TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان - انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان - Book 168 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 168 of Musnad Ahmad, with 30 chapters and 105 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

105 Hadith · 30 Chapters
فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت اور جبریل علیہ السلام کا اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا بیان
۔ (۱۰۳۷۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا قَالَ فِرْعَوْنُ: آمَنْتُ اَنَّہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْ آمَنَتْ بِہٖبَنُوْااِسْرَائِیْلَ، قَالَ: قَالَ لِیْ جِبْرِیْلُ: یَامُحَمَّدُ! لَوْ رَاَیْتَنِیْ وَ قَدْ اَخَذْتُ حَالًا مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَدَسَّیْتُہُ فِیْ فِیْہِ مَخَافَۃَ اَنْ تَنَالَہُ الرَّحْمَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۸۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب فرعون نے غرق ہوتے وقت کہا: میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں کہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، مگر وہی کہ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے، جبریل علیہ السلام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے محمد! کاش آپ مجھے اس وقت دیکھتے جب میںنے سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ ٹھونس رہا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ کی رحمت اس کو پا لے۔
Takhreej
(۱۰۳۷۷) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ الترمذی: ۳۱۰۷ (انظر: ۲۸۲۰)
10377
Sahih
فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت اور جبریل علیہ السلام کا اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا بیان
۔ (۱۰۳۷۸)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَدِیٍّ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، قَالَ: رَفَعَہُ اَحَدُھُمَا اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ جِبْرِیْلَ کَانَ یَدُسُّ فِیْ فَمِ فِرْعَوْنَ الطِّیْنَ مَخَافَۃَ اَنْ یَقُوْلَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۳۱۵۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جبریل علیہ السلام فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونس رہا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دے۔
Takhreej
(۱۰۳۷۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… برے لوگوں کا انجام بھی برا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کا اصل قانون یہ ہے کہ جو آدمی جس انداز میں زندگی گزارتا ہے، اسی انداز میں اس کو موت آتی ہے۔ سجدوں میں ان لوگوں کی روحیں پرواز کر گئیں جو اپنے زندگی میں کثرت سے سجدے کرنے کے عادی تھے اور برائی کی حالت میں ان لوگوں کو موت کا پیغام قبول کرنا پڑا جو برائیوں کے دلدادہ تھے۔ فرعون کی زندگی بغاوت اور سرکشی کی سنگین مثالوں سے بھری ہوئی تھی،اس لیے اسی کے مطابق ہی اس کاخاتمہ ہونا تھا۔ حدیث نمبر (۸۶۳۳)میں اس کی مزید تفصیل بیان ہو چکی ہے۔
10378
Sahih
موسی علیہ السلام کا بنی اسرئیل کے ساتھ قصہ جب انھوں نے کہا: اے موسی ہمارا بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں
۔ (۱۰۳۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ وَاقِدٍ اللَّیْثِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّھُمْ خَرَجُوْا عَنْ مَکَّۃَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی حُنَیْنٍ قَالَ: وَ کَانَ لِلْکُفَّارِ سِدَرَۃٌیَعْکِفُوْنَ عِنْدَھَا وَ یُعَلِّقُوْنَ بِھَا اَسْلِحَتَھُمْ، یُقَالُ لَھَا: ذَاتُ اَنْوَاطٍ، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِسِدْرَۃٍ خَضَرَائَ عَظِیْمَۃٍ، قَالَ: فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ اَنْوَاطٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُلْتُمْ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ کَمَا قَالَ قَوْمُ مُوْسٰی: {اجْعَلْ لَنَا اِلٰھًا کَمَا لَھُمْ آلِھَۃٌ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُوْنَ} اِنَّھَا لَسُنَنٌ، لَتَرْکَبُنَّ سُنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ سُنَّۃً سُنَّۃً۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۴۲)
۔ سیدنا ابو واقد لیثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں مکہ مکرمہ سے حنین کی طرف نکلے، راستے میں کافروں کا بیری کا ایک درخت تھا، وہ اس کے مجاور بنتے اور اس کے ساتھ اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے، اس کو ذات انواط کہا جاتا تھا، راوی کہتے ہیں: پس جب ہم ایک سرسبز اور بڑی بیری کے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے ایک ذات انواط بنا دو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم نے تو وہی بات کر دی ہے، جو موسی علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی، انھوں نے کہا: تو ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں، بیشک تم جاہل قوم ہو۔ یہ بنی اسرائیل کے طریقے تھے، تم ایک ایک کر کے پہلے والے لوگوں کے سب طریقوں کو اختیار کر لو گے۔
Takhreej
(۱۰۳۷۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ الترمذی: ۲۱۸۰(انظر: ۲۱۸۹۷)
Explanation
فوائد:… پوری آیتیوں ہے: {وَجٰوَزْنَا بِبَنِیْٓ اِسْرَاء ِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ یَّعْکُفُوْنَ عَلٰٓی اَصْنَامٍ لَّہُمْ قَالُوْا یٰمُوْسَی اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰـہًا کَمَا لَہُمْ اٰلِہَۃٌ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْـہَلُوْنَ ۔} … اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں پر آئے جو اپنے کچھ بتوں پر جمے بیٹھے تھے، کہنے لگے اے موسیٰ! ہمارے لیے کوئی معبود بنا دے، جیسے ان کے کچھ معبود ہیں؟ اس نے کہا بیشک تم ایسے لوگ ہو جو نادانی کرتے ہو۔ (سورۂ اعراف:۱۳۸) حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں کہا: یہ بنی اسرائیل کا شوق بت پرستی کا عالم تھا کہ اتنی ساری اللہ کی قدرت کی نشانیاں دیکھ چکنے کے بعد دریا پار اترتے ہی بت پرستوں کے ایک گروہ کو اپنے بتوں کے آس پاس اعتکاف میں بیٹھے دیکھتے ہی موسیٰ سے کہنے لگے کہ ہمارے لئے بھی کوئی ایسی چیز مقرر کر دیجئے تاکہ ہم بھی اس کی عبادت کریں، جیسے کہ ان کے معبود ہیں۔ یہ کافر لوگ کنعانی تھے، ایک قول کے مطابق لحم قبیلہ کے تھے، یہ گائے کی شکل بناکر اس کی پوجا کر رہے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اسکے جواب میں فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال سے بالکل نا واقف ہو، تم نہیں جانتے کہ اللہ شریک و مثیل سے پاک اور بلند تر ہے۔ یہ لوگ جس کام میں مبتلا ہیں وہ تباہ کن ہے اور ان کا عمل باطل ہے ۔
10379
Sahih
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
۔ (۱۰۳۸۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ الْخَبْرُ کَالْمُعَایَنَۃِ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَخْبَرَ مُوْسٰی بِمَا صَنَعَ قَوْمُہُ فِیْ الْعِجْلِ فَلَمْ یُلْقِ الْاَلْوَاحَ، فَلَمَّا عَایَنَ مَاصَنَعُوْا اَلْقَی الْاَلْوَاحَ فَانْکَسَرَتْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۷)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اطلاع دینا، مشاہدہ کرنے کی طرح نہیں ہے، بیشک جب اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو بتلایا کہ اس کی قوم نے بچھڑے کے معاملے میں یہ رویہ اختیار کر لیا ہے، تو انھوں نے تختیاں نہیں پھینکی، لیکن جب انھوں نے خود مشاہدہ کیا تو ان کو پھینک دیا اور وہ ٹوٹ گئیں۔
Takhreej
(۱۰۳۸۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۳۲۱، وابن حبان: ۶۲۱۳ (انظر: ۲۴۴۷)
Explanation
فوائد:… جب موسی علیہ السلام چالیس راتوں کے لیے کوہِ طور پر گئے اور اللہ تعالیٰ سے تورات وصول کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو وہیں بتلا دیا تھا کہ ان کی قوم بچھڑے کو معبود بنا چکی ہے، آپ علیہ السلام نے یہ بات سن لی اور تورات کی تختیاں اٹھائے رکھیں، لیکن جب آ کر وہی منظر دیکھا تو کیفیت کچھ اور تھی۔ موسیٰ علیہ السلام کی واپسی پر جو کچھ ہوا، اللہ تعالیٰ نے اس کو اس انداز میں بیان کیا: {وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰٓی اِلٰی قَوْمِہِ غَضْبَانَ اَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْ بَعْدِیْ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّکُمْ وَاَلْقَی الْاَلْوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْہِیَجُرُّہٗ اِلَیْہِ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَکَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ فَلاَ تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآئَ وَلَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۔} … اور جب موسی علیہ السلام اپنی قوم کی طرف واپس آئے غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے تو فرمایا کہ تم نے میرے بعد یہ بڑی بری جانشینی کی؟ کیااپنے رب کے حکم سے پہلے ہی تم نے جلد بازی کر لی اور جلدی سے تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر ان کو اپنی طرف کھینچنے لگے، ہارون علیہ السلام نے کہا کہ اے میری ماں کے بیٹے! ان لوگوں نے مجھ کو بے حقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو قتل کر ڈالیں، اب تم مجھ پر دشمنوں کو مت ہنساؤ اور مجھ کو ان ظالموں کے ساتھ مت شمار کرو۔ (سورۂ اعراف: ۱۵۰) ہر انسان طبعی طور پر سننے اور دیکھنے میں فرق محسوس کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے مزید اطمینانِ قلب کے لیے اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتاہے۔ جو تعجب اور حیرانی دیکھ کر ہوتی ہے، وہ سن کر نہیں ہو سکتی۔ اور جو یقین و ایقان دیکھ کر حاصل ہوتا ہے وہ صرف سن کا نہیں ہوتا۔
10380
Sahih
بنو اسرائیل کی بزدلی اور جبارقوم کے ساتھ لڑنے سے ان کے خوف کا بیان
۔ (۱۰۳۸۱)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَمَّا سَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی بَدْرٍ، خَرَجَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ، فَاَشَارَ عَلَیْہِ اَبُوْبَکَرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، ثُمَّ اسْتَشَارَھُمْ فَاَشْارَ عَلَیْہِ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَسَکَتَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ: اِنّمَا یُرِیْدُکُمْ فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاللّٰہِ لَانَکُوْنَ کَمَا قَالَتْ بَنُوْا اِسْرَئِیْلَ لِمُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ : {اذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ} وَ لٰکِنْ وَاللّٰہِ لَوْ ضَرَبْتَ اَکْبَادَ الْاِبِلِ حَتّٰی تَبْلُغَ بَرْکَ الْغِمَادِ لَکُنَّا مَعَکَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۴۵)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بدر کی طرف روانہ ہونے لگے تو باہر تشریف لائے اور لوگوں سے مشورہ کیا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشورہ طلب کیا، اس بار سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک رائے دی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، اتنے میں ایک انصاری کھڑا ہوا اور اس نے کہا: انصاریو! حضور ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تم سے مخاطب ہیں، پس انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! ہم اس طرح نہیں ہوں گے، جیسا کہ بنو اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہا تھا: تو جا اور تیرا ربّ جائے اور تم دونوں جا کر لڑو، ہم تو یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ اللہ کی قسم ہے، اے اللہ کے رسول! اگر آپ اونٹوں کے جگروں پر مارتے ہوئے سفر کرتے جائیں،یہاں تک کہ برک الغماد تک پہنچ جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہی رہیں گے۔
Takhreej
(۱۰۳۸۱) تخریج: أخرجہ مطولا و مختصرا مسلم: ۲۸۷۴ (انظر: ۱۲۰۲۲)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ٰیقَوْمِ ادْخُلُواالْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْاخٰسِرِیْنَ۔ قَالُوْا ٰیمُوْسٰٓی اِنَّ فِیْھَاقَوْمًاجَبَّارِیْنَ وَاِنَّالَنْ نَّدْخُلَھَاحَتّٰییَخْرُجُوْا مِنْھَا فَاِنْ یَّخْرُجُوْامِنْھَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ۔ قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَیَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْھِمُ الْبَابَ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ قَالُوْا ٰیمُوْسٰٓی اِنَّالَنْ نَّدْخُلَھَآاَبَدًا مَّا دَامُوْافِیْھَا فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا ٓ اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنَ۔ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَا ٓاَمْلِکُ اِلَّا نَفْسِیْ وَاَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَاوَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۔ قَالَ فَاِنَّھَا مُحَرَّمَۃ’‘ عَلَیْہِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃًیَتِیْھُوْنَ فِی الْاَرْضِفَلاَ تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۔} … اے میری قوم! اس مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ جو اس نے تمھارے لیے لکھ دی ہے اور اپنی پیٹھوں پر نہ پھر جاؤ، ورنہ خسارہ اٹھانے والے ہو کر لوٹو گے۔انھوں نے کہا اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک بہت زبردست قوم ہے اور بے شک ہم ہرگز اس میں داخل نہ ہوں گے، یہاں تک کہ وہ اس سے نکل جائیں، پس اگر وہ اس سے نکل جائیں تو ہم ضرور داخل ہونے والے ہیں۔دو آدمیوں نے کہا، جو ان لوگوں میں سے تھے جو ڈرتے تھے، ان دونوں پر اللہ نے انعام کیا تھا، تم ان پر دروازے میں داخل ہو جاؤ، پھر جب تم اس میں داخل ہوگئے تو یقینا تم غالب ہو اور اللہ ہی پر پس بھروسا کرو، اگر تم مومن ہو۔ انھوں نے کہا اے موسیٰ! بے شک ہم ہرگز اس میں کبھی داخل نہ ہوں گے جب تک وہ اس میں موجود ہیں، سو تو اور تیرا رب جاؤ، پس دونوں لڑو، بے شک ہم یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میں اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی چیز کا مالک نہیں، سو تو ہمارے درمیان اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان علیحدگی کر دے۔ فرمایا پھر بے شک وہ ان پر چالیس سال حرام کر دی گئی ہے، زمین میں سر مارتے پھریں گے، پس تو ان نافرمان لوگوں پر غم نہ کر۔ (سورۂ مائدہ: ۲۱ ۔ ۲۶)بنی اسرائیل کے مورثِ اعلییعقوب علیہ السلام کا مسکن بیت المقدس تھا، لیکنیوسف علیہ السلام کے امارت مصر کے زمانے میں یہ لوگ مصر جا کر آباد ہو گئے تھے اور پھر تب سے مصر ہی میں رہے، جب تک کہ موسی علیہ السلام انہیں راتوں رات فرعون سے چھپ کر مصر سے نکال نہیں لے گئے، اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی حکمرانی تھی، جو ایک بہاد ر قوم تھی۔ جب موسی علیہ السلام نے پھر بیت المقدس جا کر آباد ہونے کا عزم کیا تو اس کے لیے وہاں قابض عمالقہ سے جہاد ضروری تھا، چنانچہ موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس ارضِ مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور نصرت ِ الٰہی کی بشارت بھی سنائی، لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل عمالقہ سے لڑنے پر آمادہ نہ ہوئے اور پہلے مرحلے میں ہی ہمت ہار بیٹھے اور جہاد سے دست بردار ہو گئے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کی کوئی پرواہ نہ کی اور بدترین بزدلی، سوئے ادبی اور تمرد وسرکشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ اے موسی! تو اور تیرا ربّ جا کر لڑو۔ اس کے برعکس جب جنگ بدر کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابۂ کرام سے مشورہ کیا تو انھوں نے قلت ِ تعداد اور قلت ِ وسائل کے باوجود جہاد میں حصہ لینے کا بھرپور عزم کا اظہار کیا۔ برک الغماد ایک مقام کانام ہے، ایک قول کے مطابق یہ مکہ مکرمہ سے آگے پانچ دنوں کی مسافت پر ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ مقام مدینہ منورہ سے تقریباً پندرہ دنوں کی مسافت پر پڑتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ہجر کے اُس پار یا حبشہ میں ایک شہر کا نام ہے۔
10381
Sahih
موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
۔ (۱۰۳۸۲)۔ حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقُرَقْسَانِیّ،ُ قَالَ الْوَلِیْدُ: حَدَّثنِی الْاَوْزَاعِیُّ وَ قَالَ مُحَمَّدٌ: ثَنَا الْاَوْزَاعِیُّ اَنَّ الزُّھْرِیَّ حَدَّثَہُ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّہُ تَمَارٰی ھُوَ وَ الْحُـرُّ بْنُ قَیْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِیُّ فِیْ صَاحِبِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ الَّذِیْ سَاَلَ السَّبِیْلَ اِلَی لُقِیِّہِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ھُوَ خَضِرٌ اِذْ مَرَّ بِھِمَا اُبَیُّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَنَادَاہُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: اِنِّیْ تَمَارَیْتُ اَنَا وَ صَاحِبِیْ ھٰذَا فِیْ صَاحِبِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ سَاَلَ السَّبیْلَ اِلٰی لُقِیِّہِ، فَھَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ شَاْنَہُ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بَیْنَا مُوْسٰی علیہ السلام فِیْ مَلَاٍ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ، اِذْ قَامَ اِلَیْہِ رَجُلٌ فَقَالَ: ھَلْ تَعْلَمُ اَحَدًا اَعْلَمْ مِنْکَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَاَوْحَی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعالٰی اِلَیْہِ خَضِرٌ، فَسَاَلَ مُوْسٰی علیہ السلام السَّبِیْلَ اِلَی لُقِیِّہِ، وَ جَعَلَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَہُ الْحُوْتَ آیَۃَ، فَقِیْلَ لَہُ اِذَا فَقَدْتَ الْحُوْتَ فَارْجِعْ، وَ کَانَ مِنْ شَاْنِھِمَا مَاقَصَّ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فِیْ کِتَابِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۱۴۲۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے حُر بن قیس فزاری کے درمیانیہ مباحثہ ہونے لگا کہ وہ موسی علیہ السلام کا وہ صاحب کون تھا کہ انھوں نے جس سے ملاقات کرنے کے لیے راستے کا سوال کیا تھا، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: وہ خضر علیہ السلام تھے، اتنے میں وہاں سے سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گزر ہوا، سیدنا ابن عباس نے ان کو بلایا اور کہا: میرا اور میرے اس دوست کی اس موضوع پر بحث ہو رہی ہے کہ موسی علیہ السلام کا وہ صاحب کون تھا کہ جس سے ملاقات کرنے کے لیے راستہ کا انھوں نے سوال کیا تھا، تو کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی بات بیان کر رہے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہفرماتے ہوئے سنا: موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک گروہ میں بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے موسی! کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں، جو آپ سے زیادہ علم والا ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ خضر ہے، موسی علیہ السلام نے ان کی ملاقات کا راستہ دریافت کیا، جواباً اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو ان کے لیے بطور نشانی قرار دیا اور ان سے کہا گیا: جب تو مچھلی کو گم پائے تو لوٹ آنا، پھر ان دونوں کا وہی قصہ پیش آیا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔کہ ان کے اور
Takhreej
(۱۰۳۸۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۸، ۷۴۷۸، ومسلم: ۲۳۸۰ (انظر: ۲۱۱۰۹)
10382
Sahih
موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
۔ (۱۰۳۸۳)۔ حَدَّثَنِیْ اَبُوْ عُثْمَانَ، عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُکَیْرٍ النَّاقِدُ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ عَمْروٍ یَعْنِیْ ابْنَ دِیْنَارٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ: اِنَّ نَوْفًا الشَّامِیَّیَزْعَمُ اَوْ یَقُوْلُ: لَیْسَ مُوْسٰی صَاحِبُ خَضِرٍ مُوْسٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ، قَالَ: کَذَبَ نَوْفٌ عَدُوُّ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنَّ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ قَامَ فِیْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ خَطِیْبًا فَقَالُوْا لَہُ: مَنْ اَعْلَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: اَنَا، فَاَوْحَی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَاَلٰی اِلَیْہِ اِنَّ لِیْ عَبْدًا اَعْلَمَ مِنْکَ، قَالَ: رَبِّ فَاَرِنِیْہِ؟ قَالَ: قِیْلَ تَاْخُذْ حُوْتًا فَتَجْعَلُہُ فِیْ مِکْتَلٍ فَحَیْثُمَا فَقَدْتَہُ فَھُوَ ثَمَّ، قَالَ: فَاَخَذَ حُوْتًا فَجَعَلَہُ فِیْ مِکْتَلٍ وَ جَعَلَ ھُوَ وَ صَاحِبُہُ یَمْشِیَانِ عَلَی السَّاحِلِ حَتّٰی اَتَیَا الصَّخْرَۃَ رَقَدَ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ وَ اضْطَرَبَ الْحُوْتُ فِیْ الْمِکْتَلِ فَوَقَعَ فِیْ الْبَحْرِ، فَحَبَسَ اللّٰہُ جِرْیَۃَ الْمَائِ فَاضْطَرَبَ الْمَائُ فَاسْتَیْقَظَ مُوْسٰی فَقَالَ: {لِفَتَاہُ آتِنَا غَدَائَ نَا لَقَدَ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا ھٰذَا نَصَبًا} وَ لَمْ یُصِبِ النَّصَبَ حَتّٰیجَاوَزَ الَّذِیْ اَمَرَہُ اللّٰہُ تَباَرَکَ وَ تَعَالٰی فَقَالَ: {اَرَاَیْتَ اِذْ اَوَیْنَا اِلَی الصَّخْرِۃِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ وَ مَا اَنْسَانِیْہِ اِلَّا الشَّیْطَانُ} { فَارْتَدَّا عَلَیَّ آثَارِھِمَا قَصَصًا} فَجَعَلَا یَقُصَّانِ آثَارَھُمَا {وَاتَّخَذَ سَبِیْلََہُ فِیْ الْبَحْرِ سَرَبًا} قَالَ: اَمْسَکَ عَنْہُ جِرْیَۃَ الْمَائِ فَصَارَ عَلَیْہِ مِثْلُ الطَّاقِ فَکَانَ لِلْحُوْتِ سَرَبًا وَ کَانَ لِمُوْسٰی عَلَیْہِ عَجَبًا حَتَّی انْتَھَیَا اِلَی الصَّخْرَۃِ فَاِذَا رَجُلٌ مُسَجِّیٌ عَلَیْہِ ثَوْبٌ، فَسَلَّمَ مُوْسٰی علیہ السلام ، فَقَالَ: وَ اَنّٰی بِاَرْضِکَ السَّلَامُ، قَالَ: اَنَا مُوْسٰی، قَالَ: مُوْسٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ؟ قَالَ: نَعَمْ، {اَتَّبِعُکَ عَلَی اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا} قَالَ: یَا مُوْسٰی! اِنِّیْ عَلٰی عِلْمٍ مِنَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی لَا تَعْلَمُہُ، وَ اَنْتَ عَلٰی عِلْمٍ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَّمَکَہُ اللّٰہُ، فَانْطَلَقَا یَمْشِیَانِ عَلَی السَّاحِلِ فَمَرَّتْ سَفِیْنَۃٌ فَعَرَفُوْا الْخَضِرَ فَحُمِلَ بِغَیْرِ نَوْلٍ فَلَمْ یُعْجِبْہُ، وَ نَظَرَ فِیْ السَّفِیْنَۃِ فَاَخَذَ الْقَدُوْمَ یُرِیْدُ اَنْ یَکْسِرَ مِنْھَا لَوْحًا، فَقَالَ: حُمِلْنَا بِغَیْرِ نَوْلٍ وَ تُرِیْدُ اَنْ تَخْرُقَھَا لِتُغْرِقَ اَھْلَھَا {قَالَ اَ لَمْ اَقُلْ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا} قَالَ: اِنِّیْ نَسِیْتُ، وَ جَائَ عُصْفُوْرٌ فَنَقَرَ فِیْ الْبَحْرِ قَالَ الْحَضِرُ: مَا یُنْقِصُ عِلْمِیْ وَ لَا عِلْمُکَ مِنْ عِلْمِ اللّٰہِ تَعَالَی اِلَّا کَمَا یُنْقِصُ ھٰذَا الْعُصْفُوْرُ مِنْ ھٰذَا الْبَحْرِ {فَانْطَلَقَا حَتّٰی اِذَا اَتَیَا اَھْلَ قِرْیَۃٍ اسْْتَطْعَمَا اَھْلَھَا فَاَبَوْا اَنْ یُضَیِّفُوْھُمَا} فَرَاٰی غُلَامًا فَاَخَذَ رَاْسَہُ فَانْتَزَعَہُ فَقَالَ: {اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَکِیَّۃً بِغَیْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُکْرًا، قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَکَ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا} قَالَ: سُفْیَانُ: قَالَ عَمْرٌو: وَ ھٰذِہِ اَشَدُّ مِنَ الْاُوْلٰی، قَالَ: فَانْطَلَقَا فَاِذَا جِدَارٌ یُرِیْدُ اَنْ یَنْقَضَّ فَاَقَامَہُ، اَرَانَا سُفْیَانُ بِیَدِہِ فَرَفَعَ یَدَہُ ھٰکَذَا رَفَعًا فَوَضَعَ رَاحَتَیْہِ فَرَفَعَھُمَا لِبَطْنِ کَفَّیْہِ رَفْعًا فَقَالَ: {لَوْ شِئْتَ لَا تَّخَذْتَ عَلَیْہِ اَجْرًا قَالَ ھٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِکَ} قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: کَانَتِ الْاَوْلیٰ نِسْیَانًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَرْحَمُ اللّٰہُ مُوْسٰی لَوْ کَانَ صَبَرَ حَتّٰییَقُصَّ عَلَیْنَا مِنْ اَمْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۳۱)
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے کہا: نوف شامی کا خیال ہے کہ جس موسی کی خضر سے ملاقات ہوئی تھی، وہ بنی اسرائیل والے موسی نہیں ہیں، انھوں نے کہا: اللہ کے دشمن نوف نے جھوٹ بولا ہے، سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک موسی علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، لوگوں نے ان سے پوچھا: لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا کون ہے؟ انھوں نے کہا: میں ہوں، اُدھر سے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کر دی کہ میرا ایک بندا تجھ سے زیادہ علم والا ہے، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو پھر وہ مجھے دکھاؤ، ان سے کہا گیا کہ تم ایک مچھلی پکڑو اور اس کو ایک ٹوکرے میں ڈالو، جہاں تم اس کو گم پاؤ گے، تو وہ وہاں ہو گا، پس انھوں نے مچھلی پکڑی اور اس کو ایک ٹوکرے میں رکھا اور انھوں نے اور ان کے ایک ساتھی نے ساحل کی طرف چلنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ وہ ایک چٹان کے پاس پہنچ گئے، موسی علیہ السلام وہاں سو گئے، مچھلی نے ٹوکرے میں حرکت کی اور سمندر میں کود گئی، اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے داخل ہونے والی جگہ کا پانی روک لیا (اور یوں ایک غار سی نظر آنے لگی)، جب پانی مضطرب ہوا تو موسی علیہ السلام بیدار ہو گئے (اور کہیں آگے جا کراپنے نوجوان سے) کہا: لا ہمارا کھانا دے، ہمیں تو اپنے اس سفر سے تھکاوٹ اٹھانی پڑی۔ موسی علیہ السلام نے اس مقام سے آگے گزر کر تھکاوٹ محسوس کی، جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا، آگے سے اس نوجوان نے جواب دیا کہ کیا آپ نے دیکھا بھی؟ جب کہ ہم چٹان پر ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے، وہیں میں مچھلی بھول گیا تھا ، دراصل شیطان نے مجھے بھلا دیا۔ چنانچہ وہیں سے وہ اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوئے واپس لوٹے۔ پس انھوں نے اپنے قدموں کے نشانات کو ڈھونڈنا شروع کر دیا، اور اس مچھلی نے انوکھے طریقہ سے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا۔ اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کا چلاؤ روک لیا اور وہ جگہ طاق کی طرح نظر آنے لگی،یہ مچھلی کے لیے انوکھا اور موسی علیہ السلام کے لیےعجیب کام تھا، بہرحال وہ دونوں بالآخر اس چٹان تک پہنچ گئے، مطلوبہ مقام پر پہنچ کر انھوں نے دیکھا کہ ایک آدمی ہے، اس نے کپڑا ڈھانپا ہوا ہے، موسی علیہ السلام نے اس کو سلام کہا، اس نے آگے سے کہا: تیری علاقے میں سلام کیسے آ گیا؟ انھوں نے کہا: میں موسی ہوں، خضر علیہ السلام نے کہا: بنو اسرائیل کا موسی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں آپ کی تابعداری کروں کہ آپ مجھے اس نیک علم کو سکھا دیں۔ خضر علیہ السلام نے کہا: اے موسی! بیشک مجھے اللہ کی طرف سے ایسا علم دیا گیا ہے کہ تم اس کو نہیں جانتے اور تم کو اسی کی طرف سے ایسا علم دیا گیا ہے کہ میں اس کیمعرفت نہیں رکھتا، پھر وہ دونوں ساحل پر چل پڑے (اور خضر علیہ السلام نے موسی علیہ السلام پر پابندی لگا دی کہ انھوں نے اس سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرنا)، وہاں سے ایک کشتی گزری، انھوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیے، اس لیے ان کو بغیر کسی اجرت کے سوار کر لیا گیا، لیکن اس چیز نے ان کو تعجب میں ڈالا، پھر خضر علیہ السلام نے کشتی کو دیکھا اور کلہاڑا لے کر اس کی ایک تختی کو توڑنا چاہا، موسی علیہ السلام نے کہا: ان لوگوں نے ہمیں اجرت کے بغیر سوار کر لیا اور اب تم اس کشتی کو توڑ کر سب سواروں کو غرق کرنا چاہتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے تو پہلے ہی تجھ سے کہہ دیا تھا کہ تو میرے ساتھ ہر گز صبر نہ کر سکے گا۔ موسی علیہ السلام نے کہا: بیشک میں بھول گیا تھا، پھر ایک پرندہ آیا اور اس نے سمندر سے اپنی چونچ بھری، خضر علیہ السلام نے اس کو دیکھ کر کہا: اے موسی! میرے اور تیرے علم نے اللہ تعالیٰ کے علم میں اتنی کمی کی ہے، جتنی کہ اس پرندے نے اس سمندر میں کی ہے، پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ وہ دونوں ایک گاؤں والوں کے پاس آ کر ان سے کھانا طلب کیا، لیکن انھوں نے ان کی مہمان داری سے صاف انکار کر دیا۔ نیز خضر علیہ السلام نے وہاں ایک لڑکا دیکھا اور اس کو پکڑ کر اس کا سر اکھاڑ دیا، موسی علیہ السلام نے کہا: کیا تو نے ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض مار ڈالا، بیشک تو نے تو بڑی ناپسندیدہ حرکت کی، انھوں نے کہا: کیا میں نے تم کو نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر ہر گز صبر نہیں کر سکتے۔ عمرو نے اپنی روایت میں کہا: یہ پہلے کام سے زیادہ سخت کام تھا، پھر وہ دونوں چل پڑے، جب خضر علیہ السلام نے دیوار کو گرتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے اس کو سیدھا کر دیا، سفیان راوی نے اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھ کو اس طرح بلند کیا، پھر اپنی ہتھیلیوں کو رکھا اور پھر ان کو ہتھیلیوں کی اندرونی سمت کی طرف سے بلند کیا، موسی علیہ السلام نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے، اس نے کہا: بس یہ جدائی ہے میرے اور تیرے درمیان۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: پہلی بار تو موسی علیہ السلام بھول گئے تھے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ موسی علیہ السلام پر رحم کرے، کاش وہ صبر کرتے تاکہ وہ ہم پر اپنے مزید معاملات بیان کرتے۔
Takhreej
(۱۰۳۸۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۲۲، ۳۲۷۸، ۳۴۰۱، ومسلم: ۲۳۸۰(انظر: ۲۱۱۱۴)
Explanation
فوائد:… مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ کہف مع التفسیر، خضر کون تھے؟ دیکھیں: حدیث نمبر (۱۰۳۹۵)
10383
Sahih
قارون کا دھنسنا اور موسی علیہ السلام کا اس کے ساتھ قصہ
۔ (۱۰۳۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَا رَجُلٌ یَمْشِیْ بَیْنَ بُرْدَیْنِ مُخْتَالًا خَسَفَ اللّٰہُ بِہٖالْاَرْضَ،فَھُوَیَتَجَلْجَلُ فِیْھَا اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۱۱۳۷۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی دو چادریں زیب ِ تن کر کے تکبر سے چل رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۳۸۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ البزار: ۲۹۵۲ (انظر: ۱۱۳۵۳)
10384
Sahih
قارون کا دھنسنا اور موسی علیہ السلام کا اس کے ساتھ قصہ
۔ (۱۰۳۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: حَدَّثَنِیْ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ خَلَیْلِیْ اَبُوْ الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَمَا رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ یَتَبَخْتَرُ بَیْنَ بُرْدَیْنِ فَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، فَاَمَرَ الْاَرْضَ فَبَلَعَتْہُ، فَوَ الَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ اِنَّہُ لَیَتَجَلْجَلُ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۱۰۴۵۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے صادق و مصدوق خلیل ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے والے لوگوں میں ایک آدمی تھا، وہ دو چادریں زیب ِ تن کر کے اترا کے چل رہا تھا، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوا اور اس نے زمین کو حکم دیا، پس وہ اس کو نگل گئی، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ قیامت کے دن تک دھنستا رہے گا۔
Takhreej
(۱۰۳۸۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۸۹، ومسلم: ۲۰۸۸ (انظر: ۱۰۴۵۵)
Explanation
فوائد:… قارون، موسی علیہ السلام کا چچا زاد بھائی تھا۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ درج بالا احادیث میں جس شخص کا ذکر ہے، اس سے مراد قارون ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اِنَّ قَارُوْنَ کَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰی فَبَغٰی عَلَیْھِمْ وَاٰتَیْنٰہُ مِنَ الْکُنُوْزِ مَآ اِنَّ مَفَاتِحَہٗلَتَنُوْٓاُبِالْعُصْبَۃِ اُولِی الْقُوَّۃِ اِذْ قَالَ لَہٗقَوْمُہٗلَاتَفْرَحْاِنَّاللّٰہَلَایُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ۔ وَابْتَغِ فِیْمَآ اٰتٰکَ اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا وَاَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ۔ قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ اَوَلَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَھْلَکَ مِنْ قَبْلِہِ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ ھُوَ اَشَدُّ مِنْہُ قُوَّۃً وَّاَکْثَرُ جَمْعًا وَلَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِھِمُ الْمُجْرِمُوْنَ۔ فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہِ فِیْ زِیْنَتِہِ قَالَ الَّذِیْنَیُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ٰیلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ اُوْتِیَقَارُوْنُ اِنَّہٗلَذُوْحَظٍّعَظِیْمٍ۔ وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَکُمْ ثَوَابُ اللّٰہِ خَیْر’‘ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا یُلَقّٰھَآ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ۔ فَخَسَفْنَا بِہٖوَبِدَارِہِالْاَرْضَفَمَاکَانَلَہٗمِنْفِئَۃٍیَّنْصُرُوْنَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَمَا کَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ۔ وَاَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَکَانَہٗبِالْاَمْسِیَقُوْلُوْنَ وَیْکَاَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہِ وَیَقْدِرُ لَوْلَآ اَنْ مَّنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا وَیْکَاَنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الْکٰفِرُوْنَ۔ تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُھَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ۔} … بے شک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا، پس اس نے ان پر سرکشی کی اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیے کہ بلا شبہ ان کی چابیاںیقینا ایک طاقتور جماعت پر بھاری ہوتی تھیں۔ جب اس کی قوم نے اس سے کہا مت پھول، بے شک اللہ پھولنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔اور جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے اس میں آخرت کا گھر تلاش کر اور دنیا سے اپناحصہ مت بھول اور احسان کر جیسے اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد مت ڈھونڈ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔اس نے کہا مجھے تو یہ ایک علم کی بنا پر دیا گیا ہے، جو میرے پاس ہے۔ اور کیا اس نے نہیں جانا کہ بے شک اللہ اس سے پہلے کئی نسلیں ہلاک کر چکا ہے جو اس سے زیادہ طاقتور اور زیادہ جماعت والی تھیں اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔پس وہ اپنی قوم کے سامنے اپنی زینت میں نکلا۔ ان لوگوں نے کہا جو دنیا کی زندگی چاہتے تھے، اے کاش! ہمارے لیے اس جیسا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے، بلاشبہ وہ یقینا بہت بڑے نصیب والا ہے۔اور ان لوگوں نے کہا جنھیں علم دیا گیا تھا، افسوس تم پر! اللہ کا ثواب اس شخص کے لیے کہیں بہتر ہے جو ایمان لایا اور اس نے اچھا عمل کیا اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کرنے والے ہیں۔تو ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، پھر نہ اس کے لیے کوئی جماعت تھی جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کرنے والوں سے تھا۔اور جن لوگوں نے کل اس کے مرتبے کی تمنا کی تھی انھوں نے اس حال میں صبح کی کہ کہہ رہے تھے افسوس! اب معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے، اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہم پر احسان کیا تو وہ ضرور ہمیں دھنسا دیتا، افسوس! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حقیقتیہ ہے کہ کافر فلاح نہیں پاتے۔ یہ آخری گھر، ہم اسے ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو نہ زمین میں کسی طرح اونچا ہونے کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ کسی فساد کا اور اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔ (سورۂ قصص: ۷۴۔ ۸۳) انسان کے اندر جو صلاحیت پائی جاتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، لہٰذا محسِنِ حقیقی اور منعمِ حقیقی سے کبھی بھی غفلت نہیں برتنی چاہیے، وگرنہ اللہ تعالیٰ کے کیے گئے احسان وبالِ جان بن جاتے ہیں، اس ضمن میں سب سے زیادہ سبق آموز مثال قارون کی ہے، کتنے خزانوں کا مالک تھا، لیکن اس کے مال و دولت نے اس کو کفایت نہ کیا، بلکہ اس کے لیے زمین میں دھنس جان کا سبب بن گیا۔
10385
Sahih
قارون، فرعون اور ہامان کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۳۸۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ ذَکَرَ الصَّلَاۃَیَوْمًا فَقَالَ: ((مَنْ حَافَظَ عَلَیْھَا کَانَتْ لَہُ نُوْرًا وَ بُرْھَانًا وَ نَجَاۃًیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَ مَنْ لَمْ یُحَافِظْ عَلَیْھَا لَمْ یَکُنْلَہُ نُوْرٌ وَ لَا بُرْھَانٌ، وَ کَانَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ قَارُوْنَ، وَ فِرْعَوْنَ،وَ ھَامَانَ، وَ اُبَیِّ بْنِ خَلَفٍ۔)) (مسند احمد: ۶۵۷۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: جس نے اس نماز کی محافظت کی تو یہ اس کے لیے قیامت کے دن نور، دلیل اور نجات ہو گی اور جس نے اس کی محافظت نہیں کی،یہ ا س کے حق میں نور ہو گی نہ دلیل اور ایسا شخص قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔
Takhreej
(۱۰۳۸۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الدارمی: ۲/ ۳۰۱، وابن حبان: ۱۴۶۷ (انظر: ۶۵۷۶)
Explanation
فوائد:… فرعون بادشاہت کی وجہ سے، قارون مال و دولت کی وجہ سے، ہامان وزارت کی وجہ سے اور ابی بن خلف تجارت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے دور رہے۔ کون سی وجہ ہے کہ بے نماز کو نماز کی ادائیگی کا وقت نہیں ملتا؟ غور کر لے۔
10386
Sahih
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
۔ (۱۰۳۸۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدْ کَانَ مَلَکُ الْمَوْتِ یَاْتِیْ النَّاسَ عَیَانًا، قَالَ: فَاَتٰی مُوْسٰی فَلَطَمَہُ فَفَقَأَ عَیْنَہُ، فَاَتٰی رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ، فَقَالَ: یَا رَبِّ! عَبْدُکَ مُوْسٰی فَقَأَ عَیْنِیْ،وَ لَوْلَا کَرَامَتُہُ عَلَیْکَ لَعَنُفْتُ بِہٖ، (وَقَالَیُوْنُسُ: لَشَقَقَتُ عَلَیْہِ) فَقَالَ لَہُ: اذْھَبْ اِلٰی عَبْدِیْ فَقُلْ لَہُ فَلْیَضَعْیَدَہُ عَلٰی جِلْدِ اَوْ مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَہُ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ وَارَتْ یَدُہُ سَنَۃٌ، فَاَتَاہُ فَقَالَ لَہُ: مَا بَعْدَ ھَذَا؟ قَالَ: الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ، قَالَ: فَشَمَّہُ شَمَّۃً فَقَبَضَ رُوْحَہُ قَالَ یُوْنُسُ: فَرَدَّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَیْنَہُ وَ کَانَ یَاْتِیْ النَّاسَ خُفْیَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۱۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ملک الموت (موت والا فرشتہ) لوگوں کے پاس آتا تھا اور وہ اس کو دیکھتے تھے، اسی طرح وہ موسی علیہ السلام کے پاس آیا لیکن انھوں نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی، فرشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ گیا اور کہا: اے میرے ربّ! تیرے بندے موسی نے (طمانچہ مار کر) میری آنکھ پھوڑ دی، اگر تو نے اسے معزز نہ بنایا ہوتا تو میں بھی اس پر سختی کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے کہا: تو میرے بندے کے پاس واپس جا اور اس سے کہہ کہ وہ بیل کی کمر پر ہاتھ رکھے، جتنے بال ہاتھ کے نیچے آ جائیں گے، اتنے سال تم زندہ رہو گے۔ موسی علیہ السلام نے (فرشتے کییہ بات سن کر) کہا: اس کے بعد پھر کیا ہو گا؟ جواب ملا: پھر تجھے موت آئے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر ابھی سہی، پھر انھیں ایک بو سونگھائی اور ان کی روح قبض کر لی۔ یونس راوی نے کہا: پس اللہ تعالیٰ نے اس فرشتے کو آنکھ عطا کر دی، اس کے بعد فرشتہ لوگوں کے پاس مخفی انداز میں آنے لگ گیا۔
Takhreej
(۱۰۳۸۷) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی فی الصحیحۃ، قال الالبانی: والطرق عن ابی ھریرۃ ثلاثۃ: الأولي: عن طاوس عن أبي ھریرۃ: فأخرجہ الشیخان وغیرھما، الثانیۃ: عن ھمام عنہ: فأخرجاہ أیضا وغیرھما، والسیاق لمسلم، وھو أتم، الثالثہ: عن عمار بن أبي عمار: فأخرجہ أحمد، وابن جریر الطبری في التاریخ ۱/۲۲۴۔
10387
Sahih
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
۔ (۱۰۳۸۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: ((اُرْسِلَ مَلَکُ الْمَوْتِ اِلَی مُوْسٰی فَلَمَّا جَائَ ہُ صَکَّہُ فَفَقَأَ عَیْنَہُ، فَرَجَعَ اِلٰی رَبِّہِ عَزَّوَجَلَّ، فَقَالَ: اَرْسَلْتَنِیْ اِلٰی عَبْدٍ لَا یُرِیْدُ الْمَوْتَ، قَالَ: فَرَدَّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلَیْہِ عَیْنَہُ وَ قَالَ: ارْجِعْ اِلَیْہِ فَقُلْ لَہُ یَضَعُیَدَہُ عَلٰی مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَہُ بِمَا غَطَّتْ یَدُہُ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ سَنَۃٌ فَقَالَ: اَیْ رَبِّ! ثُمَّ مَہْ؟ قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ، قَالَ: فاَلْآنَ، فسَاَلَ َاللّٰہَ اَنْ یُدْنَیَہُ مِنَ الْاَرْضِ الْمُقَدَّسَۃِ رَمْیَۃً بِحَجَرٍ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :(( فَلَوْ کُنْتُ ثَمَّ لَاَرَیْتُکُمْ قَبْرَہُ اِلٰی جَانِبِ الطَّرِیْقِ تَحْتَ الْکَثِیْبِ الْاَحْمَرِ۔)) (مسند احمد: ۷۶۳۴)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ملک الموت کو موسی علیہ السلام کی طرف بھیجا گیا، پس جب وہ ان کے پاس آیا تو انھوں نے اس کو تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی، پس وہ اپنے ربّ کی طرف لوٹ گیا اور کہا: تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے، جس کا موت کا ارادہ نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس فرشتے کی آنکھ واپس لوٹا دی اور اس سے کہا: تو اس کی طرف لوٹ جا اور اس کو کہہ کہ وہ اپنا ہاتھ بیل کی کمر پر رکھے، جتنے بال ہاتھ کے نیچے آ جائیں گے، اتنے سال زندگی مل جائے گی، موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! پھر کیا ہوگا؟ اس نے کہا: پھر موت ہو گی، انھوں نے کہا: تو پھر ابھی سہی، پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ اس کو پاک زمین سے ایک پتھر کی پھینک تک قریب کر دے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں وہاں ہوتا تو تمھیں سرخ ٹیلے کے نیچے راستے کی ایک طرف ان کی قبر دکھاتا۔
Takhreej
(۱۰۳۸۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
10388
Sahih
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
۔ (۱۰۳۸۹)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَرَرْتُ لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِیْ عَلٰی مُوْسٰی فَرَاَیْتُہُ قَائِمًا یُصَلِّیْ فِیْ قَبْرِہِ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: (عِنْدَ الْکَثِیْبِ الْاَحْمَرِ) (مسند احمد: ۱۲۵۳۲)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے سیر کرائی گئی، اس رات کو میں موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا اور میں نے ان کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر اپنی قبر میں نماز ادا کر رہے تھے۔ ایک روایت میں یہ زائد بات ہے: یہ قبر سرخ ٹیلے کے پاس تھی۔
Takhreej
(۱۰۳۸۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۷۵ (انظر: ۱۲۵۰۴)
Explanation
فوائد:… سوال یہ ہے کہ موسی علیہ السلام نے موت والے فرشتے کو تھپڑ کیوں مارا؟ اس کے دو جوابات ہیں: (۱)موسی علیہ السلام کو یہ علم نہ ہو سکا کہ وہ فرشتہ اللہ تعالیٰ کا قا صد تھا، جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے آیا تھا، انھوں نے سمجھا کہ یہ کوئی عام آدمی ہے، جو ان کو قتل کرنا چاہتا ہے، اس لیے انھوں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے یہ اقدام کیا۔ (۲)اللہ تعالیٰ نے فرشتے کا امتحان لینے کے لیے موسی علیہ السلام کو اجازت دی تھی کہ وہ اس کو تھپڑ ماریں اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کو پرکھنے کے لیے جو چاہتے ہیں کرتے رہتے ہیں۔ (دیکھئے شرح نووی صحیح مسلم: ۲/ ۲۶۷) موسی علیہ السلام نے بیت المقدس کے قرب کا سوال اس بنا پر کیا کہ وہ شرف والی جگہ تھی، انبیائے کرام وغیرہ کا مدفن ہونے کی وجہ سے افضل ہو گی، جبکہ بعض علما کا خیال ہے کہ انھوں نے بیت المقدس کا سوال نہیں کیا، کیونکہ ان کو ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ فتنہ و فساد میں پڑ جائیں۔ اس حدیث سے پتہ چلا کہ دفن ہونے کے لیے فضیلت و عظمت والے مقام کا تعین کرنا چاہیے اور نیکوکار لوگوں کے قبرستان کے قریب دفن ہونا چاہیے۔ (دیکھئے شرح نووی صحیح مسلم: ۲/ ۲۶۷)
10389
Sahih
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
۔ (۱۰۳۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الشَّمْسَ لَمْ تُحْبَسْ عَلٰی بَشَرٍ اِلَّا لِیُوْشَعَ بْنِ نُوْنٍ لَیَالِیَ سَارَ اِلٰی بَیْتِ الْمَقْدَسِ۔)) (مسند احمد: ۸۲۹۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورج کو کسی بشر کے لیے نہیں روکا گیا، ما سوائے یوشع بن نون علیہ السلام کے، یہ ان دنوں کی بات ہے، جب وہ بیت المقدس کی طرف جا رہے تھے۔
Takhreej
(۱۰۳۹۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری، أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۱۰۶۹ (انظر: ۸۳۱۵)
Explanation
فوائد:… سورج اللہ تعالیٰ کے نظام کے مطابق صدہا صدیوں سے اپنے مدار میں گردش کر رہا ہے، اس کی آمد و رفت میں ایک لمحہ کا فرق نہیں آیا، صرف یوشع بن نون کے لیے سورج کو روک لیا گیا تھا، جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا، یقینا اس سے جہاد کی برکت و اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یوشع علیہ السلام نے بیت المقدس کو فتح کیا، نہ کہ موسی علیہ السلام نے، سورج کو بیت المقدس کی فتح کے موقع پر روکا گیا تھا، نہ کہ اریحا کی فتح کے موقع پر۔
10390
Sahih
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
۔ (۱۰۳۹۱)۔ عَنْ اَبِيْ ھُرَیْرَۃَ مَرْفُوْعًا: (( اِنَّ الشَّمْسَ لَمْ تُحْبَسْ عَلٰی بَشَرٍ اِلَّا لِیُوْشَعَ لَیَالِيَ سَارَ اِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ (وَفِيْ رِوَایَۃٍ: غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْاَنْبِیَائِ، فَقَالَ لِقَوْمِہِ : لَا یَتَّبِعُنِيْ رَجُلٌ قَدْ مَلَکَ بُضْعَ امْرَاَۃٍ، وَھُوَیُرِیْدُ اَنْ یَبْنِيَ بِھَا، وَلَمَّا یَبْنِ بِھَا، وَلَا آخَرُ قَدْ بَنٰی بُنْیَانًا، وَلَمَّا یَرْفَعْ سَقْفَھَا ، وَلَا آخَرُ قَدِ اشْتَرٰی غَنَمًا اَوْ خَلِفَاتٍ وَھُوَ مُنْتَظِرٌ وِلَا دَھَا۔) قَالَ فَغَزَا ، فَاَدْنٰي لِلْقَرْیَۃِ حِیْنَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ اَوْ قَرِیْبًا مِنْ ذٰلِکَ (وَفِيْ رِوَایَۃٍ: فَلَقِيَ الْعَدُوَّ عِنْدَ غَیْبُوْبَۃِ الشَّمْسِ)، فَقَالَ لِلشَّمْسِ: اَنْتِ مَاْمُوْرَۃٌ، وَاَنَا مَاْمُوْرٌ، اَللّٰھُمَّ احْبِسْھَا عَلَيَّ شَیْئًا، فَحُبِسَتْ عَلَیْہِ، حَتّٰی فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، فَغَنِمُوْا الْغَنَائِمَ، قَالَ: فَجَمَعُوْا مَا غَنِمُوْا، فَاَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَاْکُلَہٗ،فَاَبَتْاَنْتَطْعَمَہٗ،وَکَانُوْاِذَاغَنِمُوْاالْغَنِیْمَۃَ بَعَثَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْھَا النَّارَ فَاَکَلَتْھَا، فَقَالَ: فِیْکُمْ غُلُوْلٌ، فَلْیُبَایِعْنِيْ مِنْ کُلِّ قَبِیْلَۃٍ رَجُلٌ فَبَایَعُوْہُ، فَلَصَقَتْ یَدُرَجُلٍ بِیَدِہِ، فَقَالَ: فِیْکُمُ الْغُلُوْلُ فَلْتُبَایِعْنِيْ قَبِیْلَتُکَ، فَبَایَعَتْہُ۔ قَالَ: فَلَصِقَتْ بِیَدِ رَجُلَیْنِ اَوْثَلَاثَۃٍیَدُہٗ، فَقَالَ: فِیْکُمُ الْغُلُوْلُ اَنْتُمْ غَلَلْتُمْ۔قَالَ: اَجَلْ! قَدْ غَلَلْنَا صُوْرَۃَ وَجْہِ بَقَرَۃٍ مِنْ ذَھَبٍ قَالَ: فَاَخْرَجُوْا لَہٗمِثْلَرَاْسِبَقَرَۃٍ مِنْ ذَھَبٍ، قَالَ: فَوَضَعُوْہُ فِيْ الْمَالِ وَھُوَ بِالصَّعِیْدِ، فَاَقْبَلَتِ النَّارُ فَاَکَلَتْہُ، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِاَحَدٍ مِنْ قَبْلَنَا، ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی رَاٰی ضُعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَیَّبَھَا لَنَا۔(وَفِيْ رِوَایَۃٍ:فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ: اِنَّ اللّٰہَ اَطْعَمَنَا الْغَنَائِمَ رَحْمَۃً بِنَا وَتَخْفِیْفًا لِمَا عَلِمَ مِنْ ضُعْفِنَا۔)) (مسند احمد: ۸۲۲۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک سورج کسی بشر کے لیے کبھی بھی نہیں روکا گیا، سوائے یوشع بن نون کے، یہ ان دنوں کی بات ہے جب وہ بیت المقدس کی طرف جا رہے تھے، ایک روایت میں ہے: انبیاء میں سے ایک نبی نے جہاد کیا، اس نے اپنی قوم سے کہا: وہ آدمی میرے ساتھ نہ آئے جو کسی عورت کی شرمگاہ کا مالک بن چکا ہے (یعنی اس نے نکاح کر لیا ہے) اور رخصتی کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی تک نہیں کی، وہ آدمی بھی (میرے لشکر میں شریک) نہ ہو، جس نے کوئی گھر بنانا شروع کیا ہے، لیکن ابھی تک چھت نہیں ڈالی اور جو آدمی بکریاںیا ایسے حاملہ جانور خرید چکا ہے، کہ جن کے بچوں کی ولادت کا اسے انتظار ہے، وہ بھی ہمارے ساتھ نہ آئے۔(یہ اعلان کرنے کے بعد) وہ غزوہ کے لیے روانہ ہو گیا، جب وہ ایک گاؤں کے پاس پہنچے تو نماز عصر کا وقت ہو چکا تھا، یا قریب تھا۔ (اور ایک روایت میں ہے کہ کہ غروبِ آفتاب سے پہلے دشمنوں سے مقابلہ ہوا)۔ اس وقت اس نبی نے سورج سے کہا: تو بھی (اللہ تعالیٰ کا) مامور ہے اور میں بھی (اسی کا) مامور ہوں۔ اے اللہ! تو اس سورج کو میرے لیے کچھ دیر تک روک لے۔ پس اسے روک دیا گیا، ( وہ جہاد میں مگن رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کی اور کافی غنیمتیں حاصل ہوئیں۔ اس لشکر والوں نے (اس وقت کے شرعی قانون کے مطابق) غنیمتوں کا مال جمع کیا، اسے کھانے کے لیے آگ آئی، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا اصول یہ تھا کہ جب وہ غنیمت کا مال حاصل کرتے تو اللہ تعالیٰ آگ بھیجتا جو اسے کھا جاتی۔ اس نبی نے (آگ کے نہ کھانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے) کہا: تم میں سے کسی نے خیانت کی ہے، لہٰذا ہر قبیلے سے ایک ایک آدمی میری بیعت کرے۔ انھوں نے بیعت کی۔ بیعت کے دوران ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چپک گیا۔ اس وقت انھوں نے کہا: تم میں خیانت ہے۔ اب تیرے قبیلے کا ہر آدمی میری بیعت کرے گا (تاکہ مجرم کا پتہ چل سکے)، انھوں نے بیعت شروع کی، بالآخر دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ چپک گئے۔ نبی نے کہا: تم میں خیانت ہے، تم نے خیانت کی ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، ہم نے گائے کے چہرے کی مانند بنی ہوئی سونے کی ایک مورتی کی خیانت کی ہے۔ پھر وہ گائے کے چہرے کی طرح کی بنی ہوئی چیز لے کر آئے اور اسے زمین پر مالِ غنیمت میں رکھ دیا، پھر آگ متوجہ ہوئی اور مالِ غنیمت کھا گئی۔ ہم (امتِ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) سے پہلے کسی کے لیے بھی مالِ غنیمت حلال نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ ہم ضعیف اور بے بس ہیں تو غنیمتوں کو ہمارے لیے حلال قرار دیا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس وقت فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ رحم کرتے ہوئے اورہماری کمزوری کی بنا پر ہمارے ساتھ تخفیف کرتے ہوئے ہمیں غنیمت کا مال کھانے کی اجازت دے دی۔
Takhreej
(۱۰۳۹۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۲۴، ۵۱۵۷، و مسلم: ۱۷۴۷ (انظر: ۸۲۳۸)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قبل کسی امت کے لیے مالِ غنیمت حلال نہیں تھا، یہ امت ِ محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے غنیمت کا مال حلال کر دیا۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ لکھتے ہیں: بُضْْع امرأۃ : حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: اس لفظ کا اطلاق شرمگاہ، شادی اور جماع پر ہوتا ہے، اس حدیث میں یہ تینوں معانی مراد لینا مناسب ہے، اور اس کا اطلاق مہر اور طلاق پر بھی ہوتا ہے۔ ولمایبنِ بھا : یعنی ابھی وہ خاوند اس پر داخل نہیں ہوا، اس ترکیب میں لمّا لانے سے معلوم ہو رہا ہے کہ اسے ایسا ہونے کی توقع ہے۔ خلِفات : یہ خلِفۃ کی جمع ہے، اس کا معنی حاملہ اونٹنی ہے۔ اونٹنی کے علاوہ دوسرے جانوروں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا رہتا ہے۔ اس حدیث کی شرح:… ۱۔ مہلب نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دنیا کے فتنے کی وجہ سے انسان کا نفس بے صبری و بے قراری کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور اس میں دنیا میں طویل عمر پانے کی حرص پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ جس آدمی نے کسی عورت سے نکاح کر لیا ہو، لیکن ابھی رخصتییا جماع وغیرہ نہ ہوا ہو اور اسے سفرِ جہاد میں نکلنا پڑ جائے، تو اس کے دل میں یہی خیال رہے گا کہ اسے جلدی واپس چلے جانا چاہیے، اس طرح سے شیطان اس کے دل کو یوں مشغول کر دے گا، کہ وہ اپنے سفر کے مقصد سے غافل ہو جائے گا۔ ۲۔ ابن منیر نے کہا: عام لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ادائیگی ٔحج کو شادی پر مقدم کرتے ہیں، ان کا خیالیہ ہے کہ حج سے پاکدامنی کا حصول ہوتا ہے، اس حدیث سے ایسے لوگوں کا ردّ ہوتا ہے، بہتر یہ ہے کہ شادی کو حج پر ترجیح دی جائے، کیونکہ اسی میں پاکدامنی ہے،جیسا کہ اس حدیث میں اس چیز کو جہاد پر ترجیح دی گئی۔ میں (البانی) کہتا ہوں کہ اس موضوع پر درج ذیل دو احادیث مروی ہے: أ: ((الحج قبل التزویج۔)) … حج، شادی سے پہلے ہے۔ اس کی سند میں دو راوی غیاث بن ابراہیم اور میسرہ بن عبد ربہ کذاب ہیں۔ ب: ((من تزوج قبل ان یحج، فقد بدأ بالمعصیۃ۔)) … جس نے حج سے پہلے شادی کی، اس نے معصیت سے ابتدا کی۔ اس کی سند میں محمد بن ایوب یروی الموضوعات ، اس کا باپ لیس بشیئ اور احمد بن جمہور متہم بالوضع ہے۔ مزید تفصیل (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۲۲۱، ۲۲۲) میں دیکھی جا سکتی ہے۔ (صحیحہ: ۲۰۲) اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت پر احسان کرتے ہوئے مال غنیمت بھی حلال کر دیا اور ساری زمین کو جائے نماز قرار دیا اور مجبوری کے وقت ہر حالت میں نماز پڑھنے کی گنجائش دی، مثلا پیدل چلتے ہوئے یا سوار ہو کر۔ بَابُ مَاجَائَ فِیْ دُخُوْلِ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ بَیْتَ الْمُقَدَّسِ وَقُوْلِ اللّٰہِ تَعَالٰی لَھُمْ:{وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ} بنی اسرائیل کا بیت المقدس میں داخل ہونے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ}کا بیان
10391
Sahih
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
۔ (۱۰۳۹۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قِیْلَ لِبَنِیْ اِسْرَئِیْلَ {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ نَغْفِرْلَکُمْ خَطَایَاکُمْ} فَبَدَّلُوْا فَدَخَلُوا الْبَابَ یَزْحَفُوْنَ عَلٰی اَسْتَاھِھِمْ وَقَالُوْا: حَبَّۃٌ فِیْ شَعْرَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۸۲۱۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنی اسرئیل سے کہا گیا: تم دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جائو اور زبان سے حِطَّۃ کہو، ہم تمہاری خطائیں معاف کر دیں گے۔ لیکن انھوں نے اس بات کو بدل ڈالا اور دروازے سے سرینوں کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے اور زبان سے حَبَّۃٌ فِیْ شَعْرَۃٍ (گندم بالی میں)کہتے ہوئے داخل ہوئے۔
Takhreej
(۱۰۳۹۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۰۳، ۴۶۴۱، ومسلم: ۳۰۱۵ (انظر: ۸۲۳۰)
10392
Sahih
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
۔ (۱۰۳۹۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ قَوْلِہِ عَزَّوَجَلَّ: {وَادْخُلُوْا الْبَابَ سُجَّدًا} قَالَ: دَخَلُوْا زَحْفًا {وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ} قَالَ: بَدَّلُوْا فَقَالُوْا: حِنْطَۃٌ فِیْ شَعْرَۃٍ۔ (مسند احمد: ۸۰۹۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل سے کہا کہ دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ۔ لیکن وہ سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے، اور ان کو حکم دیا کہ حِطَّۃ کہو، لیکن انھوں نے اس حکم کو بد ڈالا اور کہا: حِنْطَۃٌ فِیْ شَعْرَۃٍ (گندم بالی میں)۔
Takhreej
(۱۰۳۹۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… حِطَّۃ کا معنی ہے: ہمارے گناہ معاف کر دے، یعنی بنی اسرائیل کو استغفار کرنے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ بنی اسرائیلی کی سرتابی و سرکشی کییہ صورتحال تھی کہ وہ لوگ احکام الٰہی کا تمسخر و استہزا کرتے تھے، دراصل جب کوئی قوم اخلاق و کردار کے لحاظ سے زوال پذیر ہو جائے تو اس کا معاملہ احکام الہیہ کے ساتھ اسی طرح کا ہو جاتا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں کہا: بنی اسرائیل چالیس برسوں کے بعد یوشع علیہ السلام کے ساتھ میدان تیہ سے نکلے اور جمعہ کی شام کو بیت المقدس کو فتح کر لیا، ان ہی کے لیے سورج کو کچھ دیر کے لیے روکا گیا تھا، جب انھوں نے اس کو فتح کر لیا تو ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر نے کے لیے شہر کے دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا کی، ان کا علاقہ ان کو لوٹا دیا اور ان کو میدانِ تیہ اور گمراہی سے بچایا۔ لیکن ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بے قدری کی اور گویا اس کے حکم کے ساتھ مذاق کیا۔
10393
Sahih
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان (انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
۔ (۱۰۳۹۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ ھَمَّامٍ، ثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ھَمَّامٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ یُسَمَّ خَضِرًا اِلَّا لِاَنَّہُ جَلَسَ عَلَی فَرْوَۃٍ بَیْضَائَ فاِذَا ھِیَ تَھْتَزُّ خَضْرَائَ)) اَلْفَرْوَۃُ: اَلْحَشِیْشُ الْاَبْیَضُ وَمَا یُشْبِھُہُ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: اَظُنُّ ھٰذَا تَفْسِیْرًا مِنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ (مسند احمد: ۸۲۱۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خضر کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ جب وہ خشک زمین، جس پر کوئی سبزہ نہ ہوتا، پر بیٹھتے تھے تو وہ سر سبز ہو کر ہلنے لگتی تھی۔ راوی کہتا ہے: فَرْوَۃ سے مراد سفید گھاس اور اس سے ملتی جلتی چیزیں ہیں، عبد اللہ راوی نے کہا: میرا خیال ہے کہ عبد الرزاق نے یہ تفسیر بیان کی ہے۔
Takhreej
(۱۰۳۹۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۰۲ (انظر: ۸۲۲۸)
10394
Sahih
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان (انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
۔ (۱۰۳۹۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ ھَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الْخَضِرِ: ((اِنّمَا سُمِّیَ خَضِرًا اِنَّہُ جَلَسَ عَلَی فَرْوَۃَ بَیْضَائَ فَاِذَا ھِیَ تَحْتَہُ خَضْرَائُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۹۸)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خضر کے نام کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ خشک زمین، جس پر کوئی سبزہ نہ ہوتا، پر بیٹھتے تو وہ ان کے نیچے سبز ہو جاتی تھی۔
Takhreej
(۱۰۳۹۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… خضر کو تین طرح سے پڑھا گیا ہے: خَضِر، خِضْر، خِضَر۔ یہ لقب ہے، وہب بن عقبہ نے کہا کہ خضر کا نام بلیاء بن ملکان تھا۔ خضر علیہ السلام کی حیات اور نبوت کے بارے میں اختلاف ہے، موت و حیات میں سے کسی ایک چیز کو ثابت کرنے کے لیے ہر فریق نے دور دور کی دلیلیں پیش کی ہیں، ہمارا نظریہیہ ہے کہ یہ عوام سے متعلقہ موضوع نہیں ہے اور اس سے خاموشی اختیار کرنی چاہیے، بہرحال یہ بات قطعی الثبوت اور قطعی الدلالۃ ہے کہ انبیاء و رسل کا مرتبہ صوفیاء اور اولیاء سے زیادہ ہوتا ہے، صرف ایک گزارش کرتے ہیں: خضر علیہ السلام کی حیات: اس معاملے میں اصل قانون تو موت ہی ہے، جب تک کسی خاص دلیل کی روشنی میں زندگی کو ثابت نہ کر دیا جائے اور قرآن و حدیث میں کوئی ایسی خاص دلیل نہیں ہے جو آج تک خضر علیہ السلام کی حیات پر دلالت کرے، جبکہ درج ذیل تین دلائل سے ان کی موت کا اشارہ ملتا ہے: ۱۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ اَفَاْئِنْ مِّتَّ فَھُمُ الْخٰلِدُوْنَ۔ } … اور ہم نے آپ سے پہلے کسی انسان کو بھی ہمیشگی نہیں دی، کیا اگر آپ فوت ہو گئے تو کیا وہ ہمیشہ کے لیے رہ جائیں گے۔ (سورۂ انبیائ: ۳۴) جب کافروں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بابت کہا کہ چلو ایک دن اس نے مر ہی جانا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کا جواب دیا کہ موت تو ہر انسان کو آنی ہے، کوئی بھی اس اصول سے مستثنی نہیں ہے، یہاں کہ حضرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی۔ یہ آیت خضر علیہ السلام کو بھی شامل ہے۔ ۲۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآئَکُمْ رَسُوْل’‘ مُّصَدِّق’‘ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖوَلَتَنْصُرُنَّہٗقَالَئَاَقْرَرْتُمْوَاَخَذْتُمْعَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْھَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَ۔} … جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب و حکمت دوں پھر تمہارے پاس وہ رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لیے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے، پھر پوچھا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے، فرمایا تو اب گواہ رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ (سورۂ آل عمران: ۸۱) خضر علیہ السلام نبی ہیںیا ولی، بہرحال وہ اس معاہدے اور میثاق میں داخل ہیں، اگر وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے تک زندہ تھے تو ان کا شرف اسی میں تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر اس معاہدے کی پاسداری کرتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدد کرتے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ کسی دلیل سے ان کی آمد کا علم نہیں ہوتا۔ اٰیت میں انبیائh سے وعدہ لینے کا ذکر ہے اس لیے خضر علیہ السلام اگر نبی تسلیم کیے جائیں تو پھر وہ اس اٰیت میں مذکور میثاق میں سے داخل ہوں گے ورنہ نہیں۔ اور پہلی بات راجح ہے۔ (عبداللہ رفیق) ۳۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْعِشَائِ فِیْ آخِرِ حَیَاتِہِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَرَأَیْتَکُمْ لَیْلَتَکُمْ ھٰذِہِ، فَاِنَّ رَأْسَ مِائَۃٍ مِنْھَا لَا یَبْقٰی مِمَّنْ ھُوَ الْیَوْمَ عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ اَحَدٌ۔)) … نبیکریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ہمیں نمازِ عشا پڑھائی، سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: کیا خیال ہے تمہارا اس رات کے بارے، (ذرا غور کرو کہ آج) جو زمین کی پشت پر موجود ہے، وہ سو برس تک باقی نہیں رہے گا۔ (صحیح بخاری: ۶۰۱، صحیح مسلم: ۲۵۳۷) حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌نے کہا: وکذالک وقع بالاستقراء فکان آخر من ضبط أمرہ ممن کان موجودا حینئذ أبو الطفیل عامر بن واثلۃ، وقد أجمع أھل الحدیث علی انہ کان آخر الصحابۃ موتا، وغایۃ ما قیل فیہ انہ بقی الی سنۃ عشر ومائۃ وھی رأس مائۃ سنۃ من مقالۃ النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واللہ اعلم۔… اور تحقیقی طور پر اسی طرح واقع ہوا، پس آخری صحابی جس کے حالات قلم بند کیے اور جو اس وقت موجود تھا، وہ سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہے، اس پر محدثین کا اتفاق ہے کہ وہ صحابہ میں سب سے آخر میں فوت ہوئے تھے، زیادہ سے زیادہیہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ یہ تو ۱۱۰؁ھمیں فوت ہوئے، (نہ کہ پہلی صدی کے آخر میں) تو اس کا جواب یہ ہو گا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشاد کو سو سال اسی کی وفات پر ہی پورے ہوئے تھے۔ واللہ اعلم۔ (فتح الباری: ۲/ ۹۵) حافظ ابن حجر نے یہ بھی کہا کہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ پہلے یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی۔ (فتح الباری: ۱/ ۲۸۲) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا تعلق انسانوں سے ہے، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں خضر علیہ السلام کا زندہ ہونا فرض کر لیں تو وہ اس حدیث کا مصداق بنیں گے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ابن جوزی نے کہا: یہ احادیث ِ صحیحہ، خضر علیہ السلام کی حیات کے دعوی کو جڑ سے کاٹ دیتی ہیں۔ خضر علیہ السلام کی نبوت: حافظ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں خضر علیہ السلام کی نبوت اور موت کے بارے میں گفتگو کی ہے، انھوں نے ان کی نبوت کے بارے میں کہا: خضر علیہ السلام کا موسی علیہ السلام کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب (سورۂ کہف) میں ذکر کی ہے، یہ واقعہ کئی وجوہات سے خضر کی نبوت پر دلالت کرتاہے، بعض وجوہات یہ ہیں: ۱۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَآ اٰتَیْنٰہُ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنٰہُ مِّنْ لَّدُنَّا عِلْمًا} … تو ان دونوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنے ہاں سے ایک رحمت عطا کی اور اسے اپنے پاس سے ایکعلم سکھایا تھا۔ (سورۂ کہف: ۶۵) ۲۔ موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام سے یہ کہنا: {ھَلْ اَتَّبِعُکَ عَلٰٓی اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا۔ قَالَ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا۔ وَکَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰی مَا لَمْ تُحِطْ بِہٖخُبْرًا۔ قَالَ سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ صَابِرًا وَّلَآ اَعْصِیْ لَکَ اَمْرًا۔ قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلََا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْئٍ حَتّیٰٓ اُحْدِثَ لَکَ مِنْہُ ذِکْرًا۔} … موسیٰ نے اس سے کہا کیا میں تیرے پیچھے چلوں؟ اس (شرط) پر کہ تجھے جو کچھ سکھایا گیا ہے اس میں سے کچھ بھلائی مجھے سکھا دے۔ اس نے کہا بے شک تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کر سکے گا۔اس نے کہا اگر اللہ نے چاہا تو تو مجھے ضرور صبر کرنے والا پائے گا اور میں تیرے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ کہا پھر اگر تو میرے پیچھے چلا ہے تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں مت پوچھنا، یہاں تک کہ میں خود تیرے لیے اس کا کچھ ذکر کروں۔ (سورۂ کہف: ۶۶ تا ۷۰) اگر خضر علیہ السلام صرف ولی ہوتے تو موسی علیہ السلام ان کو اس انداز میں خطاب نہ کرتے اور نہ وہ اس انداز میں جواب دیتے، دیکھیں موسی علیہ السلام اُن سے اُن کی صحبت کا سوال کر رہے ہیں، تاکہ وہ اُن سے وہ چیز حاصل کر لیں، جو اللہ تعالیٰ نے صرف اُن کو عطا کی ہے۔ اگر خضر علیہ السلام نبی نہ ہوتے تو وہ تو سرے سے معصوم ہی نہ تھے، جبکہ موسی علیہ السلام عظیم پیغمبر تھے اور معصوم تھے، سو آپ علیہ السلام کو ان سے کیا رغبت ہونی تھی۔ ۳۔ خضر علیہ السلام نے لڑکے کو قتل کیا تھا، یہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی صورت میں ہو سکتا ہے، یہ ان کی نبوت پر مستقل دلیل اور ان کی عصمت پر واضح برہان ہے، کیونکہ ولی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی خیال کی روشنی میں کسی کو قتل کر دے۔ پھر خضر علیہ السلام کا یہ وجہ بیان کرنا کہ اس لڑکے نے بڑے ہو کر کافر بننا تھا اور اپنے والدین کو بھی کفر پر آمادہ کرنا تھا۔ ابن جوزی نے ان ہی وجوہات کی روشنی میں خضر علیہ السلام کی نبوت ثابت کی ہے۔ ۴۔ جب خضر علیہ السلام نے موسی علیہ السلام کے لیے اپنے افعال کی وضاحت کی تو کہا: {رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ وَمَا فَعَلْتُہٗعَنْاَمْرِیْ} … تیرے رب کی طرف سے رحمت کے لیے اور میں نے یہ اپنی مرضی سے نہیں کیا (سورۂ کہف: ۸۲)یعنییہ افعال میرے نفس کی اختراع نہیں، بلکہ مجھے ان کے بارے میں حکم دیا گیا اور میری طرف وحی کی گئی۔ ۵۔ حدیث نمبر (۱۰۳۹۴، ۱۰۳۹۵) کے مطابق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خضر علیہ السلام کی جو خصوصیت بیان کی ہے، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کا معجزہ تھا۔ ان وجوہات سے پتہ چلتا ہے کہ خضر علیہ السلام نبی تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ الیاس علیہ السلام : تبویب میں الیاس علیہ السلام کاذ کر موجود ہے، لیکن باب کے اندر ان سے متعلقہ کوئی حدیث نہیں ہے، البتہ قرآن مجید میں ان کا ذکر ملتا ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔ اِذْ قَالَ لِقَوْمِہِٓ اَلََا تَتَّقُوْنَ۔ اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ۔ اللّٰہَ رَبَّکُمْ وَرَبَّ اٰبَآئِکُمُ الْاَوَّلِیْن۔ فَکَذَّبُوْہُ فَاِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ۔ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ۔ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ۔ سَلٰم’‘ عَلٰٓی اِلْ یَاسِیْنَ۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ۔ اِنَّہٗمِنْعِبَادِنَاالْمُؤْمِنِیْنَ۔} … اور بلاشبہ الیاسیقینا رسولوں میں سے تھا۔جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ؟ کیا تم بعل کو پکارتے ہواور بنانے والوں میں سے سب سے بہتر کو چھوڑ دیتے ہو؟اللہ کو،جو تمھارا رب ہے اور تمھارے پہلے باپ دادا کا رب ہے ۔تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، سو یقینا وہ ضرور حاضر کیے جانے والے ہیں ۔مگر اللہ کے وہ بندے جو چنے ہوئے ہیں۔اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں اس کے لیےیہ بات چھوڑ دی ۔کہ سلام ہو الیاسین پر ۔بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں ۔ (سورۂ صافات: ۱۲۳۔ ۱۳۱) الیاس علیہ السلام ، ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک اسرائیلی نبی تھے، یہ جس علاقے میں بھیجے گئے تھے، اس کا نام بعلبک تھا، بعض کہتے ہیں کہ اس جگہ کا نام سامرہ تھا، جو فلسطین کا مغربی وسطی علاقہ ہے، یہاں کے لوگ بعل نامی بت کے پجاری تھے۔
10395
Sahih
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
۔ (۱۰۳۹۶)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا نَتَحَدَّثُ اَنَّ عِدَّۃَ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانُوْا یَوْمَ بَدْرٍ عَلٰی عِدَّۃِ اَصْحَابِ طَالُوْتَ یَوْمَ جَالُوْتَ، ثَلَاثُ مَائِۃٍ وَ بِضْعَۃَ عَشَرَ الَّذِیْنَ جَاوَزُوْا مَعَہُ النَّھْرَ، قَالَ: وَ لَمْ یُجَاوِزْ مَعَہُ النَّھْرَ اِلَّا مُؤْمِنٌ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۵۴)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ بدر والے دن صحابہ کرام کی تعداد اتنی تھی، جتنی جالوت والے دن طالوت کے ساتھیوں کی تھی،یعنی تین سو اور چودہ پندرہ افراد تھے،، جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہرکو عبور کیا تھا اور نہر سے گزر جانے والے صرف مؤمن تھے۔
Takhreej
(۱۰۳۹۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۹۵۸، ۳۹۵۹ (انظر: ۱۸۵۵۵)
Explanation
فوائد:… موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے کچھ عرصہ بعد بنی اسرائیل کے مطالبے پر طالوت کو بادشاہ بنایا گیا، لیکن بنی اسرائیل نے اپنی عادت کے مطابق ان کی بادشاہت پر اعتراض کرنا شروع کر دیا، دوسرے پارے کے آخر میں اسی بادشاہ کا ذکر ہے۔
10396
Sahih

Chapters

30
01
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان (انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
6 Hadith
02
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
2 Hadith
03
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
6 Hadith
04
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
3 Hadith
05
ہود علیہ السلام کا بیان
3 Hadith
06
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
6 Hadith
07
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
4 Hadith
08
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
09
ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان
2 Hadith
10
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
8 Hadith
11
ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ مبارک، اسحاق کی پیدائش، سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی اور پھر ابراہیم علیہ السلام کی وفات کا بیان
3 Hadith
12
اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان
3 Hadith
13
اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
14
اللہ کے نبی اسحاق علیہ السلام اور پھر یعقوب علیہ السلام کے ذکر کا بیان
4 Hadith
15
یوسف علیہ السلام کا ذکر
6 Hadith
16
اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام کا ذکر
2 Hadith
17
اللہ کے نبییونس علیہ السلام کا ذکر
4 Hadith
18
مچھلی والے یعنییونس علیہ السلام کی دعا اور ان کے حج کا ذکر
2 Hadith
19
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
20
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
4 Hadith
21
موسی علیہ السلام کا پتھر کے ساتھ واقعہ
3 Hadith
22
فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت اور جبریل علیہ السلام کا اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا بیان
2 Hadith
23
موسی علیہ السلام کا بنی اسرئیل کے ساتھ قصہ جب انھوں نے کہا: اے موسی ہمارا بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں
1 Hadith
24
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
1 Hadith
25
بنو اسرائیل کی بزدلی اور جبارقوم کے ساتھ لڑنے سے ان کے خوف کا بیان
1 Hadith
26
موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
2 Hadith
27
قارون کا دھنسنا اور موسی علیہ السلام کا اس کے ساتھ قصہ
2 Hadith
28
قارون، فرعون اور ہامان کی مذمت کا بیان
1 Hadith
29
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
3 Hadith
30
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.