TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

آداب کی کتاب - آداب کی کتاب - Book 141 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 141 of Musnad Ahmad, with 12 chapters and 71 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

71 Hadith · 12 Chapters
سفید بالوں کی فضیلت اور ان کو اکھاڑنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالی کی راہ میں بوڑھا ہو جائے تو یہ بڑھاپے کی سفیدی روز قیامت اس کے لئے نور بن جائے گی۔
Takhreej
(۸۱۹۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۹۶۵، ۳۹۶۶، والنسائی: ۶/ ۲۷، والترمذی: ۱۶۳۸ (انظر: ۱۷۰۲۴)
Explanation
فوائد:… فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے میں) : عرف کا لحاظ رکھیں تو اس کا معنی جہاد ہو گا، یعنی جس نے سیاہ بالوں کی عمر سے جہاد شروع کیا اور بالوں کے سفید ہو جانے تک یہ عمل جاری رکھا، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس سے مراد ہر نیک کام ہو، کیونکہ احادیث میں مومن کے سفید بالوں کو اس کے لیے نور قرار دیا گیا ہے، جب کہ جہاد کی فضیلت تو سفید بالوں کی محتاج نہیں، وہ تو اس کے بغیر بھی فضیلت والا ہے۔ واللہ اعلم۔وہ بال ہی نور بن جائیں گے یا ان کی بنا پر نور حاصل ہو گا۔
8197
Sahih
سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
۔
۔ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بالوں کی سفیدی کو تبدیل کرو اور یہودیوں کی مشابہت اختیاور نہ کرو۔
Takhreej
(۸۱۹۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۸/ ۱۳۷ (انظر: ۱۴۱۵)
8198
Sahih
سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفید بالوں کو تبدیل کرو اور یہود و نصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو۔
Takhreej
(۸۱۹۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۷۵۲ (انظر: ۱۰۴۷۲)
8199
Sahih
سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ بالوں کو نہیں رنگتے تم ان کی مخالفت کرو۔ امام زہری نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رنگنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے سخت سیاہ رنگ سب سے زیادہ پسند ہے، امام زہری خود سیاہ رنگ لگاتے تھے۔
Takhreej
(۸۲۰۰) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ النسائی: ۸/ ۱۳۷ (انظر: ۸۰۸۳)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سر اور داڑھی کے بالوں کو رنگنے کی اصل وجہ اور علت یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت ہو، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان اہل کتاب کے مخالفت کرنے میں مبالغہ سے کام لیتے تھے، اس علت اور وجہ کی بنا پر بالوںکو رنگنا مستحب اور مؤکد ہے۔
8200
Sahih
سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو رمثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مہندی اور کتم (پودا) کے ساتھ بال رنگتے تھے، آپ کے بال کندھوں تک پہنچتے تھے۔
Takhreej
(۸۲۰۱) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۷۲۶، والبیھقی فی دلائل النبوۃ : ۱/ ۲۳۸ (انظر: ۱۷۴۹۷)
Explanation
فوائد:… وسمہ: یمن میں پائی جانے والی ایک بوٹی ہے، یہ سرخی مائل سیاہ رنگ نکالتی ہے، جبکہ مہندی کا رنگ
8201
Sahih
سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو رمثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ روایت ہے کہ میں نے حج کیا اور میں نے کعبہ کے سائے میں ایک آدمی کو دیکھا، میرے ابا جان نے مجھ سے کہا:کیا تجھے معلوم ہے یہ کون آدمی ہے؟ یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، جب ہم آپ تک پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال کان تک تھے اور بالوں پر مہندی کے نشانات تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سبز رنگ کی چادریں اوڑھ رکھی تھیں، میں نے دیکھا کہ آپ کے سفید بال مہندی کی وجہ سے سرخ نظر آ رہے تھے۔
Takhreej
(۸۲۰۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۷۲۱(انظر: ۷۱۱۲)
Explanation
فوائد:… وفرہ ان بالوں کو کہتے ہیں، جو کان کی لو تک پہنچتے ہیں۔
8202
Sahih
سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
۔
۔ عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا، انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کچھ بال نکالے، وہ مہندی اور کتم سے رنگے ہوئے تھے۔
Takhreej
(۸۲۰۳) تخریج:أخرجہ البخاری: ۵۸۹۷ (انظر: ۲۶۷۱۳)
8203
Sahih
سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین چیز، جس سے تم ان سفید بالوں کو تبدیل کرتے ہو، وہ مہندی اور وسمہ ہیں۔
Takhreej
(۸۲۰۴) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۱۴۸۹)
8204
Sahih
سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
۔
۔ سیدنا حکم بن عمرو غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں اور میرا بھائی رافع بن عمرو امیر المومنین سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، میں نے بالوں کو مہندی کے ساتھ اورمیرے بھائی نے زرد رنگ کے ساتھ بالوں کو رنگا ہوا تھا۔ مجھ سے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ اسلامی رنگ ہے، اور میرے بھائی رافع سے کہا: یہ ایمانی رنگ ہے۔
Takhreej
(۸۲۰۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حبیب بن عبد اللہ الازدی، وضعف ابنہ عبد الصمد بن حبیب (انظر: ۲۰۶۶۰)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ زرد رنگ مہندی سے افضل ہے، کیونکہ ایمان کا مرتبہ اسلام سے زیادہ ہے، لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔
8205
Zaeef
سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
۔
۔ حمید کہتے ہیں کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بالوں کو رنگتے تھے۔ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی مبارک کے شروع میں سترہ یا بیس سے زیادہ سفید بال نظر نہیں آتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بڑھاپے کے سفید بالوں کے عیب سے پاک رہے ہیں۔ کسی نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا بڑھاپے کے سفید بال عیب ہیں؟ انھوں نے کہا: بس تم اس کو پسند نہیں کرتے، البتہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مہندی اور وسمہ سے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مہندی سے بالوں کو رنگ کرتے تھے۔
Takhreej
(۸۲۰۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۸۹۴، ومسلم: ۲۳۴۱ (انظر: ۱۲۸۲۸)
Explanation
فوائد:… سفید بال مسلمان کے لیے نور اور وقار ہیں، عیب ہونے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے بال کالے رہیں اور سفید نہ ہوں، یا سفید بالوں کا سفید باقی رہنا عیب ہے، یعنی مہندی وغیرہ کے ذریعے ان کی سفیدی کو تبدیل کر دینا چاہیے، تاکہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت ہو جائے، جیسا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا ابو قحافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، جن کے بال ثغامہ بوٹی کی طرح سفید تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ اس سفیدی کو بدل دو۔
8206
Sahih
سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
۔
۔ سیدنا عبداللہ بن زید بن عبدربہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں قربان گاہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر تھا، قریش کا ایک اور آدمی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قربانی کے جانور تقسیم کر رہے تھے، نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی کا جانور لیا اور نہ اس آدمی نے لیا، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر مبارک منڈوایا اور بال ایک کپڑے میں جمع کیے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ساتھی کو وہ بال دئیے، اس نے انہیں کچھ آدمیوں میں تقسیم کردیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ناخن بھی ترشوا کر اپنے ساتھی کو دئیے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے وہ بال ابھی تک ہمارے پاس موجود ہیں، وہ مہندی اور وسمہ میں رنگے ہوئے ہیں۔
Takhreej
(۸۲۰۷) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن خزیمۃ: ۲۹۳۲، والحاکم: ۱/ ۴۷۵ (انظر: ۱۶۴۷۴)
8207
Sahih
سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں ہمارا خضاب ورس بوٹی اور زعفران ہوتا تھا۔
Takhreej
(۸۲۰۸) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ البزار: ۲۹۷۵، والطبرانی فی الکبیر : ۸۱۷۶(انظر: ۱۵۸۸۲)
8208
Sahih
سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
۔
۔ بنا نہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کبھی بالوں کو رنگ نہیں لگایا تھا۔
Takhreej
(۸۲۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، ام غراب طلحۃ لایعرف حالھا(انظر: ۵۳۸)
8209
Zaeef
سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، بس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی مبارک کے سامنے والے حصے میں، داڑھی بچے میں، کنپٹیوں میں اتنے معمولی بال سفید تھے کہ ان کو دیکھنا بھی مشکل ہوتا تھا، البتہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مہندی سے رنگا کرتے تھے۔
Takhreej
(۸۲۱۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۴۱(انظر: ۱۳۲۶۳)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مہندی اور کتم وغیرہ لگانا یا نہ لگانا، اوپر دونوں قسم کی روایات گزری ہیں، مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے، یعنی جن صحابہ نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مہندی وغیرہ نہیں لگاتے تھے، ان کی بات کو ان کے علم پر ہی محمول کریں گے،یعنی ان کو رنگنے کا علم نہ ہو سکا، بہرحال ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے رنگنے اور نہ رنگنے، دونوں کا ثبوت ملتا ہے۔
8210
Sahih
سفید بالوں کو کالا رنگ لگانے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو بالوں کو سیاہ رنگ سے رنگا کریں گے، جیسے کبوتروں کے سینے کے بال ہوتے ہیں، یہ لوگ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے۔
Takhreej
(۸۲۱۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابوداود: ۴۲۱۲، والنسائی: ۸/ ۱۳۸ (انظر: ۲۴۷۰)
8211
Sahih
سفید بالوں کو کالا رنگ لگانے کی کراہت کا بیان
۔
۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خضاب کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تو معمولی بال سفید ہوئے تھے، البتہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما آپ کے بعد مہندی اور کتم ملا کر خضاب لگایا کرتے تھے۔سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے باپ سیدنا ابو قحافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے کر آئے، یہ فتح مکہ کے دن کی بات ہے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں اٹھایا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے رکھ دیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم بزرگ کو ان کے گھر ہی ٹھہرنے دیتے تو ابو بکر کی عزت افزائی کے لیے ہم خود ہی ان کے پاس چلے جاتے۔ پھر ابو قحافہ نے اسلام قبول کیا، ان کی داڑھی اور سر کے بال ثغامہ بوٹی کی مانند سفید تھے، اس لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے رنگ کو تبدیل کر دو، البتہ سیاہی سے بچو۔
Takhreej
(۸۲۱۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۸۹۴، ومسلم: ۲۳۴۱ (انظر: ۱۲۶۳۵)
Explanation
فوائد:… ثغامہ: ایک درخت جو پہاڑکی چوٹی پر اگتا ہے، اس کا پھل اور پھول سفید ہوتے ہیں، اور جب یہ خشک ہو جاتا ہے تو اس کی سفیدی بڑھ جاتی ہے۔
8212
Sahih
سفید بالوں کو کالا رنگ لگانے کی کراہت کا بیان
۔
۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفید بالوں کا رنگ تبدیل کر دو، البتہ سیاہی اس کے قریب نہ کرو۔
Takhreej
(۸۲۱۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ البزار: ۲۹۸۰، وقد سلف بنحوہ فی الحدیث السابق (انظر: ۱۳۵۸۸)
8213
Sahih
سفید بالوں کو کالا رنگ لگانے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ والے دن سیدنا ابو قحافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا، ان کے سر کے بال ثغامہ بوٹی کی مانند سفید تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کو ان کی کسی عورت کے پاس لے جائو، تاکہ وہ ان کے بالوں کو رنگ کر تبدیل کر دے، البتہ ان کو سیاہی سے بچاؤ۔
Takhreej
(۸۲۱۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۰۲(انظر: ۱۴۴۰۲)
8214
Sahih
سفید بالوں کو کالا رنگ لگانے کی کراہت کا بیان
۔
۔ زنجی بیان کرتے ہیں میں نے امام زہری کو دیکھا، انہوں نے سر کے بالوں کو سیاہ رنگ کر رکھا تھا۔
Takhreej
(۸۲۱۵) تخریج: ھذا الاثر صحیح (انظر: ۱۶۶۷۸)
Explanation
فوائد:… امام زہری نے کہا: أمر النبی بالاصباغ، فأحلکھا أحب الینا۔ … نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بالوں کو رنگنے کا حکم دیا اور مجھے سب سے زیادہ سخت سیاہ رنگ زیادہ پسند ہے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۲۰۱۷۶)
8215
Sahih
ناخن تراشنے، زیرِ ناف بال مونڈنے اور انگلیوں کے جوڑوں کو صاف کرنے کا بیان
۔
۔ ابو واصل کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ایوب انصاری سے ملا،انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور جب میرے لمبے ناخن دیکھے تو کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم باتیں تو آسمان کی پوچھتے ہو، لیکن ناخن پرندوں کے ناخنوں کی مانند لمبے لمبے رکھتے ہو، ان میں جنابت، خباثت اور میل کچیل جمع ہو جاتی ہے۔ وکیع نے ایک بار ابو ایوب کے نام کے ساتھ انصاری کا لفظ نہیں کہا اور دوسرے راویوں نے ابو ایوب عتکی کہا ہے، ابو عبد الرحمن نے کہا: میرے باپ نے کہا: امام وکیع سے سبقت لسانی ہو گئی اور انھوں نے کہہ دیا کہ میں ابو ایوب انصاری کو ملا ہوں، جبکہ یہ تو ابو ایوب عتکی ہیں۔
Takhreej
(۸۲۱۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابی واصل، ثم انہ مرسل، فان ابا ایوب ھذا لیس ھو الانصاری الصحابی فیما قالہ غیر واحد من اھل العلم، بل ھو تابعی ثقۃ، أخرجہ الطیالسی: ۵۹۹، والبیھقی: ۱/ ۱۷۵، والطبرانی: ۴۰۸۶ (انظر: ۲۳۵۴۲)
Explanation
فوائد:… آسمان کی باتیں پوچھنے سے مراد شرعی حکم دریافت کرنا ہے، گویا کہ اس حدیث میں طنز کیا جا رہا ہے کہ شریعت کے مسائل ا س کو دریافت کرنے چاہئیں جو شرعی احکام پر عمل کر رہا ہو، یعنی عملی طور پر بھی شریعت کا پابند ہونا چاہیے اور مسائل بھی دریافت کرنے چاہئیں۔
8216
Zaeef