۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایوب علیہ السلام پر سونے کی ٹڈیاں گرائی گئیں، انھوں نے ان کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا، اللہ تعالیٰ نے کہا: اے ایوب کیا میں نے تجھے کو غنی نہیں کر دیا؟ انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! بھلا کون تیری رحمت یا تیرے فضل سے سیر ہو سکتا ہے۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایوب ننگے ہو کر غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گر پڑیں، انھوں نے ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنا شروع کر دیا، ربّ تعالیٰ نے آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تجھے اس چیز سے غنی نہیں کر دیا، جو تو دیکھ رہا ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے ربّ! لیکن تیری برکتوں سے مجھے کوئی غِنٰی نہیں۔
Takhreej
(۱۰۳۵۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… ایوب علیہ السلام نے اس سونے کو اللہ تعالیٰ کی برکت سمجھ کر اکٹھا کرنا شروع کر دیا، نہ کہ مال سمجھ کر۔
معلوم ہوا کہ جب آدمی اکیلا ہو، اس وقت ننگا ہو کر نہا سکتا ہے، کیونکہ نہ اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو ڈانٹا اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد مزید کوئی وضاحت کی۔
۔ ابو عالیہ کہتے ہیں: تمہارے نبی کے چچازاد نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کہا: کسی بندے کے لیےیہ جائز نہیں کہ وہ کہے: میںیونس بن متی سے بہتر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لیےیہ جائز نہیں کہ وہ کہے: میںیونس بن متی سے بہتر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا، انھوں نے گناہ کیا، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو منتخب کر لیا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ وہ یہ کہے: میںیونس بن متی سے بہتر ہوں۔
Takhreej
(۱۰۳۶۱) تخریج: أخرجہ (انظر: )
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ} … یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۵۳) اس آیت کا مطلب ہوا کہ بعض انبیاء ورسل کو بعض پر زیادہ فضیلت عطا کی گئی۔
ان احادیث ِ مبارکہ کا مقصود یہ ہے کہ کوئی نبی اور کوئی شخص از راہِ افتخار یا تنقیصیہ نہ کہے کہ وہ یونس علیہ السلام سے بہتر اور افضل ہے، اگر یونس علیہ السلام سے اعلی نبی اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے یا کسی اور دینی فائدے کے لیے اپنی فضیلت کی بات بیان کرے تو ایسا کرنے میںکوئی حرج نہیں ہو گا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((انا سید ولد آدم ولا فخر۔)) … میں اولادِ آدم کا سردارہوں، لیکن اس پر فخر نہیں ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ……، اس حدیث میں نبی کے الفاظ کے بجائے بندے کا لفظ ہے۔
۔ سیدنا سعد علیہ السلام سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اور میں نے ان کو سلام کہا، لیکن انھوں نے آنکھ بھر کر مجھے دیکھا اور میرے سلام کا جواب نہیں دیا، پس میں امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! کیا اسلام میں کوئی چیز نئی ظاہر ہو گئی ہے؟ دو ددفعہ کہا، انھوں نے کہا: جی نہیں، بھلا بات کون سی ہے؟ میں نے کہا: جی کوئی بات نہیں، بس اتنا ضرور ہوا ہے کہ میں ابھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، ان کو سلام کہا، انھوں نے آنکھ بھر کر مجھے دیکھا، لیکن میرے سلام کا کوئی جواب نہیں دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے کہا: کس چیز نے تم کو اپنے بھائی کے سلام کا جواب دینے سے روک دیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی میں نے تو ایسا کوئی کام نہیں کیا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، ایسے ہوا ہے، یہاں تک کہ انھوں نے بھی قسم اٹھا دی اور میں نے بھی قسم کھا لی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جی کیوں نہیں، اور میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ابھی تم میرے پاس سے گزرے تھے اور میں اپنے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی ایکحدیثیاد کر رہا تھا، نہیں، اللہ کی قسم، میں جب بھی اس حدیث کو یاد کرتا ہوں تو میری آنکھوں اور دل پر ایک پردہ چڑھ جاتا ہے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی تم کو ایک بات بتلاتا ہوں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتلانا چاہی کہ پہلی دعا، پھر ایک بدّو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مصروف کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ہو لیا، جب مجھے یہ شبہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کی طرف مجھ سے آگے نکل جائیں گے، تو میں نے اپنا پاؤں زمین پر مارا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف توجہ کی اور فرمایا: یہ کون ہے؟ ابو اسحاق ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! کوئی بات نہیں، بس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذکر کیا تھا کہ پہلی دعا، پھر یہ بدّو آ گیا اور اس نے آپ کو مصروف کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ مچھلی والے کیدعا ہے، جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے تو انھوں نے یہ دعا کی تھی: {لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ} (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر تو ہی، تو پاک ہے، بیشک میں ظالموں میں سے ہوں)۔ جو مسلمان جس چیز کے لیے ان الفاظ کے ساتھ اپنے ربّ کو پکارے گا، اللہ تعالیٰ اس کی پکار قبول کرے گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفرِ حج کے دوران ہرشاء گھاٹی کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی گھاٹی ہے۔ لوگوں نے کہا: یہ ہرشاء کی گھاٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گویا میںیونس بن متی کو دیکھ رہا ہوں، وہ سرخ اور پر گوشت اونٹنی پر سوار ہیں، انھوں نے اون کا جبہ پہنا ہوا ہے، ان کی اونٹنی کی لگام کھجور کے پتوں کی ہے اور وہ تلبیہ کہہ رہے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۳۶۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۶ (انظر: ۱۸۵۴)
Explanation
فوائد:… یونس علیہ السلام کو مذکورہ ہیئت میں کیسے بیان کیا گیا؟ دو صورتیں ممکن ہیں: (۱)جس طرح وہ دنیوی زندگی میں عبادت کرتے، حج کرتے اور تلبیہ کہتے تھے، تمثیلی طور پر ان کو اسی شکل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیایا (۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنے خواب میں اسی طرح دیکھا تھا۔ واللہ اعلم
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان اور ایکیہودی نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا، مسلمان نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جہانوں پر منتخب کیا،یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو جہانوں پرمنتخب کیا،یہ بات سن کر مسلمان کو غصہ آیا اور اس نے یہودی کی آنکھ پر تھپڑ دے مارا، یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس جھگڑے کی تفصیل بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسلمان سے پوچھا، اس نے اعتراف کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے موسی پر ترجیح نہ دو، پس بیشک لوگ قیامت کے دن بیہوش ہوں گے، سب سے پہلے مجھے افاقہ ہو گا، پس میں موسی علیہ السلام کو اس حال میں پاؤں گا کہ وہ عرش کے پہلو کے ساتھ کھڑے ہوں گے، پس میں نہیں جانتا کہ کیا وہ بھی بیہوش ہوئے تھے اور مجھ سے پہلے ان کو افاقہ ہو گیایا اللہ تعالیٰ نے ان کو مستثنی رکھا۔
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((فَـلَا اَدْرِیْ اَحُوْسِبَ بِصَعْقَۃِیَوْمِ الطُّوْرِ اَوْ أَفَاقَ قَبْلِیْ))… پس میں یہ نہیں جانتا کہ کیا موسی علیہ السلام کی طور والے دن بیہوشی کو کافی سمجھ لیا گیایا وہ بیہوش تو ہوئے، لیکن ان کو مجھ سے پہلے افاقہ ہو گیا۔
فوائد:… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ تمام انبیاء و رسل کا ادب کیا جائے اور اس انداز میں بعض کی برتری بیان نہ کی جائے کہ جس سے دوسرے کی تنقیص اور سوئے ادب والا معاملہ لازم آ رہا ہو، لیکن اس حدیث مبارکہ کا یہ مطلب نہیں کہ بعض انبیائ، بعض سے افضل نہیں ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ} … یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۵۳)
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن مال تقسیم کیا، ایک انصاری نے کہا: اس تقسیم سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضامندی نہیں ہے، میںنے کہا: اے اللہ کے دشمن! میں ضرور ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی خبر دوں گا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسی علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، ان کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی تھی، لیکن انھوں نے پھر بھی صبر کیا۔
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْھًا۔}… اے لوگو جوایمان لائے ہو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنھوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ نے اسے اس سے پاک ثابت کر دیا جو انھوں نے کہا تھا اور وہ اللہ کے ہاں بہت مرتبے والا تھا۔
(سورۂ احزاب: ۶۹)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی قوم کی اذیتوں پر بڑا صبر کیا۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے چھٹے آسمان کی طرف چڑھایا گیا، جبریل علیہ السلام نے کھولنے کا مطالبہ کیا، پس کہا گیا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: جبریل ہوں، پھر پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، پھر کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا جا چکا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ان کی طرف طرف پیغام بھیجا گیا ہے، پس اس نے ہمارے لیے دروازہ کھول دیا، اچانک میں نے حضرت موسی علیہ السلام کو دیکھا، انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر و بھلائی کی دعا کی، ……، پس اللہ تعالیٰ نے میری طرف جو وحی کرنی تھی، وہ اس نے کی اور مجھ پر ایک دن میں پچاس نمازیں فرض کیں، واپسی پر جب میں حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے مجھے کہا: آپ اپنے ربّ کی طرف لوٹ جائیں اور تخفیف کا سوال کریں، آپ کی امت اتنینمازیں ادا نہیں کر سکتی، جبکہ میں بنو اسرائیل کو آزما چکا ہو، پس میں اپنے ربّ کی طرف لوٹا اور کہا: اے میرے ربّ! میری امت پر تخفیف کیجئے، پس اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کر دیں، لیکن پھر جب میں موسی علیہ السلام کے پاس واپس آیا تو انھوں نے پوچھا: کیا کر کے آئے ہیں؟ میں نے کہا: جی پانچ نمازیں کم کر دی ہیں، انھوں نے کہا: آپ کی امت (۴۵) نمازوں کے عمل کی طاقت نہیں رکھتی، لہٰذا لوٹ جائیں اور اپنے رب سے امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، پس میں اپنے ربّ اور موسی علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا اور اللہ تعالیٰ پانچ پانچ نمازیں کم کرتے رہے، یہاں تک کہ اس نے کہا: اے محمد! ایک دن رات میں پانچ نمازیں ہیں، ہر نماز کا ثواب دس گنا ملے گا، اس لیے گویایہ پچاس نمازیں ہیں، کیونکہ جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور اس کو عملاً سر انجام نہیں دیا تو یہ بھی اس کے لیے نیکی ہے، اور جس نے برائی کا ارادہ کیا، لیکن عملاً اس کا ارتکاب نہیں کیا تو اس کے لیے کوئی برائی نہیں لکھی جائے گی، اور جس نے اس کا ارتکاب کر لیا تو اس کے لیے ایک برائی لکھی جائے گی، پس میں نیچے اترا اور موسی علیہ السلام کے پاس پہنچا اور ان کو ساری تفصیل بتائی، انھوں نے کہا: آپ اپنے ربّ کی طرف پھر لوٹ جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، کیونکہ تیری امت اس عمل کی بھی طاقت نہیں رکھتی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اتنی بار اپنے ربّ کے پاس جا چکا ہوں کہ اب مجھے شرم آتی ہے۔
Takhreej
(۱۰۳۶۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۲(انظر: ۱۲۵۰۵)
Explanation
فوائد: … موسی علیہ السلام لوگوں کا عملی تجربہ کر چکے تھے، اس لیے انھوں نے نمازیں کم کروانے کا مشورہ دیا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر امتیں پیش کی گئیں، پس میں نے کسی نبی کے ساتھ ایک جماعت، کسی کے ساتھ ایک فرد، کسی کے ساتھ دو افراد اور کسی کے ساتھ کوئی آدمی نہیں دیکھا، اچانک مجھے ایک بڑا لشکر دکھایا گیا، میں نے کہا: یہمیری امت ہے؟ جواب دیا گیا: یہ موسی علیہ السلام اور ان کی قوم ہے، اب آپ افق کی طرف دیکھیں، اُدھر ایک بڑا لشکر موجود تھا، پھر مجھ سے کہا گیا: اب آپ اس طرف دیکھیں، اُدھر بھی بڑا لشکر موجود تھا، پھر مجھے کہا گیا: یہ آپ کی امت ہے اور اس کے ساتھ ستر ہزار افراد ایسے ہیں، جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ صحابہ نے آپس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: ممکن ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے، کسی نے کہا: ایسے لگتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے، جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انھوں نے کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کیا، دوسرے صحابہ نے مزید آراء کا ذکر بھی کیا، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: تم کس چیز کے بارے میں غور و خوض کر رہے تھے؟ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی باتوں کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہونے والے لوگ وہ ہیں جو نہ داغ لگواتے ہیں، نہ دم کرواتے ہیں، نہ برا شگون لیتے ہیں اور وہ صرف اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں۔ سیدنا عکاشہ بن محصن اشعری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں ان میں سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ان میں سے ہے۔ پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھی ان میں سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے۔
فوائد:… توکل کا مطلب ہے جائز اسباب و وسائل استعمال کر کے اپنے مقصود تک پہنچنے کی کوشش کی جائے اور اصل بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پرکیا جائے، کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیت شامل حال نہیں ہو گی، اسباب و وسائل بھی کچھ نہیں کر سکتے۔
لیکن توکل کی انتہائی شکل یہ ہے کہ اسباب بھی استعمال نہ کیے جائیں اور معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیئے جائے، بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہونے والوں کا توکل اسی قسم کا ہو گا، زخم اور بیماری کے بارے میں ان کا نظریہیہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰیہ بیماریاں لگائی ہیں اور وہی شفا دے گا، وہ بیچ میں دوا کا سبب استعمال نہیں کریں گے، توکل کییہ قسم مشکل ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفرِ حج کے دوران وادیٔ ازرق سے گزرے تو پوچھا: یہ وادی کون سی ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ وادیٔ ازرق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گویا کہ میں موسی علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، وہ گھاٹی سے اتر رہے ہیں اور وہ بلند آواز سے تلبیہ کہہ رہے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے گئے، یہاں تک کہ ہرشاء گھاٹی کے پاس سے گزرے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی گھاٹی ہے۔ لوگوں نے کہا: یہ ہرشاء کی گھاٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گویا میںیونس بن متی کو دیکھ رہا ہوں، وہ سرخ اور پر گوشت اونٹنی پر سوار ہیں، انھوں نے اون کا جبہ پہنا ہوا ہے، ان کی اونٹنی کی لگام کھجور کے پتوں کی ہے اور وہ تلبیہ کہہ رہے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۳۷۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۶ (انظر: ۱۸۵۴)
Explanation
فوائد:… موسی علیہ السلام اور یونس علیہ السلام کو مذکورہ ہیئت میں کیسے بیان کیا گیا؟ دو صورتیں ممکن ہیں: (۱)جس طرح وہ دنیوی زندگی میں عبادت کرتے، حج کرتے اور تلبیہ کہتے تھے، تمثیلی طور پر ان کو اسی شکل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیایا (۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنے خواب میں اسی طرح دیکھا تھا۔ واللہ اعلم
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرایا گیا، میں نے موسی بن عمران علیہ السلام کو دیکھا، وہ دراز قد آدمی تھے، ان کے بال ہلکے گھنگریالے تھے، ایسے لگ رہا تھے، جیسے وہ شنوء ہ قبیلے کے فرد تھے، پھر میں نے عیسی بن مریم علیہ السلام کو دیکھا، وہ معتدل قد کے تھے، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل تھا، ان کے بال سیدھے تھے، ایک روایت میں ہے: میں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا، ، وہ سیاہی نما گندمی رنگ کے اور گھنے بالوں والے تھے۔ حسن راوی نے کہا: ان کے بال سخت تھے۔
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر انبیاء پیش کیے گئے، موسی علیہ السلام معتدل وجود کے آدمی تھے، وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگ رہے تھے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم کس مناسبت سے اس دن کا روزہ رکھتے ہو؟ انھوں نے کہا: یہ بڑا اچھا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن بنو اسرائیل کو ان کے دشمنوں سے نجات دلائی تھی، اس مناسبت سے موسی علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری بہ نسبت موسی علیہ السلام کا زیادہ حقدار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
میں تمہاری بہ نسبت موسی علیہ السلام کا زیادہ حقدار ہوں۔ یعنی موسی علیہ السلام کی موافقت کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حکم دیا: {فَبِھُدَاھُمُ اقْتَدِہْ} …پس تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔ اس سے پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطلوب موسی علیہ السلام کی موافقت تھی، نہ کہ یہودیوں کی۔
اس سے یہ اشکال ختم ہو جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہودیوں کی مخالفت پسند کرتے تھے، نہ کہ موافقت، شروع شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی تالیفِ قلبی کے لیے ان کی موافقت پسند کرتے تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھایہ اہل کتاب تو کفر پر مصرّ ہیں اور تالیف قلبی سے متأثر نہیں ہو رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی موافقت چھوڑ دی اور ان کی مخالفت کی طرف مائل ہو گئے، اسی لیے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نو محرم کا روزہ رکھنے کا عزم کیا تھا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بنو اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ وہ ننگے غسل کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرمگاہوں کو دیکھتے تھے، جبکہ اللہ کے نبی موسی علیہ السلام اس چیز سے حیا اور شرم محسوس کرتے تھے، اس لیے وہ پردہ کر کے غسل کرتے تھے، لیکن بنو اسرائیل نے اس وجہ سے ان پر ان کی شرمگاہ کے بارے میں طعن کیا، ایک روایت میں ہے: انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! موسی کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے روکنے والی چیزیہ ہے کہ ان کے خصیتین پھولے ہوئے ہیں، پس ایک دن اللہ کے نبی نہا رہے تھے اور اپنے کپڑے ایک چٹان پر رکھ دیئے، لیکن ہوا یوں کہ وہ چٹان کپڑوں سمیت چل پڑی، موسی علیہ السلام بھی اس کے پیچھے ہو لیے، اپنی لاٹھی ماری اور یہ آواز دی: اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے، لیکن اتنے میں وہ پتھر بنو اسرائیل کے ایک گروہ کے پاس پہنچ گیا اور ان کے درمیان جا کر کھڑا ہو گیا، اللہ کے نبی نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے، جب انھوں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے خوبصورت تخلیق والا اور سب سے معتدل صورت والا پایا، اس کے بعد بنو اسرائیل نے کہا: اللہ تعالیٰ بنو اسرائیل کے تہمت لگانے والے افراد کو ہلاک کرے، پس یہی وہ براء ت تھی کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو بری کیا تھا۔
۔ ایک روایت میں ہے: موسی علیہ السلام نے اپنے کپڑے لیے اور پتھر کو مارنا شروع کر دیا، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! موسی علیہ السلام کے مارنے کی وجہ سے پتھر پر چھ سات نشان تھے۔
۔ (دوسری سند) عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا: جی شام سے، انھوں نے کہا: کیا تم نے موسی علیہ السلام کا پتھر دیکھا ہے؟ میں نے کہا: موسی علیہ السلام کے پتھر سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: بنو اسرائیل نے موسی علیہ السلام کے خصیتین کے معیوب ہونے کے بارے میں کوئی بات کی، ایک دن وہ ایک چٹان پر کپڑے رکھ کر نہانے لگے، لیکن ہوا یوں کہ وہ چٹان ان کے کپڑوں سمیت دوڑ پڑی، وہ اس کے پیچھے دوڑے اور کہا: اے پتھر! میرے کپڑے پھینک دے، لیکن وہ پتھر بنو اسرئیل کے پاس پہنچ گیا، پس انھوں نے دیکھا کہ وہ بالکل ٹھیک اور خوبصورت تخلیق والے ہیں، پھر موسی رضی اللہ عنہ نے اس پتھر کو اپنی لاٹھی سے تین ضربیں لگائیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! اگر میں اس پتھر کو پا لیتا تو اس میں موسی علیہ السلام کی ضربوں کے نشانات دیکھ لیتا۔
Takhreej
(۱۰۳۷۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… اس میں موسی علیہ السلام کے دو معجزوں کا بیان ہے: پتھر کا ان کے کپڑے لے کر دوڑ جانا اور پتھر پر ان کی ضرب کے نشان لگنا۔
موسی علیہ السلام نہایت باحیا ہو نے کی وجہ سے لوگوں کے سامنے اپنے جسم کو ننگا نہ ہونے دیتے تھے، لیکن لوگوں نے یہ بات گھڑ لی کہ ان کی شرم گاہ میں فلان بیماری ہے، یہ اس وجہ سے ہر وقت پردہ کر کے رکھتے ہیں، حالات کا تقاضا تھا کہ موسی علیہ السلام کو اس الزام اور شبہے سے پاک ثابت کیا جائے، پس یہ واقعہ پیش آیا۔