TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان - دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 10 of قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 23 · 12 Hadith
۔ (۹۷۵۴)۔ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: یُقَالَ: ھٰذِہِ غَدْرَۃُ فُلَانٍ۔ (مسند احمد: ۴۲۰۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت ہر دھوکے باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا۔ ابن جعفر کی روایت میں ہے: اور یہ کہا جائے گا کہ یہ فلاں کا دھوکہ ہے۔
Takhreej
(۹۷۵۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۳۶ (انظر: ۴۲۰۱)
9754
Sahih
۔ (۹۷۵۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْغَادِرُ یُرْفَعُ لَہُ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،یُقَالَ: ھٰذِہِ غَدْرَۃُ فُلانِ بْنِ فُلَانِ۔)) (مسند احمد: ۴۶۴۸)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن دھوکے باز کا جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔
Takhreej
(۹۷۵۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۷۷، ومسلم: ۱۷۳۵ (انظر: ۴۶۴۸)
9755
Sahih
۔ (۹۷۵۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، یَقُوْلُ : ((یُنْصَبُ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَلَا غَدْرَۃَ اَعْظَمُ مِنْ غَدْرَۃِ اِمَامِ عَامَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۵۳۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حجرے کے پاس تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لیے جھنڈا گاڑھا جائے گا، بڑے امام کے ساتھ کیے گئے دھوکے سے بڑھ کر کوئی دھوکہ نہیں ہے۔
Takhreej
(۹۷۵۶) تخریج: صحیح (انظر: ۵۳۷۸)
Explanation
فوائد:… بہت بڑی رسوائی ہے کہ حشر کے میدان میں اللہ کی مخلوق کے سامنے دبر کے ساتھ ایک جھنڈا گڑھا ہوا ہو، جو اس کی خیانت، دھوکے اور عہد شکنی پر دلالت کرے۔ مسلمانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا شعور ہونا چاہیے۔
9756
Sahih
۔ (۹۷۵۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((وَذِمَّۃُ الْمُسْلِمِیْنَ وَاحِدَۃٌیَسْعٰی بِھَا اَدْنَاھُمْ، فَمَنْ اَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ، وَالْمَلَائِکَۃِ، وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنِ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا، وَلَا صَرْفًا۔)) (مسند احمد: ۹۱۶۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی ضمانت (کا حکم) ایک ہے، ادنی مسلمان بھییہ ضمانت دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کا عہد توڑ دیا، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی فرضی عبادت قبول کرے گا نہ نفلی۔
Takhreej
(۹۷۵۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۳۷۱ (انظر: ۹۱۷۳)
Explanation
فوائد:… اسلام میں عہد و پیمان کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے، اگرچہ وہ غیر مسلموں سے کیا گیا ہو۔
9757
Sahih
۔ (۹۷۵۸)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَاخَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا قَالَ: ((لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہُ، وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَھْدَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۱۰)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ،وہ کہتے ہیں: نبی کریم جب بھی ہم سے خطاب کرتے تھے تو اس میں یہ فرماتے تھے: اس آدمی کا ایمان نہیں، جس کی امانت نہیں اور اس آدمی کا دین نہیں، جس کا عہد وپیمان کوئی نہیں۔
Takhreej
(۹۷۵۸) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۱۱، وابویعلی: ۲۸۶۳، والبزار: ۱۰۰، والبیھقی: ۶/۲۸۸ (انظر: ۱۲۳۸۳)
Explanation
فوائد:… خیانت کرنا بہت بڑا جرم ہے، یہ قبیح عمل منافق کی صفت ہے، ایمان کے ساتھ خیانت کا کوئی سمجھوتہ نہیں، آدمی جس چیز کی خیانت کرے گا وہ قیامت والے دن اپنے کندھے پر اٹھا کر لائے گا۔ وہ کیسا منظر ہو گا کہ آدمی کی پیٹھ پر اونٹ، گائے اور بکری وغیرہ لدے ہوئے ہوں گے اور وہ اپنی طبعی آواز نکال رہے ہوں گے۔ آجکل حکومتی عہدیدار بالعموم اور سیاسی لیڈر بالخصوص قومی خزانوں کو لوٹنا اپنا ذاتی حق سمجھتے ہیں اور وہ سرے سے حلت و حرمت میں تمیز کرنے سے قاصر ہیں، زکوۃ کمیٹیوں کی رقم حقداروںمیں نہیں، بلکہ قرابتداروں یایاروں میں بانٹی جاتی ہیں اور عوام الناس کی اکثریت کو جہاں اور جس انداز میں موقع ملتا ہے، وہ شکار ضائع نہیں جانے دیتے، وہ سرکاری اداروں کا مال چوری کرنے کی صورت میں ہو یا سرکاری جگہ پر قبضہ جمانے کی صورت میں۔ یہ سب خیانتیں ہیں۔ جن کی سزا بھگتنی پڑے گی۔
9758
Sahih
۔ (۹۷۵۹)۔ عَنْ عَمْروِ بْنِ عَبْسَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ قَوْمٍ عَھْدٌ فَـلَا یَشُدُّ عُقْدَۃً، وَلَا یَحُلُّ حَتّٰییَمْضِیَ اَمَدُھَا، اَوْ یَنْبِذَ اِلَیْھِمْ عَلٰی سَوْائٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۵۶)
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مسلم قوم اور کسی دوسری قوم کے درمیان کوئی معاہدہ ہو تو نہ وہ اس کو مزید لمبا کر کے مضبوط کرے اور نہ اس کو توڑے، یہاں تک کہ اس کی مدت ختم ہو جائے یا دونوں برابر برابر کا توڑ دیں۔
Takhreej
(۹۷۵۹) تخریج: حدیث صحیح بشاھدہ، أخرجہ ابوداود: ۲۷۵۹، والترمذی: ۱۵۸۰(انظر: ۱۹۴۳۶)
Explanation
فوائد:… دیکھیں حدیث نمبر (۵۱۳۸)
9759
Sahih
۔ (۹۷۶۰)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ شَرَطَ لِاَخِیْہِ شَرْطًا لَا یُرِیْدُ اَنْ یَفِيَ لَہُ بِہٖ، فَھُوَ کَالْمُدْلِیْ جَارَہُ اِلٰی غَیْرِ مَنَعَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۳۱)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی سے کوئی شرط لگائی، جبکہ اس کا اس کو پورا کرنے کا ارادہ نہ ہو تو وہ اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنے بھائی کو ایسی ہمسایہ (قوم) کے سپرد کر رہا ہے، جن کے پاس (دشمن سے بچنے کی) کوئی قوت نہیں ہے۔
Takhreej
(۹۷۶۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، حجاج بن ارطاۃ مدلس وقد عنعن، وقد تفرد بھذا الحدیث، ولیس بذالک القوی، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۷/ ۹۶ (انظر: ۲۳۴۳۸)
9760
Zaeef
۔ (۹۷۶۱)۔ عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: اَقْتُلُ لَکَ عَلِیًّا؟ قَالَ: وَکَیْفَ تَقْتُلُہُ وَمَعَہُ الْجُنُوْدُ؟ قَالَ: اَلْحَقُ بِہٖفَاَفْتِکُبِہٖقَالَ: لَا،اَنَّرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْاِیْمَانَ قَیْدُ الْفَتْکِ، لَا یَفْتِکُ مُؤْمِنٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۶)
۔ حسن سے مروی ہے کہ ایک آدمی سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیا میں تیرے لیے علی ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کو قتل کر دوں؟ انھوں نے کہا: تو اس کو کیسے قتل کرے گا، جبکہ اس کے ساتھ تو لشکر ہیں؟ اس نے کہا: میں بظاہر اس کے ساتھ مل جاؤں گا اور پھر اس کو غافل پا کر قتل کر دوں گا، انھوں نے کہا: نہیں، ایسے نہیں کرنا، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایمان امان دینے کے بعد قتل کرنے سے روکتا ہے، مؤمن امان دینے کے بعد قتل نہیں کرتا۔
Takhreej
(۹۷۶۱) تخریج: صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۱۲۳، وعبد الرزاق: ۹۶۷۶ (انظر: ۱۴۲۶)
9761
Sahih
۔ (۹۷۶۲)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَلْاِیْمَانُ قَیَّدَ الْفَتْکَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۵۷)
۔ سیدنا معاویہ بن ابو سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایمان امان دینے کے بعد قتل کرنے سے روکتا ہے۔
Takhreej
(۹۷۶۲) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۷۲۳ (انظر: ۱۶۸۳۲)
9762
Sahih
۔ (۹۷۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ رَفَاعَۃَ الْبَجَلِیِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی الْمُخْتَارِ بْنِ اَبِیْ عُبَیْدٍ قَصْرَہُ، فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: مَا قَامَ جِبْرِیْلُ اِلَّا مِنْ عِنْدِیْ قَبْلُ، قَالَ: فَھَمَمْتُ اَنْ اَضْرِبَ عُنُقَہُ، فَذَکَرْتُ حَدِیْثًا حَدَّثَنَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ : ((اِذَا اَمَّنَکَ الرَّجُلُ عَلٰی دَمِہِ، فَـلَا تَقْتُلْہُ۔)) قَالَ: وَکَانَ قَدْ اَمَّنَنِیْ عَلٰی دَمِہِ فَکَرِھْتُ دَمَہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۴۹)
۔ ابورفاعہ بجلی کہتے ہیں: میں مختار بن ابی عبید کے پاس اس کے محل میں گیا، میں نے اس کو کہتے ہوئے سنا: اس سے پہلے جبریل کھڑا نہیں ہوا، مگر میرے پاس سے، یہ بات سن کر میں نے اس کی گردن اڑا دینے کا ارادہ کیا، لیکن مجھے ایک حدیثیاد آ گئی، سیدنا سلیمان بن صرد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی تجھے اپنے خون پر امین بنائے تو تو نے اس کو قتل نہیں کرنا۔ مختار نے مجھے بھی اپنے خون پر امین بنایا تھا، اس میں نے اس کے قتل مکروہ سمجھا۔
Takhreej
(۹۷۶۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن میسرۃ ولجھالۃ ابی عکاشۃ الھمدانی (انظر: ۲۷۲۰۷)
9763
Zaeef
۔ (۹۷۶۴)۔ عَنْ رِفَاعَۃَ الْقِتْبَانِیِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی الْمُخْتَارِ، فَاَلْقٰی لِیْ وِسَادَۃً، وَقَالَ: لَوْ لَا اَنَّ اَخِیْ جِبْرِیْلَ قَامَ عَنْ ھٰذِہِ لَاَلْقَیْتُھَا لَکَ، قَالَ: فَاَرَدْتُ اَنْ اَضْرِبَ عُنُقَہُ، فَذَکَرْتُ حَدِیْثًا حَدَّثَنِیْہِ اَخِیْ عَمْروُ بْنُ الْحَمِقِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَیُّمَا مُؤْمِنٍ اَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلٰی دَمِہِ فَقَتَلَہُ فَاَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِیْئٌ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۰۲)
۔ رفاعہ قتبانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مختار کے پاس گیا،اس نے میرے لیے تکیہ رکھا اور کہا: اگر میرا بھائی جبریل اس سے کھڑا نہ ہوا ہوتا تو میں نے اس کو تیرے لیے رکھنا تھا، یہ بات سن کر میں نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، لیکن پھر مجھے ایک حدیثیاد آ گئی، میرے بھائی سیدنا عمرو بن حمق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مؤمن کسی مؤمن کو اپنے خون پر امین بنائے اور پھر وہ اس کو قتل کر دے تو میں قاتل سے بری ہوں۔
Takhreej
(۹۷۶۴) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطیالسی: ۱۲۸۵، والبزار: ۲۳۰۹، وابن حبان: ۵۹۸۲ (انظر: ۲۳۷۰۲)
9764
Sahih
۔ (۹۷۶۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: کُنْتُ اَقُوْمُ عَلٰی رَاْسِ الْمُخْتَارِ، فَلَمَّا عَرَفْتُ کَذِبَہُ ھَمَمْتُ اَنْ اَسُلَّ سَیْـفِیْ فَاَضْرِبَ عُنُقَہُ، فَذَکَرْتُ حَدِیْثًا حَدَّثَنَاہُ عَمْروُ بْنُ الْحَمِقِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ اَمَّنَ رَجُلًا عَلٰی نَفْسِہِ، فَقَتَلَہُ اُعْطِیَ لِوَائَ الْغَدْرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۹۴)
۔ (دوسری سند) میں مختارکا پہرہ دیتا تھا، جب میں نے پہچان لیا کہ یہ جھوٹا ہے تو میں نے ارادہ کیا کہ اپنی تلوار سونتوں اور اس کی گردن اڑا دوں، لیکن پھر مجھے ایک حدیثیاد آ گئی، سیدنا عمرو بن حمق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی آدمی کو اپنی جان پر امن والا بنایا، لیکن اس نے اس کو قتل کر دیا تو قیامت والے دن اس کو دھوکے کا جھنڈا دیا جائے گا۔
Takhreej
(۹۷۶۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
9765
Sahih

Chapters

23
01
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
14 Hadith
02
ایسے امور کی ترہیب کا بیان جن کا تعلق بڑی نافرمانیوں سے ہے اور ان کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے،نیز ان کے فاعل کی وعید کا بیان
9 Hadith
03
والدین کی نافرمانی سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
04
قطع رحمی سے ترہیب کا بیان
10 Hadith
05
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
7 Hadith
06
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
11 Hadith
07
تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
08
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
09
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
13 Hadith
10
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
11
ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
11 Hadith
12
حسد، بغض اور دھوکے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
13
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
14 Hadith
14
جاسوسی کرنے اور سوئے ظن رکھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
15
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
11 Hadith
16
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
13 Hadith
17
موت اور امید کا بیان
5 Hadith
18
محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
5 Hadith
19
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
7 Hadith
20
صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
21
خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
22
شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
23
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.