TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان - انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان - Book 168 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 168 of Musnad Ahmad, with 30 chapters and 105 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

105 Hadith · 30 Chapters
اللہ کے نبی اسحاق علیہ السلام اور پھر یعقوب علیہ السلام کے ذکر کا بیان
۔ (۱۰۴۱۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: اِنِّیْ لَاَرْجُوْ اِنْ طَالَ بِیْ عُمَرٌ اَنْ اَلْقٰی عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَاِنْ عَجِلَ لِیْ مَوْتٌ فَمَنْ لَقِیَہُ مِنْکُمْ فَلْیُقْرِئْہُ مِنِّی السَّلَامَ۔)) (مسند احمد: ۷۹۵۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں امید کرتا ہوں، اگر میری عمر لمبی ہوئی تو میں عیسی بن مریم علیہ السلام سے ملاقات کر لوں گا اور اگر میری موت جلدی آ گئی تو تم میں سے جو آدمی ان کو ملے، ان کو میرا سلام کہہ دے۔
Takhreej
(۱۰۴۱۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرطھما (انظر: ۷۹۷۰)
Explanation
فوائد:… تمام مسلمان یہ حدیث ذہن نشین کریں اور اپنی نسل کو اس کی تعلیم دیں، تاکہ جس کے زمانے میں حضرت عیسی علیہ السلام کا ظہور ہو وہ ان کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سلام پہنچائے۔
10417
Sahih
یوسف علیہ السلام کا ذکر
۔ (۱۰۴۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْاَنْبِیَائُ اِخْوَۃٌ لِعَلَّاتٍ، اُمَّھَاتُھُمْ شَتّٰی وَدِیْنُھُمْ وَاحِدٌ، وَاَنَا اَوْلَی النَّاسِ بِِعَیْسَی بْنِ مَرْیَمَ لِاَنَّہُ لَمْ یَکُنْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ نَبِیٌّ، وَاِنَّہُ نَازِلٌ فَاِذَا رَاَیْتُمُوْہُ فَاعْرِفُوْہُ رَجُلًا مَرْبُوْعًا اِلَی الْحُمْرَۃِ وَ الْبَیَاضِ عَلَیْہِ ثَوْبَانِ مُمَصَّرَانِ کَاَنَّ رَاْسَہُ یَقْطُرُ وَ اِنْ لَمْ یُصِبْہُ بَلَلٌ، فَیَدُقُّ الصَّلِیْبَ، وَ یَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ، وَ یَضَعُ الْجِزْیَۃَ،وَیَدْعُوْ النَّاسَ اِلَی الْاِسْلَامِ، فَیُھْلِکُ اللّٰہُ فِیْ زَمَنِہِ الْمِلَلَ کُلَّھَا اِلَّا الْاِسْلَامَ، وَ یُھْلِکُ اللّٰہُ فِیْ زَمَانِہِ الْمَسِیْحَ الدَّجَّالَ، وَ تَقَعُ الْاَمَنَۃُ عَلَی الْاَرْضِ حَتّٰی تَرْتَعَ الْاَسْوَدُ مَعَ الْاِبِلِ، وَ النِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ، وَ الذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ، وَ یَلْعَبَ الصِّبْیَانُ بِالْحَیَّاتِ لَا تَضُرُّھُمْ، فَیَمْکُثُ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُتَوَفّٰی وَ یُصَلِّی عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) وَ یُدَفِّنُوْنَہُ۔)) (مسند احمد: ۹۲۵۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے، میں دنیا و آخرت میں عیسی بن مریم علیہ السلام کا سب سے زیادہ قریبی ہوں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے، بیشک وہ نازل ہونے والے ہیں، پس ان کو پہچان لینا، وہ معتدل قد کے آدمی ہیں، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل ہے، ان پر ہلکی زردی کے دو کپڑے ہوں گے، ایسے محسوس ہو گا جیسے ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہو، حالانکہ نمی (پانی) لگا نہیں ہو گا، (یعنی وہ انتہائی نظیف اور چمک دار رنگ کے نظر آ رہے ہوں گے) ، پس وہ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان کے اُس عہد میں اسلام کے علاوہ تمام مذاہب کو ختم کر دے گا، اللہ تعالیٰ ان کے ہی زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کرے گا، زمین پر اتنا امن و امان واقع ہو گا کہ سانپ اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائیوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے، بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہیں دیں گے، عیسی علیہ السلام زمین میں چالیس سال قیام کریںگے، پھر وہ فوت ہو جائیںگے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کر کے ان کو دفن کریں گے۔
Takhreej
(۱۰۴۱۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۴۳۲۴ (انظر: ۹۲۷۰)
Explanation
فوائد:… عیسی علیہ السلام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے آنے والے آخری پیغمبر تھے،اہل سنت والجماعت کا اتفاقی عقیدہ ہے کہ عیسی علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے ، قیامت کے قریب وہ آسمان سے اتریں گے، اس کے بعد وفات پائیں گے اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔ حضرت عیسی علیہ السلام امام مہدی کے زمانے میں نازل ہوں گے اور سات سال تک ٹھہریں گے، ان کے دور میں امن و امان اور مال و دولت کی فراوانی ہو گی، جہاں تک انسانیت ہو گی، وہاں تک اسلام ہو گا، دوسرے تمام ادیان ختم ہو جائیں گے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَہُمْ بِہٖمِنْعِلْمٍاِلَّااتِّبَاعَالظَّنِّوَمَاقَتَلُوْہُیَقِیْنًا۔ بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِـیْمًا۔ وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖقَبْلَمَوْتِہٖوَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِیَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا۔} … حالانکہ نہ انھوں نے (عیسی علیہ السلام ) کو قتل کیا اور نہ اسے سولی پر چڑھایا اور لیکن ان کے لیے اس (مسیح) کا شبیہ بنا دیاگیا اور بے شک وہ لوگ جنھوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے، یقینا اس کے متعلق بڑے شک میں ہیں، انھیں اس کے متعلق گمان کی پیروی کے سوا کچھ علم نہیں اور انھوں نے اسے یقینا قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر غالب، کمال حکمت والاہے۔اور اہل کتاب میں کوئی نہیں مگر اس کی موت سے پہلے اس پر ضرور ایمان لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔(سورۂ نسائ: ۱۵۷، ۱۵۸، ۱۵۹) اس روایت میں ان کے چالیس سال ٹھہرنے کا ذکر ہے، شارح ابوداود نے حافظ ابن کثیر کے حوالے یہ تطبیق پیش کی ہے کہ اس سے مراد عیسی علیہ السلام کی کل عمر ہے، اور مشہور بھییہی ہے کہ جب ان کو آسمان پر اٹھا یا گیا تو ان کی عمر تینتیس برس تھی۔ (عون المعبود: ۲/ ۱۹۸۷) واللہ اعلم جزیہ ختم کر دینے کا معنییہ ہے کہ دنیا پر ایک دین ہو گا، کوئی غیر مسلم بچے گا ہی نہیں کہ جو ذمی ہونے کی صورت میں جزیہ دے۔ ان کے زمانے میں امن اتنا عام ہو جائے گا کہ نقصان پہنچانے والے جانور بھی کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
10418
Sahih
یوسف علیہ السلام کا ذکر
۔ (۱۰۴۱۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) یَبْلُغُ بِہٖالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْشِکُ اَنْ یَنْزِلَ فِیْکُمُ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا مُقْسِطًا (وَ فِیْ لَفْظٍ حَکَمًا عَادِلًا وَ اِمِامًا مُقْسِطًا) یَکْسِرُ الصَّلِیْبَ، وَ یَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ، وَ یَضَعُ الْجِزْیَۃَ، وَ یَفِیْضُ الْمَالُ حَتّٰی لَا یَقْبَلَہُ اَحَدٌ۔))(مسند احمد: ۷۲۶۷)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ عیسی بن مریم علیہ السلام منصف فیصل بن کر تمہارے اندر نازل ہوں، وہ صلیت کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے اور مال اس قدر پھیل جائے گا کہ کوئی بھی اس کو قبول نہیں کرے گا۔ کتب ِ احادیث میں عیسی علیہ السلام کے نزول، نزول کے وقت اوران کے عہد کی خصوصیات کی کافی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
Takhreej
(۱۰۴۱۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
10419
Sahih
یوسف علیہ السلام کا ذکر
۔ (۱۰۴۲۰)۔ عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ حَنْظَلَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَنْزِلُ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ فَیَقْتُلُ الخِنْزِیْرَ، وَ یَمْحُوْ الصَّلِیْبَ، وَ تُجْمَعُ لَہُ الصَّلَاۃُ، وَ یُعْطِی الْمَالَ حَتّٰی لَا یُقْبَلَ، وَ یَضَعُ الْخَرَاجَ، وَ یَنْزِلُ الرَّوْحَائَ فَیَحُجُّ مِنْھَا اَوْ یَعْتَمِرُ اَوْ یَجْمَعُھُمَا۔)) قَالَ: وَتَلَا اَبُوْھُرَیْرَۃَ: {وَاِنْ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖقَبْلَمَوْتِہِوَیَوْمَ الْقِیَامَۃِیَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا} فَزَعَمَ حَنْظَلَۃُ اَنَّ اَبَاھُرَیْرَۃَ قَالَ: یُؤ ْمِنُ بِہٖقَبْلَمَوْتِعِیْسٰی فَـلَا اَدْرِیْ ھٰذَا کُلُّہُُ حَدِیْثُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْ شَیْئٌ قَالَہُ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ۔ (مسند احمد: ۷۸۹۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عیسی بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو مٹا دیں گے، نماز کو باجماعت ادا کیا جائے گا، لوگوں کو اس قدر مال دیں گے کہ کوئی بھی کسی سے قبول نہ کرے گا، وہ خراج کو ختم کر دیں گے اور عیسی علیہ السلام روحاء پر اتریں گے اور وہاں سے حج یا عمرہ یا دونوں ادا کریں گے۔ پھر سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیات تلاوت کیں: اور نہیں ہے اہل کتا ب میں سے کوئی بھی، مگر وہ اس کی موت سے قبل اس پر ایمان لائے گا۔ اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوں گے۔
Takhreej
(۱۰۴۲۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۷۹۰۳)
10420
Sahih
یوسف علیہ السلام کا ذکر
۔ (۱۰۴۲۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ حَنْظَلَۃَ الْاَسْلَمِیِّ سَمِعَ اَبَاھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَیُھِلَّنَّ ابْنُ مَرْیَمَ بِفَجَّ الرَّوْحَائِ حَاجًّا اَوْ مُعْتَمِرًا اَوْ لَیُثَنِّیَنَّھُمَا۔)) (مسند احمد: ۷۲۷۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے! ابن مریم ضرور روحاء کے راستے سے تلبیہ پکاریں گے، وہ حج یا عمرہ یا دونوںکی ادائیگی کے لیے آرہے ہوں گے۔
Takhreej
(۱۰۴۲۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۵۲(انظر: ۷۲۷۳)
Explanation
فوائد:… عیسی علیہ السلام کے بارے میں مزید ایک حدیث: سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((یَنْزِلُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ، فَیَقُوْلُ اَمِیْرُھُمُ الْمَھْدِيُّ: تَعَالَ صَلِّ بِنَا، فَیَقُوْلُ: لَا، اِنَّ بَعْضَھُمْ اَمِیْرُ بَعْضٍ ،تَکْرِمَۃُ اللّٰہِ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ۔)) … جب عیسی بن مریم ( علیہ السلام ) اتریں گے تو مسلمانوں کے امیر مہدی انھیں کہیں گے: آئیں اور نماز پڑھائیں۔ وہ کہیں گے: نہیں، تم ہی ایک دوسرے کے امام و امیر ہو، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کی عزت و تکریم ہے۔ (أخرجہ الحارث بن أبی أسامۃ فی مسندہ ، واصل الحدیث فی صحیح مسلم : ۱/ ۹۵، الصحیحۃ:۲۲۳۶) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: اصل حدیث صحیح مسلم میں ہے، جو سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی ایک دوسری سند کے ساتھ مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ((لَاتَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِیْیُقَاتِلُوْنَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِیْنَ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: ((فَیَنْزِلُ عَیْسٰی بْنُ مَرْیَمَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَقُوْلُ اَمِیْرُھُمْ: تَعَالَ صَلِّ لَنَا، فَیَقُوْلُ: لَا، اِنَّ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ اَمِیْرٌ، تَکْرِمَۃَ اللّٰہ ھٰذِہِ الْاُمَّۃَ۔))… میری امت کا ایک گروہ روزِ قیامت تک حق پر غالب رہے گا۔ پھر فرمایا: عیسی بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، مسلمانوں کے امیر ان کو کہیں گے: آئیں اور ہمیں نماز پڑھائیں۔ وہ جواب دیں گے: نہیں، تم خود ایک دوسرے کے امام ہو، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کی عزت ہو گی۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ وہ امیر امام مہدی ہوں گے۔ وباللہ التوفیق۔ (صحیحہ: ۲۲۳۶)
10421
Sahih

Chapters

30
01
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان (انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
6 Hadith
02
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
2 Hadith
03
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
6 Hadith
04
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
3 Hadith
05
ہود علیہ السلام کا بیان
3 Hadith
06
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
6 Hadith
07
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
4 Hadith
08
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
09
ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان
2 Hadith
10
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
8 Hadith
11
ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ مبارک، اسحاق کی پیدائش، سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی اور پھر ابراہیم علیہ السلام کی وفات کا بیان
3 Hadith
12
اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان
3 Hadith
13
اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
14
اللہ کے نبی اسحاق علیہ السلام اور پھر یعقوب علیہ السلام کے ذکر کا بیان
4 Hadith
15
یوسف علیہ السلام کا ذکر
6 Hadith
16
اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام کا ذکر
2 Hadith
17
اللہ کے نبییونس علیہ السلام کا ذکر
4 Hadith
18
مچھلی والے یعنییونس علیہ السلام کی دعا اور ان کے حج کا ذکر
2 Hadith
19
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
20
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
4 Hadith
21
موسی علیہ السلام کا پتھر کے ساتھ واقعہ
3 Hadith
22
فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت اور جبریل علیہ السلام کا اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا بیان
2 Hadith
23
موسی علیہ السلام کا بنی اسرئیل کے ساتھ قصہ جب انھوں نے کہا: اے موسی ہمارا بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں
1 Hadith
24
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
1 Hadith
25
بنو اسرائیل کی بزدلی اور جبارقوم کے ساتھ لڑنے سے ان کے خوف کا بیان
1 Hadith
26
موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
2 Hadith
27
قارون کا دھنسنا اور موسی علیہ السلام کا اس کے ساتھ قصہ
2 Hadith
28
قارون، فرعون اور ہامان کی مذمت کا بیان
1 Hadith
29
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
3 Hadith
30
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.