TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6982 - اس چیز کا بیان کہ رضاعت میں کس کی شہادت جائز ہو گی - نکاح کے موانع کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
اس چیز کا بیان کہ رضاعت میں کس کی شہادت جائز ہو گی
۔ (۶۹۸۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا یَجُوْزُ فِی الرَّضَاعَۃِ مِنَ الشُّہُوْدِ؟ قَالَ: ((رَجُلٌ اَوِامْرَأَۃٌ۔)) وَسَمِعْتُہُ اَنَا مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ۔ (مسند احمد: ۵۸۷۷)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا گیا کہ رضاعت میں کتنے گواہ ہوسکتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: ایک آدمی اور ایک عورت۔
6982
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۶۹۸۲) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا لضعف الشیخ من اھل نجران، ومحمد بن عبد الرحمن بن البیلمانی مجمع علی ضعفہ، واتھمہ ابن حبان بالوضع، وابوہ ضعّفہ غیر واحد، أخرجہ عبد الرزاق: ۱۳۹۸۲(انظر: ۵۸۷۷)

Related Chapters

795
1
اس چیز کا بیان کہ کس کی شہادت پر حکم لگانا جائز ہے اور کس کی شہادت پر ناجائز
Musnad Ahmad
2
Chapter: What Has Been Related About What Is Not Allowed For The Muhrim To Wear
باب: محرم کے لیے جن چیزوں کا پہننا جائز نہیں ان کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What fulfills the rights of the foster relationship (from suckling)
باب: حق رضاعت کس چیز سے ادا ہوتا ہے
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell What One Does Not Have
باب: جو چیز موجود نہ ہو اس کی بیع جائز نہیں
Jam e Tirmazi
5
ان چیزوں کا بیان جن سے استنجا کرنا جائز ہے اور جن سے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
6
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
Musnad Ahmad
7
معلومیا نامعلوم چیزمیں صلح کے جائز ہونے اوردونوں صورتوں میں ہو جانے والی کمی بیشی کو معاف کردینے کا بیان
Musnad Ahmad
8
اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے
Musnad Ahmad
9
عاریۃً چیز کے جائز ہونے اور اس میں رغبت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
10
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
11
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
Musnad Ahmad
12
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
13
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
Musnad Ahmad
14
(71) CHAPTER. It is unlawful to perform ablution with Nabidh (water in which dates or grapes etc. are soaked and is not yet fermented) or with any other intoxicant.
نبیذ سے اور کسی نشہ والی چیز سے وضو جائز نہیں
Sahih Bukhari
15
(98) CHAPTER. If somebody buys something for another without his permission and the latter accepts it.
کسی نے کوئی چیز دوسرے کے لیے اس کی اجازت کے بغیر خرید لی پھر وہ راضی ہو گیا تو یہ معاملہ جائز ہے
Sahih Bukhari
16
(16) CHAPTER. It is permissible for one to give part of his wealth or some slaves of his slaves or animals in charity or as an endowment.
کسی نے اپنی کوئی چیز یا لونڈی ‘غلام یا جانور صدقہ یا وقف کیا تو جائز ہے
Sahih Bukhari
17
(15) CHAPTER. The drinking of sweet edible things (syrups etc.) and honey.
کسی میٹھی چیز کا شربت اور شہد کا شربت بنانا جائز ہے
Sahih Bukhari
18
Chapter: It is permissible to circumambulate the Ka'bah on a camel and the like, And for one who is riding to touch the (black) stone with a crooked staff and the like.
اونٹ یا کسی اور سواری پر طواف کرنا اور سوار شخص کے لیے مڑے ہوئے سرے والی چھڑی وغیرہ (کسی بھی چیز )سے حجرا سود کا استلام کرنا جائز ہے
Sahih Muslim
19
Chapter: There is no fulfillment of a vow that involves disobedience towards Allah, or a vow concerning that which a person does not own
اللہ کی نا فرمانی میں نذر پوری کرنی جائز نہیں اور نہ اس چیز میں جو بندے کے اختیار میں نہیں
Sahih Muslim
20
Chapter: The permissibility of using things that help in hunting and pursuing the enemy, but throwing small pebbles is disliked
شکار میں اور دشمن(کو نشانہ بنانے) کے لئے کسی چیز سے مدد لینا جائز ہے۔اور کنکریاں مارنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
21
Chapter: The permissibility of slaughtering with anything that makes the blood flow, except teeth and other bones
دانت اور ہر قسم کے ہڈی کے سوا ہر تیز چیز سے ،جو خون بہانے والی ہے،ذبح کرنا جائز ہے
Sahih Muslim
22
CHAPTER: Things Which Should Not Be Refused When Asked For
باب: جس چیز کا روکنا جائز نہیں اس کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
23
CHAPTER: Permitting Food In The Land Of The Enemy.
باب: دشمن کے ملک میں ( غنیمت میں ) غلہ یا کھانے کی چیز آئے تو کھانا جائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
24
CHAPTER: What Has Been Related Regarding What Is Allowed For A Testor To Give From His Wealth.
باب: وصیت کرنے والے کے لیے جو چیز ناجائز ہے اس کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
25
نمازی اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو نماز جائز ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
26
حرام اور ناجائز چیزوں کی خرید و فروخت حلال نہیں ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
27
کس چیز سے ذبح کرنا جائز ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
28
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے نکاح کا بیان اور اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جائز قرار دیا اور اپنی مخلوق کو منع کیا تاکہ ساری مخلوق پر آپ کی بزرگی اور فضیلت ظاہر ہو سکے۔
Sunnan Nisai
29
(14)Chapter: What Has Been Related Regarding] What Is Disliked For One to use for Istinja
باب: کن کن چیزوں سے استنجاء کرنا مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
30
(48)Chapter: [What has Been Related] About Permitting That
باب: عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
(49)Chapter: What Has Been Related About: Nothing Makes Water Impure
باب: پانی کو کوئی چیز نجس اور ناپاک نہیں کرتی
Jam e Tirmazi
32
(50)Chapter: Something Else For That
باب: پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
33
(58)Chapter: [What Has Been Related] About Wudu From What Has Been Altered By Fire
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو کا بیان
Jam e Tirmazi
34
(59)Chapter: [What Has Been Related] About Not Performing Wudu For What Has Been Altered By Fire
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
(90)Chapter: What Has Been Related About A Woman Who Sees In A Dream, Similar To What A Man Sees
باب: عورت کے خواب میں وہی چیز دیکھنے کا بیان جو مرد دیکھتا ہے
Jam e Tirmazi
36
(101)Chapter: What Has Been Related About The Menstruating Woman Getting Something From The Masjid
باب: حائضہ ہاتھ بڑھا کر مسجد سے کوئی چیز لے سکتی ہے
Jam e Tirmazi
37
(102)Chapter: What Has Been Related About Dislike For Engaging In Sexual Intercourse With A Menstruating Woman
باب: حائضہ سے جماع کے جائز نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Putting The Fingers In The Ears For The Adhan
باب: اذان کے وقت شہادت کی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں داخل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Buying, Selling, Loudly Seeking Out A Lost Item And Reciting Poetry In The Masjid
باب: مسجد میں خرید و فروخت کرنے، کھوئی ہوئی چیز کا اعلان کرنے اور شعر پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About 'The Salat Is Not severed By Anything'
باب: کوئی بھی چیز نماز کو باطل نہیں کرتی
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About 'Salat Is Not Severed Except By A Dog, A Donkey, And A Woman'
باب: نماز کو کتے، گدھے اور عورت نماز کے سوا کوئی اور چیز باطل نہیں کرتی
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About What Is Disliked To Face While Performing Salat, Or To Perform Salat In
باب: جن چیزوں کی طرف یا جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Talking After The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں رکعتوں کے بعد گفتگو کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About 'When The Iqamah Has Been Called For Salat Then There Is No Salat But The Obligatory'
باب: جب جماعت کھڑی ہو جائے تو فرض کے سوا کوئی نماز جائز نہیں ہے
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Talking After The Imam Descends From The Minbar
باب: منبر سے اترنے کے بعد امام کا بات چیت کرنا جائز ہے
Jam e Tirmazi
46
Chapter: (Mentioning) What Is Allowed From Walking And Actions During Voluntary Salat
باب: نفل نماز میں کس قدر چلنا اور کتنا کام کرنا جائز ہے؟
Jam e Tirmazi
47
Chapter: (What Has Been Reported About) For Whom The Zakat Is Lawful
باب: زکاۃ کس کے لیے جائز ہے؟
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About: For Whom Charity Is Not Lawful
باب: زکاۃ لینا کس کس کے لیے جائز نہیں؟
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About What It Is Recommended To Break The Fast With
باب: کس چیز سے روزہ کھولنا مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About: The Jimar Are Stoned With Pebbles Similar To Al-Khadhf
باب: جمرات کی رمی کے لیے کنکریاں ایسی ہوں کہ انگوٹھے اور شہادت والی انگلی سے پکڑ کر پھینکی جا سکیں
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

7
Musnad Ahmad
6967
۔ (۶۹۶۷)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ أَبَا حُذَیْفَۃَ تَبَنّٰی سَالِمًا وَھُوَ مَوْلٰی لِِاِمْرَأَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ کَمَا تَبَنَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَیْدًا، وَکَانَ مَنْ تَبَنّٰی رُجْلًا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ دَعَاہُ النَّاسُ ابْنَہُ وَ وَرِثَ مِنْ مِیْرَاثِہِ حَتّٰی أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {اُدْعُوْھُمْ لِآبَائِہِمْ ھُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ، فَاِنْ لَمْ تَعْلَمُوْا آبَائَ ھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ} فَرُدُّوْا إِلٰی آبَائِہِمْ، فَمَنْ لَمْ یُعْلَمْ لَہُ أَبٌ فَمَوْلًی وَأَخٌ فِیْ الدِّیْنِ، فَجَائَتْ سَہْلَۃُ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنَّا نَرٰیسَالِمًا وَلَدًا یَأْوِیْ مَعِیَ وَمَعَ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ وَیَرَانِیْ فُضُلًا (وَفِیْ لَفْظٍ: وَقَدْ بَلَغَ مَا یَبْلُغُ الرِّجَالُ) وَقَدْ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَقَالَ: ((اَرْضِعِیْہِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اَرْضِعِیْہِ تَحْرُمِیْ عَلَیْہِ۔)) فَکَانَ بِمِنْزِلَۃِ وَلَدِھَا مِنَ الرَّضَاعِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ:) فَاَرْضَعْتُہُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَکَانَ بِمَنْزِلَۃِ وَلَدِھَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ فَبِذَالِکَ کَانَتْ عَائِشَۃُ تَأْمُرُ أَخَوَاتِہَا وَبَنَاتِ أَخَوَاتِہَا أَنْیُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَۃُ أَنْ یَرَاھَا وَیَدْخُلَ عَلَیْہَا وَاِنْ کَانَ کَبِیْرًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ یَدْخُلُ عَلَیْہَا، وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُدْخِلْنَ عَلَیْہِنَّ بِتِلْکَ الرَّضَاعَۃِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ حَتّٰییَرْضَعَ فِی الْمَہْدِ وَقُلْنَ لِعَائِشَۃَ: وَاللّٰہِ! مَانَدْرِیْ لَعَلَّہَا کَانَتْ رُخْصَۃً مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِسَالِمٍ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۶۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا سالم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا، سالم انصار کی ایک عورت کا غلام تھا، اس نے اس کو آزاد کر دیا تھا اورسیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، جس طرح کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو متبنی بیٹا بنا لیا تھا، دورِجاہلیت میں لوگ ایسا کرتے تھے، پھر جو منہ بولا بیٹا بناتا تھا اس کو بیٹا کہہ کر ہی آواز دیتا تھا اور وہ وراثت کا حقدار بننا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے یہ حکم اتار دیا: {اُدْعُوْھُمْ لِآبَائِہِمْ……فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ} انہیں ان کے باپوں کے نام سے پکارو، اللہ تعالیٰ کے نزدیکیہ بات زیادہ انصا ف والی ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہیں جانتے تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔ (سورۂ احزاب:۵)اس آیت کے بعد منہ بولے بیٹے اصلی باپ کے نام کی جانب پھیر دئیے گئے، جن کے باپوں کے نام معلوم نہ تھے، ان کو دوست یا بھائی کہہ کر پکارا جاتا، سیدنا ابو حذیفہ کی اہلیہ سیدہ سہلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئیں اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو سالم کو بیٹا بنا رکھا تھا، وہ میرے اور ابو حذیفہ کے پاس آتا تھا اور کام کاج کے عام کپڑوں میں دیکھتا رہتا تھا، اب وہ بڑا ہو چکا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالی نے ان کے بارے میںیہ حکم بھی اتار دیا ہے کہ منہ بولا بیٹا، حقیقی نہیں ہوتا، انہیں ان کے باپوں کے نام سے پکارو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اس کو پانچ مرتبہ دودھ پلا دے، اس وجہ سے تو اس پر حرام ہو جائے گی اور وہ رضاعی بیٹا بن جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: پس سہلہ نے اسے پانچ مرتبہ دودھ پلایا اور یہ ان کے رضاعی بیٹا بن گیا۔ اس واقعہ سے استدلال کرتے ہوئے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا جن افراد کو دیکھنا چاہتی تھیں، اپنی بہنوں کو اور بھانجیوں کو حکم دیتیں کہ وہ ان کو دودھ پلا دیں، اگرچہ وہ بڑی عمر کے ہوتے، جب وہ اسے پانچ مرتبہ دودھ پلا دیتیں تو وہ داخل ہو سکتا تھا، مگر سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور نبیکریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دوسری ازواج مطہرات کسی کو اس رضاعت کی وجہ سے داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتی تھیں، وہ اس رضاعت کو معتبر سمجھتی تھیں، جو دودھ کی عمر میں ہوتی تھی، اور وہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہتی تھیں کہ ممکن ہے یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے نہ ہو، بلکہ صرف سیدنا سالم کے لئے ہو کہ انہوں نے بڑی عمر میں بھی دودھ پی لیا تو رضاعت ثابت ہوگئی۔
Musnad Ahmad
6958
۔ (۶۹۵۸)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلاَ أَدُلُّکَ عَلٰی اَجْمَلِ فَتَاۃٍ فِیْ قُرَیْشٍ؟ قَالَ: ((وَ مَنْ ھِیَ؟)) قُلْتُ: ابْنَۃُ حَمْزَۃَ، قَالَ: ((أَمَا عَلِمْتَ اَنَّہَا ابْنَۃُ اَخِیْ مِنَ الرَّضَاعِ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۶)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:کچھ لوگ ہمارے پاس سے گزرے، ہم نے کہا: تم کہاں جارہے ہو: انہوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایسے آدمی کی جانب بھیجا ہے، جو اپنے باپ کی بیوی سے زنا کرتا ہے، تاکہ ہم اس کو قتل کر دیں۔
Musnad Ahmad
6959
۔ (۶۹۵۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا لَکَ تَنَوَّقُ فِیْ قُرَیْشٍ وَتَدَعُنَا، قَالَ: ((وَھَلْ عِنْدَکُمْ شَیْئٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، ابْنَۃُ حَمْزَۃَ، قَالَ: ((اِنَّہَا لَا تَحِلُّ لِیْ، ھِیَ ابْنَۃُ اَخِیْ مِنَ الرَّضَاعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۲۰)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو ایسی لڑکی کا نہ بتائوں، جو قریش میں سے سب سے زیادہ خوبصورت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ کون ہے؟ میں نے کہا: سیدنا حمزہ کی بیٹی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے نہیں ہو کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ نے رضاعت کی وجہ سے وہی رشتے حرام کیے ہیں، جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں۔
Musnad Ahmad
6960
۔ (۶۹۶۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُرِیْدَ عَلَی ابْنَۃِ حَمْزَۃَ، فَقَالَ: ((إِنَّہَا ابْنَۃُ أَخِیْ مِنَ الرَّضَاعَۃِ وَیَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ الرَّحِمِ وَإِنَّہَا لَاتَحِلُّّ لِیْ۔)) (مسند احمد: ۳۰۴۳)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ! آپ قریش میں رشتے کو پسند کرتے ہیں اور ہمیںیعنی بنو ہاشم کو چھوڑ جاتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی رشتہ ہے ؟ میں نے کہا: جی ہاں، سیدنا حمزہ کی بیٹی (سلمیٰ) ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تو میرے لئے حلال نہیں ہے، کیونکہ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔
Musnad Ahmad
6963
۔ (۶۹۶۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: جَائَ نِیْ عَمِّیْ مِنَ الرَّضَاعَۃِیَسْتَأْذِنُ عَلَیَّ بَعْدَ مَاضُرِبَ الْحِجَابُ فَذَکَرَ نَحْوَہ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۳۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، میں نے انکار کر دیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی،لیکن میں نے اجازت نہ دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دے دیا کرو۔ میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، نہ کہ مرد نے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، تو اس کو اجازت دے دیا کر، وہ تیرا رضاعی چچا ہے۔
Musnad Ahmad
6966
۔ (۶۹۶۶)۔ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّ عَائِشَۃَ أَخْبَرَتْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ عِنْدَھَا وَأَنَّہَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ یَسْتَأْذِنُ فِیْ بَیْتِ حَفْصَۃَ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذَا رَجُلٌ یَسْتَأْذِنُ فِیْ بَیْتِکَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرَاہُ فُلَاناً لِعَمٍّ لِحَفْصَۃَ مِنَ الرَّضَاعَۃِ۔))، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْکَانَ فُلَانٌ حَیًّا لِعَمِّہَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ دَخَلَ عَلَیَّ؟ فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ، إِنَّ الرَّضَاعَۃَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۶۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے، میں نے ایک آدمی کی آواز سنی، وہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر داخل ہونے کی اجازت مانگ رہاتھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آدمی، آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ حفصہ کا فلاں رضاعی چچا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میرا فلاں رضاعی چچا زندہ ہوتا تو وہ مجھ پر داخل ہو سکتا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، بیشک رضاعت ان رشتوں کو حرام کر دیتی ہے، جو نسب اور ولادت کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
Musnad Ahmad
6970
۔ (۶۹۷۰)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَتْ تَقُوْلُ: أَبٰی سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُدْخِلْنَ عَلَیْہِنَّ اَحَدًا بِتِلْکَ الرَّضَاعَۃِ وَقُلْنَ لِعَائِشَۃَ: وَاللّٰہِ! مَانَرٰی ھٰذَا اِلَّا رُخْصَۃً أَرْخَصَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِسَالِمٍ خَاصَّۃً، فَمَا ھُوَ بِدَاخِلٍ عَلَیْنَا أَحَدٌ بِہٰذِہِ الرَّضَاعَۃِ وَلَا رَائِیْنَا۔ (مسند احمد: ۲۷۱۹۶)
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی تھیں: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ باقی تمام ازواجِ مطہرات نے اس سے انکار کر دیا تھا کہ سالم جیسی رضاعت کی وجہ سے کوئی آدمی ان کے پاس آئے، اور انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: ہماری تو صرف یہ رائے ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دی ہوئییہ رخصت سالم کے ساتھ خاص ہے، لہذا ایسی رضاعت کی وجہ سے نہ کوئی ہم پر داخل ہو اور نہ ہمیں دیکھے۔