TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

چہرے اور ہاتھوں کے بعد کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کے جواز اور وضو میں ترتیب کے حکم کا بیان

Chapter 7 of نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی کیفیت in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 11 · 3 Hadith
۔ (۶۴۷)۔عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیکَرِبَ الْکِنْدِیِّ ؓ قَالَ: أُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَـلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ وَأُذُنَیْہِ ظَاہِرَہُمَا وَبَاطِنَہُمَا وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد: ۱۷۳۲۰)
سیدنا مقدام بن معدیکربؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس طرح وضو کیا کہ آپ نے تین دفعہ دونوں ہتھیلیاں دھوئیں، تین بار چہرہ دھویا، تین تین مرتبہ بازو دھوئے اور پھر تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور اپنے سر کا اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصوں کا مسح کیا اور پھر تین تین بار دونوں پاؤں دھوئے۔
Takhreej
(۶۴۷) تخریج: قال الالبانی: صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۱(انظر: ۱۷۱۸۸)
Explanation
فوائد:… معلوم ہو رہا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بازو دھونے کے بعد کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔ نبیٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا عام طریقۂ وضو اسی ترتیب والا ہے، جو عام اور مشہور احادیث میں مذکور ہے اور اسی طرح ہی وضو کرنا چاہیے، لیکن درج بالا روایت سے معلوم ہوا کہ اس معروف ترتیب کے بغیر بھی وضو کرنا ثابت ہے، اس لیے یہ بھی ٹھیک ہے، نتیجہ یہ ہے کہ وضو میں ترتیب کا لحاظ رکھنا مستحب ہے، ضروری نہیں۔
647
Sahih
۔ (۶۴۸)۔عَنِ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍؓقَالَتْ: کُنْتُ أُخْرِجُ لَہُ (تَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) الْمَائَ فِی ھٰذَا فَیَصُبُّ عَلٰی یَدَیْہِ ثَلَاثًا (وَفِی رِوَایَۃٍ: یَغْسِلُ یَدَیْہِ قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَہُمَا) وَیَغْسِلُ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَیُمَضْمِضُ ثَلَاثًا وَیَسْتَنْشِقُ ثَـلَاثًا وَیَغْسِلُ یَدَہُ الْیُمْنٰی ثَـلَاثًا وَالْیُسْرٰی ثَـلَاثًا، الحدیث۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۵۵)
سیدہ ربیع بن معوذؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے اس برتن میں پانی نکالتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے ہاتھوں پر تین بار بہاتے تھے، ایک روایت میں ہے: ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین دفعہ دھوتے تھے، پھر تین دفعہ چہرہ دھوتے اور تین دفعہ کلی کرتے اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھاتے، تین بار دایاں بازوں دھوتے اور تین بار بائیں بازوں کو دھوتے، ……۔
Takhreej
(۶۴۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن محمد بن عقیل۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۷، ۳۲۶، والترمذی: ۳۳، وابن ماجہ: ۳۹۰، ۴۴۰ (انظر: ۲۷۰۱۵)
648
Zaeef
۔ (۶۴۹)۔عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ قَالَ: دَعَا عُثْمَانُؓ بِمَائٍ وَہُوَ عَلَی الْمَقَاعِدِ فَسَکَبَ عَلٰی یَمِیْنِہِ فَغَسَلَہَا (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَأَفْرَغَ عَلٰی یَدَیْہِ ثَلَاثًا فَغَسَلَہَا) ثُمَّ أَدْخَلَ یَمِیْنَہُ فِی الْاِنَائِ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَـلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثَ مِرَارٍ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ وَغَسَلَ ذِرَاعَیْہِ اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہِ، الحدیث۔ (مسند أحمد: ۴۱۸)
حمران بن ابان کہتے ہیں: سیدنا عثمانؓ نے پانی منگوایا، جبکہ وہ مقاعد میں تھے، پس اپنے دائیں ہاتھ پر پانی بہا کر اس کو دھویا، ایک روایت میں ہے: اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالا اور ان کو دھویا، پھر دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور تین دفعہ اپنی ہتھیلیوں کو دھویا، پھر تین بار اپنے چہرے کو دھویا اور کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اس کو جھاڑا، پھر کہنیوں سمیت بازوؤں کو تین تین بار دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، ……۔
Takhreej
(۶۴۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۹، ومسلم: ۲۲۶ (انظر: ۴۱۸)
649
Sahih