TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

{اِنَّ الَّذِیْنَ جَائُ وْا بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ … اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ}کی تفسیر

Chapter 136 of تفسیر و اسباب نزول کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 136 of 250 · 3 Hadith
۔ (۸۶۸۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِیْ حَدِیْثِ الْاِفْکِ قَالَتْ: وَاللّٰہِ! مَا کُنْتُ أَ ظُنُّ أَ نْ یَنْزِلَ فِی شَأْنِی وَحْیٌیُتْلٰی وَلَشَأْنِی، کَانَ أَ حْقَرَ فِی نَفْسِی مِنْ أَ نْ یَتَکَلَّمَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیَّ بِأَ مْرٍ یُتْلٰی، وَلٰکِنْ کُنْتُ أَ رْجُو أَ نْ یَرٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی النَّوْمِ رُؤْیَایُبَرِّئُنِی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہَا، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! مَا رَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَجْلِسِہِ، وَلَا خَرَجَ مِنْ أَ ہْلِ الْبَیْتِ أَ حَدٌ، حَتّٰی أَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی نَبِیِّہِ، وَأَ خَذَہُ مَا کَانَ یَأْخُذُہُ مِنْ الْبُرَحَائِ عِنْدَ الْوَحْیِ، حَتّٰی إِنَّہُ لَیَتَحَدَّرُ مِنْہُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنْ الْعَرَقِ فِی الْیَوْمِ الشَّاتِی مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِی أُنْزِلَ عَلَیْہِ، قَالَتْ: فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَضْحَکُ، فَکَانَ أَ وَّلُ کَلِمَۃٍ تَکَلَّمَ بِہَا أَ نْ قَالَ: ((أَ بْشِرِییَا عَائِشَۃُ! أَ مَّا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ بَرَّأَ کِ۔)) فَقَالَتْ لِی أُمِّی: قُومِی إِلَیْہِ، فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَا أَ قُومُ إِلَیْہِ وَلَا أَ حْمَدُ إِلَّا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ ہُوَ الَّذِی أَ نْزَلَ بَرَائَ تِی، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الَّذِینَ جَائُ وْا بِالْإِفْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ} [النور: ۱۱] عَشْرَ آیَاتٍ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ہٰذِہِ الْآیَاتِ بَرَائَ تِی قَالَتْ: فَقَالَ أَ بُو بَکْرٍ: وَکَانَ یُنْفِقُ عَلٰی مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِہِ مِنْہُ وَفَقْرِہِ: وَاللّٰہِ! لَا أُنْفِقُ عَلَیْہِ شَیْئًا أَ بَدًا بَعْدَ الَّذِی قَالَ لِعَائِشَۃَ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا یَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ} إِلٰی قَوْلِہِ: {أَلَا تُحِبُّوْنَ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ} [النور: ۲۲] فَقَالَ أَ بُو بَکْرٍ: وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأُحِبُّ أَ نْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لِی، فَرَجَعَ إِلَی مِسْطَحٍ النَّفَقَۃَ الَّتِی کَانَ یُنْفِقُ عَلَیْہِ، وَقَالَ: لَا أَنْزِعُہَا مِنْہُ أَبَدًا، قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَ لَ زَیْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَ مْرِی: ((وَمَا عَلِمْتِ أَ وْ مَا رَأَ یْتِ أَ وْ مَا بَلَغَکِ؟۔)) قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَ حْمِی سَمْعِی وَبَصَرِی وَأَ نَا مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَیْرًا، قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَہِیَ الَّتِی کَانَتْ تُسَامِینِی مِنْ أَ زْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَصَمَہَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْوَرَعِ، وَطَفِقَتْ أُخْتُہَا حَمْنَۃُ بِنْتُ جَحْشٍ تُحَارِبُ لَہَا فَہَلَکَتْ فِیمَنْ ہَلَکَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: فَہَذَا مَا انْتَہَی إِلَیْنَا مِنْ أَ مْرِ ہٰؤُلَائِ الرَّہْطِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۴۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ حدیث الافک (یعنی بہتان والی بات) بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: اللہ کی قسم! یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ میرے بارے میں وحی نازل ہو گی، میں اپنے اس معاملہ کو اس سے کم تر سمجھتی تھی کہ اللہ تعالی خود اس کے بارے میں کلام کریں گے اور پھر اس کلام کی تلاوت کی جائے گی، ہاں یہ مجھے امید تھی کہ میرے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خواب دیکھیں گے، جس کے ذریعے اللہ تعالی مجھے بری کر دیں گے، اللہ کی قسم! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی نشست گاہ سے حرکت نہ کی تھی اور نہ ہی گھروالوں میں سے ابھی کوئی باہر گیا تھا کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل کر دی اور وحی کے وقت سخت بوجھ کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسینہ آنا شروع ہو گیا، سردی کے سخت دن میں بھی وحی کے نازل ہوتے وقت آپ کی پیشانی سے پسینہ موتیوں کی طرح گرتا تھا، اس وحی کے بوجھ کی وجہ سے، جو آپ پر نازل ہو رہی ہوتی تھی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وحی کے نازل ہونے کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا رہے تھے، سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وحی کے بعد جو بات کی، وہ یہ تھی: اے عائشہ! خوش ہوجائو، اللہ تعالیٰ نے تمہیں بری قرار دیا ہے۔ یہ سن کرمیری ماں نے کہا : عائشہ! کھڑی ہوجا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا شکریہ ادا کر۔ لیکن میں نے کہا:میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑی نہیں ہوں گی، میں اپنے اس اللہ کی تعریف کروں گی، جس نے میری براء ت نازل کی ہے۔ پس اللہ تعالی نے یہ بات نازل کر دیں: {إِنَّ الَّذِینَ جَائُ وْا بِالْإِفْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ} [النور: ۱۱] یہ کل دس آیات تھیں۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسطح پر خرچ کیا کرتے تھے کیونکہ وہ فقیر تھااور ان کا رشتہ دار بھی تھا، اس نے بھی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بارے میں تہمت والی بات کر دی تھی، اس لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس پر آئندہ خرچ نہیں کروں گا، یہ اس حد تک چلا گیا ہے، لیکن اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کر دی: {وَلَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْٓا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُہٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔} … اور تم میں سے فضیلت اور وسعت والے اس بات سے قسم نہ کھالیں کہ قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دیں اور لازم ہے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخشے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ یہ آیت سن کر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں پسند کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے، پس انہوں نے جو مسطح کا خرچہ لگا رکھا تھا وہ دوبارہ جاری کر دیااورکہا اب میں اسے کبھی نہیں روکوں گا۔سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ زینب بنت حجش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے میرے معاملہ کے بارے میں سوال کیا کہ تم اس بارے میں کیا جانتی ہو؟ یا کیا سمجھتی ہو؟ یا تم کو کون سی بات پہنچی ہے؟‘ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس بات سے اپنے کان اورآنکھ کو محفوظ رکھنا چاہتی ہوں! اللہ کی قسم، میری معلومات کے مطابق عائشہ میں خیر ہی خیر ہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: یہ سیدہ زینب ہی امہات المومنین میں سے میرا مقابلہ کرتی تھیں،لیکناللہ تعالی نے انہیں تقویٰ کی بدولت اس معاملے میں پڑنے سے بچا لیا اور ان کی بہن سیدہ حمنہ بنت حجش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنی بہن کے ساتھ عصبیت اختیار کی اور ہلاک ہونے والوں میں شامل ہوگئی۔ ابن شہاب کہتے ہیں: اس گرو ہ کے بارے میں ہمیں یہی کچھ معلوم ہو سکا۔
Takhreej
(۸۶۸۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۷۹، ۴۰۲۵، ۴۶۹۰، ۴۷۵۰، ۶۶۶۲، ومسلم: ۲۷۷۰(انظر: ۲۶۱۴۱)
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی عفت اور پاکدامنی کو ثابت کرنے کے موقع پر درج ذیل آیات نازل ہوئیں: {اِنَّ الَّذِیْنَ جَاء وْا بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِّنْکُمْ لَا تَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَّکُمْ بَلْ ہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ لِکُلِّ امْرِ مِّنْہُمْ مَّا اکْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہ مِنْہُمْ لَہ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ لَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَیْرًا وَّقَالُوْا ھٰذَآ اِفْکٌ مُّبِیْنٌ۔ لَوْلَا جَاء ُوْ عَلَیْہِ بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّہَدَاء ِ فَاُولٰیِکَ عِنْدَ اللّٰہِ ہُمُ الْکٰذِبُوْنَ۔ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ لَمَسَّکُمْ فِیْ مَآ اَفَضْتُمْ فِیْہِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ اِذْ تَلَقَّوْنَہ بِاَلْسِنَتِکُمْ وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاہِکُمْ مَّا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖعِلْمٌوَّتَحْسَبُوْنَہہَیِّنًا وَّہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمٌ۔ وَلَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ قُلْتُمْ مَّا یَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّتَکَلَّمَ بِھٰذَا سُبْحٰنَکَ ھٰذَا بُہْتَانٌ عَظِیْمٌ۔ یَعِظُکُمُ اللّٰہُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِہٖٓاَبَدًااِنْکُنْتُمْمُّؤْمِنِیْنَ۔ وَیُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ اِنَّ الَّذِیْنَیُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہ وَاَنَّ اللّٰہَ رَء ُوْفٌ رَّحِیْمٌ۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ وَمَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّہیَاْمُرُ بِالْفَحْشَاء ِ وَالْمُنْکَرِ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہ مَا زَکٰی مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا وَّلٰکِنَّ اللّٰہَ یُزَکِّیْ مَنْ یَّشَائُ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ وَلَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْٓا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُہٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔} (سورۂ نور: ۱۱۔ ۲۲) بے شک وہ لوگ جو بہتان لے کر آئے ہیں وہ تمھی سے ایک گروہ ہیں، اسے اپنے لیے برا مت سمجھو، بلکہ یہ تمھارے لیے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر آدمی کے لیے گناہ میں سے وہ ہے جو اس نے گناہ کمایا اور ان میں سے جو اس کے بڑے حصے کا ذمہ دار بنا اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ کیوں نہ ایسا ہوا کہ جب تم نے اسے سنا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے نفسوں میں اچھا گمان کیا اور کہا کہ یہ صریح بہتان ہے۔ وہ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے، تو جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقینا اس بات کی وجہ سے جس میں تم مشغول ہوئے، تم پر بہت بڑا عذاب پہنچتا۔ جب تم اسے ایک دوسرے سے اپنی زبانوں کے ساتھ لے رہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں کچھ علم نہیں اور تم اسے معمولی سمجھتے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی تھی۔ اور کیوں نہ جب تم نے اسے سنا تو کہا ہمارا حق نہیں ہے کہ ہم اس کے ساتھ کلام کریں، تو پاک ہے، یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ اللہ تمھیں نصیحت کرتا ہے اس سے کہ دوبارہ کبھی ایسا کام کرو، اگر تم مومن ہو۔ اور اللہ تمھارے لیے آیات کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ بے شک جو لوگ پسند کرتے ہیں کہ ان لوگوں میں بے حیائی پھیلے جو ایمان لائے ہیں، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ یقینا اللہ بے حد مہربان، نہایت رحم والا ہے (تو تہمت لگانے والوں پر فوراًعذاب آ جاتا)۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو اور جو شیطان کے قدموں کے پیچھے چلے تو وہ تو بے حیائی اور برائی کا حکم دیتا ہے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک نہ ہوتا اور لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔اور تم میں سے فضیلت اور وسعت والے اس بات سے قسم نہ کھالیں کہ قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دیں اور لازم ہے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخشے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ ان آیات کی تفسیر کا مطالعہ بھی کر لیں، سبق آموز باتیں تو مذکورہ بالا حدیث اور آیات سے ہی سمجھ آجاتی ہیں، مزید تفصیل کتاب السیرۃ النبویۃ میں آئے گی۔ صحیح بخاری میں اس واقعہ کی تفصیلیہ ہے: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، انہوں نے تہمت لگانے والوں کا واقعہ بیان کیا، لوگوں نے ان پر تہمت لگائی تھی، لیکن اللہ تعالی نے ان کی پاکیزگی کا اعلان کیا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، ان میں جس کا نام نکل آتا، اس کو ساتھ لے کر جاتے ایک جنگ (غزوہ بنی مصطلق) میں جانے کے لئے اسی طرح قرعہ اندازی کی،میرا نام نکل آیا، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چلی گئی،یہ واقعہ پردہ کی آیت اترنے کے بعد کا ہے، میں ہودج میں سوار رہتی اور ہودج سمیت اتاری جاتی، ہم لوگ اسی طرح چلتے رہے، یہاں تک کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس غزوہ سے فارغ ہوئے اور لوٹے، (واپسی میں) ہم لوگ مدینہ کے قریب ہی پہنچے تھے کہ رات کے وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روانگی کا اعلان کردیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روانگی کا اعلان کیا تو میں اٹھی اور چلی،یہاں تک کہ لشکر سے آگے بڑھ گئی، جب میں اپنی حاجت سے فارغ ہوئی اور اپنے ہودج کے پاس آئی تو میں نے اپنے سینہ پر ہاتھ پھیرا، معلوم ہوا کہ میرا اظفار کے موتیوں کا ہار ٹوٹ کر گر گیا، میں واپس ہوئی اور اپنا ہار ڈھونڈنے لگی، اس کی تلاش میں مجھے دیر ہوگئی، جو لوگ میرا ہودج اٹھاتے تھے، وہ آئے اور اس ہودج کو اٹھا کر اس اونٹ پر رکھ دیا، جس پر میں سوار ہوتی تھی، وہ لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں اس ہودج میں ہوں، اس زمانہ میں عورتیں عموماً ہلکی پھلکی ہوتی تھیں، بھاری نہیں ہوتی تھیں، ان کی خوراک قلیل تھی، اس لئے جب ان لوگوں نے ہودج کو اٹھایا، تو اس کا وزن انہیں خلاف معمول معلوم نہ ہوا اور اٹھا لیا، مزید برآں کہ میں ایک کم سن لڑکی تھی، چنانچہ یہ لوگ اونٹ کو ہانک کر روانہ ہوگئے، لشکر کے روانہ ہونے کے بعد میرا ہار مل گیا، میں ان لوگوں کے ٹھکانے پر آئی تو وہاں کوئی نہ تھا، میں نے اس مقام کا قصد کیا، جہاں میں تھی اور یہ خیال کیا کہ جب وہ مجھے نہیں پائیں گے تو تلاش کرتے ہوئے میرے پاس پہنچ جائیں گے، میں اسی انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی کہ نیند آنے لگی اور میں سوگئی، سیدنا صفوان بن معطل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لشکر کے پیچھے تھے، صبح کو میری جگہ پر آئے اور دور سے انہوں نے ایک سویا ہوا آدمی دیکھا تو میرے پاس آئے اور (مجھ کو پہچان لیا) اس لئے کہ پردہ کی آیت اترنے سے پہلے وہ مجھے دیکھتے تھے، صفوان کے (انا للہ وانا الیہ راجعون) پڑھنے سے میں جاگ گئی، وہ میرا اونٹ پکڑ کر پیدل چلنے لگے، یہاں تک کہ ہم لشکر میں پہنچ گئے جب کہ لوگ ٹھیک دوپہر کے وقت آرام کرنے کے لئے اتر چکے تھے، تو ہلاک ہوگیا وہ شخص جس نے ہلاک ہی ہونا تھا اور تہمت لگانے والوں کا سردار عبداللہ بن ابی بن سلول تھا،خیر ہم لوگ مدینہ پہنچے اور میں ایک مہینہ تک بیمار رہی تہمت لگانے والوں کی باتیں لوگوں میں پھیلتی رہیں اور مجھے اپنی بیماری کی حالت میں شک پیدا ہوا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس لطف سے پیش نہیں آتے تھے، جس طرح (اس سے قبل) بیماری کی حالت میں لطف و مہربانی سے پیش آیا کرتے تھے، بس اب تو صرف تشریف لاتے، سلام کرتے، پھر پوچھتے: تم کیسی ہو؟ (پھر چلے جاتے) مجھے تہمت کی بات کی خبر بالکل نہ تھی،یہاں تک کہ میں بہت کمزور ہوگئی (ایک رات) میں اور مسطح کی ماں مناصع کی طرف قضائے حاجت کے لئے نکلیں، ہم لوگ رات ہی کو جایا کرتے تھے اور یہ اس وقت کی بات ہے، جب کہ ہم لوگوں کے لیے قضائے حاجت کی جگہ ہمارے گھروں کے قریب نہ تھی اور عرب والوں کے پہلے معمول کے موافق ہم لوگ جنگل میںیا باہر جا کر رفع حاجت کرتے تھے، میں اور ام مسطح ہم دونوں چلے جا رہے تھے کہ وہ اپنی چادر میں پھنس کر گر پڑیں اور کہا: مسطح ہلاک ہوجائے، میں نے اس سے کہا: تو نے بہت بری بات کہی ہے، ایسے آدمی کو برا کہتی ہو جو بدر میں شریک ہوا، اس نے کہا : عائشہ! کیا تم نے نہیں سنا جو یہ لوگ کہتے ہیں؟ ساتھ ہی اس نے مجھے تہمت لگانے والوں کی بات بیان کر دی،یہ سن کر میرا مرض اور بڑھ گیا، جب میں اپنے گھر واپس آئی تو میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: تم کیسیہو؟ میں نے کہا: مجھے اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت دیجئے اور اس وقت میرا مقصد یہ تھا کہ اس خبر کی بابت ان کے پاس جا کر تحقیق کروں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ اجازت دے دی، میں اپنے والدین کے پاس آئی اور اپنی والدہ سے پوچھا کہ لوگ کیا بیان کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: بیٹی! تو ایسی باتوں کی پرواہ نہ کر، جو عورت حسین ہو اور اس کے شوہر کو اس سے محبت ہو اور اس کی سوکنیں ہوں، تو اس قسم کی باتیں بہت ہوا کرتی ہیں، میں نے کہا: سبحان اللہ! اس قسم کی بات سوکنوں نے تو نہیں کی،ایسی بات تو لوگوں میں مشہور ہو رہی ہے، میں نے وہ رات اس حال میں گزاری کہ نہ میرے آنسو تھمے اور نہ مجھے نیند آئی، پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جب وحی اترنے میں دیر ہوئی بلایا اور اپنی بیوی کو جدا کرنے کے بارے میں ان دونوں سے مشورہ کرنے لگے، اسامہ چونکہ جانتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنی بیویوں سے محبت ہے، اس لئے انہوں نے ویسا ہی مشورہ دیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کی بیویوں میں بھلائی ہی جانتا ہوں۔ لیکن سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ نے آپ پر تنگی نہیں کی، ان کے علاوہ عورتیں بہت ہیں اور باقی آپ لونڈی (سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) سے دریافت کر لیجئے، وہ آپ سے سچ سچ بیان کرے گی، رسول اللہV نے بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بلایا اور فرمایا: اے بریرہ! کیا تو نے عائشہ میں کوئی ایسی بات دیکھی ہے، جو تجھے شبہ میں ڈال دے؟ سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے ان میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی، جو عیب کی ہو، بجز اس کے کہ وہ کم سن ہیں اور گوندھا ہوا آٹا چھوڑ کر سوجاتی ہیں اور بکری آکر کھا جاتی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی دن خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوگئے اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے مقابلہ میں مدد طلب کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میری مدد کرے گا، اس شخص کے مقابلہ میں جس نے مجھے میرے گھر والوں کے متعلق اذیت دی، حالانکہ اللہ کی قسم ہے، میں اپنے گھر والوں میں بھلائی ہیدیکھتا ہوں اور جس مرد کے ساتھ تہمت لگائی گئی ہے، اس میں بھی بھلائی ہی دیکھتا ہوں، وہ گھر میں میرے ساتھ ہی داخل ہوتا تھا؟ یہ سن کر سیدنا سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کی مدد کے لئے تیار ہوں، اگر وہ قبیلہ اوس کا ہے تو میں اس کی گردن اڑادوں گا اور اگر وہ ہمارے بھائی خزرج کے قبیلہ کا ہے، تو جیسا حکم دیں، عمل کروں گا، یہ سن کر سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جو قبیلہ خزرج کے سردار تھے، کھڑے ہوئے، اس سے پہلے وہ نیک آدمی تھے، لیکن حمیت نے انہیں اکسایا اور کہا: اللہ کی قسم! نہ تو اسے مار سکے گا اور نہ تو اس کے قتل پر قادر ہے، پھر سیدنا اسید بن حضیر کھڑے ہوئے اور کہا: تو جھوٹ کہتا ہے، اللہ کی قسم! ہم اس کو قتل کردیں گے، تو منافق ہے، منافقوں کی طرف سے جھگڑا کرتا ہے،دیکھتے ہی دیکھتے اوس اور خزرج دونوں لڑائی کے لئے ابھر گئے، یہاں تک کہ آپس میں لڑنے کا ارادہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر ہی تھے، بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر سے اترے اور ان سب کے اشتعال کو فرو کیایہاں تک کہ وہ لوگ خاموش ہوگئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی خاموش ہوگئے اور میں سارا دن روتی رہی، نہ تو میرے آنسو تھمتے اور نہ مجھے نیند آتی، صبح کو میرے پاس والدین آئے، میں دو رات اور ایک دن روتی رہی،یہاں تک کہ میں خیال کرنے لگی تھی کہ رونے سے میرا کلیجہ شق ہوجائے گا، وہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے اور میں رو رہی تھی کہ اتنے میں ایک انصاری عورت نے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے اسے اجازت دے دی، وہ بیٹھ گئی اور میرے ساتھ رونے لگی، ہم لوگ اس حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے، حالانکہ اس سے پہلے جب سے کہ میرے متعلق تہمت لگائی گئی، کبھی نہیں بیٹھے تھے، ایک مہینہ تک انتظار کرتے رہے، لیکن میری شان میں کوئی وحی نازل نہیں ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبۂ شہادت پڑھا اور پھر فرمایا: اے عائشہ! تمہارے متعلق مجھ کو ایسی ایسی خبر ملی ہے، اگر تو بری ہے تو اللہ تعالیٰ تمہاری پاکیزگی ظاہر کردے گا اور اگر تو اس میں مبتلا ہوگئی ہے، تو اللہ سے مغفرت طلب کر اور توبہ کر اس لئے کہ جب بندہ اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہے، پھر توبہ کرلیتا ہے، تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی گفتگو ختم کی تو میرے آنسو دفعتہ رک گئے، یہاں تک کہ میں نے ایک قطرہ بھی محسوس نہیں کیا اور میں نے اپنے والد سے کہا کہ میری طرف سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جواب دیجئے، لیکن انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کیا جواب دوں، پھر میں نے اپنی ماں سے کہا کہ تم میری طرف سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جواب دو، انہوں نے کہا: واللہ! میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا کہوں، سیدہ عائشہ کہتی ہیں:میں کمسن تھی اور قرآن زیادہ نہیں پڑھا تھا، میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں جانتی ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ چیز سن لی ہے، جو لوگوں میں مشہور ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دل میں وہ بات بیٹھ گئی ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو سچ سمجھ لیا ہے۔ اگر میںیہ کہوں کہ میں بری ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بری ہوں، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری بات کو سچا نہ جانیں گے اور اگر میں کسی بات کا اقرار کرلوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے سچا سمجھیں گے، اللہ کی قسم! میں نے اپنی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مثال یوسف کے والد کے سوا نہیں پائی، جب کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ صبر بہتر ہے اور اللہ ہی میرا مدد گار ہے، ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو، پھر میں نے بستر پر کروٹ تبدیل کی، مجھے امید تھی کہ اللہ تعالیٰ میری پاکدامنی ظاہر فرما دے گا، لیکن اللہ کی قسم! مجھے یہ گمان نہ تھا کہ میرے متعلق وحی نازل ہوگی اور اپنے دل میں اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھتی تھی کہ میرے اس معاملہ کا ذکر قرآن میں ہوگا، بلکہ میں سمجھتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی خواب دیکھیں گے جس میں اللہ تعالیٰ میری پاکدامنی ظاہر کردے گا، پھر اللہ کی قسم! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس جگہ سے ہٹے بھی نہ تھے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی باہر گیا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کی حالت طاری ہوگئی، جو نزول وحی کے وقت طاری ہوا کرتی تھی، سردی کے دن میں بھی، پھر جب وہ کیفیت ختم ہوئی تو اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منہ مبارک سے جو الفاظ نکلے وہ یہ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہاری پاکدامنی بیان کردی ہے۔ مجھ سے میری ماں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہوجا، میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں کھڑی نہیں ہوں گی اور صرف اللہ کا شکریہ ادا کروں گی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی {اِنَّ الَّذِیْنَ جَا ء ُوْ بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِّنْکُمْ…}جب اللہ تعالیٰ نے میری براء ت میںیہ آیت نازل کی تو سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جو مسطح بن اثاثہ کی ذات پر اس کی قرابت کے سبب خرچ کرتے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اب میں مسطح کی ذات پر خرچ نہیں کروں گا، اس نے میرے بیٹی عائشہ پر تہمت لگائی ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {وَلَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْ ا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُہٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ} سیدنا ابوبکر کہنے لگے:اللہ کی قسم! میں تو پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو بخش دے، پھر مسطح کو وہی وظیفہ دینا شروع کردیا، جو برابر دیتے تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے میرے متعلق پوچھتے تھے اور فرماتے: اے زینب! کیا تو جانتی ہے؟ کیا تو نے کبھی کچھ دیکھا ہے؟ وہ جواباً کہتی: یا رسول اللہ! میں اپنے کان اور اپنی آنکھ کو بچاتی ہوں، اللہ کی قسم! میں تو عائشہ کو اچھا ہی جانتی ہوں۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: وہی میرے مقابلے میں تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو پرہیزگاری کے سبب سے بچا لیا۔
8688
Sahih
۔ (۸۶۸۹)۔ عَنْ عُرْوَۃَ مِنْ حَدِیْثِ عَائِشَۃَ اَیْضًا قَالَ: لَمْ یُسَمَّ مِنْ أَ ہْلِ الْإِفْکِ إِلَّا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَۃَ وَحَمْنَۃُ بِنْتُ جَحْشٍ فِی نَاسٍ آخَرِینَ، لَا عِلْمَ لِی بِہِمْ إِلَّا أَ نَّہُمْ عُصْبَۃٌ، کَمَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، وَإِنَّ کِبْرَ ذٰلِکَ کَانَ یُقَالُ عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُبَیِّ ابْنِ سَلُولَ، قَالَ عُرْوَۃُ: وَکَانَتْ عَائِشَۃُ تَکْرَہُ أَنْ یُسَبَّ عِنْدَہَا حَسَّانُ، وَتَقُولُ إِنَّہُ الَّذِی قَالَ: فَإِنَّ أَ بِی وَوَالِدَہُ وَعِرْضِی لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْکُمْ وِقَائُ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۴۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ تہمت کی باتیں کرنے والوں میں حسان بن ثابت، مسطح بن اثاہ اور حمنہ بنت حجش کے نام لیے گئے، ان کے علاوہ اور لوگ بھی شامل تھے، لیکن مجھے ان کا علم نہیں ہے، بہرحال یہ ایک جماعت تھی، جیسا کہ اللہ تعالی نے ان آیات میں عُصْبَۃٌ لفظ استعمال کیا ہے۔ سب سے زیادہ حصہ عبد اللہ بن ابی بن سلول کا تھا، عروہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یہ ناپسند کیا کرتی تھیں کہ ان کے ہاں سیدنا حسان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو برا بھلا کہا جائے، نیز وہ کہا کرتی تھیں کہ حسان تو وہ ہے، جس نے کہا تھا: پس بیشک میرا باپ اور اس (باپ) کا باپ اور میری عزت، محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عزت کو تم سے بچانے والی ہے۔
Takhreej
(۸۶۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۱۴۱، ۴۶۸۰، ۶۶۶۲، ۶۶۷۹ (انظر: ۲۵۶۲۴)
8689
Sahih
۔ (۸۶۹۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: رُمِیتُ بِمَا رُمِیتُ بِہِ وَأَ نَا غَافِلَۃٌ، فَبَلَغَنِی بَعْدَ ذٰلِکَ رَضْخٌ مِنْ ذٰلِکَ، فَبَیْنَمَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدِی إِذْ أُوحِیَ إِلَیْہِ، وَکَانَ إِذَا أُوحِیَ إِلَیْہِیَأْخُذُہُ شِبْہُ السُّبَاتِ، فَبَیْنَمَا ہُوَ جَالِسٌ عِنْدِی إِذْ أُنْزِلَ عَلَیْہِ الْوَحْیُ، فَرَفَعَ رَأْسَہُ وَہُوَ یَمْسَحُ عَنْ جَبِینِہِ، فَقَالَ: ((أَ بْشِرِییَا عَائِشَۃُ!۔)) فَقُلْتُ: بِحَمْدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَا بِحَمْدِکَ، فَقَرَأَ {الَّذِینَیَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ} حَتّٰی بَلَغ {حَتّٰی بَلَغَ مُبَرَّئُ وْنَ مِمَّا یَقُولُوْنَ} [النور: ۴۔ ۲۶]۔ (مسند احمد: ۲۵۲۲۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: مجھ پر تہمت لگائی گئی، جبکہ مجھے خبر تک نہ تھی، اس کے بعد مجھے بات پہنچی تو تھی، لیکن اس پر یقین نہیں آتا تھا، ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تھے،اسی اثنا میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پروحی نازل ہونے لگی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ہلکی نیند غالب آنے لگی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا، اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کیا اور فرمایا: اے عائشہ! خوش ہوجائو۔ میں نے کہا:اللہ تعالیٰ کی تعریف کے ساتھ، نہ کہ آپ کی تعریف کے ساتھ، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: {الَّذِینَیَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ …… حَتَّی بَلَغَ مُبَرَّئُ وْنَ مِمَّا یَقُولُوْنَ}۔
Takhreej
(۸۶۹۰) تخریج: حدیث صحیح دون ذکر الآیات التی انزلت، وھذا اسناد ضعیف لضعف عمر بن ابی سلمۃ ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۳/ ۱۵۶ (انظر: ۲۴۷۲۰)
8690
Sahih

Chapters

250
01
{اَتَجْعَلُ فِیْہا مَنْ یُفْسِدُ فِیَہَا} کی تفسیر اور ہاروت اور ماروت کا قصہ
1 Hadith
02
{ادْخُلُو الْبَابَ سُجَّدًا} کی تفسیر
1 Hadith
03
{مَنْ کَانَ عَدُوٌّ لِجِبْرِیْلَ…} کی تفسیر
2 Hadith
04
{فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ} کی تفسیر
1 Hadith
05
{وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلّٰی} کی تشریح
1 Hadith
06
{وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا} کی تفسیر
2 Hadith
07
{وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ} کی تفسیر
1 Hadith
08
{قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ…} کی تفسیر
2 Hadith
09
{اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} کی تفسیر
2 Hadith
10
{یَااَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ} کی تفسیر
1 Hadith
11
{اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَائِکُمْ} کی تفسیر
1 Hadith
12
{وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ} کی تفسیر
2 Hadith
13
{عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ…} کی تفسیر
1 Hadith
14
{فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ بِہٖاَذًی مِنْ رَاْسِہٖ…} کی تفسیر
2 Hadith
15
{لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِنْ رَّبِّکُمْ} کی تفسیر
1 Hadith
16
{یَسْاَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ…} کی تفسیر
2 Hadith
17
{وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ} کی تفسیر
1 Hadith
18
{وَیَسْاَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ھُوَ اَذًی…}کی تفسیر
1 Hadith
19
{نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ} کی تفسیر
4 Hadith
20
{حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰاۃِ الْوُسْطٰی}کی تفسیر
6 Hadith
21
آیۃ الکرسی کے فضیلت کا بیان
4 Hadith
22
{وَاِذَا قَالَ اِبْرَاھِیْمُ رَبِّ اَرِنِیْ کِیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی} کی تفسیر
1 Hadith
23
{لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاِنْ تُبْدُوْ مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہٗ…}کی تفسیر
4 Hadith
24
سورۂ بقرہ کی آخری آیات کے فضائل
5 Hadith
25
سورۂ آل عمران کی تفسیر اور اللہ تعالی کے اسم اعظم کا بیان
1 Hadith
26
{ھُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ…} کی تفسیر
2 Hadith
27
{شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ…} کی تفسیر
1 Hadith
28
{اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ} کی تفسیر
1 Hadith
29
{اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا} کی تفسیر
3 Hadith
30
{کَیْفَیَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ} کی تفسیر
1 Hadith
31
{اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْ اَحَدِھِمْ مِلْئُ الْاَرْضِ ذَھَبًا} کی تفسیر
1 Hadith
32
{لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} کی تفسیر
1 Hadith
33
{کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِبَنِیْ اِسْرَائِیْلَ}کی تفسیر
1 Hadith
34
{وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا}کی تفسیر
1 Hadith
35
{کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ… الخ} کی تفسیر
2 Hadith
36
{لَیْسُوْ سَوَائً}کی تفسیر
1 Hadith
37
{لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ…الخ} کی تفسیر
2 Hadith
38
{وَعَصَیْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا اَرَاکُمْ مَا تُحِبُّوْنَ} کی تفسیر
1 Hadith
39
{اَوَلَمَّا اَصَابَتْکُمْ مُصِیْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِثْلَیْہَا قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَا} کی تفسیر
1 Hadith
40
{وَاِذَ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُو الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ} کی تفسیر
1 Hadith
41
وراثت کی آیت کا بیان
1 Hadith
42
{وَاللَّاتِیْیَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ…} کی تفسیر
1 Hadith
43
وَقَوْلِہٖ: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ} وَقَوْلِہٖ: {فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ …} ان آیات کی تفسیر کا بیان
3 Hadith
44
{یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُو الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِمِنْکُمْ} کی تفسیر
1 Hadith
45
{فَـلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ} کی تفسیر
1 Hadith
46
{فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِیْنِ فِئَتَیْنِ} کی تفسیر
2 Hadith
47
{وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا… الخ} کی تفسیر
1 Hadith
48
{وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰی اِلَیْکُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا} کی تفسیر
2 Hadith
49
{لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ …الخ} کی تفسیر
3 Hadith
50
{لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلَاۃِ} کی تفسیر
1 Hadith
51
{وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاقَمْتَ لَہُمُ الصَّلَاۃُ} کی تفسیر
1 Hadith
52
{اِنْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖاِلَّااِنَاثًا} کی تفسیر
1 Hadith
53
{لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ} کی تفسیر
3 Hadith
54
{وَاتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلًا} کی تفسیر
2 Hadith
55
{یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ} کی تفسیر
4 Hadith
56
سورۂ مائدہ کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
57
{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ …الخ} کی تفسیر
1 Hadith
58
تیمم کا بیان
2 Hadith
59
{اِنَّمَا جَزَائُ الَّذِیْنَیُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ…الخ} کی تفسیر
1 Hadith
60
اِلٰی قَوْلِہِ {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُلٰئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ} کی تفسیر
3 Hadith
61
{وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَا اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ …الخ} کی تفسیر
1 Hadith
62
{یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ …الخ} کی تفسیر
2 Hadith
63
{یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْاَلُوْا عَنْ اَشْیَائَ …الخ} کی تفسیر
2 Hadith
64
{یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ} کی تفسیر
2 Hadith
65
{اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ…} کی تفسیر
1 Hadith
66
سورۃ الانعام {وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا طَائِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْہٖ…}کی تفسیر
1 Hadith
67
{وَاَنْذِرْ بِہِ الَّذِیْنَیَخَافُوْنَ اَنْ یُحْشَرُوْا اِلٰی رَبِّہِمْ… اِلٰی قَوْلِہٖ… وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالظَّالِمِیْنَ} کی تفسیر
1 Hadith
68
{قُلْ ھُوَ الْقَادِرُ عَلٰی اَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ} کی تفسیر
3 Hadith
69
{اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ} کی تفسیر
1 Hadith
70
{وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ} کی تفسیر
1 Hadith
71
{وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا…} کی تفسیر
1 Hadith
72
{ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا اَنْ تَاْتِیَہُمُ الْمَلَائِکَۃُ اَوْیَاْتِیَ رَبُّکَ} کی تفسیر
2 Hadith
73
سورۃ الاعراف {وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِنْ غِلٍّ…}کی تفسیر
1 Hadith
74
{فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗلِلْجَبَلِ…الخ} کی تفسیر
2 Hadith
75
{وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُہُوْرِھِمْ ذُرِّیَّاتِہِمْ} کی تفسیر
2 Hadith
76
سورۃ الانفال کی تفسیر : {یَسْاَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ}
4 Hadith
77
{اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ} کی تفسیر
1 Hadith
78
{وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} کی تفسیر
2 Hadith
79
{وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا …} کی تفسیر
1 Hadith
80
{وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃٍ} کی تفسیر
1 Hadith
81
{مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَکُوْنَ لَہٗاَسْرٰی …الخ} کی تفسیر
2 Hadith
82
سورۂ توبہ اس سورت کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ کے نہ لکھنے کی وجہ کا بیان
5 Hadith
83
{اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ…} کی تفسیر
1 Hadith
84
{وَمِنْہُمْ مَنْ یَلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَاتِ…} کی تفسیر
1 Hadith
85
باب: {اَلْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ}
1 Hadith
86
{اِسْتَغْفِرْ لَھُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ… وَلَا تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ اَبَدًا} کی تفسیر
2 Hadith
87
{وَلَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَا اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ} کی تفسیر
1 Hadith
88
{مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا اَنْ یَسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ… اِلٰی آخِرِ الْاٰیَتَیْنِ} کی تفسیر
2 Hadith
89
{لَقَدْ تَابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِی سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ…} کی تفسیر
1 Hadith
90
{لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ مِنْ اَنْفُسِکُمْ…} کی تفسیر
2 Hadith
91
سورۂیونس {لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ} کی تفسیر
1 Hadith
92
{لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ} کی تفسیر
2 Hadith
93
{قَالَ آمَنْتُ اَنَّہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْ آمَنَتْ بِہٖبَنُوْاِسْرَائِیْلُ} کی تفسیر
2 Hadith
94
سورۂ ہود سورۂ ہود میں قیامت اور اس کی ہولناکیوں کا بیان
1 Hadith
95
{قَالَ یَا نُوْحُ اِنَّہُ لَیْسَ مِنْ اَھْلِکَ اِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ} کی تفسیر
1 Hadith
96
{قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ} کی تفسیر
2 Hadith
97
{وَاَقِمِ الصَّلاۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ…} کی تفسیر
3 Hadith
98
سورۂیوسف کی تفسیر {فَاسْاَلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَۃِ اللّٰاتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَہُنَّ} کی تفسیر
1 Hadith
99
{نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّنْ نَّشَائُ} کی تفسیر
1 Hadith
100
سورۂ رعد {اِنَّمَا اَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ} کی تفسیر
1 Hadith
101
{وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ} کی تفسیر
1 Hadith
102
سورۂ ابراہیم {وَیُسْقٰی مِنْ مَائٍ صَدِیْدٍ…}کی تفسیر
1 Hadith
103
{اَلَمْ تَرَکَیْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُہَا ثَابِتٌ…} کی تفسیر
1 Hadith
104
{یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ} کی تفسیر
1 Hadith
105
{یَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَ رْضُ غَیْرَ الْأَ رْضِ وَالسَّمٰوَاتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ} کی تفسیر
1 Hadith
106
سورۂ حجر {وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْکُمْ…}کی تفسیر
1 Hadith
107
{وَلَقَدْ آتَیْنَاکَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِیْ} کی تفسیر
2 Hadith
108
سورۂ نحل {اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ…}کی تفسیر
3 Hadith
109
{وَمَا مَنَعَنَا اَنْ نُرْسِلَ بِالْآیَاتِ اِلَّا اَنْ کَذَّبَ بِہَا الْاَوَّلُوْنَ} کی تفسیر
1 Hadith
110
{وَمَا جَعَلَنَا الرُّؤْیَا الَّتِیْ اَرَیْنَاکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِلنَّاسِ} کی تفسیر
2 Hadith
111
{وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُوْدًا} کی تفسیر
1 Hadith
112
{عَسٰی اَنْ یَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَحْمُوْدًا} کی تفسیر
1 Hadith
113
{وَقُلْ رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ…} کی تفسیر
1 Hadith
114
{وَیَسْاَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ} کی تفسیر
2 Hadith
115
{وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ} کی تفسیر
1 Hadith
116
{وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا}کی تفسیر
1 Hadith
117
{اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗشَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ…} کی تفسیر
1 Hadith
118
سورۂ کہف سورۂ کہف کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
119
{وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا …} کی تفسیر
1 Hadith
120
خضر علیہ السلام کا موسی علیہ السلام کے ساتھ قصہ
2 Hadith
121
{قَالَ اِنْ سَاَلْتُکَ عَنْ شَیْئٍ بَعْدَھَا فَلَا تُصَاحِبْنِیْ…} کی تفسیر
2 Hadith
122
{قُلْ لَوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِکَلِمَاتِ رَبِّیْ…} کی تفسیر
1 Hadith
123
سورۂ مریم {یَا اُخْتَ ھَارُوْنَ}کی تفسیر
1 Hadith
124
{وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ} کی تفسیر
1 Hadith
125
{وَاِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا} کی تفسیر
3 Hadith
126
{اَفَرَاَیْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِآیَاتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًا} کی تفسیر
1 Hadith
127
{یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا} کی تفسیر
1 Hadith
128
سورۂ حج {یَا اَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ}کی تفسیر
1 Hadith
129
{وَمَنْ یُرِدْ فِیْہٖ بِاِلْحَادٍ بِظُلْمٍ} کی تفسیر
1 Hadith
130
{اُذِنَ لِلَّذِیْنَیُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا…} کی تفسیر
1 Hadith
131
سورۂ المومنون {قَدْ اَفْلَحَ الْمؤْمِنُوْنَ… …}کی تفسیر
1 Hadith
132
{وَالَّذِیْنَیُؤْتُوْنَ مَا اُتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ} کی تفسیر
2 Hadith
133
{تَلْفَحُ وُجُوْھَہُمُ النَّارُ وَھُمْ فِیْہَا کَالِحُوْنَ} کی تفسیر
1 Hadith
134
سورۂ نور {اَلزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ} کی تفسیر
1 Hadith
135
لعان کی آیات کی تفسیر
1 Hadith
136
{اِنَّ الَّذِیْنَ جَائُ وْا بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ … اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ}کی تفسیر
3 Hadith
137
سورۂ فرقان {وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ} کی تفسیر
1 Hadith
138
سورۂ شعراء سورۂ شعراء کا ان سورتوں میں سے ہونا، جن کی آیات دو سو سے زائد ہیں
1 Hadith
139
{وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} کی تفسیر
4 Hadith
140
سورۂ قصص {اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ}کی تفسیر
1 Hadith
141
سورۂ عنکبوت {وَتَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ}کی تفسیر
1 Hadith
142
سورۂ روم کی تفسیر {الٓمٓ غُلِبَتِ الرُّوْمُ}کی تفسیر
1 Hadith
143
سورۂ لقمان {وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہٖ حَمَلَتْہٗاُمُّہُوَھْنًاعَلٰی وَھْنٍ} کی تفسیر
1 Hadith
144
{اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗعِلْمُالسَّاعَۃِ} کی تفسیر
2 Hadith
145
سورۂ سجدہ {تَتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} کی تفسیر
1 Hadith
146
{وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ} کی تفسیر
1 Hadith
147
سورۂ احزاب {مَاجَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ}کی تفسیر
1 Hadith
148
{اُدْعُوْھُمْ لِآبَائِہِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ} کی تفسیر
1 Hadith
149
{مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوْا اللّٰہَ عَلَیْہٖ} کی تفسیر
1 Hadith
150
{یَا اَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا…} کی تفسیر
2 Hadith
151
{اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ} کی تفسیر
1 Hadith
152
{اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤُمِنَاتِ…} کی تفسیر
1 Hadith
153
{وَاتَّقِ اللّٰہَ وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ…} کی تفسیر
2 Hadith
154
{یَاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّا اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ اللَّاتِیْ آتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ…} کی تفسیر
1 Hadith
155
{تُرْجِیْ مَنْ تَشَائُ مِنْہُنَّ وَتُؤْوِیْ اِلَیْکَ مَنْ تَشَائُ…} کی تفسیر
2 Hadith
156
{لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَائُ مِنْ بَعْدُ…} کی تفسیر
2 Hadith
157
{یَاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ…}کی تفسیر
4 Hadith
158
{اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَۃَیُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ…} کی تفسیر
1 Hadith
159
{یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ آذَوْا مُوْسٰی} کی تفسیر
1 Hadith
160
سورۂ سبا سبا اور اس کی اولاد کا ذکر
1 Hadith
161
{وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہُ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہُ…} کی تفسیر
1 Hadith
162
سورۂ فاطر {ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا…}کی تفسیر
3 Hadith
163
سورۂیس سورۂیس کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
164
سورۂ صافات ذبح ہونے والے کا بیان اور {نَادَیْنَاہُ اَنْ یَّا اِبْرَاھِیْمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا}کی تفسیر
1 Hadith
165
سورۂ ص {اَجَعَلَ الْآلِھَۃَ اِلٰھًا وَاحِدًا} کی تفسیر
2 Hadith
166
سورۂ زمر {اِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَ} کی تفسیر
2 Hadith
167
{قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ} کی تفسیر
1 Hadith
168
{وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ} کی تفسیر
3 Hadith
169
سورۂ فصلت {وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَشْہَدَ عَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَا اَبْصَارُکُمْ…}کی تفسیر
1 Hadith
170
سورۂ شوریٰ {قُلْ لَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہٖ اَجْرًا اِلَّا الْمُوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی}کی تفسیر
1 Hadith
171
{وَمَا اَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ…} کی تفسیر
1 Hadith
172
سورۂ زخرف {وَلَمَّا ضَرَبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا…} کی تفسیر
1 Hadith
173
{وَنَادَوْا یَا مَالِکُ…}کی تفسیر
1 Hadith
174
سورۂ دخان {فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ…} کی تفسیر
1 Hadith
175
سورۂ احقاف {قَالَ اَرَاَیْتُمْ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ…}کی تفسیر
1 Hadith
176
{قُلْ اَرَاَیْتُمْ اِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَکَفَرْتُمْ بِہٖ} کی تفسیر
1 Hadith
177
{فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا} کی تفسیر
1 Hadith
178
{وَاِذْ صَرَفْنَا اِلَیْکَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ…} کی تفسیر
1 Hadith
179
سورۂ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ}کی تفسیر
1 Hadith
180
سورۂ فتح سورۂ فتح کی فضیلت اور اس کے نزول کے وقت کا بیان
2 Hadith
181
{وَھُوَ الَّذِیْنَ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ…} کی تفسیر
2 Hadith
182
سورۂ حجرات {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ…}کی تفسیر
2 Hadith
183
{اِنَّ الَّذِیْنَیُنَادُوْنَکَ مِنْ وَرَائِ الْحُجُرَاتِ اَکْثَرُ ھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ} کی تفسیر
1 Hadith
184
{یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِنْ جَائَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ… اِلٰی… وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ} کی تفسیر
1 Hadith
185
{وَاِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا…} کی تفسیر
1 Hadith
186
{وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ}کی تفسیر
2 Hadith
187
سورۂ ق {یَوْمَ نَقُوْ لُ لِجَہَنَّمَ ھَلِ امْتَلَاْتِ…} کی تفسیر
1 Hadith
188
سورۂ نجم {وَھُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی… اِلٰی قَوْلِہٖ…لَقَدْرَاٰی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی} کی تفسیر
5 Hadith
189
سورۂ قمر {اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ}کی تفسیر
4 Hadith
190
سورۂ رحمن {فَبِاَیِّ آلائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ} کی تفسیر
1 Hadith
191
{فَیَوْمَئِذٍ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْبِہٖاِنْسٌوَّلَاجَانٌّ…} کی تفسیر
1 Hadith
192
{وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖجَنَّتَانِ} کی تفسیر
1 Hadith
193
سورۂ واقعہ {ثُلَّۃٌ مِنَ الْاَوَّلِیْنَ وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْآخِرِیْنَ} کی تفسیر
1 Hadith
194
{وَظِلٍّ مَمْدُوْدٍ} کی تفسیر
1 Hadith
195
{وَفُرُشٍ مَرْفُوْعَۃٍ} کی تفسیر
1 Hadith
196
{فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ} کی تفسیر
1 Hadith
197
{وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَ} کی تفسیر
1 Hadith
198
{فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌ} کی تفسیر
1 Hadith
199
سورۂ مجادلہ {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا…} کی تفسیر
4 Hadith
200
{وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی الْکَذِبِ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ}کی تفسیر
2 Hadith
201
سورۂ حشر {مَاقَطَعْتُمْ مِنْ لِیْنَۃٍ…} کی تفسیر
1 Hadith
202
سورۂ حشر کی آخری تین آیات کی تفسیر
1 Hadith
203
سورۂ ممتحنہ {لَا یَنْہَا کُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْ کُمْ فِی الدِّیْنِ…} کی تفسیر
1 Hadith
204
{یَا اَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَائَکَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ…} کی تفسیر
3 Hadith
205
سورۂ صف سورۂ صف میںجو کچھ ہے، اس کا بیان
2 Hadith
206
سورۂ جمعہ {وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ} کی تفسیر
1 Hadith
207
{وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَھْوًا انْفَضُّوْا اِلَیْہَا…} کی تفسیر
1 Hadith
208
سورۂ منافقون سورۂ منافقون کے شانِ نزول اور سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کابیان
3 Hadith
209
سورۂ طلاق {یَااَیُّہَا النَّبِیُّّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ…} کی تفسیر
1 Hadith
210
{وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗمَخْرَجًا…} کی تفسیر
1 Hadith
211
سورۂ تحریم {یَا اَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ} کی تفسیر
1 Hadith
212
{قَدْ فَرَضَ اللّٰہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ} کی تفسیر
2 Hadith
213
سورۂ ملک سورۂ ملک کی فضیلت کابیان
1 Hadith
214
سورۂ ن {الْعُتُلِ الزَّنِیْمِ} کے معانی کا بیان
1 Hadith
215
سورۂ معارج {تَعْرُجُ الُمَلَائِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْیَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗخَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ…} کی تفسیر
1 Hadith
216
{یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَائُ کَالْمُہْلِ} کی تفسیر
1 Hadith
217
سورۂ جن {قُلْ اُوْحِیَّ اِلَیَّ اَنَّہُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ …} کی تفسیر
1 Hadith
218
{وَاَنَّہُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوْہٗ کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہٖ لِبَدًا}کی تفسیر
1 Hadith
219
سورۂ مدثر {یَا أَ یُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَ نْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ} کی تفسیر
1 Hadith
220
{وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرْ} کی تفسیر
1 Hadith
221
{فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِ} کی تفسیر
1 Hadith
222
{ھُوَ اَھْلُ التَّقْوٰی وَاَھْلُ الْمَغْفِرَۃِ} کی تفسیر
1 Hadith
223
سورۃ القیامہ {لَا تُحَرِّکْ بِہٖلِسَانَکَلِتَعْجَلَبِہٖ} کی تفسیر
2 Hadith
224
سورۂ مرسلات {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} کی تفسیر
2 Hadith
225
سورۃ التکویر
1 Hadith
226
سورۃ المطففین
2 Hadith
227
سورۃ الانشقاق {فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا}کی تفسیر
1 Hadith
228
سورۃ البروج {وَشَاھِدٍ وَمَشْہُوْدٍ}کی تفسیر
2 Hadith
229
سورۃ الاعلیٰ سورۂ اعلی کی فضیلت اور اس کے ابتدائی حصے کی تفسیر کا بیان
3 Hadith
230
سورۂ فجر {وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَاللَّیْلِ اِذَا یَسْرِ}کی تفسیر
2 Hadith
231
{فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ اَحَدٌ…} کی تفسیر
1 Hadith
232
سورۂ ضحیٰ {وَالضُّحٰی وَللَّیْلِ اِذَا سَجٰی…} کی تفسیر
1 Hadith
233
سورۂ علق {اَرَاَیْتَ الَّذِیْیَنْہٰی عَبْدًا اِذَا صَلّٰی}کی تفسیر
2 Hadith
234
{لَمْ یَکُنْ…} یعنی سورۃ البینہ کی تفسیر سورۃ البیّنہ کی تفسیر اور سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
2 Hadith
235
سورۃالزلزال سورۂ زلزال کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
236
{یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا}کی تفسیر
1 Hadith
237
{فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًایَّرَہُ…} کی تفسیر
1 Hadith
238
{اَلْہَاکُمْ} یعنی سورۃالتکاثر {ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ}کی تفسیر
2 Hadith
239
سورۃ قریش سورۂ قریش کی تفسیر اور قریش کے قصے کا بیان
1 Hadith
240
سورۂ کوثر سورۂ کوثر اور کوثر کی صفت کا بیان
4 Hadith
241
سورۂ کافرون سورۂ کافروں کی تفسیر اور اس کی فضیلت کابیان
3 Hadith
242
سورۃ النصر اس چیز کا بیان کہ سورۂ نصر، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے اعلان کے لیے نازل ہوئی
2 Hadith
243
سورۂ نصر کی تفسیر اور اس کے نزول کے بعد نبی کریم کا تسبیح پڑھنے کا بیان
3 Hadith
244
سورۃالمسد سورۂ مسد کے شانِ نزول اور اس کی تفسیر کا بیان
1 Hadith
245
سورۂ اخلاص سورۂ اخلاص کی شانِ نزول اور اس کی تفسیر کا بیان
1 Hadith
246
سورۂ اخلاص کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
247
سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
248
سورۃ الفلق اور سورۃ الناس سورۃالفلق اور سورۃ الناس کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
249
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے کا بیان کہ معوذ تین کتاب اللہ میںسے نہیںہیں، نیز اس رائے کے غیر مقبول ہونے کا بیان
3 Hadith
250
سورۃ الفلق سورۃ الفلق کی فضیلت اور تفسیر کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.