TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے - زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے - زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 13 · 4 Hadith
۔ (۶۷۱۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنْتُ فِیْمَنْ رَجَمَ الرَّجُلَ یَعْنِی مَاعِزًا اِنَّا لَمَّا رَجَمْنَاہُ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ فَقَالَ: أَیْ قَوْمِ! رُدُّوْنِی اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاِنَّ قَوْمِیْ قَتَلُوْنِیْ وَغَرُّوْنِی مِنْ نَفْسِی وَقَالُوْا: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَیْرُ قَاتِلِکَ، قَالَ: فَلَمْ نَنْزَعْ عَنْہُ حَتّٰی فَرَغْنَا مِنْہُ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرْنَا لَہُ قَوْلَہُ، فَقَالَ: ((اَلا تَرَکْتُمُ الرَّجُلَ وَجِئْتُمُوْنِی بِہِ؟)) اِنَّمَا أَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَتَثَبَّتَ فِیْ أَمْرِہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۱۵۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ان افراد میں تھا، جنہوں نے ماعز کو سنگسار کیا تھا، جب ہم نے اس کو سنگسار کیا اور اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہا: لوگو! مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لوٹاؤ، کیونکہ میری قوم نے مجھے قتل کیا ہے، انھوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے، لوگوں نے کہا: بیشک اللہ کے رسول تو تجھے قتل کرنے والے نہیں ہیں، پس ہم اس سے باز نہ آئے، یہاں تک کہ اس کو رجم کرنے سے فارغ ہو گئے، پھر جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لوٹے اور اس کی بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوںنہیں دیا تھا اور اسے میرے پاس کیوں نہیں لے آئے تھے؟ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ نصر بن دہراسلمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہماری قوم کا ایک آدمی ماعز بن خالد بن مالک ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور اپنے نفس پر زنا کا اقرار کیا، رسول کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو سنگسار کریں، پس ہم اس کو لے کر حرّۂ بنی نیار کی طرف نکلے اور اس کو رجم کیا، جب اس نے پتھروں کی تکلیف پائی تو وہ سخت بے قرار ہوا، پھر جب ہم اس کو سنگسار کر نے سے فارغ ہوئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کی بے قراری کا ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟
Takhreej
(۶۷۱۱) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۲۰ (انظر: ۱۵۰۸۹)
6711
Sahih
۔ (۶۷۱۲)۔ عَنْ اَبِی الْھَیْثَمِ بْنِ نَصْرِ بْنِ دَھْرٍ الْأَسْلَمِیِّ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: أَتٰی مَاعِزُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَالِکٍ رَجُلٌ مِنَّا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَوْدٰی عَلٰی نَفْسِہِ بِالزِّنَا فَاَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجْمِہِ فَخَرَجْنَا اِلٰی حَرَّۃِ بَنِی نِیَارٍ فَرَجَمْنَاہُ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ جَزِعَ جَزَعًا شَدِیْدًا، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْہُ وَرَجَعْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرْنَا لَہُ جَزَعَہُ، فَقَالَ: ((ھَلَّا تَرَکْتُمُوْہُ،۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۴۰)
۔ نصر بن دہراسلمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہماری قوم کا ایک آدمی ماعز بن خالد بن مالک ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور اپنے نفس پر زنا کا اقرار کیا، رسول کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو سنگسار کریں، پس ہم اس کو لے کر حرّۂ بنی نیار کی طرف نکلے اور اس کو رجم کیا، جب اس نے پتھروں کی تکلیف پائی تو وہ سخت بے قرار ہوا، پھر جب ہم اس کو سنگسار کر نے سے فارغ ہوئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کی بے قراری کا ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟
Takhreej
(۶۷۱۲) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۷۲۰۸، والدارمی: ۲/ ۱۷۷،، وابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۷۷(انظر: ۱۵۵۵۵)
6712
Sahih
۔ (۶۷۱۳)۔ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَنْ شَہِدَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَمَرَ بِرَجْمِ رَجُلٍ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ فَلَمَّا أَصَابَتْہُ الْحِجَارَۃُ فَرَّ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ خَرَجَ فَہَرَبَ) فَبَلَغَ ذَالِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فَہَلَّا تَرَکْتُمُوْہُ؟)) (مسند احمد: ۱۶۷۰۱)
۔ عبدالعزیز بن عبد اللہ قرشی کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے بیان کیا،جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ ایک آدمی کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنگسار کر نے کا حکم دیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا، ایک روایت میں ہے: جب اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو نکل پڑا اور بھاگ گیا، جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟
Takhreej
(۶۷۱۳) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، غیر ان قولہ: ’’بین مکۃ والمدینۃ‘‘ فیہ نظر، وھذا اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال عبد العزیز بن عبد اللہ (انظر: ۱۶۵۸۵)
Explanation
فوائد:… جو آدمی از خود اعتراف کرے، اس کو انکار کرنے کا حق حاصل ہے، حدیث نمبر (۶۶۹۲، ۶۷۰۲) کی شرح میں اس مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
6713
Sahih
۔ (۶۷۱۴)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ اَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّہُ زَنٰی بِامْرَأَۃٍ سَمَّاھَا، فَاَرْسَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمَرْأَۃِ فَدَعَاھَا فَسَأَلَھَا عَمَّا قَالَ: فَاَنْکَرَتْ فَحَدَّہُ وَتَرَکَہَا۔ (مسند احمد: ۲۳۲۶۳)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ بنو اسلم قبیلہ کا ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور یہ اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا ہے، اس نے اس عورت کا نام بھی لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس عورت کو بلا بھیجا اور اس سے اس برائی کے بارے میں پوچھا، اس نے انکار کر دیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص کو حدّ لگائی اور اس خاتون کو چھوڑ دیا۔
Takhreej
(۶۷۱۴) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ الدارقطنی: ۳/ ۹۹، والحاکم: ۴/ ۳۷۰(انظر: ۲۲۸۷۵)
Explanation
فوائد:… زنا کے معترف کو ہر صورت میں حد لگائی جائے گی،لیکن وہ جس پر الزام لگا رہا ہو گا،ا گر اس کی طرف سے نہ اعتراف ہو، نہ اس پر چار گواہ ہوں اور نہ حمل کی علامت ہو تو اس کو سزا نہیں دی جائے گی۔
6714
Sahih

Chapters

13
01
چار مرتبہ زنا کا اقرار تکرار کرانے کا اعتبار
8 Hadith
02
زنا کا اقرار کرنے والے سے مزید استفسار کرنا اور ایسی وضاحت طلب کرنا کہ جس میں کوئی تردد نہ ہو
2 Hadith
03
اس چیز کا بیان کہ اس شخص کو حد نہیں لگائی جائے گی، جو کسی حد کا اقرار تو کرے اور اس کا نام نہ لے
2 Hadith
04
زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے
4 Hadith
05
اس چیز کے سنت ہونے کا بیان کہ گواہ خود سنگسار کرنے کی ابتداء کرے اور زانی کے اقرار کرنے کی صورت میں حکمران ابتداء کرے، نیز اس چیز کا بیان کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے
2 Hadith
06
وضع حمل تک حاملہ عورت سے حد کو مؤخر کر دینے کا بیان
5 Hadith
07
مریض پر حد قائم کرنے کا بیان
1 Hadith
08
سنگسار ہونے والے کے لئے گڑھا کھودنے کا بیان
3 Hadith
09
بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان
5 Hadith
10
اس شخص کا بیان جو مَحرم عورت سے منہ کالا کرے یا کسی چوپائے سے برائی کرے یا قومِ لوط والا عمل کر بیٹھے
4 Hadith
11
اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
5 Hadith
12
زانی غلام کی پچاس کوڑے حد ہونے کا بیان
2 Hadith
13
آقا کا اپنے غلام پر حد نافذ کرنے کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.