بازوؤں کو کہنیوں سمیت دھونے، سفیدی کو لمبا کرنے، انگلیوں کا خلال کرنے اور ملنے کا بیان
Chapter 9 of نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کی کیفیت in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
ابو زرعہ کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہؓ نے پانی منگواکر وضو کیا، جب انھوں نے بازوؤں کو دھویا تو کہنیوں سے تجاوز کر گئے، اسی طرح جب پاؤں کو دھویا، تو ٹخنوں سے تجاوز کر کے پنڈلیوں کو بھی دھونے لگ گئے، میں نے کہا: یہ کیسا وضو ہے؟ انھوں نے کہا: یہ زیور اور زینت کے پہنچنے کی جگہ ہے۔
نعیم بن عبد اللہ مجمر کہتے ہیں کہ وہ مسجد کی چھت پر چڑھ کر سیدنا ابو ہریرہؓ کے پاس پہنچے، جبکہ وہ وضو کر رہے تھے، وہ (کہنیوں سے اوپر والے) بازوؤں کے حصے کو دھونے لگے، پھر مجھ پر متوجہ ہوئے اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک قیامت کے روز وضو کے آثار کی وجہ سے میری امت کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے، اس لیے تم میں سے جو آدمی اپنی سفیدی کو لمبا کرنا چاہتا ہے، وہ کرے۔ نعیم نے کہا: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ اس لیے تم میں سے جو آدمی اپنی سفیدی کو لمبا کرنا چاہتا ہے، وہ کرے۔ کے الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہیں یا سیدنا ابو ہریرہؓ کے۔
Takhreej
(۶۵۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۴۶(انظر: ۸۴۱۳)
Explanation
فوائد:… حافظ ابن قیم نے ان الفاظ کو مدرج شمار کیا ہے، شیخ البانی کا رجحان بھی اس طرف ہے، دیکھیں: ارواء الغلیل: ۹۴ حافظ ابن حجر نے کہا: دس صحابہ نے اس حدیث کو بیان کیا، ان سب نے جو آدمی اپنی سفیدی کو لمبا کرنا چاہتا ہے، وہ کرے کے الفاظ بیان نہیں کیے اور سیدنا ابو ہریرہ ؓکے شاگردوں میں سے بھی صرف نعیم مجمر نے روایت کیے۔ (فتح الباری: ۱/ ۲۳۶) اور ان کو بھی ان الفاظ کے بارے میں تردّد ہے۔
((فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَن یُطِیْلَ غُرَّتَہُ فَلْیَفْعَلْ۔)) کے متعلق بعض اہل علم کی رائے ہے کہ یہ الفاظ مدرج ہیں، مرفوع حدیث کا حصہ نہیں ہے۔ لیکن کہنیوں اور پاؤں سے سے زاید حصہ دھونا ابو ہریرہؓ کے اپنے عمل اور ان کے واسطہ سے مرفوعاً ثابت ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۴۶) میں ہے کہ ابو ہریرہؓ نے وضو کرتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ بازو دھوئے اور پاؤں کے ساتھ پنڈلیوں کو دھویا اور فرمایا: ہٰکذا رأیت رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یتوضا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس سے مذکورہ بالا جملے کے مرفوع ہونے کی تائید ہوتی ہے اور ہاتھوں کے ساتھ بازو اور پاؤں کے پنڈلیوں کو دھونا جائز اور درست ہے۔ (عبداللہ رفیق)
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ اپنی امت کے ان افراد کو کیسے پہنچانیں گے، جن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک وضو کے آثار کی وجہ سے ان کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوئے اور چتکبرے ہوں گے۔
Takhreej
(۶۵۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۴ (انظر: ۳۸۲۰)
ابو حازم کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہؓ کے پیچھے کھڑا تھا، جبکہ وہ وضو کر رہے تھے او رانھوں نے وضو کا پانی بغل تک پہنچا دیا، میں نے کہا: اے ابوہریرہ! یہ کیسا وضو ہے؟ انھوں نے کہا: اے بنو فروخ! تم لوگ یہاں ہو؟ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم یہاں موجود ہو تو میں نے یہ وضو نہیں کرنا تھا، میں نے اپنی خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: زیور اور زینت مؤمن کی اس اس جگہ تک پہنچے گی، جہاں تک وضو پہنچتا ہے۔
Takhreej
(۶۵۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۰ (انظر: ۸۸۴۰)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا امتیازی وصف بیان کیا گیا ہے، جو اِن کو قیامت کے میدان میں نصیب ہو گا اور اسی وصف کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کی شناخت کریں گے۔ ہر فرد کونماز اور وضو کا بھرپور اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ وہ اس سعادت سے محروم نہ ہو جائے۔ فروخ، حضرت ابراہیم ؑکا ایک بیٹا تھا، یہ عجموں کا باپ ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓکی اس بات کا مقصد یہ تھا کہ جس آدمی کی اقتدا کی جاتی ہو، اس کو چاہیے کہ کم فہم لوگوں کے سامنے رخصتوں اور تشدّد والے اعمال پر عمل نہ کرے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ رخصت کو مستقل حکم سمجھ کر ضرورت کے بغیر اس کو اپنا لیں اور تشدّد والے عمل کو واجب سمجھ لیں۔
ٍسیدنا لقیط بن صبرہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: جب تو وضو کرے، تو انگلیوں کا خلال کیا کر۔
سیدنا ابوایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خلال کرنے والے بہت اچھے ہیں۔ کسی نے کہا: خلال کرنے والوں سے مراد کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو وضو اور کھانے میں خلال کرتے ہیں۔
Takhreej
(۶۵۸) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، واصل بن السائب الرقاشی وابو سورۃ مجمع علی تضعیفھما، وابو سورۃ لا یعرف لہ سماع من ابی ایوب۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۲، والطبرانی فی الکبیر : ۴۰۶۱ (انظر: ۲۳۵۲۷)
Explanation
فوائد:… لیکن اس روایت کے شروع والے الفاظ صحیح ہیں، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حَبَّذَا الْمُتْخَلِّلُوْنَ مِنْ أُمَّتِی۔)) … بہت خوب ہیں میری امت کے وہ لوگ، جو خلال کرتے ہیں۔ (معجم اوسط طبرانی: ۱/ ۳۹، صحیحۃ:۲۵۶۷) معلوم ہوا کہ وضو میں ہاتھوں اور پاؤں کو دھوتے وقت ان کی انگلیوں کو خلال کرنا چاہیے، ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسری میں میں ڈال کر اور پاؤں کی انگلیوں کا چھنگلی انگلی سے خلال کرنا چاہیے۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر: ۶۹۲۔
سیدنا عبد اللہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو میں (اعضا کو) ملنے لگے۔
Takhreej
(۶۵۹) تخریج: حدیث صحیح من حدیث ام عمارۃ جدۃ عباد بن تمیم۔ أخرجہ الطیالسی: ۱۰۹۹، وابن حبان: ۱۰۸۲، وابن خزیمۃ: ۱۱۸، والحاکم: ۱/ ۱۴۴ (انظر: ۱۶۴۴۱)
Explanation
فوائد:… اعضا کو ملنے سے بعض مقامات کے خشک رہ جانے کا احتمال ختم ہو جاتا ہے ۔