TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان

Chapter 22 of قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 22 of 23 · 4 Hadith
۔ (۹۸۵۱)۔ عَنِ الشَّعَبِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍیَقُوْلُ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکُنْتُ اِذَا سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَصْغَیْتُ وَتَقَرَّبْتُ وَخَشِیْتُ اَنْ لَا اَسْمَعَ اَحَدًا یَقُوْلُ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((حَلَالٌ بَیِّنٌ وَحَرَامُ بَیِّنٌ، وَشُبُھَاتٌ بَیْنَ ذٰلِکَ، مَنْ تَرَکَ مَا اشْتَبَہَ عَلَیْہِ مِنَ الْاِثْمِ کَانَ لِمَا اسْتَبَانَ لَہُ اَتْرَکَ، وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلٰی مَا شَکَّ فِیْہِ اَوْشَکَ اَنْ یُوَاقِعَ الْحَرَامَ، وَاِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی، وَاِنَّ حِمَی اللّٰہِ فِیْ الْاَرْضِ مَعَاصِیْہِ، اَوْ قَالَ: مَحَارِمُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۷۴)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، امام شعبی کہتے ہیں: جب میں ان کو یہ کہتے ہوئے سنتا کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا تو میں اپنا کان لگاتا اور قریب ہو جاتااور ڈرتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کسی اور سے یہ الفاظ نہ سن سکوں کہ وہ کہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، البتہ ان کے بیچ میں مشتبہ امور ضرور ہیں، جس نے گناہ سے بچنے کے لیے مشتبہ چیز کو چھوڑ دیا، تو وہ واضح ہونے والے گناہ کو زیادہ چھوڑنے والا ہو گا اور جس نے مشکوک چیز پر جرأت کر دی تو قریب ہے کہ وہ حرام میں پڑ جائے، بیشک ہر بادشاہ کی ایک ممنوعہ جگہ ہوتی ہے اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ جگہ اس کی نافرمانیاںیا حرام کردہ امور ہیں۔
Takhreej
(۹۸۵۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۵۱، ومسلم: ۱۵۹۹ (انظر: ۱۸۳۸۴)
Explanation
فوائد:… قرآن و حدیث کی روشنی میں حلال اور حرام امور بالکل واضح ہیں، البتہ بیچ میں کچھ ایسے امور ہیں کہ واضح طور پر جن کی حلت یا حرمت کا فیصلہ نہیں کیا سکتاہے، ان ہی کو مشتبہ امور کہتے ہیں، اس حدیث مبارکہ کا تقاضا یہ ہے کہ ان امور سے بھی اجتناب کیا جائے، تاکہ آدمی حرام کاموں سے مکمل طور پر محفوظ رہے، جو آدمی ان شبہات سے بچے گا، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر پائے گا اور جو ان کو جائز سمجھ لے گا، وہ نادم ہو گا اور فضائل سے محروم رہے گا۔ دیکھیں حدیث نمبر (۶۲۰۴)، درج ذیل حدیث میں ایک مشتبہ چیز کا بیان ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے راستے میں پڑی ہوئی کھجور کے بارے میں فرمایا: اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہو سکتی ہے تو میں اسے کھا لیتا۔ (صحیح بخاری: ۲۰۵۵) حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصے سے (جو صحیح بخاری وغیرہ میں موجود ہے۔ البتہ اس جگہ وہ حصہ درج نہیں ہوا) معلوم ہوتا ہے کہ بندے کی اصلاح کا دارومدار دل پر ہے، لہٰذا دل کو پر خلوص رکھا جائے اور اصلاح کی کوشش کی جائے۔
9851
Sahih
۔ (۹۸۵۲)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا مَرَّ برَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ بَعْضُ اَزْوَاجِہِ، فَقَالَ: یَا فُلَانَۃُیُعْلِمُہُ اَنَّھَا زَوْجَتُہُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَتَظُنُّ بِیْ؟ فَقَالَ: ((اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ یَدْخُلَ عَلَیْکَ الشَّیْطَانُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۸۷)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیوی آپ کے پاس کھڑی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو آواز دی: اے فلاں، دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو یہ بتلانا چاہتے تھے کہ یہ عورت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیوی ہے، اس نے آگے سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو میرے بارے میں کوئی بدگمانی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک مجھے یہ خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تیرے اندر گھس جائے (اور کوئی وسوسہ پیدا کر دے)۔
Takhreej
(۹۸۵۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ مسلم: ۲۱۷۴ (انظر: ۱۲۲۶۲)
9852
Sahih
۔ (۹۸۵۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ اِمْرَاَۃٍ مِنْ نِسَائِہِ فَمَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ: ((یَا فُلَانُ! ھٰذِہِ امْرَاَتِیْ)) فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ کُنْتُ اَظُنُّ بِہٖ،فَاِنِّیْ لَمْ اَکُنْ اَظُنُّ بِکَ، قَالَ: ((اِنَّ الشَّیْطَانَیَجْرِیْ مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَی الدَّمِ۔))(مسند احمد: ۱۲۶۲۰)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ایک بیوی کے ساتھ کھڑے تھے کہ وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے فلاں! یہ میری بیوی ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کسی کے بارے میں تو گمان ہو سکتا ہے، لیکن آپ کے بارے میں تو میں کسی بد گمانی میں مبتلا نہیں ہو سکتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان، ابن آدم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۵۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ نے شیطان کو اتنی طاقت دی ہے کہ وہ انسان کے اندر خون کے چلنے کے مقامات میں گردش کر سکتا ہے، یا اس سے مراد یہ ہے کہ شیطان بہت تیزی سے انسان کو وسوسہ میں ڈالنے میںکامیاب ہو جاتا ہے، بہرحال شیطان انسان کے اندر گھس کر اس کووسوسوں میں مبتلا کرتا ہے اور نافرمانی پر آمادہ کرتا ہے۔
9853
Sahih
۔ (۹۸۵۴)۔ عَنْ عَلَیٍّ بْنِ حُسَیْنٍ، عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ حُیَِيٍّ (زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم و ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُعْتَکِفًا، فَاَتَیْتُہُ اَزُوْرُہُ لَیْلًا، فَحَدَّثْتُہُ ثُمَّ قُمْتُ، فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِیَیَقْلِبُنِیْ، وَکَانَ مَسْکَنُھَا فِیْ دَارِ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْاَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَیَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلٰی رِسْلِکُمَا، اِنَّھَا صَفِیَّۃُ بِنْتُ حُیَیٍّ۔)) فَقَالَا: سُبْحَانَ اللّٰہِ! یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّیْطَانَیَجْرِیْ مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ، وَاِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ یَقْذِفَ فِیْ قُلُوْبِکُمَا شَرًّا، اَوْ قَالَ: شَیْئًا ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۰۰)
۔ زوجۂ رسول سیدہ صفیہ بنت حیی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف کی حالت میں تھے، میں رات کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زیارت کرنے کے لیے آئی، پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے باتیں کیں اور جب اٹھ کر جانے لگی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی مجھے واپس چھوڑ کر آنے کے لیے کھڑے ہو گئے، میرا گھر سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے پاس تھا، ہمارے پاس سے دو انصاریوں کا گزر ہوا، جب انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو انھوں نے جلدی سے آگے سے گزرنا چاہا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ، یہ صفیہ بنت حیی ہے (جو کہ میری اپنی بیوی ہے)۔ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! اے اللہ کے رسول! بڑا تعجب ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان، ابن آدم کے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے اور میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ وہ تمہارے دل میں کوئی شرّ والی بات ڈال دے۔
Takhreej
(۹۸۵۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۸۱، ومسلم: ۲۱۷۵ (انظر: ۲۶۸۶۳)
Explanation
فوائد:… ان احادیث ِ مبارکہ میں بہت بڑا سبق یہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کو اپنی ذات کے بارے میں سوئے ظن کرنے سے محفوظ رکھا ہے، یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے ساتھ شفقت ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی مصلحتوں اور ان کے قلوب و جوارح کی سلامتی کا لحاظ رکھا ہے، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ گزرنے والے یہ دو آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں کوئی نازیبا بات کر دیں اور پھر ہلاکت ان کا مقدر بن جائے۔ اہل علم کا اجماع ہے کہ انبیائے کرام کے بارے میں سوئے ظن رکھنا کفر ہے۔ ان احادیث سے سبق یہ ملتا ہے کہ مسلمان کو تہمت گاہ اور شک و شبہ والے مقام سے دور رہنا چاہیے، تاکہ کسی کو اس کے بارے میں سوئے ظن رکھنے کا موقع نہ ملے۔
9854
Sahih

Chapters

23
01
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
14 Hadith
02
ایسے امور کی ترہیب کا بیان جن کا تعلق بڑی نافرمانیوں سے ہے اور ان کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے،نیز ان کے فاعل کی وعید کا بیان
9 Hadith
03
والدین کی نافرمانی سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
04
قطع رحمی سے ترہیب کا بیان
10 Hadith
05
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
7 Hadith
06
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
11 Hadith
07
تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
08
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
09
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
13 Hadith
10
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
11
ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
11 Hadith
12
حسد، بغض اور دھوکے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
13
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
14 Hadith
14
جاسوسی کرنے اور سوئے ظن رکھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
15
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
11 Hadith
16
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
13 Hadith
17
موت اور امید کا بیان
5 Hadith
18
محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
5 Hadith
19
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
7 Hadith
20
صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
21
خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
22
شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
23
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.