TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6963 - کیا دودھ پلانے والی خاتون کے خاوند اور اس کے رشتہ داروں کے لیے بھی رضاعت کا حکم ثابت ہو جائے گا یا نہیں - نکاح کے موانع کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 4 in this chapter
کیا دودھ پلانے والی خاتون کے خاوند اور اس کے رشتہ داروں کے لیے بھی رضاعت کا حکم ثابت ہو جائے گا یا نہیں
۔ (۶۹۶۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: جَائَ نِیْ عَمِّیْ مِنَ الرَّضَاعَۃِیَسْتَأْذِنُ عَلَیَّ بَعْدَ مَاضُرِبَ الْحِجَابُ فَذَکَرَ نَحْوَہ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۳۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، میں نے انکار کر دیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی،لیکن میں نے اجازت نہ دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دے دیا کرو۔ میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، نہ کہ مرد نے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، تو اس کو اجازت دے دیا کر، وہ تیرا رضاعی چچا ہے۔
6963
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۹۶۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول

Related Chapters

112
1
خاوند کی حیثیت کے مطابق بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے، دوسرے رشتہ داروں پر اس کا حق مقدم ہے اور اس خدمت میں خاوند کا اجر و ثواب
Musnad Ahmad
2
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
Musnad Ahmad
3
(24) CHAPTER. The witness of a wet nurse.
اگر صرف دودھ پلانے والی عورت رضاعت کی گواہی دے ۔
Sahih Bukhari
4
Chapter: The virtue of spending and giving charity to relatives, spuses, children and parents, even if they are idolaters
رشتہ داروں ‘خاوند‘اولاد ‘اور والدین پرچاہے وہ کافر ہوں ‘خرچ کرنے اور صدقہ کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
5
CHAPTER: Does Breastfeeding Less Than Five Times Establish Fosterage?
باب: کیا پانچ گھونٹ سے کم دودھ پلانے سے حرمت ثابت ہو گی ؟
Sunnan Abu Dawood
6
CHAPTER: Testimony with regard to breastfeeding.
باب: رضاعت ( دودھ پلانے ) کی گواہی کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
7
رضاعت (دودھ پلانے) سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں
Sunnan Ibn e Maja
8
باب: عورت کے دودھ پلانے سے اس کے شوہر سے بھی رشتہ قائم ہوتا ہے۔
Sunnan Nisai
9
Chapter: What Has Been Related About Charity For Near Relatives
باب: رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
11
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
Musnad Ahmad
12
غیلہ کی کراہت اور اس کی وجہ سے عزل کی رخصت کا بیان غیلہ: دودھ پلانے کی مدت میں بیوی سے مباشرت کرنا غیلہ کہلاتا ہے۔
Musnad Ahmad
13
جب غیر حاملہ خاتون کا خاوند فوت ہو گا تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہو گی، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں تو وہ چار ماہ دس دن انتظار کیا کرے۔
Musnad Ahmad
14
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
Musnad Ahmad
15
(44) CHAPTER. The giving of Zakat to relatives.
اپنے رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا
Sahih Bukhari
16
(17) CHAPTER. The proof of the fact that Khumus is for the lmam (i.e., ruler), and taht he has the right to give thereof to some of his relatives to exclusion of others. Whatr the Prophet (p.b.u.h) distributed to Bani Al-Muttalib and Bani Hashim from the Khumus of the Khaibar booty.
اس کی دلیل کہ خمس میں امام کو اختیار ہے وہ اسے اپنے بعض ( مستحق ) رشتہ داروں کو بھی دے سکتا ہے
Sahih Bukhari
17
(12) CHAPTER. The virtues of the relatives of Allah's Messenger . And the merits of Fatima the daughter of the Prophet.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہداروں کے فضائل اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کا بیان
Sahih Bukhari
18
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
Sahih Muslim
19
Chapter: It is permissible to have intercourse with a breastfeeding woman (Ghilah), and 'Azl is disliked
غیلہ یعنی دودھ پلانے والی عورت سے صحبت کرنا جائز ہے اور عزل کرنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
20
Chapter: Becoming Mahram is established by Five Breastfeedings
پانچ دفعہ دودھ پلانے سے حرمت واقع ہو جاتی ہے
Sahih Muslim
21
جنین کی دیت اور قتل خطا اورقتل شبہ عمد میں مجرم کے عاقلہ (باپ کی طرف سے عصبہ رشتہ داروں )پر دیت واجب ہے
Sahih Muslim
22
CHAPTER: Foster-Feeding Prohibits What Lineage Prohibits.
باب: دودھ پلانے سے وہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔
Sunnan Abu Dawood
23
CHAPTER: Giving At The Time Of Weaning.
باب: دودھ چھڑانے کے وقت دودھ پلانے والی کو انعام دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
24
CHAPTER: What Has Been Related About Abrogating The Will For The Parents And Near Relatives.
باب: ماں باپ اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
25
CHAPTER: An Oath To Sever Ties Of Kinship.
باب: رشتہ داروں سے بے تعلقی کی قسم کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
26
حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے روزہ نہ رکھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
27
عورت کی دیت اس کے عصبہ (باپ کے رشتہ داروں) پر ہے اور اس کی میراث اس کی اولاد کو ملے گی
Sunnan Ibn e Maja
28
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ کا بیان۔
Sunnan Nisai
29
باب: رشتہ داروں کو صدقہ دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
30
باب: بڑے کو دودھ پلانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
31
باب: دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
32
Chapter: What Has Been Related About: Charity Is Taken from The Rich To Be Distributed To The Poor
باب: مالداروں سے صدقہ لے کر فقراء و مساکین کو لوٹانے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: (What Has Been Related About) The Indebted And Others For Whom Charity Is Lawful
باب: قرض داروں اور دیگر لوگوں میں سے کس کس کے لیے زکاۃ حلال ہے؟
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The One Providing Water For People Is The Last Of Them To Drink
باب: ساقی (پلانے والا) سب سے آخر میں پیئے گا؟
Jam e Tirmazi
35
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
36
نجاست سے گزرنے والی خاتون کے کپڑے کے نچلے حصے کو پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
جن جانداروں میں بہنے والا خون نہ ہو،ان کی طہارت کا بیان، وہ زندہ ہوںیا مردہ
Musnad Ahmad
38
حیض کی وجہ سے ممنوعہ امور اور حائضہ خاتون کے عبادات کی قضائی دینے کا بیان
Musnad Ahmad
39
ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے ، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
Musnad Ahmad
40
حائضہ کی گود میں قرآن مجید کی تلاوت کے جواز اور ایسی خاتون کے مسجد میں داخل ہونے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
41
جس عورت کا خاوند غائب ہو، اس پر (مرد) کے داخل ہونے کی ممانعت اس کا سبب اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
42
قرض داروں کو زکوۃ دینا
Musnad Ahmad
43
خاوند کی موجودگی میں بیوی کا اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
44
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
45
طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہو جانے والی خاتون کا حکم
Musnad Ahmad
46
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
Musnad Ahmad
47
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
Musnad Ahmad
48
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
Musnad Ahmad
49
زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو
Musnad Ahmad
50
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

40
Musnad Ahmad
884
۔ (۸۸۴)۔عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ (بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ) قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَۃَ مِنَ الرَّضَاعِ فَسَأَلَہَا أَخُوہَا عَنِ غُسْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَتْ بِاِنَائٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ فَاغْتَسَلَتْ وَأَفْرَغَتْ عَلٰی رَأْسِہَا ثَلَاثًا وَبَیْنَنَا وَبَیْنَہَا الْحِجَابُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۹۳۴)
ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اور سیدہ عائشہؓکا رضاعی بھائی، سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئے، رضاعی بھائی نے ان سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے غسل کے بارے میں سوال کیا، پس انھوں نے صاع کے بقدر برتن منگوا کر غسل کیا اور اپنے سر پر تین چلو ڈالے، جبکہ ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔
Musnad Ahmad
8722
۔ (۸۷۲۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ: أَ نَّ أَ زْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کُنَّ یَخْرُجْنَ بِاللَّیْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَی الْمَنَاصِعِ وَہُوَ صَعِیدٌ أَ فْیَحُ، وَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَقُولُ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : احْجُبْ نِسَائَکَ، فَلَمْ یَکُنْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْعَلُ، فَخَرَجَتْ سَوْدَۃُ بِنْتُ زَمْعَۃَ زَوْجُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً مِنْ اللَّیَالِی عِشَائً، وَکَانَتْ امْرَأَ ۃً طَوِیلَۃً، فَنَادَاہَا عُمَرُ: أَ لَا قَدْ عَرَفْنَاکِ یَا سَوْدَۃُ! حِرْصًا عَلَی أَ نْ یُنْزَلَ الْحِجَابُ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَأُنْزِلَ الْحِجَابُ۔ (مسند احمد: ۲۶۳۹۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویاں قضائے حاجت کے لئے باہر مناصع کی جانب نکلتی تھیں،یہ ایک وسیع میدان تھا، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہتے رہتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسا نہیں کیا، ایک رات سیدہ سودہ بنت زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عشاء کے وقت باہر نکلیں، وہ ایک لمبے قد والی خاتون تھیں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: خبردار! اے سودہ! ہم نے تمہیں پہچان لیا ہے۔ ان کا مقصد یہی تھا کہ پردے کا حکم نازل ہو، پس پردہ کا حکم نازل ہو گیا۔
Musnad Ahmad
11404
۔ (۱۱۴۰۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: خَرَجَتْ سَوْدَۃُ لِحَاجَتِہَا لَیْلًا بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَیْہِنَّ الْحِجَابُ، قَالَتْ: وَکَانَتْ امْرَأَۃً تَفْرَعُ النِّسَائَ جَسِیمَۃً، فَوَافَقَہَا عُمَرُ فَأَبْصَرَہَا فَنَادَاہَا: یَاسَوْدَۃُ! إِنَّکِ وَاللّٰہِ مَا تَخْفَیْنَ عَلَیْنَا إِذَا خَرَجْتِ فَانْظُرِی کَیْفَ تَخْرُجِینَ أَوْ کَیْفَ تَصْنَعِینَ؟ فَانْکَفَأَتْ فَرَجَعَتْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِنَّہُ لَیَتَعَشّٰی فَأَخْبَرَتْہُ بِمَا قَالَ لَہَا عُمَرُ، وَإِنَّ فِییَدِہِ لَعَرْقًا فَأُوحِیَ إِلَیْہِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْہُ وَإِنَّ الْعَرْقَ لَفِییَدِہِ، فَقَالَ: ((لَقَدْ أُذِنَ لَکُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِکُنَّ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۹۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ پردے کا حکم نازل ہو چکا تھا، اس کے بعد سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رات کے وقت قضائے حاجت کے لیے باہر گئیں۔ وہ کافی جسیم تھیں اور ان کا قد کافی طویل تھا، راستے میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مل گئے، انہوں نے ان کو دیکھا تو زور سے کہا: سودہ! اللہ کی قسم! تم جب باہر آتی ہو تو ہم سے مخفی نہیں رہ سکتیں، اب دیکھ لو کہ تم کو کیسے نکلنا چاہیےیا کیا کرنا چاہیے؟وہ وہیں سے لوٹ آئیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے، انہوں نے آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات بتلائی اور شکایت کی۔ گوشت والی ہڈی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میںہی تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کانزول شروع ہوگیا، اس کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہوا تو ابھی تک وہ ہڈی آپ کے ہاتھ ہی میں تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تمہیں اپنی ضرورت کے لیے گھر سے باہر جانے کی اجازت مل گئی ہے۔
Musnad Ahmad
11432
۔ (۱۱۴۳۲)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ، وَعُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، وَعَلْقَمَۃُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِیثِ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ قَالَ لَہَا أَہْلُ الْإِفْکِ مَا قَالُوْا فَبَرَّأَہَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، وَکُلُّہُمْ حَدَّثَنِی بِطَائِفَۃٍ مِنْ حَدِیثِہَا، وَبَعْضُہُمْ کَانَ أَوْعٰی لِحَدِیثِہَا مِنْ بَعْضٍ، وَأَثْبَتَ اقْتِصَاصًا، وَقَدْ وَعَیْتُ عَنْ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمُ الْحَدِیثَ الَّذِی حَدَّثَنِی، وَبَعْضُ حَدِیثِہِمْیُصَدِّقُ بَعْضًا، ذَکَرُوْا أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ یَخْرُجَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَیْنَ نِسَائِہِ فَأَیَّتُہُنَّ خَرَجَ سَہْمُہَا خَرَجَ بِہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَہُ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَأَقْرَعَ بَیْنَنَا فِی غَزْوَۃٍ غَزَاہَا فَخَرَجَ فِیہَا سَہْمِی فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَذٰلِکَ بَعْدَمَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ فَأَنَا أُحْمَلُ فِی ہَوْدَجِی، وَأَنْزِلُ فِیہِ مَسِیرَنَا حَتّٰی إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ غَزْوِہِ وَقَفَلَ وَدَنَوْنَا مِنَ الْمَدِینَۃِ آذَنَ لَیْلَۃً بِالرَّحِیلِ، فَقُمْتُ حِینَ آذَنُوا بِالرَّحِیلِ، فَمَشَیْتُ حَتّٰی جَاوَزْتُ الْجَیْشَ، فَلَمَّا قَضَیْتُ شَأْنِی أَقْبَلْتُ إِلَی الرَّحْلِ فَلَمَسْتُ صَدْرِی فَإِذَا عِقْدٌ مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ قَدْ اِنْقَطَعَ، فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِیْ فَاحْتَبَسَنِیْ ابْتِغَاؤُہُ وَأَقْبَلَ الرَّہْطُ الَّذِی کَانُوا یَرْحَلُونَ بِی، فَحَمَلُوا ہَوْدَجِی فَرَحَلُوہُ عَلٰی بَعِیرِی الَّذِی کُنْتُ أَرْکَبُ، وَہُمْ یَحْسَبُونَ أَنِّی فِیہِ، قَالَتْ: کَانَتِ النِّسَائُ إِذْ ذَاکَ خِفَافًا لَمْ یُہَبِّلْہُنَّ وَلَمْ یَغْشَہُنَّ اللَّحْمُ، إِنَّمَا یَأْکُلْنَ الْعُلْقَۃَ مِنْ الطَّعَامِ، فَلَمْ یَسْتَنْکِرْ الْقَوْمُ ثِقَلَ الْہَوْدَجِ حِینَ رَحَلُوہُ وَرَفَعُوہُ، وَکُنْتُ جَارِیَۃً حَدِیثَۃَ السِّنِّ، فَبَعَثُوا الْجَمَلَ وَسَارُوا، فَوَجَدْتُ عِقْدِی بَعْدَمَا اسْتَمَرَّ الْجَیْشُ، فَجِئْتُ مَنَازِلَہُمْ وَلَیْسَ بِہَا دَاعٍ وَلَا مُجِیبٌ، فَیَمَّمْتُ مَنْزِلِی الَّذِی کُنْتُ فِیہِ وَظَنَنْتُ أَنَّ الْقَوْمَ سَیَفْقِدُونِی فَیَرْجِعُوا إِلَیَّ، فَبَیْنَمَا أَنَا جَالِسَۃٌ فِی مَنْزِلِی غَلَبَتْنِی عَیْنِی فَنِمْتُ، وَکَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِیُّ، ثُمَّ الذَّکْوَانِیُّ قَدْ عَرَّسَ وَرَائَ الْجَیْشِ، فَأَدْلَجَ فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِی فَرَأٰی سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ فَأَتَانِی فَعَرَفَنِی حِینَ رَآنِی وَقَدْ کَانَ یَرَانِی قَبْلَ أَنْ یُضْرَبَ عَلَیَّ الْحِجَابُ، فَاسْتَیْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِہِ حِینَ عَرَفَنِی فَخَمَّرْتُ وَجْہِی بِجِلْبَابِی، فَوَاللّٰہِ! مَا کَلَّمَنِی کَلِمَۃً وَلَا سَمِعْتُ مِنْہُ کَلِمَۃً غَیْرَ اسْتِرْجَاعِہِ، حَتّٰی أَنَاخَ رَاحِلَتَہُ فَوَطِئَ عَلٰییَدِہَا فَرَکِبْتُہَا فَانْطَلَقَ یَقُودُ بِی الرَّاحِلَۃَ حَتّٰی أَتَیْنَا الْجَیْشَ بَعْدَمَا نَزَلُوا مُوغِرِینَ فِی نَحْرِ الظَّہِیرَۃِ فَہَلَکَ مَنْ ہَلَکَ فِی شَأْنِی، وَکَانَ الَّذِی تَوَلّٰی کِبْرَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أُبَیِّ ابْنِ سَلُولَ، فَقَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَاشْتَکَیْتُ حِینَ قَدِمْنَا شَہْرًا وَالنَّاسُ یُفِیضُونَ فِی قَوْلِ أَہْلِ الْإِفْکِ، وَلَمْ أَشْعُرْ بِشَیْئٍ مِنْ ذٰلِکَ، وَہُوَ یُرِیبُنِی فِی وَجَعِی أَنِّی لَا أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللُّطْفَ الَّذِی کُنْتُ أَرٰی مِنْہُ حِینَ أَشْتَکِی، إِنَّمَا یَدْخُلُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیُسَلِّمُ ثُمَّ یَقُولُ: ((کَیْفَ تِیکُمْ)) فَذَاکَ یَرِیبُنِی وَلَا أَشْعُرُ بِالشَّرِّ حَتّٰی خَرَجْتُ بَعْدَمَا نَقِہْتُ، وَخَرَجَتْ مَعِی أُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ وَہُوَ مُتَبَرَّزُنَا وَلَا نَخْرُجُ إِلَّا لَیْلًا إِلٰی لَیْلٍ، وَذٰلِکَ قَبْلَ أَنْ تُتَّخَذَ الْکُنُفُ قَرِیبًا مِنْ بُیُوتِنَا وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الْأُوَلِ فِی التَّنَزُّہِ، وَکُنَّا نَتَأَذَّی بِالْکُنُفِ أَنْ نَتَّخِذَہَا عِنْدَ بُیُوتِنَا، وَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَہِیَ بِنْتُ أَبِی رُہْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَأُمُّہَا بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ خَالَۃُ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، وَابْنُہَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَۃَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، وَأَقْبَلْتُ أَنَا وَبِنْتُ أَبِی رُہْمٍ قِبَلَ بَیْتِی حِینَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِی مِرْطِہَا، فَقَالَتْ: تَعِسَ مِسْطَحٌ، فَقُلْتُ لَہَا: بِئْسَمَا قُلْتِ تَسُبِّینَ رَجُلًا قَدْ شَہِدَ بَدْرًا، قَالَتْ: أَیْ ہَنْتَاہُ أَوَلَمْ تَسْمَعِی مَا قَالَ؟ قُلْتُ: وَمَاذَا قَالَ؟ فَأَخْبَرَتْنِی بِقَوْلِ أَہْلِ الْإِفْکِ فَازْدَدْتُ مَرَضًا إِلٰی مَرَضِی، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلٰی بَیْتِی فَدَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: ((کَیْفَ تِیکُمْ؟)) قُلْتُ: أَتَأْذَنُ لِی أَنْ آتِیَ أَبَوَیَّ، قَالَتْ: وَأَنَا حِینَئِذٍ أُرِیدُ أَنْ أَتَیَقَّنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِہِمَا، فَأَذِنَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللَّہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجِئْتُ أَبَوَیَّ، فَقُلْتُ لِأُمِّی: یَا أُمَّتَاہْ! مَا یَتَحَدَّثُ النَّاسُ؟ فَقَالَتْ: أَیْ بُنَیَّۃُ! ہَوِّنِی عَلَیْکِ، فَوَاللّٰہِ لَقَلَّمَا کَانَتْ امْرَأَۃٌ قَطُّ وَضِیئَۃً عِنْدَ رَجُلٍ یُحِبُّہَا وَلَہَا ضَرَائِرُ إِلَّا کَثَّرْنَ عَلَیْہَا، قَالَتْ: قُلْتُ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! أَوَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِہٰذَا، قَالَتْ: فَبَکَیْتُ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ حَتّٰی أَصْبَحْتُ لَا یَرْقَأُ لِی دَمْعٌ وَلَا أَکْتَحِلُ بِنَوْمٍ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ أَبْکِی، وَدَعَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ وَأُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ حِینَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْیُ لِیَسْتَشِیرَہُمَا فِی فِرَاقِ أَہْلِہِ، قَالَتْ: فَأَمَّا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ فَأَشَارَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالَّذِییَعْلَمُ مِنْ بَرَائَۃِ أَہْلِہِ وَبِالَّذِییَعْلَمُ فِی نَفْسِہِ لَہُمْ مِنَ الْوُدِّ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہُمْ أَہْلُکَ وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَیْرًا، وَأَمَّا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَقَالَ: لَمْ یُضَیِّقِ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْکَ، وَالنِّسَائُ سِوَاہَا کَثِیرٌ، وَإِنْ تَسْأَلِ الْجَارِیَۃَ تَصْدُقْکَ، قَالَتْ: فَدَعَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَرِیرَۃَ قَالَ: ((أَیْ بَرِیرَۃُ! ہَلْ رَأَیْتِ مِنْ شَیْئٍیَرِیبُکِ مِنْ عَائِشَۃَ؟)) قَالَتْ لَہُ بَرِیرَۃُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ إِنْ رَأَیْتُ عَلَیْہَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِصُہُ عَلَیْہَا أَکْثَرَ مِنْ أَنَّہَا جَارِیَۃٌ حَدِیثَۃُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِینِ أَہْلِہَا فَتَأْتِی الدَّاجِنُ فَتَأْکُلُہُ، فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُبَیٍّ ابْنِ سَلُولَ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ: ((یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِینَ مَنْ یَعْذِرُنِی مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِی أَذَاہُ فِی أَہْلِ بَیْتِی، فَوَاللّٰہِ! مَا عَلِمْتُ عَلٰی أَہْلِی إِلَّا خَیْرًا، وَلَقَدْ ذَکَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَیْہِ إِلَّا خَیْرًا، وَمَا کَانَ یَدْخُلُ عَلٰی أَہْلِی إِلَّا مَعِی)) فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِیُّ فَقَالَ: لَقَدْ أَعْذِرُکَ مِنْہُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنْ کَانَ مِنْ الْأَوْسِ ضَرَبْنَا عُنُقَہُ وَإِنْ کَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنَ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَکَ، قَالَتْ: فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ وَہُوَ سَیِّدُ الْخَزْرَجِ وَکَانَ رَجُلًا صَالِحًا وَلٰکِنْ اجْتَہَلَتْہُ الْحَمِیَّۃُ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ: لَعَمْرُ اللّٰہِ لَا تَقْتُلُہُ وَلَا تَقْدِرُ عَلٰی قَتْلِہِ، فَقَامَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ وَہُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ: کَذَبْتَ لَعَمْرُ اللّٰہِ لَنَقْتُلَنَّہُ فَإِنَّکَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِینَ، فَثَارَ الْحَیَّانِ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَتّٰی ہَمُّوا أَنْ یَقْتَتِلُوا وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائِمٌ عَلَی الْمِنْبَرِ، فَلَمْ یَزَلْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُخَفِّضُہُمْ حَتّٰی سَکَتُوا وَسَکَتَ، قَالَتْ: وَبَکَیْتُیَوْمِی ذَاکَ لَا یَرْقَأُ لِی دَمْعٌ وَلَا أَکْتَحِلُ بِنَوْمٍ، ثُمَّ بَکَیْتُ لَیْلَتِی الْمُقْبِلَۃَ لَا یَرْقَأُ لِی دَمْعٌ وَلَا أَکْتَحِلُ بِنَوْمٍ، وَأَبَوَایَیَظُنَّانِ أَنَّ الْبُکَائَ فَالِقٌ کَبِدِی، قَالَتْ: فَبَیْنَمَا ہُمَا جَالِسَانِ عِنْدِی وَأَنَا أَبْکِی اِسْتَاْذَنَتْ عَلَیَّ امْرَأَۃٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأُذِنَتْ لَھَا فَجَلَسَتْ تَبْکِیْ مَعِی، فَبَیْنَمَا نَحْنُ عَلٰی ذٰلِکَ دَخَلَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ، قَالَتْ: وَلَمْ یَجْلِسْ عِنْدِی مُنْذُ قِیلَ لِی مَا قِیلَ، وَقَدْ لَبِثَ شَہْرًا لَا یُوحٰی إِلَیْہِ فِی شَأْنِی شَیْئٌ، قَالَتْ: فَتَشَہَّدَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ جَلَسَ ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ یَا عَائِشَۃُ! فَإِنَّہُ قَدْ بَلَغَنِی عَنْکِ کَذَا وَکَذَا، فَإِنْ کُنْتِ بَرِیئَۃً فَسَیُبَرِّئُکِ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنْ کُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِی اللّٰہَ ثُمَّ تُوبِی إِلَیْہِ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبٍ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، قَالَتْ: فَلَمَّا قَضٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَقَالَتَہُ قَلَصَ دَمْعِی حَتّٰی مَا أُحِسُّ مِنْہُ قَطْرَۃً، فَقُلْتُ لِأَبِی: أَجِبْ عَنِّی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیمَا قَالَ، فَقَالَ: مَا أَدْرِی وَاللّٰہِ مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ لِأُمِّی: أَجِیبِی عَنِّی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: وَاللّٰہِ مَا أَدْرِی مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: فَقُلْتُ وَأَنَا جَارِیَۃٌ حَدِیثَۃُ السِّنِّ لَا أَقْرَأُ کَثِیرًا مِنَ الْقُرْآنِ: إِنِّی وَاللّٰہِ قَدْ عَرَفْتُ أَنَّکُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ بِہٰذَا حَتَّی اسْتَقَرَّ فِی أَنْفُسِکُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِہِ، وَلَئِنْ قُلْتُ لَکُمْ: إِنِّی بَرِیئَۃٌ وَاللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَعْلَمُ أَنِّی بَرِیئَۃٌ لَا تُصَدِّقُونِی بِذٰلِکَ، وَلَئِنْ اعْتَرَفْتُ لَکُمْ بِأَمْرٍ وَاللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَعْلَمُ أَنِّی بَرِیئَۃٌ تُصَدِّقُونِی، وَإِنِّی وَاللّٰہِ مَا أَجِدُ لِی وَلَکُمْ مَثَلًا إِلَّا کَمَا قَالَ أَبُو یُوسُفَ: {فَصَبْرٌ جَمِیلٌ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُونَ} قَالَتْ: ثُمَّ تَحَوَّلْتُ فَاضْطَجَعْتُ عَلٰی فِرَاشِی، قَالَتْ: وَأَنَا وَاللّٰہِ حِینَئِذٍ أَعْلَمُ أَنِّی بَرِیئَۃٌ وَأَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ مُبَرِّئِی بِبَرَاء َتِی، وَلٰکِنْ وَاللّٰہِ مَا کُنْتُ أَظُنُّ أَنْ یَنْزِلَفِی شَأْنِی وَحْیٌیُتْلٰی وَلَشَأْنِی کَانَ أَحْقَرَ فِی نَفْسِی مِنْ أَنْ یَتَکَلَّمَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیَّ بِأَمْرٍ یُتْلٰی، وَلٰکِنْ کُنْتُ أَرْجُو أَنْ یَرٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی النَّوْمِ رُؤْیَایُبَرِّئُنِی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہَا، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ مَا رَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَجْلِسِہِ، وَلَا خَرَجَ مِنْ أَہْلِ الْبَیْتِ أَحَدٌ حَتّٰی أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی نَبِیِّہِ، وَأَخَذَہُ مَا کَانَ یَأْخُذُہُ مِنَ الْبُرَحَائِ عِنْدَ الْوَحْیِ حَتّٰی إِنَّہُ لَیَتَحَدَّرُ مِنْہُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنِ الْعَرَقِ فِی الْیَوْمِ الشَّاتِی مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِی أُنْزِلَ عَلَیْہِ، قَالَتْ: فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَضْحَکُ فَکَانَ أَوَّلُ کَلِمَۃٍ تَکَلَّمَ بِہَا أَنْ قَالَ: ((أَبْشِرِییَا عَائِشَۃُ! أَمَّا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ بَرَّأَکِ)) فَقَالَتْ لِی أُمِّی: قُومِی إِلَیْہِ، فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَا أَقُومُ إِلَیْہِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَلَا أَحْمَدُہُ وَلَا أَحْمَدُکُمَا لَقَدْ سَمِعْتُمُوہُ فَمَا أَنْکَرْتُمُوہُ وَلَا غَیَّرْتُمُوہُ) وَلَا أَحْمَدُ إِلَّا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ ہُوَ الَّذِی أَنْزَلَ بَرَاء َتِی، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الَّذِینَ جَائُ وْا بِالْإِفْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ} عَشْرَ آیَاتٍ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ہٰذِہِ الْآیَاتِ بَرَائَ تِی قَالَتْ: فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَکَانَ یُنْفِقُ عَلٰی مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِہِ مِنْہُ وَفَقْرِہِ: وَاللّٰہِ لَا أُنْفِقُ عَلَیْہِ شَیْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِی قَالَ لِعَائِشَۃَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا یَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ إِلٰی قَوْلِہِ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ} فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: وَاللّٰہِ إِنِّی لَأُحِبُّ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لِی فَرَجَعَ إِلٰی مِسْطَحٍ النَّفَقَۃَ الَّتِی کَانَ یُنْفِقُ عَلَیْہِ، وَقَالَ: لَا أَنْزِعُہَا مِنْہُ أَبَدًا، قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَلَ زَیْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَمْرِی: ((وَمَا عَلِمْتِ أَوْ مَا رَأَیْتِ أَوْ مَا بَلَغَکِ)) قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَحْمِی سَمْعِی وَبَصَرِی، وَأَنَا مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَیْرًا، قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَہِیَ الَّتِی کَانَتْ تُسَامِینِی مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَصَمَہَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْوَرَعِ، وَطَفِقَتْ أُخْتُہَا حَمْنَۃُ بِنْتُ جَحْشٍ تُحَارِبُ لَہَا فَہَلَکَتْ فِیمَنْ ہَلَکَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: فَہٰذَا مَا انْتَہٰی إِلَیْنَا مِنْ أَمْرِ ہٰؤُلَاء ِ الرَّہْطِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۴۱)
امام زہری نے کہا:مجھے سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، علقمہ بن وقاص، عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے زوجۂ نبی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا واقعہ بیان کیا ،جب ان کے متعلق اہل افک نے ان پر الزام تراشی کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی براء ت نازل فرمائی، زہری نے کہا کہ میرے ان تمام مشائخ نے اس حدیث کا تھوڑا تھوڑا حصہ بیان کیا، ان میں سے بعض دوسروں کی بہ نسبت اس واقعہ کو زیادہیاد رکھنے والے اور بہتر طور پر بیان کرنے والے تھے۔ ان مشائخ میں سے ہر ایک سے میں نے وہ یاد کی ہے، ان میں سے بعض کا بیان دوسرے بعض کے بیان کی تصدیق کرتا ہے، ان حضرات نے بیان کیا کہ زوجۂ نبی ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ ڈالتے، جس کے نام کا قرعہ نکل آتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر میں اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ آپ ایک غزوہ کے لیے جانے لگے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی۔ اس میں میرا نام نکل آیا۔ تو رسول اللہ کے ہمراہ سفر پر میں روانہ ہوئی۔ یہ واقعہ نزول حجاب سے بعد کا ہے۔ میں ہودج میں ہوتی۔ دوران سفر اسی طرح مجھے اونٹ سے اتارا اور اٹھا کر سوار کیا جاتا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب غزوہ سے فارغ ہو کر واپس روانہ ہوئے اور ہم مدینہ کے قریب آ پہنچے تو آپ نے ایک رات قیام و نزول کے بعد رات کے وقت ہی روانگی کا حکم فرمایا۔ جب ان لوگوں نے روانگی کا اعلان کیا تو میں اٹھ کر لشکر سے ذرا دورقضائے حاجت کے لیے گئی۔ میں فارغ ہو کر اپنی سواری کے قریب پہنچی تو میں نے اپنے سینے پر ہاتھ لگایا ۔ تو مجھے پتہ چلا کہ ارض یمن میں مقام ظفار کی کوڑیوں سے بنا ہوا میرا ہار ٹوٹ کر کہیں گر چکا تھا۔ میں وہاں سے ادھر کو ہار کی تلاش میں واپس گئی۔ ہار کی تلاش میں مجھے دیر لگ گئی۔ جو لوگ میرا ہودج اٹھانے پر مامور تھے۔ انہوںنے آکر میرا ہودج اٹھا کر اس اونٹ پر رکھ دیا۔ جس پر میں سفر کرتی اور سوار ہوتی تھی۔ انہوںنے سمجھا کہ میں ہودج کے اندر موجود ہوں۔ ان دنوں عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں۔ ان پر گوشت کی تہیں چڑھی ہوئی نہ ہوتی تھی۔ وہ بہت کم کھانا کھایا کرتی تھیں۔ ان لوگوں نے جب ہودج کو اٹھا کر اونٹ پر رکھا تو انہیں ہودج کے وزن کا کچھ احساس نہ ہو سکا۔ میں بھی ان دنوں نو عمر تھی۔ وہ اونٹ کو اٹھا کر چل پڑے۔ لشکر روانہ ہو جانے کے بعد مجھے ہار ملا۔ میں لشکر والی جگہ آئی تو وہاں کوئی بلانے والا یا جواب دینے والا فرد بشر نہ تھا۔ تو میں اسی جگہ گئی جہاں میں ٹھہرئی ہوئی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ یہ لو گ عنقریب مجھے ہودج میں نہ پائیں گے تو میری تلاش میں ادھر ہی آئیں گے۔میں اپنی اسی جگہ بیٹھی تھی کہ مجھے نیند نے آلیا۔ اور میں سو گئی۔ صفوان بن معطل السلمی الزکوانی وہ لشکر کے پیچھے کہیں رات کے آخری حصہ میں آرام کرکے آئے۔ تو صبح کے وقت وہ اس جگہ آ پہنچے جہاں میں موجود تھی۔ انہوںنے سوئے ہوئے ایک آدمی کا ہیولا دیکھا۔ وہ میرے قریب آئے تو انہوں نے مجھے دیکھتے ہی پہنچان لیا۔ کیونکہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے قبل انہوں نے مجھے دیکھا ہوا تھا۔ انہوںنے مجھے پہنچانتے ہی بطور اظہار پریشانی بلند آواز سے انا للّٰہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ ان کی آواز سے میں بیدار ہوگئی۔ میں نے جلدی سے اپنی چادر سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ اللہ کی قسم انہوں نے مجھے ایک بھی لفظ نہ کہا اور نہ میں نے ان کی زبان سے انا للّٰہِ کے سوا دوسرا کوئی لفظ سنا۔ انہوںنے اپنا اونٹ بٹھلا کر اس کے ہاتھ پر یعنی اگلی ٹانگ پر اپنا پائوں رکھ دیا تاکہ وہ کھڑا نہ ہو۔ میں اس پر سوار ہوگئی۔ وہ مجھے سواری پر سوار کرکے آگے چلتے گئے۔ یہاں تک کہ دوپہر کے وقت جبکہ لشکر ایک مقام پر سستانے کے لیے رکا ہوا تھا۔ ہم بھی لشکر میں جا پہنچے۔ بات صرف اتنی ہی تھی لیکن میرے بارے میں باتیں کرکے جن لوگوں نے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوئے۔ ان کا سرغنہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ مدینہ منورہ پہنچ کر میں تو ایک مہینہ تک بیمار پڑی رہی۔ اور لوگ اہل افک کی باتوں میں آکر چہ میگوئیاں کرتے رہے۔ مجھے ان میں سے کسی بھی بات کا علم نہ ہوا۔ صرف اتنا تھا کہ اس سے قبل میں جب بیمار ہوتی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جس قدر توجہ میری طرف ہوتی تھی۔ اس دفعہ میں ویسی توجہ محسوس نہ کر رہی تھی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لاتے اور سلام کہہ کر صرف اتنا دریافت کرتے کہ کیسے ہو؟ اس سے مجھے کچھ شک سا گزرتا تھا۔ لیکن مجھے اس فتنہ کا اندازہ نہ تھا جو بپاہوچکا تھا۔ مجھے کافی نقاہت ہو چکی تھی کہ میں ایک دن باہر گئی۔ میرے ساتھ ام مسطح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بھی مناصع کی طرف ساتھ آئیں۔ یہ ہماری قضائے حاجت کی جگہ تھی۔ اور ہم صرف رات کو و ہی قضائے حاجت کے لیے باہر جایا کرتی تھیں۔ یہ گھروں کے قریب بیوت الخلاء بنائے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ اور قضائے حاجت کے بارے میں ہمارا معمول پہلے عربوں کا تھا۔ ہم گھروں کے قریب بیوت الخلاء بنانے میں تکلیف اور ناگواری محسوس کیا کرتے تھے۔ام مسطح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، یہ ابو رہم بن مطلب بن عبد مناف کی دختر تھیں اور ان کی ماں ضحر بن عامر کی بیٹی اور ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خالہ تھیں۔ ان کا بیٹا مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب تھا۔ میں اور ام مسطح بنت ابی رھم قضائے حاجت کے بعد میرے گھر کی طرف آرہی تھیں کہ ام مسطح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنی چادر میں الجھ کر گر گئیں۔ اور بولیں مسطح ہلاک ہو۔ میں نے ان سے کہا آپ نے بہت غلط بات کہہ دی۔ آپ ایک ایسے آدمی کو برا بھلا کہہ رہی ہیں جو کہ بدری ہے۔ انہوں نے کہا، اری! کیا تم نے اس کی بات نہیں سنی کہ اس نے کیا کہا ہے؟ میں نے پوچھا … اس نے کیا کہا ہے؟ تب انہوںنے مجھے اہل افک کی ساری بات بتلائی۔ یہ سن کر میری تو بیماری میں اضافہ ہو گیا۔ میں گھر آئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ اور سلام کہا۔ اور پوچھا کیسی ہو؟ میں نے عرض کیا کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے والدین کے ہاں چلی جائوں؟ میں اس وقت ان باتوں کے متعلق اپنے والدین سے تصدیق کرانا چاہتی تھی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے میرے والدین کے ہاں جانے کی اجازت دے دی۔ میں اپنے والدین کے ہاں آگئی۔ میں نے کہا اماں جان! لوگ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا بیٹی! صبر کرو۔ برداشت کرو۔ اللہ کی قسم! جو عورت خوبصورت ہو اور اس کا شوہر بھی اس سے محبت کرتا ہو اور اس کی سو تنیس بھی ہوں تو وہ اس کے بارے میں بہت سی باتیں بنایا کرتی ہیں ۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا سبحان اللہ! تو کیا عام لوگ بھی ایسی باتیں کرنے لگے ہیں؟ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں کہ میں ساری رات صبح تک روتی رہی۔ میرے آنسو رکتے نہ تھے۔ اور نہ آنکھوں میں نیند ہی آتی تھی۔ آخر روتے روتے صبح ہوگئی۔ ایک طویل عرصہ تک وحی بھی نازل نہ ہوئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بلوایاآپ ان سے اپنی زوجہ کو طلاق دینے کے بارے میں مشورہ کرنا چاہتے تھے۔ تو اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے علم کے مطابق زوجۂ نبی کی براء ت کا اظہار کیا البتہ علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں کی۔عورتیں اس کے علاوہ بھی بہت ہیں۔ اور اگر آپ لونڈی سے پوچھ لیں وہ آپ سے صحیح صحیح بیان کرے گی۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بلوا کر فرمایا اے بریرہ! کیا تم نے عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا میں کبھی کوئی ایسی بات دیکھی ہے جو تجھے اچھی نہ لگی ہو؟ تو بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں نے تو ان میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جو ذکر کر سکوں۔ زیادہ سے زیادہ صرف اتنا ہے کہ وہ نو عمر لڑکی ہے۔ آٹے کی طرف سے غافل ہو کر سو جاتی ہے اور بکری آکر آٹا کھا جاتی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر عبداللہ بن ابی ابن سلول کے متعلق لوگوں کے سامنے اپنی معذوری پیش کی۔ آپ نے منبر پر فرمایا اے مسلمانو! کونسا آدمی مجھے اس آدمی کے بارے میں معذور سمجھتا ہے۔ جس کی ایذاء اب تجاوز کرکے میرے اہل بیت تک جا پہنچی ہے۔ اللہ کی قسم! میں اپنے اہل کے متعلق خیر اور بہتر ہی جانتا ہوں۔ ان تہمت لگانے والوں نے ایک ایسے آدمی کا نام لیایعنی اس پر تہمت لگائی ہے اس کے متعلق بھی میں خیر اور بہترہی جانتا ہوں۔وہ میرے گھر میں میری غیر موجودگی میں کبھی نہیں آیا۔ وہ جب بھی میرے گھر آیا میرے ہم راہ ہی آیا۔ یہ سن کر سعد بن معاذ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور بولے اللہ کے رسول! میں آپ کو اس بارے میں معذور سمجھتا ہوں۔ اگر وہ قبیلۂ اوس میں سے ہو تو ہم اس کی گردن اڑانے کو تیار ہیں۔ اور اگر وہ ہمارے بھائی بند قبیلے خزرج میں سے ہو تو حکم فرمائیں ہم آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے۔ تو اس کی بات سن کر سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھے جو کہ ایک صالح آدمی تھے۔ لیکن ان پر قومی غیرت وحمیت غالب آگئی انہوںنے سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ اللہ کی قسم! تم اسے نہ تو قتل کرو گے اور نہ قتل کر سکو گے۔ یہ سن کر سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا چچا زاد اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑا ہوا اور اس نے سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ تم غلط کہہ رہے ہو۔ اللہ کی قسم! ہم ایسے آدمی کو ضرور قتل کر دیں گے۔ تم تو منافق ہو اور منافقین کا دفاع کر رہے ہو۔ قبیلہ اوس اور خزرج دونوں آپ میں الجھ گئے۔ یہاں تک کہ وہ لڑائی کے لیے تیار ہوگئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر ہی تھے۔ آپ انہیں خاموش کراتے رہے یہاں تک کہ سب لوگ خاموش ہوگئے۔ اور آپ بھی خاموش ہوگئے۔ میں اس دن بھی روتی ہی رہی۔ میرے آنسو تھمتے نہ تھے اور نہ نیند آئی تھی۔ میں اسی طرح اگلی رات بھی روتی رہی نہ آنسو رکے اور نہ نیند ہی آئی۔ میرے والدین کو یقین ہوگیا کہ میرایہ رونا میرے جگر کو پھاڑ ڈالے گا میں رو رہی تھی اور میرے والدین میرے پاس ہی بیٹھے تھے۔ اسی حال میں ایک انصاری خاتون نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔ میں نے اسے آنے کی اجازت دے دی۔ وہ بیٹھ کر میرے ساتھ رونے لگی۔ ہم اسی کیفیت میں بیٹھے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے اور سلام کہہ کر بیٹھ گئے۔ جب سے میرے متعلق اس قسم کی باتیں اور شو شے پھیلے تھے آپ میرے پاس نہ بیٹھے تھے۔ ایک مہینہ گز ر چکا تھا میرے متعلق آپ پر کچھ بھی وحی نہ آرہی تھی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرمایا پھر کہا اما بعد، عائشہ!تمہارے متعلق مجھ تک اس قسم کی باتیں پہنچی ہیں۔ اگر تم ان الزامات سے بری ہو تو اللہ تعالیٰ تمہاری براء ت کا اعلان کر دے گا۔ اور اگر تم سے کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہے تو اللہ سے معافی مانگ لو اور توبہ کرو۔ کیونکہ انسان جب گناہ کا اعتراف کرکے توبہ کرتا ہے تو اللہ بھی اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بات پوری کرلی تو میرے آنسو رک گئے۔ مجھے آنکھوں میں ایک بھی قطرہ کا احساس نہ ہوا۔ میں نے اپنے والد سے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو کچھ کہا ہے آپ میری طرف سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جواب دیں۔ تو انھوں نے کہا اللہ کی قسم مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کیا جواب دوں؟ اس کے بعد میں نے اپنی والدہ سے کہا امی جان آپ میری طرف سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جواب دیں تو انہوںنے بھی کہا اللہ کی قسم مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کیا جواب دوں؟ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں کہ میں ان دنوں نو عمر لڑکی تھی۔ زیادہ قرآن پڑھی ہوئی نہ تھی۔میں نے کہا کہ اللہ کی قسم میں جانتی ہوں کہ یہ باتیں سن سن کر تمہارے دلوں میں جاگزیں ہو چکی ہیں۔ اور تم ان کو صحیح سمجھنے لگے ہو۔ اگر میںیوں کہو کہ میں اس الزام سے بری ہوں اور اللہ تعالیٰ بھی جانتا ہے کہ میں بری ہوں تو تم میری بات کی تصدیق نہ کرو گے اور اگر میں غلطی کا اعتراف کر لوں جبکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس الزام سے بری ہوں تو تم میری تصدیق کر دو گے۔ اللہ کی قسم! میں اس موقعہ پر اپنے اور تمہارے لیے وہی مثال صادق پاتی ہوں جیسا کہ یوسفg کے والد یعقوبg نے کہا تھا: {فَصَبْرٌ جَمِیلٌ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُونَ} … صبر ہی بہتر ہے اور تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس بارے میں اللہ ہی کی مدد کا خواستگار ہوں۔ (سورۂ یوسف :۱۸) سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں: میں اتنی بات کہہ کر منہ دوسری طرف کرکے اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ اللہ کی قسم میں اس وقت بھی جانتی تھی کہ میں اس الزام سے بری ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ میری برأت کا اعلان فرما دے گا۔ لیکن اللہ کی قسم میںیہ نہ سمجھتی تھی کہ میرے بارے میںکوئی ایسی وحی نازل ہوگی جس کی تلاوت کی جائے گی۔ میں اپنے آپ کو اس سے کہیں کم اور حقیر سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے متعلق کوئی ایسی بات ارشاد فرمائے گا جس کی تلاوت کی جائے گی مجھے تو صرف اس قدر امید تھی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نیند میں کوئی خواب دکھا کر اللہ تعالیٰ اس انداز سے میری برأت کر دے گا۔ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابھی اپنی جگہ سے نہ اٹھے اور نہ گھر سے باہر تشریف لے گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل فرما دی۔ اور آپ کو پسینہ آنے لگا جیسا کہ نزول وحی کے وقت آپ کو آیا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ وحی کی شدت کیوجہ سے سردی کے دنوں میں بھی آپ کا پسینہ موتیوں کی طرح گرنے لگتا تھا۔ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ کیفیت زائل ہوئی تو آپ ہنس رہے تھے۔ آپ نے سب سے پہلے یہ بات کہی کہ عائشہ! خوش ہو جائو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری برأت کا فیصلہ نازل کیا ہے۔ تو میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ تم اٹھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف جائو۔ تو میں نے کہا کہ اللہ قسم! میں اٹھ کر آپ کی طرف نہ جائوں گی۔ دوسری روایت میںیوں ہے کہ نہ ہی میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حمد کروں گی اور نہ آپ دونوں یعنی والدین کی حمد کروں گی کیونکہ آپ لوگوں نے یہ باتیں سن کر نہ تو ان کا انکار کیا اور نہ انہیں بدلنے کی کوشش کی۔ میں صرف اللہ تعالیٰ کی حمد کروں گی جس نے میری برأت کا فیصلہ نازل کیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے: {إِنَّ الَّذِینَ جَائُ وْا بِالْإِفْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ} دس آیت نازل فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات میری برأت کے اعلان کے طور پر نازل کیں۔ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ ابو بکرصدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسطح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ رشتہ داری اور ان کے فقر کے سبب ان کو نفقہ دیا کرتے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! اب جبکہ وہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے متعلق الزام تراشی کر چکا ہے اس کے بعد میں اسے نفقہ بالکل نہ دوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَلَا یَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ إِلٰی قَوْلِہِ اَ لَا تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ } … اور تم میں سے جو لوگ بزرگی والے اور مال دار ہیں وہ اس بات کی قسم نہ اٹھائیں کہ وہ رشتے داروں کو، مساکین کو اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے آنے والوں کو صدقات نہ دیں گے۔ بلکہ انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریںکیا تمہیںیہ بات پسند نہیں کہ اللہ تمہیں بخش دے ۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ (سورۂ نور:۲۲) اس کے بعد سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے بخش دے۔ چنانچہ وہ مسطح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو نفقہ اس سے قبل دیا کرتے تھے وہ بحال کر دیا۔ اور فرمایا کہ اب میں اسے اس سے کبھی بھی منقطع نہیں کروں گا۔سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زوجہ ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے بھی میرے متعلق دریافت کیا تھا کہ تم اس کے بارے میں کیا کچھ جانتی ہو؟ تم نے ان کو کیسا دیکھایا ان کے متعلق تم تک کیا بات پہنچی ہے؟ تو انہوں نے کہا اللہ کے رسول! میں اپنے کانوں اور آنکھوں کی حفاظت کرتی ہوں۔ اللہ کی قسم! میں تو ان کے متعلق اچھا ہی جانی ہوں۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیںکہ ازواج النبی میں سے صرف یہی ایک ایسی تھیں جو میرا مقابلہ کر سکتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی پرہیزگاری کی وجہ سے کوئی ایسی ویسی بات کہنے سے محفوظ رکھا۔ البتہ ان کی خواہر حمنہ بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنی بہن کی طرف سے لڑائی میں کود پڑیں۔اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوئیں۔ ابن شھاب زہری نے کہا کہ ان لوگوں کے متعلق ہمیںیہی کچھ معلوم ہوا۔
Jam e Tirmazi
2552
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ:‏‏‏‏ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ سورة يونس آية 26 قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ نَادَى مُنَادٍ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ أَلَمْ يُبَيِّضْ وُجُوهَنَا وَيُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَنْكَشِفُ الْحِجَابُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا أَسْنَدَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَرَفَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَوْلَهُ.
Suhaib narrated concerning His (Allah's) statement: For those who do good is the best (reward) and even more- the Prophet (s.a.w) said: When the people of Paradise enter Paradise, a caller shall call out: 'Indeed you have a promise with Allah.' They will say: 'Did he not whiten our faces, save us from the Fire, and admit us into Paradise?' They will say: 'Indeed.' Then the Veil shall be lifted. He said: So, by Allah, He did not grant them anything more beloved to them than looking at Him.
صہیب رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «للذين أحسنوا الحسنى وزيادة» ( یونس: ۲۶ ) کے بارے میں فرمایا: ”جب جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا: اللہ سے تمہیں ایک اور چیز ملنے والی ہے، وہ کہیں گے: کیا اللہ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا، ہمیں جہنم سے نجات نہیں دی، اور ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں، پھر حجاب اٹھ جائے گا“، آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے انہیں کوئی ایسی چیز نہیں دی جو ان کے نزدیک اللہ کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو صرف حماد بن سلمہ نے مسند اور مرفوع کیا ہے، ۲- سلیمان بن مغیرہ اور حماد بن زید نے اس حدیث کو ثابت بنانی کے واسطہ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ان کے اپنے قول کی حیثیت سے روایت کی ہے۔
Jam e Tirmazi
3105
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ سورة يونس آية 26قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ نَادَى مُنَادٍ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُرِيدُ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا وَتُنْجِّنَا مِنَ النَّارِ وَتُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَيُكْشَفُ الْحِجَابُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏مَرْفُوعًا، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَوْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ صُهَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Narrated Suhaib: from the Prophet (ﷺ), regarding the saying of Allah Most High: And for those who have done good is the best and even more (10:26) - He (ﷺ) said: When the inhabitants of Paradise have entered Paradise a caller will call out: 'Indeed there remains for you a promise with Allah, and He wants to reward you with it.' They will say: 'Have your faces not been made bright, have we not been saved from the Fire, and have we not been admitted into Paradise?' He said: So the Veil will be lifted. He said: By Allah! Nothing given to them [by Allah] will be more beloved to them than looking at Him.
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «للذين أحسنوا الحسنى وزيادة» ”جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے اچھائی ( جنت ) ہے اور مزید برآں بھی ( یعنی دیدار الٰہی ) “ ( یونس: ۲۶ ) ، کی تفسیر اس طرح فرمائی: ”جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا: اللہ کے پاس تمہارے لیے اس کی طرف سے کیا ہوا ایک وعدہ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ تم سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر دے۔ تو وہ جنتی کہیں گے: کیا اللہ نے ہمارے چہرے روشن نہیں کر دیئے ہیں اور ہمیں آگ سے نجات نہیں دی ہے اور ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا ہے؟ ( اب کون سی نعمت باقی رہ گئی ہے؟ ) “، آپ نے فرمایا: ”پھر پردہ اٹھا دیا جائے گا“، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! اللہ نے انہیں کوئی ایسی چیز دی ہی نہیں جو انہیں اس کے دیدار سے زیادہ لذیذ اور محبوب ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حماد بن سلمہ کی حدیث ایسی ہی ہے، ۲- کئی ایک نے اسے حماد بن سلمہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ سلیمان بن مغیرہ نے یہ حدیث ثابت سے اور ثابت نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ان کے قول کی حیثیت سے روایت کی ہے اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ یہ روایت صہیب سے ہے اور صہیب رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
Mishkat
2361
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا لَمْ يَقَعِ الْحِجَابُ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْحِجَابُ؟ قَالَ: «أَنْ تَمُوتَ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ» رَوَى الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ أَحْمَدُ وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَخِيرَ فِي كِتَابِ الْبَعْثُ والنشور
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ حجاب واقع ہونے سے پہلے تک اپنے بندے کو بخشتا رہتا ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! حجاب کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی جان حالت شرک میں فوت ہو ۔‘‘ تینوں احادیث امام احمد نے روایت کیں اور امام بیہقی نے آخری حدیث ’’ کتاب البعث والنشور ‘‘ میں روایت کی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
Mishkat
5656
وَعَن صُهَيْب عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: تُرِيدُونَ شَيْئًا أَزِيدُكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا؟ أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَتُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: «فَيُرْفَعُ الْحِجَابُ فَيَنْظُرُونَ إِلَى وَجْهِ اللَّهِ فَمَا أُعْطُوا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَى رَبِّهِمْ» ثُمَّ تَلَا (لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَة) رَوَاهُ مُسلم
صہیب ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو میں تمہیں مزید عطا فرماؤں ؟ وہ عرض کریں گے : کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں بنا دیے ؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرما دیا اور تو نے ہمیں جہنم کی آگ سے نہیں بچا لیا ؟‘‘ فرمایا :’’ حجاب اٹھا لیا جائے گا تو وہ اللہ کے چہرے کا دیدار کریں گے ، انہیں جو کچھ عطا کیا گیا ان میں سے اپنے رب کا دیدار نہیں سب سے زیادہ محبوب ہو گا ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اچھے اعمال کیے ، اچھا ثواب (جنت) ہے اور زیادہ (اللہ تعالیٰ کا دیدار) ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Musnad Ahmad
8630
۔ (۸۶۳۰)۔ عَنْ صُہَیْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا دَخَلَ أَ ہْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ نُودُوْا یَا أَ ہْلَ الْجَنَّۃِ! إِنَّ لَکُمْ مَوْعِدًا عِنْدَ اللّٰہِ لَمْ تَرَوْہُ، فَقَالُوْا: وَمَا ہُوَ أَ لَمْ تُبَیِّضْ وُجُوہَنَا وَتُزَحْزِحْنَا عَنِ النَّارِ وَتُدْخِلْنَا الْجَنَّۃَ؟ قَالَ: فَیُکْشَفُ الْحِجَابُ فَیَنْظُرُونَ إِلَیْہِ فَوَاللّٰہِ! مَا أَ عْطَاہُمْ اللّٰہُ شَیْئًا أَ حَبَّ إِلَیْہِمْ مِنْہُ۔)) ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {لِلَّذِینَ أَ حْسَنُوْا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ} [یونس: ۲۶]۔ (مسند احمد: ۱۹۱۴۳)
۔ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب جنت والے جنت میں داخل ہوجائیں گے تو انہیں آواز دی جائے گی: اے جنت والو! اللہ تعالیٰ نے تم سے ایک وعدہ فرمایا تھا، جو ابھی تک پورا نہیں ہوا، وہ حیران ہو کر کہیں گے:وہ کیا وعدہ ہے، اے اللہ! کیا تو ہمارے چہرے سفید نہیں کئے، کیا ہمیں دوزخ سے نہیں بچایا ہے اور کیا ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا (ابھی تک کون سی چیز باقی ہے)؟ اتنے میں پردہ ہٹ جائے گا اور جنتی اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھنا شروع کر دیں گے۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالی نے ان کو کوئی ایسی چیز عطا نہیں کی ہو گی، جو اس دیدار سے پیاری اور محبوب ہو۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {لِلَّذِینَ أَ حْسَنُوْا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ} … جن لوگوں نے نیکی کی، انہیں اس کا صلہ ملے گا اورمزید بھی دیا جائے گا ۔