TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان - خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان - نکاح کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of نکاح کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 17 · 8 Hadith
۔ (۶۸۳۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنَّا نَغْزُوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَیْسَ لَنَا نِسَائٌ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلاَ نَسْتَخْصِیْ؟ فَنَہَانَا عَنْہُ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا بَعْدُ فِی أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَۃَ بِالثَّوْبِ إِلٰی أَجَلٍ، ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا إِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ۔} (مسند احمد: ۳۹۸۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد میں مصروف تھے، ہمارے پاس بیویاں نہیں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم خصی نہ ہوجائیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور پھر ہمیںیہ اجازت دے دی کہ ہم مقررہ مدت تک کپڑے وغیرہ کے عوض میں عورتوں سے شادی کر سکتے ہیں، (جس کو متعہ کہتے ہیں)، پھر سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: اے ایمان والو! اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں، ان کو حرام نہ قرار دو اور زیادتی نہ کرو، بیشک اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Takhreej
(۶۸۳۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۵۷، ومسلم: ۱۴۰۴ (انظر: ۳۹۸۶)
Explanation
فوائد:… مسلمان کے لیے خصی ہونا حرام ہے، کیونکہ اس میں ضرر بھی ہے اور نسل کا سلسلہ بھی منقطع ہو جاتا ہے۔ اس حدیث میں نکاحِ متعہ کی اجازت دی گئی ہے، یہ اجازت عارضی تھی، بعد میں اس نکاح کو مستقل طور پر حرام قرار دیا گیا، تفصیل آگے آئے گی۔
6836
Sahih
۔ (۶۸۳۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَائَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ائْذَنْ لِیْ أَنْ أَخْتَصِیَ، فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خِصَائُ أُمَّتِی الصِّیَامُ وَالْقِیَامُ۔)) (مسند احمد: ۶۶۱۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے خصی ہونے کی اجازت دیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے خصی ہونے کی صورت روزے رکھنا اور رات کا قیام کرنا ہے۔
Takhreej
(۶۸۳۷) تخریج: صحیح لغیرہ دون ذکر القیام، وھذا اسناد ضعیف لضعف ابن لھیعۃ وحُیَیّ بن عبد اللہ المعافری، أخرجہ الطبرانی (انظر: ۶۶۱۲)
6837
Sahih
۔ (۶۸۳۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: جَائَ شَابٌّ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ A فَقَالَ: أَ تَأْذَنُ لِی فِی الْخِصَائِ؟ فَقَالَ: ((صُمْ وَ سَلِ اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۰۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزے رکھ اور اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کر۔
Takhreej
(۶۸۳۸) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۵۰۳۶)
Explanation
فوائد:… یہ بہت خوبصورت جواب ہے، فی الوقت کسی چیز کے اسباب نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آدمی اپنے آپ کو مستقل طور پر اس چیز سے محروم کر دے، اس کو چاہیے کہ وہ اپنے وجود کو کنٹرول کرنے کے لیے عارضی بندوبست کرے اور اللہ تعالی سے اس کے فضل کا سوال کرے، روزہ اپنی جگہ پر مستقل عبادت ہے، لیکن غیر شادی شدہ آدمی کے لیے شہوت کو کنٹرول کرنے کا عارضی بندو بست ہے۔
6838
Sahih
۔ (۶۸۳۹)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ: أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُوْنٍ أَنْ یَّتَبَتَّلَ، فَنَہَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَوْ أَجَازَ ذَالِکَ لَاخْتَصَیْنَا۔ (مسند احمد: ۱۵۱۴)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تبتّل کا ارادہ کیا، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو منع کر دیا، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔
Takhreej
(۶۸۳۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۷۴، ومسلم: ۱۴۰۲(انظر: ۱۵۱۴)
Explanation
فوائد:… ’’تبتّل‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی کی عبادت میں مصروف ہونے کی وجہ سے عورتوں سے کنارہ کشی اختیار کی جائے اور نکاح کو چھوڑ دیا جائے۔
6839
Sahih
۔ (۶۸۴۰)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ التَّبَتُّلِ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۵۵)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تبتّل سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۶۸۴۰) صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۴۹، والترمذی: ۱۰۸۲، والنسائی: ۶/ ۵۹(انظر: ۲۰۱۹۲)
Explanation
فوائد:… جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ کی روایت کے مطابق یہ حدیث بیان کرنے کے بعد امام قتادہ نے یہ آیت تلاوت کی: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ و َجَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجًا وَ ذُرِّیَّۃً } …’’اور ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے اور ان کو بیویاں اور اولاد عطا کی۔‘‘ (سورۂ رعد: ۳۸) امام قتادہ کی مراد یہ ہے کہ رسول اللہ a کو سابقہ انبیاء کی اقتدار کرنے کا حکم دیا گیا، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {فَبُہُدٰھُمُ اقْتَدِہْ} … ’’ان کی ہدایت کی پیروی کر۔‘‘ اور سابقہ انبیاء کی بیویاں اور اولادیں تھیں، اس لیے آپ a نے شادیاں کیں اور اللہ تعالی نے آپ a کو اولاد بھی عطا کی۔ گویا نکاح سنت ِ انبیاءhہے۔
6840
Sahih
۔ (۶۸۴۱)۔ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ ھِشَامٍ أَنَّہ، قَالَ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : إِنِّی أُرِیْدُ أَنْ أَسْأَلَکِ عَنِ التَّبَتُّلِ فَمَا تَرَیْنَ فِیْہِ؟ قَالَتْ: فَـلَا تَفْعَلْ، أَمَا سَمِعْتَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ أَزْوَاجًا وَ ذُرِّیَّۃ} فَـلَا تَبَتَّلَ، قَالَ: فَخَرَجَ وَقَدْ فَقِہَ وَقَدِمَ الْبَصْرَۃَ فَلَمْ یَلْبَثْ اِلَّا یَسِیْرًا حَتّٰی خَرَجَ إِلٰی أَرْضِ مَکْرَانَ فَقُتِلَ ھُنَاکَ عَلٰی أَفْضَلِ عَمَلِہٖ۔ (مسنداحمد: ۲۵۱۶۵)
۔ سعد بن ہشام سے مروی ہے کہ انھوں نے عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: میں آپ سے تبتّل کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انھوں نے کہا:ایسا نہ کرو، کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان نہیں سنا اور تحقیق ہم نے آپ سے پہلے پیغمبر بھیجے ہیں اور ان کے لئے بیویاںاور اولاد بنائی۔ اس لئے تبتّل سے بچ، پھر وہ باہر تشریف لے گئے، جبکہ وہ فہم و فقہ حاصل کر چکے تھے، پھر وہ بصرہ چلے گئے، وہاں کچھ عرصہ ہی رہے تھے کہ مکران کی سرزمین کی طرف چلے گئے، پھر وہاں افضل ترین عمل سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔
Takhreej
(۶۸۴۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ مختصرا النسائی: ۳/ ۲۴۲ (انظر: ۲۴۶۵۸)
6841
Sahih
۔ (۶۸۴۲)۔ (وَعَنْھَا فِی رِوَایَۃٍ أُخْرٰی) قَالَتْ: لَا تَفْعَلْ، أَمَا تَقْرَأُ! {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} فَقَدْ تَزَوَّجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ A وَقَدْ وُلِدَ لَہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۰۸)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تبتّل سے بچ، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی، اللہ تعالی نے فرمایا: البتہ تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شادیاں بھی کی ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اولاد بھی ہوئی ہے۔
Takhreej
(۶۸۴۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6842
Sahih
۔ (۶۸۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ، کَانَ یَقُوْلُ: ((لَا صَرُوْرَۃَ فِی الْاِسْلَامِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۴۴)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں صرورت نہیں ہے۔
Takhreej
(۶۸۴۳) تخریج: اسنادہ ضعیف ، عمر بن عطائ، وھو ابن وراز، لیس ھو بشیئ، وھم یضعفونہ، أخرجہ ابوداود: ۱۷۲۹(انظر: ۲۸۴۴)
Explanation
فوائد:… صرورت کے دو معانی ہیں: (۱) تبتّل، جس کی تفصیل حدیث نمبر ۶۸۳۹ میں گزر چکی ہے اور (۲) حج نہ کرنا، یعنی اسلام میں حج کو ترک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بشرطیکہ استطاعت ہو۔ یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن اسلام میں دونوں چیزوں کی گنجائش نہیں ہے، نہ تبتّل کی اور نہ حج کو ترک کرنے کی۔
6843
Zaeef

Chapters

17
01
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
8 Hadith
02
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
03
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
10 Hadith
04
دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
3 Hadith
05
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
4 Hadith
06
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
07
منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان
6 Hadith
08
منگیتر کو دیکھنے کے جواز کا بیان
6 Hadith
09
ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
6 Hadith
10
کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
10 Hadith
11
نکاح میںیتیم بچی کو مجبور نہ کرنے اور اس کی اجازت اور رضامندی سے اس کی شادی کرنے کا بیان
3 Hadith
12
عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
2 Hadith
13
باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان
4 Hadith
14
بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
1 Hadith
15
نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
5 Hadith
16
نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
7 Hadith
17
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.