۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہت پچھاڑنے والا طاقتور نہیں ہوتا، بلکہ اصل طاقتور اور پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم زبردست پہلوان کس کو سمجھتے ہو؟ ہم نے کہا: وہ ہے کہ جس کو دوسرے لوگ نہ پچھاڑ سکتے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، زبردست پہلوان تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر کنٹرول کر لیتا ہے۔
۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ بڑا پہلوان کون ہے؟ انھوں نے کہا: پچھاڑنے والا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارے کا سارے پہلوان، بڑے سے بڑاپہلوان وہ آدمی ہے جسے غصہ آتا ہے، پھر اس کا غصہ سخت ہو جاتا ہے، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے، اور بیشک آگ کو پانی کے ذریعے ہی بجھایا جاتا ہے۔
فوائد:… لوگ جسمانی لحاظ سے تنومند اور طاقتور شخص کو پہلوان سمجھتے ہیں، لیکن شریعت ِ اسلامیہ کی روشنی میں اصل پہلوان وہ ہے جو غیظ و غضب کے وقت اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے اور کوئی ایسا اقدام نہیں کرتا، جس پر اسے بعد میں ندامت ہو۔ جیسے عام لوگ غصے کی حالت میں شیطانی اور دیوانی جذبات سے سرشار ہو کر اپنا بہت زیادہ نقصان کر دیتے ہیں اور پھر ندامت کے آنسو بہانا شروع کر دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے پرہیز گار لوگوں کی صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ غصہ پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، درج ذیل حدیث سے غصہ پی جانے کی اہمیت کو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔
۔ سیدنا جاریہ بن قدامہ سعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی نفع بخش بات بتلاؤ، لیکن وہ مختصر ہونی چاہیے، تاکہ میں اس کو یاد کر سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو غصے نہ ہوا کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی دفعہ یہ بات دوہرائی اور ہر بار یہی فرماتے رہے کہ تو غصہ نہ کر۔
۔ ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی نصیحت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو غصے نہ ہوا کر۔ اس آدمی نے کہا: جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان پر غور کیا تو یہ نتیجہ نکالا کہ غصہ سارے کے سارے شرّ کو محیط ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھے کوئی حکم دیں اور زیادہ چیزوں کا ذکر نہ کریں، تاکہ میں اس کو سمجھ سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غصے نہ ہوا کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی بات دوہراتے ہوئے فرمایا کہ غصے نہ ہوا کر۔
۔ سیدنا عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب حکمران طیش میں آتا (اور غصے سے آگ بگولا ہوتا) ہے تو اس وقت شیطان مسلط ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۱۷۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال محمد بن عطیۃ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/۴۴۴ (انظر: ۱۷۹۸۴)
Explanation
فوائد:… حکمرانوں کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے اور غیظ و غضب کی عادت کو مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے، اسی طرح لوگوںکے لیے بھی ناجائز ہے کہ ایسے امور کو سر انجام دیں، جن سے حکمران کو غصہ آتا ہو۔
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سی چیز مجھے اللہ تعالیٰ کے غضب سے دور کر سکتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غصے نہ ہوا کر۔
Takhreej
(۹۱۷۹) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۶۶۳۵)
Explanation
فوائد:… غصہ کی دو قسمیں ہیں: (۱) محمود اور (۲) مذموم محمود غصہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے لیے ہو، یعنی جب اللہ تعالیٰ کی حرمتیں پامال کی جا رہی ہوں تو اسلامی غیرت و حمیت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان کو غصہ آنا چاہئے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شرعی حددود و قیود سے اعراض کے وقت غصے میں آجاتے تھے، لیکن اس معاملے میں بھی مصلحت اور حکمت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗوَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔} … اور نہ نیکیبرابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے ۔ (سورۂ فصلت: ۳۴)
مذموم غصہ سے روکا گیا ہے، اس سے مراد وہ غصہ ہے، جس میں انسان اپنے مزاج کی تیزی کی وجہ سے مبتلا ہو جاتا ہے یا اپنی ذاتی چودھراہٹ اور اَنا کی بنا پر یا برادری و خاندانی عصبیتوں کی وجہ سے ذاتی مسائل میں پھنس جاتا ہے اور اسلامی قوانین کی رو رعایت رکھے بغیر غیظ و غضب کے شعلے اگلنے لگتا ہے، اس غصے سے شیطانی مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی حالت میں (اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ) پڑھنے کی تلقین کی ہے اور وجہ یہ بیان کی کہ اس کا جوش غضب ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ (بخاری، مسلم) ہمیں چاہئے کہ ہمارے غیظ و غضب، غیرت و حمیت اور صلح و صفائی کا معیار اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام ہوں۔ مذموم غصے کو سمجھنے کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۹۱۸۴)۔
۔ سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ ، جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک غضب شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی کے ذریعے بجھایا جاتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی غصے میں آ جائے تو وہ وضو کیا کرے۔
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے اور ان میں سے ایک اس قدر طیش میں آیا کہ یہ خیال ہونے لگا کہ غصے کی وجہ سے اس ناک پھٹ جائے گی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ غصے والا آدمی اس کو کہے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا، وہ کلمہ یہ ہے: اَللّٰھُمْ اِنَّی اَعَوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (اے اللہ! میں شیطان مردود سے تیری پناہ میں آتا ہوں)۔
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: جب تم میں سے کسی کو غصہ آ جائے اور وہ کھڑا ہو تو وہ بیٹھ جائے، اگر غصہ ختم ہو جائے تو ٹھیک، وگرنہ لیٹ جائے۔
فوائد:… ان احادیث میں غصے کا علاج بتایا گیا ہے کہ آدمی شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے اور اگر کھڑا ہے تو بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا ہے تو لیٹ جائے۔
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! تین چیزیں ہیں، میںیقینا ان پر قسم اٹھاتا ہوں، (۱) صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی، پس صدقہ کیا کرو، (۲) جب بندہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کرنے کے لیے کسی ظلم کو معاف کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کو بلند کردیتا ہے، ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کی عزت میں اضافہ کر دے گا اور (۳) جب بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر فقیری کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
فوائد:… صدقہ کرنا اور کسی کا ظلم معاف کر دینا، ان کی وجہ سے جن برکتوں کا حصول ہوتاہے، ان اعمال پر پابندی کرنے والا ہی ان کو محسوس کر سکتا ہے، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو آزمائشوں سے محفوظ رکھتے ہیں، تسکین و سکینت عطا کرتے ہیں اور دل کو سدا بہار رکھتے ہیں۔
اشد ضرورت کے علاوہ لوگوں سے سوال کرنا ناجائز ہے، چاہیےیہ کہ بندہ محنت کرے، کم آمدنی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کے گزارا کرے اور صرف اللہ تعالیٰ سے وسعت ِ رزق کا سوال کرے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے لگا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاس تشریف فرماتھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تعجب کررہے تھے اور ہنس رہے تھے۔ جب اُس شخص نے زیادہ گالیاں دیں تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بعض گالیوں کا جواب دیا۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہو گئے اور چلے گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جاملے اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! وہ مجھ پر سب و شتم کرتا رہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے رہے، جب میں نے اس کی بعض گالیوں کا جواب دیا تو آپ غصے میں آگئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دراصل تیرے ساتھ ایک فرشتہ تھا، جو تیری طرف سے جواب دے رہا تھا، لیکن جب تم نے خود جوابی کاروائی شروع کی تو شیطان آ گھسا، اب میں شیطان کے ساتھ تو نہیں بیٹھ سکتا۔ پھر آپ نے فرمایا: ابو بکر! تین چیزیں برحق ہیں: (۱)جس آدمی پر ظلم کیا جائے اور وہ آگے سے چشم پوشی کر جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی زبردست مدد کرتے ہیں، (۲) جو آدمی تعلقات جوڑنے کے لیے عطیے دینا شروع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو کثرت سے عطا کرتے ہیں اور (۳) جو آدمی اپنے مال کو بڑھانے کے لیے (لوگوں سے) سوال کرنا شروع کرتاہے، اللہ تعالیٰ (اس کے مال کی) کمی میں اضافہ کرتے ہیں۔
Takhreej
(۹۱۸۴) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۴۸۹۷ (انظر: ۹۶۲۴)
Explanation
فوائد:… اگر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ذاتی انتقام لینے کی اجازت نہیں دی گئی اور اگر خلیفۂ اول کی جوابی کاروائی کی وجہ سے فرشتہ چلا جائے اور شیطان آ گھسے تو ہم جیسوں کے لیے بدلہ لینا کیسا ہو گا، جبکہ صورتِ حال یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنی ذات پر کیے گئے اعتراض کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے فضیلت والے اعمال کے بارے میں بتلائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عقبہ! تو اس سے تعلق جوڑ، جو تجھ سے تعلق ختم کرے، اس کو دے، جو تجھے محروم کرے اور اس کو معاف کر دے، جو تجھ پر ظلم کرے۔
Takhreej
(۹۱۸۵) تخریج: حدیث حسن انظر: ۱۷۳۳۴)
Explanation
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیے گئے سوال اور پھر اس کے جواب پر غور کریں۔
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اس کے جسم میں زخم لگایا جائے اور وہ اس کو معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی معافی کے مطابق اس چیز کو اس کے لیے کفارہ بنائے گا۔
فوائد:… معاف کرنا ایسا زیور ہے کہ اس سے متصف شخص لوگوں میں ہر دلعزیز اور مقبول اور اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب ہو جاتا ہے، یہ صفت صبر وحلم، تحمل و برداشت اور عفوو درگزر کو جنم دیتی ہے کہ جن کی بنا پر دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں، معاف کرنا حکیم اور دانا لوگوں کی صفت ہے، وہ اس کی روشنی میں ہر انسان سے پیش آتے ہیں۔
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک قوم، کمزور اور مسکین تھی، تکبر اور تعداد والے لوگوں نے ان سے لڑائی کی، پھر جب اللہ تعالیٰ نے کمزوروں کو اُن پر غالب کیا تو انھوں نے اپنے دشمن کا قصد کیا اور ان کو غلام بنا لیا اور ان پر مسلط ہو گئے اور اس طرح روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کو ملنے تک انہوں نے اپنے اوپر اس کو ناراض کر دیا۔
Takhreej
(۹۱۸۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، الاجلح الکندی ضعیف، وقیس بن ابی مسلم فی عداد المجھولین، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۳۹ (انظر: ۲۳۴۶۳)
Explanation
فوائد:… جب کمزور لوگوں کو اقتدار مل جائے، تو وہ انتقامی کاروائی شروع نہ کر دیں، بلکہ شریعت کی روشنی میں اپنا اقتدار برقرار رکھیں۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کی غلطی کو معاف کر دیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اُس کی (لغزشوں اور غلطیوں) کو معاف کر دے گا۔
Takhreej
(۹۱۸۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ بنحوہ ابوداود: ۳۴۶۰، وابن ماجہ: ۲۱۹۹ (انظر: ۷۴۳۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ سے مال میں کمی نہیں آتی، جو آدمی ظلم کو معاف کر دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتاہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۱۹۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۸۸ (انظر: ۷۲۰۶)
Explanation
فوائد:… صدقہ سے مال میںکمی نہیںآتی۔ اس کی صورت ہے کہ رزق میںبرکت ہو جاتی ہے اور اس میںکمی کا باعث بننے والے امور دور ہو جاتے ہیں، اس طرح مخفی برکت کے ذریعے ظاہری طور پر ہونے والی کمی پوری ہو جاتی ہے، یا صدقہ کی وجہ سے اتنا اجر و ثواب ملتا ہے کہ ہونے والی کمی کو کمی ہی نہیں کہا جا سکتا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نرمی والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی کی وجہ سے وہ کچھ عطا کرتا ہے، جو سختی اورتشدد پر عطا نہیں کرتا۔
فوائد:… اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ بہت مہربان ہے، وہ ان کے ساتھ آسانی کاارادہ کرتا ہے، نہ کہ تنگی کا، یہی وجہ ہے کہ اس نے جنت جیسا عظیم انعام دینے کے لیے سہولت آمیز شریعت کو مرتب کیا ہے اور وہ اپنے بندوں میں بھی نرمی اور مہربانی کو پسند کرتاہے۔