TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

آداب کی کتاب - آداب کی کتاب - Book 141 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 141 of Musnad Ahmad, with 12 chapters and 71 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

71 Hadith · 12 Chapters
فطرت والی سنتوں کے ابواب
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دس چیزں فطرت سے ہیں، مونچھیں کٹوانا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈال کر اس کو جھاڑنا، ناخن تراشنا اور انگلیوں کے جوڑوں اور پوروں کو اچھی طرح دھونا، بغلوں کے بال اکھاڑنا، زیر ناف بال مونڈنا اور استنجاء کرنا۔ مصعب راوی کہتے ہیں: میں دسویں چیز بھول گیا ہوں، لگتا ہے کہ وہ کلی ہو گی۔
Takhreej
(۸۱۷۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۱(انظر: ۲۵۰۶۰)
Explanation
فوائد:… بَرَاجِم : اس کی واحد بُرْجُمَۃ ہے، اس سے مراد وہ تمام جگہیں ہیں، جہاں میل کچیل جمع ہوتا ہے اور توجہ نہ کی جائے تو پانی وہاں نہیں پہنچتا، مثلا: انگلیوں کی گرہیں اور پورے، جسم کے دیگر جوڑ اور ہتھیلی کی لکیریں وغیرہ۔
8177
Sahih
فطرت والی سنتوں کے ابواب
۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت سے ہیں، مونچھیں کاٹنا، ناخن تراشنا، بغلوں کے بال اکھاڑنا، زیر ناف بال مونڈنا اور ختنہ کروانا۔
Takhreej
(۸۱۷۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۸۹۱، ۶۲۹۷، ومسلم: ۲۵۷(انظر: ۷۱۳۹)
8178
Sahih
فطرت والی سنتوں کے ابواب
۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیر ناف بال مونڈنا، ناخن تراشنا اور مونچھیں کاٹنافطرت سے ہیں۔
Takhreej
(۸۱۷۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۸۸۸، ۵۸۹۰(انظر: ۵۹۸۸)
8179
Sahih
فطرت والی سنتوں کے ابواب
۔
۔ سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ امور فطرت سے ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈال کر اس کو جھاڑنا، مونچھیں کاٹنا، مسواک کرنا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں اور پوروں کو دھونا، بغلوں کے بال اکھاڑنا، زیر ناف بال مونڈنا، ختنہ کروانا اور وضوء کے بعد شرمگاہ پر پانی چھڑکنا۔
Takhreej
(۸۱۸۰) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۵۴(انظر: ۱۸۳۲۷)
8180
Sahih
فطرت والی سنتوں کے ابواب
۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مونچھیں کٹانے، ناخن تراشنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لئے چالیس دن کی مدت متعین کی ہے۔
Takhreej
(۸۱۸۱) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۵۸(انظر: ۱۳۱۱۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں زیادہ سے زیادہ دنوں کا تعین کیا گیا ہے، نظافت کا تقاضا یہی ہے کہ آدمی جلدی اس صفائی کا اہتمام کر لیا کرے۔
8181
Sahih
ختنہ کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو ملیح اپنے باپ اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ختنہ مردوں کے لئے تو سنت ہے اور عورتوں کے لئے عزت ہے۔
Takhreej
(۸۱۸۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، حجاج بن أرطاۃ مدلس وقد عنعن، وقد اضطرب فیہ، أخرجہ الترمذی: ۱۰۸۰(انظر: ۲۰۷۱۹)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن ذہن نشین کر لیں کہ ختنہ کی وجہ سے لذت کی حس میںکمی آ جاتی ہے، اور یہی ہماری شریعت میں مطلوب ہے کہ لذت کو بھی کم کیا جائے اور نسل کو بھی باقی رکھا جائے، یہی افراط و تفریط کے درمیان اعتدال والی راہ ہے اور ختنہ کی وجہ سے ہم بستری کا سلسلہ بھی کم وقت میںختم ہو جاتا ہے اور اس میں عورت کے لیے بھی آسانی ہے۔
8182
Zaeef
ختنہ کا بیان
۔
۔ ابو کلیب جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا میں مسلمان ہو چکا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر کفر کے بال اتار پھینک۔ دوسرے راوی نے بیان کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کفر کے بال منڈوا دے۔ مجھے ایک اور آدمی نے خبر دی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دوسرے بندے سے فرمایا: کفر کے بالوں کو اتار پھینک اور ختنہ کر۔
Takhreej
(۸۱۸۳) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۳۵۶ (انظر: ۱۵۴۳۲)
Explanation
فوائد:… شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی کہتے ہیں: اللہ تعالی بہتر جانتے ہیں، بہرحال ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا معنی و مفہوم یہ نہیں کہ مسلمان ہونے والا ہر شخص اپنے سر کے بال منڈوا دے۔ یہاں شعر الکفر کہہ کر بالوں کی کفر کی طرف اضافت کی گئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالوں کا کوئی خاص ڈیزائن تھا، جسے کافروں کی علامت سمجھا جاتا تھا، یہ علامتیں مختلف علاقوں میں مختلف ہوتی ہیں، … …۔ نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ختنہ اسلام کی علامت ہے اور اسلام قبول کرنے والے پر ختنہ کروانا واجب ہے۔ (عون المعبود: ۱/ ۲۰۸)
8183
Sahih
ختنہ کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام نے اسی (۸۰) برس کی عمر کے بعد ختنہ کیا اور تیشے کے ساتھ ختنہ کیا تھا۔
Takhreej
(۸۱۸۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۲۹۸، ومسلم: ۲۳۷۰ (انظر: ۸۲۶۴)
Explanation
فوائد:… بہتر یہی ہے کہ چھوٹی عمر میں ختنہ کروا لیا جائے، اگر کسی عذر یا علم نہ ہونے کی وجہ سے یا کفر وغیرہ کی وجہ سے ختنہ نہ کیا جا سکے تو بعد میں جب اور جیسے ممکن ہو گا، ختنہ کیا جائے گا۔
8184
Sahih
مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اپنی مونچھیں نہیں کاٹتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Takhreej
(۸۱۸۵) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۷۶۱، والنسائی: ۱/ ۱۵، ۸/ ۱۲۹(انظر: ۱۹۲۷۳)
8185
Sahih
مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی مونچھیں کاٹا کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے تمہارے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی مونچھیں کاٹا کرتے تھے۔
Takhreej
(۸۱۸۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، سماک بن حرب حسن الحدیث، الا فی روایتہ عن عکرمۃ اضطراب، أخرجہ الترمذی: ۲۷۶۰ (انظر: ۲۷۳۸)
8186
Zaeef
مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مونچھیں اچھی طرح منڈوائو اور داڑھیاں بڑھائو۔
Takhreej
(۸۱۸۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۸۹۳، ومسلم: ۲۵۹(انظر: ۴۶۵۴)
8187
Sahih
مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے بال کاٹا کرو اور اس کو چھوڑدو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد یہ تھی کہ اوپر والے ہونٹ کے بال کاٹے جائیں اور نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان والے بال چھوڑ دیئے جائیں (کیونکہ وہ داڑھی کا حصہ ہوتے ہیں، ان بالوں کو داڑھی بچہ کہتے ہیں)۔
Takhreej
(۸۱۸۸) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، لضعف ثویر بن ابی فاختہ، قال الدار قطنی: متروک، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۵۳۲۶(انظر: ۵۳۲۶)
8188
Zaeef
مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: داڑھیاں بڑھائو، مونچھیں کٹائو اور اپنے سفید بالوں کو تبدیل کرو اور اس طرح یہودو نصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو۔
Takhreej
(۸۱۹۰) صحیح، انظر لشطرہ الاول الحدیثَ السابق، والشطر الثانی أخرجہ الترمذی: ۱۷۵۲ (انظر: ۸۶۷۲)
8190
Sahih
مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اہل کتاب اپنی داڑھیاں کاٹتے ہیں اور مونچھیں بڑھاتے ہیں،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’تم اپنی مونچھیں کٹائو اور داڑھیاں بڑھائو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
Takhreej
(۸۱۹۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۹۲۴(انظر: ۲۲۲۸۳)
8191
Sahih
مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بطور مہمان ٹھہرا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بکری کے پہلو کے گوشت کے متعلق حکم دیا تو اسے بھونا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھری لی اور میرے لئے اس گوشت سے کاٹنے لگ گئے، اتنے میں سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز کی اطلاع دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھری وہیں رکھ دی اور فرمایا: بلال کے ہاتھ خاک آلود ہوں (ذرا اور ٹھہر جاتا تو کیا ہو جاتا) سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نیچے مسواک رکھ انہیں کاٹ دیا، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ان کو مسواک پر کاٹتا ہوں۔
Takhreej
(۸۱۹۲) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۱۸۸ (انظر: ۱۸۲۳۶)
Explanation
فوائد:… اس کاطریقہ یہ ہو گا کہ ہونٹ کے پاس بالوں کے نیچے مسواک رکھ کر قینچی سے بال کاٹ لیے جائیں۔
8192
Sahih
سفید بالوں کی فضیلت اور ان کو اکھاڑنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بڑھاپے کے سفید بالوں کو مت اکھاڑو، کیونکہ یہ مسلمان کا نور ہے، جو بھی مسلمان اسلام میں بوڑھا ہو جاتا ہے، تو اس کے لئے نیکی لکھی جاتی ہے اور اس کا درجہ بلند کر دیا جاتا ہے یا اس کا گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۸۱۹۳) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۴۲۰۲، وأخرجہ مختصرا النسائی: ۸/ ۱۳۶، وابن ماجہ: ۳۷۲۱، والترمذی: ۲۸۲۱ (انظر: ۶۶۷۲)
Explanation
فوائد:… سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَلشَّیْبُ نُوْرٌ فِیْ وَجْہِ الْمُسْلِمِ، فَمَنْ شَائَ فَلْیَنْتَفِ نُوْرَہٗ۔)) … سفید بال مسلمان کے چہرے کا نور ہیں، جو چاہتا ہے، وہ اپنا نور اکھاڑتا رہے۔ (شعب الایمان للبیہقی: ۲/۲۵۰/۲، صحیحہ: ۱۲۴۴)
8193
Sahih
سفید بالوں کی فضیلت اور ان کو اکھاڑنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں آخری الفاظ یوںہیں: اور اس کے ذریعہ سے برائی مٹا دی جاتی ہے۔ نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو ہمارے بزرگ کی تعظیم نہ کرے اور ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے۔
Takhreej
(۸۱۹۴) تخریج: انظر للحدیث الاول الحدیثِ بالطریق الاول، والحدیث الثانی صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۹۲۰(انظر: ۶۹۳۷)
8194
Sahih
سفید بالوں کی فضیلت اور ان کو اکھاڑنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تقریباً بیس بال سفید تھے۔
Takhreej
(۸۱۹۵) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۳۰ (انظر: ۵۶۳۳)
8195
Sahih
سفید بالوں کی فضیلت اور ان کو اکھاڑنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر مبارک اور داڑھی مبارک میں بمشکل بیس بال سفید تھے۔ اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مہندی اور کتم (ایک پودا جو سیاہ رنگ کے طور پر استعمال ہوتا ہے) ملا کر لگاتے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے صرف مہندی لگا کر بالوں کو رنگا تھا۔
Takhreej
(۸۱۹۶) تخریج: أخرجہ البخاری:۳۵۵۰، ومسلم: ۲۳۴۱(انظر: ۱۱۹۶۵)
8196
Sahih