TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عید الفطر کے موقع پر نکلنے سے پہلے کھانے کا مستحب ہونا، نہ کہ عید الاضحی میں اور ان دونوں میں نماز کے وقت پر کلام کرنے کا بیان

Chapter 3 of عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 12 · 6 Hadith
۔ (۲۸۳۶) عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَنْبَأَنَا عَطَائٌ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا یَغْدُوَ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْفِطْرِ حَتّٰی یَطْعَمَ فَلْیَفْعَلْ، قَالَ: فَلَمْ أَدَعْ أَنْ آکُلَ قَبْلَ أَنْ أَغْدُوَا مُنْذُ سَمِعْتُ ذٰلِکَ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَآکُلُ مِنْ طَرَفِ الصَّرِیْقَۃِ الْاُکْلَۃَ أَوْ أَشْرَبُ اللَّبَنَ أَوِ الْمَائَ، قُلْتُ: فَعَلَامَ یُؤَوَّلُ ھٰذَا؟ قَالَ: سَمِعَہُ أَظُنُّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانُوا لَا یَخْرُجُوْنَ حَتّٰی یَمْتَدَّ الضُّحٰی فَیَقُوْلُوْنَ نَطْعَمُ لِئَلَّا نَعْجَلَ عَنْ صَلَاتِنَا۔ (مسند احمد: ۲۸۶۶)
عطاء کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: اگر تمہیں طاقت ہو کہ تم عید الفطر کے موقع پر کچھ کھا کر ہی جا ؤ تو ایسے ہی کیا کرو۔ جب سے میں نے یہ بات ان سے سنی، اس وقت سے صبح جانے سے پہلے کھانا کھانا ترک نہ کیا، وہ روٹی کا لقمہ ہو جاتا یا دودھ یا پانی پی لیتا۔ ابن جریج نے عطاء سے سوال کیا: سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اس قول کی کیا تاویل کی جائے گی؟ انھوں نے کہا: میرا تو یہی خیال ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہو گا۔وہ اس وقت تک نہیں نکلتے تھے، جب تک روشنی لمبی نہ ہو جاتی تھی، یعنی دن چڑھ نہ آتا تھا، اور وہ کہتے تھے کہ وہ اس لیے کھانا کھاتے ہیں، تاکہ نماز سے جلدی نہ کرنی پڑے۔
Takhreej
(۲۸۳۶) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ عبد الرزاق: ۵۷۳۴، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۱۴۲۷، وأخرج بنحوہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۱۶۰، والدارقطنی: ۲/ ۴۴ (انظر: ۲۸۶۶)
2836
Sahih
۔ (۲۸۳۷) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُفْطِرُ یَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ یَخْرُجَ، وَکَانَ لَا یُصَلِّی قَبْلَ الصَّلَاۃِ، فَاِذَا قَضٰی صَلَاتَہُ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۴۴)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عیدالفطر والے دن نکلنے سے پہلے ناشتہ کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز عید سے قبل کوئی نفل نماز نہیں پڑھتے تھے، جب (عید کی) نماز پڑھ لیتے تو (گھر لوٹ کر) دو رکعت پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۸۳۷) تخریـج: …حسن۔ أخرجہ أبویعلی ۱۳۴۷، وابن خزیمۃ: ۱۴۶۹، وأخرج قسمہ الأول ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۱۶۲ (انظر: ۱۱۲۲۶)
2837
Sahih
۔ (۲۸۳۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا کَانَ یَوْمُ الْفِطْرِ لَمْ یَخْرُجْ حَتّٰی یَأْکُلَ تَمَرَاتٍ یَأْکُلُھُنَّ اَفْرَادًا (وَفِی لَفْظٍ وِتْرًا) (مسند احمد: ۱۲۲۹۳)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الفطر والے دن اس وقت تک نہیں نکلتے تھے، جب تک کھجوریں نہ کھا لیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طاق کھجوریں کھاتے تھے۔
Takhreej
(۲۸۳۸) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۹۵۳(انظر: ۱۲۲۶۸)
2838
Sahih
۔ (۲۸۳۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ (بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: کَانَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفِطْرِ لَا یَخْرُجُ حَتّٰی یَطْعَمَ وَیَوْمَ النَّحْرِ لَا یَطْعَمُ حَتّٰی یَرْجِعَ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۷۱)
سیّدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الفطر والے دن نکلنے سے پہلے کچھ کھا لیتے تھے اور قربانی والے دن (عید سے) واپس آ کر کھاتے تھے۔
Takhreej
(۲۸۳۹) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۷۵۶، والترمذی: ۵۴۲ (انظر: ۲۲۹۸۳)
2839
Sahih
۔ (۲۸۴۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) وَلَا یَأْکُلُ یَوْمَ الْأَضْحٰی حَتّٰی یَرْجِعَ فَیَأْکُلَ مِنْ أُضْحِیَّتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۷۲)
(دوسری سند) اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الاضحی والے دن کچھ نہیں کھاتے تھے، جب تک لوٹ نہ آتے تھے، پھر لوٹ کر اپنی قربانی کا گوشت کھاتے تھے۔
Takhreej
(۲۸۴۰)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2840
Sahih
۔ (۲۸۴۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ: مَا خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمِ فِطْرٍ قَطُّ حَتّٰی یَأْکُلَ تَمَرَاتٍ، قَالَ: وَکَانَ أَنْسٌ یَأْکُلُ قَبْلَ أَنْ یَخْرُج ثلاثًا، فَاِنْ أَرَادَ أَنْ یَزْدَادَ أَکَلَ خَمْسًا، فَاِنْ أَرَادَ أَنْ یَزْدَادَ أَکَلَ وِتْرًا۔ (مسند احمد: ۱۳۴۶۰)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الفطر کے دن (عید گاہ کی طرف) نہیں جاتے تھے، مگر کھجوریں کھا کر۔ سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خود نکلنے سے پہلے تین کھجوریں کھاتے تھے، اگر زیادہ کھانے کا ارادہ ہوتا تو پانچ کھاتے اور اگر اس سے بھی زیادہ کا ارادہ ہوتا تو طاق کھاتے۔
Takhreej
(۲۸۴۱) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لضعف علی بن عاصم، وانظر: ۱۶۳۳ (انظر: ۱۳۴۲۶)
2841
Sahih

Chapters

12
01
ان دونوں کی مشروعیت کے سبب، ان کے لیے غسل اور تجمّل کے مستحب ہونے اور واپسی پر راستہ تبدیل کرنے کا بیان
5 Hadith
02
عورتوں کا عیدین کی طرف جانے کی مشروعیت
5 Hadith
03
عید الفطر کے موقع پر نکلنے سے پہلے کھانے کا مستحب ہونا، نہ کہ عید الاضحی میں اور ان دونوں میں نماز کے وقت پر کلام کرنے کا بیان
6 Hadith
04
خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
9 Hadith
05
عیدین کے دن امام کے سامنے برچھی یا نیزہ گاڑھنے کا بیان
1 Hadith
06
عید کی نماز میں تکبیرات کی تعداد اور ان کے محل کا بیان
5 Hadith
07
عیدین میں قرا ء ت کا بیان
4 Hadith
08
عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
9 Hadith
09
عید کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام کا لوگوں کے سامنے کھڑا ہونے ان کی طرف دیکھنے اور عید کی مبارک دینے کا بیان
1 Hadith
10
’’سیّدناعبد اللہ بن عمرd عید والے دن نکلے اور نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز نہ پڑھی، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریمaنے ایسے ہی کیا تھا۔‘‘
3 Hadith
11
عید کے دن د ف بجانے اور کھیلنے کا بیان
6 Hadith
12
عیدین، دس دنوں اور ایام تشریق میں ذکر کرنے، اطاعت کے کام کرنے اور تکبیرات کہنے پر ابھارنے کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.