TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل - اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل - Book 155 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 155 of Musnad Ahmad, with 13 chapters and 113 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

113 Hadith · 13 Chapters
اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۹۲۱۲)۔ عَنْ جَرِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَّا یَرْحَمْ لَا یُرْحَمْ، وَمَنْ لَّا یَغْفِرْ لَا یُغْفَرْ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۵۷)
۔ سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا اور جو نہیں بخشتا، اس کو نہیں بخشا جاتا۔
Takhreej
(۹۲۱۲) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۶۶۱، والطبرانی فی الکبیر : ۲۴۷۷(انظر: ۱۹۲۴۴)
9212
Sahih
اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۹۲۱۳)۔ عَنْ عَمْرٍو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَیُعَرِّفْ حَقَّ کَبِیْرِنَا۔)) (مسند احمد: ۶۷۳۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو ہمارے کم سن پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑے کے حق کو نہیں پہچانتا۔
Takhreej
(۹۲۱۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۴۹۴۳، والترمذی: ۱۹۲۰(انظر: ۶۷۳۳)
Explanation
فوائد:… اسلام اس لحاظ سے یکتا و یگانہ حیثیت کا مالک ہے کہ اس نے بزرگو ں کے احترام و اکرام اور چھوٹوں سے محبت و شفقت کرنے پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ کوئی مذہب بسیار کوشش کے باوجود اپنے پیروکاروں کے دلوں میں بڑوں کے احترام اور چھوٹوں سے شفقت کے جذبات پیدا نہ کر سکا۔ مغربی تہذیب تو اخلاقِ حسنہ سے اس قدر عاری ہے کہ وہاں بڑی عمر کے لوگوں کو (Ol ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما Hous s) میں جمع کر کے ان کو زندگی کے حقیقی لطف اور اپنے بچوں پہ نگاہِ شفقت ڈالنے سے محروم کر دیا جاتا ہے، جبکہ اسلام اس فرد کو اپنے تمدن کا باشندہ ہی نہیں سمجھتا جو بزرگوں کی بزرگی اور بچوں سے حسن ِ سلوک کا لحاظ نہیں کرتا۔ ((لَیْسَ مِنَّا))کے لفظی معانی وہ ہم میں سے نہیں کے ہیں،یہ جملہ کسی شخص سے نفرت، بیزاری اور براء ت کا اظہار کرنے کے لیے بولا جاتا ہے، اس جملہ کے مفہوم سے چند احتمالات پیدا ہوتے ہیں کہ وہ ہم میں سے نہیں سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کا معنییہ ہے کہ اس کا تعلق ہماری امت سے نہیںیا وہ صادق اور کامیاب مسلمانوں میں سے نہیںیا وہ ہمارے طریقے پر نہیںیا وہ ہمارے حکم اور فیصلے پر نہیںیا وہ ان لوگوں میں سے ہے جو ہماری سفارش کے مستحق نہیں؟ اس سلسلہ میں محدثین کرام اور سلف صالحین کی توجیہات و تشریحات کا مطالعہ فرمائیں۔ ۱۔حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌، عبدالرحمن مبارکپوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌اوردیگر کئی اہل علم کہتے ہیں: لیس منا ای من اھل سنتنا و طریقتنا، ولیس المراد بہ اخراجہ عن الدین، ولکن فائدۃ ایرادہ بھذا اللفظ المبالغۃ فی الردع عن الوقوع فی مثلِ ذلک … وہ ہم میں سے نہیں سے مراد یہ ہے کہ وہ ہماری سنت اور طریقے پر نہیں،اس سے مراد اس آدمی کو دین ِ اسلام سے خارج کرنا نہیں، ان الفاظ کا فائدہ ایسی برائیوں سے ڈانٹ ڈپٹ کرنا ہے۔ ۲۔ بعض اہل علم کہتے ہیں: فَلَیْسَ مِنَّا أیْ لَیْسَ عَلٰی دِیْنِنَا الکامِلِ۔ … ہم میں سے نہیں سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمارے مکمل دین پر نہیں، بلکہ اس کا دین ناقص ہے)۔ ۳۔ بعض علمائے دین کہتے ہیں: لیس منا ای لیس من أدبنا أولیس مِثْلَنَا۔ … وہ ہم میں سے نہیں سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمارے (معینہ) آداب پر نہیںیا وہ ہماری طرح کا (مکمل) مسلمان نہیں۔ جبکہ امام سفیان بن عینیہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌مذکورہ بالا تمام مفاہیم و مطالب کو ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے کہ حدیث میں وارد ہونے والے ایسے الفاظ کی تاویل کرنے سے باز رہنا چاہئے تاکہ لوگوں کے قلوب و اذہان میں اس کا اثر بھی زیادہ ہو اور لوگوں کو ایسے جرائم سے باز رہنے کا فائدہ بھی ہو۔ بہرحالیہ الفاظ متعلقہ امر کی قباحت و شناعت پر دلالت کرتے ہیں،یہ الفاظ صاحب ِ شریعت ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے بہت سخت وعید ہیں، ایسے امور سے اجتناب کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہئے۔
9213
Sahih
اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۹۲۱۴)۔ عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ مَنْ لَّا یَرْحَمُ النَّاسَ لَا یَرْحَمُہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۸۲)
۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا۔
Takhreej
(۹۲۱۴) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۲۳۸۱(انظر: ۱۱۳۶۲)
9214
Sahih
اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۹۲۱۵)۔ عَنْ اَبِی اِسْحَاقَ، قَالَ: کَانَ جَرِیْرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْبَجَلِیُّ فِی بَعْثٍ بِاَرْمِیْنِیَِّۃَ، قَالَ: فَاَصَابَتْھُمْ مَخْمَصَۃٌ، اَوْ مَجَاعَۃٌ، قَالَ: فَکَتَبَ جَرِیْرٌ اِلیٰ مُعَاوِیَۃَ اَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ لَّمْ یَرْحَمِ النَّاسَ لا یَرْحَمُہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) قَالَ: فاَرْسَلَ اِلَیْہِ فَاَتَاہُ، فَقَالَ: اَنْتَ سَمِعْتَہُ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاَقْفَلَھُمْ وَمَتَّعَھُمْ، قَالَ: اَبُوْاِسْحَاقَ وَکَانَ اَبِی فِی ذٰلِکَ الْجَیْشِِ فَجَائَ بِقَطِیْفَۃٍ مِّمَّا مَتَّعَہُ مُعَاوِیَۃُ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۰۸)
۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: سیدنا جریر بن عبد اللہ بَجَلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ارمینیہ کے مقام پر ایک لشکر میں موجود تھے، وہ لشکر بھوک میں مبتلا ہو گیا، سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف خط لکھا کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو بلایا، پس جب وہ آئے تو انھوں نے کہا: کیا تم نے یہ حدیث واقعی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس انھوں نے سازو سامان کے ساتھ ان کو واپس کیا۔ ابو اسحق کہتے ہیں: میرے باپ بھی اس لشکر میں تھے، وہ بھی اس سامان میں سے ایک چادر لائے تھے، جو سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھیجا تھا۔
Takhreej
(۹۲۱۵) تخریج: مرفوعہ صحیح، وھذا اسناد اختلف فیہ علی ابی اسحاق، أخرج المرفوع منہ مسلم: ۲۳۱۹(انظر: ۱۹۱۹۴)
9215
Sahih
اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۹۲۱۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلیٰ مِنْبَرِہِ یَقُوْلُ: ((اِرْحَمُوْا تُرْحَمُوْا، وَاغْفِرُوْا یَغْفِرِ اللّٰہُ لَکُمْ، وَیْلٌ لِاَقْمَاعِ الْقَوْلِ، وَیْلٌ لِلْمُصِرِّیْنَ، الَّذِیْنَیُصِرُّوْنَ عَلیٰ مَا فَعَلُوْ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۷۰۴۱)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر فرمایا: رحم کرو، تم پر رحم کیا جائے گا، بخشو، اللہ تعالیٰ تم کو بخش دے گا، ان سنی کر دینے والوں کے لیے ہلاکت ہے، اصرار کرنے والوں کے لیے بھی ہلاکت ہے جو جاننے بوجھنے کے باجود اپنے برے افعال پر ڈٹے رہتے ہیں۔
Takhreej
(۹۲۱۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۷۲۳۶، والبخاری فی الأدب المفرد : ۳۸۰ (انظر: ۷۰۴۱)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کی ذات رحم کرنے اور بخشنے سے بدرجۂ اتم و اکمل متصف ہے،لیکن جو انسان، اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کے حق میں ان دو صفات سے متصف ہو کر رحمدلی اور معافی کا معاملہ نہیں کرتا، اس کا اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات سے بھی کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا۔
9216
Sahih
اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۹۲۱۷)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوْقَ اَبَا الْقَاسِمِ صَاحِبَ الْحُجْرَۃِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لا تُنْزَعُ الرَّحْمَۃُ اِلاَّ مِنْ شَقِیٍّ۔)) (مسند احمد: ۷۹۸۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے صادق و مصدوق اور اس حجرے والے ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ رحمت کو صرف اس سے چھین لیا جاتا ہے، جو بد بخت ہو۔
Takhreej
(۹۲۱۷) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۹۴۲، والترمذی: ۱۹۲۴ (انظر: ۸۰۰۱)
9217
Sahih
اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۹۲۱۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: دَخَلَ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنٍ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَآہُ یُقَبِّلُ حَسَنًا اَوْ حُسَیْنًا، فَقَالَ لَہُ: لَا تُقَبِّلْہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، لَقَدْ وُلِدَ لِیْ عَشَرَۃٌ، مَا قَبَّلْتُ اَحَدًا مِنْھُمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَّا یَرْحَمْ لَا یُرْحَمْ۔))(مسند احمد: ۷۱۲۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عیینہ بن حصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تشریف لائے اور دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یا سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بوسہ لے رہے تھے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کا بوسہ نہ لیں، میرے تو دس بچے ہیں، میں نے تو کسی کا بوسہ نہیں لیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
Takhreej
(۹۲۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۹۹۷(انظر: ۷۱۲۱)
9218
Sahih
اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۹۲۱۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اَتُقَبِّلُ الصِّبْیَانَ؟ فَوَاللّٰہِ مَا نُقَبِّلُھُمْ، فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اَمْلِکُ اَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ نَزَعَ مِنْ قَلْبِکَ الرَّحْمَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۹۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک بدّو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بچوں کا بوسہ لیتے ہیں؟ اللہ کی قسم! ہم تو ان کا بوسہ نہیں لیتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تیرے دل کو رحمت سے محروم کر دیا ہے تو میں کچھ نہیں کر سکتا۔
Takhreej
(۹۲۱۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۹۹۸، ومسلم: ۲۳۱۷ (انظر: ۲۴۲۹۱)
9219
Sahih
اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۹۲۲۰)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: تَنَاوَلَ اَبُوْ عُبَیْدَۃَ رَجُلاً بِشَیْئٍ فَنَھَاہُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالُوْا: اَغْضَبْتَ الْاَمِِیْرَ، فَاَتَاہُ فَقَالَ: اِنِّی لَمْ اُرِدْ اَنْ اُغْضِبَکَ، وَلٰکِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَشَّدَ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اَشَّدُّ النَّاسِ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِی الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۴۳)
۔ خالد بن حکیم بن حزام کہتے ہیں: سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کسی وجہ سے ایک آدمی کو سزا دی، لیکن سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو منع کر دیا، لوگوں نے کہا: تم نے امیر کو غصہ دلا دیا ہے، پس وہ اُن کے پاس گئے اور کہا: آپ کو غصہ دلانا میرا ارادہ نہیں تھا، لیکن میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ قیامت والے دن سب سے سخت عذاب اس کو دیا جائے گا، جو دنیا میں لوگوں کو سخت عذاب میں مبتلا کرتاہے۔
Takhreej
(۹۲۲۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، خالد بن حکیم مختلف فیہ صحبتہ ، ثم انہ اختلف فیہ علی عمرو بن دینار، أخرجہ الطیالسی: ۱۱۵۷، والحمیدی: ۵۶۲، والطبرانی فی الکبیر : ۳۸۲۴ (انظر: ۱۶۸۱۹)
9220
Zaeef
اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۹۲۲۱)۔ عَنْ عَرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ اَنَّہُ مَرَّ بِاُنَاسٍ مِنْ اَھْلِ الذِّمَّۃِ، قَدْ اُقِیْمُوْا فِی الشَّمْسِ بِالشَّامِ، فَقَالَ: مَاھٰؤُلائِ؟ قَالُوْا: بَقِیَ عَلَیْھِمْ شَیْئٌ مِّنَ الْخَرَاجِِ، فَقَالَ: اِنِّی اَشْھَدُ اَنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُعَذِّبُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ الَّذِیْنَیُعَذِّبُوْنَ النَّاسَ۔)) قَالَ: وَاَمِیْرُ النَّاسِ یَوْمَئِذٍ عُمَیْرُ بْنُ سَعْدٍ عَلیٰ فِلَسْطِیْنَ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَیْہِ فَحَدَّثَہُ فَخَلّٰی سَبِیْلَھُمْ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۰۵)
۔ سیدنا ہشام حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ کچھ ایسے ذمّی لوگوں کے پاس سے گزرے، جن کو شام میں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا، انھوں نے کہا: انھوں نے کیا کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ان پر لاگو کیا گیا کچھ خراج باقی ہے، انھوں نے کہا:بیشک میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ان لوگوں کو عذاب دے گا جو آج لوگوں کو سزائیں دیتے ہیں۔ اس وقت فلسطین کے امیر عمیر بن سعد تھے، سیدنا حکیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اُن کے پاس گئے اور ان کو یہ حدیث بیان کی، پس انھوں نے ان کو چھوڑ دیا۔
Takhreej
(۹۲۲۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۱۳ (انظر: ۱۵۳۳۰)
Explanation
فوائد:… مذکورہ بالا احادیث ِ مبارکہ کا مفہوم انتہائی واضح ہے، مسلمان کو رحمدلی اور نرم دلی جیسی صفت سے متصف ہو کر اپنے معاملات کو ڈیل کرنا چاہیے، ہر طرح کی ظلم و زیادتی سے اجتناب کرنا چاہیے۔
9221
Sahih
شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
۔ (۹۲۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ: ((اِسْتَحْیُوْا مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، حَقَّ الْحَیَائِ۔)) قَالَ: قَلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نَسْتَحِی وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، قَالَ: ((لَیْسَ ذٰلِکَ، وَلٰکِنَّ مَنِ اسْتَحْیٰ مِنَ اللَّہِ حَقَّ الْحَیَائِ فَلْیَحْفَظِ الرَّاْسَ وَمَاحَویٰ، وَالْبَطْنَ وَمَا وَعیٰ وَلْیَذْکُرِ الْمَوْتَ وَالْبِلیٰ، وَمَنْ اَرَادَ الْآخِرَۃَ، تَرَکَ زِیْنَۃَ الدُّنْیَا، فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ، فَقَدِ اسْتَحْیَا مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ حَقَّ الْحَیَائِ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن فرمایا: اللہ تعالیٰ سے شرماؤ، جیسے اس سے شرمانے کا حق ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ بیشک ہم اس سے شرماتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: معاملہ اس طرح نہیں ہے، جیسے تم نے سمجھ رکھا ہے، جو آدمی اللہ تعالیٰ سے کما حقہ شرمانا چاہتا ہو تو وہ سر کی اور ان چیزوں کی حفاظت کرے، جن کو سر نے سمیٹا ہوا ہے اور حفاظت کرے پیٹ کی اور ان چیزوں کی، جن پر پیٹ مشتمل ہے اور موت اور بوسیدگی کو یاد کرے اور جو آخرت کا ارادہ رکھتا ہے، وہ دنیا کی زینت چھوڑ دے، جس نے ایسے کیا، وہ اللہ تعالیٰ سے شرما گیا، جیسے اس سے شرمانے کا حق ہے۔
Takhreej
(۹۲۲۲) تخریج: حسن، قالہ الالبانی، أخرجہ الترمذی: ۲۴۵۸ (انظر: ۳۶۷۱)
9222
Sahih
شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
۔ (۹۲۲۳)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند احمد: ۹۷۰۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیا، ایمان کا ایک شعبہ ہے۔
Takhreej
(۹۲۲۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۹، ومسلم: ۳۵(انظر: ۹۷۱۰)
9223
Sahih
شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
۔ (۹۲۲۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَیَائُ مِنَ الْاِیْمَانِ، وَالْاِیْمَانُ فِی الْجَنَّۃِ، وَالْبَذَائُ مِنَ الْجَفَائِ، وَالْجَفَائُ فِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۱۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیائ، ایمان سے ہے اور ایمان جنت میں (لے جانے والا) ہے اوربد کلامی و بد زبانی، اکھڑ مزاجی اور بدخلقی سے ہے اوراکھڑ مزاجی آگ میں(لے جانے والی) ہے۔
Takhreej
(۹۲۲۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۰۰۹(انظر: ۱۰۵۱۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں جہاں شرم و حیا کو سراہا گیا اور ایمان کا جزو قرار دیا گیا ہے، وہاں بدکلامی اور بداخلاقی کی شدید مذمت بھی کی گئی ہے۔
9224
Sahih
شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
۔ (۹۲۲۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَاکَانَ الْفُحْشُ فِی شَیْئٍ قَطُّ اِلاَّ شَانَہُ، وَلا کَانَ الْحَیَائُ فِی شَیْئٍ قَطُّ اِلاَّ زَانَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۱۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدزبانی اور بدگوئی جس چیز میں ہو گی، اس کو عیب دار بنا دے گی اور حیا جس چیز میں ہو گا، اس کو خوبصورت بنا دے گا۔
Takhreej
(۹۲۲۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۸۵،و الترمذی: ۱۹۷۴ (انظر: ۱۲۶۸۹)
9225
Sahih
شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
۔ (۹۲۲۶)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ اُمَیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْحَیَائَ وَالسِّتْرَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۳۱)
۔ سیدنایعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حیا اور پردے کو پسند کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۲۲۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عطاء لم یسمع من یعلی، وابن ابی لیلی ضعیف (انظر: ۱۷۹۶۸)
9226
Zaeef
شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
۔ (۹۲۲۷)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَیَائُ خَیْرٌ کُلُّہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۵۵)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیاسارے کا سارا خیر و بھلائی ہے۔
Takhreej
(۹۲۲۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۸۵۴،و الطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۵۰۲(انظر: ۱۹۸۱۷)
9227
Sahih
شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
۔ (۹۲۲۸)۔ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلاً یَعِظُ اَخَاہُ فِی الْحَیَائِ، فَقاَلَ: ((اَلْحَیَائُ مِنَ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند احمد: ۴۵۵۴)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنا کہ ایک آدمی اپنے بھائی کو حیا کے بارے کچھ نصیحت کر رہا تھا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیا، ایمان میں سے ہے۔
Takhreej
(۹۲۲۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۱۸، ومسلم: ۵۹ (انظر: ۴۵۵۴)
9228
Sahih
شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
۔ (۹۲۲۹)۔ عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((اَلْحَیَائُ وَالْعِیُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْاِیْمَانِ، وَالْبَذَائُ وَالْبَیَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۶۸)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیا اور کلام پر عدم قدرت ایمان کے دو شعبے ہیں اوربد کلامی اور کلام پر قدرت نفاق کے دو شعبے ہیں۔
Takhreej
(۹۲۲۹) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ العی والبیان ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ بین حسان بن عطیۃ وبین ابی امامۃ، أخرجہ الترمذی: ۲۰۲۷(انظر: ۲۲۳۱۲)
9229
Sahih
شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
۔ (۹۲۳۰)۔ عَنْ قَتاَدَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا السَّوَّارِ الْعَدَوِیَّیُحَدِّثُ، اَنَّہُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنِ نِ الْخُزَاعِیَّیُحَدِّثُ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((اَلْحَیَائُ لا یَاْتِی اِلاَّ بِخَیْرٍ۔)) فَقاَلَ بُشَیْرُ بْنُ کَعْبٍ: مَکْتُوْبٌ فِی الْحِکْمَۃِ: اِنَّ مِنْہُ وَقَارًا وَمِنْہُ سَکِیْنَۃً، فَقَالَ عِمْرَانُ: اُحَدِّثُکَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَتُحَدِّثُنِی عَنْ صُحُفِکَ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۶۸)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیا صرف خیر وبھلائی کو لاتا ہے۔ بشیر بن کعب نے کہا: حکمت میں لکھا ہوا ہے کہ حیا کی بعض صورتیں باعث ِ وقار اور بعض باعث ِ سکینت ہوتی ہیں، سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کر رہا ہوں اور تو اپنے صحیفوں سے بیان کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۲۳۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۱۷، ومسلم: ۳۷ (انظر: ۱۹۸۳۰)
9230
Sahih
شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
۔ (۹۲۳۱)۔ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ھِلَالٍ، عَنْ بُشَیْرِ بْنِ کَعْبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَیَائُ خَیْرٌ کُلُّہُ۔)) فَقَالَ: بُشَیْرٌ، فَقُلْتُ: اِنَّ مِنْہُ ضَعْفًا، وَاِنَّ مِنْہُ عِجْزًا، فَقَالَ: اَحَدِّثُکَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وََتَجِیْئُنِی بِالْمُعَارِضِ! لا اُحَدِّثُکَ بِحَدَیْثٍ مَا عَرَفْتُکَ، فَقَالُوْا: یَا اَبَا نُجَیْدٍ! اِنَّہُ طَیِّبُ الْھَوٰی، وَاِنَّہُ وَاِنَّہُ، فَلَمْ یَزَالُوْا بِہٖحَتّٰی سَکَنَ وَحَدَّثَ۔ (مسند احمد: ۲۰۲۱۴)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیا سارے کا سارا خیر و بھلائی ہی ہے۔ بُشَیر نے کہا: حیا کی بعض صورتوں میں کمزوری اور بعض میں عاجزی ہوتی ہے، لیکن انھوں نے کہا: میں تجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتا ہوں اور تم احادیث کی مخالف چیزیںپیش کرتے ہو، آئندہ میں جب تک تجھے پہچانتا رہوں گا، ایک حدیث بھی بیان نہیں کروں گا، لیکن لوگوں نے کہا: یہ اچھی طبیعت کا آدمی ہے اور اس میں فلاں فلاں خوبی بھی ہے، بہرحال لوگ اس کی صفات شمار کرتے رہے، یہاں تک کہ سیدنا عمران سکون میں آگئے اور احادیث بیان کرنے لگے۔
Takhreej
(۹۲۳۱) تخریج: أخرجہ: مسلم: ۳۷(انظر: ۱۹۹۷۲)
Explanation
فوائد:… اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ حیا سے مراد وہ شرم و جھجک اور وقار وسنجیدگی نہیں جس کا تعین موجودہ معاشرہ کرتا ہے، شریعت کی روشنی میں حیا سے مراد اخلاق حسنہ کا وہ پہلو ہے جو برے اقوال و افعال سے اجتناب کرنے اور کسی مستحق کے حق میں کوتاہی برتنے سے باز رہنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس مفہوم میں حیا کو ایمان کی ایک شاخ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ ایسا حیا خیر ہی خیر ہے، جو انسان کو دھوکہ، فریب دہی اور جعل سازی وغیرہ جیسے غلط کاموں سے محفوظ ومامون رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیا، خیر وبھلائی کا ہی نام ہے۔ (بخاری:۶۱۱۷ ، مسلم: ۳۷) معلوم ہوا کہ شریعت پر عمل پیرا ہونے کو حیا کہتے ہیں، لہٰذا مسلمان کو مجسمۂ حیا ہو نا چاہئے، وہ اپنے تہذیب وتمدن، کلچر و ثقافت، چلن پھرن، اٹھک بیٹھک، نقل و حرکت، بول چال، خورد ونوش، میل ملاپ، دوستی و دشمنی، خوشی وغمی، غرضیکہ تمام معاملات میں شرم و حیا کا پیکر بن کر سامنے آئے۔ حیا، حسنِ اخلاق کا اتنا اہم پہلو ہے کہ پہلی شریعتوں میں بھی اس کو بحال رکھا گیا۔ سیدنا ابو مسعود بدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((آخِرُمَا أدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَامِ النُّبُوَّۃِ الأوْلٰی: إذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَاصْنَعْ مَاشِئْتَ۔)) (صحیحہ:۶۸۴)… پہلی نبوت کے کلام سے لوگوں کو آخری بات یہ ملی ہے کہ جب تجھے حیا نہ رہے تو جو چاہے کرتا پھرے۔ شریعت مطہرہ میں جس حیا کی تعریف کی گئی ہے، حافظ ابن حجر نے اس کی توضیحیوں کی ہے: وَفِیْ الشَّرْعِ: خُلُقٌ یَبْعَثُ عَلٰی اجْتِنَابِ الْقَبِیْحِ وَیَمْنَعُ مِنَ التَّقْصِیْرِ فِیْ حَقِّ ذِیْ الْحَقِّ۔ (فتح الباری: ۱/۷۲) … شریعت میں (حیا سے مراد)وہ خصلت ہے جو قبیح چیز سے اجتناب کرنے اور کسی حقدار کے حق میں کمی کرنے سے باز رہنے پر آمادہ کرے۔ اس مفہوم میں حیا ایسی عظیم صفت ہے، جو منکرات و سیئات سے پرہیز کرنے اور تزکیہ نفس میں مؤمن کی سب سے بڑی معاون ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کی پاسداری کرنے پر ابھارتی ہے اور ان میںکسی قسم کی کم و کاست کرنے سے روکتی ہے۔ مذکورہ حدیث میں …مِنْ کَلَامِ النُّبُوَّۃِ الْاُوْلٰی سے مراد یہ ہے تمام انبیا و رسل کی شریعتوں میں شرعی حیا کی اہمیت بحال رہی۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں باحیا ہونے کی ترغیب دلائی گئی ہے، یعنی جب کوئی انسان حیائے شرعی کو ترک کر دیتا ہے تو وہ طبعی طور پر ایسے دہانے پر کھڑا ہو جاتاہے،جہاں ہر قسم کی برائی کا ارتکاب ممکن ہوتا ہے۔ اس حدیث پر اسلام کا مدار ہے، کیونکہیہ حیا ہی ہے کہ جس کی بنا پر مومن فرض اور مستحب کو ترک کرنے سے اور حرام اور مکروہ کا ارتکاب کرنے سے شرماتا ہے۔ نیزیہ بھی اشارہ ملتا ہے جو آدمی استطاعت کے باوجود کوئی نیکی کرنے یا کسی برائی سے باز آنے کے سلسلے میں لوگوں سے شرم محسوس کرتا ہے، تو اسے حیادار نہیں کہا جا سکتا، بلکہ وہ بزدل اور ضعیف الایمان ہے، جو شریعت کی روشنی میں بے حیا ہے۔
9231
Sahih