TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان - لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 19 of قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 19 of 23 · 7 Hadith
۔ (۹۸۳۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروِ بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِیِّاکُمْ وَالشُّحَّ، فَاِنَّ الشُّحَّ اَھْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، اَمَرَھُمْ بِالْقَطِیْعَۃِ فَقَطَعُوْا، وَاَمَرَھُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوْا، وَاَمَرَھُمْ بِالْفُجُوْرِ فَفَجِرُوْا۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لالچ سے بچو، بیشک اس لالچ نے تم سے پہلے والے لوگوں کو ہلاک کر دیا، اس نے ان کو قطع رحمی کا حکم دیا، پس انھوں نے قطع رحمی کی، اس نے ان کو بخیلی کا حکم دیا، پس انھوں نے بخیلی کی اور اس نے ان کو برائیوں پر اکسایا، پس انھوں نے برائیاں کیں۔
Takhreej
(۹۸۳۴) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن حبان: ۵۱۷۶، والطیالسی: ۲۲۷۲، والبیھقی: ۱۰/ ۲۴۳ (انظر: ۶۴۸۷)
Explanation
فوائد:… کنجوسی، بخل اور حرص جیسے اوصاف انسان کے کمینہ ہونے کے لیے کافی ہیں، بخیل آدمی سنگ دل بن جاتا ہے، دوسروں کی خوشی و غمی سے مستغنی ہو جاتا ہے، اپنے روپے پیسے کو بچانے یا اس کو بڑھانے کے لیے وہ قتل و غارت گری جیسے اقدامات کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور شریعت میں گنجائشیں تلاش کر تے کرتے اللہ تعالیٰ کی حدود کو پھلانگنا شروع کر دیتا ہے۔ مال کی شدید محبت کو شُحّ کہتے ہیں۔ جب انسان کے دل میں دنیا اور دنیا کے مال و اسباب کی محبت حد سے تجاوز کر کے شدید ہو جائے تو ایسا انسان حرام اور حلال کے درمیان تمیز بھی نہیں کرتا اور دسرے انسانوں کا خون بہانے سے گریز بھی نہیں کرتا۔ جیسے آج کل ہمارے معاشرے کا حال ہے اور یہ حالت اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس معاشرے کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں ہے، یہ دیریا سویر ہلاکت سے دو چار ہو کر ہی رہے گا۔
9834
Sahih
۔ (۹۸۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَجْتَمِعُ شُحٌّ وَاِیْمَانٌ فِیْ قَلْبِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ۔)) (مسند احمد: ۷۴۷۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لالچ اور ایمان، دونوں مسلمان آدمی کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔
Takhreej
(۹۸۳۵) تخریج: صحیح بطرقہ وشواھدہ، أخرجہ النسائی: ۶/ ۱۴(انظر: ۷۴۸۰)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ مومن کو ہر صورت میں بخل اور کنجوسی سے دور رہنا چاہیے۔
9835
Sahih
۔ (۹۸۳۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الصَّامِتِ، اَنَّہُ کَانَ مَعَ اَبِیْ ذَرٍّ، فَخَرَجَ عَطَاؤُہُ وَمَعَہُ جَارِیَۃٌ لَہُ فَجَعَلَتْ تَقْضِیْ حَوَائِجَہُ، قَالَ: فَفَضَلَ مَعَھَا سَبْعَۃٌ، قَالَ: فَاَمَرَھَا اَنْ تَشْتَرِیَ بِھَا فُلُوْسًا، قَالَ: قُلْتُ لَہُ: لَوِ ادَّخَرْتَہُ لِلْحَاجَۃِ تَنُوْبُکَ، اَوْ لِلضَّیْفِیَنْزِلُ بِکَ؟ قَالَ: اِنَّ خَلِیْلِیْ عَھِدَ اِلَیَّ اَنْ اَیُّمَا ذَھَبٍ اَوْفِضَّۃٍ اُوْکِیَ عَلَیْہِ فَھُوَ جَمْرٌ عَلٰی صَاحِبِہٖحَتّٰییُفْرِغَہُ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۱۲)
۔ عبد اللہ بن صامت سے مروی ہے کہ وہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھے، ان کا کوئی مال نکل آیا، ان کے ساتھ ان کی ایک لونڈی بھی تھی، اس نے ان کی ضروریات پوری کرنا شروع کیں، جب اس مال سے سات بچ گئے تو انھوں نے اپنی لونڈی سے کہا کہ وہ ان کے عوض قدیم سکے خرید لے، میں (عبد اللہ بن صامت) نے کہا: اگر تم ان کو پیش آنے والی ضرورت یا اپنے پاس آنے والے مہمان کے لیے ذخیرہ کر لو تو بہتر ہو گا۔ انھوں نے کہا: میرے خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ وصیت کی تھی کہ جس سونے اور چاندی کو بند کر کے رکھ دیا جائے تو وہ اس مالک کے لیے انگارے ہوں گے، یہاں تک کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دے۔
Takhreej
(۹۸۳۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ البزارفی مسندہ : ۳۹۲۶، والطبرانی: ۱۶۳۴(انظر: ۲۱۳۸۴)
9836
Sahih
۔ (۹۸۳۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْبَخِیْلِ وَالْمُنْفِقِ کَمَثَلِ رَجُلَیْنِ عَلَیْھِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِیْدٍ، مِن لَدُنْ ثُدِیِّھِمَا اِلٰی تَرَاقِیْھِمَا، (فَاَمَّا الْمُنْفِقُ) فَـلَا یُنْفِقُ مِنْھَا اِلَّا اتَّسَعَتْ حَلْقَۃٌ مَکَانَھَا، فَھُوَ یُوَسِّعُھَا عَلَیْہِ، (وَاَمَّا الْبَخِیْلُ) فَاِنَّھَا لَا تَزْدَادُ عَلَیْہِ اِلَّا اسْتِحْکَامًا۔)) (مسند احمد: ۷۴۷۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخل کرنے والے اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے کہ جن پر ان کے سینے والی جگہ سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک دو زرہیں ہوں، پس خرچ کرنے والا جب بھی خرچ کرتا ہے تو اس کا حلقہ اپنی جگہ پر کھل جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ ساری کھلی ہو جاتی ہے اور رہا مسئلہ بخیل کا تو اس کی زرہ کی مضبوطی میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۳۷) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۷۴۸۳)
Explanation
فوائد:… مفہوم یہ ہے کہ جب سخی آدمی خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے سینے میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے ہاتھ اس کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں، لیکن جب بخیل کو خرچ کرنے کا خیال آتا ہے تو اس کا سینہ اور تنگ ہو جاتا ہے اور اس کے ہاتھ بند ہو جاتے ہیں اور وہ حیلے بہانے کر کے بزعم خود اپنا مال محفوظ کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔
9837
Sahih
۔ (۹۸۳۸)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ لِفُلَانٍ فِیْ حَائِطِیْ عَذْقًا، وَاَنَّہُ قَدْ اٰذَانِیْ وَشَقَّ عَلَیَّ مَکَانُ عَذْقِہِ، فَاَرْسَلَ اِلَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((بِعْنِیْ عَذْقَکَ الَّذِیْ فِیْ حَائِطِ فُلَانٍ۔)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَھَبْہُ لِیْ۔)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَبِعْنِیْہِ بِعَذْقٍ فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: لَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَارَاَیْتُ الَّذِیْ ھُوَ اَبْخَلُ مِنْکَ، اِلَّا الَّذِیْیَبْخَلُ بِالسَّلَامِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۷۱)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرے باغ میں فلاں آدمی کا کھجور کا درخت ہے، پس تحقیق اس نے مجھے تکلیف دی ہے اور اس کے درخت کی جگہ میرے لیے باعث ِ مشقت ثابت ہوئی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص کی طرف پیغام بھیجا کہ فلاں آدمی کے باغ میں موجود اپنا کھجور کا درخت مجھے فروخت کر دے۔ لیکن اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے ہبہ کر دے۔ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر جنت کے کھجور کے درخت کے عوض مجھے بیچ دے۔ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا، جو تجھ سے زیادہ بخیل ہو، سوائے اس کے جو سلام کہنے میں بخل کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۳۸) تخریج: حسن لغیرہ، دون قولہ: ما رایت الذی …… بالسلام۔ فقد تفرد بہ عبد اللہ بن محمد بن عقیل وھو ضعیفیعتبر بہ، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۲۰(انظر: ۱۴۵۱۷)
Explanation
فوائد:… رغبت کا تقاضا تو یہی تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ پیش کش قبول کر لی جاتی، بہرحال مزاج مختلف ہوتے ہیں اور مالک کو اختیار بھی ہوتا ہے۔
9838
Sahih
۔ (۹۸۳۹)۔ عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِیْلَ، وَکَانَ مِنَّا مِنْ بَنِیْ غُبَرَ قَالَ: اَصَابَتْنَا سَنَۃٌ، فَاَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِیْطَانِھَا، فَاَخَذْتُ سُنْبُلًا فَفَرَکْتُہُ وَاَکَلْتُ مِنْہُ وَحَمَلْتُ فِیْ ثَوْبِیْ، فَجَائَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَضَرَبَنِیْ وَاَخَذَ ثَوْبِیْ، فَاَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَاعَلَّمْتَہُ اِذْ کَانَ جَاھِلًا، وَلَا اَطْعَمْتَہُ اِذْ کَانَ سَاغِبًا، اَوْ جَائِعًا۔)) فَرَدَّ عَلَیَّ الثَّوْبَ، وَاَمَرَ لِیْ بِنِصْفِ وَسْقٍ، اَوْ وَسْقٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۶۲)
۔ سیدنا عباد بن شرحبیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو بنو غبر میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم قحط سالی میں مبتلا ہو گئے، میں مدینہ میں آیا اور اس کے باغوں میں سے کسی ایک باغ میں داخل ہوا، ایک سٹّے کو ملا اور اس سے دانے نکالے۔ کچھ دانے کھا لیے اور کچھ کپڑے میں اٹھا لیے، اتنے میں باغ کا مالک آگیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا۔ میں (شکایت لے کر) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا (اور ساری بات بتائی) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (باغ کے اس مالک) سے فرمایا: وہ جاہل تھا تو نے اسے تعلیم نہیں دی اور وہ بھوکا تھا تو نے اسے کھلایا نہیں۔ تو اس نے میرا کپڑا مجھے لوٹا دیا اور مجھے ایکیا نصف وسق کھانے کا بھی دیا۔
Takhreej
(۹۸۳۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۲۶۲۱، وابن ماجہ: ۲۲۹۸، والنسائی: ۸/ ۲۴۰ (انظر: ۱۷۵۲۱)
Explanation
فوائد:… شرعی قانون کے مطابق اس آدمی کا باغ سے دانے اٹھا کر لے جانا غلطی تھی، اس کے احکام مقرر ہیں، چونکہ یہ آدمی جاہل تھا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے معذور قرار دیا اور مالک کو معمولی سی سرزنش کر دی۔ صاع ایک پیمانے کا نام ہے، جو دو کلو سو گرام کے برابر ہوتا ہے اور ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔
9839
Sahih
۔ (۹۸۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُوْلُ الْعَبْدُ: مَالِیْ وَ مَالِیْ، وَ اِنَّ مَالَہُ مِنْ مَالِہِ ثَلَاثٌ، مَااَکَلَ فَاَفْنٰی، اَوْ لَبِسَ فَاَبْلیٰ، اَوْاَعْطٰی فَاَقْنٰی، مَاسِوٰی ذٰلِکَ فَھُوَ ذَاھِبٌ وَتَارِکُہُ لِلنَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۹۳۲۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، جبکہ اس کے مال میں سے اس کے صرف تین حصے ہیں، (۱) جو اس نے کھا کر فنا کر دیا، (۲) جو اس نے پہن کر بوسیدہ کر دیا اور (۳) جو اس نے کسی کو مال دے کر خوش کر دیا، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، وہ اس کو لوگوں کے لیے چھوڑ کر جانے والا ہے۔
Takhreej
(۹۸۴۰) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۹۳۳۹)
Explanation
فوائد:… انسان کا حقیقی سرمایہ وہی ہے جو وہ اپنی زندگی میں خرچ کر دیتا ہے، باقی اس کے ورثاء اور لواحقین کا ہے۔
9840
Sahih

Chapters

23
01
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
14 Hadith
02
ایسے امور کی ترہیب کا بیان جن کا تعلق بڑی نافرمانیوں سے ہے اور ان کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے،نیز ان کے فاعل کی وعید کا بیان
9 Hadith
03
والدین کی نافرمانی سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
04
قطع رحمی سے ترہیب کا بیان
10 Hadith
05
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
7 Hadith
06
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
11 Hadith
07
تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
08
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
09
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
13 Hadith
10
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
11
ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
11 Hadith
12
حسد، بغض اور دھوکے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
13
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
14 Hadith
14
جاسوسی کرنے اور سوئے ظن رکھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
15
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
11 Hadith
16
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
13 Hadith
17
موت اور امید کا بیان
5 Hadith
18
محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
5 Hadith
19
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
7 Hadith
20
صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
21
خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
22
شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
23
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.