۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سچائی کو لازم پکڑو، پس بیشک سچائی نیکی کی طرف اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور بندہ سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صِدِّیق لکھ دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۲۳۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۰۷(انظر: ۴۱۰۸)
Explanation
فوائد:… سچائی ممتاز انسانی خصائل حمیدہ میں سے ہے، یہ وہ صفت ہے،جس کی وجہ سے انسان خیر و بھلائی کی طرف مائل اور شرّ و فساد سے دور ہوتا ہے اور اسی وصف کی بدولت آدمی جھوٹ، دروغ گوئی، بدکلامی، فحش گوئی، سب و شتم، لعن طعن اور چغلی غیبت جیسے اوصاف ِ ذمیمہ سے اجتناب کرتاہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! جنت کے اعمال کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سچائی، جب بندہ سچ بولتا ہے تو نیکی کرتا ہے، جب نیکی کرتا ہے تو ایمان دار بن جاتا ہے اور جب ایماندار بنتا ہے تو جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آگ کے اعمال کون کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹ، جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو برائی کرتا ہے، جب برائی کرتا ہے تو کفر کرتا ہے اور جب کفر کرتا ہے تو آگ میں داخل ہو جاتا ہے۔
۔ علقمہ بن عبد اللہ مزنی بعض صحابۂ کرام سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور سچی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
۔ اہل مکہ میں سے یوسف نامی آدمی کہتا ہے: میں اور ایک قریشی آدمی کچھ یتیموں کے مال کی سرپرستی کرتے تھے، ہوا یوں کہ ایک آدمی (خیانت کرتے ہوئے) مجھ سے ایک ہزار درہم لے گیا، پھر اس کا ایک ہزار درہم میرے ہتھے لگ گیا، میں نے قریشی سے کہا: فلاں بندہ میرا ایک ہزار درہم لے گیا تھا، اب اس کا ایک ہزار درہم مجھے مل گیا تو کیا اب میں یہ رقم دبا لوں؟ اس نے کہا: میرے باپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تجھے امین بنائے تو تو اس کو اس کی امانت ادا کر دے اور اس کے ساتھ خیانت نہ کر، جس نے تجھ سے خیانت کی ہو۔
Takhreej
(۹۲۳۵) تخریج: مرفوعہ حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لابھام ابن الصحابی الذی روی عنہ یوسف، أخرجہ ابوداود: ۳۵۳۴(انظر: ۱۵۴۲۴)
Explanation
فوائد:… شریعت تمام کی تمام امانت ہے، کسی کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حقوق سے ہے اور کسی کا بندوں کے حقوق سے۔ شریعت ِ اسلامیہ میں امانت کی ادائیگی پر بہت زور دیا گیا ہے اور اس کی ادائیگی نہ کرنے والے کو منافق کہا گیا ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امانت مسلمان کا مستقل وصف ہونا چاہیے، نہ کسی کی امانت کے بدلے میں اس صفت کو اپنایا جائے اور نہ کسی کی خیانت کے عوض اس کو ترک کیا جائے۔ اس معاملے میں اپنے پرائے، امین و خائن اور مسلم و کافر کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا، بلکہ ہر ایک کی امانت ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ ہمارے ہاں انتقام لینے کی فضا عام ہے، مثلا اگر وقت کی حکومت اپنے حقوق ادا نہ کر رہی ہو تو عوام اس کی املاک کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتے ہیں، مثلا بجلی اور گیس چوری کرنا، حکومت کی ملکیت کا کسی قسم کا مال چوری کرنا، ٹرین کے ذریعے سفر کرنے پر کرایہ نہ دینا، دفاتر، سکولز، کالجز اور مختلف حکومتی اداروں میں اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرنا، سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنا۔ شریعت میں یہ تمام گناہ کی بدترین اقسام ہیں۔ یہی معاملہ کسی انسان کی خیانت کے مقابلے میں اس سے خیانت کرنے کا ہے۔
قارئین کرام! غور فرمائیں کہ شریعت میں نیکی اور گناہ کا تعلق اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور نافرمانی سے ہے، کسی کی دوستی اور دشمنی سے نہیں۔ درج ذیل حدیث پر غور فرمائیں:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تُصَرُّوا الْاِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنْ ابْتَاعَھَا بَعْدُ فَھُوَ بِخَیْرِ النَّظَرِیْنَ بَعْدَ اَنْ یَّحْلُبَھَا، اِنْ شَائَ اَمْسَکَھَا، وَاِنْ شَائَ رَدَّھَا وَصَاعًا مِّنْ تَمْرٍ۔)) (بخاری: ۲۱۵۱، مسلم: ۱۵۲۴) … اونٹنیوں اور بکریوں (کو فروخت کرتے وقت) ان کا دودھ مت روکو، اگر کوئی آدمی ایسا جانور خرید لیتا ہے تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دو اختیار ہیں، اگر وہ چاہے تو اسے اپنے پاس رکھ لے اور چاہے تو واپس کر دے، لیکن اس کے ساتھ کھجوروں کا ایک صاع بھی واپس کرے۔
مسلم کی روایت میں ہے: ((فَھُوَ بِالْخِیَارِ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ۔)) … اسے (واپس کرنے کا) تین دنوں تک اختیار ہے۔ دیکھیں کہ جانور بیچنے والے نے دھوکہ کیا اور دو تین دن جانور کو چارہ ڈالتا رہا، لیکن اس کا دودھ نہیں دوہا۔ جب خریدنے والے نے دودھ دوہ کر استعمال کر لیا اور ایک دو دنوں تک اس پر حقیقت ِ حال واضح ہو گئی تو شریعت نے اسے سودا واپس کرنے کا تین دن تک اختیار دیا ہے اورساتھ یہ حکم بھی دیا ہے کہ اگر وہ جانور واپس کرتا ہے تو کھجوروں کا ایک صاع بھی ساتھ واپس کرے، تاکہ بیچنے والا جو چارہ ڈالتا رہا، لیکن دودھ نہیں دوہا، اس کا عوض ہو جائے۔
سبحان اللہ! جانور کا دودھ روکنے والے نے ظلم کیا اور دھوکہ کیا، لیکن شریعت نے یہ بھی پسند نہیں کیا کہ اس کے دھوکے کے عوض اس کو نقصان پہنچایا جائے یا اس کے ساتھ زیادتی کی جائے، بلکہ یہ حکم صادر فرمایا کہ اس کے دھوکے کو اس پر چھوڑ دیا جائے اور اس کے چارے یا محنت کے عوض اس کو کھجوروں کا ایک صاع دے دیا جائے۔
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی آدمی سے کوئی بات سنی اور وہ آدمییہ نہ چاہتا ہو کہ وہ بات اس کے حوالے سے ذکر کی جائے تو وہ بات امانت ہو گی، اگرچہ بات کرنے والا اس کو راز رکھنے کی ہدایت نہ کرے۔
Takhreej
(۹۲۳۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبید اللہ بن الولید الوصافی، وعبدُ اللہ بن عبید بن عمیر لم یذکروا لہ سماعا من ابی الدرداء (انظر: ۲۷۵۰۹)
Explanation
فوائد:… لیکنیہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بندے کو خود بخود سمجھ جانا چاہیے کہ کون سی بات یا چیز امانت ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ یہ تاکید کی جائے کہ فلاں بات امانت ہے، اس کا خیال رکھنا، درج ذیل مثال پر غور کریں:
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (( إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ بِالْحَدِیْثِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَھِیَ أَمانَۃٌ۔)) … جب کوئی آدمی بات کرے، پھر ادھر ادھر دیکھنے لگے (کہ کوئی سن یا دیکھ تو نہیں رہا) تو اس کی بات امانت ہو گی ۔ (ابوداود: ۲/۲۹۷، ترمذي: ۱/۳۵۵)
امام مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث ِ مبارکہ کی شرح کرتے ہوئے لکھا: اگر کوئی آدمی کسی دوسرے شخص کے ساتھ گفتگو کر رہا ہو اور وہ گفتگو کے دوران دائیں بائیں دیکھے، تو اس سے یہ سمجھنا پڑے گا کہ وہ ہ راز کی بات کرنا چاہتا ہے اور اسے دوسرے لوگوں سے مخفی رکھنا چاہتا ہے۔ ایسی گفتگو امانت ہو گی اور اس کو راز رکھنا واجب ہو گا۔ ابن ارسلان نے کہا: متکلم کے ادھر ادھر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس بات کا خطرہ ہے کہ کوئی اس کی بات سن نہ لے، وہ صرف اپنے ہم مجلس تک اپنے راز کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ دراصل وہ ادھر ادھر دیکھ کر اپنے مخاطَب کو یہ کہنا چاہتا ہے کہ وہ اس کی گفتگو سنے، اس کو راز اور امانت سمجھے۔ (تحفۃ الاحوذی)
لیکن ہمارے ہاں تو تاکید کے باوجودمخصوص مجالس کو امانت نہیں سمجھاجاتا اور بات کو بتنگڑ بنا کر نشر کر دیا جاتا ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: اے ابن آدم! میں نے تجھے گھوڑے اور اونٹ پر سوار کیا اور عورتوں سے تیری شادی کروائی، پھر تجھے ایسا بنا دیا کہ تو خوشحال ہوا اور بلند رتبے والا بنا، پس اب ان چیزوں کا شکر کہاں ہے؟
Takhreej
(۹۲۳۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۶۸(انظر: ۱۰۳۷۸)
Explanation
فوائد:… اللہ اکبر! اللہ تعالیٰ نے اس دور میں انسان کی ظاہری شان و شوکت پر دلالت کرنے والی بے شمار چیزیں عطا کر دی ہیں، پرشکوہ کوٹھیاں، خوبصورت اور قیمتی لباس، حسن میں اضافہ کرنے کے اسباب، قسما قسم کے مشروبات اور مأکولات، گاڑیاں، ٹرانسپورٹ، دنیوی تعلیم، باغات، فصلیں اور صاحب ِ اختیار لوگوںکے ساتھ رابطے۔ شرعی حکم یہ تھا کہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا جائے، لیکن معاملہ برعکس ثابت ہوا اور جس کو جتنا زیادہ دیا گیا، وہ اتنا ہی اللہ تعالیٰ سے دور ہوتا گیا۔
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر طویل قیام کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں سوج جاتے تھے، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! تحقیق اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
فوائد:… یہ معصوم ہستی کا شکر ادا کرنے کا انداز ہے کہ کثرت ِ عبادت کی وجہ سے جن کے پاؤں میں ورم آ جاتا تھا، اللہ تعالیٰ کی نعمت کا تعلق دنیا سے ہو یا دین سے، وہ اس لائق ہے کہ ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کیا جائے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اس چیز کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھے۔
فوائد:… احادیث نمبر (۹۳۳۵ تا ۹۳۳۷) سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا مفہوم درست ہے، نعمت کا اثر نظر آنے کے دو معانی ہیں، بندے کو نعمتوں کے مطابق اچھے لباس اور اچھی حالت میں رہنا چاہیے، حدیث نمبر (۹۳۳۶) سے یہی معنی ثابت ہوتا ہے، دوسرا معنییہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے عوض اعمال صالحہ سر انجام دینے چاہئیں اور برے اعمال سے اجتناب کرنا چاہیے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَابْتَغِ فِیْمَآ اٰتٰکَ اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا وَاَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ۔} … اور جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے اس میں آخرت کا گھر تلاش کر اور دنیا سے اپناحصہ مت بھول اور احسان کر جیسے اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد مت ڈھونڈ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ (سورۂ قصص: ۷۵) دونوں معانی ہی مراد لینے چاہئیں،یعنی آدمی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں استعمال بھی کرے اور ان کے عوض نیک عمل بھی کرے۔
اس آیت ِ مبارکہ میں خزانوں کے مالک قارون سے خطاب کیا جا رہا ہے کہ اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کے بدلے احسان کرے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھانے والا اور شکر ادا کرنے والے صبر کرنے والے روزے دار کی طرح ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا، اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا۔
فوائد:… اللہ تعالیٰ حقیقی محسِن ہے اور احسان کرنے والا آدمی مجازی محسِن ہوتا ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے کے لیے اس کو سبب بناتا ہے، اس لیے محسِنِ حقیقی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے اور محسِنِ مجازی کا بھی۔
تمام انعامات کا سرچشمہ اور منعمِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہر وقت اور ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کیا جائے، یہی وجہ ہے کہ کھانے پینے کے بعد کی دعاؤں، سوتے اور بیدار ہوتے وقت کی دعاؤں، سواری پر سوار ہونے کی دعاؤں وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کی گئی ہے۔
بسا اوقات انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہِ راست نعمت ملتی ہے، لیکن بعض اوقات ربّ جلیل اپنے بندوں پر انعام کرنے کے لیے اپنے بندوں کو ہی استعمال کرتے ہیں، جیسے وہ لوگ جو ہماری روزی کا سبب بنتے ہیں، ہمیں صدقہ و خیرات دیتے ہیں، ہمیں تحائف و ہدایا عطا کرتے ہیں، ہم کو دعوت دیتے ہیں، وغیرہ۔ ایسی صورت میں لوگوں کا شکر ادا کرنا بھی ضروری ہے۔
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لکڑیوں پر یا اس منبر پر فرمایا تھا کہ جس نے تھوڑی چیز کا شکر ادا نہ کیا، وہ کثیر مقدار والی چیز کا بھی شکریہ ادا نہیں کرے گا اور جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہ کیا، وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرے گا، اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بیان کرنا بھی شکر ہے اور بیان نہ کرنا ناشکری ہے۔ اور جماعت رحمت ہے اور افتراق و انتشار عذاب ہے۔ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم بڑے لشکر کو لازم پکڑو، ایک آدمی نے کہا: بڑا لشکر کون سا ہے؟ سیدنا ابو امامہ نے کہا: سورۂ نور کییہ آیت ہے: پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پر لازم کر دیا گیا ہے اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر رکھا گیا ہے۔ (سورۂ نور: ۵۴)
Takhreej
(۹۲۴۴) تخریج: قولہ: من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، فیہ ابو عبد الرحمن لم یعرف، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۹۱۱۹، والبزار: ۱۶۳۷(انظر: ۱۸۴۵۰)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے ساتھ کوئی احسان کیا جائے تو وہ اس کا بدلہ دے، اگر بدلے کی قدرت نہ ہو تو اس کا ذکر کر دے، پس جس نے اس کا ذکر کر دیا، اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے ایسی نعمت کا اظہار کیا، جو اس کے پاس نہیں ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے، جس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن رکھے ہوں۔
فوائد:… ذکر کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کے حق میں تعریفی کلمات کہے، جیسے: آپ کی بہت بہت مہربانی، آپ نے شفقت کی ہے، آپ کا بہت بہت شکریہ اور اس کے لیے دعا کرے، جیسا کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ صُنِعَ إِلَیْہِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِہِ جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِی الثَّنَائِ۔)) … جس کے ساتھ نیکی کا سلوک کیا گیا اور اس نے نیکی کرنے والے سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تجھے اچھا صلہ عطا فرمائے، اس نے پوری تعریف کی۔ (ترمذی: ۱۹۵۸) معلوم ہوا کہ دعائیہ کلمات کہنے کے لیے بہترین الفاظ جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا ہیں۔
جھوٹ کے دو کپڑے پہننے سے مراد یہ ہے کہ گویا جھوٹ نے اس بندے کے سارے بدن کو ڈھانپ لیا ہے، وہ اپنے حق میں ایسی چیز کا اظہار کر رہا ہے، جو اس کی نہیں ہے۔
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت گرمی میں چل رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا، پس ایک آدمی تسمہ لے کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتے میں ڈال دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس چیز کو جانتا ہوتا، جس پر تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھایا ہے تو تواس چیز کو کم نہ سمجھتا، جس پر تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سوار کیا ہے۔
Takhreej
(۹۲۴۶) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا من اجل علی بن یزید الالھانی ، وھو واھی الحدیث أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۸۶۵ (انظر: ۲۲۲۸۷)
Explanation
فوائد:… لَمْ یَعلُ کے الفاظ اکثر نسخوں میں اسی طرح مروی ہیں، البتہ ایک نسخے میں لَمْ یَغلُ کے الفاظ ہیں، علامہ سندھی نے کہا: میرے نزدیک ظاہر یہ ہے کہ یہ الفاظ حاضر کے صیغے کے ساتھ ہیں، جن کے معانی لَمْ تُقِلَّ (کم سمجھنے) کے ہیں،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آدمی کے عمل کو عظیم قرار دے رہے ہیں، بعض نسخوں میں لَمْ تُعْلِ اور بعض میں لَمْ تُغْلِ کے الفاظ ہیں، لیکن ان الفاظ کی کوئی قریبی مناسبت سمجھ نہیں آ رہی۔ واللہ اعلم۔
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جس بندے نے میرے لیے اس طرح تواضع اختیار کی، پھر یزید راوی نے ہتھیلی کو زمین کی طرف کیا اور پھر زمین کے قریب کیا، تو میں اللہ اس کو ایسے بلند کروں گا، پھر راوی نے ہتھیلی کی پشت کو آسمان کی طرف کیا اور پھر آسمان کی طرف بلند کیا۔
فوائد:… کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے ہیچ ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے بلندی عطا کرنا چاہی، وہی رفعت والا ہو گا اور جس کو اللہ تعالیٰ نے ذلیل کرنا چاہا، وہی حقارت والا ہو گا، دونوں جہانوں کی ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کے حکم کی تابع ہے، جو اس کے قریب ہوا، جس نے اس کے لیے تواضع اختیار کی، رفعت و عظمت کا ستارہ اس کے ماتھے کا جھومر بن کر رہے گا۔
تواضع کا مطلب ہے، ایک دوسرے کے ساتھ عاجزی وانکساری، نرمی و رحمدلی اور محبت و الفت سے پیش آنا، حسب و نسب یا مال و دولت کی بنیاد پر کسی کو حقیر نہ سمجھنا اور نہ کسی پر ظلم و زیادتی کرنا۔وجہ یہ ہے اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو مقام و مرتبہ، مال و دولت حسب و نسب جیسی صلاحیتوں سے نوازا ہے، تو اس کو اس پراللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے، کیونکہ ان انعامات کے حصول میں اس کی صلاحتیں کارفرما نہیں ہیں، بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کے احسان کا نتیجہ ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان اس کے لیے مضرّ ثابت ہو اس طرح کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو بنظر حقارت دیکھےیا ان پر ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رفعت و منزلت اور عظمت و مرتبت کے انتہائی اعلی مراتب پر فائز تھے، کسی امتی کا آپ سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا: {وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ} (سورۂ شعرائ: ۲۱۵) … (اے محمد!) اپنے پیروکار مومنوں سے نرمی سے پیش آؤ۔
لیکنیہ حقیقت مدنظر رہے کہ آدمی نرمی و عاجزی اختیار کرنے سے بعض دفعہ یہ سمجھتا ہے کہ اس میں اس کی ذلت ہے، ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا، کیونکہ تواضع کا نتیجہ عزت و سرفرازی کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور آخرت میں بھی اس کا حسن انجام واضح ہے کہ اسے بلند درجات سے نوازا جائے گا۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے ایک درجہ تواضع اختیار کی، اللہ تعالیٰ اس کو بلحاظ درجے کے اتنا بلند کرے گا کہ اس کو علیین میں لے جائے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ پر ایک درجہ تکبر کیا، اللہ تعالیٰ اس کو درجے کے لحاظ سے اتنا پست کر دے گا کہ اس کو سب سے نیچا اور گھٹیا ترین بنا دے گا۔
Takhreej
(۹۲۴۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، ولضعف روایۃ دراج عن ابی الھیثم، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۷۶ (انظر: ۱۱۷۲۴)
۔ شریح بن عبید سے مروی ہے کہ سیدنا عتبہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ مجھ سے بہتر تھے اور سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ کہتے تھے: سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ مجھ سے بہتر تھے، وہ مجھ سے ایک سال پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے تھے۔
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع کرتے ہوئے اچھا لباس نہیں پہنا، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا تھا، تو اللہ تعالیٰ اس کوبھی ساری مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور اسے یہ اختیار دے گا کہ وہ ایمان کی جو پوشاک پسند کرتا ہے، وہ پہن لے۔
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حقیقی اور گہرے تعلق کی ضرورت ہے، آپ ذیل میں پیش کی گئی بحث پر توجہ کریں، ممکن ہے اس حدیث کی فقہ سمجھ آ جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کنگھی کی بھی ہے اور بالوں کو اچھی طرح سنوارنے کا حکم بھی دیا ہے، لیکنیہ بھی حکم دے دیا کہ کوئی آدمی ہر روز کنگھی نہ کرے، یہی معاملہ لباس کا ہے۔
مقصودِ شریعتیہ ہے کہ مسلمان نہ تو ایسا ہو کہ ہفتوں تک نہانے اوربالوں کو سنوارنے کا اہتمام نہ کرے اور بالآخر اپنی حیثیت کو نہ سمجھنے والا قابل نفرت شخص بن جائے اور نہ ایسا ہو کہ ہر روز اور ہروقت اپنی ظاہری ٹیپ ٹاپ پر توجہ مرکوز رکھے، کیونکہ ہر وقت کی خوشحالی، آسودگی اور خوش عیشی بھی انسان کے مزاج میں فساد پیدا کر دیتی ہے اور وہ غرور و تکبر میںمبتلا ہو جاتا ہے اور کم صفائی رکھنے والے یا سادہ زندگی گزارنے والوں سے نفرت کرنے لگتا ہے یا کم از کم یہ ہوتا ہے کہ سادگی کی اہمیت اور فوائد کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔
ایک دن صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دنیا کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (( اَلَا تَسْمَعُوْنَ؟ اَلَا تَسْمَعُوْنَ؟ اِنَّ الْبَذَاذَۃَ مِنَ الْاِیْمَانِ۔)) … کیا تم نہیں سنتے؟ کیاتم نہیں سنتے؟ کہ سادگی ایمان کا حصہ ہے۔ (ابوداود: ۴۱۶۱)
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ عمدہ لباس کے ساتھ ساتھ سادہ لباس کو بھی ترجیح دینی چاہیے اور مرغوب، لذیذ اور انواع و اقسام کی خوراک کے مقابلے میں روکھی سوکھی اور سادہ خوراک بھی استعمال کرنی چاہیے، کیونکہ دنیا کی آسائشوں اور سہولتوں میں الجھنے کی وجہ سے آخرت کا دھیان کم پڑ جاتا ہے اور تکلفات سے اجتناب کرنے کی صورت میں توجہ آخرت کی طرف رہتی ہے۔ لیکنیہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ پاکیزگی ، صفائی اور طہارت کا اہتمام کرنا اور چیز ہے اور عمدہ
اور قیمتی لباس کا اہتمام کرنا اور چیز ہے۔ سادگی، صفائی کی متضاد چیز نہیں ہے۔
اس کی دوسری مثال یوں سمجھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی جوتا استعمال کیا ہے اور اس کو پہننے کی ترغیب بھی دلائی ہے، لیکن ننگے پاؤں چلنے کا حکم بھی دیا ہے۔ غور کریں کہ قیمتی اور خوبصورت جوتا پہننے سے انسان کے جذبات کا کیا حال ہوتا ہے، ننگے پاؤں چل کر ان جذبات کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ درج ذیل حدیث سے اس مسئلہ کی توضیح ہو جائے گی۔
سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ تَرَکَ اللِّبَاسَ تَوَاضُعًا لِلّٰہِ وَھُوَ یَقْدِرُ عَلَیْہِ، دَعَاہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رُؤُوْسِ الْخَلَائِقِ حَتّٰییُخَیِّرَ مِنْ أَیِّ حُلَلِ الإِیْمَانِ شَائَ یَلْبَسُھَا۔)) … جس شخص نے محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے تواضع کے طورپر عمدہ لباس پہننا چھوڑ دیا، درآن حالیکہ وہ اس کی طاقت رکھتا تھا، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کے سامنے اسے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ ایمان کے جوڑوں میں سے جو جوڑا پسند کرے، پہن لے۔ (ترمذی، صحیحہ:۷۱۸) بات سمجھانے کے لیے حدیث دوبارہ پیش کی ہے۔
اس حدیث میں تواضع کی اور دوسروں پر برتری نہ جتلانے کی فضیلت ہے۔ ایمان کے جوڑے سے مراد، جنت کے وہ اعلی جوڑے ہیں، جو صرف اہل ایمان کو پہنائے جائیں گے۔
اگر درج ذیل احادیث پر غور کیا جائے تو سادگی سے متعلقہ گزارشات کو آسانی سے سمجھا جا سکے گا:
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ((کَانَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَرْکَبُ الْحِمَارَ وَیَخْصِفُ النَّعْلَ وَیَرْقَعُ الْقَمِیْصَ وَیَقُوْلُ: ((مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنَّیْ۔)) (الصحیحۃ: ۲۱۳۰، و رواہ أبو الشیخ:۱۲۸، والسھمی فی تاریخ جرجان :۳۱۵)… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گدھے پر سوار ہوتے تھے، جوتاسلائی کر تے تھے اور قمیص کو خود ہی پیوند لگا لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے: جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اسْتَکْبَرَ مَنْ أکَلَ مَعَہُ خَادِمُہُ وَرَکِبَ الْحِمَارَ بِالأسْوَاقِ، وَاعْتَقَلَ الشَّاۃَ فَحَلَبَھَا۔)) (الصحیحۃ: ۲۲۱۸، البخاری فی الأدب المفرد :۵۵۰، و الدیلمی: ۴/۳۳) … وہ شخص متکبر نہیں ہے،جس کے ساتھ اُس کے خادم نے کھانا کھایااور وہ بازاروں میں گدھے پر سوارہوا اوربکری کی ٹانگ کو اپنی ٹانگ میں پھنسا کر اس کو دوہا۔
بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے کوئی چیز اٹھانے میںیا کوئی کام کرنے میںیا اپنے سے کم مرتبہ آدمی کی خدمت کرنے میںیا ردّی سواری استعمال کرنے میں ہتک محسوس کرتے ہیں۔ یہی وہ مزاج ہے، جس کو شریعت کچلنا چاہتی ہے، اسی مقصد کے لیے مندرجہ بالا احادیث بیان کی گئی ہیں۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور جس نے بھی تواضع اختیار کی، اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دے گا۔