TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 8691 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
سورۂ فرقان {وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ} کی تفسیر
۔ (۸۶۹۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: أَ یُّ الذَّنْبِ أَ کْبَرُ؟ قَالَ: ((أَ نْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا وَہُوَ خَلَقَکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ أَ یٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ أَ نْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ مِنْ أَجْلِ أَ نْ یَطْعَمَ مَعَکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ أَ یٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ أَ نْ تُزَانِیَ بِحَلِیلَۃِ جَارِکَ۔)) قَالَ: فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِیقَ ذٰلِکَ فِی کِتَابِہِ: {وَالَّذِینَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ إِلَہًا آخَرَ} إِلٰی قَوْلِہِ: {وَمَنْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: ۶۸]۔ (مسند احمد: ۳۶۱۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کونسا گناہ سب سے بڑاہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کاشریک ٹھہرائے، حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: اس کے بعد کون ساگناہ بڑاہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائے گی۔ اس آدمی نے پھر کہا: اس کے بعدکونساگناہ بڑا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی بیوی کے ساتھ زنا کرے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان باتوں کی تصدیق نازل کر دی اور فرمایا: {وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا۔} (سورۂ فرقان: ۶۸) اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ اس جان کو قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو یہ کرے گا وہ سخت گناہ کو ملے گا۔
8691
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۸۶۹۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۷۶۱، ۶۸۱۱، ومسلم: ۸۶ (انظر: ۳۶۱۲)

Related Chapters

2,860
1
سورۂ آل عمران کی تفسیر اور اللہ تعالی کے اسم اعظم کا بیان
Musnad Ahmad
2
سورۂیوسف کی تفسیر {فَاسْاَلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَۃِ اللّٰاتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَہُنَّ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
3
سورۂ نحل {اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ…}کی تفسیر
Musnad Ahmad
4
سورۂ احزاب {مَاجَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ}کی تفسیر
Musnad Ahmad
5
سورۂ احقاف {قَالَ اَرَاَیْتُمْ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ…}کی تفسیر
Musnad Ahmad
6
سورۂ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ}کی تفسیر
Musnad Ahmad
7
سورۂ مجادلہ {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا…} کی تفسیر
Musnad Ahmad
8
سورۂ ممتحنہ {لَا یَنْہَا کُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْ کُمْ فِی الدِّیْنِ…} کی تفسیر
Musnad Ahmad
9
سورۂ تحریم {یَا اَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
10
سورۂ فجر {وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَاللَّیْلِ اِذَا یَسْرِ}کی تفسیر
Musnad Ahmad
11
Chapter: What has been mentioned about the Prophet (saws) performing Mas-h after the revelation of (Surat) Al-Ma'idah
باب: سورہ مائدہ کے نزول کے بعد بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے موزوں پر مسح کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
باب: سورۃ الفرقان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
13
باب: سورۃ «واللیل إذا یغشی» سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
14
سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
Musnad Ahmad
15
سورۃ الفاتحہ کی تفسیر اور اس کی دلیل جس کا یہ خیال ہے کہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} فاتحہ کی آیت نہیں ہے
Musnad Ahmad
16
لعان کے سبب، تہمت والی آیات کی تفسیر، لعان اور سیدنا ہلال بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
Musnad Ahmad
17
سورۂ فرقان کی قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
18
سورۂ فاتحہ کی تفسیر اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
19
سورۂ بقرہ کی تفسیر اور اس کے فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
20
{فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
21
{وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
22
{اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
23
{عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ…} کی تفسیر
Musnad Ahmad
24
{شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ…} کی تفسیر
Musnad Ahmad
25
{اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا} کی تفسیر
Musnad Ahmad
26
{کَیْفَیَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
27
{وَاِذَ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُو الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
28
{وَاللَّاتِیْیَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ…} کی تفسیر
Musnad Ahmad
29
وَقَوْلِہٖ: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ} وَقَوْلِہٖ: {فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ …} ان آیات کی تفسیر کا بیان
Musnad Ahmad
30
{یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُو الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِمِنْکُمْ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
31
{وَاتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلًا} کی تفسیر
Musnad Ahmad
32
{یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
33
{اِنَّمَا جَزَائُ الَّذِیْنَیُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ…الخ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
34
اِلٰی قَوْلِہِ {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُلٰئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
35
{وَاَنْذِرْ بِہِ الَّذِیْنَیَخَافُوْنَ اَنْ یُحْشَرُوْا اِلٰی رَبِّہِمْ… اِلٰی قَوْلِہٖ… وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالظَّالِمِیْنَ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
36
سورۂ توبہ اس سورت کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ کے نہ لکھنے کی وجہ کا بیان
Musnad Ahmad
37
{لَقَدْ تَابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِی سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ…} کی تفسیر
Musnad Ahmad
38
سورۂیونس {لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
39
{وَاَقِمِ الصَّلاۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ…} کی تفسیر
Musnad Ahmad
40
سورۂ رعد {اِنَّمَا اَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
41
سورۂ ابراہیم {وَیُسْقٰی مِنْ مَائٍ صَدِیْدٍ…}کی تفسیر
Musnad Ahmad
42
{اَلَمْ تَرَکَیْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُہَا ثَابِتٌ…} کی تفسیر
Musnad Ahmad
43
{یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
44
سورۂ حجر {وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْکُمْ…}کی تفسیر
Musnad Ahmad
45
سورۂ مریم {یَا اُخْتَ ھَارُوْنَ}کی تفسیر
Musnad Ahmad
46
سورۂ حج {یَا اَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ}کی تفسیر
Musnad Ahmad
47
سورۂ المومنون {قَدْ اَفْلَحَ الْمؤْمِنُوْنَ… …}کی تفسیر
Musnad Ahmad
48
سورۂ نور {اَلزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
49
{اِنَّ الَّذِیْنَ جَائُ وْا بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ … اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ}کی تفسیر
Musnad Ahmad
50
سورۂ قصص {اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ}کی تفسیر
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

26
Jam e Tirmazi
3183
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ أَبُو زَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ أَوْ مِنْ طَعَامِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تَزْنِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا ‏‏‏‏ 68 ‏‏‏‏ يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا ‏‏‏‏ 69 ‏‏‏‏ سورة الفرقان آية 68-69. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ وَاصِلٍ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ زَادَ فِي إِسْنَادِهِ رَجُلًا.
Narrated 'Abdullah: I asked the Messenger of Allah (ﷺ) which sin is the worst.' He said: 'That you make an equal to Allah while it is He who created you, that you kill your child so that he not eat with you - or because of your food, that you commit adultery with your neighbor's wife.' He said: And he recited this Ayah: 'And those who invoke not any other god along with Allah, nor kill such life as Allah has forbidden, except for what is required, nor commit illegal sexual intercourse - and whoever does that shall receive punishment. The torment will be doubled for him on the Day of Resurrection, and he will abide therein in disgrace (25:68 & 69).'
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا گناہ بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”بڑا گناہ یہ ہے کہ تم کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراؤ، جب کہ اسی نے تم کو پیدا کیا ہے، اور تم اپنے بیٹے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ رہے گا تو تمہارے ساتھ کھائے پیئے گا، یا تمہارے کھانے میں سے کھائے گا، اور تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو، اور آپ نے یہ آیت پڑھی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك يلق أثاما يضاعف له العذاب يوم القيامة ويخلد فيه مهانا» ”اللہ کے بندے وہ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود جان کر نہیں پکارتے، اور کسی جان کو جس کا قتل اللہ نے حرام کر دیا ہے، ناحق ( یعنی بغیر قصاص وغیرہ ) قتل نہیں کرتے، اور زنا نہیں کرتے، اور جو ایسا کچھ کرے گا وہ اپنے گناہوں کی سزا سے دوچار ہو گا، قیامت کے دن عذاب دوچند ہو جائے گا اور اس میں ہمیشہ ذلیل و رسوا ہو کر رہے گا“ ( الفرقان: ۶۸-۶۹ ) ، ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفیان کی وہ روایت جسے انہوں نے منصور اور اعمش سے روایت کی ہے، واصل کی روایت کے مقابلہ میں زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ انہوں نے اس حدیث کی سند میں ایک راوی ( عمرو بن شرحبیل ) کا اضافہ کیا ہے ۱؎۔
Musnad Ahmad
9679
۔ (۹۶۷۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اَیُّ الذَّنْبِ اَکْبَرُ؟ قَالَ: ((اَنْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا، وَھُوَ خَلَقَکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ اَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ مِنْ اَجْلِ اَنْ یَطْعَمَ مَعَکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ اَنْ تُزَانِیَ بِحَلِیْلَۃِ جَارِکَ۔)) قَالَ: فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ تَصْدِیْقَ ذٰلِکَ فِیْ کِتَابِہٖ {وَالّذِیْنَ لَایَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہً آخَرَ… اِلٰی قَوْلِہِ … وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا} [الفرقان: ۶۸] (مسند احمد: ۴۱۰۲)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا شریک بنائے، جبکہ اس نے تجھے پیدا کیا۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے بچے کو اس وجہ سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔ اس نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی اہلیہ سے زنا کرے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کی تصدیق اپنی کتاب میں ان الفاظ میں نازل فرما دی: اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کر دیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئییہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائے گا۔ (سورۂ فرقان: ۶۸)
Sahih Bukhari
4761
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، وَسُلَيْمَانُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . ح قَالَ :وَحَدَّثَنِي وَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللَّهِ أَكْبَرُ ؟ قَالَ : أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ ، قُلْتُ ، ثُمَّ أَيٌّ ، قَالَ : ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ، قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ، قَالَ : أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ، قَالَ : وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ تَصْدِيقًا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ سورة الفرقان آية 68 .
Narrated `Abdullah: I or somebody, asked Allah's Messenger Which is the biggest sin in the Sight of Allah? He said, That you set up a rival (in worship) to Allah though He Alone created you. I asked, What is next? He said, Then, that you kill your son, being afraid that he may share your meals with you. I asked, What is next? He said, That you commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor. Then the following Verse was revealed to confirm the statement of Allah's Messenger : Those who invoke not with Allah, any other god, nor kill life as Allah has forbidden except for just cause, nor commit illegal sexual intercourse. (25.68)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ مجھ سے منصور اور سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے، ان سے ابومیسرہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (سفیان ثوری نے کہا کہ) اور مجھ سے واصل نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا، یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا؟ فرمایا کہ اس کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالو کہ وہ تمہاری روزی میں شریک ہو گی۔ میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا؟ فرمایا کہ اس کے بعد یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تصدیق کے لیے نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق‏» کہ ”اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس ( انسان ) کی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق پر اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔“
Sahih Bukhari
4762
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ : أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، هَلْ لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68 ، فَقَالَ سَعِيدٌ : قَرَأْتُهَا عَلَىابْنِ عَبَّاسٍ كَمَا قَرَأْتَهَا عَلَيَّ ، فَقَالَ : هَذِهِ مَكِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ الَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَاءِ .
Narrated Al-Qasim bin Abi Bazza: That he asked Sa`id bin Jubair, Is there any repentance of the one who has murdered a believer intentionally? Then I recited to him:-- Nor kill such life as Allah has forbidden except for a just cause. Sa`id said, I recited this very Verse before Ibn `Abbas as you have recited it before me. Ibn `Abbas said, 'This Verse was revealed in Mecca and it has been abrogated by a Verse in Surat-An-Nisa which was later revealed in Medina.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے قاسم بن ابی بزہ نے خبر دی، انہوں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو کیا اس کی اس گناہ سے توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ ( ابن ابی بزہ نے بیان کیا کہ ) میں نے اس پر یہ آیت پڑھی «ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق‏» کہ ”اور جس جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہ کرتے، مگر ہاں حق کے ساتھ۔“ سعید بن جبیر نے کہا کہ میں نے بھی یہ آیت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے پڑھی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ مکی آیت اور مدنی آیت جو اس سلسلہ میں سورۃ نساء میں ہے اس سے اس کا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔
Sahih Bukhari
4764
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى : فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93 ، قَالَ : لَا تَوْبَةَ لَهُ ، وَعَنْ قَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ : لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68 ، قَالَ : كَانَتْ هَذِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ .
Narrated Sa`id bin Jubair: I asked Ibn `Abbas about Allah's saying:-- '.. this reward is Hell Fire.' (4.93) He said, No repentance is accepted from him (i.e. the murderer of a believer). I asked him regarding the saying of Allah: 'Those who invoke not with Allah any other god.' ...(25.68) He said, This Verse was revealed concerning the pagans of the pre-lslamic period.
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «فجزاؤه جهنم‏» کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد «‏‏‏‏لا يدعون مع الله إلها آخر‏» کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں قتل کیا ہو۔
Sahih Bukhari
4765
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ أَبْزَى ، سَلْ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى : وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا سورة النساء آية 93 ، وَقَوْلِهِ : وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68 حَتَّى بَلَغَ إِلا مَنْ تَابَ سورة الفرقان آية 68 - 69 ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ، قَالَ أَهْلُ مَكَّةَ : فَقَدْ عَدَلْنَا بِاللَّهِ ، وَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ، وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلا صَالِحًا إِلَى قَوْلِهِ غَفُورًا رَحِيمًا سورة الفرقان آية 70 .
Narrated Sa`id bin Jubair: Ibn Abza said to me, Ask Ibn `Abbas regarding the Statement of Allah: 'And whoever murders a believer intentionally, his recompense is Hell.' (4.69) And also His Statement: '...nor kill such life as Allah has forbidden, except for a just cause .....except those who repent, believe, and do good deeds.' (25.68-70) So I asked Ibn `Abbas and he said, When this (25.68-69) was revealed, the people of Mecca said, We have invoked other gods with Allah, and we have murdered such lives which Allah has made sacred, and we have committed illegal sexual intercourse. So Allah revealed: 'Except those who repent, believe, and do good deeds and Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.' (25.70)
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ ان سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم‏» ”اور جو کوئی کسی مومن کو جان کر قتل کرے اس کی سزا جہنم ہے۔“ اور سورۃ الفرقان کی آیت «‏‏‏‏لا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق‏» ”اور جس انسان کی جان مارنے کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق کے ساتھ“ «إلا من تاب‏» تک، میں نے اس آیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اہل مکہ نے کہا کہ پھر تو ہم نے اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہرایا ہے اور ناحق ایسے قتل بھی کئے ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا تھا اور ہم نے بدکاریوں کا بھی ارتکاب کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إلا من تاب وآمن وعمل عملا صالحا‏» کہ ”مگر ہاں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرتا رہے، اللہ بہت بخشنے والا بڑا ہی مہربان ہے“ تک۔
Sahih Bukhari
4766
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى ، أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ : وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93 ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : لَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ وَعَنْ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68 ، قَالَ : نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ .
Narrated Sa`id bin Jubair: `Abdur-Rahman bin Abza ordered me to ask Ibn `Abbas regarding the two Verses (the first of which was ): And whosoever murders a believer intentionally. (4.93) So I asked him, and he said, Nothing has abrogated this Verse. About (the other Verse): 'And those who invoke not with Allah any other god.' he said, It was revealed concerning the pagans.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں منصور نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے حکم دیا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دو آیتوں کے بارے میں پوچھوں یعنی «ومن يقتل مؤمنا متعمدا‏» ”اور جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا“ الخ۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت کسی چیز سے بھی منسوخ نہیں ہوئی ہے۔ ( اور دوسری آیت جس کے ) بارے میں مجھے انہوں نے پوچھنے کا حکم دیا وہ یہ تھی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر‏» ”اور جو لوگ کسی معبود کو اللہ کے ساتھ نہیں پکارتے“ آپ نے اس کے متعلق فرمایا کہ یہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
Sahih Bukhari
4810
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ يَعْلَى : إِنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ كَانُوا قَدْ قَتَلُوا ، وَأَكْثَرُوا ، وَزَنَوْا ، وَأَكْثَرُوا ، فَأَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو إِلَيْهِ لَحَسَنٌ لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً ، فَنَزَلَ : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ سورة الفرقان آية 68 ، وَنَزَلَ : قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ سورة الزمر آية 53 .
Narrated Ibn `Abbas: Some pagans who committed murders in great number and committed illegal sexual intercourse excessively, came to Muhammad and said, O Muhammad! Whatever you say and invite people to, is good: but we wish if you could inform us whether we can make an expiration for our (past evil) deeds. So the Divine Verses came: 'Those who invoke not with Allah any other god, not kill such life as Allah has forbidden except for just cause, nor commit illegal sexual intercourse.' (25.68) And there was also revealed:-- 'Say: O My slaves who have transgressed against their souls! Despair not of the Mercy of Allah.' (39.53)
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے یعلیٰ بن مسلم نے بیان کیا، انہیں سعید بن جبیر نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ مشرکین میں بعض نے قتل کا گناہ کیا تھا اور کثرت سے کیا تھا۔ اسی طرح زناکاری بھی کثرت سے کرتے رہے تھے۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں اور جس کی طرف دعوت دیتے ہیں ( یعنی اسلام ) یقیناً اچھی چیز ہے، لیکن ہمیں یہ بتائیے کہ اب تک ہم نے جو گناہ کئے ہیں وہ اسلام لانے سے معاف ہوں گے یا نہیں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون‏» ”اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا اور کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی بھی جان کو قتل نہیں کرتے جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے، ہاں مگر حق کے ساتھ“ اور یہ آیت نازل ہوئی «قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله‏» ”آپ کہہ دیں کہ اے میرے بندو! جو اپنے نفسوں پر زیادتیاں کر چکے ہو، اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو، بیشک اللہ سارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ بیشک اللہ وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔“
Sahih Bukhari
6001
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ قُلْتُ : ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ : أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ قَالَ : ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ : أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68 الْآيَةَ .
Narrated `Abdullah: I said 'O Allah's Apostle! Which sin is the greatest? He said, To set up a rival unto Allah, though He Alone created you. I said, What next? He said, To kill your son lest he should share your food with you. I further asked, What next? He said, To commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor. And then Allah revealed as proof of the statement of the Prophet: 'Those who invoke not with Allah any other god)................. (to end of verse)...' (25.68)
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں منصور بن معتمر نے، انہیں ابووائل نے، انہیں عمرو بن شرحبیل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے۔ فرمایا یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک بناؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا پھر، اس کے بعد فرمایا یہ کہ تم اپنے لڑکے کو اس خوف سے قتل کرو کہ اگر زندہ رہا تو تمہاری روزی میں شریک ہو گا۔ انہوں نے کہا اس کے بعد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تائید میں یہ آیت «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر‏» الخ، نازل کی کہ ”اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ وہ ناحق کسی کو قتل کرتے ہیں اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔“