ومعهم العوذ المطافيل وهم مقاتلوك وصادوك عن البيت، ‏‏‏‏‏‏فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ إنا لم نجئ لقتال احد ولكنا جئنا معتمرين، ‏‏‏‏‏‏وإن قريشا قد نهكتهم الحرب واضرت بهم، ‏‏‏‏‏‏فإن شاءوا ماددتهم مدة، ‏‏‏‏‏‏ويخلوا بيني وبين الناس فإن اظهر، ‏‏‏‏‏‏فإن شاءوا ان يدخلوا فيما دخل فيه الناس فعلوا وإلا فقد جموا، ‏‏‏‏‏‏وإن هم ابوا، ‏‏‏‏‏‏فوالذي نفسي بيده لاقاتلنهم على امري هذا حتى تنفرد سالفتي ولينفذن الله امره، ‏‏‏‏‏‏فقال بديل:‏‏‏‏ سابلغهم ما تقول، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فانطلق حتى اتى قريشا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ إنا قد جئناكم من هذا الرجل، ‏‏‏‏‏‏وسمعناه يقول قولا، ‏‏‏‏‏‏فإن شئتم ان نعرضه عليكم فعلنا، ‏‏‏‏‏‏فقال سفهاؤهم:‏‏‏‏ لا حاجة لنا ان تخبرنا عنه بشيء، ‏‏‏‏‏‏وقال ذوو الراي منهم:‏‏‏‏ هات ما سمعته يقول، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سمعته يقول كذا وكذا، ‏‏‏‏‏‏فحدثهم بما قال النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فقام عروة بن مسعود، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اي قوم، ‏‏‏‏‏‏الستم بالوالد؟ قالوا:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اولست بالولد؟ قالوا:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فهل تتهموني؟ قالوا:‏‏‏‏ لا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ الستم تعلمون اني استنفرت اهل عكاظ، ‏‏‏‏‏‏فلما بلحوا علي جئتكم باهلي وولدي، ‏‏‏‏‏‏ومن اطاعني؟ قالوا:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فإن هذا قد عرض لكم خطة رشد، ‏‏‏‏‏‏اقبلوها ودعوني آتيه، ‏‏‏‏‏‏قالوا:‏‏‏‏ ائته، ‏‏‏‏‏‏فاتاه، ‏‏‏‏‏‏فجعل يكلم النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ نحوا من قوله لبديل، ‏‏‏‏‏‏فقال عروة:‏‏‏‏ عند ذلك اي محمد، ‏‏‏‏‏‏ارايت إن استاصلت امر قومك، ‏‏‏‏‏‏هل سمعت باحد من العرب اجتاح اهله قبلك وإن تكن الاخرى، ‏‏‏‏‏‏فإني والله لارى وجوها وإني لارى اوشابا من الناس خليقا ان يفروا ويدعوك، ‏‏‏‏‏‏فقال له ابو بكر الصديق:‏‏‏‏ امصص بظر اللات، ‏‏‏‏‏‏انحن نفر عنه وندعه، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ من ذا؟ قالوا:‏‏‏‏ ابو بكر، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اما والذي نفسي بيده لولا يد كانت لك عندي لم اجزك بها لاجبتك، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ وجعل يكلم النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فكلما تكلم اخذ بلحيته والمغيرة بن شعبة قائم على راس النبي صلى الله عليه وسلم ومعه السيف وعليه المغفر، ‏‏‏‏‏‏فكلما اهوى عروة بيده إلى لحية النبي صلى الله عليه وسلم ضرب يده بنعل السيف، ‏‏‏‏‏‏وقال له:‏‏‏‏ اخر يدك عن لحية رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فرفع عروة راسه، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ من هذا؟ قالوا:‏‏‏‏ المغيرة بن شعبة، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اي غدر، ‏‏‏‏‏‏الست اسعى في غدرتك، ‏‏‏‏‏‏وكان المغيرة صحب قوما في الجاهلية، ‏‏‏‏‏‏فقتلهم واخذ اموالهم، ‏‏‏‏‏‏ثم جاء فاسلم، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ اما الإسلام فاقبل، ‏‏‏‏‏‏واما المال فلست منه في شيء، ‏‏‏‏‏‏ثم إن عروة جعل يرمق اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم بعينيه، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فوالله ما تنخم رسول الله صلى الله عليه وسلم نخامة إلا وقعت في كف رجل منهم فدلك بها وجهه وجلده، ‏‏‏‏‏‏وإذا امرهم ابتدروا امره، ‏‏‏‏‏‏وإذا توضا كادوا يقتتلون على وضوئه، ‏‏‏‏‏‏وإذا تكلم خفضوا اصواتهم عنده، ‏‏‏‏‏‏وما يحدون إليه النظر تعظيما له، ‏‏‏‏‏‏فرجع عروة إلى اصحابه، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اي قوم، ‏‏‏‏‏‏والله لقد وفدت على الملوك ووفدت على قيصر، ‏‏‏‏‏‏وكسرى، ‏‏‏‏‏‏والنجاشي، ‏‏‏‏‏‏والله إن رايت ملكا قط يعظمه اصحابه ما يعظم اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم محمدا، ‏‏‏‏‏‏والله إن تنخم نخامة إلا وقعت في كف رجل منهم فدلك بها وجهه وجلده، ‏‏‏‏‏‏وإذا امرهم ابتدروا امره، ‏‏‏‏‏‏وإذا توضا كادوا يقتتلون على وضوئه، ‏‏‏‏‏‏وإذا تكلم خفضوا اصواتهم عنده، ‏‏‏‏‏‏وما يحدون إليه النظر تعظيما له، ‏‏‏‏‏‏وإنه قد عرض عليكم خطة رشد فاقبلوها، ‏‏‏‏‏‏فقال رجل من بني كنانة:‏‏‏‏ دعوني آتيه، ‏‏‏‏‏‏فقالوا:‏‏‏‏ ائته، ‏‏‏‏‏‏فلما اشرف على النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه، ‏‏‏‏‏‏قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ هذا فلان، ‏‏‏‏‏‏وهو من قوم يعظمون البدن، ‏‏‏‏‏‏فابعثوها له، ‏‏‏‏‏‏فبعثت له واستقبله الناس يلبون، ‏‏‏‏‏‏فلما راى ذلك، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سبحان الله، ‏‏‏‏‏‏ما ينبغي لهؤلاء ان يصدوا عن البيت، ‏‏‏‏‏‏فلما رجع إلى اصحابه، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ رايت البدن قد قلدت واشعرت، ‏‏‏‏‏‏فما ارى ان يصدوا عن البيت فقام رجل منهم يقال له مكرز بن حفص، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ دعوني آتيه، ‏‏‏‏‏‏فقالوا:‏‏‏‏ ائته، ‏‏‏‏‏‏فلما اشرف عليهم، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ هذا مكرز، ‏‏‏‏‏‏وهو رجل فاجر، ‏‏‏‏‏‏فجعل يكلم النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فبينما هو يكلمه إذ جاء سهيل بن عمرو . قال معمر:‏‏‏‏ فاخبرني ايوب، ‏‏‏‏‏‏عن عكرمة، ‏‏‏‏‏‏انه لما جاء سهيل بن عمرو، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ لقد سهل لكم من امركم. قال معمر:‏‏‏‏ قال الزهري في حديثه:‏‏‏‏ فجاء سهيل بن عمرو، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ هات اكتب بيننا وبينكم كتابا، ‏‏‏‏‏‏فدعا النبي صلى الله عليه وسلم الكاتب، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏قال سهيل:‏‏‏‏ اما الرحمن، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما ادري ما هو، ‏‏‏‏‏‏ولكن اكتب باسمك اللهم كما كنت تكتب، ‏‏‏‏‏‏فقال المسلمون:‏‏‏‏ والله لا نكتبها إلا بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ اكتب باسمك اللهم، ‏‏‏‏‏‏ثم قال:‏‏‏‏ هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله، ‏‏‏‏‏‏فقال سهيل:‏‏‏‏ والله لو كنا نعلم انك رسول الله ما صددناك عن البيت ولا قاتلناك، ‏‏‏‏‏‏ولكن اكتب محمد بن عبد الله، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ والله إني لرسول الله، ‏‏‏‏‏‏وإن كذبتموني اكتب محمد بن عبد الله، ‏‏‏‏‏‏قال الزهري:‏‏‏‏ وذلك لقوله:‏‏‏‏ لا يسالوني خطة يعظمون فيها حرمات الله إلا اعطيتهم إياها، ‏‏‏‏‏‏فقال له النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ على ان تخلوا بيننا وبين البيت فنطوف به، ‏‏‏‏‏‏فقال سهيل:‏‏‏‏ والله لا تتحدث العرب، ‏‏‏‏‏‏انا اخذنا ضغطة، ‏‏‏‏‏‏ولكن ذلك من العام المقبل، ‏‏‏‏‏‏فكتب، ‏‏‏‏‏‏فقال سهيل، ‏‏‏‏‏‏وعلى:‏‏‏‏ انه لا ياتيك منا رجل، ‏‏‏‏‏‏وإن كان على دينك إلا رددته إلينا، ‏‏‏‏‏‏قال المسلمون:‏‏‏‏ سبحان الله، ‏‏‏‏‏‏كيف يرد إلى المشركين وقد جاء مسلما؟ فبينما هم كذلك إذ دخل ابو جندل بن سهيل بن عمرو يرسف في قيوده، ‏‏‏‏‏‏وقد خرج من اسفل مكة حتى رمى بنفسه بين اظهر المسلمين، ‏‏‏‏‏‏فقال سهيل:‏‏‏‏ هذا يا محمد، ‏‏‏‏‏‏اول ما اقاضيك عليه ان ترده إلي، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ إنا لم نقض الكتاب بعد، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فوالله إذا لم اصالحك على شيء ابدا، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ فاجزه لي، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ ما انا بمجيزه لك، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏فافعل، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ ما انا بفاعل، ‏‏‏‏‏‏قال مكرز:‏‏‏‏ بل قد اجزناه لك، ‏‏‏‏‏‏قال ابو جندل:‏‏‏‏ اي معشر المسلمين ارد إلى المشركين، ‏‏‏‏‏‏وقد جئت مسلما، ‏‏‏‏‏‏الا ترون ما قد لقيت وكان قد عذب عذابا شديدا في الله، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فقال عمر بن الخطاب:‏‏‏‏ فاتيت نبي الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فقلت:‏‏‏‏ الست نبي الله حقا؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ السنا على الحق وعدونا على الباطل؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ فلم نعطي الدنية في ديننا إذا قال:‏‏‏‏ إني رسول الله، ‏‏‏‏‏‏ولست اعصيه وهو ناصري، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ اوليس كنت تحدثنا انا سناتي البيت فنطوف به؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏فاخبرتك انا ناتيه العام؟ قال:‏‏‏‏ قلت لا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فإنك آتيه ومطوف به، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فاتيت ابا بكر، ‏‏‏‏‏‏فقلت:‏‏‏‏ يا ابا بكر، ‏‏‏‏‏‏اليس هذا نبي الله حقا؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ السنا على الحق وعدونا على الباطل؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ فلم نعطي الدنية في ديننا، ‏‏‏‏‏‏إذا قال:‏‏‏‏ ايها الرجل إنه لرسول الله صلى الله عليه وسلم وليس يعصي ربه وهو ناصره فاستمسك بغرزه، ‏‏‏‏‏‏فوالله إنه على الحق، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ اليس كان يحدثنا انا سناتي البيت ونطوف به؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏افاخبرك انك تاتيه العام؟ قلت:‏‏‏‏ لا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فإنك آتيه ومطوف به. قال الزهري:‏‏‏‏ قال عمر:‏‏‏‏ فعملت لذلك اعمالا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فلما فرغ من قضية الكتاب، ‏‏‏‏‏‏قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاصحابه:‏‏‏‏ قوموا فانحروا، ‏‏‏‏‏‏ثم احلقوا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فوالله ما قام منهم رجل حتى قال ذلك ثلاث مرات، ‏‏‏‏‏‏فلما لم يقم منهم احد دخل على ام سلمة فذكر لها ما لقي من الناس، ‏‏‏‏‏‏فقالت ام سلمة:‏‏‏‏ يا نبي الله، ‏‏‏‏‏‏اتحب ذلك اخرج، ‏‏‏‏‏‏ثم لا تكلم احدا منهم كلمة حتى تنحر بدنك، ‏‏‏‏‏‏وتدعو حالقك فيحلقك، ‏‏‏‏‏‏فخرج فلم يكلم احدا منهم حتى فعل ذلك نحر بدنه ودعا حالقه فحلقه، ‏‏‏‏‏‏فلما راوا ذلك قاموا فنحروا وجعل بعضهم يحلق بعضا حتى كاد بعضهم يقتل بعضا غما، ‏‏‏‏‏‏ثم جاءه نسوة مؤمنات، ‏‏‏‏‏‏فانزل الله تعالى يايها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن حتى بلغ بعصم الكوافر سورة الممتحنة آية 10، ‏‏‏‏‏‏فطلق عمر يومئذ امراتين كانتا له في الشرك، ‏‏‏‏‏‏فتزوج إحداهما معاوية بن ابي سفيان، ‏‏‏‏‏‏والاخرى صفوان بن امية، ‏‏‏‏‏‏ثم رجع النبي صلى الله عليه وسلم إلى المدينة فجاءه ابو بصير رجل من قريش وهو مسلم، ‏‏‏‏‏‏فارسلوا في طلبه رجلين، ‏‏‏‏‏‏فقالوا:‏‏‏‏ العهد الذي جعلت لنا فدفعه إلى الرجلين، ‏‏‏‏‏‏فخرجا به حتى بلغا ذا الحليفة، ‏‏‏‏‏‏فنزلوا ياكلون من تمر لهم، ‏‏‏‏‏‏فقال ابو بصير لاحد الرجلين:‏‏‏‏ والله إني لارى سيفك هذا يا فلان جيدا فاستله الآخر، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اجل والله إنه لجيد، ‏‏‏‏‏‏لقد جربت به ثم جربت، ‏‏‏‏‏‏فقال ابو بصير:‏‏‏‏ ارني انظر إليه فامكنه منه، ‏‏‏‏‏‏فضربه حتى برد وفر الآخر حتى اتى المدينة فدخل المسجد يعدو، ‏‏‏‏‏‏فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين رآه:‏‏‏‏ لقد راى هذا ذعرا، ‏‏‏‏‏‏فلما انتهى إلى النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قتل والله صاحبي وإني لمقتول، ‏‏‏‏‏‏فجاء ابو بصير، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ يا نبي الله، ‏‏‏‏‏‏قد والله اوفى الله ذمتك، ‏‏‏‏‏‏قد رددتني إليهم، ‏‏‏‏‏‏ثم انجاني الله منهم، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ويل امه مسعر حرب لو كان له احد، ‏‏‏‏‏‏فلما سمع ذلك عرف انه سيرده إليهم، ‏‏‏‏‏‏فخرج حتى اتى سيف البحر، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ وينفلت منهم ابو جندل بن سهيل فلحق بابي بصير، ‏‏‏‏‏‏فجعل لا يخرج من قريش رجل قد اسلم إلا لحق بابي بصير حتى اجتمعت منهم عصابة، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما يسمعون بعير خرجت لقريش إلى الشام إلا اعترضوا لها، ‏‏‏‏‏‏فقتلوهم واخذوا اموالهم، ‏‏‏‏‏‏فارسلت قريش إلى النبي صلى الله عليه وسلم تناشده بالله والرحم لما ارسل، ‏‏‏‏‏‏فمن اتاه فهو آمن فارسل النبي صلى الله عليه وسلم إليهم، ‏‏‏‏‏‏فانزل الله تعالى وهو الذي كف ايديهم عنكم وايديكم عنهم ببطن مكة من بعد ان اظفركم عليهم حتى بلغ الحمية حمية الجاهلية سورة الفتح آية 24 - 26، ‏‏‏‏‏‏وكانت حميتهم انهم لم يقروا انه نبي الله، ‏‏‏‏‏‏ولم يقروا ب بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏وحالوا بينهم وبين البيت. وقال ابو عبد الله:‏‏‏‏ معرة العر الجرب تزيلوا تميزوا، ‏‏‏‏‏‏وحميت القوم منعتهم حماية، ‏‏‏‏‏‏واحميت الحمى جعلته حمى لا يدخل، ‏‏‏‏‏‏واحميت الحديد، ‏‏‏‏‏‏واحميت الرجل إذا اغضبته إحماء.
"Narrated Al-Miswar bin Makhrama and Marwan: (whose narrations attest each other) Allah's Apostle set out at the time of Al-Hudaibiya (treaty), and when they proceeded for a distance, he said, ""Khalid bin Al-Walid leading the cavalry of Quraish constituting the front of the army, is at a place called Al-Ghamim, so take the way on the right."" By Allah, Khalid did not perceive the arrival of the Muslims till the dust arising from the march of the Muslim army reached him, and then he turned back hurriedly to inform Quraish. The Prophet went on advancing till he reached the Thaniya (i.e. a mountainous way) through which one would go to them (i.e. people of Quraish). The she-camel of the Prophet sat down. The people tried their best to cause the she-camel to get up but in vain, so they said, ""Al-Qaswa' (i.e. the she-camel's name) has become stubborn! Al-Qaswa' has become stubborn!"" The Prophet said, ""Al-Qaswa' has not become stubborn, for stubbornness is not her habit, but she was stopped by Him Who stopped the elephant."" Then he said, ""By the Name of Him in Whose Hands my soul is, if they (i.e. the Quraish infidels) ask me anything which will respect the ordinances of Allah, I will grant it to them."" The Prophet then rebuked the she-camel and she got up. The Prophet changed his way till he dismounted at the farthest end of Al-Hudaibiya at a pit (i.e. well) containing a little water which the people used in small amounts, and in a short while the people used up all its water and complained to Allah's Apostle; of thirst. The Prophet took an arrow out of his arrow-case and ordered them to put the arrow in that pit. By Allah, the water started and continued sprouting out till all the people quenched their thirst and returned with satisfaction. While they were still in that state, Budail bin Warqa-al- Khuza`i came with some persons from his tribe Khuza`a and they were the advisers of Allah's Apostle who would keep no secret from him and were from the people of Tihama. Budail said, ""I left Ka`b bin Luai and 'Amir bin Luai residing at the profuse water of Al-Hudaibiya and they had milch camels (or their women and children) with them, and will wage war against you, and will prevent you from visiting the Ka`ba."" Allah's Apostle said, ""We have not come to fight anyone, but to perform the `Umra. No doubt, the war has weakened Quraish and they have suffered great losses, so if they wish, I will conclude a truce with them, during which they should refrain from interfering between me and the people (i.e. the 'Arab infidels other than Quraish), and if I have victory over those infidels, Quraish will have the option to embrace Islam as the other people do, if they wish; they will at least get strong enough to fight. But if they do not accept the truce, by Allah in Whose Hands my life is, I will fight with them defending my Cause till I get killed, but (I am sure) Allah will definitely make His Cause victorious."" Budail said, ""I will inform them of what you have said."" So, he set off till he reached Quraish and said, ""We have come from that man (i.e. Muhammad) whom we heard saying something which we will disclose to you if you should like."" Some of the fools among Quraish shouted that they were not in need of this information, but the wiser among them said, ""Relate what you heard him saying."" Budail said, ""I heard him saying so-and-so,"" relating what the Prophet had told him. `Urwa bin Mas`ud got up and said, ""O people! Aren't you the sons? They said, ""Yes."" He added, ""Am I not the father?"" They said, ""Yes."" He said, ""Do you mistrust me?"" They said, ""No."" He said, ""Don't you know that I invited the people of `Ukaz for your help, and when they refused I brought my relatives and children and those who obeyed me (to help you)?"" They said, ""Yes."" He said, ""Well, this man (i.e. the Prophet) has offered you a reasonable proposal, you'd better accept it and allow me to meet him."" They said, ""You may meet him."" So, he went to the Prophet and started talking to him. The Prophet told him almost the same as he had told Budail. Then `Urwa said, ""O Muhammad! Won't you feel any scruple in extirpating your relations? Have you ever heard of anyone amongst the Arabs extirpating his relatives before you? On the other hand, if the reverse should happen, (nobody will aid you, for) by Allah, I do not see (with you) dignified people, but people from various tribes who would run away leaving you alone."" Hearing that, Abu Bakr abused him and said, ""Do you say we would run and leave the Prophet alone?"" `Urwa said, ""Who is that man?"" They said, ""He is Abu Bakr."" `Urwa said to Abu Bakr, ""By Him in Whose Hands my life is, were it not for the favor which you did to me and which I did not compensate, I would retort on you."" `Urwa kept on talking to the Prophet and seizing the Prophet's beard as he was talking while Al-Mughira bin Shu`ba was standing near the head of the Prophet, holding a sword and wearing a helmet. Whenever `Urwa stretched his hand towards the beard of the Prophet, Al-Mughira would hit his hand with the handle of the sword and say (to `Urwa), ""Remove your hand from the beard of Allah's Apostle."" `Urwa raised his head and asked, ""Who is that?"" The people said, ""He is Al-Mughira bin Shu`ba."" `Urwa said, ""O treacherous! Am I not doing my best to prevent evil consequences of your treachery?"" Before embracing Islam Al-Mughira was in the company of some people. He killed them and took their property and came (to Medina) to embrace Islam. The Prophet said (to him, ""As regards your Islam, I accept it, but as for the property I do not take anything of it. (As it was taken through treason). `Urwa then started looking at the Companions of the Prophet. By Allah, whenever Allah's Apostle spat, the spittle would fall in the hand of one of them (i.e. the Prophet's companions) who would rub it on his face and skin; if he ordered them they would carry his orders immediately; if he performed ablution, they would struggle to take the remaining water; and when they spoke to him, they would lower their voices and would not look at his face constantly out of respect. `Urwa returned to his people and said, ""O people! By Allah, I have been to the kings and to Caesar, Khosrau and An- Najashi, yet I have never seen any of them respected by his courtiers as much as Muhammad is respected by his companions. By Allah, if he spat, the spittle would fall in the hand of one of them (i.e. the Prophet's companions) who would rub it on his face and skin; if he ordered them, they would carry out his order immediately; if he performed ablution, they would struggle to take the remaining water; and when they spoke, they would lower their voices and would not look at his face constantly out of respect."" `Urwa added, ""No doubt, he has presented to you a good reasonable offer, so please accept it."" A man from the tribe of Bani Kinana said, ""Allow me to go to him,"" and they allowed him, and when he approached the Prophet and his companions, Allah's Apostle said, ""He is so-and-so who belongs to the tribe that respects the Budn (i.e. camels of the sacrifice). So, bring the Budn in front of him."" So, the Budn were brought before him and the people received him while they were reciting Talbiya. When he saw that scene, he said, ""Glorified be Allah! It is not fair to prevent these people from visiting the Ka`ba."" When he returned to his people, he said, 'I saw the Budn garlanded (with colored knotted ropes) and marked (with stabs on their backs). I do not think it is advisable to prevent them from visiting the Ka`ba."" Another person called Mikraz bin Hafs got up and sought their permission to go to Muhammad, and they allowed him, too. When he approached the Muslims, the Prophet said, ""Here is Mikraz and he is a vicious man."" Mikraz started talking to the Prophet and as he was talking, Suhail bin `Amr came. When Suhail bin `Amr came, the Prophet said, ""Now the matter has become easy."" Suhail said to the Prophet ""Please conclude a peace treaty with us."" So, the Prophet called the clerk and said to him, ""Write: By the Name of Allah, the most Beneficent, the most Merciful."" Suhail said, ""As for 'Beneficent,' by Allah, I do not know what it means. So write: By Your Name O Allah, as you used to write previously."" The Muslims said, ""By Allah, we will not write except: By the Name of Allah, the most Beneficent, the most Merciful."" The Prophet said, ""Write: By Your Name O Allah."" Then he dictated, ""This is the peace treaty which Muhammad, Allah's Apostle has concluded."" Suhail said, ""By Allah, if we knew that you are Allah's Apostle we would not prevent you from visiting the Ka`ba, and would not fight with you. So, write: ""Muhammad bin `Abdullah."" The Prophet said, ""By Allah! I am Apostle of Allah even if you people do not believe me. Write: Muhammad bin `Abdullah."" (Az-Zuhri said, ""The Prophet accepted all those things, as he had already said that he would accept everything they would demand if it respects the ordinance of Allah, (i.e. by letting him and his companions perform `Umra.)"" The Prophet said to Suhail, ""On the condition that you allow us to visit the House (i.e. Ka`ba) so that we may perform Tawaf around it."" Suhail said, ""By Allah, we will not (allow you this year) so as not to give chance to the 'Arabs to say that we have yielded to you, but we will allow you next year."" So, the Prophet got that written. Then Suhail said, ""We also stipulate that you should return to us whoever comes to you from us, even if he embraced your religion."" The Muslims said, ""Glorified be Allah! How will such a person be returned to the pagans after he has become a Muslim? While they were in this state Abu- Jandal bin Suhail bin `Amr came from the valley of Mecca staggering with his fetters and fell down amongst the Muslims. Suhail said, ""O Muhammad! This is the very first term with which we make peace with you, i.e. you shall return Abu Jandal to me."" The Prophet said, ""The peace treaty has not been written yet."" Suhail said, ""I will never allow you to keep him."" The Prophet said, ""Yes, do."" He said, ""I won't do.: Mikraz said, ""We allow you (to keep him)."" Abu Jandal said, ""O Muslims! Will I be returned to the pagans though I have come as a Muslim? Don't you see how much I have suffered?"" (continued...) (continuing... 1): -3.891:... ... Abu Jandal had been tortured severely for the Cause of Allah. `Umar bin Al-Khattab said, ""I went to the Prophet and said, 'Aren't you truly the Apostle of Allah?' The Prophet said, 'Yes, indeed.' I said, 'Isn't our Cause just and the cause of the enemy unjust?' He said, 'Yes.' I said, 'Then why should we be humble in our religion?' He said, 'I am Allah's Apostle and I do not disobey Him, and He will make me victorious.' I said, 'Didn't you tell us that we would go to the Ka`ba and perform Tawaf around it?' He said, 'Yes, but did I tell you that we would visit the Ka`ba this year?' I said, 'No.' He said, 'So you will visit it and perform Tawaf around it?' "" `Umar further said, ""I went to Abu Bakr and said, 'O Abu Bakr! Isn't he truly Allah's Prophet?' He replied, 'Yes.' I said, 'Then why should we be humble in our religion?' He said, 'Indeed, he is Allah's Apostle and he does not disobey his Lord, and He will make him victorious. Adhere to him as, by Allah, he is on the right.' I said, 'Was he not telling us that we would go to the Ka`ba and perform Tawaf around it?' He said, 'Yes, but did he tell you that you would go to the Ka`ba this year?' I said, 'No.' He said, ""You will go to Ka`ba and perform Tawaf around it."" (Az-Zuhri said, "" `Umar said, 'I performed many good deeds as expiation for the improper questions I asked them.' "") When the writing of the peace treaty was concluded, Allah's Apostle said to his companions, ""Get up and' slaughter your sacrifices and get your head shaved."" By Allah none of them got up, and the Prophet repeated his order thrice. When none of them got up, he left them and went to Um Salama and told her of the people's attitudes towards him. Um Salama said, ""O the Prophet of Allah! Do you want your order to be carried out? Go out and don't say a word to anybody till you have slaughtered your sacrifice and call your barber to shave your head."" So, the Prophet went out and did not talk to anyone of them till he did that, i.e. slaughtered the sacrifice and called his barber who shaved his head. Seeing that, the companions of the Prophet got up, slaughtered their sacrifices, and started shaving the heads of one another, and there was so much rush that there was a danger of killing each other. Then some believing women came (to the Prophet ); and Allah revealed the following Divine Verses:-- ""O you who believe, when the believing women come to you as emigrants examine them . . ."" (60.10) `Umar then divorced two wives of his who were infidels. Later on Muawiya bin Abu Sufyan married one of them, and Safwan bin Umaiya married the other. When the Prophet returned to Medina, Abu Basir, a new Muslim convert from Quraish came to him. The Infidels sent in his pursuit two men who said (to the Prophet ), ""Abide by the promise you gave us."" So, the Prophet handed him over to them. They took him out (of the City) till they reached Dhul-Hulaifa where they dismounted to eat some dates they had with them. Abu Basir said to one of them, ""By Allah, O so-and-so, I see you have a fine sword."" The other drew it out (of the scabbard) and said, ""By Allah, it is very fine and I have tried it many times."" Abu Basir said, ""Let me have a look at it."" When the other gave it to him, he hit him with it till he died, and his companion ran away till he came to Medina and entered the Mosque running. When Allah's Apostle saw him he said, ""This man appears to have been frightened."" When he reached the Prophet he said, ""My companion has been murdered and I would have been murdered too."" Abu Basir came and said, ""O Allah's Apostle, by Allah, Allah has made you fulfill your obligations by your returning me to them (i.e. the Infidels), but Allah has saved me from them."" The Prophet said, ""Woe to his mother! what excellent war kindler he would be, should he only have supporters."" When Abu Basir heard that he understood that the Prophet would return him to them again, so he set off till he reached the seashore. Abu Jandal bin Suhail got himself released from them (i.e. infidels) and joined Abu Basir. So, whenever a man from Quraish embraced Islam he would follow Abu Basir till they formed a strong group. By Allah, whenever they heard about a caravan of Quraish heading towards Sham, they stopped it and attacked and killed them (i.e. infidels) and took their properties. The people of Quraish sent a message to the Prophet requesting him for the Sake of Allah and Kith and kin to send for (i.e. Abu Basir and his companions) promising that whoever (amongst them) came to the Prophet would be secure. So the Prophet sent for them (i.e. Abu Basir's companions) and Allah I revealed the following Divine Verses: ""And it is He Who Has withheld their hands from you and your hands From them in the midst of Mecca, After He made you the victorious over them. ... the unbelievers had pride and haughtiness, in their hearts ... the pride and haughtiness of the time of ignorance."" (48.24-26) And their pride and haughtiness was that they did not confess (write in the treaty) that he (i.e. Muhammad) was the Prophet of Allah and refused to write: ""In the Name of Allah, the most Beneficent, the Most Merciful,"" and they (the mushriks) prevented them (the Muslims) from visiting the House (the Ka`bah)."
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو معمر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے زہری نے خبر دی ‘ کہا مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان نے ‘ دونوں کے بیان سے ایک دوسرے کی حدیث کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر ( مکہ ) جا رہے تھے ‘ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے ہی میں تھے ‘ فرمایا خالد بن ولید قریش کے ( دو سو ) سواروں کے ساتھ ہماری نقل و حرکت کا اندازہ لگانے کے لیے مقام غمیم میں مقیم ہے ( یہ قریش کا مقدمۃ الجیش ہے ) اس لیے تم لوگ داہنی طرف سے جاؤ ‘ پس اللہ کی قسم خالد کو ان کے متعلق کچھ بھی علم نہ ہو سکا اور جب انہوں نے اس لشکر کا غبار اٹھتا ہوا دیکھا تو قریش کو جلدی جلدی خبر دینے گئے۔ ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی پر پہنچے جس سے مکہ میں اترتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری بیٹھ گئی۔ صحابہ اونٹنی کو اٹھانے کیلئے حل حل کہنے لگے لیکن وہ اپنی جگہ سے نہ اٹھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ قصواء اڑ گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قصواء اڑی نہیں اور نہ یہ اس کی عادت ہے ‘ اسے تو اس ذات نے روک لیا جس نے ہاتھیوں ( کے لشکر ) کو ( مکہ ) میں داخل ہونے سے روک لیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریش جو بھی ایسا مطالبہ رکھیں گے جس میں اللہ کی محرمات کی بڑائی ہو تو میں اس کا مطالبہ منظور کر لوں گا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو ڈانٹا تو وہ اٹھ گئی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے آگے نکل گئے اور حدیبیہ کے آخری کنارے ثمد ( ایک چشمہ یا گڑھا ) پر جہاں پانی کم تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا۔ لوگ تھوڑا تھوڑا پانی استعمال کرنے لگے، انہوں نے پانی کو ٹھہرنے ہی نہیں دیا، سب کھینچ ڈالا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیاس کی شکایت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر دیا کہ اس گڑھے میں ڈال دیں بخدا تیر گاڑتے ہی پانی انہیں سیراب کرنے کے لیے ابلنے لگا اور وہ لوگ پوری طرح سیراب ہو گئے۔ لوگ اسی حال میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی رضی اللہ عنہ اپنی قوم خزاعہ کے کئی آدمیوں کو لے کر حاضر ہوا۔ یہ لوگ تہامہ کے رہنے والے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محرم راز بڑے خیرخواہ تھے۔ انہوں نے خبر دی کہ میں کعب بن لوئی اور عامر بن لوئی کو پیچھے چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ جنہوں نے حدیبیہ کے پانی کے ذخیروں پر اپنا پڑاؤ ڈال دیا ہے ‘ ان کے ساتھ بکثرت دودھ دینے والی اونٹنیاں اپنے نئے نئے بچوں کے ساتھ ہیں۔ وہ آپ سے لڑیں گے اور آپ کے بیت اللہ پہنچنے میں رکاوٹ بنیں گے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں صرف عمرہ کے ارادے سے آئے ہیں اور واقعہ تو یہ ہے ( مسلسل لڑائیوں ) نے قریش کو بھی کمزور کر دیا ہے اور انہیں بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے ‘ اب اگر وہ چاہیں تو میں ایک مدت ان سے صلح کا معاہدہ کر لوں گا ‘ اس عرصہ میں وہ میرے اور عوام ( کفار مشرکین عرب ) کے درمیان نہ پڑیں پھر اگر میں کامیاب ہو جاؤں اور ( اس کے بعد ) وہ چاہیں تو اس دین ( اسلام ) میں وہ بھی داخل ہو سکتے ہیں ( جس میں اور تمام لوگ داخل ہو چکے ہوں گے ) لیکن اگر مجھے کامیابی نہیں ہوئی تو انہیں بھی آرام مل جائے گا اور اگر انہیں میری پیش کش سے انکار ہے تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب تک میرا سر تن سے جدا نہیں ہو جاتا، میں اس دین کے لیے برابر لڑتا رہوں گا یا پھر اللہ تعالیٰ اسے نافذ ہی فرما دے گا۔ بدیل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قریش تک آپ کی گفتگو میں پہچاؤں گا چنانچہ وہ واپس ہوئے اور قریش کے یہاں پہنچے اور کہا کہ ہم تمہارے پاس اس شخص ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے یہاں سے آ رہے ہیں اور ہم نے اسے ایک بات کہتے سنا ہے ‘ اگر تم چاہو تو تمہارے سامنے اسے بیان کر سکتے ہیں۔ قریش کے بے وقوفوں نے کہا کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں کہ تم اس شخص کی کوئی بات ہمیں سناؤ۔ جو لوگ صائب الرائے تھے ‘ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے جو کچھ تم نے سنا ہے ہم سے بیان کر دو۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اسے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو یہ کہتے سنا ہے اور پھر جو کچھ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ‘ سب بیان کر دیا۔ اس پر عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ( جو اس وقت تک کفار کے ساتھ تھے ) کھڑے ہوئے اور کہا اے قوم کے لوگو! کیا تم مجھ پر باپ کی طرح شفقت نہیں رکھتے۔ سب نے کہا کیوں نہیں ‘ ضرور رکھتے ہیں۔ عروہ نے پھر کہا کیا میں بیٹے کی طرح تمہارا خیرخواہ نہیں ہوں ‘ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ عروہ نے پھر کہا تم لوگ مجھ پر کسی قسم کی تہمت لگا سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے پوچھا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ میں نے عکاظ والوں کو تمہاری مدد کے لیے کہا تھا اور جب انہوں نے انکار کیا تو میں نے اپنے گھرانے ‘ اولاد اور ان تمام لوگوں کو تمہارے پاس لا کر کھڑا کر دیا تھا جنہوں نے میرا کہنا مانا تھا؟ قریش نے کہا کیوں نہیں ( آپ کی باتیں درست ہیں ) اس کے بعد انہوں نے کہا دیکھو اب اس شخص ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تمہارے سامنے ایک اچھی تجویز رکھی ہے ‘ اسے تم قبول کر لو اور مجھے اس کے پاس ( گفتگو ) کے لیے جانے دو ‘ سب نے کہا آپ ضرور جایئے۔ چنانچہ عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو شروع کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی وہی باتیں کہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدیل سے کہہ چکے تھے ‘ عروہ رضی اللہ عنہ نے اس وقت کہا۔ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! بتائیے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو تباہ کر دیا تو کیا اپنے سے پہلے کسی بھی عرب کے متعلق سنا ہے کہ اس نے اپنے خاندان کا نام و نشان مٹا دیا ہو لیکن اگر دوسری بات واقع ہوئی ( یعنی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غالب ہوئے ) تو میں اللہ کی قسم تمہارے ساتھیوں کا منہ دیکھتا ہوں یہ مختلف جنسوں لوگ یہی کریں گے۔ اس وقت یہ سب لوگ بھاگ جائیں گے اور آپ کو تنہا چھوڑ دیں گے۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے «امصص بظر اللات» ۔ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بھاگ جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ دیں گے۔ عروہ نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ عروہ نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تمہارا مجھ پر ایک احسان نہ ہوتا جس کا اب تک میں بدلہ نہیں دے سکا ہوں تو تمہیں ضرور جواب دیتا۔ بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر گفتگو کرنے لگے اور گفتگو کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک پکڑ لیا کرتے تھے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے ‘ تلوار لٹکائے ہوئے اور سر پر خود پہنے۔ عروہ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کی طرف اپنا ہاتھ لے جاتے تو مغیرہ رضی اللہ عنہ تلوار کی نیام کو اس کے ہاتھ پر مارتے اور ان سے کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے اپنا ہاتھ الگ رکھ۔ عروہ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا یہ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ مغیرہ بن شعبہ۔ عروہ نے انہیں مخاطب کر کے کہا اے دغا باز! کیا میں نے تیری دغا بازی کی سزا سے تجھ کو نہیں بچایا؟ اصل میں مغیرہ رضی اللہ عنہ ( اسلام لانے سے پہلے ) جاہلیت میں ایک قوم کے ساتھ رہے تھے پھر ان سب کو قتل کر کے ان کا مال لے لیا تھا۔ اس کے بعد ( مدینہ ) آئے اور اسلام کے حلقہ بگوش ہو گئے ( تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ان کا مال بھی رکھ دیا کہ جو چاہیں اس کے متعلق حکم فرمائیں ) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تیرا اسلام تو میں قبول کرتا ہوں، رہا یہ مال تو میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ کیونکہ وہ دغا بازی سے ہاتھ آیا ہے جسے میں لے نہیں سکتا ‘ پھر عروہ رضی اللہ عنہ گھور گھور کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی نقل و حرکت دیکھتے رہے۔ پھر راوی نے بیان کیا کہ قسم اللہ کی اگر کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلغم بھی تھوکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اپنے ہاتھوں پر اسے لے لیا اور اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا۔ کسی کام کا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کی بجا آوری میں ایک دوسرے پر لوگ سبقت لے جانے کی کوشش کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے لگے تو ایسا معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی پر لڑائی ہو جائے گی ( یعنی ہر شخص اس پانی کو لینے کی کوشش کرتا تھا ) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو کرنے لگے تو سب پر خاموشی چھا جاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا یہ حال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی نظر بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ بھی نہیں سکتے تھے۔ خیر عروہ جب اپنے ساتھیوں سے جا کر ملے تو ان سے کہا اے لوگو! قسم اللہ کی میں بادشاہوں کے دربار میں بھی وفد لے کر گیا ہوں ‘ قیصر و کسریٰ اور نجاشی سب کے دربار میں لیکن اللہ کی قسم میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کے ساتھی اس کی اس درجہ تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے ہیں۔ قسم اللہ کی اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بلغم بھی تھوک دیا تو ان کے اصحاب نے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اگر کوئی حکم دیا تو ہر شخص نے اسے بجا لانے میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر وضو کیا تو ایسا معلوم ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو پر لڑائی ہو جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب گفتگو شروع کی تو ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ ان کے دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر بھر کر بھی نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے تمہارے سامنے ایک بھلی صورت رکھی ہے ‘ تمہیں چاہئے کہ اسے قبول کر لو۔ اس پر بنو کنانہ کا ایک شخص بولا کہ اچھا مجھے بھی ان کے یہاں جانے دو ‘ لوگوں نے کہا تم بھی جا سکتے ہو۔ جب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قریب پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ فلاں شخص ہے ‘ ایک ایسی قوم کا فرد جو بیت اللہ کی قربانی کے جانوروں کی تعظیم کرتے ہیں۔ اس لیے قربانی کے جانور اس کے سامنے کر دو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے قربانی کے جانور اس کے سامنے کر دیئے اور لبیک کہتے ہوئے اس کا استقبال کیا جب اس نے یہ منظر دیکھا تو کہنے لگا کہ سبحان اللہ قطعاً مناسب نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کو کعبہ سے روکا جائے۔ اس کے بعد قریش میں سے ایک دوسرا شخص مکرز بن حفص نامی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے بھی ان کے یہاں جانے دو۔ سب نے کہا کہ تم بھی جا سکتے ہو جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مکرز ہے ایک بدترین شخص ہے۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا۔ ابھی وہ گفتگو کر ہی رہا تھا کہ سہیل بن عمرو آ گیا۔ معمر نے ( سابقہ سند کے ساتھ ) بیان کیا کہ مجھے ایوب نے خبر دی اور انہیں عکرمہ نے کہ جب سہیل بن عمرو آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نیک فالی کے طور پر ) فرمایا تمہارا معاملہ آسان ( سہل ) ہو گیا۔ معمر نے بیان کیا کہ زہری نے اپنی حدیث میں اس طرح بیان کیا تھا کہ جب سہیل بن عمرو آیا تو کہنے لگا کہ ہمارے اور اپنے درمیان ( صلح ) کی ایک تحریر لکھ لو۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب کو بلوایا اور فرمایا کہ لکھو «بسم الله الرحمن الرحيم» سہیل کہنے لگا رحمن کو اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ وہ کیا چیز ہے۔ البتہ تم یوں لکھ سکتے ہو «باسمك اللهم‏.‏» جیسے پہلے لکھا کرتے تھے مسلمانوں نے کہا کہ قسم اللہ کی ہمیں «بسم الله الرحمن الرحيم» کے سوا اور کوئی دوسرا جملہ نہ لکھنا چاہئے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «باسمك اللهم‏.‏» ہی لکھنے دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا یہ محمد رسول اللہ کی طرف سے صلح نامہ کی دستاویز ہے۔ سہیل نے کہا اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ آپ رسول اللہ ہیں تو نہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ سے روکتے اور نہ آپ سے جنگ کرتے۔ آپ تو صرف اتنا لکھئے کہ ”محمد بن عبداللہ“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ گواہ ہے کہ میں اس کا سچا رسول ہوں خواہ تم میری تکذیب ہی کرتے رہو ‘ لکھو جی ”محمد بن عبداللہ“ زہری نے بیان کیا کہ یہ سب کچھ ( نرمی اور رعایت ) صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا نتیجہ تھا ( جو پہلے بدیل رضی اللہ عنہ سے کہہ چکے تھے ) کہ قریش مجھ سے جو بھی ایسا مطالبہ کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی تعظیم مقصود ہو گی تو میں ان کے مطالبے کو ضرور مان لوں گا ‘ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل سے فرمایا لیکن صلح کے لیے پہلی شرط یہ ہو گی کہ تم لوگ ہمیں بیت اللہ کے طواف کرنے کے لیے جانے دو گے۔ سہیل نے کہا قسم اللہ کی ہم ( اس سال ) ایسا نہیں ہونے دیں گے ورنہ عرب کہیں گے ہم مغلوب ہو گئے تھے ( اس لیے ہم نے اجازت دے دی ) آئندہ سال کے لیے اجازت ہے۔ چنانچہ یہ بھی لکھ لیا۔ پھر سہیل نے لکھا کہ یہ شرط بھی ( لکھ لیجئے ) کہ ہماری طرف کا جو شخص بھی آپ کے یہاں جائے گا خواہ وہ آپ کے دین ہی پر کیوں نہ ہو آپ اسے ہمیں واپس کر دیں گے۔ مسلمانوں نے ( یہ شرط سن کر کہا ) سبحان اللہ! ( ایک شخص کو ) مشرکوں کے حوالے کس طرح کیا جا سکتا ہے جو مسلمان ہو کر آیا ہو۔ ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ابوجندل بن سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنی بیڑیوں کو گھسیٹتے ہوئے آ پہنچے ‘ وہ مکہ کے نشیبی علاقے کی طرف سے بھاگے تھے اور اب خود کو مسلمانوں کے سامنے ڈال دیا تھا۔ سہیل نے کہا اے محمد! یہ پہلا شخص ہے جس کے لیے ( صلح نامہ کے مطابق ) میں مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اسے واپس کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی تو ہم نے ( صلح نامہ کی اس دفعہ کو ) صلح نامہ میں لکھا بھی نہیں ہے ( اس لیے جب صلح نامہ طے پا جائے گا اس کے بعد اس کا نفاذ ہونا چاہئے ) سہیل کہنے لگا کہ اللہ کی قسم پھر میں کسی بنیاد پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح نہیں کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا مجھ پر اس ایک کو دے کر احسان کر دو۔ اس نے کہا کہ میں اس سلسلے میں احسان بھی نہیں کر سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ہمیں احسان کر دینا چاہئے لیکن اس نے یہی جواب دیا کہ میں ایسا کبھی نہیں کر سکتا۔ البتہ مکرز نے کہا کہ چلئے ہم اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان کرتے ہیں مگر ( اس کی بات نہیں چلی ) ابوجندل رضی اللہ عنہ نے کہا مسلمانوں! میں مسلمان ہو کر آیا ہوں۔ کیا مجھے مشرکوں کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا؟ کیا میرے ساتھ جو اذیتیں پہنچائی گئیں تھیں۔ راوی نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، کیا یہ واقعہ اور حقیقت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں! میں نے عرض کیا، کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور کیا ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں! میں نے کہا پھر اپنے دین کے معاملے میں کیوں دبیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اس کی حکم عدولی نہیں کر سکتا اور وہی میرا مددگار ہے۔ میں نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ نہیں فرماتے تھے کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے لیکن کیا میں نے تم سے یہ کہا تھا کہ اسی سال ہم بیت اللہ پہنچ جائیں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا نہیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قید کے ساتھ نہیں فرمایا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تم بیت اللہ تک ضرور پہنچو گے اور ایک دن اس کا طواف کرو گے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا اور ان سے بھی یہی پوچھا کہ ابوبکر! کیا یہ حقیقت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں؟ انہوں نے بھی کہا کہ کیوں نہیں۔ میں نے پوچھا کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ اور کیا ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں! میں نے کہا کہ پھر اپنے دین کو کیوں ذلیل کریں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا جناب! بلا شک و شبہ وہ اللہ کے رسول ہیں ‘ اور اپنے رب کی حکم عدولی نہیں کر سکتے اور رب ہی ان کا مددگار ہے پس ان کی رسی مضبوطی سے پکڑ لو ‘ اللہ گواہ ہے کہ وہ حق پر ہیں۔ میں نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ نہیں کہتے تھے کہ عنقریب ہم بیت اللہ پہونچیں گے اور اس کا طواف کریں گے انہوں نے فرمایا کہ یہ بھی صحیح ہے لیکن کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے یہ فرمایا تھا کہ اسی سال آپ بیت اللہ پہنچ جائیں گے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا پھر اس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ آپ ایک نہ ایک دن بیت اللہ پہنچیں گے اور اس کا طواف کریں گے۔ زہری نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بعد میں میں نے اپنی عجلت پسندی کی مکافات کے لیے نیک اعمال کئے۔ پھر جب صلح نامہ سے آپ فارغ ہو چکے تو صحابہ رضوان اللہ علیہم سے فرمایا کہ اب اٹھو اور ( جن جانوروں کو ساتھ لائے ہو ان کی ) قربانی کر لو اور سر بھی منڈوا لو۔ انہوں نے بیان کیا کہ اللہ گواہ ہے صحابہ میں سے ایک شخص بھی نہ اٹھا اور تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔ جب کوئی نہ اٹھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلمہ کے خیمہ میں گئے اور ان سے لوگوں کے طرز عمل کا ذکر کیا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا اے اللہ کے نبی! کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ باہر تشریف لے جائیں اور کسی سے کچھ نہ کہیں بلکہ اپنا قربانی کا جانور ذبح کر لیں اور اپنے حجام کو بلا لیں جو آپ کے بال مونڈ دے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ کسی سے کچھ نہیں کہا اور سب کچھ کیا ‘ اپنے جانور کی قربانی کر لی اور اپنے حجام کو بلوایا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مونڈے۔ جب صحابہ نے دیکھا تو وہ بھی ایک دوسرے کے بال مونڈنے لگے ‘ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ رنج و غم میں ایک دوسرے سے لڑ پڑیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( مکہ سے ) چند مومن عورتیں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا «يا أيها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن‏» اے لوگو! جو ایمان لا چکے ہو جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان لے «بعصم الكوافر‏» تک۔ اس دن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو بیویوں کو طلاق دی جو اب تک مسلمان نہ ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک نے تو معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے نکاح کر لیا تھا اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لائے تو قریش کے ایک فرد ابوبصیر رضی اللہ عنہ ( مکہ سے فرار ہو کر ) حاضر ہوئے۔ وہ مسلمان ہو چکے تھے۔ قریش نے انہیں واپس لینے کے لیے دو آدمیوں کو بھیجا اور انہوں نے آ کر کہا کہ ہمارے ساتھ آپ کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا۔ قریش کے دونوں افراد جب انہیں واپس لے کر لوٹے اور ذوالحلیفہ پہنچے تو کھجور کھانے کے لیے اترے جو ان کے ساتھ تھی۔ ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک سے فرمایا قسم اللہ کی تمہاری تلوار بہت اچھی معلوم ہوتی ہے۔ دوسرے ساتھی نے تلوار نیام سے نکال دی۔ اس شخص نے کہا ہاں اللہ کی قسم نہایت عمدہ تلوار ہے ‘ میں اس کا بارہا تجربہ کر چکا ہوں۔ ابوبصیر رضی اللہ عنہ اس پر بولے کہ ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ اور اس طرح اپنے قبضہ میں کر لیا پھر اس شخص نے تلوار کے مالک کو ایسی ضرب لگائی کہ وہ وہیں ٹھنڈا ہو گیا۔ اس کا دوسرا ساتھی بھاگ کر مدینہ آیا اور مسجد میں دوڑتا ہوا۔ داخل ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے دیکھا تو فرمایا یہ شخص کچھ خوف زدہ معلوم ہوتا ہے۔ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچا تو کہنے لگا اللہ کی قسم میرا ساتھی تو مارا گیا اور میں بھی مارا جاؤں گا ( اگر آپ لوگوں نے ابوبصیر کو نہ روکا ) اتنے میں ابوبصیر بھی آ گئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی! اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذمہ داری پوری کر دی ‘ آپ مجھے ان کے حوالے کر چکے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے نجات دلائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تیری ماں کی خرابی ) اگر اس کا کوئی ایک بھی مددگار ہوتا تو پھر لڑائی کے شعلے بھڑک اٹھتے۔ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ سنے تو سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر کفار کے حوالے کر دیں گے اس لیے وہاں سے نکل گئے اور سمندر کے کنارے پر آ گئے۔ راوی نے بیان کیا کہ اپنے گھر والوں ( مکہ سے ) چھوٹ کر ابوجندل بن سہیل رضی اللہ عنہ بھی ابوبصیر رضی اللہ عنہ سے جا ملے اور اب یہ حال تھا کہ قریش کا جو شخص بھی اسلام لاتا ( بجائے مدینہ آنے کے ) ابوبصیر رضی اللہ عنہ کے یہاں ( ساحل سمندر پر ) چلا جاتا۔ اس طرح سے ایک جماعت بن گئی اور اللہ گواہ ہے یہ لوگ قریش کے جس قافلے کے متعلق بھی سن لیتے کہ وہ شام جا رہا ہے تو اسے راستے ہی میں روک کر لوٹ لیتے اور قافلہ والوں کو قتل کر دیتے۔ اب قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اللہ اور رحم کا واسطہ دے کر درخواست بھیجی کہ آپ کسی کو بھیجیں ( ابوبصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے دوسرے ساتھیوں کے یہاں کہ وہ قریش کی ایذا سے رک جائیں ) اور اس کے بعد جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں جائے گا ( مکہ سے ) اسے امن ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں اپنا آدمی بھیجا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم ببطن مكة من بعد أن أظفركم عليهم‏» ”اور وہ ذات پروردگار جس نے روک دیا تھا تمہارے ہاتھوں کو ان سے اور ان کے ہاتھوں کو تم سے ( یعنی جنگ نہیں ہو سکی تھی ) وادی مکہ میں ( حدیبیہ میں ) بعد میں اس کے کہ تم کو غالب کر دیا تھا ان پر یہاں تک کہ بات جاہلیت کے دور کی بے جا حمایت تک پہنچ گئی تھی ) ۔“ ان کی حمیت ( جاہلیت ) یہ تھی کہ انہوں نے ( معاہدے میں بھی ) آپ کے لیے اللہ کے نبی ہونے کا اقرار نہیں کیا اسی طرح انہوں نے «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں لکھنے دیا اور آپ بیت اللہ جانے سے مانع بنے۔
Sahih Bukhari
2732
حدثني عبد الله بن محمد، ‏‏‏‏‏‏حدثنا عبد الرزاق، ‏‏‏‏‏‏اخبرنا معمر، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اخبرني الزهري، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اخبرني عروة بن الزبير، ‏‏‏‏‏‏عن المسور بن مخرمة، ‏‏‏‏‏‏ومروان يصدق كل واحد منهما حديث صاحبه، ‏‏‏‏‏‏قالا:‏‏‏‏ خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم زمن الحديبية حتى إذا كانوا ببعض الطريق، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ إن خالد بن الوليد بالغميم في خيل لقريش طليعة، ‏‏‏‏‏‏فخذوا ذات اليمين، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما شعر بهم خالد حتى إذا هم بقترة الجيش، ‏‏‏‏‏‏فانطلق يركض نذيرا لقريش، ‏‏‏‏‏‏وسار النبي صلى الله عليه وسلم حتى إذا كان بالثنية التي يهبط عليهم منها بركت به راحلته، ‏‏‏‏‏‏فقال الناس:‏‏‏‏ حل، ‏‏‏‏‏‏حل، ‏‏‏‏‏‏فالحت، ‏‏‏‏‏‏فقالوا:‏‏‏‏ خلات القصواء، ‏‏‏‏‏‏خلات القصواء، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ما خلات القصواء وما ذاك لها بخلق، ‏‏‏‏‏‏ولكن حبسها حابس الفيل، ‏‏‏‏‏‏ثم قال:‏‏‏‏ والذي نفسي بيده لا يسالوني خطة يعظمون فيها حرمات الله إلا اعطيتهم إياها، ‏‏‏‏‏‏ثم زجرها فوثبت، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فعدل عنهم حتى نزل باقصى الحديبية على ثمد قليل الماء يتبرضه الناس تبرضا فلم يلبثه الناس حتى نزحوه، ‏‏‏‏‏‏وشكي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم العطش، ‏‏‏‏‏‏فانتزع سهما من كنانته، ‏‏‏‏‏‏ثم امرهم ان يجعلوه فيه، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما زال يجيش لهم بالري حتى صدروا عنه، ‏‏‏‏‏‏فبينما هم كذلك إذ جاء بديل بن ورقاء الخزاعي في نفر من قومه من خزاعة، ‏‏‏‏‏‏وكانوا عيبة نصح رسول الله صلى الله عليه وسلم من اهل تهامة، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ إني تركت كعب بن لؤي، ‏‏‏‏‏‏وعامر بن لؤي نزلوا اعداد مياه الحديبية ومعهم العوذ المطافيل وهم مقاتلوك وصادوك عن البيت، ‏‏‏‏‏‏فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ إنا لم نجئ لقتال احد ولكنا جئنا معتمرين، ‏‏‏‏‏‏وإن قريشا قد نهكتهم الحرب واضرت بهم، ‏‏‏‏‏‏فإن شاءوا ماددتهم مدة، ‏‏‏‏‏‏ويخلوا بيني وبين الناس فإن اظهر، ‏‏‏‏‏‏فإن شاءوا ان يدخلوا فيما دخل فيه الناس فعلوا وإلا فقد جموا، ‏‏‏‏‏‏وإن هم ابوا، ‏‏‏‏‏‏فوالذي نفسي بيده لاقاتلنهم على امري هذا حتى تنفرد سالفتي ولينفذن الله امره، ‏‏‏‏‏‏فقال بديل:‏‏‏‏ سابلغهم ما تقول، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فانطلق حتى اتى قريشا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ إنا قد جئناكم من هذا الرجل، ‏‏‏‏‏‏وسمعناه يقول قولا، ‏‏‏‏‏‏فإن شئتم ان نعرضه عليكم فعلنا، ‏‏‏‏‏‏فقال سفهاؤهم:‏‏‏‏ لا حاجة لنا ان تخبرنا عنه بشيء، ‏‏‏‏‏‏وقال ذوو الراي منهم:‏‏‏‏ هات ما سمعته يقول، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سمعته يقول كذا وكذا، ‏‏‏‏‏‏فحدثهم بما قال النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فقام عروة بن مسعود، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اي قوم، ‏‏‏‏‏‏الستم بالوالد؟ قالوا:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اولست بالولد؟ قالوا:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فهل تتهموني؟ قالوا:‏‏‏‏ لا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ الستم تعلمون اني استنفرت اهل عكاظ، ‏‏‏‏‏‏فلما بلحوا علي جئتكم باهلي وولدي، ‏‏‏‏‏‏ومن اطاعني؟ قالوا:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فإن هذا قد عرض لكم خطة رشد، ‏‏‏‏‏‏اقبلوها ودعوني آتيه، ‏‏‏‏‏‏قالوا:‏‏‏‏ ائته، ‏‏‏‏‏‏فاتاه، ‏‏‏‏‏‏فجعل يكلم النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ نحوا من قوله لبديل، ‏‏‏‏‏‏فقال عروة:‏‏‏‏ عند ذلك اي محمد، ‏‏‏‏‏‏ارايت إن استاصلت امر قومك، ‏‏‏‏‏‏هل سمعت باحد من العرب اجتاح اهله قبلك وإن تكن الاخرى، ‏‏‏‏‏‏فإني والله لارى وجوها وإني لارى اوشابا من الناس خليقا ان يفروا ويدعوك، ‏‏‏‏‏‏فقال له ابو بكر الصديق:‏‏‏‏ امصص بظر اللات، ‏‏‏‏‏‏انحن نفر عنه وندعه، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ من ذا؟ قالوا:‏‏‏‏ ابو بكر، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اما والذي نفسي بيده لولا يد كانت لك عندي لم اجزك بها لاجبتك، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ وجعل يكلم النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فكلما تكلم اخذ بلحيته والمغيرة بن شعبة قائم على راس النبي صلى الله عليه وسلم ومعه السيف وعليه المغفر، ‏‏‏‏‏‏فكلما اهوى عروة بيده إلى لحية النبي صلى الله عليه وسلم ضرب يده بنعل السيف، ‏‏‏‏‏‏وقال له:‏‏‏‏ اخر يدك عن لحية رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فرفع عروة راسه، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ من هذا؟ قالوا:‏‏‏‏ المغيرة بن شعبة، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اي غدر، ‏‏‏‏‏‏الست اسعى في غدرتك، ‏‏‏‏‏‏وكان المغيرة صحب قوما في الجاهلية، ‏‏‏‏‏‏فقتلهم واخذ اموالهم، ‏‏‏‏‏‏ثم جاء فاسلم، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ اما الإسلام فاقبل، ‏‏‏‏‏‏واما المال فلست منه في شيء، ‏‏‏‏‏‏ثم إن عروة جعل يرمق اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم بعينيه، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فوالله ما تنخم رسول الله صلى الله عليه وسلم نخامة إلا وقعت في كف رجل منهم فدلك بها وجهه وجلده، ‏‏‏‏‏‏وإذا امرهم ابتدروا امره، ‏‏‏‏‏‏وإذا توضا كادوا يقتتلون على وضوئه، ‏‏‏‏‏‏وإذا تكلم خفضوا اصواتهم عنده، ‏‏‏‏‏‏وما يحدون إليه النظر تعظيما له، ‏‏‏‏‏‏فرجع عروة إلى اصحابه، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اي قوم، ‏‏‏‏‏‏والله لقد وفدت على الملوك ووفدت على قيصر، ‏‏‏‏‏‏وكسرى، ‏‏‏‏‏‏والنجاشي، ‏‏‏‏‏‏والله إن رايت ملكا قط يعظمه اصحابه ما يعظم اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم محمدا، ‏‏‏‏‏‏والله إن تنخم نخامة إلا وقعت في كف رجل منهم فدلك بها وجهه وجلده، ‏‏‏‏‏‏وإذا امرهم ابتدروا امره، ‏‏‏‏‏‏وإذا توضا كادوا يقتتلون على وضوئه، ‏‏‏‏‏‏وإذا تكلم خفضوا اصواتهم عنده، ‏‏‏‏‏‏وما يحدون إليه النظر تعظيما له، ‏‏‏‏‏‏وإنه قد عرض عليكم خطة رشد فاقبلوها، ‏‏‏‏‏‏فقال رجل من بني كنانة:‏‏‏‏ دعوني آتيه، ‏‏‏‏‏‏فقالوا:‏‏‏‏ ائته، ‏‏‏‏‏‏فلما اشرف على النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه، ‏‏‏‏‏‏قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ هذا فلان، ‏‏‏‏‏‏وهو من قوم يعظمون البدن، ‏‏‏‏‏‏فابعثوها له، ‏‏‏‏‏‏فبعثت له واستقبله الناس يلبون، ‏‏‏‏‏‏فلما راى ذلك، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سبحان الله، ‏‏‏‏‏‏ما ينبغي لهؤلاء ان يصدوا عن البيت، ‏‏‏‏‏‏فلما رجع إلى اصحابه، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ رايت البدن قد قلدت واشعرت، ‏‏‏‏‏‏فما ارى ان يصدوا عن البيت فقام رجل منهم يقال له مكرز بن حفص، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ دعوني آتيه، ‏‏‏‏‏‏فقالوا:‏‏‏‏ ائته، ‏‏‏‏‏‏فلما اشرف عليهم، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ هذا مكرز، ‏‏‏‏‏‏وهو رجل فاجر، ‏‏‏‏‏‏فجعل يكلم النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فبينما هو يكلمه إذ جاء سهيل بن عمرو . قال معمر:‏‏‏‏ فاخبرني ايوب، ‏‏‏‏‏‏عن عكرمة، ‏‏‏‏‏‏انه لما جاء سهيل بن عمرو، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ لقد سهل لكم من امركم. قال معمر:‏‏‏‏ قال الزهري في حديثه:‏‏‏‏ فجاء سهيل بن عمرو، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ هات اكتب بيننا وبينكم كتابا، ‏‏‏‏‏‏فدعا النبي صلى الله عليه وسلم الكاتب، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏قال سهيل:‏‏‏‏ اما الرحمن، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما ادري ما هو، ‏‏‏‏‏‏ولكن اكتب باسمك اللهم كما كنت تكتب، ‏‏‏‏‏‏فقال المسلمون:‏‏‏‏ والله لا نكتبها إلا بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ اكتب باسمك اللهم، ‏‏‏‏‏‏ثم قال:‏‏‏‏ هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله، ‏‏‏‏‏‏فقال سهيل:‏‏‏‏ والله لو كنا نعلم انك رسول الله ما صددناك عن البيت ولا قاتلناك، ‏‏‏‏‏‏ولكن اكتب محمد بن عبد الله، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ والله إني لرسول الله، ‏‏‏‏‏‏وإن كذبتموني اكتب محمد بن عبد الله، ‏‏‏‏‏‏قال الزهري:‏‏‏‏ وذلك لقوله:‏‏‏‏ لا يسالوني خطة يعظمون فيها حرمات الله إلا اعطيتهم إياها، ‏‏‏‏‏‏فقال له النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ على ان تخلوا بيننا وبين البيت فنطوف به، ‏‏‏‏‏‏فقال سهيل:‏‏‏‏ والله لا تتحدث العرب، ‏‏‏‏‏‏انا اخذنا ضغطة، ‏‏‏‏‏‏ولكن ذلك من العام المقبل، ‏‏‏‏‏‏فكتب، ‏‏‏‏‏‏فقال سهيل، ‏‏‏‏‏‏وعلى:‏‏‏‏ انه لا ياتيك منا رجل، ‏‏‏‏‏‏وإن كان على دينك إلا رددته إلينا، ‏‏‏‏‏‏قال المسلمون:‏‏‏‏ سبحان الله، ‏‏‏‏‏‏كيف يرد إلى المشركين وقد جاء مسلما؟ فبينما هم كذلك إذ دخل ابو جندل بن سهيل بن عمرو يرسف في قيوده، ‏‏‏‏‏‏وقد خرج من اسفل مكة حتى رمى بنفسه بين اظهر المسلمين، ‏‏‏‏‏‏فقال سهيل:‏‏‏‏ هذا يا محمد، ‏‏‏‏‏‏اول ما اقاضيك عليه ان ترده إلي، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ إنا لم نقض الكتاب بعد، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فوالله إذا لم اصالحك على شيء ابدا، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ فاجزه لي، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ ما انا بمجيزه لك، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏فافعل، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ ما انا بفاعل، ‏‏‏‏‏‏قال مكرز:‏‏‏‏ بل قد اجزناه لك، ‏‏‏‏‏‏قال ابو جندل:‏‏‏‏ اي معشر المسلمين ارد إلى المشركين، ‏‏‏‏‏‏وقد جئت مسلما، ‏‏‏‏‏‏الا ترون ما قد لقيت وكان قد عذب عذابا شديدا في الله، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فقال عمر بن الخطاب:‏‏‏‏ فاتيت نبي الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فقلت:‏‏‏‏ الست نبي الله حقا؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ السنا على الحق وعدونا على الباطل؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ فلم نعطي الدنية في ديننا إذا قال:‏‏‏‏ إني رسول الله، ‏‏‏‏‏‏ولست اعصيه وهو ناصري، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ اوليس كنت تحدثنا انا سناتي البيت فنطوف به؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏فاخبرتك انا ناتيه العام؟ قال:‏‏‏‏ قلت لا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فإنك آتيه ومطوف به، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فاتيت ابا بكر، ‏‏‏‏‏‏فقلت:‏‏‏‏ يا ابا بكر، ‏‏‏‏‏‏اليس هذا نبي الله حقا؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ السنا على الحق وعدونا على الباطل؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ فلم نعطي الدنية في ديننا، ‏‏‏‏‏‏إذا قال:‏‏‏‏ ايها الرجل إنه لرسول الله صلى الله عليه وسلم وليس يعصي ربه وهو ناصره فاستمسك بغرزه، ‏‏‏‏‏‏فوالله إنه على الحق، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ اليس كان يحدثنا انا سناتي البيت ونطوف به؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏افاخبرك انك تاتيه العام؟ قلت:‏‏‏‏ لا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فإنك آتيه ومطوف به. قال الزهري:‏‏‏‏ قال عمر:‏‏‏‏ فعملت لذلك اعمالا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فلما فرغ من قضية الكتاب، ‏‏‏‏‏‏قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاصحابه:‏‏‏‏ قوموا فانحروا، ‏‏‏‏‏‏ثم احلقوا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فوالله ما قام منهم رجل حتى قال ذلك ثلاث مرات، ‏‏‏‏‏‏فلما لم يقم منهم احد دخل على ام سلمة فذكر لها ما لقي من الناس، ‏‏‏‏‏‏فقالت ام سلمة:‏‏‏‏ يا نبي الله، ‏‏‏‏‏‏اتحب ذلك اخرج، ‏‏‏‏‏‏ثم لا تكلم احدا منهم كلمة حتى تنحر بدنك، ‏‏‏‏‏‏وتدعو حالقك فيحلقك، ‏‏‏‏‏‏فخرج فلم يكلم احدا منهم حتى فعل ذلك نحر بدنه ودعا حالقه فحلقه، ‏‏‏‏‏‏فلما راوا ذلك قاموا فنحروا وجعل بعضهم يحلق بعضا حتى كاد بعضهم يقتل بعضا غما، ‏‏‏‏‏‏ثم جاءه نسوة مؤمنات، ‏‏‏‏‏‏فانزل الله تعالى يايها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن حتى بلغ بعصم الكوافر سورة الممتحنة آية 10، ‏‏‏‏‏‏فطلق عمر يومئذ امراتين كانتا له في الشرك، ‏‏‏‏‏‏فتزوج إحداهما معاوية بن ابي سفيان، ‏‏‏‏‏‏والاخرى صفوان بن امية، ‏‏‏‏‏‏ثم رجع النبي صلى الله عليه وسلم إلى المدينة فجاءه ابو بصير رجل من قريش وهو مسلم، ‏‏‏‏‏‏فارسلوا في طلبه رجلين، ‏‏‏‏‏‏فقالوا:‏‏‏‏ العهد الذي جعلت لنا فدفعه إلى الرجلين، ‏‏‏‏‏‏فخرجا به حتى بلغا ذا الحليفة، ‏‏‏‏‏‏فنزلوا ياكلون من تمر لهم، ‏‏‏‏‏‏فقال ابو بصير لاحد الرجلين:‏‏‏‏ والله إني لارى سيفك هذا يا فلان جيدا فاستله الآخر، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اجل والله إنه لجيد، ‏‏‏‏‏‏لقد جربت به ثم جربت، ‏‏‏‏‏‏فقال ابو بصير:‏‏‏‏ ارني انظر إليه فامكنه منه، ‏‏‏‏‏‏فضربه حتى برد وفر الآخر حتى اتى المدينة فدخل المسجد يعدو، ‏‏‏‏‏‏فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين رآه:‏‏‏‏ لقد راى هذا ذعرا، ‏‏‏‏‏‏فلما انتهى إلى النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قتل والله صاحبي وإني لمقتول، ‏‏‏‏‏‏فجاء ابو بصير، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ يا نبي الله، ‏‏‏‏‏‏قد والله اوفى الله ذمتك، ‏‏‏‏‏‏قد رددتني إليهم، ‏‏‏‏‏‏ثم انجاني الله منهم، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ويل امه مسعر حرب لو كان له احد، ‏‏‏‏‏‏فلما سمع ذلك عرف انه سيرده إليهم، ‏‏‏‏‏‏فخرج حتى اتى سيف البحر، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ وينفلت منهم ابو جندل بن سهيل فلحق بابي بصير، ‏‏‏‏‏‏فجعل لا يخرج من قريش رجل قد اسلم إلا لحق بابي بصير حتى اجتمعت منهم عصابة، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما يسمعون بعير خرجت لقريش إلى الشام إلا اعترضوا لها، ‏‏‏‏‏‏فقتلوهم واخذوا اموالهم، ‏‏‏‏‏‏فارسلت قريش إلى النبي صلى الله عليه وسلم تناشده بالله والرحم لما ارسل، ‏‏‏‏‏‏فمن اتاه فهو آمن فارسل النبي صلى الله عليه وسلم إليهم، ‏‏‏‏‏‏فانزل الله تعالى وهو الذي كف ايديهم عنكم وايديكم عنهم ببطن مكة من بعد ان اظفركم عليهم حتى بلغ الحمية حمية الجاهلية سورة الفتح آية 24 - 26، ‏‏‏‏‏‏وكانت حميتهم انهم لم يقروا انه نبي الله، ‏‏‏‏‏‏ولم يقروا ب بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏وحالوا بينهم وبين البيت. وقال ابو عبد الله:‏‏‏‏ معرة العر الجرب تزيلوا تميزوا، ‏‏‏‏‏‏وحميت القوم منعتهم حماية، ‏‏‏‏‏‏واحميت الحمى جعلته حمى لا يدخل، ‏‏‏‏‏‏واحميت الحديد، ‏‏‏‏‏‏واحميت الرجل إذا اغضبته إحماء.
"Narrated Al-Miswar bin Makhrama and Marwan: (whose narrations attest each other) Allah's Apostle set out at the time of Al-Hudaibiya (treaty), and when they proceeded for a distance, he said, ""Khalid bin Al-Walid leading the cavalry of Quraish constituting the front of the army, is at a place called Al-Ghamim, so take the way on the right."" By Allah, Khalid did not perceive the arrival of the Muslims till the dust arising from the march of the Muslim army reached him, and then he turned back hurriedly to inform Quraish. The Prophet went on advancing till he reached the Thaniya (i.e. a mountainous way) through which one would go to them (i.e. people of Quraish). The she-camel of the Prophet sat down. The people tried their best to cause the she-camel to get up but in vain, so they said, ""Al-Qaswa' (i.e. the she-camel's name) has become stubborn! Al-Qaswa' has become stubborn!"" The Prophet said, ""Al-Qaswa' has not become stubborn, for stubbornness is not her habit, but she was stopped by Him Who stopped the elephant."" Then he said, ""By the Name of Him in Whose Hands my soul is, if they (i.e. the Quraish infidels) ask me anything which will respect the ordinances of Allah, I will grant it to them."" The Prophet then rebuked the she-camel and she got up. The Prophet changed his way till he dismounted at the farthest end of Al-Hudaibiya at a pit (i.e. well) containing a little water which the people used in small amounts, and in a short while the people used up all its water and complained to Allah's Apostle; of thirst. The Prophet took an arrow out of his arrow-case and ordered them to put the arrow in that pit. By Allah, the water started and continued sprouting out till all the people quenched their thirst and returned with satisfaction. While they were still in that state, Budail bin Warqa-al- Khuza`i came with some persons from his tribe Khuza`a and they were the advisers of Allah's Apostle who would keep no secret from him and were from the people of Tihama. Budail said, ""I left Ka`b bin Luai and 'Amir bin Luai residing at the profuse water of Al-Hudaibiya and they had milch camels (or their women and children) with them, and will wage war against you, and will prevent you from visiting the Ka`ba."" Allah's Apostle said, ""We have not come to fight anyone, but to perform the `Umra. No doubt, the war has weakened Quraish and they have suffered great losses, so if they wish, I will conclude a truce with them, during which they should refrain from interfering between me and the people (i.e. the 'Arab infidels other than Quraish), and if I have victory over those infidels, Quraish will have the option to embrace Islam as the other people do, if they wish; they will at least get strong enough to fight. But if they do not accept the truce, by Allah in Whose Hands my life is, I will fight with them defending my Cause till I get killed, but (I am sure) Allah will definitely make His Cause victorious."" Budail said, ""I will inform them of what you have said."" So, he set off till he reached Quraish and said, ""We have come from that man (i.e. Muhammad) whom we heard saying something which we will disclose to you if you should like."" Some of the fools among Quraish shouted that they were not in need of this information, but the wiser among them said, ""Relate what you heard him saying."" Budail said, ""I heard him saying so-and-so,"" relating what the Prophet had told him. `Urwa bin Mas`ud got up and said, ""O people! Aren't you the sons? They said, ""Yes."" He added, ""Am I not the father?"" They said, ""Yes."" He said, ""Do you mistrust me?"" They said, ""No."" He said, ""Don't you know that I invited the people of `Ukaz for your help, and when they refused I brought my relatives and children and those who obeyed me (to help you)?"" They said, ""Yes."" He said, ""Well, this man (i.e. the Prophet) has offered you a reasonable proposal, you'd better accept it and allow me to meet him."" They said, ""You may meet him."" So, he went to the Prophet and started talking to him. The Prophet told him almost the same as he had told Budail. Then `Urwa said, ""O Muhammad! Won't you feel any scruple in extirpating your relations? Have you ever heard of anyone amongst the Arabs extirpating his relatives before you? On the other hand, if the reverse should happen, (nobody will aid you, for) by Allah, I do not see (with you) dignified people, but people from various tribes who would run away leaving you alone."" Hearing that, Abu Bakr abused him and said, ""Do you say we would run and leave the Prophet alone?"" `Urwa said, ""Who is that man?"" They said, ""He is Abu Bakr."" `Urwa said to Abu Bakr, ""By Him in Whose Hands my life is, were it not for the favor which you did to me and which I did not compensate, I would retort on you."" `Urwa kept on talking to the Prophet and seizing the Prophet's beard as he was talking while Al-Mughira bin Shu`ba was standing near the head of the Prophet, holding a sword and wearing a helmet. Whenever `Urwa stretched his hand towards the beard of the Prophet, Al-Mughira would hit his hand with the handle of the sword and say (to `Urwa), ""Remove your hand from the beard of Allah's Apostle."" `Urwa raised his head and asked, ""Who is that?"" The people said, ""He is Al-Mughira bin Shu`ba."" `Urwa said, ""O treacherous! Am I not doing my best to prevent evil consequences of your treachery?"" Before embracing Islam Al-Mughira was in the company of some people. He killed them and took their property and came (to Medina) to embrace Islam. The Prophet said (to him, ""As regards your Islam, I accept it, but as for the property I do not take anything of it. (As it was taken through treason). `Urwa then started looking at the Companions of the Prophet. By Allah, whenever Allah's Apostle spat, the spittle would fall in the hand of one of them (i.e. the Prophet's companions) who would rub it on his face and skin; if he ordered them they would carry his orders immediately; if he performed ablution, they would struggle to take the remaining water; and when they spoke to him, they would lower their voices and would not look at his face constantly out of respect. `Urwa returned to his people and said, ""O people! By Allah, I have been to the kings and to Caesar, Khosrau and An- Najashi, yet I have never seen any of them respected by his courtiers as much as Muhammad is respected by his companions. By Allah, if he spat, the spittle would fall in the hand of one of them (i.e. the Prophet's companions) who would rub it on his face and skin; if he ordered them, they would carry out his order immediately; if he performed ablution, they would struggle to take the remaining water; and when they spoke, they would lower their voices and would not look at his face constantly out of respect."" `Urwa added, ""No doubt, he has presented to you a good reasonable offer, so please accept it."" A man from the tribe of Bani Kinana said, ""Allow me to go to him,"" and they allowed him, and when he approached the Prophet and his companions, Allah's Apostle said, ""He is so-and-so who belongs to the tribe that respects the Budn (i.e. camels of the sacrifice). So, bring the Budn in front of him."" So, the Budn were brought before him and the people received him while they were reciting Talbiya. When he saw that scene, he said, ""Glorified be Allah! It is not fair to prevent these people from visiting the Ka`ba."" When he returned to his people, he said, 'I saw the Budn garlanded (with colored knotted ropes) and marked (with stabs on their backs). I do not think it is advisable to prevent them from visiting the Ka`ba."" Another person called Mikraz bin Hafs got up and sought their permission to go to Muhammad, and they allowed him, too. When he approached the Muslims, the Prophet said, ""Here is Mikraz and he is a vicious man."" Mikraz started talking to the Prophet and as he was talking, Suhail bin `Amr came. When Suhail bin `Amr came, the Prophet said, ""Now the matter has become easy."" Suhail said to the Prophet ""Please conclude a peace treaty with us."" So, the Prophet called the clerk and said to him, ""Write: By the Name of Allah, the most Beneficent, the most Merciful."" Suhail said, ""As for 'Beneficent,' by Allah, I do not know what it means. So write: By Your Name O Allah, as you used to write previously."" The Muslims said, ""By Allah, we will not write except: By the Name of Allah, the most Beneficent, the most Merciful."" The Prophet said, ""Write: By Your Name O Allah."" Then he dictated, ""This is the peace treaty which Muhammad, Allah's Apostle has concluded."" Suhail said, ""By Allah, if we knew that you are Allah's Apostle we would not prevent you from visiting the Ka`ba, and would not fight with you. So, write: ""Muhammad bin `Abdullah."" The Prophet said, ""By Allah! I am Apostle of Allah even if you people do not believe me. Write: Muhammad bin `Abdullah."" (Az-Zuhri said, ""The Prophet accepted all those things, as he had already said that he would accept everything they would demand if it respects the ordinance of Allah, (i.e. by letting him and his companions perform `Umra.)"" The Prophet said to Suhail, ""On the condition that you allow us to visit the House (i.e. Ka`ba) so that we may perform Tawaf around it."" Suhail said, ""By Allah, we will not (allow you this year) so as not to give chance to the 'Arabs to say that we have yielded to you, but we will allow you next year."" So, the Prophet got that written. Then Suhail said, ""We also stipulate that you should return to us whoever comes to you from us, even if he embraced your religion."" The Muslims said, ""Glorified be Allah! How will such a person be returned to the pagans after he has become a Muslim? While they were in this state Abu- Jandal bin Suhail bin `Amr came from the valley of Mecca staggering with his fetters and fell down amongst the Muslims. Suhail said, ""O Muhammad! This is the very first term with which we make peace with you, i.e. you shall return Abu Jandal to me."" The Prophet said, ""The peace treaty has not been written yet."" Suhail said, ""I will never allow you to keep him."" The Prophet said, ""Yes, do."" He said, ""I won't do.: Mikraz said, ""We allow you (to keep him)."" Abu Jandal said, ""O Muslims! Will I be returned to the pagans though I have come as a Muslim? Don't you see how much I have suffered?"" (continued...) (continuing... 1): -3.891:... ... Abu Jandal had been tortured severely for the Cause of Allah. `Umar bin Al-Khattab said, ""I went to the Prophet and said, 'Aren't you truly the Apostle of Allah?' The Prophet said, 'Yes, indeed.' I said, 'Isn't our Cause just and the cause of the enemy unjust?' He said, 'Yes.' I said, 'Then why should we be humble in our religion?' He said, 'I am Allah's Apostle and I do not disobey Him, and He will make me victorious.' I said, 'Didn't you tell us that we would go to the Ka`ba and perform Tawaf around it?' He said, 'Yes, but did I tell you that we would visit the Ka`ba this year?' I said, 'No.' He said, 'So you will visit it and perform Tawaf around it?' "" `Umar further said, ""I went to Abu Bakr and said, 'O Abu Bakr! Isn't he truly Allah's Prophet?' He replied, 'Yes.' I said, 'Then why should we be humble in our religion?' He said, 'Indeed, he is Allah's Apostle and he does not disobey his Lord, and He will make him victorious. Adhere to him as, by Allah, he is on the right.' I said, 'Was he not telling us that we would go to the Ka`ba and perform Tawaf around it?' He said, 'Yes, but did he tell you that you would go to the Ka`ba this year?' I said, 'No.' He said, ""You will go to Ka`ba and perform Tawaf around it."" (Az-Zuhri said, "" `Umar said, 'I performed many good deeds as expiation for the improper questions I asked them.' "") When the writing of the peace treaty was concluded, Allah's Apostle said to his companions, ""Get up and' slaughter your sacrifices and get your head shaved."" By Allah none of them got up, and the Prophet repeated his order thrice. When none of them got up, he left them and went to Um Salama and told her of the people's attitudes towards him. Um Salama said, ""O the Prophet of Allah! Do you want your order to be carried out? Go out and don't say a word to anybody till you have slaughtered your sacrifice and call your barber to shave your head."" So, the Prophet went out and did not talk to anyone of them till he did that, i.e. slaughtered the sacrifice and called his barber who shaved his head. Seeing that, the companions of the Prophet got up, slaughtered their sacrifices, and started shaving the heads of one another, and there was so much rush that there was a danger of killing each other. Then some believing women came (to the Prophet ); and Allah revealed the following Divine Verses:-- ""O you who believe, when the believing women come to you as emigrants examine them . . ."" (60.10) `Umar then divorced two wives of his who were infidels. Later on Muawiya bin Abu Sufyan married one of them, and Safwan bin Umaiya married the other. When the Prophet returned to Medina, Abu Basir, a new Muslim convert from Quraish came to him. The Infidels sent in his pursuit two men who said (to the Prophet ), ""Abide by the promise you gave us."" So, the Prophet handed him over to them. They took him out (of the City) till they reached Dhul-Hulaifa where they dismounted to eat some dates they had with them. Abu Basir said to one of them, ""By Allah, O so-and-so, I see you have a fine sword."" The other drew it out (of the scabbard) and said, ""By Allah, it is very fine and I have tried it many times."" Abu Basir said, ""Let me have a look at it."" When the other gave it to him, he hit him with it till he died, and his companion ran away till he came to Medina and entered the Mosque running. When Allah's Apostle saw him he said, ""This man appears to have been frightened."" When he reached the Prophet he said, ""My companion has been murdered and I would have been murdered too."" Abu Basir came and said, ""O Allah's Apostle, by Allah, Allah has made you fulfill your obligations by your returning me to them (i.e. the Infidels), but Allah has saved me from them."" The Prophet said, ""Woe to his mother! what excellent war kindler he would be, should he only have supporters."" When Abu Basir heard that he understood that the Prophet would return him to them again, so he set off till he reached the seashore. Abu Jandal bin Suhail got himself released from them (i.e. infidels) and joined Abu Basir. So, whenever a man from Quraish embraced Islam he would follow Abu Basir till they formed a strong group. By Allah, whenever they heard about a caravan of Quraish heading towards Sham, they stopped it and attacked and killed them (i.e. infidels) and took their properties. The people of Quraish sent a message to the Prophet requesting him for the Sake of Allah and Kith and kin to send for (i.e. Abu Basir and his companions) promising that whoever (amongst them) came to the Prophet would be secure. So the Prophet sent for them (i.e. Abu Basir's companions) and Allah I revealed the following Divine Verses: ""And it is He Who Has withheld their hands from you and your hands From them in the midst of Mecca, After He made you the victorious over them. ... the unbelievers had pride and haughtiness, in their hearts ... the pride and haughtiness of the time of ignorance."" (48.24-26) And their pride and haughtiness was that they did not confess (write in the treaty) that he (i.e. Muhammad) was the Prophet of Allah and refused to write: ""In the Name of Allah, the most Beneficent, the Most Merciful,"" and they (the mushriks) prevented them (the Muslims) from visiting the House (the Ka`bah)."
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو معمر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے زہری نے خبر دی ‘ کہا مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان نے ‘ دونوں کے بیان سے ایک دوسرے کی حدیث کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر ( مکہ ) جا رہے تھے ‘ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے ہی میں تھے ‘ فرمایا خالد بن ولید قریش کے ( دو سو ) سواروں کے ساتھ ہماری نقل و حرکت کا اندازہ لگانے کے لیے مقام غمیم میں مقیم ہے ( یہ قریش کا مقدمۃ الجیش ہے ) اس لیے تم لوگ داہنی طرف سے جاؤ ‘ پس اللہ کی قسم خالد کو ان کے متعلق کچھ بھی علم نہ ہو سکا اور جب انہوں نے اس لشکر کا غبار اٹھتا ہوا دیکھا تو قریش کو جلدی جلدی خبر دینے گئے۔ ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی پر پہنچے جس سے مکہ میں اترتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری بیٹھ گئی۔ صحابہ اونٹنی کو اٹھانے کیلئے حل حل کہنے لگے لیکن وہ اپنی جگہ سے نہ اٹھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ قصواء اڑ گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قصواء اڑی نہیں اور نہ یہ اس کی عادت ہے ‘ اسے تو اس ذات نے روک لیا جس نے ہاتھیوں ( کے لشکر ) کو ( مکہ ) میں داخل ہونے سے روک لیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریش جو بھی ایسا مطالبہ رکھیں گے جس میں اللہ کی محرمات کی بڑائی ہو تو میں اس کا مطالبہ منظور کر لوں گا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو ڈانٹا تو وہ اٹھ گئی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے آگے نکل گئے اور حدیبیہ کے آخری کنارے ثمد ( ایک چشمہ یا گڑھا ) پر جہاں پانی کم تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا۔ لوگ تھوڑا تھوڑا پانی استعمال کرنے لگے، انہوں نے پانی کو ٹھہرنے ہی نہیں دیا، سب کھینچ ڈالا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیاس کی شکایت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر دیا کہ اس گڑھے میں ڈال دیں بخدا تیر گاڑتے ہی پانی انہیں سیراب کرنے کے لیے ابلنے لگا اور وہ لوگ پوری طرح سیراب ہو گئے۔ لوگ اسی حال میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی رضی اللہ عنہ اپنی قوم خزاعہ کے کئی آدمیوں کو لے کر حاضر ہوا۔ یہ لوگ تہامہ کے رہنے والے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محرم راز بڑے خیرخواہ تھے۔ انہوں نے خبر دی کہ میں کعب بن لوئی اور عامر بن لوئی کو پیچھے چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ جنہوں نے حدیبیہ کے پانی کے ذخیروں پر اپنا پڑاؤ ڈال دیا ہے ‘ ان کے ساتھ بکثرت دودھ دینے والی اونٹنیاں اپنے نئے نئے بچوں کے ساتھ ہیں۔ وہ آپ سے لڑیں گے اور آپ کے بیت اللہ پہنچنے میں رکاوٹ بنیں گے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں صرف عمرہ کے ارادے سے آئے ہیں اور واقعہ تو یہ ہے ( مسلسل لڑائیوں ) نے قریش کو بھی کمزور کر دیا ہے اور انہیں بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے ‘ اب اگر وہ چاہیں تو میں ایک مدت ان سے صلح کا معاہدہ کر لوں گا ‘ اس عرصہ میں وہ میرے اور عوام ( کفار مشرکین عرب ) کے درمیان نہ پڑیں پھر اگر میں کامیاب ہو جاؤں اور ( اس کے بعد ) وہ چاہیں تو اس دین ( اسلام ) میں وہ بھی داخل ہو سکتے ہیں ( جس میں اور تمام لوگ داخل ہو چکے ہوں گے ) لیکن اگر مجھے کامیابی نہیں ہوئی تو انہیں بھی آرام مل جائے گا اور اگر انہیں میری پیش کش سے انکار ہے تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب تک میرا سر تن سے جدا نہیں ہو جاتا، میں اس دین کے لیے برابر لڑتا رہوں گا یا پھر اللہ تعالیٰ اسے نافذ ہی فرما دے گا۔ بدیل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قریش تک آپ کی گفتگو میں پہچاؤں گا چنانچہ وہ واپس ہوئے اور قریش کے یہاں پہنچے اور کہا کہ ہم تمہارے پاس اس شخص ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے یہاں سے آ رہے ہیں اور ہم نے اسے ایک بات کہتے سنا ہے ‘ اگر تم چاہو تو تمہارے سامنے اسے بیان کر سکتے ہیں۔ قریش کے بے وقوفوں نے کہا کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں کہ تم اس شخص کی کوئی بات ہمیں سناؤ۔ جو لوگ صائب الرائے تھے ‘ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے جو کچھ تم نے سنا ہے ہم سے بیان کر دو۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اسے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو یہ کہتے سنا ہے اور پھر جو کچھ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ‘ سب بیان کر دیا۔ اس پر عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ( جو اس وقت تک کفار کے ساتھ تھے ) کھڑے ہوئے اور کہا اے قوم کے لوگو! کیا تم مجھ پر باپ کی طرح شفقت نہیں رکھتے۔ سب نے کہا کیوں نہیں ‘ ضرور رکھتے ہیں۔ عروہ نے پھر کہا کیا میں بیٹے کی طرح تمہارا خیرخواہ نہیں ہوں ‘ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ عروہ نے پھر کہا تم لوگ مجھ پر کسی قسم کی تہمت لگا سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے پوچھا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ میں نے عکاظ والوں کو تمہاری مدد کے لیے کہا تھا اور جب انہوں نے انکار کیا تو میں نے اپنے گھرانے ‘ اولاد اور ان تمام لوگوں کو تمہارے پاس لا کر کھڑا کر دیا تھا جنہوں نے میرا کہنا مانا تھا؟ قریش نے کہا کیوں نہیں ( آپ کی باتیں درست ہیں ) اس کے بعد انہوں نے کہا دیکھو اب اس شخص ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تمہارے سامنے ایک اچھی تجویز رکھی ہے ‘ اسے تم قبول کر لو اور مجھے اس کے پاس ( گفتگو ) کے لیے جانے دو ‘ سب نے کہا آپ ضرور جایئے۔ چنانچہ عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو شروع کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی وہی باتیں کہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدیل سے کہہ چکے تھے ‘ عروہ رضی اللہ عنہ نے اس وقت کہا۔ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! بتائیے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو تباہ کر دیا تو کیا اپنے سے پہلے کسی بھی عرب کے متعلق سنا ہے کہ اس نے اپنے خاندان کا نام و نشان مٹا دیا ہو لیکن اگر دوسری بات واقع ہوئی ( یعنی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غالب ہوئے ) تو میں اللہ کی قسم تمہارے ساتھیوں کا منہ دیکھتا ہوں یہ مختلف جنسوں لوگ یہی کریں گے۔ اس وقت یہ سب لوگ بھاگ جائیں گے اور آپ کو تنہا چھوڑ دیں گے۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے «امصص بظر اللات» ۔ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بھاگ جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ دیں گے۔ عروہ نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ عروہ نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تمہارا مجھ پر ایک احسان نہ ہوتا جس کا اب تک میں بدلہ نہیں دے سکا ہوں تو تمہیں ضرور جواب دیتا۔ بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر گفتگو کرنے لگے اور گفتگو کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک پکڑ لیا کرتے تھے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے ‘ تلوار لٹکائے ہوئے اور سر پر خود پہنے۔ عروہ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کی طرف اپنا ہاتھ لے جاتے تو مغیرہ رضی اللہ عنہ تلوار کی نیام کو اس کے ہاتھ پر مارتے اور ان سے کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے اپنا ہاتھ الگ رکھ۔ عروہ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا یہ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ مغیرہ بن شعبہ۔ عروہ نے انہیں مخاطب کر کے کہا اے دغا باز! کیا میں نے تیری دغا بازی کی سزا سے تجھ کو نہیں بچایا؟ اصل میں مغیرہ رضی اللہ عنہ ( اسلام لانے سے پہلے ) جاہلیت میں ایک قوم کے ساتھ رہے تھے پھر ان سب کو قتل کر کے ان کا مال لے لیا تھا۔ اس کے بعد ( مدینہ ) آئے اور اسلام کے حلقہ بگوش ہو گئے ( تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ان کا مال بھی رکھ دیا کہ جو چاہیں اس کے متعلق حکم فرمائیں ) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تیرا اسلام تو میں قبول کرتا ہوں، رہا یہ مال تو میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ کیونکہ وہ دغا بازی سے ہاتھ آیا ہے جسے میں لے نہیں سکتا ‘ پھر عروہ رضی اللہ عنہ گھور گھور کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی نقل و حرکت دیکھتے رہے۔ پھر راوی نے بیان کیا کہ قسم اللہ کی اگر کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلغم بھی تھوکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اپنے ہاتھوں پر اسے لے لیا اور اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا۔ کسی کام کا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کی بجا آوری میں ایک دوسرے پر لوگ سبقت لے جانے کی کوشش کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے لگے تو ایسا معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی پر لڑائی ہو جائے گی ( یعنی ہر شخص اس پانی کو لینے کی کوشش کرتا تھا ) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو کرنے لگے تو سب پر خاموشی چھا جاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا یہ حال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی نظر بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ بھی نہیں سکتے تھے۔ خیر عروہ جب اپنے ساتھیوں سے جا کر ملے تو ان سے کہا اے لوگو! قسم اللہ کی میں بادشاہوں کے دربار میں بھی وفد لے کر گیا ہوں ‘ قیصر و کسریٰ اور نجاشی سب کے دربار میں لیکن اللہ کی قسم میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کے ساتھی اس کی اس درجہ تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے ہیں۔ قسم اللہ کی اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بلغم بھی تھوک دیا تو ان کے اصحاب نے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اگر کوئی حکم دیا تو ہر شخص نے اسے بجا لانے میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر وضو کیا تو ایسا معلوم ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو پر لڑائی ہو جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب گفتگو شروع کی تو ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ ان کے دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر بھر کر بھی نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے تمہارے سامنے ایک بھلی صورت رکھی ہے ‘ تمہیں چاہئے کہ اسے قبول کر لو۔ اس پر بنو کنانہ کا ایک شخص بولا کہ اچھا مجھے بھی ان کے یہاں جانے دو ‘ لوگوں نے کہا تم بھی جا سکتے ہو۔ جب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قریب پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ فلاں شخص ہے ‘ ایک ایسی قوم کا فرد جو بیت اللہ کی قربانی کے جانوروں کی تعظیم کرتے ہیں۔ اس لیے قربانی کے جانور اس کے سامنے کر دو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے قربانی کے جانور اس کے سامنے کر دیئے اور لبیک کہتے ہوئے اس کا استقبال کیا جب اس نے یہ منظر دیکھا تو کہنے لگا کہ سبحان اللہ قطعاً مناسب نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کو کعبہ سے روکا جائے۔ اس کے بعد قریش میں سے ایک دوسرا شخص مکرز بن حفص نامی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے بھی ان کے یہاں جانے دو۔ سب نے کہا کہ تم بھی جا سکتے ہو جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مکرز ہے ایک بدترین شخص ہے۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا۔ ابھی وہ گفتگو کر ہی رہا تھا کہ سہیل بن عمرو آ گیا۔ معمر نے ( سابقہ سند کے ساتھ ) بیان کیا کہ مجھے ایوب نے خبر دی اور انہیں عکرمہ نے کہ جب سہیل بن عمرو آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نیک فالی کے طور پر ) فرمایا تمہارا معاملہ آسان ( سہل ) ہو گیا۔ معمر نے بیان کیا کہ زہری نے اپنی حدیث میں اس طرح بیان کیا تھا کہ جب سہیل بن عمرو آیا تو کہنے لگا کہ ہمارے اور اپنے درمیان ( صلح ) کی ایک تحریر لکھ لو۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب کو بلوایا اور فرمایا کہ لکھو «بسم الله الرحمن الرحيم» سہیل کہنے لگا رحمن کو اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ وہ کیا چیز ہے۔ البتہ تم یوں لکھ سکتے ہو «باسمك اللهم‏.‏» جیسے پہلے لکھا کرتے تھے مسلمانوں نے کہا کہ قسم اللہ کی ہمیں «بسم الله الرحمن الرحيم» کے سوا اور کوئی دوسرا جملہ نہ لکھنا چاہئے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «باسمك اللهم‏.‏» ہی لکھنے دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا یہ محمد رسول اللہ کی طرف سے صلح نامہ کی دستاویز ہے۔ سہیل نے کہا اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ آپ رسول اللہ ہیں تو نہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ سے روکتے اور نہ آپ سے جنگ کرتے۔ آپ تو صرف اتنا لکھئے کہ ”محمد بن عبداللہ“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ گواہ ہے کہ میں اس کا سچا رسول ہوں خواہ تم میری تکذیب ہی کرتے رہو ‘ لکھو جی ”محمد بن عبداللہ“ زہری نے بیان کیا کہ یہ سب کچھ ( نرمی اور رعایت ) صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا نتیجہ تھا ( جو پہلے بدیل رضی اللہ عنہ سے کہہ چکے تھے ) کہ قریش مجھ سے جو بھی ایسا مطالبہ کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی تعظیم مقصود ہو گی تو میں ان کے مطالبے کو ضرور مان لوں گا ‘ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل سے فرمایا لیکن صلح کے لیے پہلی شرط یہ ہو گی کہ تم لوگ ہمیں بیت اللہ کے طواف کرنے کے لیے جانے دو گے۔ سہیل نے کہا قسم اللہ کی ہم ( اس سال ) ایسا نہیں ہونے دیں گے ورنہ عرب کہیں گے ہم مغلوب ہو گئے تھے ( اس لیے ہم نے اجازت دے دی ) آئندہ سال کے لیے اجازت ہے۔ چنانچہ یہ بھی لکھ لیا۔ پھر سہیل نے لکھا کہ یہ شرط بھی ( لکھ لیجئے ) کہ ہماری طرف کا جو شخص بھی آپ کے یہاں جائے گا خواہ وہ آپ کے دین ہی پر کیوں نہ ہو آپ اسے ہمیں واپس کر دیں گے۔ مسلمانوں نے ( یہ شرط سن کر کہا ) سبحان اللہ! ( ایک شخص کو ) مشرکوں کے حوالے کس طرح کیا جا سکتا ہے جو مسلمان ہو کر آیا ہو۔ ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ابوجندل بن سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنی بیڑیوں کو گھسیٹتے ہوئے آ پہنچے ‘ وہ مکہ کے نشیبی علاقے کی طرف سے بھاگے تھے اور اب خود کو مسلمانوں کے سامنے ڈال دیا تھا۔ سہیل نے کہا اے محمد! یہ پہلا شخص ہے جس کے لیے ( صلح نامہ کے مطابق ) میں مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اسے واپس کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی تو ہم نے ( صلح نامہ کی اس دفعہ کو ) صلح نامہ میں لکھا بھی نہیں ہے ( اس لیے جب صلح نامہ طے پا جائے گا اس کے بعد اس کا نفاذ ہونا چاہئے ) سہیل کہنے لگا کہ اللہ کی قسم پھر میں کسی بنیاد پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح نہیں کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا مجھ پر اس ایک کو دے کر احسان کر دو۔ اس نے کہا کہ میں اس سلسلے میں احسان بھی نہیں کر سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ہمیں احسان کر دینا چاہئے لیکن اس نے یہی جواب دیا کہ میں ایسا کبھی نہیں کر سکتا۔ البتہ مکرز نے کہا کہ چلئے ہم اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان کرتے ہیں مگر ( اس کی بات نہیں چلی ) ابوجندل رضی اللہ عنہ نے کہا مسلمانوں! میں مسلمان ہو کر آیا ہوں۔ کیا مجھے مشرکوں کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا؟ کیا میرے ساتھ جو اذیتیں پہنچائی گئیں تھیں۔ راوی نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، کیا یہ واقعہ اور حقیقت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں! میں نے عرض کیا، کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور کیا ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں! میں نے کہا پھر اپنے دین کے معاملے میں کیوں دبیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اس کی حکم عدولی نہیں کر سکتا اور وہی میرا مددگار ہے۔ میں نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ نہیں فرماتے تھے کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے لیکن کیا میں نے تم سے یہ کہا تھا کہ اسی سال ہم بیت اللہ پہنچ جائیں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا نہیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قید کے ساتھ نہیں فرمایا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تم بیت اللہ تک ضرور پہنچو گے اور ایک دن اس کا طواف کرو گے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا اور ان سے بھی یہی پوچھا کہ ابوبکر! کیا یہ حقیقت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں؟ انہوں نے بھی کہا کہ کیوں نہیں۔ میں نے پوچھا کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ اور کیا ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں! میں نے کہا کہ پھر اپنے دین کو کیوں ذلیل کریں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا جناب! بلا شک و شبہ وہ اللہ کے رسول ہیں ‘ اور اپنے رب کی حکم عدولی نہیں کر سکتے اور رب ہی ان کا مددگار ہے پس ان کی رسی مضبوطی سے پکڑ لو ‘ اللہ گواہ ہے کہ وہ حق پر ہیں۔ میں نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ نہیں کہتے تھے کہ عنقریب ہم بیت اللہ پہونچیں گے اور اس کا طواف کریں گے انہوں نے فرمایا کہ یہ بھی صحیح ہے لیکن کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے یہ فرمایا تھا کہ اسی سال آپ بیت اللہ پہنچ جائیں گے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا پھر اس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ آپ ایک نہ ایک دن بیت اللہ پہنچیں گے اور اس کا طواف کریں گے۔ زہری نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بعد میں میں نے اپنی عجلت پسندی کی مکافات کے لیے نیک اعمال کئے۔ پھر جب صلح نامہ سے آپ فارغ ہو چکے تو صحابہ رضوان اللہ علیہم سے فرمایا کہ اب اٹھو اور ( جن جانوروں کو ساتھ لائے ہو ان کی ) قربانی کر لو اور سر بھی منڈوا لو۔ انہوں نے بیان کیا کہ اللہ گواہ ہے صحابہ میں سے ایک شخص بھی نہ اٹھا اور تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔ جب کوئی نہ اٹھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلمہ کے خیمہ میں گئے اور ان سے لوگوں کے طرز عمل کا ذکر کیا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا اے اللہ کے نبی! کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ باہر تشریف لے جائیں اور کسی سے کچھ نہ کہیں بلکہ اپنا قربانی کا جانور ذبح کر لیں اور اپنے حجام کو بلا لیں جو آپ کے بال مونڈ دے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ کسی سے کچھ نہیں کہا اور سب کچھ کیا ‘ اپنے جانور کی قربانی کر لی اور اپنے حجام کو بلوایا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مونڈے۔ جب صحابہ نے دیکھا تو وہ بھی ایک دوسرے کے بال مونڈنے لگے ‘ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ رنج و غم میں ایک دوسرے سے لڑ پڑیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( مکہ سے ) چند مومن عورتیں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا «يا أيها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن‏» اے لوگو! جو ایمان لا چکے ہو جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان لے «بعصم الكوافر‏» تک۔ اس دن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو بیویوں کو طلاق دی جو اب تک مسلمان نہ ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک نے تو معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے نکاح کر لیا تھا اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لائے تو قریش کے ایک فرد ابوبصیر رضی اللہ عنہ ( مکہ سے فرار ہو کر ) حاضر ہوئے۔ وہ مسلمان ہو چکے تھے۔ قریش نے انہیں واپس لینے کے لیے دو آدمیوں کو بھیجا اور انہوں نے آ کر کہا کہ ہمارے ساتھ آپ کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا۔ قریش کے دونوں افراد جب انہیں واپس لے کر لوٹے اور ذوالحلیفہ پہنچے تو کھجور کھانے کے لیے اترے جو ان کے ساتھ تھی۔ ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک سے فرمایا قسم اللہ کی تمہاری تلوار بہت اچھی معلوم ہوتی ہے۔ دوسرے ساتھی نے تلوار نیام سے نکال دی۔ اس شخص نے کہا ہاں اللہ کی قسم نہایت عمدہ تلوار ہے ‘ میں اس کا بارہا تجربہ کر چکا ہوں۔ ابوبصیر رضی اللہ عنہ اس پر بولے کہ ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ اور اس طرح اپنے قبضہ میں کر لیا پھر اس شخص نے تلوار کے مالک کو ایسی ضرب لگائی کہ وہ وہیں ٹھنڈا ہو گیا۔ اس کا دوسرا ساتھی بھاگ کر مدینہ آیا اور مسجد میں دوڑتا ہوا۔ داخل ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے دیکھا تو فرمایا یہ شخص کچھ خوف زدہ معلوم ہوتا ہے۔ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچا تو کہنے لگا اللہ کی قسم میرا ساتھی تو مارا گیا اور میں بھی مارا جاؤں گا ( اگر آپ لوگوں نے ابوبصیر کو نہ روکا ) اتنے میں ابوبصیر بھی آ گئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی! اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذمہ داری پوری کر دی ‘ آپ مجھے ان کے حوالے کر چکے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے نجات دلائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تیری ماں کی خرابی ) اگر اس کا کوئی ایک بھی مددگار ہوتا تو پھر لڑائی کے شعلے بھڑک اٹھتے۔ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ سنے تو سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر کفار کے حوالے کر دیں گے اس لیے وہاں سے نکل گئے اور سمندر کے کنارے پر آ گئے۔ راوی نے بیان کیا کہ اپنے گھر والوں ( مکہ سے ) چھوٹ کر ابوجندل بن سہیل رضی اللہ عنہ بھی ابوبصیر رضی اللہ عنہ سے جا ملے اور اب یہ حال تھا کہ قریش کا جو شخص بھی اسلام لاتا ( بجائے مدینہ آنے کے ) ابوبصیر رضی اللہ عنہ کے یہاں ( ساحل سمندر پر ) چلا جاتا۔ اس طرح سے ایک جماعت بن گئی اور اللہ گواہ ہے یہ لوگ قریش کے جس قافلے کے متعلق بھی سن لیتے کہ وہ شام جا رہا ہے تو اسے راستے ہی میں روک کر لوٹ لیتے اور قافلہ والوں کو قتل کر دیتے۔ اب قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اللہ اور رحم کا واسطہ دے کر درخواست بھیجی کہ آپ کسی کو بھیجیں ( ابوبصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے دوسرے ساتھیوں کے یہاں کہ وہ قریش کی ایذا سے رک جائیں ) اور اس کے بعد جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں جائے گا ( مکہ سے ) اسے امن ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں اپنا آدمی بھیجا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم ببطن مكة من بعد أن أظفركم عليهم‏» ”اور وہ ذات پروردگار جس نے روک دیا تھا تمہارے ہاتھوں کو ان سے اور ان کے ہاتھوں کو تم سے ( یعنی جنگ نہیں ہو سکی تھی ) وادی مکہ میں ( حدیبیہ میں ) بعد میں اس کے کہ تم کو غالب کر دیا تھا ان پر یہاں تک کہ بات جاہلیت کے دور کی بے جا حمایت تک پہنچ گئی تھی ) ۔“ ان کی حمیت ( جاہلیت ) یہ تھی کہ انہوں نے ( معاہدے میں بھی ) آپ کے لیے اللہ کے نبی ہونے کا اقرار نہیں کیا اسی طرح انہوں نے «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں لکھنے دیا اور آپ بیت اللہ جانے سے مانع بنے۔
Sahih Muslim
154
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ: «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ»
Salim reported on the authority of his father that the Prophet (may peace and blessings be upon him) heard a man censuring his brother regarding modesty. Upon this the Prophet remarked: Modesty is part of Iman (faith).
سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث سنائی ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی سے سنا جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا تو آپ نے فرمایا : ’’ ( حیا سے مت روکو ) حیا ایمان میں سے ہے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
597
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْفِطْرَةُ خَمْسٌ - أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ - الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ»
Abu Huraira reported: Five are the acts quite akin to the Fitra, or five are the acts of Fitra: circumcision, shaving the pubes, cutting the nails, plucking the hair under the armpits and clipping the moustache.
ابن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’فطرت ( کے خصائل ) پانچ ہیں ( یا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں ) : ختنہ کرانا ، زیر ناف بال مونڈنا ، ناخن تراشنا ، بغل کے بال اکھیڑنا اور مونچھ کترنا ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
645
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ح، وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
Zahri and Ibn Musayyab have both transmitted a hadith like this from Abu Huraira who narrated it from the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
ابوسلمہ نے ابن مسیب دونوں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے نبی ﷺ سے اسی ( مذکورہ بالاروایت ) کے مانند بابیان کیا
Sahih Muslim
666
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ
This hadith has also been narrated from al-Zuhri with the same chain of narrators. (but for the words): He (the Holy Prophet) sent for water and sprinkled it over.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ( مذکورہ بالا ) روایت کی اور کہا : آپ نے پانی منگوایا اور اسے چھڑکا
Sahih Muslim
804
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّجُلُ، يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: «لَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ فِي رِوَايَتِهِمَا هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ
Abbad b. Tamim reported from his uncle that a person made a complaint to the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he entertained (doubt) as it something had happened to him breaking his ablution. He (the Holy Prophet) said: He should not return (from prayer) unless he hears a sound or perceives a smell (of passing wind). Abu Bakr and Zuhair b. Harb have pointed out in their narrations that it was 'Abdullah b. Zaid.
عمرو ناقد ، زہیر بن حرب اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے سعید ( بن مسیب ) اور عباد بن تمیم سے اور انہوں نے ان ( عباد ) کے چچا سے روایت کی کہ نبیﷺ سے ایک آدمی کے حوالے سے شکایت کی گئی کہ اسے یہ خیال آتا رہتا ہے کہ وہ نماز کے دوران میں کوئی چیز محسوس کرتا ہے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ( وہ نماز سے ) نہ ہٹے یہاں تک کہ کوئی آواز سنے یا کوئی بو محسوس کرے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور زہیر بن حرب نے اپنی روایت میں ( عباد بن تمیم کے چچا کے بارے میں ) بتایا کہ وہ عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ہیں ۔