سفید بالوں کی فضیلت اور ان کو اکھاڑنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالی کی راہ میں بوڑھا ہو جائے تو یہ بڑھاپے کی سفیدی روز قیامت اس کے لئے نور بن جائے گی۔
Takhreej
(۸۱۹۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۹۶۵، ۳۹۶۶، والنسائی: ۶/ ۲۷، والترمذی: ۱۶۳۸ (انظر: ۱۷۰۲۴)
Explanation
فوائد:… فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے میں) : عرف کا لحاظ رکھیں تو اس کا معنی جہاد ہو گا، یعنی جس نے سیاہ بالوں کی عمر سے جہاد شروع کیا اور بالوں کے سفید ہو جانے تک یہ عمل جاری رکھا، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس سے مراد ہر نیک کام ہو، کیونکہ احادیث میں مومن کے سفید بالوں کو اس کے لیے نور قرار دیا گیا ہے، جب کہ جہاد کی فضیلت تو سفید بالوں کی محتاج نہیں، وہ تو اس کے بغیر بھی فضیلت والا ہے۔ واللہ اعلم۔وہ بال ہی نور بن جائیں گے یا ان کی بنا پر نور حاصل ہو گا۔
8197
Sahih