TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4355 - قتل و غارت کرنے اور مرتد ہو جانے والوں کے بارے میں(شریعت کا ) حکم - The book of oaths,muharibin,qasas( retaliation), and diyat (blood money_ - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 8 in this chapter
قتل و غارت کرنے اور مرتد ہو جانے والوں کے بارے میں(شریعت کا ) حکم
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ مِنْ عُكْلٍ، أَوْ عُرَيْنَةَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، بِمَعْنَى حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ، وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ، فَلَا يُسْقَوْنَ
Anas b. Malik reported that some people of the tribe of 'Ukl or 'Uraina came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and they found the climate of Medina uncogenial. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) commanded them to the milch she-camels and commanded them to drink their urine and their milk. The rest of the hadith is the same (and the concluding words are): Their eyes were pierced, and they were thrown on the stony ground. They were asking for water, but they were not given water.
ایوب نے ابوقلابہ کے آزاد کردہ غلام ابو رجاء سے روایت کی ، کہا : ابوقلابہ نے کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : عُکل یا عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مدینہ میں انہیں استسقاء کی بیماری لاحق ہو گئی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دودھ والی اونٹنیوں کا حکم دیا ( کہ ان کے لیے خاص کر دی جائیں ) اور ان سے کہا کہ ان کے پیشاب اور دودھ پئیں ۔ ۔ ۔ آگے حجاج بن ابی عثمان کی حدیث کے ہم معنی ہے ۔ اور کہا : ان کی آنکھیں گرم سلاخوں سے پھوڑ دی گئیں اور انہیں سیاہ پتھروں والی زمین ( حرہ ) میں پھینک دیا گیا ، وہ پانی مانگتے تھے تو انہیں نہیں پلایا جاتا تھا
4355
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

192
1
Chapter: The ruling on coitus interrupts ('Azl)
عزل (انزال کے وقت علیحدہ ہو جانے کےبارے میں)شریعت کاحکم
Sahih Muslim
2
بَاب قتل أهل الرِّدَّة والسعاة بِالْفَسَادِ
مرتدوں اور فساد پھیلانے والوں کو قتل کرنے کا بیان
Mishkat
3
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
4
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
Musnad Ahmad
5
کسی چیز کے) ڈھکنے (یا تھیلی) اور (اس کے) بندھن کی شناخت رکھنا اور گمشدہ بکری اور اونٹ کے بارے میں شریعت کا حکم
Sahih Muslim
6
CHAPTER: Ruling on one who apostatizes.
باب: مرتد ( دین اسلام سے پھر جانے والے ) کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
7
دین اسلام سے مرتد ہو جانے والے کا حکم
Sunnan Ibn e Maja
8
Chapter: What Has Been Related About One Who Kills A Mu'ahid
باب: ذمی اور معاہدہ والوں کے قاتل کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Apostate
باب: مرتد (اسلام سے پھر جانے والے) کی سزا کا بیان
Jam e Tirmazi
10
مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
11
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
12
ذمیوں اورمعاہدہ والوں کے قتل کے حرام ہونے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
13
قتل کا سبب بننے کی وجہ سے دیت کے واجب ہونے کا بیان اورگڑھے میں گرنے والوں کا واقعہ
Musnad Ahmad
14
شریعت میں کہانت کے حکم اور اس کے مصدر کا بیان، نیز بعض امور میں کاہن کی کیسے تصدیق کی جائے گی؟
Musnad Ahmad
15
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
Musnad Ahmad
16
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
Musnad Ahmad
17
(25) CHAPTER. The Prophet urged the people (mission) of Abdul Qais to memorize the faith and the (religious) knowledge (as he explained to them) and to inform (convey) to their people whom they have left behind (at home).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ عبدالقیس کے وفد کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ ایمان لائیں اور علم کی باتیں یاد رکھیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی خبر کر دیں
Sahih Bukhari
18
(31) CHAPTER. A man teaching (religion to) his woman-slave and his family.
اس بارے میں کہ مرد کا اپنی باندی اور گھر والوں کو تعلیم دینا ( ضروری ہے )
Sahih Bukhari
19
(75) CHAPTER. The sin of a person who does not complete the rows (who is out of alignment) for the prayer.
اس بارے میں کہ صفیں پوری نہ کرنے والوں کا گناہ
Sahih Bukhari
20
(67) CHAPTER. A dead person hears the footsteps (of the living).
اس بیان میں کہ مردہ لوٹ کر جانے والوں کے جوتوں کی آواز سنتا ہے
Sahih Bukhari
21
(17) CHAPTER. No water was given to drink to those who turned renegades and fought (against Allah and His Messenger), till they died.
مرتد لڑنے والوں کو پانی بھی نہ دینا یہاں تک کہ پیاس سے وہ مرجائیں
Sahih Bukhari
22
(18) CHAPTER. The Prophet branded the eyes of those who fought (against Allah and His Messenger ).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتدین لڑنے والوں کی آنکھوں میں سلائی پھروانا
Sahih Bukhari
23
(2) CHAPTER. The legal regulation concerning AI-Murtad and Al-Murtaddah [male and female who reverts from Islam (apostates)].
مرتد مرد اور مرتد عورت کا حکم ۔
Sahih Bukhari
24
(3) CHAPTER. Killing those who refuse to fulfil the duties enjoined by Allah, and considering them as apostates.
جو شخص اسلام کے فرض ادا کرنے سے انکار کرے اور جو شخص مرتد ہو جائے اس کا قتل کرنا
Sahih Bukhari
25
(9) CHAPTER. Who is said about Al-Mutaawwalun (those who from wrong opinions about their Muslim brothers).
تاویل کرنے والوں کے بارے میں بیان
Sahih Bukhari
26
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
Sahih Muslim
27
Chapter: Giving to those whose hearts have been inclined (towards Islam) and to those for whose faith there is fear if they are not given anything, and putting up with the one who asks rudely due to ignorance, and the Khawarij and rulings regarding them
جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہو اور جن کا ایمان نہ ہونے کی بنا پرضائع ہونے کا خطرہ ہو‘ان کو دینا ‘جہالت کی بناپر مذموم طریقے سے مانگنے والے کو برداشت کرنا ‘اور خوارج اور ان کے بارے میں احکام شریعت
Sahih Muslim
28
Chapter: Each land has its own sighting of the moon, and if they see the crescent in one land, that does not necessarily apply to regions that are far away from it
ہر علاقے کے لوگوں کے لیے اپنی رؤیت (معتبر )ہے اوراگر ایک علاقے کے لوگ چاند دیکھ لیں تو ان سے دو روالوں کے لیے اس کا حکم (کہ روزوں کا آغازہو گیا )ثابت نہیں ہو گا
Sahih Muslim
29
Chapter: The command to the people of Al-Madinah to enter Ihram from the Masjid at Dhul-Hulaifah
مدینہ والوں کو مسجد ذوالحلیفہ سے احرام باندھنے کا حکم
Sahih Muslim
30
Chapter: It is permissible for the one who emigrated from Makkah to stay there for three days after completing Hajj and 'Umrah, and no more than that
مکہ سے ہجرت کرجانے والوں کےلیےحج و عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد وہاں تین دن ٹھہرنا جائز ہے ‘زیادہ نہیں
Sahih Muslim
31
Chapter: The prohibition of a manumitted slave taking anyone as a Mawla except the one who manumitted him
آزاد کیے جانے والیے کی طرف سے اپنے موالی (آزاد کرنے والوں )کےسواکسی اور کی طرف نسبت اختیار کرنا حرام ہے
Sahih Muslim
32
Chapter: Women who take part in military expeditions are to be given a reward but not a regular share; And the prohibition of killing children of the enemy
جہاد میں شریک عورتوں کو عطیہ دیا دائے گا اور (باقاعدہ) حصہ نہیں نکالا جائے گانیز جنگ کرنے والوں کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت
Sahih Muslim
33
Chapter: The ruling on one who seeks to divide the muslims when they are united
مسلمانوں کی جمیعت میں تفریق ڈالنے والے کےبارے میں شریعت کا فیصلہ
Sahih Muslim
34
Chapter: His Knowledge Of Allah And His Great Fear Of Him
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر اور آپ سے ایسے امور کے بارے میں بکثرت سوال کرنا جن کی ضرورت نہ ہو یا شریعت نے مکلف نہیں کیا اور پیش نہیں آئے اور اس طرح (کے بے مقصد سوالا ت )کو ترک کردینا
Sahih Muslim
35
Chapter: The Obligation To Follow Him (SAW)
شریعت کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فر ما یا اس پر عمل واجب ہے جہاں آپ نے دنیوی امور کے بارے میں محض اپنی را ئے کا اظہار فرما یا ہے(اس پر عمل واجب نہیں )
Sahih Muslim
36
Chapter: The Prohibition Of, And Warning Against Seeking Out Verses Of The Quran Whose Meanings Are Not Decisive; The Prohibition Of Arguing About The Qur'an
متشابہاتِ قرآن کے پیچھے لگنے کی ممانعت، ان (متشابہات قرآن) کا اتباع کرنے والوں سے دور رہنے کا حکم اور قرآن مجید میں اختلاف کی ممانعت
Sahih Muslim
37
Chapter: It Is Recommend To Lower One's Voice When Saying Remembrance, Except In The Cases Where It Is Commanded To Raise The Voice Such As The Talbiyah Etc. It Is Recommend To Say A Great Deal, There Is No Power And No Strength Except With Allah
ذکر میں آواز دھیمی رکھنا مستحب ہے، سوائے ان مقامات کے جہاں شریعت میں اس کے لیے آواز بلند کرنے کا حکم وارد ہوا ہے، مثلا: تلبیہ (حج) وغیرہ اور لا حول ولا قوة الا بالله کثرت سے کہنا مستحب ہے
Sahih Muslim
38
CHAPTER: Praying Behind People Who Are talking Or Sleeping.
باب: بات کرنے والوں اور سونے والوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
39
خائن، لٹیرے اور چھین کر بھاگنے والوں کا حکم
Sunnan Ibn e Maja
40
باب: شوہر بیوی سے کہے ”جاؤ اپنے گھر والوں میں رہو“ اس کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
41
باب: کیا اچانک مر جانے والے کی طرف سے اس کے گھر والوں کا صدقہ کرنا مستحب ہے؟
Sunnan Nisai
42
باب: مرتد کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
43
باب: قیامت کے دن سب سے سخت عذاب دیئے جانے والوں کا ذکر۔
Sunnan Nisai
44
(31)Chapter: What Has Been Related About: Protect The Heels From The Fire.
باب: وضو میں ایڑیاں دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About: For The People OF Every Land There Is A Sighting
باب: ہر شہر والوں کے لیے انہیں کے چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Preparing Food For The Family OF The Deceased
باب: میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Meet The Owners Of The Goods
باب: مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے جا کر ملنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives A Bribe And The One Who Takes A Bribe For Judgement
باب: فیصلے میں رشوت دینے اور لینے والوں پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About The Two Who Shun Each Other
باب: دو باہم قطع تعلق کرنے والوں کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About Exhortation Regarding One Who Seeks Knowledge
باب: علم (دین) حاصل کرنے والوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

72
Sahih Muslim
4354
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ، مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً، قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ، وَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ، فَتُصِيبُونَ مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا»، فَقَالُوا: بَلَى، فَخَرَجُوا، فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَصَحُّوا، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَطَرَدُوا الْإِبِلَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُدْرِكُوا، فَجِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ، وَسُمِرَ أَعْيُنُهُمْ، ثُمَّ نُبِذُوا فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا، وقَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ فِي رِوَايَتِهِ: وَاطَّرَدُوا النَّعَمَ، وَقَالَ: وَسُمِّرَتْ أَعْيُنُهُمْ،
Anas reported: Eight men of the tribe of 'Ukl came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and swore allegiance to him on Islam, but found the climate of that land uncogenial to their health and thus they became sick, and they made complaint of that to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and he said: Why don't you go to (the fold) of our camels along with our shepherd, and make use of their milk and urine. They said: Yes. They set out and drank their (camels') milk and urine and regained their health. They killed the shepherd and drove away the camels. This (news) reached Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he sent them on their track and they were caught and brought to him (the Holy Prophet). He commanded about them, and (thus) their hands and feet were cut off and their eyes were gouged and then they were thrown in the sun, until they died. This hadith has been narrated on the authority of Ibn al-Sabbah with a slight variation of words.
ابوجعفر محمد بن صباح اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ ابوبکر کے ہیں ، کہا : ہمیں ابن علیہ نے حجاج بن ابی عثمان سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابو رجاء مولیٰ ابی قلابہ نے ابو قلابہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ عُکل ( اور عرینہ ) کے آٹھ افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اسلام پر بیعت کی ، انہوں نے اس سرزمین کی آب و ہوا کو ناموافق پایا اور ان کے جسم کمزور ہو گئے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا : "" تم ہمارے چرواہے کے ساتھ ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ لے کر اسی مشترکہ چراگاہ کی طرف جا رہا تھا جہاں بیت المال کے اونٹ بھی چرتے تھے : فتح الباری : 1/338 ) اونٹوں میں کیوں نہیں چلے جاتے تاکہ ان کا پیشاب اور دودھ پیو؟ "" انہوں نے کہا : کیوں نہیں! چنانچہ وہ نکلے ، ان کا پیشاب اور دودھ پیا اور صحت یاب ہو گئے ، پھر انہوں نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ) چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ بھی بھگا لے گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے ( ایک دستہ ) روانہ کیا ، انہیں پکڑ لیا گیا اور ( مدینہ میں ) لایا گیا تو آپ نے ان کے بارے میں ( قرآن کی سزا پر عمل کرتے ہوئے ) حکم دیا ، اس پر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے ، ان کی آنکھیں گرم سلاخوں سے پھوڑ دی گئیں ، پھر انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا حتی کہ وہ مر گئے ۔ ابن صباح نے اپنی روایت میں ( کے بجائے ) اور ( کے بجائے ) کے الفاظ کہے ( معنی وہی ہے ۔ )
Sunnan Abu Dawood
4364
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ قَوْمًا مِنْ عُكْلٍ أَوْ قَالَ مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقُوا فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ وَسُمِرَ أَعْيُنُهُمْ وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو قِلَابَةَ:‏‏‏‏ فَهَؤُلَاءِ قَوْمٌ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
Anas bin Malik said: Some people of ‘Ukl or ‘Urainah’ came to the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and found Madinah unhealthy. So the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ordered them to go to the camels (of the sadaqah) and ordered them to drink some of their urine and milk. They went there when they became well, they killed the herdsman of the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and drove off the camels. The news about them reached the prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم early in the morning. So he sent people in pursuit of them, and they were brought when they day had risen high. He ordered and their hands and feet were cut off and nails were drawn into their eyes, and they were thrown out of Harrah. They begged for water but were not supplied water. Abu Qilabah said: They were people who had stolen, killed, apostatized after their faith and fought against Allah and his Messenger صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عکل، یا قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دودھ والی چند اونٹنیاں دلوائیں، اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے پیشاب اور دودھ پئیں، وہ ( اونٹنیاں لے کر ) چلے گئے جب وہ صحت یاب ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، اور اونٹ ہانک لے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح ہی صبح اس کی خبر مل گئی، چنانچہ آپ نے ان کے تعاقب میں لوگوں کو روانہ کیا، تو ابھی دن بھی اوپر نہیں چڑھنے پایا تھا کہ انہیں پکڑ کر لے آیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دئیے گئے، ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئیں، اور وہ گرم سیاہ پتھریلی زمین میں ڈال دیئے گئے، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا، ابوقلابہ کہتے ہیں: ان لوگوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے تھے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی تھی۔
Sunnan Ibn e Maja
3503
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسٍ،‏‏‏‏ أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا،‏‏‏‏ فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَفَعَلُوا.
It was narrated from Anas that some people from ‘Urainah came to the Messenger of Allah (ﷺ) but they were averse to the climate of Al- Madinah. He (ﷺ) said: “Why don’t you go out to a flock of camels of ours, and drink their milk and urine.” And they did that.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی، اور بیمار ہو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کے دودھ اور پیشاب پیتے ( تو اچھا ہوتا ) ، تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۱؎۔
Sunnan Nisai
4030
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَنَسٍ:‏‏‏‏ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏ فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا ، ‏‏‏‏‏‏فَفَعَلُوا فَقَتَلُوا رَاعِيَهَا وَاسْتَاقُوهَا، ‏‏‏‏‏‏ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ،‏‏‏‏ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ،‏‏‏‏ وَتَرَكَهُمْ حَتَّى مَاتُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة المائدة آية 33 الْآيَةَ .
It was narrated from Anas that : Some people from 'Ukl came to the Prophet [SAW] but the climate of Al-Madinah did not suit them. The Prophet [SAW] told them to go to the camels that had been given in Sadaqah and drink some of their milk and urine. They did that, then they killed their herdsman and drove off the camels. The Prophet [SAW] sent (men) after them, and they were brought to him. He had their hands and feet cut off, and their eyes gouged out, and he did not have (their wounds) cauterized, and he left them to die. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: The recompense of those who wage war against Allah and His Messenger.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ صدقے و زکاۃ کے اونٹوں میں جا کر ان کا پیشاب اور دودھ پیئیں، انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر چرواہے کو قتل کر دیا اونٹوں کو ہانک لے گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں چند افراد بھیجے، جب پکڑ کر وہ لائے گئے تو آپ نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دئیے، ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں، اور ان کے زخموں کو داغا نہیں بلکہ یوں ہی چھوڑ دیا، یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إنما جزاء الذين يحاربون اللہ ورسوله»  ان لوگوں کا بدلہ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں، الآیۃ ۔
Sunnan Nisai
4033
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ:‏‏‏‏ أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏ فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَوْدٍ لَهُ،‏‏‏‏ فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا صَحُّوا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ، ‏‏‏‏‏‏ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ،‏‏‏‏ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ،‏‏‏‏ وَصَلَبَهُمْ .
It was narrated from Anas bin Malik that: Some people from 'Uraynah came to the Messenger of Allah [SAW], but the climate of Al-Madinah did not suit them. The Prophet [SAW] sent them to some camels of his, and he drank some of their milk and urine. When they recovered, they apostatized from Islam and killed the herdsman of the Messenger of Allah [SAW], who was a believer, and drove the camels off. The Messenger of Allah [SAW] sent (men) after them, and they were caught. He had their hands and feet cut off, their eyes gouged out, and had them crucified.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اونٹوں کے پاس بھیجا، انہوں نے ان کا دودھ اور پیشاب پیا، جب وہ اچھے ہو گئے تو اسلام سے پھر گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے کچھ لوگ روانہ کئے، تو انہیں گرفتار کر لیا گیا، پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں اور انہیں سولی پر چڑھا دیا گیا ۱؎۔
Sunnan Nisai
4035
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدِنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا . قَالَ:‏‏‏‏ وَقَالَ قَتَادَةُ:‏‏‏‏ وَأَبْوَالِهَا ،‏‏‏‏ فَخَرَجُوا إِلَى ذَوْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَانْطَلَقُوا مُحَارِبِينَ،‏‏‏‏ فَأَرْسَلَ فِي طَلَبِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ.
It was narrated that Anas said: Some people from 'Uraynah came to the Messenger of Allah [SAW], but the climate of Al-Madinah did not suit them. The Messenger of Allah [SAW] said to them: 'Why don't you go out to our camels and drink their milk?' - (one of the narrators) Qatadah said: 'And their urine.' - So they went out to the camels of the Messenger of Allah [SAW], but when they recovered they killed the herdsman of the Messenger of Allah [SAW], who was a believer, and drove off the camels of the Messenger of Allah [SAW], and left as those at war. He sent (men) after them and they were caught. Then he had their hands and feet cut off, and branded their eyes.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:  اگر تم جاتے اور ہمارے اونٹوں کا دودھ پیتے  ( تو اچھا ہوتا )   ( قتادہ نے «البانہا»  ( دودھ )  کے بجائے «ابو الہا»  ( پیشاب )  کہا ہے ) چنانچہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے پاس گئے جب اچھے ہو گئے تو اسلام لانے کے بعد کافر  ( مرتد )  ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا اور آپ کے اونٹ ہانک لے گئے اور جنگجو  ( لڑنے والے )  بن کر گئے۔ آپ نے ان کی تلاش میں کچھ لوگوں کو بھیجا تو وہ گرفتار کر لیے گئے، آپ نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں کو گرم سلائی سے پھوڑ دیا ۔
Sunnan Nisai
4036
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَسْلَمَ أُنَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ،‏‏‏‏ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ حُمَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ قَتَادَةُ:‏‏‏‏ عَنْ أَنَسٍ:‏‏‏‏ وَأَبْوَالِهَا ،‏‏‏‏ فَفَعَلُوا،‏‏‏‏ فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ،‏‏‏‏ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا،‏‏‏‏ وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَهَرَبُوا مُحَارِبِينَ،‏‏‏‏ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَتَى بِهِمْ،‏‏‏‏ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَأَرْجُلَهُمْ،‏‏‏‏ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ،‏‏‏‏ وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا.
It was narrated that Anas said: Some people from 'Uraynah became Muslim, but the climate of Al-Madinah did not suit them. The Messenger of Allah [SAW] said to them: 'Why don't you go out to some camels of ours and drink their milk?' - (one of the narrators) Humaid said: And Qatadah said, narrating from Anas: 'And their urine.' - So they did that, and when they recovered they reverted to disbelief after their Islam, killed the herdsman of the Messenger of Allah [SAW], who was a believer, drove off the camels of the Messenger of Allah [SAW], and fled as those at war. The Messenger of Allah [SAW] sent someone to bring them and they were caught. He had their hands and feet cut off and their eyes branded, then he left them in Al-Harrah until they died.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ اسلام لائے تو انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تم لوگ ہمارے اونٹوں میں جاتے اور ان کا دودھ پیتے  ( تو اچھا ہوتا ) ،  ( حمید کہتے ہیں: قتادہ نے انس سے «البانہا»  ( دودھ کے )  بجائے «ابو الہا» ( پیشاب )  روایت کی ہے۔ )  انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر جب وہ ٹھیک ہو گئے تو اسلام لانے کے بعد کافر و مرتد ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور آپ کے اونٹوں کو ہانک لے گئے اور جنگجو بن کر نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے کچھ لوگ بھیجے، چنانچہ وہ سب گرفتار کر لیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے، ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں، اور انہیں حرہ  ( مدینے کے پاس پتھریلی زمین ) میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ سب مر گئے۔
Sunnan Nisai
4039
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو بَكْرٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَثَابِتٌ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسٍ:‏‏‏‏ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُرَيْنَةَ نَزَلُوا فِي الْحَرَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونُوا فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، ‏‏‏‏‏‏فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ، ‏‏‏‏‏‏وَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ، ‏‏‏‏‏‏ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَجِيءَ بِهِمْ،‏‏‏‏ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَأَلْقَاهُمْ فِي الْحَرَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَنَسٌ:‏‏‏‏ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمْ يَكْدُمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ عَطَشًا حَتَّى مَاتُوا.
It was narrated from Anas that : Some people from 'Uraynah camped in Al-Harrah and came to the Messenger of Allah [SAW]. The climate of Al-Madinah did not suit them, so the Messenger of Allah [SAW] told them to go and stay near the camels that had been given in Sadaqah, and to drink their milk and urine. Then they killed the herdsman and apostatized from Islam, and drove off the camels. The Messenger of Allah [SAW] sent (men) after them, who brought them, then he had their hands and feet cut off, and their eyes gouged out, and left them in Al-Harrah. Anas said: I saw one of them biting at the ground from thirst, until they died.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ حرہ میں ٹھہرے، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ صدقے کے اونٹوں میں جا کر ان کے دودھ اور پیشاب پیئیں، تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا، اسلام سے پھر گئے اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے کچھ لوگوں کو بھیجا، انہیں پکڑ کر لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے، آنکھیں پھوڑ دیں اور انہیں حرہ میں ڈال دیا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک کو دیکھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے زمین سے اپنے منہ کو رگڑ رہا تھا،  ( یعنی زمین کو اپنے منہ سے چاٹ رہا تھا )  یہاں تک کہ سب مر گئے۔
Sahih Muslim
4353
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ هُشَيْمٍ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَاجْتَوَوْهَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَتَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا»، فَفَعَلُوا، فَصَحُّوا، ثُمَّ مَالُوا عَلَى الرِّعَاءِ، فَقَتَلُوهُمْ وَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَسَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي أَثَرِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ، حَتَّى مَاتُوا
Anas b. Malik reported that some people belonging (to the tribe) of 'Uraina came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) at Medina, but they found its climate uncogenial. So Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to them: If you so like, you may go to the camels of Sadaqa and drink their milk and urine. They did so and were all right. They then fell upon the shepherds and killed them and turned apostates from Islam and drove off the camels of the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). This news reached Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he sent (people) on their track and they were (brought) and handed over to him. He (the Holy Prophet) got their hands cut off, and their feet, and put out their eyes, and threw them on the stony ground until they died.
عبدالعزیز بن صہیب اور حمید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آئے ، انہیں یہاں کی آب و ہوا نا موافق لگی ( اور انہیں استسقاء ہو گیا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( کے مطالبے پر ان سے ) فرمایا : " اگر تم چاہتے ہو تو صدقے کے اونٹوں کے پاس چلے جاؤ اور ان کے دودھ اور پیشاب ( جسے وہ لوگ ، اس طرح کی کیفیت میں اپنی صحت کا ) ضامن سمجھتے تھے ) پیو ۔ انہوں نے ایسے ہی کیا اور صحت یاب ہو گئے ، پھر انہوں نے چرواہوں پر حملہ کر دیا ، ان کو قتل کر دیا ، اسلام سے مرتد ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( بیت المال کے ) اونٹ ہانک کر لے گئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے ( کچھ لوگوں کو ) ان کے تعاقب میں روانہ کیا ، انہیں ( پکڑ کر ) لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے ، ان کی آنکھیں پھوڑ دینے کا حکم دیا اور انہیں سیاہ پتھروں والی زمین میں چھوڑ دیا حتی کہ ( وہیں ) مر گئے