TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

پگڑی اور تساخین پر مسح کرنے کا بیان

Chapter 11 of نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی کیفیت in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 11 · 8 Hadith
۔ (۶۷۴)۔عَنْ ثَوْبَانَ (مَوْلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَرِیَّۃً فَأَصَابَہُمُ الْبَرْدُ، فَلَمَّا قَدِمُوْا عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَکَوْا اِلَیْہِ مَا أَصَابَہُم مِنَ الْبَرْدِ فَأَمَرَہُمْ أَنْ یَمْسَحُوْا عَلٰی الْعَصَائِبِ وَالتَّسَاخِینِ۔ (مسند أحمد: ۲۲۷۴۲)
مولائے رسول سیدنا ثوبانؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک لشکر بھیجا، ان کو اس سفر میں سردی محسوس ہوئی، جب وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس واپس آئے تو انھوں نے سردی کی شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا کہ پگڑیوں اور تساخین پر مسح کر لیا کریں۔
Takhreej
(۶۷۴) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۶ (انظر: ۲۲۳۸۳)
674
Sahih
۔ (۶۷۵)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ وَعَلٰی الْخِمَارِ یَعْنِیْ الْعِمَامَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۷۸۳)
سیدنا ثوبانؓ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو وضوکرتے ہوئے دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے موزوں اور پگڑی پر مسح کیا۔
Takhreej
(۶۷۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۶(انظر: )
675
Sahih
۔ (۶۷۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّ ؓ أَنَّہُ رَاٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَسَحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ وَالْعِمَامَۃِ (وَفِیْ لَفْظٍ:) قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ عَلٰی الْخُفَّیْنِ وَالْخِمَارِ۔ (مسند أحمد: ۱۷۳۷۷)
سیدنا عمرو بن امیہ ضمریؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ ایک روایت میں ہے: وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
Takhreej
(۶۷۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۵ (انظر: ۱۷۲۴۵)
676
Sahih
۔ (۶۷۷)۔عَنْ أَبِیْ مُسْلِمٍ مَوْلٰی زَیْدِ بْنِ صَوْحَانَ الْعَبْدِیِّ قَالَ: کُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ فَرَاٰی رَجُلًا قَدْ أَحْدَثَ وَہُوَ یُرِیْدُ أَن یَنْزِ عَ خُفَّیْہِ، فَأَمَرَہُ سَلْمَانُ أَنْ یَمْسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ وَعَلٰی عِمَامَتِہِ وَیَمْسَحَ بِنَاصِیَتِہِ، وَقَالَ سَلمَانُ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ عَلٰی خُفَّیْہِ وَعَلٰی خِمَارِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۴۱۱۸)
ابو مسلم کہتے ہیں: میں سیدنا سلمان فارسیؓ کے ساتھ تھا، انھوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ بے وضو ہو گیا اور اس نے موزے اتارنا چاہے، لیکن سیدنا سلمانؓ نے اس کو حکم دیا کہ وہ موزوں اور پیشانی اور پگڑی پر مسح کر لے، پھر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
Takhreej
(۶۷۷) تخریج: المرفوع منہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ ابی شریح وابی مسلم۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۵۶۳ (انظر: ۲۳۷۱۷)
677
Sahih
۔ (۶۷۸)۔عَنْ بِلَالٍؓ وَقَدْ سَأَلَہُ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ؓ: کَیْفَ مَسَحَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی الْخُفَّیْنِ؟ قَالَ: تَبَرَّزَ ثُمَّ دَعَا بِمِطْہَرَۃٍ (أَیْ اِدَاوَۃٍ) فَغَسَلَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ ثُمَّ مَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ وَعَلٰی خِمَارِ الْعِمَامَۃِ، قَالَ عَبْدُالرَّزَّاقِ: ثُمَّ دَعَا بِمِطْہَرَۃٍ بِالْاِدَاوَۃِ۔ (مسند أحمد:۲۴۳۸۸)
سیدنا عبد الرحمن بن عوفؓ نے سیدنا بلالؓ سے سوال کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے موزوں پر کیسے مسح کیا؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے قضائے حاجت کی، پھر برتن منگوایا اور چہرے اور ہاتھوں کو دھویا اور موزوں اور پگڑی پر مسح کیا۔
Takhreej
(۶۷۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۵(انظر: ۲۳۸۹۱)
678
Sahih
۔ (۶۷۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ عَلٰی الْمُوْقَیْنِ وَالخِمَارِ۔ (مسند أحمد: ۲۴۴۱۴)
۔ (دوسر ی سند) وہ کہتے ہے: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مُوْق اور پگڑی پر مسح کیا۔
Takhreej
(۶۷۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… مُوْق : یہ موزے کی ہی ایک قسم ہے، البتہ اس کا پنڈلیوں والا حصہ کاٹا ہوا ہوتا ہے، اور ایک قول کے مطابق باریک موزے پر پہنے جانے والے موٹے موزے کو مُوْق کہتے ہیں۔
679
Sahih
۔ (۵۸۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ)۔أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: امْسَحُوْا عَلٰی الْخُفَّیْنِ وِالْخِمَارِ۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۹۰)
۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: موزوں اور پگڑی پر مسح کر لیا کرو۔
Takhreej
(۵۸۰) تخریج: حدیث صحیح من فعلہ لا من قولہ کما تقدم فی الطریق الاول والثانی
680
Sahih
۔ (۶۸۱)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ (یَصِفُ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) قَالَ: فَغَسَلَ وَجْہَہُ وَغَسَلَ ذِرَاعَیْہِ وَمَسَحَ بِنَاصِیَتِہِ وَمَسَحَ عَلَی الْعِمَامَۃِ وَعَلَی الْخُفَّیْنِ (الْحَدِیْثُ بِتَمَامِہِ تَقَدَّمَ فِی بَابِ صِفَۃِ الْوُضُوئِ)۔ (مسند أحمد:۱۸۳۴۷)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے چہرہ دھویا، اپنے بازو دھوئے، پیشانی اور پگڑی پر اور موزوں پر مسح کیا۔ پوری حدیث بَابُ صِفَۃِ الْوُضُوئِ میں گزر چکی ہے۔
Takhreej
(۶۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۸۸، ۲۹۱۸، ومسلم: ۲۷۴(انظر: ۱۸۱۶۵)
Explanation
فوائد:… درج بالا حدیث میں سر کے مسح کے دو طریقے بیان کیے گئے ہیں، ایک مکمل پگڑی پراور دوسرا سرکے اگلے حصے اور پگڑی پر، پگڑی کے بغیر سر کا مسح کرنا تو واضح ہے۔ امام ابو حنیفہ سمیت بعض ائمہ کی رائے یہ ہے کہ صرف پگڑی پر مسح کرنا جائز نہیں ہے، لیکن درج بالا اور اس موضوع سے متعلقہ دیگر احادیث سے صرف پگڑی پر مسح کرنا روزے روشن کی طرح ثابت ہو رہا ہے۔ موزوں پر مسح کرنے سے متعلقہ احکام یہ ہیں: وضو کر کے موزے پہنے جائیں، عام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مقیم کو مکمل ایک دن یعنی چوبیس گھنٹے اور مسافر کو تین دنوں تک مسح کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ پیشاب، پائخانہ، نیند اور دوسرے نواقض وضو سے جب وضو ٹوٹ جاتا ہے تو مسح کی مدت پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ موزوں کو اتارنا پڑتا ہے، لیکن جب جنابت کا غسل فرض ہو جائے تو موزے اتار کر وضو اور غسل کرنا ضروری ہے۔ مسح کرتے وقت صرف پاؤں کے ظاہری حصے پر ہاتھ پھیر اجائے۔ جرابوں کا بھی یہی حکم ہے۔ موزوں کے مخصوص اور مزید احکام حدیث نمبر (۷۲۵) سے شروع ہوں گے۔ اب ہم جرابوں پر مسح کرنے کے دلائل ذکر کرتے ہیں: (۱)…سیدنا ثوبان ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک جماعت کو باہر بھیجا، انہیں سفر میں سردی لگی، جب وہ واپس آئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سردی کی شکایت کی تو فَأَمَرَھُمْ أَنْ یَمْسَحُوْا عَلٰی الْعَصَائِبِ واَلتَّسَاخِیْنِ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا کہ وہ پگڑیوں اور تَسَاخِیْن پر مسح کر لیا کریں۔ (احمد: ۵/ ۲۷۷، ابوداود: ۱۴۶) تساخین کے معانی ہیں: گرمی پہنچانے والی چیز، وہ چمڑے کا موزہ ہو یا سوتی یا اونی جرابیں۔ امام ابن ارسلانؓ نے کہا: اصل ذالک کُلُّ مَا یُسْخَنُ بِہِ الْقَدَمُ مِنْ خُفٍّ وَجَوْرَبٍ وَنَحْوِھِمَا۔… تساخین ہر اس (۲)…سیدنا بلال ؓ کہتے ہیں: کَانَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ یَمْسَحُ عَلٰی الْخُفَّیْنِ وَالْجَوْرَبَیْنِ۔… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ موزوں اور جرابوں پر مسح کیا کرتے تھے۔ (معجم کبیر للطبرانی: ۱/ ۳۵۰) اس کی سند یزید بن ابی زیاد کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن اس کے متعدد شواہد موجود ہیں۔ (۳)…سیدنا ابو موسی اشعری ؓ بیان کرتے ہیں: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ … نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور جرابوں اور جوتیوں پر مسح کیا۔ (ابن ماجہ: ۵۶۰، بیہقی: ۱/ ۲۸۵) اس حدیث کی سند میں انقطاع ہے اور عیسی بن سنان ضعیف ہے، لیکن اس کے شواہد موجود ہیں۔ (۴)… سیدنا ابو موسی اشعری ؓ ہی بیان کرتے ہیں: اَتَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بَوَضُوئٍ فَمَسَحَ عَلٰی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ وَالْعِمَامَۃِ۔… میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس وضو کا پانی لے کر آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جرابوں اور جوتیوں اور پگڑی پر مسح کیا۔ (معجم اوسط للطبرانی: ۲/ ۶۶) (۵)… سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں: تَوَضَّأَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وَمَسَحَ عَلٰی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور جرابوں اور جوتیوں پر مسح کیا۔ (ترمذی: ۹۹، ابوداود: ۱۵۹) اس کی سند میں سفیان ثور ی مدلس ہے، لیکن دوسرے شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے۔ البتہ ابن ترکمانی حنفی (متوفی: ۸۴۵ھ) کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھیں: الجوہر النقی: ۱/ ۲۸۴) کعب بن عبد اللہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ سیدنا علی ؓ نے پیشاب کیا، پھر اپنی جرابوں اور جوتیوں پر مسح کیا۔ (الاوسط لابن المنذر: ۱/ ۴۶۲، المحلی لابن حزم: ۲/۸۴) سیدنا عمربن خطاب ؓ نے جوتیوں کے تسموں سمیت جرابوں پر مسح کیا۔ (تھذیب السنن لابن القیم:۱/۲۷۵) امام ابوداود ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا براء بن عازب سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابو امامہ، سیدنا سہل بن سعد اور سیدنا عمرو بن حریث جرابوںپر مسح کرتے تھے، اور سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی یہی عمل مروی ہے۔ (ابوداؤد) جرابوں پر مسح کے بارے میں صحابہ کا اجماع و اتفاق ہے، دیکھیں: (المغنی لابن قدامہ: ۱/ ۱۸۱، الاوسط لابن المنذر: ۱/ ۴۶۴، المحلی لابن حزم: ۲/ ۸۷) امام ترمذی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: میں نے صالح بن محمد ترمذی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابو مقاتل سمرقندی سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں امام ابو حنیفہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ہاں حاضر ہوا، وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، انھوں نے پانی منگوایا اور وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا اور کہا: میں نے آج ایسا کام کیا ہے جو پہلے نہ کرتا تھا، میں نے غیر منعّل جرابوں پر مسح کیا ہے۔ (جامع ترمذی: ۹۹) تفصیل کے لیے دیکھیں: جامع ترمذی از علامہ احمد محمد شاکر: ۱/ ۱۶۷) غیر منعّل جرابوں سے مراد وہ جرابیں ہیں، جن پر جوتا پہنا ہوا نہ ہو۔ فقہ حنفی میں قیاس پر بہت زور دیا جاتا ہے، اس مسئلہ میں قیاس کا یہی تقاضا تھا کہ جرابوں پر مسح کرنے کے جواز کو تسلیم کیا جاتا، کیونکہ موزوں اور جرابوں کی علت ایک ہے۔
681
Sahih