TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 908 - جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان - نیند کی وجہ سے وضو کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۹۰۸)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَتَوَضَّأُ اِذَا جَامَعَ وَاِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْجِعَ۔)) قَالَ سُفْیَانُ: أَبُو سَعِیْدٍ أَدْرَکَ الْحَرَّۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۱۰۵۰)
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب آدمی ایک دفعہ مجامعت کے بعد دوبارہ لوٹنا چاہے تو وہ وضو کر لے۔ سفیان نے کہا: سیدنا ابو سعید، حرّہ کی لڑائی کے دور کو پایا ہے یعنی اس وقت وہ زندہ تھے۔
908
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۰۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۰۸ (انظر: ۱۱۰۳۶)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… ۶۳ ھ میں یزید بن معاویہ اور اہل مدینہ کے ما بین حرہ کی لڑائی واقع ہوئی تھی۔ اس باب کی احادیث سے اور حدیث نمبر (۹۰۳) کی شرح میں مذکورہ حدیث سے پتہ چلا کہ جنبی آدمی کھانا کھاتے وقت ہاتھ دھوئے یا وضو کرے، اگر ہاتھوں پر نجاست کے آثار ہوں تو ہاتھ دھونا ضروری ہوں گے۔

Related Chapters

355
1
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
2
Chapter: It is permissible for one who is junub to sleep, but it is recommended for him to perform wudu’, and wash his private parts if he wants to eat, drink, sleep, or have intercourse
حالت جنابت میں سونے کا جواز اور (اگر انسان کا) کچھ کھانے پینے ، سونے یا مجامعت کا ارادہ ہو تواعضائے مخصوصہ دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
3
جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو اس کے وضو کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو اس کے صرف دونوں ہاتھ دھونے پر اکتفا کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
اگر جنبی دوبارہ صحبت کرنے کا ارادہ کرے تو وضو کر لے۔
Sunnan Nisai
6
(107)Chapter: What Has Been Related [About The Junub Person] When He Wants To Repeat (Sexual Relations) He Should Perform Wudu
باب: بیوی سے دوبارہ صحبت کرنے کا ارادہ کرنے پر جنبی وضو کر لے
Jam e Tirmazi
7
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
Musnad Ahmad
8
کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور اس کے شروع اور آخر میں دعائیں پڑھنے کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ قوم کا معزز آدمی کھانا کھانے کا آغاز کرے
Musnad Ahmad
9
باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
Musnad Ahmad
10
(24) CHAPTER. If (some people have to take an oath) and each of them wants to take it first.
جب چند آدمی ہوں اور ہر ایک قسم کھانے میں جلدی کرے تو پہلے کس سے قسم لی جائے
Sahih Bukhari
11
جنبی اگر دوبارہ ہمبستری کرنا چاہے تو وضو کرے
Sunnan Ibn e Maja
12
باب: جنبی جب پینے کا ارادہ کرے تو اس کے اپنے دونوں ہاتھ دھونے پر اکتفا کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
13
جنبی سونے کا ارادہ کرے تو وضو کر لے
Sunnan Nisai
14
باب: کسی بات کی قسم کھانے کے بعد آدمی اس سے بہتر چیز دیکھے تو کیا کرے؟
Sunnan Nisai
15
Chapter: What Has Been Mentioned About The Permission For The Sexually Impure (Junub) Person To Eat And Sleep When He Performs Wudu
باب: جنبی وضو کر لے تو اس کو کھانے اور سونے کی اجازت ہے
Jam e Tirmazi
16
مسجد میں وضو کر لینے اور سونے کا ارادہ رکھنے والے کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
17
عید الفطر کے موقع پر نکلنے سے پہلے کھانے کا مستحب ہونا، نہ کہ عید الاضحی میں اور ان دونوں میں نماز کے وقت پر کلام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
18
سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
19
ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
Musnad Ahmad
20
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
21
ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
22
زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے
Musnad Ahmad
23
توبہ کی کیفیت اور اس چیز کا بیان کہ توبہ کا ارادہ کرنے والا کیا کرے
Musnad Ahmad
24
(43) CHAPTER. When the Imam is called for As-Salat (the prayer) while he has in his hands something to eat.
جب امام کو نماز کے لیے بلایا جائے اور اس کے ہاتھ میں کھانے کی چیز ہو تو وہ کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
25
Chapter: What should be said when entering the area in which one relieves himself
جب بیت الخلا میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو کیا کہے
Sahih Muslim
26
Chapter: The virtue of sahur, which is recommended. It is recommended to delay it and to hasten the breaking of the fast
سحری کھانے کی فضیلت ‘اس کے استحباب کی تاکید اور اس میں تاخیر اورافطاری میں جلدی کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
27
Chapter: The one who eats, drinks, or has intercourse by mistake does not break his fast
بھول جانےوالے کے کھانے ‘پینے اور مجامعت کرنے سے روزہ ختم نہیں ہوتا
Sahih Muslim
28
Chapter: It is permissible to take someone else to the house of one who you are certain will approve of that and will not mind. It is recommended to gather to eat
اگر میزبان کی رضا مندی پر اعتماد ہو اس بات کا پورا یقین ہو تو کسی اور کو اپنے ساتھ اس (بلانے والے)کے گھر لے جاناجائز ہے ،اور کھانے پر اکھٹا ہونامستحب ہے
Sahih Muslim
29
Chapter: It is recommended to be humble when eating, and how to sit
کھانے والے کا تواضع اختیار کرنا مستحب ہے اور اس کے بیٹھنے کا طریقہ
Sahih Muslim
30
Chapter: The virtue of sharing a small amount of food, and the food of two is sufficient for three, and so on.
کم کھانے میں بھی مہمان نوازی کرنا،دو آدمیوں کا کھانا تین کو کافی ہوجاتاہے۔اور اسی طرح (تین کا چار کو اور آگے)
Sahih Muslim
31
Chapter: It Is Recommend To Praise Allah After Eating And Drinking
کھانے پینے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
32
CHAPTER: The Sexually Impure Person Who Wishes To Repeat (The Act).
باب: جنبی غسل سے پہلے دوبارہ جماع کر سکتا ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: Those Who Said That The Sexually Impure Should Perform Wudu’.
باب: جنبی کھانے اور سونے سے پہلے وضو کر لے ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CHAPTER: Regarding A Fasting Person Who Is Invited To A Walimah (Wedding Feast).
باب: روزہ دار کو ولیمہ کھانے کی دعوت دی جائے تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: If a person gets up from his seat then returns.
باب: دوبارہ مجلس میں آنے والا آدمی اپنی جگہ کا زیادہ مستحق ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
36
CHAPTER: Regarding when a man parts from another, then meets him again, he should greet him with the salam.
باب: کیا ( مل کر ) جدا ہو جانے والا دوبارہ ملنے پر سلام کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
37
کھانے پینے کے لیے جنبی کا صرف ہاتھ دھو لینا ہی کافی ہے
Sunnan Ibn e Maja
38
روزے کا ارادہ رکھتے ہوئے صبح تک جنبی رہنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
39
کافر جب اسلام لانے کا ارادہ کرے تو پہلے غسل کرے۔
Sunnan Nisai
40
جنبی کے سونے کا ارادہ کرنے پر اپنا عضو مخصوص دھونے اور وضو کرنے کا بیان
Sunnan Nisai
41
جس نماز سے آدمی سو جائے تو اسے دوسرے روز اس کے وقت پر دوبارہ پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
42
باب: مرد عورت پر بدکاری کا شبہ کرے اور بیٹے کے بارے میں شک کرے اور اس سے اپنی برأت کا ارادہ کرے تو اس کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
43
باب: لات (بت) کی قسم کھانے پر کیا کرے؟
Sunnan Nisai
44
باب: لات و عزّیٰ (نامی بتوں) کی قسم کھانے پر کیا کرے؟
Sunnan Nisai
45
باب: جس چیز کا آدمی مالک نہ ہو اس کے بارے میں قسم کھانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
46
(60)Chapter: [What Has Been Related About] Wudu From Camel Meat
باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
(100)Chapter: What Has Been Related About Eating With A Menstruating Woman And Leftovers
باب: حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جھوٹے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: : What Has Been Related About The Congregation In The Masjid Being Held Two Times
باب: جس مسجد میں ایک بار جماعت ہو چکی ہو اس میں دوبارہ جماعت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Sahar
باب: سحری تاخیر سے کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Sahar
باب: سحری کھانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

215
Musnad Ahmad
11613
۔ (۱۱۶۱۳)۔ (۹۰۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَتَوَضَّأُ اِذَا جَامَعَ وَاِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْجِعَ۔)) قَالَ سُفْیَانُ: أَبُو سَعِیْدٍ أَدْرَکَ الْحَرَّۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۱۰۵۰)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی ایک دفعہ مجامعت کے بعد دوبارہ لوٹنا چاہے تو وہ وضو کر لے۔ سفیان نے کہا: سیدنا ابو سعید، حرّہ کی لڑائی کے بعد تک زندہ رہے۔
Musnad Ahmad
630
۔ (۶۳۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ عَنْ أَبِیْہِ)۔ أَنَّ جَدَّہٗ قَالَ لِعَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍؓ: ہَلْ تَسْتَطَیْعُ أَنْ تُرِیَنِیْ کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ یَتَوَضَّأُ؟ قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ زَیْدٍ: نَعَمْ، فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَغَسَلَ یَدَہُ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًاثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ یَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَہٗ بِیَدَیْہِ فَأَقْبَلَ بِہِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِہِ ثُمَّ ذَہَبَ بِہِمَا اِلَی قَفَاہُ ثُمَّ رَدَّہُمَا حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَکَانِ الَّذِی بَدَأَ مِنْہُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ ( وَفِی رِوَایَۃٍ: أَنَّہُ مَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّتَیْنِ وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ مَرَّتَیْنِ)۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۴۵)
۔ (دوسری سند) ان کے دادا جان نے سیدنا عبد اللہ بن عاصمؓ سے کہا: کیا تم مجھے یہ دکھا سکتے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کیسے وضو کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پھر انھوں نے وضو کا پانی منگوایا اور دو بار اپنے ہاتھ دھوئے، پھر تین بار کلی کی اور ناک جھاڑا، پھر تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر دونوں بازوؤں کو دو دو مرتبہ دھویا، پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا اس طرح مسح کیا کہ ان کو آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لے آئے، تفصیل یہ ہے کہ سر کے سامنے والے حصے سے شروع کیا اور ہاتھوں کو گدی تک لے گئے، پھر ان کو اسی جگہ پر لوٹایا، جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے پاؤں دھوئے۔ ایک روایت میں ہے: سر کا مسح دو بار کیا اور پاؤں بھی دو دو مرتبہ دھوئے۔
Musnad Ahmad
631
۔ (۶۳۱)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِسْمَعِیْلُ (یَعْنِی ابْنَ اِبْرَاہِیْمَ) حَدَّثَنَا سَعِیْدٌ الْجُرَیْرِیُّ عَنْ أَبِیْ عَائِذٍ سَیْفٍ السَّعْدِیِّ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ خَیْرًا عَنْ یَزِیْدَ بْنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ وَکَانَ أَمِیْرًا بِعُمَّانَ وَکَانَ کَخَیْرِ الْأُمَرَائِ، قَالَ أَبِیْ: اِجْتَمِعُوا فَلِاُرِیَکُمْ کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ وَکَیْفَ کَانَ یُصَلِّی، فَاِنِّیْ لَا أَدْرِیْ مَا قَدْرُ صُحْبَتِیْ اِیَّاکُمْ، قَالَ: فَجَمَعَ بَنِیْہِ وَأَہْلَہُ وَدَعَا بِوَضُوئٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ الْیَدَ الْیُمْنَی ثَلَاثًا وَغَسَلَ یَدَہُ ہَذِہِ ثَلَاثًا یَعْنِی الْیُسْرٰی ثُمَ مَسَحَ رَأْسَہُ وَأُذُنَیْہِ ظَاہِرَہُمَا وَبَاطِنَہُمَا وَغَسَلَ ہٰذِہِ الرِّجْلَ یَعْنِی الْیُمْنٰی ثَـلَاثًا وَغَسَلَ ہٰذِہِ الرِّجْلَ ثَلَاثًا یَعْنِی الْیُسْرٰی، قَالَ: ہٰکَذَا مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِیَکُمْ کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ ثُمَّ دَخَلَ بَیْتَہُ فَصَلّٰی صَلَاۃً مَا نَدْرِیْ مَا ہِیَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِالصَّلٰوۃِ فَأُقِیْمَتْ فَصَلّٰی بِنَا الظُّہْرَ، فَأَحْسِبُ أَ نِّیْ سَمِعْتُ مِنْہُ آیَاتٍ مِنْ یٰسٓ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الْمَغْرِبَ ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الْعِشَائَ وَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِیَکُم کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ وَکَیْفَ کَانَ یُصَلِّیْ۔ (مسند أحمد: ۱۸۷۳۶)
یزید بن براء ، جو عمان کے امیر تھے اور عام امراء میں سے بہترین امیر تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ سیدنا براء بن عازبؓ نے کہا: جمع ہو جاؤ، تاکہ میں تمہیں دکھا سکوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کیسے وضو کرتے تھے اور کیسے نماز پڑھتے تھے، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ میں نے تمہارے ساتھ کتنا عرصہ رہنا ہے، بہرحال انھوں نے اپنے بیٹوں اور اہل وعیال کو جمع کیا اور وضو کا پانی منگوایا، پس کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ تین دفعہ دھویا، اس کے بعد بایاں ہاتھ تین بار دھویا، پھر سر کا اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصوں کا مسح کیا، پھر اس دائیں پاؤں اور اس کے بعد بائیں پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا اور کہا: اسی طرح وضو تھا، میں نے تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی کیفیت دکھانے میں کوئی کمی نہیں کی، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور ایک نماز پڑھی، ہم اس کے بارے میں نہیں جانتے کہ وہ کون سی نماز تھی، پھر باہر تشریف لائے اور نماز کا حکم دیا، پس اقامت کہی گئی اور انھوں نے ہمیں نمازِ ظہر پڑھائی، میرا خیال ہے کہ میں نے اِس نماز میں سورۂ یس کی کچھ آیتیںسنی تھیں، پھر عصر کی نماز پڑھائی، اس کے بعد مغرب کی اور پھر عشا کی نماز پڑھائی اور پھر کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کیسے وضو کرتے تھے اور کیسے نماز پڑھتے تھے، میں نے تم کو یہ چیزیں دکھانے میں کوئی کمی نہیں کی۔
Musnad Ahmad
2739
۔ (۲۷۳۹)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا یُونسُ ثَنَا لَیْثٌ عَنْ مُحَمَّدٍ یَعْنِیْ ابْنَ عَجْلَانَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِی سَعِیْدٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ وَدِیْعَۃَ الْخُدْرِیِّ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (مِثْلُہُ وَفِیْہِ) قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَکَرْتُ لِعُبَادَۃَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالَ: صَدَقَ وَزِیَادَۃُ ثَـلَاثَۃِ أَیَّامٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۰۲)
(دوسری سند) اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ عبادہ بن عامر نے اوپر والی روایت کے بارے میں کہا: اس نے سچ کہا، بلکہ مزید تین دن (کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں)۔
Musnad Ahmad
12962
۔ (۱۲۹۶۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَقْبَلْنَا فِیْ جَیْشٍ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ قِبَلَ ہٰذَا الْمَشْرِقِ قَالَ: فَکَانَ فِی الْجَیْشِ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ صَیَّادٍ وَکَانَ لَایُسَایِرُہُ اَحَدٌ وَلَایُرَافِقُہُ وَلَایُوَاکِلُہُ وَلَایُشَارِبُہُ وَیُسَمُّوْنَہُ الدَّجَّالَ، فَبَیْنَا اَنَا ذَاتَ یَوْمٍ نَازِلٌ فِیْ مَنْزِلٍ لِیْ اِذْ رَآنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنِ صَیَّادٍ جَالِسًا، فَجَائَ حَتّٰی جَلَسَ اِلَیَّ، فَقَالَ: یَا اَبَاسَعِیْدٍ! اَ لَا تَرٰی اِلٰی مَا یَصْنَعُ النَّاسُ، لَایُسَایِرُنِیْ اَحَدٌ وََلَایُرَافِقُنِیْ اَحَدٌ وَلَایُشَارِبُنِیْ اَحَدٌ وَلَایُوَاکِلُنِیْ اَحَدٌ وَیَدَّعُوْنِی الدَّجَّالَ وَقَدْ عَلِمْتَ اَنْتَ یَا اَبَاسَعِیْدٍ! اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الدَّجَّالَ لَا یَدْخُلُ الْمَدِیْنَۃَ۔)) وَاِنِّیْ وُلِدْتُّ بِالْمَدِیْنَۃِ وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الدَّجَّالَ لَایُوْلَدُ لَہُ۔)) وَقَدْ وُلِدَ لِیْ، فَوَاللّٰہِ لَقَدْ ھَمَمْتُ مِمَّا یَصْنَعُ بِیْ ھٰؤُلَائِ النَّاسِ اَنْ آخُذَ حَبْلاً فَاَخْلُوَ فَاَجْعَلَہُ فِیْعُنُقِیْ فَاَخْتَنِقَ فَاسْتَرِیْحَ مِنْ ھٰؤُلَائِ النَّاسُ، وَاللّٰہِ! مَا اَنَا بِالدَّجَّالِ وَلٰکِنْ وَاللّٰہِ! لَوْ شِئْتَ لَاَخْبَرْتُکَ بِاِسْمِہِ وَاِسْمِ اَبِیْہِ وَاِسْمِ اُمِّہِ وَاِسْمِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْیَخْرُجُ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۱۱۷۷۱)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم ایک لشکرمیں مشرق کی جانب واقع ایک شہر سے آئے، اس لشکر میں عبداللہ بن صیاد بھی تھا، کوئی آدمی نہ اس کے ساتھ چلتا تھا، نہ بیٹھتا تھا اور نہ اس کے ساتھ کھانا پینا پسند کرتا تھا اور لوگ اسے دجال کہتے تھے۔ میں ایک دن اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ عبداللہ بن صیاد نے مجھے دیکھ لیا اور میرے پاس آکر بیٹھ گیا اورکہنے لگا: ابو سعید ! لوگ میرے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں، تم دیکھتے ہی ہو، کوئی میرے ساتھ چلنا، بیٹھنا اور کھانا پینا پسند نہیں کرتا اور کہتے بھی مجھے دجال ہیں، ابو سعید! آپ تو جانتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ: دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ جبکہ میری تو ولادت ہی مدینہ میںہوئی اور آپ یہ بھی اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سن چکے ہیں کہ: دجال کی اولاد نہیں ہوگی۔ جبکہ میری تو اولاد بھی ہے، اللہ کی قسم! لوگوں کا یہ رویہ دیکھ کر میںنے ارادہ کیا ہے کہ کسی خلوت والی جگہ جا کر ایک رسی اپنے گلے میں ڈالوں اور اسے گھونٹ دوں اور لوگوں کی باتوں سے راحت پالوں۔ اللہ کی قسم ! میں دجال نہیںہوں۔ اللہ کی قسمْ اگر تم چاہتے ہو تومیں تم لوگوں کو اس کا ، اس کے والد اور والدہ کے ناموں سے اور جس بستی سے اس کا ظہور ہوگا، اس بستی کے نام سے آپ کو آگاہ کر دیتا ہوں۔
Musnad Ahmad
13338
۔ (۱۳۳۳۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا رِبْعِیُّ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِسْحٰقَ ثَنَا زَیْدُ بْنُ اَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَاَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ نَرٰی رَبَّنَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ: ((ھَلْ تُضَارُّوْنَ فِی الشَّمْسِ لَیْسَ دُوْنَہَا سَحَابٌ؟)) قَالَ: قُلْنَا: لَا، قَالَ: ((فَہَلْ تُضَارُّوْنَ فِی الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ لَیْسَ دُوْنَہُ سَحَابٌ؟)) قَالَ: قُلْنَا: لَا، قَالَ: ((فَاِنَّکُمْ تَرَوْنَ رَبَّکُمْ کَذٰلِکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،یَجْمَعُ اللّٰہُ النَّاسَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِیْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ قَالَ: فَیُقَالُ: مَنْ کَانَ یَعْبُدُ شَیْْئًا فَلْیَتَّبِعْہُ قَالَ: فَیَتَّبِعُ الَّذِیْنَ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الشَّمْسَ اَلشَّمْسَ، فَیَتَسَاقَطُوْنَ فِی النَّارِ، وَیَتَّبِعُ الَّذِیْنَ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْقَمَرَ الْقَمَرَ فَیَتَسَاقَطُوْنَ فِی النَّارِ وَیَتَّبِعُ الَّذِیْنَ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْاَوْثَانَ الْاَوْثَانَ وَالَّذِیْنَ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْاَصْنَامَ الْاَصْنَامَ، فَیَتَسَاقَطُوْنَ فِی النَّارِ، قَالَ: وَکُلُّ مَنْ یَعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَتّٰییَتَسَاقَطُوْنَ فِیالنَّارِ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : فَیَبْقٰی الْمُوْمِنُوْنَ وَمُنَافِقُوْھُمْ بَیْنَ ظَہْرَیْْہِمْ وَبَقَایَا اَھْلِ الْکِتٰبِ وَقَلَّلَہُمْ بِیَدِہٖ، قَالَ: فَیَاْتِیْہِمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَیَقُوْلُ: اَلَا تَتَّبِعُوْنَ مَاکُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ: کُنَّا نَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَمْ نَرَ اللّٰہَ فَیَکْشِفُ عَنْ سَاقٍ، فَلَا یَبْقٰی اَحَدٌ کَانَ یَسْجُدُ لِلّٰہِ اِلَّا وَقَعَ سَاجِدًا، وَلَایَبْقٰی اَحَدٌ کَانَ یَسْجُدُ رِیَائً وَسُمْعَۃً اِلَّا وَقَعَ عَلٰی قَفَاہُ، قَالَ: ثُمَّ یُوْضَعُ الصِّرَاطُ بَیْنَ ظَہْرَیْ جَہَنَّمَ وَالْاَنْبِیَائُ بِنَاحِیَتْیِہِ، قَوْلُھُمْ: اَللّٰھُمَّ سَلِّمْ، سَلِّمْ، اَللّٰہُمَّ سَلِّمْ، سَلِّمْ، وَاِنَّہُ لَدَحْضٌ مَزَلَّۃٌ وَاِنَّہُ لَکَلَالِیْبُ وَخَطَاطِیْفُ، قَالَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ: وَلَا اَدْرِیْ لَعَلَّہُ قَالَ: تَخْطِفُ النَّاسُ وَحَسَکَۃٌ تَنْبُتُ بِنَجْدٍ یُقَالُ لَھَا السَّعْدَانُ قَالَ: وَنَعَتَہَا لَھُمْ ، قَالَ: فَاَکُوْنُ اَنَا وَاُمَّتِیْ لَاَوَّلَ مَنْ مَرَّ اَوْ اَوَّلَ مَنْ یُّجِیْزُ، قَالَ: فَیَمُرُّوْنَ عَلَیْہِ مِثْلَ الْبَرْقِ وَمِثْلَ الرِّیْحِ وَمِثْلَ اَجَاوِیْدِ الْخَیْلِ وَالرِّکَابِ فَنَاجٍ مُسْلَّمٌ وَمَخْدُوْشٌ مُکَلَّمٌ وَمَکْدُوْسٌ فِی النَّارِ، فَاِذَا قَطَعُوْہُ اَوْ فَاِذَا جَاوَزُوْہُ، فَمَا اَحَدُکُمْ فِیْ حَقٍّ یَعْلَمُ اَنَّہُ حَقٌّ لَہُ بَاَشَدَّ مُنَاشَدَۃً مِنْہُمْ فِیْ اِخْوَانِہِمُ الَّذِیْنَ سَقَطُوْا فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ اَیْ رَبِّ! کُنَّا نَغْزُوْا جَمِیْعًا وَنَحُجُّ جَمِیْعًا وَنَعْتَمِرُ جَمِیْعًا فَبِمَ نَجَوْنَا الْیَوْمَ وَھَلَکُوْا، قَالَ: فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اُنْظُرُوْا مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖزِنَۃُ دِیْنَارٍ مِنْ اِیْمَانٍ فَاَخْرِجُوْہُ، قَالَ: فَیُخْرَجُوْنَ، قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ: مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖزِنَۃُ قِیْرَاطٍ مِنْ اِیْمَانٍ فَاَخْرِجُوْہُ، قَالَ: فَیُخْرَجُوْنَ، قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ: مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖمِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِنْ اِیْمَانٍ فَاَخْرِجُوْہُ، قَالَ: فَیُخْرَجُوْنَ قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ اَبُوْ سَعِیْدٍ: بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ کِتَابُ اللّٰہِ، قَالَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ: وَاَظُنُّہُ یَعْنِیْ قَوْلَہُ {وَاِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ اَتَیْْنَا بِہَا وَکَفٰی بِنَا حَاسِبِینَ } قَالَ: فَیُخْرَجُوْنَ مِنَ النَّارِ فَیُطْرَحُوْنَ فِی نَہْرٍ یُقُال لَہُ نَہْرُ الْحَیَوَانِ فَیَنْبُتُوْنَ کَمَا تَنْبُتُ الْحَبُّ فِیْ حَمِیْلِ السَّیْلِ، اَلَاتَرَوْنَ مَا یَکُوْنُ مِنَ النَّبَتِ اِلَی الشَّمْسِیَکُوْنُ اَخْضَرَ وَمَا یَکُوْنُ اِلَی الظِّلْ یَکُوْنُ اَصْفَرَ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَاَنَّکَ کُنْتَ قَدْ رَعَیْتَ الْغَنَمَ؟ قَالَ: (((اَجَلْ قَدْ رَعَیْتُ الْغَنَمَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۴۴)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اللہ تعالیٰ کا دیدار کر سکیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب بادل نہ ہوں تو کیا سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشقت ہوتی ہے؟ ہم نے کہا: جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چودھویں کی رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی تکلیف ہوتی ہے؟ ہم نے کہا: جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم قیامت کے دن اپنے ربّ کو اسی طرح بسہولت دیکھو گے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک کھلے میدان میں جمع کر ے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ دنیا میںجو کوئی جس کی عبادت کیا کرتا تھا، وہ اس کے پیچھے چلا جائے، چنانچہ سورج کی پوجا کرنے والے اس کے پیچھے چل پڑے گے اور وہ ان کو جہنم میں جا گرائے گا، چاند کی پرستش کرنے والے اس کے پیچھے چل پڑیں گے اور جہنم میں جا گریں گے اور دوسرے مختلف بتوں کی عبادت کرنے والے ان کے پیچھے چل پڑیں اور اس طرح جہنم میںجا گریں گے۔ صرف اہل ایمان باقی رہ جائیں گے، جبکہ ان میں منافقین اور کچھ اہل ِ کتاب بھی ہوں گے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ کے اشارہ سے اہل کتاب کی تعداد کی قلت کی طرف اشارہ کیا، پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس آکر ان سے کہے گا: تم جس کی عبادت کیا کرتے تھے، اس کے پیچھے کیوں نہیں جاتے؟ وہ کہیں گے: ہم تو ایک اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے اور ہم نے ابھی تک اس کو دیکھا ہی نہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کو نمایاں کرے گا، جو لوگ صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا کرتے تھے، وہ فوراً اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے اور جو لوگ محض دکھلاوے اور شہرت کے لیے سجدے کیا کرتے تھے، وہ سجدہ نہیں کر سکیں گے بلکہ گدی کے بل گر جائیں گے، اس کے بعد جہنم پر پل صراط نصب کیا جائے گا، انبیاء و رسل اس کی دونوں اطراف میں کھڑے ہر یہ دعائیں کر رہے ہوں گے: اے اللہ! محفوظ رکھنا، محفوظ رکھنا، اے اللہ! بچانا ، بچانا، اس پل پر شدید قسم کی پھسلن ہوگی اور وہاںبے شمارخمدار سلاخین اور کنڈیاں لگی ہوں گی،وہ گزرنے والوں کو اچک لیں گی اور وہاں نجد کے علاقے میں اگنے والے سعدان درخت کے کانٹوں کی طرح کے کانٹے ہوں گے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کانٹوں کی صفات بھی بیان کیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اور میری امت سب سے پہلے اس پل کو پار کریں گے، اس کے اوپر سے لوگ بجلی کی رفتار سے، تیز ہوا کی رفتار سے، بہترین تیز رفتار گھوڑوں کی رفتار سے اور تیز اونٹوں کی رفتار سے گزریں گے، بعض لوگ صحیح سالم نجات پا جائیں گے اور بعض گرتے پڑتے زخمی ہو کر گزریں گے اور گر جانے والے جہنم میں جاگریں گے، اس پل کو پار کرجانے والے لوگ دنیا میں اپنے یقینی حق پر جو جھگڑا کرتے تھے، اس سے زیادہ تکرار وہ اپنے ان بھائیوں کے حق میں کریں گے، جو جہنم میں گر جائیں گے، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم اکٹھے جہاد کرتے تھے، مل کر حج وعمرہ کرتے تھے، تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم نجات پا گئے اور وہ ہلاک ہو گئے؟ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: دیکھو، جن لوگوں کے دلوںمیں ایک دینار کے برابر ایمان ہو ان کو نکال لاؤ، چنانچہ ایسے لوگوں کو جہنم سے باہر نکال لیا جائے گا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جن کے دلوں میں ایک قیراط کے برابر ایمان ہو، ان کو بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ ایسے لوگوں کو بھی نکال لیاجائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جن لوگوں کے دلوں میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہو، ان کو بھی نکال لاؤ، چنانچہ ایسے لوگوں کو بھی جہنم سے نکال لیاجائے گا۔ اس کے بعد سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس بات کی تائید کے لیے میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کافی ہے، عبدالرحمن بن اسحاق کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ان کا اشارہ اس آیت کی طرف تھا: {وَاِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِھَا وَ کَفٰی بِنَا حَاسِبِیْنَ} (اور اگر کسی کے پاس رائی کے ایک دانے کے برابر ایمان ہوا تو ہم اسے سامنے لے آئیں گے اور محاسبہ کرنے میں ہم کافی ہیںـ)۔ آگے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور اِن جہنمیوں کو جہنم سے نکال کر نہر الحیوان میں ڈالا جائے گا، اس میں وہ لوگ اس طرح اگیں گے، جیسے سیلاب کی لائی ہوئی مٹی وغیرہ میں دانے اگتے ہیں، کیا تم دیکھتے ہو کہ جو پودا سورج کی طرف ہو وہ سبز ہوتا ہے اور جو سائے میں ہو وہ زرد ہوتا ہے۔ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! معلوم ہوتا ہے کہ آپ بکریاں چراتے رہے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، میں نے بکریاں چرائی ہیں۔
Musnad Ahmad
13339
۔ (۱۳۳۳۹)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یَحْیٰی بْنُ آدَمَ ثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ عَزَّوَجَلَّ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! نَرٰی رَبَّنَا؟ قَالَ: فَقَالَ: ((ھَلْ تُضَارُّوْنَ فِیْ رُؤْیَۃِ الشَّمْسِ نَصْفَ النَّہَارِ؟)) قَالُوْا:لَا، قَالَ: ((فَتُضَارُّوْنَ فِیْ رُؤْیَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ؟)) قَالُوْا: لَا، قَالَ: ((فَاِنَّکُمْ لَا تُضَارُّوْنَ فِیْ رُؤْیَتِہٖ اِلَّا کَمَا تُضَارُّوْنَ فِیْ ذٰلِکَ۔)) قَالَ الْاَعْمَشُ: لَاتُضَارُّوْنَ، یَقُوْلُ: لَاتُمَارُوْنَ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۳۷)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم عنقریب اپنے ربّ تعالیٰ کا دیدار کرو گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے ربّ کا دیدار کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشقت ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی طرح اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے میں بھی تمہیں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی، مگر اسی طرح کہ جتنی سورج اور چاند کو دیکھتے وقت دقت پیش آتی ہے۔ اعمش نے لا تضارون کا معنی لا تمارون کیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار کرتے ہوئے دھکم پیل نہیں ہوگی۔
Silsila Sahih
842
) قال صلی اللہ علیہ وسلم : خَيْرُ تَمَراتِكُم الْبَرْنِيّ، يَذْهَبُ بِالدَّاءِ وَلَا دَاءَ فِيهِ. روی من حدیث بریدہ بن الحصیب و انس بن مالک و ابی سعید الخدری و نریدہ ؟؟؟ بن عبداللہ علی بن ابی طالب و بعض ؟؟؟ عبدالقیس
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہاری بہترین كھجور برنی ہے۔ بیماری ختم كرتی ہے اور اس میں كوئی بیماری نہیں ۔( )
Silsila Sahih
2049
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ (وَفِي رِوَايَة: حَقٌّ). عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ. ( )ورد من حدیث ابی سعید الخدری، و ابی امامة و طارق بن شہاب، و جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھم والزھری مرسلا.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے انصاف (اور ایک روایت میں ہے: حق)کا کلمہ کہنا ہے ۔ یہ حدیث سیدنا ابوسعید خدری، ابوامامہ، طارق بن شہاب اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے اور امام زھری سے مرسلا مروی ہے۔