۔ (۴۹۷۳)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ أَنَّ ابْنَ جَابِرِ بْنِ عَتِیکٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((إِنَّ مِنْ الْغَیْرَۃِ مَا یُحِبُّ اللّٰہُ،وَمِنْہَا مَا یُبْغِضُ اللّٰہُ، وَمِنْ الْخُیَلَائِ مَا یُحِبُّ اللّٰہُ، وَمِنْہَا مَا یُبْغِضُ اللّٰہُ، فَالْغَیْرَۃُ الَّتِی یُحِبُّ اللّٰہُ الْغَیْرَۃُ فِی الرِّیبَۃِ، وَالْغَیْرَۃُ الَّتِی یُبْغِضُ اللّٰہُ الْغَیْرَۃُ فِی غَیْرِ رِیبَۃٍ، وَالْخُیَلَائُ الَّتِی یُحِبُّ اللّٰہُ اخْتِیَالُ
الْعَبْدِ بِنَفْسِہِ لِلّٰہِ عِنْدَ الْقِتَالِ، وَاخْتِیَالُہُ بِالصَّدَقَۃِ، وَالْخُیَلَائُ الَّتِی یُبْغِضُ اللّٰہُ الْخُیَلَائُ فِی الْفَخْرِ وَالْکِبْرِ)) أَوْ کَالَّذِی قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ (مسند أحمد: ۲۴۱۵۱)
۔ سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ غیرت کی بعض صورتوں کو پسند کرتا ہے اور بعض کو ناپسند ، اسی طرح وہ فخر کی بعض قسموں کو پسند کرتا ہے اور بعض کو ناپسند، وہ جس غیرت کو پسند کرتا ہے، اس کا تعلق تہمت سے ہے اور جس غیرت کو ناپسند کرتاہے، اس میں کوئی تہمت اور گمان نہیں ہوتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ جس فخر کو پسند کرتا ہے، وہ ہے بندے کا قتال کے وقت اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے نفس کے ساتھ فخر کرنا اور صدقہ کے ساتھ فخر کرنا اور وہ جس فخر کو ناپسند کرتا ہے، اس کا تعلق تکبر سے ہوتا ہے۔
Takhreej
(۴۹۷۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ أبوداود: ۲۶۵۹، والنسائی: ۵/ ۷۸(انظر: ۲۳۷۵۰)
Explanation
فوائد:… وہ جس غیرت کو پسند کرتا ہے، اس کا تعلق تہمت سے ہے مثال کے طور پر جب آدمی اپنے محرم رشتہ داروں میں کوئی حرام فعل دیکھتا ہے تو اس پر اس کو غیرت آتی ہے اور وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح بدنام لوگوں سے میل جول رکھنا، مے خانوں اور جوا خانوں میں بیٹھنا، غیر محرم عورتوں کے ساتھ تنہائی اور خلوت اختیار کرنا۔
4973
Sahih