TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان - صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 20 of قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 20 of 23 · 6 Hadith
۔ (۹۸۴۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِیِّاکُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوْبِ، فَاِنَّھُنَّ یَجْتَمِعْنَ عَلَی الرَّجُلِ، حَتّٰییُھْلِکْنَہُ، وَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَرَبَ لَھُنَّ مَثَلًا کَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوْا اَرْضَ فَلَاۃٍ، فَحَضَرَ صَنِیْعُ الْقَوْمِ، (اَیْ طَعَامُھُمْ) فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَنْطَلِقُ، فَیَجِیْئُ بِالْعُوْدِ وَالرَّجُلُ یَجِیْئُ بِالْعُوْدِ، حَتّٰی جَمَعُوْا سَوَادًا، فَاَجَّجُوْا نَارًا، وَاَنْضَجُوْا مَاقَذَفُوْا فِیْھَا۔)) (مسند احمد: ۳۸۱۸)
۔ صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان وہ آدمی پر اس قدر جمع ہو جائیں کہ اس کو ہلاک کر دیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان گناہوں کی ایک مثال بیان کی کہ ان کی مثال اس قوم کی طرح ہے جو کسی صحراء میں اترے اور جب ان کے کھانے کا وقت ہوا تو ایک آدمی گیا اور ایک لکڑی لے آیا، دوسرا ایک لکڑی لے آیا،یہاں تک کہ گزارے کے لائق لکڑیاں جمع ہو گئیں، پھر انھوں نے آگ جلائی اور وہ کچھ پکا لیا، جو انھوں نے پکانا تھا۔
Takhreej
(۹۸۴۱) تخریج: حدیث حسن لغیرہ، أخرجہ الطیالسی: ۴۰۰، والطبرانی فی الکبیر : ۱۰۵۰۰ (انظر: ۳۸۱۸)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مثال کے ذریعے اپنا مقصود واضح کر دیا ہے کہ پوری زندگی کے معمولی معمولی گناہ جمع ہو کر انسان کی ہلاکت کا سبب بن سکتے ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی نافرمانی سے اجتناب کرنا چاہئے۔ مومن و مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معصیت سے گریز کرے، قطع نظر اس سے کہ وہ صغیرہ گناہ ہو یا کبیرہ۔
9841
Sahih
۔ (۹۸۴۲)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِیِّاکُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوْبِ، کَقَوْمٍ نَزَلُوْا فِیْ بَطْنِ وَادٍ فَجَائَ ذَا بِعُوْدٍ وَجَائَ ذَا بِعُوْدٍ حَتّٰی اَنْضَجُوْا خُبْزَتَھُمْ، وَاِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوْبِ مَتٰییَاْخُذُ بِھَا صَاحِبُھَا تُھْلِکُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۹۴)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صغیرہ گناہوں سے گریز کرو۔ (اور ان کو حقیر مت سمجھو، غور فرماؤ کہ) کچھ لوگ ایک وادی میں پڑاؤ ڈالتے ہیں، ایک آدمی ایک لکڑی لاتا ہے اور دوسرا ایک لاتا ہے … (ایک ایک کر کے اتنی لکڑیاں جمع ہو جاتیہیں کہ) وہ آگ جلا کر روٹیاں وغیرہ پکا لیتے ہیں۔ اسی طرح اگر صغیرہ گناہوں کی بنا پر مؤاخذہ ہوا تو وہ بھی ہلاک کر سکتے ہیں۔
Takhreej
(۹۸۴۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۵۸۷۲، وفی الاوسط : ۷۳۱۹، و الصغیر : ۹۰۴ (انظر: ۲۲۸۰۸)
9842
Sahih
۔ (۹۸۴۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! اِیَّاکِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوْبِ، فَاِنَّ لَھَا مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ طَالِبًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۱۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے سے بچتے رہنا، کیونکہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال کرنے والا (فرشتہ) ہو گا۔
Takhreej
(۹۸۴۳) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۴۳ (انظر: )
Explanation
فوائد:… مومنانہ تہذیبیہ ہے کہ کسی نیکی کو حقیر سمجھ کر ترک نہ کیا جائے اور کسی برائی کو معمولی تصور کر کے اس کا ارتکاب نہ کیا جائے، کیونکہ پوری زندگی کی معمولی معمولی غفلتیں اور سستیاں انسان کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہیں۔
9843
Sahih
۔ (۹۸۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِنَّکُمْ لَتَعْمَلُوْنَ اَعْمَالاً ھِیَ اَدَقُّ فِیْ عَیْنِکُمْ مِنَ الشَّعْرِ، کُنَّا نَعُدُّھَا عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْمُوْبِقَاتِ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۰۸)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بلاشبہ تم ایسے اعمال بھی سرانجام دے رہے ہوجو تمہارے نزدیک بال سے بھی زیادہ باریک ہیں(یعنی تم ان کو نہایت معمولی سمجھتے ہو) حالانکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہدِ مبارک میں ہم ان کو ہلاک کردینے والے امور میں شمار کرتے تھے۔
Takhreej
(۹۸۴۴) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۰۹۹۵)
Explanation
فوائد:… موجودہ دور میں لوگوں کی تربیت میں آڑے آنے والی سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ان کو نیکی اور برائی کی صورتوں کا علم ہی نہیں تاکہ وہ نیکیاں کر سکیں اور برائیوں سے بچ سکیں۔ مثلا بے پردگی، تنگ لباس، موسیقی، تہمت بازی، دو رُخا پن، چغلی و غیبت، مکرو فریب، جھوٹ، تمباکو نوشی، شیو کرنا، مردوں کا شلوار اور تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکانا، داڑھی تراشنا، خط کروانا، چہرے سے بال اکھاڑنا، لمبی لمبی مونچھیں رکھنا، ہمسائیوں کو تنگ کرنا، اپنے آپ کو نیک و برتر سمجھنا اور دوسروں کو گھٹیا و کم تر سمجھنا، بے صبری، قطع رحمی، ناراضگی، حد سے زیادہ گپ شپ، حلال و حرام کی تمیز نہ کرنا، تلاوت سے دوری، عورتوں کا تھریڈنگ کرنا، مصنوعی ناخن لگانا، جوڑے باندھنا ، وگ لگانا، سلام کا اہتمام نہ کرنا، تصویریں بنوانا ۔ وغیرہ وغیرہ۔ ماحصل یہ ہے کہ ہر مسلمان آخرت کی فکر کرے اور قرآن و حدیث کا مطالعہ کر کے اپنا مقام سمجھے اور اپنی منزل مقرر کرے۔
9844
Sahih
۔ (۹۸۴۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِنَّکُمْ لَتَعْمَلُوْنَ اَعْمَالًا، فَذَکَرَ مِثَلَ الْاَثْرِ الْمُتَقَدِّمِ بِلَفْظِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۳۱)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک تم لوگ ایسے ایسے کام کرتے ہو، …۔ پھر سابقہ قول کی طرح کے الفاظ نقل کیے۔
Takhreej
(۹۸۴۴) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۰۹۹۵)
9845
Sahih
۔ (۹۸۴۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ قُرْطٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِنَّکُمْ لَتَعْمَلُوْنَ الْیَوْمَ اَعْمَالًا، فَذَکَرَ مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۳۲)
۔ سیدنا عبادہ بن قرط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: بیشک تم لوگ آج ایسے ایسے افعال کر جاتے ہو کہ ……۔ پھر سابقہ قول کی طرح بیان کیا۔
Takhreej
(۹۸۴۶) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۱۳۵۳ (انظر: ۲۰۷۵۲)
Explanation
فوائد:… فسق کی دو صورتیں ہیں: کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنااور صغیرہ گناہوں پر اصرار کرنا، اس لیے جہاں کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے گا، وہاں صغیرہ گناہوں سے بچنے کے لیے بھی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
9846
Sahih

Chapters

23
01
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
14 Hadith
02
ایسے امور کی ترہیب کا بیان جن کا تعلق بڑی نافرمانیوں سے ہے اور ان کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے،نیز ان کے فاعل کی وعید کا بیان
9 Hadith
03
والدین کی نافرمانی سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
04
قطع رحمی سے ترہیب کا بیان
10 Hadith
05
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
7 Hadith
06
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
11 Hadith
07
تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
08
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
09
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
13 Hadith
10
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
11
ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
11 Hadith
12
حسد، بغض اور دھوکے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
13
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
14 Hadith
14
جاسوسی کرنے اور سوئے ظن رکھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
15
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
11 Hadith
16
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
13 Hadith
17
موت اور امید کا بیان
5 Hadith
18
محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
5 Hadith
19
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
7 Hadith
20
صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
21
خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
22
شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
23
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.