۔ (۹۸۴۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللہ عنہ ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((اِیِّاکُمْ وَمُحَقَّرَاتِ
الذُّنُوْبِ، فَاِنَّھُنَّ یَجْتَمِعْنَ عَلَی الرَّجُلِ، حَتّٰییُھْلِکْنَہُ، وَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضَرَبَ لَھُنَّ مَثَلًا کَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوْا اَرْضَ فَلَاۃٍ، فَحَضَرَ صَنِیْعُ الْقَوْمِ، (اَیْ طَعَامُھُمْ) فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَنْطَلِقُ، فَیَجِیْئُ بِالْعُوْدِ وَالرَّجُلُ یَجِیْئُ بِالْعُوْدِ، حَتّٰی جَمَعُوْا سَوَادًا، فَاَجَّجُوْا نَارًا، وَاَنْضَجُوْا مَاقَذَفُوْا فِیْھَا۔)) (مسند احمد: ۳۸۱۸)
۔ صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان وہ آدمی پر اس قدر جمع ہو جائیں کہ اس کو ہلاک کر دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان گناہوں کی ایک مثال بیان کی کہ ان کی مثال اس قوم کی طرح ہے جو کسی صحراء میں اترے اور جب ان کے کھانے کا وقت ہوا تو ایک آدمی گیا اور ایک لکڑی لے آیا، دوسرا ایک لکڑی لے آیا،یہاں تک کہ گزارے کے لائق لکڑیاں جمع ہو گئیں، پھر انھوں نے آگ جلائی اور وہ کچھ پکا لیا، جو انھوں نے پکانا تھا۔
Takhreej
(۹۸۴۱) تخریج: حدیث حسن لغیرہ، أخرجہ الطیالسی: ۴۰۰، والطبرانی فی الکبیر : ۱۰۵۰۰ (انظر: ۳۸۱۸)
Explanation
فوائد:… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مثال کے ذریعے اپنا مقصود واضح کر دیا ہے کہ پوری زندگی کے معمولی معمولی گناہ جمع ہو کر انسان کی ہلاکت کا سبب بن سکتے ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی نافرمانی سے اجتناب کرنا چاہئے۔ مومن و مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معصیت سے گریز کرے، قطع نظر اس سے کہ وہ صغیرہ گناہ ہو یا کبیرہ۔
9841
Sahih