۔ (۶۳۳)۔عَنْ عُمَرَ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ: ((اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّۃِ، وَلِکُلِّ امْرِیئٍ مَا نَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُولِہِ فَہِجْرَتُہُ اِلٰی مَا ہَاجَرَ اِلَیْہِ، وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ لِدُنْیَا
یُصِیْبُہَا أَوِ امْرَأَۃٍ یَنْکِحُہَا فَہِجْرَتُہُ اِلٰی مَا ہَاجَرَ اِلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۸)
سیدنا عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف اور صرف اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے، جو وہ نیت کرے گا، پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی، پس اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی، جس کی طرف وہ ہجرت کرے گا، اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو گی، وہ اسے پا لے گا اور جس کی کسی خاتون کی خاطر ہو گی، وہ اس سے نکاح کر لے گا، بہرحال اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی، جس کی طرف وہ ہجرت کرے گا۔
Takhreej
(۶۳۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱، ومسلم: ۱۹۰۷(انظر: ۱۶۸)
Explanation
فوائد: …یہ اتنہائی اہم اور جامع حدیث ہے اور ہر نیکی کے کرنے اور ہر برائی سے بچنے میں اس حدیث ِ مبارکہ کا دخل ہو گا، نیت کی دو قسمیں ہیں، ایک نیت اعمالِ صالحہ کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے، مثلا ظہر کی چار رکعتیں، عصر کی چار رکعتیں، اِن سے پہلے والی چار چار سنتیں، فرضی روزہ، نفلی روزہ وغیرہ، ہر عمل کو شروع کرتے وقت اس کو دوسرے اعمال سے ممتاز کیا جائے گا۔ نیت کی دوسری قسم عامل کے مقصد کا تعین کرتی ہے کہ وہ عمل اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جا رہا ہے یا اس کی غرض و غایت ریاکاری، نمودو نمائش یا کسی غیر اللہ کا ڈر خوف ہے۔ چونکہ وضو بہت بڑی نیکی اور عبادت ہے، اس لیے اس کے لیے نیت کرنا بھی ضروری ہے، نیت کے بغیر وضو نہیں ہو گا۔
633
Sahih