TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان - انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان - Book 168 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 168 of Musnad Ahmad, with 30 chapters and 105 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

105 Hadith · 30 Chapters
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
۔ (۱۰۳۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خُفِّفَ عَلٰی دَاوُدَ علیہ السلام القَّرَائَۃُ، وَ کَانَ یَاْمُرُ بِدَابَّتِہِ فَتُسْرَجُ، وَ کَانَ یَقْرَاُ الْقُرْآنَ قَبْلَ اَنْ تُسْرَجَ دَابَّتُہُ، وَ کَانَ لَا یَاْکُلُ اِلَّا مِنْ عَمَلِ یَدِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۱۴۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: داود علیہ السلام پر تلاوت کو آسان کر دیا گیا تھا، وہ اپنی سواری کے بارے میں حکم دیتے، پس اس پر زین کسی جاتی، لیکن اس عمل سے پہلے وہ زبور کی تلاوت مکمل کر لیتے تھے اور وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔
Takhreej
(۱۰۳۹۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۷۳، ۳۴۱۷ (انظر: ۸۱۶۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کے لیے وقت کو مختصر کر دیتے ہیں،یعنی ایسی خاص توفیق سے نوازتے ہیں کہ وہ تھوڑے وقت میں بڑا عمل کر لیتے ہیں۔ باقاعدگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے اس برکت کو محسوس کرتے ہیں، نبی کی تو شان ہی نرالی ہوتی ہے۔ پہلےیہ حدیث ِ مبارکہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوشع علیہ السلام کی نماز عصر کی خاطر سورج کو روک لیا تھا، وہ جو چاہتا ہے، کر دیتا ہے، کون سا اس نے کسی کو جواب دینا ہے۔ واقعۂ معراج پر غور کریں، اللہ تعالیٰ نے زمان و مکاں کو مختصر کر دیا۔
10397
Sahih
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
۔ (۱۰۳۹۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعَ صَوْتَ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ وَ ھُوَ یَقْرَاُ فَقَالَ: ((لَقَدْ اُوْتِیَ اَبُوْ مُوْسٰی مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوُدَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۵۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آواز سنی، جبکہ وہ تلاوت کر رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو موسی کو تو آلِ داود کی بانسریاں عطا کر دی گئی ہیں۔
Takhreej
(۱۰۳۹۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۲/ ۱۸۱ (انظر: ۲۵۳۴۳)
10398
Sahih
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
۔ (۱۰۳۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍیَقْرَئُ فَقَالَ: ((لقَدْ اُعْطِیَ ھٰذَا مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوُدَ النَّبِیِّ علیہ السلام (وَفِیْ لَفْظٍ) لَقَدْ اُعْطِیَ اَبُوْ مُوْسٰی مَزَامِیْرَ دَاوُدَ۔)) (مسند احمد: ۸۸۰۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا اور فرمایا: اس کو آلِ داود کی بانسریاں عطا کر دی گئی ہیں۔ ایک روایت میں ہے: ابو موسی کو داود علیہ السلام کی بانسریاں دے دی گئی ہیں۔
Takhreej
(۱۰۳۹۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۲/ ۱۸۰، وابن ماجہ: ۱۳۴۱ (انظر: ۸۸۲۰)
Explanation
فوائد: … بانسری سے مراد خوبصورت آواز ہے اور آل داود سے مراد خود داود علیہ السلام ہیں۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری جن کا نام عبد اللہ بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
10399
Sahih
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
۔ (۱۰۳۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍیَقْرَئُ فَقَالَ: ((لقَدْ اُعْطِیَ ھٰذَا مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوُدَ النَّبِیِّ علیہ السلام (وَفِیْ لَفْظٍ) لَقَدْ اُعْطِیَ اَبُوْ مُوْسٰی مَزَامِیْرَ دَاوُدَ۔)) (مسند احمد: ۸۸۰۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب داود علیہ السلام کی نماز ہے، وہ رات کا نصف حصہ سوتے، پھر ایک تہائی رات قیام کرتے اور پھر باقی چھٹا حصہ سو جاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۰۴۰۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۳۱، ۳۴۲۰، ومسلم: ۱۱۵۹ (انظر: ۶۴۹۱)
10400
Sahih
ہود علیہ السلام کا بیان
۔ (۱۰۴۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَانَ دَاوٗدُالنَّبِیُّ فِیْہِ غَیْرَۃٌ شَدِیْدَۃٌ، وَ کَانَ اِذَا خَرَجَ اُغْلِقَتِ الْاَبْوَابُ فَلَمْ یَدْخُلْ عَلٰی اَھْلِہِ اَحَدٌ حَتّٰییَرْجِعَ، قَالَ: فَخَرَجَ ذَاتَ یَوْمٍ وَ غُلِّقَتِ الدَّارُ فَاَقْبَلَتْ اِمَرَاَتُہُ تَطَّلِعُ اِلَی الدَّارِ فَاِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ وَسْطَ الدَّارِ، فَقَالَت لِمَنْ فِیْ الْبَیْتِ: مِنْ اَیْنَ دَخَلَ ھٰذَا الرَّجُلُ الدَّارَ وَالدَّارُ مُغْلَقَۃٌ؟ وَاللّٰہِ لَتُفْتَضَحَنَّ بِدَاوُدَ فَجَائَ دَاوُدُ، فَاِذَا الرَّجُلُ قَائِمٌ وَسْطَ الدَّارِ، فَقَالَ لَہُ دَاوُدُ: مَنْ اَنْتَ؟ قَالَ: اَنَا الَّذِیْ لَا اَھَابُ الْمُلُوْکَ وَ لَا یَمْتَنِعُ مِنِّی شَیْئٌ، فَقَالَ دَاوُدُ: اَنْتَ وَاللّٰہِ! مَلَکُ الْمَوْتِ، فَمَرْحَبًا بِاَمْرِ اللّٰہِ، فَرُمِلَ دَاوُدُ مَکَانَہُ حَیْثُ قُبِضَتْ رُوْحُہُ حَتّٰی فَرَغَ مِنْ شَاْنِہِ وَطَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ، فَقَالَ سُلَیْمَانُ لِلطَّیْرِ: اَظِلِّیْ عَلٰی دَاوُدَ، فَاَظَلَّتْ عَلَیْہِ الطَّیْرُ حَتَّی اَظْلَمَتْ عَلَیْھِمَا الْاَرْضُ، فَقَالَ لَھَا سُلَیْمَانُ: اقْبِضِیْ جَنَاحًا جَنَاحًا۔)) قَالَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃ: یُرِیْنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَیْفَ فَعَلَتِ الطَّیْرُ، وَقَبَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ، وَ غَلَبَتْ عَلَیْہِ ِیَوْمَئِذٍ الْمَصْرَجیَّۃُ۔ (مسند احمد: ۹۴۲۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کے نبی داود علیہ السلام شدید غیرت سے متصف تھے، جب وہ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر دیئے جاتے اور ان کے گھر والوں کے پاس کوئی نہ آ سکتا، یہاں تک کہ وہ واپس تشریف لے آتے، ایک دن روٹین کے مطابق وہ باہر چلے گئے اور گھر کو بند کر دیا گیا، لیکن جب ان کی بیوی گھر کی طرف متوجہ ہوئی تو انھوں نے دیکھا کہ ایک آدمی گھر کے درمیان میں کھڑا ہے، انھوں نے اس شخص کے بارے میں کہا: یہ آدمی گھر میں کیسے داخل ہوا، جبکہ گھر بند تھا؟ اللہ کی قسم! ہمیں داود کے ساتھ رسوا ہونا پڑے گا، اتنے میں داود علیہ السلام آگئے، جب انھوں نے گھر کے بیچ میں ایک آدمی کو دیکھا تو انھوں نے کہا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں وہ ہوں، جو بادشاہوں سے نہیں ڈرتا، بلکہ کوئی چیز مجھ سے بچ نہیں سکتی، داود علیہ السلام نے کہا: اللہ کی قسم! تو تو ملک الموت ہے، اللہ کے حکم کو مرحبا، داود علیہ السلام نے اس جگہ پر دفن ہونا تھا، جہاں ان کی روح قبض ہوئی، اُدھر جب فرشتہ اپنے کام سے فارغ ہوا تو سورج طلوع ہو گیا، سلیمان علیہ السلام نے پرندوں سے کہا: داود پر سایہ کرو، پس پرندوں نے ان پر سایہ کیا،یہاں تک کہ زمین نے ان دونوں پر اندھیرا کر دیا، سلیمان علیہ السلام نے کہا: ایک ایک پر بند کرو۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں دکھایا کہ پرندوں نے کیسے کیا، ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک بند کیا، اس دن لمبے پروں والے شکرے ان پر غالب آ گئے۔
Takhreej
(۱۰۴۰۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، فان المطلب بن عبد اللہ لم یسمع من ابی ھریرۃ (انظر: ۹۴۳۲)
Explanation
فوائد:… لفظ الْمَصْرَجیَّۃُ لکھنا، یہ کاتب کی غلطی ہے، یہ لفظ دراصل یوں ہے: الْمَضْرَحیَّۃُ ، ہم نے اصل لفظ کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب قرضے والی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، اَوْ اَوَّلُ مَنْ جَحَدَ آدَمُ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ مَسَحَ ظَھْرَہُ فَاَخْرَجَ مِنْہُ مَا ھُوَ مِنْ ذَرَارِیِّ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، فَجَعَلَ یَعْرِضُ ذُرِّیَّتَہُ عَلَیْہِ فَرَاٰی فِیْھِمْ رَجُلًا یَزْھَرُ، فَقَالَ: اَیْ رَبِّ! مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: ھٰذَا اِبْنُکَ دَاوُدُ، قَالَ: اَیْ رَبِّ! کَمْ عُمْرُہُ؟ قَالَ: سِتُّوْنَ عَامًا، قَالَ: رَبِّ! زِدْ فِیْ عُمْرِہِ، قَالَ: لَا، اِلَّا اَزِیْدُہُ مِنْ عُمْرِکَ، وَکَانَ عُمَرُ آدَمَ اَلْفَ عَامٍ فَزَادَہُ اَرْبَعِیْنَ عَامًا، فَکَتَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ بِذٰلِکَ کِتَابًا وَ اَشْھَدَ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃَ، فَلَمَّا احْتُضِرَ آدَمُ وَاَتَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ لِتَقْبِضَہُ قَالَ: اِنَّہُ قَدْ بَقِیَ مِنْ عُمْرِیْ اَرْبَعُوْنَ عَامًا، فَقِیْلَ: اِنَّکَ قَدْ وَھَبْتَھَا لِاِبْنِکَ دَاوُدَ، قَالَ: مَا فَعَلْتُ وَ اَبْرَزَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ الْکِتَابَ وَ شَھِدَتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃُ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) فَاَتَّمَھَا لِدَاوُدَ مِائَۃَ سَنَۃٍ وَاَتَّمَھَا لِآدَمَ عُمْرَہُ اَلْفَ سَنَۃٍ۔)) … بیشک سب سے پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں، اس کی تفصیلیہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ کو چھو کر اس سے ان کی قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد کو نکالا اور اس اولاد کو ان پر پیش کیا، انھوں نے اس میں ایک خوش نما اور تابناک آدمی دیکھا اور کہا: اے میرے ربّ! یہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: یہ تیرا بیٹا داود ہے، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ ! اس کی عمر کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: ساٹھ سال، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! اس کی عمر میں اضافہ کر دے، اللہ تعالیٰ نے کہا: نہیں، الا یہ کہ تیری عمر سے اضافہ کیا جائے۔ آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، انھوں نے اپنی عمر میں سے داود کی عمر میں چالیس سال اضافہ کر دیا، اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو لکھ لیا اور فرشتوں کوگواہ بنا لیا، جب آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت آیا اور ان کی روح قبض کرنے کے لیے فرشتے ان کے پاس آئے تو انھوں نے کہا: ابھی تک میری عمر کے تو چالیس سال باقی ہیں، ان سے کہا گیا کہ آپ نے وہ چالیس سال تو اپنے بیٹے داود کو ہبہ کر دیئے تھے، آدم علیہ السلام نے کہا: میں نے تو ایسے نہیں کیا تھا، اُدھر اللہ تعالیٰ نے کتاب کو ظاہر کر دیا اور فرشتوں نے گواہی دے دی، لیکن پھر داود علیہ السلام کی عمر بھی سو سال پوری کر دی اور آدم علیہ السلام کی ایک ہزار پوری کر دی۔ (مسند طیالسی: ۲۶۹۲، مسند ابو یعلی: ۲۷۱۰، مسند احمد: ۲۲۷۰)
10401
Zaeef
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
۔ (۱۰۴۰۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ سُلَیْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، سَاَلَ اللّٰہَ ثَلَاثًا فَاَعْطَاہُ ثِنْتَیْنِ، وَ نَحْنُ نَرْجُوْ اَنْ تَکُوْنَ لَہُ الثَّالِثَۃُ فَسَاَلَہُ حُکْمًایُصَادِفُ حُکْمَہُ فَاَعْطَاہُ اِیَّاہُ، وَ سَاَلَہُ مُلْکًا لَا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِنْ بَعْدِہِ فَاَعْطَاہُ ِایَّاہُ، وَ سَاَلَہُ اَیُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مِنْ بَیْتِہِ لَا یُرِیْدُ اِلَّا الصَّلَاۃَ فِیْ ھٰذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِیْئَتِہِ مِثْلَیَوْمٍ وَلَدَتْہُ اُمُّہُ فَنَحْنُ نَرْجُوْ اَنْ یَکُوْنَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَعْطَاہُ اِیَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۶۶۴۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا، اس نے دو چیزیں عطا کر دیں اور ہم تیسری کے بارے میں بھی امید رکھتے ہیں، انھوں نے یہ سوال کیا کہ ان کا حکم اور فیصلہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور فیصلے کے موافق ہو، پس اس نے ان کو یہ چیز عطا کر دی، انھوں نے ایسی بادشاہت کا سوال کیا، جو ان کے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو، پس اس نے ان کو یہ چیز بھی دے دی اور انھوں نے تیسرا سوال یہ کیا کہ جو آدمی اپنے گھر سے صرف نماز ادا کرنے کے لیے نکلے اور اس مسجد میں آئے تو وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح صاف ہو جائے، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا، پس ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ چیز بھی عطا کر دی ہو گی۔
Takhreej
(۱۰۴۰۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۳۷۷ (انظر: ۶۶۴۴)
10402
Sahih
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
۔ (۱۰۴۰۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ عِفْرِیْتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَیَّ الْبَارِحَۃَ لِیَقْطَعَ عَلَیَّ الصَّلَاۃَ، فَاَمْکَنَنِیَ اللّٰہُ مِنْہُ فَدَعَتُّہُ وَاَرَدْتُ اَنْ اَرِبِطَہُ اِلٰی جَنْبِ سَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ حَتّٰی تُصْبِحُوْا فَتَنْظُرُوْا اِلَیْہِ کُلُّکُمْ اَجْمَعُوْنَ۔)) قَالَ: ((فَذَکَرْتُ دَعْوَۃَ اَخِیْ سُلَیْمَانَ رَبِّ ھَبْ لِیْ مُلْکًا لَا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِنْ بَعْدِیْ، قَالَ: فَرَدَّہُ خَاسِئًا۔)) (مسند احمد: ۷۹۵۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک شیطان نے گزشتہ رات میری نماز کو کاٹنے کے لیے مجھ پر حملہ کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے قدرت دی اور میں نے اس کو دھکا دیا، پھر میں نے چاہا کہ اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں، تاکہ تم سارے صبح کے وقت اس کو دیکھ سکو، لیکن پھر مجھے اپنی بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی: اے میرے ربّ! مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما کہ جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو، پس اس کو ناکام و نامراد لوٹا دیا۔
Takhreej
(۱۰۴۰۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۶۱، ۳۴۲۳، ومسلم: ۵۴۱ (انظر: ۷۹۶۹)
Explanation
فوائد:… سلیمان علیہ السلام کو اپنے باپ داود علیہ السلام سے نبوت اور بادشاہت وراثت میں ملی، سلیمان علیہ السلام انفرادی خصوصیت و فضیلت کے مالک تھے، وہ پوری تاریخ انسانیت میں اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ ان کی حکمرانی صرف انسانوں پر ہی نہیں تھی، بلکہ جنات، حیوانات اور چرند پرند حتی کہ ہوا تک ان کے ماتحت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ نمل میں (۱۶ تا ۴۴) اور سورۂ ص میں (۳۰ تا ۴۰) میں بہت خوبصورت انداز میں سلیمان علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔
10403
Sahih
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
۔ (۱۰۴۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَیْنَمَا اِمْرَأَتَانِ مَعَھُمَا اِبْنَانِ لَھُمَا جَائَ الذِّئْبُ فَاَخَذَ اَحَدَ الْاِبْنَیْنِ فَتَحَاکَمَا اِلٰی دَاوُدَ، فَقَضٰی بِہٖلِلْکُبْرٰی، فَخَرَجَتَا فَدَعَاھُمَا سُلَیْمَانُ ھَاتُوْا السِّکِّیْنَ اَشُقُّہُ بَیْنَھُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرٰی: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ ھُوَ اِبْنُھَا لَا تَشُقُّہُ، فَقَضٰی بِہٖ لِلصُّغْرٰی)) قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: وَاللّٰہِ! اِنَ عَلِمْنَا مَا السِّکِّیْنُ اِلَّا یَؤْمَئِذٍ وَ مَا کُنَّا نَقُوْلُ اِلَّا الْمُدْیَۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۲۶۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو عورتیں تھیں، دونوں کے ساتھ ایک ایک بیٹا تھا، ایک بھیڑیا آیا اور ایک بیٹا لے گیا، پس دونوں فیصلہ کر لے داود علیہ السلام کے پاس آئیں، انھوں نے بڑی کے حق میں اس بچے کا فیصلہ کر دیا، پھر وہ دونوں چلی گئیں،سلیمان علیہ السلام نے ان کو بلایا اور کہا: چھری لے آؤ، تاکہ میں اس بچے کو اِن دونوں خواتین میں تقسیم کر دوں، یہ بات سن کر چھوٹی خاتون نے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، یہ اسی بڑی کا بیٹا ہے، اس کو چیرا مت دو، اس خاتون کییہ بات سن کر سلیمان علیہ السلام نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اس دن ہمیں پتہ چلا کہ چھری کو سِکِّیْن بھی کہتے ہیں، ہم تو اس کو مُدْیَۃ ہی کہتے تھے۔
Takhreej
(۱۰۴۰۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۲۷، ۶۷۶۹، ومسلم: ۱۷۲۰(انظر: ۸۲۸۰)
Explanation
فوائد: … سبحان اللہ! کیا دانائی تھی سلیمان علیہ السلام کی۔ اس مقام پر یہ سوال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ داود علیہ السلام نے بڑی خاتون کے حق میں فیصلہ کیوں کیا اور سلیمان علیہ السلام نے اس کو تبدیل کیوں کر دیا؟ کیونکہ داود علیہ السلام نے کچھ قرائن اور اسباب کی بنا پر بڑی خاتون کے حق میں فیصلہ کیا ہو گا اور اسی کو ظن غالب کی روشنی میں حق سمجھا ہو گا، لیکن ان کی شریعت کی روشنی میں سلیمان علیہ السلام کے لیے از سرِ نو فیصلہ کرنے کی گنجائش موجود ہو گی، اس لیے آپ علیہ السلام نے ایک عمدہ حیلہ استعمال کیا اور معاملے کی حقیقت واضح ہو گئی۔ درج ذیل حدیث پر غور کریں: زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے حجرے کے دروازے پر جھگڑے کی آواز سنی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّہُ یَأْتِینِی الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَکُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَأَحْسِبُ أَنَّہُ صَدَقَ فَأَقْضِیَ لَہُ بِذٰلِکَ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا ہِیَ قِطْعَۃٌ مِنْ النَّارِ فَلْیَأْخُذْہَا أَوْ فَلْیَتْرُکْہَا۔)) … میں تو محض ایک انسان ہوں اور میرے پاس مقدمہ آتا ہے، ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے سے زیادہ بلیغ ہو اور میں یہ گمان کر کے فیصلہ کر دوں کہ وہ سچا ہے، پس جس شخص کے لئے میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہو گا، اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اس کو لے لے، یا چھوڑ دے۔ (صحیح بخاری: ۲۲۷۸، صحیح مسلم: ۳۲۳۱) اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ممکن ہے کہ اصل صورت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر مخفی رہ جائے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظاہری شواہد و قرائن کا اعتبار کرنا ہے۔
10404
Sahih
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۴۰۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: لَاَطُوْفَنَّ اللَّیْلَۃَ بِمِائَۃِ اِمْرَاَۃٍ تَلِدُ کُلُّ اِمْرَاَۃٍ مِنْھُنَّ غُلَامًا یُقَاتِلُ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ، قَالَ: وَ نَسِیَ اَنْ یَقُوْلَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ، فَاَطَافَ بِھِنِّ قَالَ: فَلَمْ تَلِدُ مِنْھُنَّ اِلَّا وَاحِدَۃٌ نِصْفَ اِنْسَانٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ قَالَ: اِنْ شَائَ اللّٰہُ لَمْ یَحْنَثْ وَ کَانَ دَرَکًا لِحَاجَتِہِ، (وَفِیْ لَفْظٍ) لَوْ اَنَّہُ کَانَ قَالَ: اِنْ شَائَ اللّٰہُ لَوَلَدَتْ کُلُّ امْرَاَۃٍ مِنْھُنَّ غُلَامًا یَضْرِبُ بِالسَّیْفِ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۷۷۰۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہ السلام نے کہا: آج رات میں سو خواتین کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر ایک ایک لڑکا جنم دے گی اور وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، وہ ان شاء اللہ کہنا بھول گئے، پس سب خواتین کے پاس گئے اور حق زوجیت ادا کیا، لیکن صرف ایک خاتون کا بچہ پیدا ہوا اور وہ بھی ادھورا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر انھوں نے ان شاء اللہ کہا ہوتا تو ان کی قسم بھی نہ ٹوٹتی اور ان کی حاجت بھی پوری ہو جاتی، ایک روایت میں ہے: اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو ہر خاتون نے لڑکا پیدا کرنا تھا، جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں تلوار سے جہاد کرتا۔
Takhreej
(۱۰۴۰۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۲۴۲، ومسلم: ۱۶۵۴ (انظر: ۷۷۱۵)
Explanation
فوائد:… سلیمان علیہ السلام کی بادشاہت ہر اعتبار سے بے مثال تھی۔
10405
Sahih
ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان
۔ (۱۰۴۰۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَزَلَ نَبِیٌّ مِنَ الْاَنْبِیَائِ تَحْتَ شَجَرَۃٍ فَلَدَغَتْہُ نَمْلَۃٌ فَاَمَرَ بِجَھَازَہِ فَاُخْرِجَ مِنْ تَحْتِھَا ثُمَّ اَمَرَبِھَا فَاُحْرِقَتْ بِالنَّارِ، فَاَوْحَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلَیْہِ فَھَلَّا نَمْلَۃً وَاحِدَۃً۔)) (مسند احمد: ۹۸۰۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انبیاء میں ایک نبی ایک درخت کے نیچے اترے، ایک چیونٹی نے ان کو ڈسا، پس انھوں نے سامان کو ہٹانے اور نیچے سے چیونٹیوں کو نکالنے اور ان کو جلانے کا حکم دیا، سو ان کو جلا دیا گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ ایک چیونٹی کو کیوں نہیں جلایا تھا۔
Takhreej
(۱۰۴۰۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۱۹، ومسلم: ۲۲۴۱ (انظر: ۹۸۰۱)
10406
Sahih
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
۔ (۱۰۴۰۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَانَ زَکَرِیَا عَلَیْہِ السَّلَامُ نَجَّارًا۔)) (مسند احمد: ۹۲۴۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے۔
Takhreej
(۱۰۴۰۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۷۹ (انظر: ۹۲۵۷)
Explanation
فوائد:… زکریا علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کمائی کرتے تھے، ممکن ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصد بڑھئی کا پیشہ اختیار کرنے کییا مطلق کمائی کرنے کی ترغیب دلانا ہو۔
10407
Sahih
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
۔ (۱۰۴۰۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ اَحَدٍ مِنْ وُلْدِ آدَمَ اِلَّا قَدْ اَخْطَاَ اَوْ ھَمَّ بِخَطِیْئَۃٍ لَیْسَیَحْيَ بْنُ زَکَرِیَّا، وَ مَا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍٍ اَنْ یَقُوْل اَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتَّیعَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۴)
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اولادِ آدم میں سے کوئی بھی نہیں ہے، مگر اس نے خطا کی ہے، یا پھر خطا کا ارادہ کیا ہے، ما سوائے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے اور کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ یہ کہے: میںیونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔
Takhreej
(۱۰۴۰۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، علی بن زید بن جدعان ضعیف، ویوسف بن مھران لین الحدیث، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۵۶۲، وابویعلی: ۲۵۴۴، والحاکم: ۲/ ۵۹۱ (انظر: ۲۲۹۴)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان خوبصورت الفاظ کے ساتھ یحییٰ علیہ السلام کا تذکرہ کیا: یٰــیَحْـیٰی خُذِ الْکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ وَاٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا۔ وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَزَکٰوۃً وَکَانَ تَقِیًّا۔ وَّ بَرًّا بِوَالِدَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا۔ وَسَلٰمٌ عَلَیْہِیَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَیَمُوْتُ وَیَوْمَیُـبْعَثُ حَیًّا۔ … اے یحییٰ! کتاب کو قوت سے پکڑ اور ہم نے اسے بچپن ہی میں فیصلہ کرنا عطا فرمایا۔اور اپنی طرف سے شفقت اور پاکیزگی (عطا کی) اور وہ بہت بچنے والا تھا۔ اور اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا تھا اور وہ سرکش، نافرمان نہ تھا۔ اور سلام اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوگا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جائے گا۔(سورۂ مریم: ۱۲ تا ۱۵) حافظ ابن کثیر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اپنی تفسیر میںکہا: بمطابق بشارت الٰہی زکریا علیہ السلام کے ہاں یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیاء دوسروں کو بتلاتے تھے، اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی، اسی لئے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص اجتہاد، کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے ۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم ، قوت وعزم ، دانائی اور حلم عطا کر دیا، نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے، بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے، مگر یہ جواب دیتے تھے کہ ہم کھیل کے لئے پیدا نہیں کئے گئے۔ یحییٰ علیہ السلام کا وجود زکریا علیہ السلام کے لئے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا، جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے ، انھوں نے کہا: واللہ! میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے۔ لغت میں محبت، شفقت، رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے، بظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگیعطا فرمائی۔ یحییٰ علیہ السلام ہر میل کچیل, ہر گناہ اور معصیت سے بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ کی عمر کا خلاصہ تھا, آپ گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے, ساتھ ہی ماں باپ کے فرمابردار اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے, کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی, کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوئے, کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا, کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خُو آپ میں نہ تھی ۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ کو اللہ کی طرف سے امن وامان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن موت والے دن اور حشر والے دن ۔ یہی تینوں مقامات گھبراہٹ کے ہیں اور انجان ہیں ۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے، جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے، موت والے دن اس مخلوق سے وابسطہ پڑتا ہے، جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا، انھیں کبھی نہ دیکھا ۔ محشروالے دن بھی علی ہذالقیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے، دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے ۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی۔ امام قتادہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں کہ آپ نے گناہ بھی کبھی نہیں کیا ۔
10408
Zaeef
ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ مبارک، اسحاق کی پیدائش، سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی اور پھر ابراہیم علیہ السلام کی وفات کا بیان
۔ (۱۰۴۰۹)۔ عَنِ الْحَارِثِ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَمَرَ یَحْيَ بْنَ زَکَرِیَّا بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ اَنْ یَعْمَلَ بِھِنِّ، وَ اَنْ یَاْمُرَ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ اَنْ یَعْمَلُوْا بِھِنِّ فَکَادَ اَنْ یُبْطِیئَ، فَقَالَ لَہُ عِیْسٰی: اِنَّکَ قَدْ اُمِرْتَ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ اَنْ تَعْمَلَ بِھِنَّ وَ اَنْ تَاْمُرَ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ اَنْ یَعْمَلُوْا بِھِنَّ، فَاِمَّا اَنْ تُبَلِّغَھِنَّ وَ اِمَّا اُبَلِّغَھُنَّ؟ فَقَالَ لَہُ: یَا اَخِیْ! اِنِّیْ اَخْشَی اِنْ سَبَقْتَنِیْ اَنْ اُعَذِّبَ اَوْ یُخْسَفَ بِیْ، قَالَ: فَجَمَعَ یَحْیٰی بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ فِیْ بَیْتِ الْمَقْدَسِ حَتَّی اِمْتَلَاَ الْمَسْجِدُ وَ قَعَدَ عَلَی الشُّرَفِ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَ اَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَمَرَنِیْ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ اَنْ اَعْمُلَ بِھِنِّ وَآمُرَکُمْ اَنْ تَعْمَلُوْا بِھِنِّ، اَوَّلُھُنَّ اَنْ تَعْبُدُوْا اللّٰہَ وَ لَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا، فَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ مَثَلُ رَجُلٍ اشْتَرَی عَبْدًا مِنْ خَالِصِ مَالِہِ بِوَرَقٍ اَوْ ذَھَبٍ فَجَعَلَ یَعْمَلُ وَ یُؤَدِّیْ عَمَلَہُ اِلَی غَیْرِ سَیِّدِہِ فَاَیُّکُمْیَسُرُّہُ اَنْ یَکُوْنَ عَبْدُہُ کَذٰلِکَ؟ وَاِنَّ رَبَّکُمْ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَکُمْ وَ رَزَقَکُمْ فَاعْبُدُوْہُ وَ لَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا، وَ آمُرُکُمْ بِالصَّلَاۃِ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَنْصِبُ وَجْھَہُ بِوَجْہِ عَبْدِہِ مَا لَمْ یَلْتَفِتْ، فَاِذَا صَلَّیْتُمْ فَـلَا تَلْتَفِتُوْا، وَ آمُرُکُمْ بِالصِّیَامِ فَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ مَعَہُ صُرَّۃٌ مِنْ مِسْکٍ فِیْ عِصَابَۃٍ کُلُّھُمْ یَجِدُ رِیْحَ الْمِسْکِ، وَ اِنَّ خَلُوْفَ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ، وَ آمُرُکُمْ بِالصَّدَقَۃِ فَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ اَسَرَہُ الْعَدُوُّ فَشَدُّوْا یَدَیْہِ اِلٰی عُنُقِہِ وَ قَرَّبُوْہُ لِضَرَبُوْا عُنُقَہُ، فَقَالَ: ھَلْ لَکُمْ اَنْ اَفْتَدِیَ نَفْسِیْ مِنْکُمْ؟ فَجَعَلَ یَفْتَدِیْ نَفْسَہُ مِنْھُمْ بِالْقَلِیْلِ وَالْکَثِیْرِ حَتّٰی فَکَّ نَفْسَہُ، وَ آمُرُکُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ کَثِیْرًا وَ اِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَہُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِیْ اَثَرِھَا فَاَتٰی حِصْنًا حَصِیْنًا فَتَحَصَّنَ فِیْہِ، وَ اِنَّ الْعَبْدَ اَحْصَنُ مَا یَکُوْنُ مِنَ الشَّیْطَانِ اِذَا کَانَ فِیْ ذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) قَالَ: و قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا آمُرُکُمْ بِخَمْسٍ، اَللّٰہُ اَمَرَنِیْ بِھِنِّ، بِالْجَمَاعَۃِ وَ السَّمْعِ وَ الطَّاعَۃِ،وَ الْھِجْرَۃِ، وَ الْجِھَادِ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ، فَاِنَّہُ مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَۃِ قِیْدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَۃَ الْاِسْلَامِ مِنْ عُنُقِہِ اِلٰی اَنْیَرْجِعَ، وَ مَنْ دَعَا بِدَعْوَۃِ الْجَاھِلیَّۃِ فھُوَ مِنْ جُثَائِ جََھَنَّمَ، قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَ اِنْ صَامَ وَ صَلّٰی؟ قَالَ: وَ اِنْ صَامَ وَ صَلّٰی وَ زَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ، فَادْعُوْا الْمُسْلِمِیْنَ بِمَا سَمَّاھُمُ الْمُسْلِمِیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ عِبَادَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۰۲)
۔ سیدنا حارث اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو پانچ کلمات کا حکم دیا کہ وہ خود ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، انھوں نے لوگوں کو بتانے میں دیر کی، عیسی علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ کو پانچ کلمات کے بارے میں حکم دیا گیا تھا کہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، اب آپ ان کو بتلائیںیا میں بتلا دیتا ہوں، انھوں نے کہا: اے میرے بھائی! اگر آپ مجھ سے پہلے بتلا دیں تو مجھے یہ ڈر ہو گا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے عذاب دیا جائے یا مجھے دھنسا دیا جائے۔ پس یحییٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا،یہاں تک کہ مسجد بھر گئی، پھر وہ اونچی جگہ پر بیٹھے، پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ کلمات کا حکم دیا ہے کہ خود بھی ان پر عمل کروں اور تم کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دوں، پہلا حکم یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، پس بیشک مشرک کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے اپنے خالص مال چاندییا سونے کے عوض غلام خریدا، لیکن ہوا یوں کہ وہ غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کے لیے کام کرنے لگا، اب تم میں سے کس کو یہ بات خوش کرے گی کہ اس کا غلام اس قسم کا ہو، اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا ہے اور تم کو رزق دیا ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور میں تم کو نماز کا حکم دیتا ہوں، پس بیشک اللہ تعالیٰ اپنا چہرہ بندے کے چہرے کی خاطر اس وقت تک متوجہ کیے رکھتے ہیں، جب تک وہ اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہو، اس لیے جب نماز پڑھو تو اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہوا کرو، اور میں تمہیں روزوں کا حکم دیتا ہوں، ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس کے پاس کستوری کی تھیلی ہو اور سارے لوگ کستوری کی خوشبو محسوس کر رہے ہوں، روزے دار کے منہ کی بدلی ہوئی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے ، اور میں تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہوں، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جس کو اس کے دشمن نے قید کر کے اس کے ہاتھوں کو گردن کے ساتھ باندھ دیا ہو اور اس کی گردن کاٹنے کے لیے اس کو قریب کرے اور وہ آگے سے کہے: اگر میں اپنے نفس کے عوض اتنا فدیہ دے دوں تو کیا تم مجھے چھوڑ دو گے؟ پھر اس نے کم مقدار اور زیادہ مقدار فدیہ دینا شروع کر دیا،یہاں تک کہ اپنے آپ کو بچا لیا، اور میں تم کو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں، اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے، جس کا دشمن جلدی کرتے ہوئے اس کا تعاقب کر رہا ہو، لیکن وہ مضبوط قلعے میں پہنچ کر قلعہ بند ہو گیا، اور بیشک بندہ شیطان سے سب سے زیادہ حفاظت میں اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میںمصروف ہوتا ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں بھی تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کا حکم دیا ہے، (وہ پانچ چیزیںیہ ہیں:) جماعت، امیر کی بات سننا اور اطاعت کرنا، ہجرت کرنا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا، پس جو آدمی ایک بالشت کے بقدر جماعت سے نکل گیا، اس نے واپس پلٹنے تک اپنی گردن سے اسلام کا معاہدہ اتار پھینکا اور جس نے جاہلیت کی پکار پکاری، وہ جہنم کی جماعت میں سے ہوگا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ روزے بھی رکھے اور نماز بھی پڑھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ روزہ بھی رکھے اور نماز بھی پڑھے اور یہ گمان بھی کرے کہ وہ مسلمان ہے، پس مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے نام سے پکارو، یعنی مسلمان، مؤمن، اللہ تعالیٰ کے بندے۔
Takhreej
(۱۰۴۰۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۸۶۳، ۲۸۶۴ (انظر: ۱۷۱۷۰)
10409
Sahih
اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان
۔ (۱۰۴۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ اِلَّا نَخَسَہُ الشَّیْطَانُ فَیَسْتَھِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَۃِ الشَّیْطَانِ اِلَّا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہُ۔)) قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: اِقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ {اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔} (مسند احمد: ۷۱۸۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی بچہ جو پیدا ہوتا ہے، مگر شیطان اس کو چوکا لگاتا ہے، وہ شیطان کے اس چوکے کی وجہ سے چیختا ہے، ما سوائے ابن مریم اور اس کی ماں کے۔سیدنا ابو ہریرہ علیہ السلام نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو قرآن کا یہ حصہ پڑھ لو: بیشک میں اس کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں، شیطان مردود سے۔
Takhreej
(۱۰۴۱۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۳۱، ومسلم: ۲۳۶۶ (انظر: ۷۱۸۲)
Explanation
فوائد:… حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں مزید تفصیل اگلے ابواب میں آ رہی ہے۔
10410
Sahih
اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۴۱۱)۔ عَنْ عَلَیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((خَیْرُ نِسَائِھَا بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَیْرُ نِسَائِھَا خَدِیْجَۃُ۔)) (مسند احمد: ۶۴۰)
۔ سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام کی فضیلت کا بیان سیدہ مریم بنت عمران ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ اپنے زمانے کی اور سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنے عہد کی خواتین میں سب سے بہتر تھیں۔
Takhreej
(۱۰۴۱۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۳۲، ومسلم: ۲۴۳۰ (انظر: ۶۴۰)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ اور سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو ایسی خصوصیات عطا کیں کہ جو دوسری خواتین کا مقدر نہ بن سکیں، سیدہ مریم ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کو طاہر بنایا، مخصوص امور کے لیے ان کا انتخاب کیا، جبریل علیہ السلام نے ان سے کلام کیا، ان کے اندر روح پھونکی، وہ خاوند کے بغیر ایک عظیم پیغمبر کی ماں بن گئیں، ان کے بچے نے بچپنے میں کلام کیا اور اپنی ماں کی پاکدامنی کی شہادت دی، سیدہ مریم نے اپنے ربّ کے کلمات اور کتب کی تصدیق کی اور وہ عبادت گزاروں میں تھی۔ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، کون ہے سیدہ خدیجہ، جب لوگ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کفر کر رہے تھے، اس وقت سیدہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں، جب تکبر کرنے والے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے رک رہے تھے، تب سیدہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی، جب لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر بخل کر رہے تھے، اس وقت سیدہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سخاوت کی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر اجنبیت طاری تھی، اس وقت سیدہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے انس کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا جبریل علیہ السلام کی پہلی آمد پر پریشان ہوئے، اس وقت سیدہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خصائل حمیدہ کا ذکر کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تسلی دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پا س لے گئیں۔
10411
Sahih
اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۴۱۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَطَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ خُطُوْطٍ، قَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَا ھٰذِہِ؟)) فَقَالُوْا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَفْضَلُ نِسَائِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ خَدِیْجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ، وَ فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ آسِیَۃُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ اِمْرَاَۃُ فِرْعَوْنَ وَ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُنَّ۔)) (مسند احمد: ۲۶۶۸)
۔ عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمین پر چار خطوط کھینچے، پھر پوچھا: کیا تم ان لکیروں کے بارے میں جانتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت والی خواتین میں سب سے افضل یہ چار ہیں: خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران۔
Takhreej
(۱۰۴۱۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۲۷۱۰، والطبرانی: ۲۱۶۸ (انظر: ۲۶۶۸)
Explanation
فوائد:… موسی علیہ السلام کا فرعون کے محل میں دفاع کرنے والی سیدہ آسیہ علیہا السلام ہی تھیں، اس خاتون کی عظمت کو سلام، جس نے فرعون کے گھر میں رہ کر اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کر لیا، مندرجہ ذیل روایت پر غور کریں: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اِنَّ فِرْعَوْنَ اَوْتَدَ لِاِمْرَاَتِہِ اَرْبَعَۃَ اَوْتَادٍ فِيْ یَدَیْھَا وَرِجْلَیْھَا، فَکَانُوْا اِذَا تَفَرَّقُوْا عَنْھَا ظَلَّلَتْھَا الْمَلَائِکَۃُ، فَقَالَتْ: {رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِيْ الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہِ وَنَجِّنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ}، فَکَشَفَ لَھَا عَنْ بَیْتِھَا فِيْ الْجَنَّۃِ۔ … فرعون نے اپنی بیوی کے دو ہاتھوں اور دو پاؤں میں چار میخیں گاڑ دیں۔ جب وہ (فرعونی) اس سے جدا ہوتے تھے تو فرشتے اس پر سایہ کر لیتے تھے، اس بیوی نے کہا: اے میرے ربّ! اپنے ہاں میرے لیے جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی چھٹکارا نصیب فرما۔ سو اللہ تعالیٰ نے جنت میں اس کے گھر سے پردہ ہٹا کر (اسے اس کا گھر دکھا دیا)۔ (مسندابو یعلی:۴/۱۵۲۱ـ ۱۵۲۲، صحیحہ: ۲۵۰۸) اللہ کے بندوں پر آزمائشیں ضرور آتی ہیں، لیکن ان آزمائشوں پر صبر کرنے کی وجہ سے انہیںجو رحمتِ الٰہی نصیب ہوتی ہے، وہ ان مصائب سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔ سیدہ خدیجہ اور سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے فضائل و مناقب معروف ہیں اور سیدہ مریم علیہا السلام کا ذکر پیچھے ہو چکا ہے۔
10412
Sahih
اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۴۱۳)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((حَسْبُکَ مِنْ نِسَائِ الْعَالَمِیْنَ اِبْنَۃُ عِمْرَانُ وَخَدِیْجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ وَ فَاطِمَۃُ اِبْنَۃُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ آسِیَۃُ اِمْرَاَۃُ فِرْعَوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۱۸)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہانوں کی عورتوں میں یہ خواتین تجھے کافی ہیں: مریم بنت ِ عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور فرعون کی بیوی آسیہ۔
Takhreej
(۱۰۴۱۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ الترمذی: ۳۸۷۸ (انظر: ۱۲۳۹۱)
10413
Sahih
اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۴۱۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَسَنُ وَ الْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَ فَاطِمَۃُ سَیِّدَۃُ نِسَائِھِمْ اِلَّا مَا کَانَ لِمَرْیَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۴۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حسن و حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار اور فاطمہ جنتی خواتین کی سردار ہوں گی، ما سوائے مریم بنت عمران کے۔
Takhreej
(۱۰۴۱۴) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۱۱۶۹، والنسائی فی الکبری : ۸۵۱۴ (انظر: ۱۱۶۱۸)
10414
Sahih
اللہ کے نبی اسحاق علیہ السلام اور پھر یعقوب علیہ السلام کے ذکر کا بیان
۔ (۱۰۴۱۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((کُلُّ بَنِیْ آدَمَ یَطْعُنُ الشَّیْطَانُ بِاِصْبَعِہِ فِیْ جَنْبِہٖحِیْنَیُوْلَدُ اِلَّا عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ ذَھَبَ یَطْعُنُ فَطَعَنَ فِیْ الْحِجَابِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۸۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو آدم کے ہر بچے کو پیدائش کے وقت شیطان اپنی انگلی سے چوکا لگاتا ہے، ما سوائے عیسی بن مریم کے، شیطان چوکا لگانے کے لیے گیا تو تھا، لیکن پردے میں چوکا لگا کر واپس آ گیا۔
Takhreej
(۱۰۴۱۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۸۶ (انظر: ۱۰۷۷۳)
Explanation
فوائد:… پردے سے مراد وہ جھلی ہے، جس میں بچہ رحمِ مادر میں لپٹا ہوا ہوتا ہے اور بوقت ِ ولادت بچہ کے ساتھ نکلتی ہے۔ شیطانیہ چوکا لگا کر بچے پر اپنے تسلّط کا آغاز کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے عیسی علیہ السلام اور ان کی ماں کی اس سے حفاظت کی،یہ ان کی ماں کی دعا کی برکت تھی، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا، دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۴۱۰)
10415
Sahih
اللہ کے نبی اسحاق علیہ السلام اور پھر یعقوب علیہ السلام کے ذکر کا بیان
۔ (۱۰۴۱۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا اَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ فِیْ الْاُوْلٰی وَ الْآخِرَۃِ۔)) قَالُوْا: کَیْفَیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَلْاَنْبِیَائُ اِخْوَۃٌ مِنْ عَلَّاتٍ، وَ اُمَّھَاتُھُمْ شَتّٰی،وَدِیْنُھُمْ وَاحِدٌ، فَلَیْسَ بَیْنَنَا نَبِیٌّ۔)) (مسند احمد: ۸۲۳۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں دنیا و آخرت میں عیسی بن مریم علیہ السلام کا سب سے زیادہ قریبی ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے، پس میرے اور عیسی علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۰۴۱۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۶۵(انظر: ۸۲۴۸)
Explanation
فوائد:… علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں، جن کا باپ ایک ہو اور مائیں مختلف ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دین کے اصول کو باپ سے اور دین کی فروعات کو ماؤں سے تشبیہ دی،یعنی انبیاء و رسل کے ادیان کے اصول یکساں تھے، البتہ شریعت کی فروعات مختلف ہوتی تھیں۔ اگرچہ عیسی علیہ السلام اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے مابین تقریبا چھ صدیوں کا فاصلہ ہے، لیکن ان دو ہستیوں کے درمیان کوئی اور نبی نہیں آیا، اس اعتبار سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عیسی علیہ السلام کے قریب تر ہیں۔
10416
Sahih

Chapters

30
01
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان (انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
6 Hadith
02
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
2 Hadith
03
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
6 Hadith
04
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
3 Hadith
05
ہود علیہ السلام کا بیان
3 Hadith
06
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
6 Hadith
07
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
4 Hadith
08
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
09
ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان
2 Hadith
10
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
8 Hadith
11
ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ مبارک، اسحاق کی پیدائش، سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی اور پھر ابراہیم علیہ السلام کی وفات کا بیان
3 Hadith
12
اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان
3 Hadith
13
اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
14
اللہ کے نبی اسحاق علیہ السلام اور پھر یعقوب علیہ السلام کے ذکر کا بیان
4 Hadith
15
یوسف علیہ السلام کا ذکر
6 Hadith
16
اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام کا ذکر
2 Hadith
17
اللہ کے نبییونس علیہ السلام کا ذکر
4 Hadith
18
مچھلی والے یعنییونس علیہ السلام کی دعا اور ان کے حج کا ذکر
2 Hadith
19
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
20
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
4 Hadith
21
موسی علیہ السلام کا پتھر کے ساتھ واقعہ
3 Hadith
22
فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت اور جبریل علیہ السلام کا اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا بیان
2 Hadith
23
موسی علیہ السلام کا بنی اسرئیل کے ساتھ قصہ جب انھوں نے کہا: اے موسی ہمارا بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں
1 Hadith
24
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
1 Hadith
25
بنو اسرائیل کی بزدلی اور جبارقوم کے ساتھ لڑنے سے ان کے خوف کا بیان
1 Hadith
26
موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
2 Hadith
27
قارون کا دھنسنا اور موسی علیہ السلام کا اس کے ساتھ قصہ
2 Hadith
28
قارون، فرعون اور ہامان کی مذمت کا بیان
1 Hadith
29
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
3 Hadith
30
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.