TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

وضو کی نیت اور اس کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنے کا بیان

Chapter 4 of نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی کیفیت in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 11 · 4 Hadith
۔ (۶۳۳)۔عَنْ عُمَرَ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّۃِ، وَلِکُلِّ امْرِیئٍ مَا نَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُولِہِ فَہِجْرَتُہُ اِلٰی مَا ہَاجَرَ اِلَیْہِ، وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ لِدُنْیَا یُصِیْبُہَا أَوِ امْرَأَۃٍ یَنْکِحُہَا فَہِجْرَتُہُ اِلٰی مَا ہَاجَرَ اِلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۸)
سیدنا عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف اور صرف اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے، جو وہ نیت کرے گا، پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی، پس اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی، جس کی طرف وہ ہجرت کرے گا، اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو گی، وہ اسے پا لے گا اور جس کی کسی خاتون کی خاطر ہو گی، وہ اس سے نکاح کر لے گا، بہرحال اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی، جس کی طرف وہ ہجرت کرے گا۔
Takhreej
(۶۳۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱، ومسلم: ۱۹۰۷(انظر: ۱۶۸)
Explanation
فوائد: …یہ اتنہائی اہم اور جامع حدیث ہے اور ہر نیکی کے کرنے اور ہر برائی سے بچنے میں اس حدیث ِ مبارکہ کا دخل ہو گا، نیت کی دو قسمیں ہیں، ایک نیت اعمالِ صالحہ کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے، مثلا ظہر کی چار رکعتیں، عصر کی چار رکعتیں، اِن سے پہلے والی چار چار سنتیں، فرضی روزہ، نفلی روزہ وغیرہ، ہر عمل کو شروع کرتے وقت اس کو دوسرے اعمال سے ممتاز کیا جائے گا۔ نیت کی دوسری قسم عامل کے مقصد کا تعین کرتی ہے کہ وہ عمل اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جا رہا ہے یا اس کی غرض و غایت ریاکاری، نمودو نمائش یا کسی غیر اللہ کا ڈر خوف ہے۔ چونکہ وضو بہت بڑی نیکی اور عبادت ہے، اس لیے اس کے لیے نیت کرنا بھی ضروری ہے، نیت کے بغیر وضو نہیں ہو گا۔
633
Sahih
۔ (۶۳۴)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَا وُضُوئَ لَہُ وَلَا وُضُوئَ لِمَنْ لَمْ یَذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۹۴۰۸)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس آدمی کی کوئی نماز نہیں ، جس کا وضو نہیں اور اس آدمی کا کوئی وضو نہیں، جو وضو پر بِسْمِ اللّٰہِ نہیں پڑھے گا۔
Takhreej
(۶۳۴) تخریج: قال الالبانی: صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۰۱، وابن ماجہ: ۳۹۹ (انظر: ۹۴۱۸)
Explanation
فوائد: …حافظ ابن صلاح نے کہا: اِن احادیث کے مجموعہ سے وہی کچھ ثابت ہوتا ہے، جو کچھ حسن حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ (النتائج لابن حجر: ۱/ ۲۳۷) حافظ ابن حجر نے کہا: ان احادیث کے مجموعہ سے پیدا ہونے والی قوت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس مسئلہ کی کوئی اصل ہے۔ (التلخیص الحبیر: ۱/ ۷۵)
634
Sahih
۔ (۶۳۵)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا وُضُوْئَ لِمَنْ لَمْ یَذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ)) (مسند أحمد:۱۱۳۹۱)
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس آدمی کا کوئی وضو نہیں ، جو اس پر بِسْمِ اللّٰہِ نہیں پڑھے گا۔
Takhreej
(۶۳۵) تخریج: قال الالبانی: حسن ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۹۷(انظر: ۱۱۳۷۱)
Explanation
فوائد: …ابن ہمام حنفی نے اس حدیث کو حسن قرار دے کر وضو کے شروع میں بسم اللّٰہ پڑھنا واجب قرار دیا۔ (شرح فتح القدیر: ۱/۲۳) اور ابن نجیم حنفی نے بھی حسن کہا۔ (البحر الرائق: ۱/۱۸)
635
Sahih
۔ (۶۳۶)۔عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ حُوَیْطِبٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِی جَدَّتِیْ أَ نَّہَا سَمِعَتْ أَبَاہَا یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَاصَلٰوۃَ لِمَنْ لَا وُضُوئَ لَہُ، وَلَا وُضُوئَ لِمَنْ لَّمْ یَذْکُرِاسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ، وَلَا یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ مَنْ لَا یُؤْمِنُ بِیْ وَلَا یُؤْمِنُ بِیْ مَنْ لَا یُحِبُّ الْأَنْصَارَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۶۲۴)
رباح بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ ان کی دادی نے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زیدؓ) سے سنا کہ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے وضوء پر بِسْمِ اللّٰہِ نہیں پڑھی، اس کا کوئی وضو نہیں اور جو شخص میں (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پرایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں سکے گا۔
Takhreej
(۶۳۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف ابی ثفال المری۔ أخرجہ مختصرا الترمذی: ۲۵، وابن ماجہ: ۳۹۸ (انظر: ۲۳۲۳۶)
Explanation
فوائد: …نیز سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے صحابہ سے فرمایا: ((تَوَضَّئُوْا بِسْمِ اللّٰہِ۔)) … بسم اللہ پڑھ کر وضوء کرو ۔ (نسائی: ۷۸)ان احادیث سے معلوم ہوا کہ وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے، نیز صرف بِسْمِ اللّٰہ کے الفاظ ادا کرنے چاہئیں، نہ کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمَ کے۔
636
Zaeef