TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان

Chapter 23 of جہاد کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 23 of 53 · 5 Hadith
۔ (۴۹۷۳)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ أَنَّ ابْنَ جَابِرِ بْنِ عَتِیکٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ مِنْ الْغَیْرَۃِ مَا یُحِبُّ اللّٰہُ،وَمِنْہَا مَا یُبْغِضُ اللّٰہُ، وَمِنْ الْخُیَلَائِ مَا یُحِبُّ اللّٰہُ، وَمِنْہَا مَا یُبْغِضُ اللّٰہُ، فَالْغَیْرَۃُ الَّتِی یُحِبُّ اللّٰہُ الْغَیْرَۃُ فِی الرِّیبَۃِ، وَالْغَیْرَۃُ الَّتِی یُبْغِضُ اللّٰہُ الْغَیْرَۃُ فِی غَیْرِ رِیبَۃٍ، وَالْخُیَلَائُ الَّتِی یُحِبُّ اللّٰہُ اخْتِیَالُ الْعَبْدِ بِنَفْسِہِ لِلّٰہِ عِنْدَ الْقِتَالِ، وَاخْتِیَالُہُ بِالصَّدَقَۃِ، وَالْخُیَلَائُ الَّتِی یُبْغِضُ اللّٰہُ الْخُیَلَائُ فِی الْفَخْرِ وَالْکِبْرِ)) أَوْ کَالَّذِی قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۲۴۱۵۱)
۔ سیدنا جابر بن عتیک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ غیرت کی بعض صورتوں کو پسند کرتا ہے اور بعض کو ناپسند ، اسی طرح وہ فخر کی بعض قسموں کو پسند کرتا ہے اور بعض کو ناپسند، وہ جس غیرت کو پسند کرتا ہے، اس کا تعلق تہمت سے ہے اور جس غیرت کو ناپسند کرتاہے، اس میں کوئی تہمت اور گمان نہیں ہوتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ جس فخر کو پسند کرتا ہے، وہ ہے بندے کا قتال کے وقت اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے نفس کے ساتھ فخر کرنا اور صدقہ کے ساتھ فخر کرنا اور وہ جس فخر کو ناپسند کرتا ہے، اس کا تعلق تکبر سے ہوتا ہے۔
Takhreej
(۴۹۷۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ أبوداود: ۲۶۵۹، والنسائی: ۵/ ۷۸(انظر: ۲۳۷۵۰)
Explanation
فوائد:… وہ جس غیرت کو پسند کرتا ہے، اس کا تعلق تہمت سے ہے مثال کے طور پر جب آدمی اپنے محرم رشتہ داروں میں کوئی حرام فعل دیکھتا ہے تو اس پر اس کو غیرت آتی ہے اور وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح بدنام لوگوں سے میل جول رکھنا، مے خانوں اور جوا خانوں میں بیٹھنا، غیر محرم عورتوں کے ساتھ تنہائی اور خلوت اختیار کرنا۔
4973
Sahih
۔ (۴۹۷۴)۔ قَیْسُ بْنُ بِشْرٍ التَّغْلِبِیُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِی أَبِی وَکَانَ جَلِیسًا لِأَبِی الدَّرْدَائِ، قَالَ: کَانَ بِدِمَشْقَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقَالُ لَہُ: ابْنُ الْحَنْظَلِیَّۃِ، وَکَانَ رَجُلًا مُتَوَحِّدًا، قَلَّمَا یُجَالِسُ النَّاسَ، إِنَّمَا ہُوَ فِی صَلَاۃٍ فَإِذَا فَرَغَ فَإِنَّمَا یُسَبِّحُ وَیُکَبِّرُ حَتّٰی یَأْتِیَ أَہْلَہُ، فَمَرَّ بِنَا یَوْمًا وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِی الدَّرْدَائِ، فَقَالَ لَہُ أَبُو الدَّرْدَائِ کَلِمَۃً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّکَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَرِیَّۃً فَقَدِمْتُ، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْہُمْ، فَجَلَسَ فِی الْمَجْلِسِ الَّذِی فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ لِرَجُلٍ إِلٰی جَنْبِہِ: لَوْ رَأَیْتَنَا حِینَ الْتَقَیْنَا نَحْنُ وَالْعَدُوَّ، فَحَمَلَ فُلَانٌ فَطَعَنَ فَقَالَ: خُذْہَا وَأَنَا الْغُلَامُ الْغِفَارِیُّ، کَیْفَ تَرٰی فِی قَوْلِہِ؟ قَالَ: مَا أُرَاہُ إِلَّا قَدْ أَبْطَلَ أَجْرَہُ، فَسَمِعَ ذٰلِکَ آخَرُ، فَقَالَ: مَا أَرٰی بِذٰلِکَ بَأْسًا، فَتَنَازَعَا حَتّٰی سَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((سُبْحَان اللّٰہِ لَا بَأْسَ أَنْ یُحْمَدَ وَیُؤْجَرَ۔)) قَالَ: فَرَأَیْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ سُرَّ بِذٰلِکَ، وَجَعَلَ یَرْفَعُ رَأْسَہُ إِلَیْہِ وَیَقُولُ: آنْتَ سَمِعْتَ ذٰلِکَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَیَقُولُ: نَعَمْ، فَمَا زَالَ یُعِیدُ عَلَیْہِ حَتَّی إِنِّی لَأَقُولُ لَیَبْرُکَنَّ عَلٰی رُکْبَتَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۷۷۶۷)
۔ قیس بن بشر تغلبی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے بتایا، جبکہ وہ سیدنا ابو درداء کے ہم نشیں تھے، انھوں نے کہا: دمشق میں ایک صحابی تھا، اس کو ابن حنظلیہ کہا جاتا تھا، یہ خلوت پسند آدمی تھا اور لوگوں کے ساتھ بہت کم بیٹھتا تھا، بس ہر وقت نماز میں لگا رہتا، جب اس سے فارغ ہوتا تو تسبیح و تکبیر شروع کر دیتا، یہاں تک کہ اپنے گھر والوں کے پاس آ جاتا، ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرا، جبکہ ہم سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے کہا کہ ایک ایسی بات بتائیں، جو ہمیں فائدہ دے اور تجھے نقصان نہ دے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک سریہ بھیجا، پس جب میں پہنچا تو اس سریہ میں سے ایک آدمی بھی پہنچ گیا اور وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مجلس میں بیٹھ گیا اور اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے آدمی سے کہا: اس کے بارے میں تیرا خیال ہے کہ ہماری دشمن سے ٹکر ہو جاتی ہے، فلاں مسلمان آدمی حملہ کرتا ہے اور نیزہ مارتے ہوئے کہتا ہے: یہ لے نا اور میں غفاری جوان ہوں، اس کی اس بات کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا: میرا خیال تو یہی ہے کہ اس نے اپنے اجر کو ضائع کر دیا ہے، لیکن جب تیسرے آدمی نے بات سنی تو اس نے کہا: ایسا کہنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے، ان کا تو اس میں جھگڑا ہونے لگا، یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی بات سن لی اور فرمایا: بڑا تعجب ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آدمی کی تعریف بھی کی جائے اور اس کو اجر بھی دیا جائے۔ میں نے دیکھا کہ سیدنا ابو درداء کو اس بات سے خوشی ہوئی اور وہ اس آدمی کی طرف سر اٹھا کر دیکھنے لگے اور پوچھا: کیا تو نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر وہ اس بات کو دوہراتے رہے، یہاں تک کہ انھوں نے اس بات کو اتنی بار دوہرایا کہ میں نے کہا: وہ ضرور ضرور اس کے گھٹنوں پر ٹیک لگا دیں گے۔
Takhreej
(۴۹۷۴) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین، أخرجہ أبوداود: ۴۰۸۹(انظر: ۱۷۶۲۲)
Explanation
فوائد:… سوال یہ تھا کہ مارنے والے کا ان الفاظ یہ لے نا اور میں غفاری جوان ہوں سے مقصود یہ ہو کہ لوگ اس کی تعریف کریں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جواب سے معلوم ہوا کہ جہاد میں ایسے امور کی گنجائش ہے، تاکہ مجاہدین بہادری کا مظاہرہ کر سکیں، جیسا کہ فخر کی بعض صورتوں کو جہاد میں جائز قرار دیا گیا۔
4974
Zaeef
۔ (۴۹۷۵)۔ عن أَبی حَیَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ شَیْخًا بِالْمَدِینَۃِ یُحَدِّثُ: أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أَبِی أَوْفَی کَتَبَ إِلٰی عُبَیْدِ اللّٰہِ إِذْ أَرَادَ أَنْ یَغْزُوَ الْحَرُورِیَّۃَ، فَقُلْتُ لِکَاتِبِہِ وَکَانَ لِی صَدِیقًا: انْسَخْہُ لِی، فَفَعَلَ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ: ((لَا تَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ الْعَافِیَۃَ، فَإِذَا لَقِیتُمُوہُمْ فَاصْبِرُوْا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوفِ۔)) قَالَ: فَیَنْظُرُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ نَہَدَ إِلٰی عَدُوِّہِ، ثُمَّ قَالَ: ((اللّٰہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ، وَمُجْرِیَ السَّحَابِ، وَہَازِمَ الْأَحْزَابِ، اہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۲۴)
۔ ابو حیان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں ایک بزرگ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عبید اللہ کی طرف ایک خط لکھا، یہ اس وقت کی بات ہے، جب اس نے حروریہ یعنی خوارج سے لڑنا چاہا تھا، اس کا کاتب میرا دوست تھا، میں نے اس سے کہا: تو اس کو میرے لیے بھی حرف بہ حرف لکھ، اس نے ایسے ہی کیا، بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دشمنوں سے لڑنے کی تمنا نہ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کیا کرو، ہاں جب ان سے ٹکر ہو جائے تو پھر صبر کیا کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انتظار کرتے، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جاتا تو دشمن کی طرف کھڑے ہوتے اور یہ دعا کرتے: اَللَّہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ، وَمُجْرِیَ السَّحَابِ، وَہَازِمَ الْأَحْزَابِ، اہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ۔(اے اللہ! اے کتاب کو نازل کرنے والے! بادلوں کو چلانے والے! لشکروں کو شکست دینے والے! تو ان کو شکست دے اور ان پر ہماری مدد فرما۔)
Takhreej
(۴۹۷۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۱۸، ۲۸۳۳، ۲۹۶۵، ۳۰۲۴، ومسلم: ۱۷۴۲(انظر: ۱۹۱۱۴)
4975
Sahih
۔ (۴۹۷۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَا تَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ، فَإِذَا لَقِیتُمُوہُ فَاصْبِرُوا)) وفی لفظ: ((فَاِنَّکُمْ لَا تَدْرُوْنَ مَا یَکُوْنُ فِیْ ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۷۸۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دشمنوں سے ملنے کی تمنا نہ کیا کرو، لیکن جب ان سے مقابلہ ہو جائے تو صبر کیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس لڑائی میں کیا ہو گا (اس لیے تمنا نہ کیا کرو)۔
Takhreej
(۴۹۷۶) تخریج: أخرجہ البخاری معلقا: ۳۰۲۶، ومسلم: ۱۷۴۱(انظر: ۱۰۷۷۴)
Explanation
فوائد:… یقینا جہاد باعث ِ اجر و ثواب ہے، لیکن مشکل اور آزمائش والا عمل ہے، لشکر ِ اسلام کو فتح بھی ہو سکتی ہے اور شکست بھی، پھر شکست کی کئی صورتیں ہیں، اس لیے دشمن سے لڑنے کی تمنا نہیں ہونی چاہیے، ہاں جب جنگ چھڑ جائے تو پھر ہر قسم کے خطرے کو بالائے طاق رکھ کر میدان میں اترا جائے۔
4976
Sahih
۔ (۴۹۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلٰی، عَنْ صُہَیْبٍ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا صَلّٰی ہَمَسَ شَیْئًا لَا أَفْہَمُہُ وَلَا یُخْبِرُنَا بِہِ، قَالَ: ((أَفَطِنْتُمْ لِی۔)) قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: ((إِنِّی ذَکَرْتُ نَبِیًّا مِنْ الْأَنْبِیَائِ، أُعْطِیَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِہِ، فَقَالَ: مَنْ یُکَافِئُ ہٰؤُلَائِ؟ أَوْ مَنْ یَقُومُ لِہٰؤُلَائِ؟ أَوْ غَیْرَہَا مِنْ الْکَلَامِ، فَأُوحِیَ إِلَیْہِ أَنِ اخْتَرْ لِقَوْمِکَ إِحْدٰی ثَلَاثٍ، إِمَّا أَنْ نُسَلِّطَ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ غَیْرِہِمْ أَوْ الْجُوعَ أَوْ الْمَوْتَ، فَاسْتَشَارَ قَوْمَہُ فِی ذٰلِکَ، فَقَالُوْا: أَنْتَ نَبِیُّ اللّٰہِ فَکُلُّ ذٰلِکَ إِلَیْکَ خِرْ لَنَا، فَقَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ، وَکَانُوْا إِذَا فَزِعُوا فَزِعُوا إِلَی الصَّلَاۃِ، فَصَلّٰی مَا شَائَ اللّٰہُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: أَیْ رَبِّ! أَمَّا عَدُوٌّ مِنْ غَیْرِہِمْ فَلَا، أَوْ الْجُوعُ فَلَا، وَلٰکِنِ الْمَوْتُ، فَسُلِّطَ عَلَیْہِمُ الْمَوْتُ، فَمَاتَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا، فَہَمْسِی الَّذِی تَرَوْنَ أَنِّی أَقُولُ: اللّٰہُمَّ بِکَ أُقَاتِلُ، وَبِکَ أُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۱۴۵)
۔ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھتے تو چپکے چپکے کچھ کلمات کہتے، نہ میں سمجھ سکا اور نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بتایا۔ (ایک دن) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تم سمجھ گئے ہو کہ میں کچھ کلمات کہتا ہوں؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسے نبی کی یاد آئی جسے اپنی قوم میں سے کئی لشکر دیے گئے، اس نے اپنی امت پر اتراتے ہوئے کہا: کون ہے جو ان کے ہم پلہ ہو گا؟ یا کون ہے جو ان کا مقابلہ کر سکے گا؟ یا اس قسم کی بات کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے اِن تین امور میں سے ایک کو اختیار کر: ہم تیری امت پر ان کا دشمن مسلط کر دیں یا بھوک یا موت۔ اس نے اپنی قوم سے مشورہ کیا۔ انھوں نے کہا: تو اللہ کا نبی ہے، معاملہ تیرے سپر دہے، تو خود اختیار کر لے۔ اس نے نماز شروع کر دی، جب وہ گھبرا جاتے تو نماز کا سہارا لیتے تھے، اس نے نماز پڑھی جتنی کہ اللہ تعالیٰ کو منظور تھی، پھر کہا: اے میرے ربّ: ان پر ان کے دشمن کو بھی مسلط نہیں کرنا اور بھوک کو بھی، چلو موت ہی سہی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر موت مسلط کر دی، ایک دن میں ان میں سے ستر ہزار افراد مر گئے۔ یہ تھا میرا گنگنانا، جیسا کہ تم دیکھ رہے تھے، میں نے کہا: اللّٰہُمَّ بِکَ أُقَاتِلُ، وَبِکَ أُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ (اے اللہ! میں تو تیری توفیق سے حائل ہوتا ہوں، تیری توفیق سے حملہ کرتا ہوں اور تیری توفیق سے لڑتا ہوں۔)
Takhreej
(۴۹۷۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۳۱۹، والبزار: ۲۰۸۹، والنسائی فی الکبری : ۱۰۴۵۰ (انظر: ۱۸۹۳۷)
Explanation
فوائد:… انسان کبھی بھی اپنی اعلی سے اعلی صلاحیتوں کو اپنے کمال کی طرف منسوب نہیں کر سکتا ہے، قارون ایک باغی اور نافرمان انسان تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے بے حد و حساب مال و دولت عطا کیا تھا، جب اس نے یہ دعوی کیا کہ {اِنَّمَا اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ} کہ جو کچھ میرے پاس ہے یہ میری اپنی فہم و بصیرت اور علم و عقل کا نتیجہ ہے، تو
4977
Sahih

Chapters

53
01
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
11 Hadith
02
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
8 Hadith
03
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
24 Hadith
05
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
4 Hadith
06
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
12 Hadith
07
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
12 Hadith
08
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
09
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
6 Hadith
10
شہداء کی فضیلت
13 Hadith
11
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
4 Hadith
12
اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
6 Hadith
13
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
18 Hadith
14
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
2 Hadith
15
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
7 Hadith
16
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
18
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
6 Hadith
19
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
7 Hadith
20
سرایا اور جیوش کو ترتیب دینے اور جھنڈوں اور ان کے رنگوں کا اہتمام کرنے کا بیان
4 Hadith
21
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
12 Hadith
22
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
10 Hadith
23
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
24
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
2 Hadith
25
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
8 Hadith
26
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
5 Hadith
27
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
8 Hadith
28
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
9 Hadith
29
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
3 Hadith
30
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
31
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
9 Hadith
32
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
33
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
34
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
9 Hadith
35
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
9 Hadith
36
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
2 Hadith
37
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
6 Hadith
38
مالِ فے کے مصرف کا بیان
6 Hadith
39
تالیف ِ قلبی کے لیے دینے کا بیان
2 Hadith
40
امیر اور عامل کے تحائف
2 Hadith
41
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
12 Hadith
42
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
2 Hadith
43
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
2 Hadith
44
اس آدمی کا بیان جس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم دیئے
3 Hadith
45
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
1 Hadith
46
ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
4 Hadith
47
بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
3 Hadith
48
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
10 Hadith
49
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
50
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
51
اس چیز کا بیان کہ جاسوس کے ساتھ کیا کیا جائے، وہ مسلمان ہو یا حربی یا ذمی
3 Hadith
52
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
4 Hadith
53
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
6 Hadith
No chapter matched that.