TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان - انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان - Book 168 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 168 of Musnad Ahmad, with 30 chapters and 105 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

105 Hadith · 30 Chapters
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان (انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
۔ (۱۰۳۱۷)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ الْبَاھْلِیِّ، قَالَ: قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ وَفّٰی عِدَّۃُ الْاَنْبِیَائِ؟ قَالَ: ((مِائَۃُ اَلْفٍ وَ اَرْبَعَۃٌ وَ عِشْرُوْنَ اَلْفًا، اَلرُّسُلُ مِنْ ذٰلِکَ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ جَمًّا غَفِیْرًا (وَفِیْ لَفْظٍ) ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَبِضْعَۃَ عَشَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۴۴)
۔ سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! انبیاء کی تعداد کتنی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ، چوبیس ہزار، ان میں تین سو پندرہ رسول تھے، جم غفیر تھا۔ ایک روایت میں ہے: ان میں تین سو چودہ پندرہ رسول تھے۔
Takhreej
(۱۰۳۱۷) تخریج: صحیح لغیرہ، قالہ الالبانی فی صحیحتہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۸۷۱، وابن حبان: ۶۱۹۰، والحاکم: ۲/ ۲۶۲ (انظر: ۲۲۲۸۸)
Explanation
فوائد:… شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: یہ اور دوسری احادیث دلالت کرتی ہیں کہ رسول اور نبی میں فرق ہے، قرآن مجید کی آیت بھی اس فرق پر دلالت کرتی ہے: {وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّآ اِذَا تَمَنّٰٓی اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْٓاُمْنِیَّتِہٖ } (سورۂ حج: ۵۲) … اور ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجا نہ نبی، مگر اس کے ساتھ یہ ہوا کہ جب وہ اپنے دل میں کوئی آرزو کرنے لگا تو شیطان نے اس کی آواز میں کچھ ملا دیا۔ ابن جریر طبری سے لے کر علامہ آلوسی تک کے عام مفسرین کا یہی مسلک ہے، امام ابن تیمیہ نے (المجموع: ۰۱/ ۲۹۰، ۱۸/۷) میں کئی مقامات میں کہا ہے: کل رسول نبی و لیس کل نبی رسولا۔ (ہر رسول نبی تو ہے، لیکن ہر نبی رسول نہیں۔)امام قرطبی (۱۲/۸۰) نے کہا: مہدوی نے کہا: یہی رائے صحیح ہے کہ ہر رسول نبی ہے، لیکن ہر نبی رسول نہیں۔ قاضی عیاض نے (الشفائ) میں یہی رائے اختیار کی اور کہا: جمّ غفیر کا یہی مسلک ہے کہ ہر رسول نبی ہے، لیکن ہر نبی رسول نہیں ہے، انھوں نے سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث سے استدلا ل کیا۔ اس کی مزید تائید سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اس قراء ت سے ہوتی ہے: {وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُوْلٍ وَلَا نَبِیٍّ وَّلَا مُحَدَّثٍ} اس میں محدث سے مراد وہ ہے کہ جس کی طرف نیند میں وحی کی جاتی ہے، کیونکہ انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ابو بکر انباری نے یہ قول ((الردّ)) میں ذکر کیا ہے۔ میں (البانی) کہتا ہوں: ایسی قرا ء ات سے قرآن مجید ثابت نہیں ہوتا، بہرحال اگر یہ قول سنداً صحیح ہو تو رسول اور نبی کے مابین فرق پر دلالت کرتا ہے، مفسر قرآن مجاہد ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ سے بھی فرق کا قول منقول ہے، جس کو امام سیوطی نے (الدر: ۴/۳۶۶) میں ذکر کیا ہے۔ … …۔ رسول اور نبی میں فرق کیا ہے؟ علامہ زمخشری (۳/۳۷) لکھتے ہیں: والفرق بینھما ان الرسول من الأنبیائ: من جَمَع الی المعجزۃ والکتاب المنزل علیہ۔ والنبی غیر الرسول: من لم ینزل علیہ کتاب وانما امر ان یدعو الناس الی شریعۃ من قبلہ۔… ان دو کے ما بین فرق: رسول ،انبیاء میں سے ہوتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزہ اور کتاب دونوں چیزیں دی جاتی ہیں اور نبی ، رسول کے علاوہ ہوتا ہے، اس پر کتاب نازل نہیں کی جاتی، بلکہ اسے یہ حکم دیا جاتا ہے کہ سابقہ رسول کی شریعت کی طرف دعوت دے۔ امام بیضاوی نے اپنی تفسیر (۴/۵۷) میں کہا: الرسول: من بعثہ اللہ بشریعۃ مجدِّدۃیدعو الناس الیھا، والنبییعمہ، ومن بعثہ لتقریر شرع سابق، کأنبیاء بنی اسرائیل الذین کانوا بین موسی و عیسی ولذالک شبہ النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم علماء امتہ بھم۔… رسول وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نئی شریعت دے کر بھیجے اور وہ اس کی طرف لوگوں کو دعوت دے اور نبی اس کو بھی کہتے ہیں اور اُس کو بھی جو سابقہ نبی کی شریعت کو برقرار رکھنے کے لیے بھیجا جائے، جیسے موسی اور عیسیm کے مابین آنے والے انبیاء تھے، اسی لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی امت کے علماء کو ان سے تشبیہ دی۔ میں (البانی) کہتا ہوں: امام بیضاوی شاید اس حدیث کی طرف اشارہ کر رہے ہوں: ((عُلَمَائُ اُمَّتِیْ کَأَنْبِیَائِ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ۔)) … میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔ لیکنیہ حدیث سند کے اعتبار سے بے بنیاد ہے، جیسا کہ حافظ ابن حجر اور امام سخاوی وغیرہ نے کہا ہے اور پھر انھوں نے امام بیضاوی کی تعریف پر اعتراضات کیے، جن کا لب لباب یہ تھا کہ بیضاوی کی تعریف سے مجددۃ اور زمخشری کی تعریف سے الکتاب کے الفاظ حذف کر دیےجائیں، کیونکہ اسماعیل علیہ السلام پر کوئی کتاب نازل ہوئی نہ کوئی ایسی شریعت، جو از سرِنو ہو۔ وہ تو ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کے پیروکار تھے، لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: {اِنَّہُ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَکَانَ رَسُوْلاً نَبِیًّا} (سورۂ مریم: ۵۴) … وہ (اسماعیل) وعدے کے سچے اور رسول اور نبی تھے۔ خلاصۂ کلام یہ نکلا: النبی من بعث لتقریر شرع سابق، والرسول من بعثہ اللہ بشریعۃیدعوا الناس الیھا، سواء کانت جدیدۃ او متقدمۃ۔… نبی وہ ہے جسے سابقہ شریعت کے قیام کے لیے بھیجا جائے اور رسول وہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نئییا سابقہ شریعت کو برقرار رکھنے کے لیے بھیجے اور وہ لوگوں کو اس کی طرف دعوت دے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۶۶۸)
10317
Sahih
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان (انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
۔ (۱۰۳۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُخَیِّرُوْا بَیْنَ الْاَنْبِیَائِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۸۵)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام کو ایک دوسرے پر فضیلت مت دو۔
Takhreej
(۱۰۳۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۹۱۶، ومسلم: ۲۳۷۴ (انظر: ۱۱۲۶۵)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا: {تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ} … یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۵۳) اس آیت کا مطلب ہوا کہ بعض انبیاء ورسل کی زیادہ فضیلت ہے۔ تو اس حدیث ِ مبارکہ میں جس فضیلت و برتری سے منع کیا گیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اس انداز میں انبیاء و رسل کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا ممنوع ہے، جس سے کسی کی تنقیص اور سوئے ادب لازم آئے۔
10318
Sahih
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان (انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
۔ (۱۰۳۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ یَبْعَثِ اللّٰہُ نَبِیَّنَا اِلَّا بِلُغَۃِ قَوْمِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۳۹)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ مبعوث فرمایا۔
Takhreej
(۱۰۳۱۹) تخریج: متنہ صحیح، فقد نصّ القرآن الکریم علی ذلک ، واسناد ھذا الحدیث منقطع (انظر: ۲۱۴۱۰)
10319
Sahih
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان (انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
۔ (۱۰۳۲۰)۔ عَنْ اَوْسِ بْنِ اَبِیْ اَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَائِ صَلَوَاتُ اللّٰہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۶۲)
۔ سیدنا اوس بن ابی اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر اس چیز کو حرام قرار دیا ہے کہ وہ انبیا کے جسم کھائے، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور سلامتی ہو۔
Takhreej
(۱۰۳۲۰) تخریج: اسنادہ صحیح ، أخرجہ ابوداود: ۱۰۴۷، ۱۵۳۱، وابن ماجہ: ۱۰۸۵، ۱۶۳۶، والنسائی: ۳/ ۹۱ (انظر: ۱۶۱۶۲)
Explanation
فوائد:… قارئین سے گزارش کہ وہ انبیائے کرام کے بیان کیے گئے درج ذیل نسب میں خود غور کریں کہ کس کانسب کس سے مل رہا ہے۔ ابن سعد نے الطبقات الکبری: ا/۵۴ میں ذکر تسمیۃ الأنبیاء وأنسابہم صلی اللہ علیہم و سلم (انبیائے کرام کے اسماء و انساب کا ذکر) کے عنوان میں درج ذیل دلچسپ معلومات پیش کیں ہیں: یہ وہ انبیاء و رسل h ہیں، جن کے نام شریعت میں بتلائے گئے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا گیا کہ کیا آدم علیہ السلام بھی نبی تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، وہ نبی تھے اور ان سے کلام بھی کیا گیا تھا…۔ پہلے نبی جن کو مبعوث کیا گیا وہ ادریس(خنوخ) علیہ السلام بن یارذ بن مہلائیل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم تھے۔ پھر نوح علیہ السلام بن لمک بن متوشلخ بن ادریس (خنوخ) تھے۔ ان کے بعد ابراہیم علیہ السلام بن تارح بن ناحور بن ساروغ بن ارغوا بن فالغ بن عابر بن شالخ بن ارفخشد بن سام بن نوح پھر اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام ، یہ دونوں ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ ان کے بعد یعقوب بن اسحاق بن ابراہیمh پھریوسف بن یعقوب بن اسحاق h پھر لوط علیہ السلام بن ہاران بن تارح بن ناحور بن ساروغ ۔ لوط علیہ السلام ، ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ پھر ہود علیہ السلام بن عبد اللہ بن الخلود بن عاد بن غوص بن ارم بن سام بن نوح پھر صالح علیہ السلام بن آسف بن کماشج بن اروم بن ثمود بن جائر بن ارم بن سام بن نوح پھر شعیب علیہ السلام بن یوبب بن عیفا بن مدین بن ابراہیم خلیل الرحمن پھر موسی اور ہارون h بن عمران بن قاہث بن لاوی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم پھر الیاس علیہ السلام بن تشبین بن العازر بن ہارون بن عمران بن قاہث بن لاوی بن یعقوب پھریسع علیہ السلام بن عزی بن نشوتلخ بن افرایم بن یوسف بن یعقوب بن اسحاق پھریونس علیہ السلام بن متی، متی حضرت یعقوب کا ایک بیٹا تھا۔ پھر ایوب علیہ السلام بن زارح بن اموص بن لیفزن بن العیص بن اسحاق بن ابراہیم داود علیہ السلام بن ایشا بن عویذ بن باعر بن سلمون بن نحشون بن عمیناذب بن ارم بن حصرون بن فارص بن یہوذا بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم پھر سلیمان بن داود h پھر زکریا علیہ السلام بن بشوی، ان کا نسب یہوذا بن یعقوب سے ملتا ہے۔ پھریحییٰ بن زکریاh پھر عیسی علیہ السلام بن مریم بنت عمران بن ماثان، ان کا نسب یہوذا بن یعقوب سے ملتا ہے۔ پھر نبی کریم محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نسب اسماعیل علیہ السلام سے ملتاہے۔
10320
Sahih
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
۔ (۱۰۳۲۱)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فِیْ حَدِیْثِ الْاِسْرَائِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثُمَّ عُرِجَ بِنَا اِلَی السَّمَائِ الرَّابِعَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ، فَقِیْلَ: مَنْ اَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقِیْلَ: وَقَدْ اُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ اُرْسِلَ اِلَیْہِ، فَفُتِحَ الْبَابُ فَاِذَا اَنَا بِاِدْرِیْسَ فَرَحَّبَ بِیْ وَدَعَا لِیْ بِخَیْرٍ، ثُمَّ قَالَ: یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلّ:َ {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا}۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۳۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر ہم کو چوتھے آسمان کی طرف چڑھایا گیا، جب جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، تو ان سے پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: میں جبریل ہوں، پھر پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، پس کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ان کو بلایا گیا ہے، سو دروازہ کھول دیا گیا، پس اچانک میں نے ادریس علیہ السلام کو دیکھا، انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے حق میں خیر و بھلائی کی دعا کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} اور ہم نے اس کو بلند و بالا مقام تک بلند کر دیا۔
Takhreej
(۱۰۳۲۱) تخریج: أخرجہ مطولا مسلم: ۱۶۲ (انظر: ۱۲۵۰۵)
Explanation
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر ہم کو چوتھے آسمان کی طرف چڑھایا گیا، جب جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، تو ان سے پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: میں جبریل ہوں، پھر پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، پس کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ان کو بلایا گیا ہے، سو دروازہ کھول دیا گیا، پس اچانک میں نے ادریس علیہ السلام کو دیکھا، انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے حق میں خیر و بھلائی کی دعا کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} اور ہم نے اس کو بلند و بالا مقام تک بلند کر دیا۔
10321
Sahih
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
۔ (۱۰۳۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُدْعٰی نُوْحٌ علیہ السلام یَوْمَ الْقَیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہُ: ھَلْ بَلَّغْتَ؟ فَیَقُوْلُ : نَعَمْ، فَیُدْعٰی قَوْمُہُ، فَیُقَالُ لَھُمْ: ھَلْ بَلَّغَکُمْ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: مَا اَتَانَا مِنْ نَذِیْرٍ اَوْ مَا اَتَانَا مِنْ اَحَدٍ، قَالَ: فَیُقَالُ لِنُوْحٍ: مَنْ یَشْھَدُ َلکَ فَیَقُوْلُ : مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاُمَّتُہُ قَالَ: فَذٰلِکَ قَوْلَہُ تَعَالٰی: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَسَطًا} قَالَ: اَلْوَسَطُ اَلْعَدْلُ قَالَ: فَیُدْعَوْنَ فَیَشْھَدُوْنَ لَہُ بِالْبَلَاغِ قَالَ: ثُمَّ اَشْھَدُ عَلَیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۰۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نوح علیہ السلام کو قیامت والے دن بلا کر ان سے کہا جائے گا: کیا تم نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، پھر ان کی قوم کو بلا کر ان سے پوچھا جائے گا: کیا نوح علیہ السلام نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا،یا ہمارے پاس کوئی بھی ایسا آدمی نہیں آیا، پس نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا: کون تمہارے حق میں گواہی دے گا؟ وہ کہیں گے: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مفہوم ہے: اور اسی طرح ہم نے تم کو امت ِ وسط بنایا ہے۔ وسط کا معنی انصاف کرنے والے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کو بلایا جائے گا، سو وہ نوح علیہ السلام کے حق میں پیغام پہنچا دینے کی شہادت دیں گے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر میں تم پر گواہی دوں گا۔
Takhreej
(۱۰۳۲۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۳۹، ۴۴۸۷ (انظر: ۱۱۲۸۳)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَاء َ عَلَی النَّاسِ وَیَکُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا } … اور اسی طرح ہم نے تمھیں سب سے بہتر امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر شہادت دینے والا بنے (سورۂ بقرہ: ۱۴۳) یعنی تم خود بھی پسندیدہ امت ہو تم اور امتوں پر قیامت کے دن گواہی دو گے، کیونکہ وہ سب تمہاری فضیلت مانتے ہیں،یہاں پر وَسَطًا کا معنی بہتر اور عمدہ ہے، جیسے کہا جاتا ہے کہ قریش نسب کے اعتبار سے وسط ِ عرب تھے اورنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی قوم میں وسط تھے یعنی اشرف نسب والے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات پر یقین کر کے یہ شہادت دے گی کہ واقعی نوح علیہ السلام نے اپنی قوم تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا، ایمان و ایقان ہو تو ایسا۔
10322
Sahih
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
۔ (۱۰۳۲۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفَوْعًا: ((اِنَّ اَھْلَ الْمَوْقِفِ یَاْتُوْنَ نُوْحًا فَیَقُوْلُوْنَ: یَانُوْحُ! اَنْتَ اَوَّلُ الرُّسُلِ اِلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ وَسَمَّاکَ اللّٰہُ عَبْدًا شَکُوْرًا، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّکَ، اَلَا تَرٰی مَا نَحْنُ فِیْہِ، اِلَا تَرٰی مَا قَدْ بَلَغَنَا؟ فَیَقُوْلُ نُوْحٌ: اِنَّ رَبِّیْ قَدْ غَضِبَ الْیَوْمَ غَضْبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَہُ مِثْلَہُ، وَلَنْ یَغْضَبَ بَعْدَہُ مِثْلَہُ، وَاِنَّہُ کَانَتْ لِیْ دَعْوَۃٌ عَلٰی قَوْمِیْ، نَفْسِیْ نَفْسِیْ نَفْسِیْ، اذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ۔)) (مسند احمد: ۹۶۲۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میدان حشر والے لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آ کر کہیں گے: اے نوح! آپ اہل زمین کی طرف پہلے رسول تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت شکر گزار بندہ کہا ہے، پس اپنے ربّ کے ہاں ہمارے لیے سفارش تو کر دو، کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس حالت میں ہیں، کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا ہے کہ ہم کس تکلیف میں مبتلا ہیں؟ نوح علیہ السلام کہیں گے: بیشک میرا ربّ آج اتنے غصے میں ہے کہ نہ اس سے پہلے اتنے غصے میں آیا تھا اور نہ بعد میں اتنا غصے میں آئے گا، مجھے ایک دعا کا حق تھا، لیکن وہ میں نے اپنی قوم پر پورا کر لیا، ہائے میری جان، میری جان، میری جان، جاؤ تم چلے جاؤ کسی اور کے پاس۔
Takhreej
(۱۰۳۲۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۴(انظر: ۹۶۲۳)
Explanation
فوائد:… یہ ایک طویل حدیث ہے، جس کے مطابق اہل موقف مختلف رسولوں کے پاس جائیں گے، تاکہ وہ حساب وکتاب شروع ہونے کی سفارش کریں، بالآخر محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ تعالیٰ سے یہ سفارش کریں گے۔
10323
Sahih
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
۔ (۱۰۳۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فِیْ حَدِیْثِ الشّفَاعَۃِ اَیْضًا، قَالَ: فَیَقُوْلُ (یَعْنِیْ نُوْحًا): اِنِّیْ لَسْتُ ھُنَاکُمْ اِنِّیْ دَعَوْتُ بِدَعْوَۃٍ اَغْرَقَتْ اَھْلَ الْاَرْضِ وَاِنَّہُ لَا یُھِمُّنِی الْیَوْمَ اِلَّا نَفْسِیْ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما شفاعت والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس نوح علیہ السلام کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک دعا کر لی، جس کی وجہ سے اہل زمین غرق ہو گئے تھے، آج تو میرے نفس نے مجھے بے چین کر رکھا ہے۔
Takhreej
(۱۰۳۲۴) تخریج: حسن لغیرہ، وھو حدیث طویل، أخرجہ الطیالسی: ۲۷۱۱، وابن ابی شیبۃ: ۱۴/ ۱۳۵، وروی نحو ھذا الحدیث الترمذی: ۳۱۴۸ (انظر: ۲۵۴۶)
10324
Sahih
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
۔ (۱۰۳۲۵)۔ حَدَّثَنَا رُوْحٌ مِنْ کِتَابِہٖ،ثَنَاسَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ عَرُوْبَۃَ، عَنْْ قَتَادَۃَ، قَالَ: حَدَّثَ الْحَسَنُ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَامُ اَبُوْ الْعَرَبِ، وَ یَافِثُ اَبُوْ الرُّوْمِ، وَحَامُ اَبُوْ الْحَبَشِ۔)) وَقَالَ رَوْحٌ بِبَغْدَادَ مِنْ حِفْظِہِ: وَلَدُ نُوْحٍ ثَلَاثَۃٌ: سَامُ وَ حَامُ وَ یَافِثُ۔(مسند احمد: ۲۰۳۷۵)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عربوں کے باپ سام، رومیوں کے باپ یافث اور حبشیوں کے باپ حام ہیں۔ روح راوی نے بغداد میںاپنے حفظ سے بیان کرتے ہوئے کہا: نوح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے تین بیٹے تھے: سام، حام اور یافث۔
Takhreej
(۱۰۳۲۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، أخرجہ الترمذی: ۳۲۳۱، ۳۹۳۱ (انظر: ۲۰۱۱۴)
10325
Zaeef
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
۔ (۱۰۳۲۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَّی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَعْرَابِیٌ عَلَیْہِ جُبَّۃٌ مِنْ طَیَالِسَۃٍ مَکْفُوْفَۃٌ بِدِیْبَاجٍ اَوْ مَزْرُوْرَۃٌ بِدِیْبَاجٍ، فَقَالَ: اِنَّ صَاحِبَکُمْ ھٰذَا یُرِیْدُ اَنْ یَرْفَعَ کُلَّ رَاعٍ اِبْنِ رَاعٍ، وَ یَضَعَ کُلَّ فَارِسِ ابْنِ فَارِسٍ! فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُغْضَبًا فاَخَذَ بِمَجَامِعِ جُبَّتِہِ فَاجْتَذَبَہُ وَ قَالَ: ((لَا اَرٰی عَلَیْکَ ثِیَابَ مَنْ لَا یَعْقِلُ۔)) ثُمَّ رَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَلَسَ فَقَالَ: ((اِنَّ نُوْحًا عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ دَعَا اِبْنَیْہِ فَقَالَ: اِنِّیْ قَاصِرٌ عَلَیْکُمَا الْوَصِیَّۃَ، آمُرُکُمَا بِاِثْنَیْنِ وَاَنْھَاکُمَا عَنِ اثْنَتَیْنِ، اَنْھَاکُمَا عَنِ الشِّرْکِ وَالْکِبْرِ، وَآمُرُکُمَا بِلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، فَاِنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ مَا فِیْھِمَا لَوْ وُضِعَتْ فِیْ کِفَّۃِ الْخَیْرَاتِ، وَ وُضِعَتْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فِی الْکِفَّۃِ الْاُخْرٰی کَانَتْ اَرْجَحَ، وَلَوْ اَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا حَلْقَۃً فَوُضِعَتْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ عَلَیْھِمَا لَفَصَمَتْھُمَا اَوْ لَقَصَمَتْھُمَا، وَ آمُرُکُمَا بِسُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ فَاِنَّھَا صَلَاۃُ کُلِّ شَیْئٍ، وَ بِھَا یُرْزَقُ کُلُّ شَیْئٍ۔)) (مسند احمد: ۷۱۰۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، اس نے سبز شال کا جبہ پہنا ہوا تھا، اس کو ریشم کے ساتھ بند کیا گیا تھا، اس نے کہا : تمہارا یہ ساتھی چاہتا ہے کہ چرواہوں کو بلند کر دیا جائے اور گھڑسواروں کو پست کر دیا جائے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے کی حالت میں کھڑے ہوئے، اس کو سینے والے مقام سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور فرمایا: مجھ تجھ پر بیوقوفوں کا لباس نہ دیکھنے پاؤں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: بیشک جب نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انھوں نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا: میں تم کو وصیت کرنے لگا ہوں، میں تم کو دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے ہی منع کرتا ہوں، میں تم کو شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، اگر آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کو نیکیوں والے پلڑے میں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو دوسرا پلڑا بھاری ہو جائے گا، اور اگر آسمان اور زمین ایک کڑا ہوتے اور پھر ان پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو رکھ دیا جاتا تو یہ کلمہ ان کو توڑ دیتا اور میں تم کو سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ کہنے کا حکم دیتا ہوں، کیونکہیہ ہر چیز کی نماز ہے اور اسی کی وجہ سے ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۳۲۶) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ البزار: ۳۰۶۹، والبخاری فی الادب المفرد : ۵۴۸(انظر: ۷۱۰۱)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لانے والوں کی اکثریت فقیر اور کمزور لوگوں کی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق معاشرے کے اشراف طبقہ سے تھا، اس بدّو نے اسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات کی۔
10326
Sahih
ہود علیہ السلام کا بیان
۔ (۱۰۳۲۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، لَمَّا مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِوَادِیْ عُسْفَانَ حِیْنَ حَجَّ قَالَ: ((یَا اَبَابَکْرٍ اَیُّ وَادٍ ھٰذَا؟)) قَالَ: وَادِیْ عُسْفَانُ قَالَ: ((لَقَدْ مَرَّ بِہٖھُوْدٌ،وَصَالِحٌعَلٰی بَکَرَاتٍ حُمْرٍ خُطُمُھَا اللِّیْفُ،اُزُرُھُمُ الْعَبَائُ، وَ اَرْدِیَتُھُمُ النِّمَارُ، یُلَبُّوْنَیُحَجُّوْنَ الْبَیْتَ الْعَتِیْقَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفرِ حج میں وادیٔ عسفان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے ابو بکر! یہ وادی کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: وادیٔ عسفان ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہود علیہ السلام اور صالح علیہ السلام اس وادی کے پاس سے گزرے، وہ سرخ اونٹوں پر سوار تھے، ان کی لگامیں کھجور کے پتوں کی تھیں، ان کے ازار اوڑھنے والی چادر کے تھے، ان کی چادریں دھاری دار تھیں اور وہ اس پرانے گھر کا حج کرنے کے لیے تلبیہ پکارتے ہوئے جا رہے تھے۔
Takhreej
(۱۰۳۲۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف زمعۃ، وسلمۃُ بن وھرام مختلف فیہ(انظر: ۲۰۶۷)
10327
Zaeef
ہود علیہ السلام کا بیان
۔ (۱۰۳۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ یَزِیْدَ الْبَکْرِیِّ قَالَ: خَرَجْتُ اَشْکُوْ الْعَلَائَ بْنَ الْحَضْرَمِیِّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَرَرْتُ بِالرَّبَذَۃِ فَاِذَا عَجُوْزٌ مِنْ بَنِیْ تَمِیْمٍ مُنْقَطِعٌ بِھَا فَقَالَتْ لِیْ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ! اِنَّ لِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجَۃٌ فَھَلْ اَنْتَ مُبَلِّغِیْ اِلَیْہِ؟ قَالَ: فَحَمَلْتُھَا فَاَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَاِذَا الْمَسْجِدُ غَاصٌّ بِاَھْلِہِ وَ اِذَا رَأْیَۃٌ سَوْدَائُ تَخْفِقُ وَ بِلَالٌ مُتَقَلِّدُ السَّیْفِ بَینیَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقُلْتُ: مَا شَاْنُ النَّاسِ؟ قَالُوْا: یُرِیْدُ اَنْ یَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعََاصِ وَجْھًا قَالَ: فَجَلَسْتُ۔ قَالَ: فَدَخَلَ مَنْزِلَہُ اَوْ قَالَ: رَحْلَہُ فَاسْتَاْذَنْتُ عَلَیْہِ فَاَذِنَ لِیْ فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ، فَقَالَ: ((ھَلْ کَانَ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَ بَنِیْ تَمِیْمٍ شَیْئٌ؟)) قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَ کَانَتْ لَنَا الدَّبَرَۃُ عَلَیْھِمْ وَ مَرَرْتُ بِعَجُوْزَۃٍ مِنْ بَنِیْ تَمِیْمٍ مُنْقَطِعٍ بِھَا فَسَاَلَتْنِیْ اَنْ اَحْمِلَھَا اِلَیْکَ وَ ھَا ھِیَ بِالْبَابِ، فَاَذِنَ لَھَا فَدَخَلَتْ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! اِنْ رَاَیْتَ اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ بَنِیْ تَمِیْمٍ حَاجِزًا فَاجْعَلِ الدَّھْنَائَ، فَحَمِیَتِ الْعَجُوْزُ وَ اسْتَوْفَزَتْ قَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاِلٰی اَیْنَ تَضْطَرُّ مُضَرَکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: اِنّمَا مَثَلِیْ مَا قَالَ الْاَوَّلُ: مِعْزَائُ حَمَلَتْ حَتْفَھَا، حَمَلْتُ ھٰذِہِ وَ لَا اَشْعُرُ اَنَّھَا کَانَتْ لِیْ خَصْمًا، اَعُوْذُ بِاللّٰہِ وَ رَسُولِہِ اَنْ اَکُوْنَ کَوَافِدِ عَادٍ، قَالَ: ((ھِیہْ وَ مَا وَافِدُ عَادٍ؟)) (وَ ھُوَ اَعْلَمُ بِالْحَدِیْثِ مِنْہُ وَ لٰکِنْ یَسْتَطْعِمُہُ) قُلْتُ: اِنَّ عَادًا قَحَطُوْا فَبَعَثُوْا وَافِدًا لَھُمْ یُقَالُ لَہُ قَیْلٌ فَمَرَّ بِمُعَاوِیَۃَ بْنِ بَکْرٍ فَاَقَامَ عِنْدَہُ شَھْرًا یَسْقِیْہِ الْخَمْرَ وَ تُغَنِّیْہِ جَارِیَتَانِیُقَالُ لَھُمَا: الْجَرَادَتَانِ، فَلَمَّا مَضَی الشَّھْرُ خَرَجَ اِلَی جِبَالِ تِھَامَۃَ فَنَادٰی: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ اَنِّیْ لَمْ اَجِیئْ اِلَی مَرِیْضٍ فَاُدَاوِیَہُ، وَ لَا اِلٰی اَسِیْرٍ فَاُفَادِیَہُ، اَللّٰھُمَّ اسْقِ عَادًا مَا کُنْتَ تَسْقِیْہِ، فَمَرَّتْ بِہٖسَحَابَاتٌسُوْدٌفَنُوْدِیَ مِنْھَا اخْتَرْ، فَاَوْمَأَ اِلٰی سَحَابَۃٍ مِنْھَا سَوْدَائَ فَنُوْدِیَ مِنْھَا خُذْھَا رَمَادًا رِمْدَدًا لَا تُبْقِ مِنْ عَادٍ اَحَدًا، قَالَ: فَمَا بَلَغَنِیْ اَنَّہُ بُعِثَ عَلَیْھِمْ مِنَ الرِّیْحِ اِلَّا قَدْرُ مَا یَجْرِیْ فِیْ خَاتِمِیْ ھٰذَا حَتّٰی ھَلَکُوْا، قَالَ اَبُوْ وَائِلٍ: وَصَدَقَ قَالَ: فَکَانَتِ الْمَرْاَۃُ وَ الرَّجُلُ اِذَا بَعَثُوْا وَافِدًا لَھُمْ، قَالُوْا: لَا تَکُنْ کَوَافِدِ عَادٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۰۵۰)
۔ حارث بن یزید بکری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں علاء بن حضرمی کی شکایت کرنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف روانہ ہوا، جب میں ربذہ مقام سے گزرا تو دیکھا کہ وہاں بنوتمیم کی ایک بڑھیا خاتون تھا، اس کے لیے سفر کے اسباب منقطع ہو چکے تھے، اس نے مجھ سے کہا: اے اللہ کے بندے! میرا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی تقاضا ہے، کیا تو مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچا سکتا ہے؟ پس میں نے اس کو اپنے ساتھ اٹھا لیا اور مدینہ منورہ پہنچ گئے، وہاں دیکھا کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی تھی، سیاہ رنگ کا جھنڈا لہرا رہا تھا اور سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تلوار لٹکا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑے تھے، میں نے کہا: لوگوں کا کیا مسئلہ ہے ؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کسی غزوے میں بھیجنا چاہتے ہیں، پس میں بیٹھ گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر میں داخل ہوگئے، پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اجازت دی، پس میں داخل ہوا اور سلام کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کوئی مسئلہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر میں (حارث) نے کہا: ہمارا ان پر غلبہ تھا اور میں بنوتمیم کی ایک بڑھیاں خاتون کے پاس سے گزرا، اس کے سفر کے اسباب منقطع ہو چکے تھے، اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس کو آپ تک پہنچاؤں، اب وہ درروازے پر موجود ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اجازت دی اور وہ اندر آ گئی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ ہمارے اور بنو تمیم کے درمیان کوئی حد مقرر کرنا چاہتے ہیں تو دہناء مقام کا تعین کر دیں۔ یہ بات سن کر اس بڑھیا کو غیرت آ گئی تو اس نے اتنی باتیں کیں کہ اپنا پورا حق وصول کر لیا، پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنے مضر کو کہاں تک مجبور کریں گے؟ اس کی باتیں سن کر میں نے کہا: میری مثال تو وہ ہے، جس کے بارے میں پہلے کسی نے کہا: معزاء نے اپنی موت کو اٹھا رکھا ہے، میں اس بڑھیا کو اٹھا کر لایا، جبکہ مجھے شعور بھی نہیں تھا کہ مجھ سے جھگڑنے لگے گی، میں اس بات سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں عادیوں کے قاصد کی طرح ہو جاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، ذرا بیان کرو، عادیوں کا قاصد کون تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود اس بات کو زیادہ جانتے تھے، لیکن اب اس سے سننا چاہتے تھے، میں نے کہا: عاد قوم قحط میں مبتلا ہو گئی، انھوں نے قَیل نامی قاصد کو بھیجا، وہ معاویہ بن بکر کے پاس سے گزرا اور ایک ماہ تک اس کے ہاں ٹھہرا، وہ اس کو شراب پلاتا اور اس کے لیے دو لونڈیاں گانے گاتی تھیں، ان لونڈیوں کو جرادتان کہتے تھے، جب ایک ماہ گزر گیا تو وہ آدمی تہامہ کے پہاڑوں کی طرف نکلا اور اس نے یہ آواز دی: اے اللہ! بیشک تو جانتا ہے کہ میں نہ کسی مریض کا دوا دارو کرنے کے لیے آیا ہوں اور نہ کسی قیدی کو چھڑانے آیا ہوں، اے اللہ! تو عادیوں پر وہی بارش نازل فرما، جو تو پہلے نازل کرتا تھا، پس اس کے پاس سے کالے کالے بادل گزرے اور اس سے کہا: ان میں سے ایک بادل کو منتخب کر، اس نے ایک سیاہ رنگ کی بدلی کی طرف اشارہ کیا، پس اس کو آواز دی گئی: اب لے اس کو، یہ تو آگ کے ساتھ ہونے والی ہلاکت ہے، یہ قومِ عاد میں سے کسی کو نہیں چھوڑے گی، پھر انھوں نے کہا: مجھے یہ بات موصول ہوئی ہے کہ ان پر اتنی ہوا بھیجی گئی، جو میری اس انگوٹھی سے گزر سکتی تھی، لیکن اس سے بھی وہ ہلاک ہو گئے۔ ابو وائل کہتے ہیں: حارث نے سچ کہا، اسی وجہ سے جب کوئی عورت یا مرد اپنا قاصد بھیجتے تھے تو وہ کہتے تھے: قومِ عاد کے قاصد کی طرح نہ ہو جانا۔
Takhreej
(۱۰۳۲۸) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ مطولا و مختصرا جدا الترمذی: ۳۲۷۳، ۳۲۷۴ (انظر: ۱۵۹۵۴)
Explanation
فوائد:… مِعْزَائُ حَمَلَتْ حَتْفَھَا (معزاء نے اپنی موت کو خود اٹھا رکھا ہے) یہ ایک ضرب المثل ہے، اس کا مصداق وہ شخص ہے جو ایسے امر کا خود سبب بنتاہے، جس میں اس کی اپنی ہلاکت ہوتی ہے، جبکہ اسے شعور تک نہیں ہوتا۔ درج ذیل آیات میں قوم عاد کی اسی ہلاکت کا بیان ہے: {وَاَمَّا عَاد’‘ فَاُھْلِکُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ۔ سَخَّرَھَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ حُسُوْمًا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْھَا صَرْعٰی کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ۔ فَھَلْ تَرٰی لَھُمْ مِّنْ بَاقِیَۃٍ۔} … اور جو عاد تھے وہ سخت ٹھنڈی، تند آندھی کے ساتھ ہلاک کر دیے گئے، جو قابو سے باہر ہونے والی تھی۔ اس نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھا۔ سو تو ان لوگوں کو اس میں اس طرح (زمین پر) گرے ہوئے دیکھے گا جیسے وہ کھجوروں کے گرے ہوئے تنے ہوں۔تو کیا تو ان کا کوئی بھی باقی رہنے والا دیکھتا ہے؟ (سورۂ حاقہ: ۶ تا ۸)
10328
Sahih
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
۔ (۱۰۳۲۹)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَمَّا مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْحِجْرِ قَالَ: ((لَا تَسْاَلُوْا الْآیَاتِ وَ قَدْ سَاَلَھَا قَوْمُ صَالِحٍ فَکَانَتْ تَرِدُ مِنْ ھٰذَا الْفَجِّ، وَ تَصْدُرُ مِنْ ھٰذَا الْفَجِّ، فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّھِمْ فَعَقَرُوْھَا، فَکَانَتْ تَشْرَبُ مَائَ ھُمْ یَوْمًا وَ یَشْرَبُوْنَ لَبَنَھَا یَوْمًا فَعَقَرُوْھَا فَاَخَذَتْھُمْ صَیْحَۃٌ، اَھْمَدَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْ تَحْتِ اَدِیْمِ السَّمَائِ مِنْھُمْ اِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا کَانَ فِیْ حَرَمِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) قِیْلَ: مَنْ ھُوَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَبُوْ رِغَالٍ فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ اَصَابَہُ مَا اَصَابَ قَوْمَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۰۷)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (غزوۂ تبوک کے سفر کے دوران قومِ ثمود کے شہر) حجر کے پاس سے گزرے تو فرمایا: معجزات کی طرح کی نشانیوں کا مطالبہ نہ کیا کرو، صالح علیہ السلام کی قوم نے ان کے بارے میں سوال کیا تھا، (پس اونٹنی کی صورت میں ان کا یہ مطالبہ پورا کیا گیا)، وہ ایک راستے سے آتی تھی اور دوسرے راستے سے نکل جاتی تھی، لیکن انھوں نے سرکشی کی اور اس کی کونچیں کاٹ دیں، وہ ایک دن میں ان کا پانی پی جاتی تھی اور وہ ایک دن میں ان کا دودھ پیتے تھے، لیکن انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، اس وجہ سے ایک چیخ ان پر چھا گئی اور اللہ تعالیٰ نے آسمانی کی نچلی سطح کے نیچے والے ان سب کو ہلاک کر دیا، صرف ایک آدمی بچا، وہ اللہ تعالیٰ کے حرم میں تھا۔ کسی نے کہا: وہ آدمی کون تھا؟ اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ابو رغال تھا، جب حرم سے نکلا تو وہ اسی مصیبت میں مبتلاہو گیا، جس میں اس کی قوم مبتلا ہوئی تھی۔
Takhreej
(۱۰۳۲۹) تخریج: حدیث قوی، أخرجہ البزار: ۱۸۴۴، والحاکم: ۲/ ۳۲۰ (انظر: ۱۴۱۶۰)
10329
Sahih
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
۔ (۱۰۳۳۰)۔ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ اَنَا وَ عَلِیٌّ رَفِیْقَیْنِ فِیْ غَزْوَۃِ ذَاتِ الْعَشِیْرَۃِ فَذَکَرَ قِصَّۃً، وَ ذَکَرَ اَنَّھُمَا نَامَا عَلَی التُّرَابِ، قَالَ: فَیَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعَلِیٍّ: ((یَا اَبَا تُرَابٍ!)) لِمَا یَرٰی عَلَیْہِ مِنَ التُّرَابِ، قَالَ: ((اَلَا اُحَدِّثُکُمَا بِاَشْقَی النَاسِ رَجُلَیْنِ ؟)) قَالَ: قُلْنَا: بَلیٰ،یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اُحَیْمِرُ ثَمُوْدَ الَّذِیْ عَقَرَ النَّاقَۃَ وَالَّذِیْیَضْرِبُکَیَا عَلَیُّ! عَلٰی ھٰذِہِ (یَعْنِیْ قَرْنَہُ) حَتّٰی تُبَلَّ مِنْہُ ھٰذِہِ (یَعْنِیْ لِحْیَتَـہُ)۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۱۱)
۔ سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غزوۂ ذت العشیرہ میں رفیق تھے، پھر انھوں نے ایک قصہ بیان کیا، اس میں یہ ذکر بھی تھا کہ وہ دونوں مٹی پر سو گئے، اس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اے ابو تراب کی کنیت سے پکارا، کیونکہ ان کے وجود پر مٹی نظر آ رہی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھارے لیے دو بدبخت ترین مردوں کی نشاندہی نہ کروں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:احیمر ثمودی، جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور وہ آدمی جو (اے علی!) تیرے سر پر مارے گا، حتی کہ تیری (داڑھی) خون سے بھیگ جائے گی۔
Takhreej
(۱۰۳۳۰) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الحاکم: ۳/ ۱۴۰ (انظر: ۱۸۳۲۱)
10330
Sahih
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
۔ (۱۰۳۳۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَمْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَطَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ النَّاقَۃَ وَ ذَکَرَ الَّذِیْ عَقَرَھَا فَقَالَ: {اِذِ انْبَعَثَ اَشْقَاھَا …} اِنْبَعَثَ رَجُلٌ عَارِمٌ عَزِیْزٌ مَنِیعٌ فِیْ رَھْطِہِ مِثْلُ ابْنِ زَمْعَۃَ۔)) ثُمَّ ذَکَرَ النَّسَائَ فَوَعَظَھُمْ فِیْھِنَّ، اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۶۳۲۴)
۔ سیدنا عبدا للہ بن زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطاب کیا اور اونٹنی کا اور اس کی کونچیں کاٹنے والے کا ذکر کیا اور فرمایا: جب اس قوم کا بدبخت شخص اٹھا، … ایک خبیث، شریر، سردار اور اپنی قوم کا مطاع کھڑا ہوا، جیسے ابن زمعہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوں کا ذکر کیا اور ان کے متعلق مردوں کو وعظ و نصیحت کی …۔
Takhreej
(۱۰۳۳۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۵۵(انظر: ۱۶۲۲۳)
Explanation
فوائد:… صالح علیہ السلام کو قوم ثمود کی طرف بھیجا گیا،یہ ایک نافرمان قوم تھی، انھوں نے اپنے پیغمبر سے مطالبہ کیا کہ وہ پتھر کی چٹان سے اس طرح ایک اونٹنی نکال کر دکھائے کہ وہ بھی دیکھ رہے ہوں۔ صالح نے ان سے عہد لیا کہ اس کے بعد بھی اگر ایمان نہ لائے تو وہ ہلاک کر دیے جائیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس معجزے کا اظہار کر دیا، لیکن باغیوں کا ایمان لانا تو درکنار، انھوں نے تو سرے سے اونٹنی کا قصہ ہی تمام کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی گرفت میں مبتلا ہو گئے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰہَا اِِذِ انْبَعَثَ اَشْقٰہَا فَقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَسُقْیٰہَا فَکَذَّبُوْہُ فَعَقَرُوْہَا فَدَمْدَمَ عَلَیْہِمْ رَبُّہُمْ بِذَنْبِہِمْ فَسَوّٰہَا ۔} (سورۂ شمس: ۱۲ تا ۱۴) … قوم ثمود نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلا دیا۔ جب ان کا بڑا بد بخت کھڑا ہوا۔ انہیں اللہ کے رسول نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کی (حفاظت کرو)۔ ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا سمجھ کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کے باعث ان پر ہلاکت ڈالی اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو (نیست و نابود کر کے) برابر کر دیا۔ اکثر مفسرین کے نزدیک اونٹنی کی کوچیں کاٹنے والے بدبخت کا نام قدار بن سالف تھا، وہ اس بغا وت کی وجہ سے رئیس الاشقیاء (سب سے بڑا بدبخت) بن گیا۔ چونکہ اس شرارت میں پوری قوم شریک تھی، اس لیے اس آیت میں اس جرم کو پوری قوم کی طرف منسوب کیا گیا، وگرنہ عملی طور پر ایک شخص نے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جنگ نہروان میں خوارج کے صرف نو آدمی بچ گئے تھے، یہ صدارت و امامت کی حیثیت رکھتے تھے، انھوں نے فارس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف بغاوتیں اور سازشیں کیں، لیکن ناکام رہے۔ بالآخر عبد الرحمن بن ملجم مراوی، برک بن عبد اللہ تمیمی اور عمرو بن بکر تمیمی مکہ مکرمہ میں جمع ہوئے اور تینوں اس رائے پر متفق ہو گئے کہ سیدناعلی، سیدنا امیر معاویہ اور سیدنا عمرو بن عاص کو قتل کر دیا جائے، انھوں نے اس ناپاک عزم کی تکمیل کے لیے۱۶ رمضان ۴۰؁ھجمعہکےدنفجرکی نماز کا تقرر کیا ۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کی ذمہ داری عبد الرحمن بن ملجم نے سنبھالی اور کوفہ کی طرف روانہ ہوا، وہاں پہنچ کر اپنے دوستوں سے ملاقاتیں کیں، اس کے ہم خیالوں نے وردان نامی شخص کو ابن ملجم کی مدد کرنے کے لیے مقرر کیا، شبیب بن شجرہ بھی ان کے ساتھ تھا۔ یہ تینوں پچھلی رات مسجد کوفہ میں پہنچ گئے اور دروازے کے قریب چھپ کر بیٹھ گئے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حسب ِ عادت لوگوں کو نماز کے لیے آوازیں دیتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے۔ سب سے پہلے وردان نے آگے بڑھ کر تلوار کا وار کیا، مگر اس کی تلوار دروازے کی چوکھٹ یا دیوار پر پڑی اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آگے بڑھ گئے۔ ابن ملجم فوراً لپکا اور آپ کی پیشانی پر تلوار کا ہاتھ مارا، جو بہت کاری پڑا۔ اس زخم کے صدمہ سے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ۱۷ رمضان ۴۰ھ کوشہید ہو گئے۔ بعد میں سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ابن ملجم کو قصاصاً ایک ہی وار سے قتل کر دیا۔
10331
Sahih
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
۔ (۱۰۳۳۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَمَّا مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِوَادِیْ عُسْفَانَ حِیْنَ حَجَّ قَالَ: ((یَا اَبَا بَکْرٍ! اَیُّ وَادٍ ھٰذَا؟)) قَالَ: وَادِیْ عُسْفَانَ، قَالَ: ((لَقَدْ مَرَّ بِہٖھُوْدٌوَصَالِحٌعَلٰی بَکَرَاتٍ حُمْرٍ خُطُمُھَا اللِّیْفُ، اُزُرُھُمُ الْعَبَائُ، وَاَرْدِیَتُھُمُ النِّمَارُ، یُلَبُّوْنَیَحُجُّوْنَ الْبَیْتَ الْعَتِیْقَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفرِ حج میں وادیٔ عسفان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے ابو بکر! یہ وادی کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: وادیٔ عسفان ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہود علیہ السلام اور صالح علیہ السلام اس وادی کے پاس سے گزرے، وہ سرخ اونٹوں پر سوار تھے، ان کی لگامیں کھجور کے پتوں کی تھیں،ان کے ازار اوڑھنے والی چادر کے تھے، ان کی چادریں دھاری دار تھیں اور وہ اس پرانے گھر کا حج کرنے کے لیے تلبیہ پکارتے ہوئے جا رہے تھے۔
Takhreej
(۱۰۳۳۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف زمعۃ، وسلمۃُ بن وھرام مختلف فیہ(انظر: ۲۰۶۷)
10332
Zaeef
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
۔ (۱۰۳۳۳)۔ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّاسِ عَامَ تَبُوْکَ نَزَلَ بِھِمُ الْحِجْرَ عِنْدَ بُیُوْتِ ثَمُوْدَ، فَاسْتَقَی النَّاسُ مِنَ الْآبَارِ الَّتِیْ کَانَ یَشْرَبُ مِنْھَا ثَمْوُدُ، فَعَجَنُوْا مِنْھَا وَنَصَبُوْا الْقُدُوْرَ بِاللَّحْمِ، فَاَمَرَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَھْرَاقُوْا الْقُدُوْرَ، وَعَلَقُوْا الْعَجِیْنَ الْاِبِلَ، ثُمَّ ارْتَحَلَ بھِمْ حَتّٰی نَزَلَ بِھِمْ عَلَی الْبئْرِ الَّتِیْ کَانَتْ تَشْرَبُ مِنْھَا النَّاقَۃُ، وَنَھَاھُمْ اَنْ یَدْخُلُوْا عَلَی الْقَوْمِ الَّذِیْنَ عُذِّبُوْا، قَالَ: ((اِنِّیْ اَخْشٰی اَنْ یُصِیْبَکُمْ مِثْلُ مَااَصَابَھُمْ فَـلَا تَدْخُلُوْا عَلَیْھِمْ۔)) (مسند احمد: ۵۹۸۴)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تبوک والے سال حجرمقام پر صحابہ سمیت اترے، یہ مقام ثمود کے گھروں کے پاس تھا، لوگوں نے ان کنووں سے پانی لیا، جن سے ثمودی لوگ پانی پیتے تھے، پس انھوں نے اس پانی سے آٹا گوندھا اور ہنڈیوں میں گوشت پکانا شروع کر دیا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حکم دیا، پس انھوں نے ہنڈیاں انڈیل دیں اور آٹا اونٹوں کو کھلا دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں سے کوچ کیا،یہاں تک کہ اس کنویں کے پاس پڑاؤ ڈالا، جس سے اونٹنی پانی پیتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو عذاب دیئے جانے والی قوم کے علاقے میں داخل ہونے سے منع کیا اور فرمایا: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو اس عذاب میںمبتلا کر دیا جائے، جس میں ان لوگوں کو مبتلا کیا گیا تھا، پس ان پر داخل نہ ہوا کرو۔
Takhreej
(۱۰۳۳۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۷۹، ومسلم: ۹۸۱ (انظر: ۵۹۸۴)
10333
Sahih
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
۔ (۱۰۳۳۴)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ: ((لَا تَدْخُلُوْا اَمَاکِنَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اِلَّا اَنْ تَکُوْنُوْا بَاکِیْنَ، اَنْ یُصِیْبَکُمْ مَا اَصَابَکُمْ۔)) وَ تَقَنَّعَ بِرِدَائِہِ وَ ھُوَ عَلَی الرَّحْلِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) ((فَاِنْ لَمْ تَکُوْنُوْا بَاکِیْنَ فَـلَا تَدْخُلُوْا عَلَیْھِمْ، اَنْ یُصِیْبَکُمْ مِثْلُ مَا اَصَابَھُمْ۔)) (مسند احمد: ۵۳۴۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب حجر مقام سے گزرے تو فرمایا: ظلم کرنے والے لوگوں کے علاقے میں داخل نہ ہو، مگر اس حالت میں کہ تم رو رہے ہو، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو بھی اس عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی چادر اوڑھ لی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار تھے۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم رونے کی حالت میں نہ ہو تو ان پر داخل نہ ہوا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اسی عذاب میں مبتلا ہو جاؤ۔
Takhreej
(۱۰۳۳۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۸۰، ومسلم: ۲۹۸۰ (انظر: ۵۳۴۲)
Explanation
فوائد:… جو سابقہ قوم اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوئی، اس کے مقام کے بارے میں یہ احکام ہیں۔
10334
Sahih
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
۔ (۱۰۳۳۵)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ کَبْشَۃَ الْاَنْمَارِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: لَمَّا کَانَ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ تَسَارَعَ النَّاسُ اِلٰی اَھْلِ الْحِجْرِ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْھِمْ فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَادٰی فِیْ النَّاسِ: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، قَالَ: فَاَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ھُوَ مُمْسِکٌ بَعِیْرَہُ وَ ھُوَ یَقُوْلُ : ((مَا تَدْخُلُوْنَ عَلٰی قَوْمٍ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ۔)) فَنَادَاہُ رَجُلٌ مِنْھُمْ: نَعْجِبُ مِنْھُمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِِ! قَالَ: ((اَفَـلَا اُنْذِرُکُمْ بِاَعْجَبَ مِنْ ذٰلِکَ؟ رَجُلٌ مِنْ اَنْفُسِکُمْ یُنَبِّئُکُمْ بِمَا کَانَ قَبْلَکُمْ وَ مَا کَانَ ھُوَ کَائِنٌ بَعْدَکُمْ، فَاسْتَقِیْمُوْا وَسَدِّدُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَا یَعْبَاُ بِعَذَابِکُمْ شَیْئًا، وَ سَیَاْتِیْ قَوْمٌ لَا یَدْفَعُوْنَ عَنْ اَنْفُسِھِمْ بِشَیْئٍ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۹۲)
۔ سیدنا ابو کبشہ انماری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ تبوک کے سفر کے دوران لوگوں نے (ثمود کی منازل) حِجر کی طرف جلدی کی اور وہ ان میں داخل ہونے لگ گئے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں میں یہ اعلان کیا: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، وہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے اونٹ کو روکا ہوا تھا اور فرما رہے تھے: تم ایسی قوم پر کیوں داخل ہوتے ہو، جس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا ہے؟ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ان سے تعجب ہوتا ہے، اس لیے ان کے پاس جاتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تم کو اس سے زیادہ تعجب والے معاملہ سے نہیں ڈرایا؟ تم میں ہی ایک آدمی ہے، وہ تم کو ان امور کی بھی خبر دیتا ہے، جو تم سے پہلے گزر گئے ہیں اور ان امور کی بھی، جو تم سے بعد میں ہونے والے ہیں، پس تم سیدھے ہو جاؤ اور راہِ صواب پر چلتے رہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے عذاب کی پرواہ نہیں کرے گے اور عنقریب ایسے لوگ آئیں گے، جو کسی چیز کو اپنے نفسوں سے دفع نہیں کریں گے۔
Takhreej
(۱۰۳۳۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن ابی کبشۃ لین الحدیث اذا انفرد، ولم یُتابع علی ھذا الحدیث، واسماعیل بن اوسط مختلف فیہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۴/ ۵۴۶،و الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/۸۵۲ (انظر: ۱۸۰۲۹)
10335
Zaeef
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۳۳۶)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَاخَیْرَ الْبَرِیِّۃِِ! فَقَالَ: ((ذَاکَ اِبْرَاھِیْمُ اَبِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۳۹)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے مخلوق میں سے بہترین؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تو میرے باپ ابراہیم تھے۔
Takhreej
(۱۰۳۳۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۶۹(انظر: ۱۲۹۰۸)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود افضل البشر ہیں، اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں، میدانِ حشر میں آپ ہی لوگوں کے سردار ہوں گے اور آدم علیہ السلام سمیت تمام لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔ اس حدیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محض عاجزی و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے ابراہیم علیہ السلام کو خَیْرُ الْبَرِیَّۃ کہا ہے۔
10336
Sahih

Chapters

30
01
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان (انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
6 Hadith
02
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
2 Hadith
03
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
6 Hadith
04
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
3 Hadith
05
ہود علیہ السلام کا بیان
3 Hadith
06
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
6 Hadith
07
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
4 Hadith
08
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
09
ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان
2 Hadith
10
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
8 Hadith
11
ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ مبارک، اسحاق کی پیدائش، سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی اور پھر ابراہیم علیہ السلام کی وفات کا بیان
3 Hadith
12
اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان
3 Hadith
13
اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
14
اللہ کے نبی اسحاق علیہ السلام اور پھر یعقوب علیہ السلام کے ذکر کا بیان
4 Hadith
15
یوسف علیہ السلام کا ذکر
6 Hadith
16
اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام کا ذکر
2 Hadith
17
اللہ کے نبییونس علیہ السلام کا ذکر
4 Hadith
18
مچھلی والے یعنییونس علیہ السلام کی دعا اور ان کے حج کا ذکر
2 Hadith
19
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
20
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
4 Hadith
21
موسی علیہ السلام کا پتھر کے ساتھ واقعہ
3 Hadith
22
فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت اور جبریل علیہ السلام کا اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا بیان
2 Hadith
23
موسی علیہ السلام کا بنی اسرئیل کے ساتھ قصہ جب انھوں نے کہا: اے موسی ہمارا بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں
1 Hadith
24
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
1 Hadith
25
بنو اسرائیل کی بزدلی اور جبارقوم کے ساتھ لڑنے سے ان کے خوف کا بیان
1 Hadith
26
موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
2 Hadith
27
قارون کا دھنسنا اور موسی علیہ السلام کا اس کے ساتھ قصہ
2 Hadith
28
قارون، فرعون اور ہامان کی مذمت کا بیان
1 Hadith
29
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
3 Hadith
30
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.