TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ایمان اور اسلام کی کتاب - ایمان اور اسلام کی کتاب - Book 2 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 2 of Musnad Ahmad, with 11 chapters and 53 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

53 Hadith · 11 Chapters
عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا
۔ (۷۱)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا الْاِسْلَامُ؟ قَالَ: ((أَنْ یُسْلِمَ قَلْبُکَ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ أَنْ یَسْلَمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِکَ وَیَدِکَ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الْاِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْاِیْمَانُ۔)) (وَفِی رِوَایَۃٍ: قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ)، قَالَ: وَمَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَـلَائِکَتِہِ وَ کُتُبِہِ وَ رُسُلِہِ وَ الْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ۔)) (وَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ: وَمَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَۃُ)، قَالَ: فَأَیُّ الْاِیْمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْہِجْرَۃُ۔)) قَالَ: وَمَا الْہِجْرَۃُ؟ قَالَ: ((تَہْجُرُ السُّوْئَ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الْہِجْرَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْجِہَادُ۔)) قَالَ: وَمَا الْجِہَادُ؟ قَالَ: ((أَنْ تُقَاتِلَ الْکُفَّارَ إِذَا لَقِیْتَہُمْ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الْجِہَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ عُقِرَ جَوَادُہُ وَ أُہْرِیْقَ دَمُہُ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثُمَّ عَمَلَانِ ہُمَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِمِثْلِہِمَا، حَجَّۃٌ مَبْرُوْرَۃٌ أَوْ عُمْرَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۵۲)
سیدنا عمرو بن عبسہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ کہ تیرا دل اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو جائے اور دوسرے مسلمان تیری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ اس نے کہا: کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان۔ ایک روایت میں ہے : اچھا اخلاق۔ اس نے کہا: ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ پر، فرشتوں پر، کتابوں پر، رسولوں پر اور موت کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان لائے۔ ایک روایت میںہے: اس نے کہا: ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صبر و سماحت۔ اس نے کہا: افضل ایمان کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہجرت۔ اس نے کہا: ہجرت کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: برائی کو ترک کر دینا۔ اس نے کہا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جہاد۔ اس نے کہا: جہاد کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کافروں سے مقابلہ ہو تو ان سے قتال کرنا۔ اس نے کہا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور خود اس کا خون بہا دیا جائے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پھر دو عمل ہے، وہ افضل ترین ہیں اور(ان کو کرنے والا سب سے زیادہ افضل ہے) الا یہ کہ کوئی آدمی ان ہی دو پر عمل کرے، حج مبرور یا عمرہ۔
Takhreej
(۷۱) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ عبد الرزاق: ۲۰۱۰۷، والطبرانی فی الکبیر بنحوہ (انظر: ۱۷۰۲۷)
71
Sahih
عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا
۔ (۷۲)۔عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عَامِرٍ ؓ أَنَّہُ اسْتَأْذَنَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: أَأَلِجُ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِخَادِمِہِ: ((اُخْرُجِیْ إِلَیْہِ فَإِنَّہُ لَا یُحْسِنُ الْإِسْتِئْذَانَ، فَقُوْلِیْ لَہُ: فَلْیَقُلْ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ! أَأَدْخُلُ؟)) قَالَ: فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ ذَالِکَ فَقُلْتُ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَأَدْخُلُ؟ قَالَ: فَأَذِنَ لِیْ، أَوْ قَالَ: فَدَخَلْتُ فَقُلْتُ: بِمَ اَتَیْتَنَا بِہِ؟ قَالَ: ((لَمْ آتِکُمْ إِلَّا بِخَیْرٍ، أَتَیْتُکُمْ بِأَنْ تَعْبُدُوْا اللّٰہَ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: وَأَحْسِبُہُ قَالَ: ((وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَأَنْ تَدَعُوْا اللَّاتَ وَالْعُزّٰی، وَأَنْ تُصَلُّوْا بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَ أَنْ تَصُوْمُوْا مِنَ السَّنَۃِ شَہْرًا وَأَنْ تَحُجُّوا الْبَیْتَ وَأَنْ تَأْخُذُوْا مِنْ مَالِ أَغْنِیَائِکُمْ فَتَرُدُّوْہَا عَلٰی فُقَرَائِکُمْ۔))قَالَ: فَقَالَ: ہَلْ بَقِیَ مِنَ الْعِلْمِ شَیْئٌ لَا تَعْلَمُہُ؟ قَالَ: ((قَدْ عَلَّمَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ خَیْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَا یَعْلَمُہُ إِلَّا اللّٰہُ {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَا ذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ}۔)) (مسند أحمد: ۲۳۵۱۵)
ربعی بن حراش سے مروی ہے کہ بنوعامر کے ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہا: کیا میں اندر آسکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی خادمہ سے فرمایا: اس بندے نے اچھے انداز میں اجازت نہیں لی، اس لیے اس کی طرف جاؤ اور اس کو کہو کہ وہ یوں کہے: السلام علیکم، میں اندر آ سکتا ہوں۔ اس آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے یہ الفاظ خود سن لیے اور اس نے کہا: السلام علیکم، میں اندر آ سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے اجازت دی، اس نے کہا: پس میں داخل ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہا: آپ کون سی چیز لے کر ہمارے پاس آئے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی میں خیر ہی لے کر آیا ہوں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، جو کہ یکتا ویگانہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور تم لات و عزی کو چھوڑ دو اور دن رات میں پانچ نمازیں ادا کرو، ایک سال میں ایک ماہ کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو اور اپنی مالدار لوگوں سے زکوۃ کا مال لے کر اپنے فقیروں میں تقسیم کر دو۔ اس بندے نے کہا: کیا عمل کی کوئی ایسی قسم بھی ہے، جو آپ نہیں جانتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے بھلائی کی تعلیم دی ہے، لیکن علم کی بعض ایسی صورتیں بھی ہے کہ جن کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَا ذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ} (بیشک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے، کوئی بھی نہیں جانتا کہ کل کیا کچھ کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میںمرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔) (سورۂ لقمان: ۳۴)
Takhreej
(۷۲) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ مختصرا ابوداود: ۵۱۷۸، ۵۱۷۹ (انظر: ۲۳۱۲۷)
Explanation
فوائد: …حدیث ِ مبارکہ اپنے مفہوم میں واضح ہے، ابتدا میں اجازت لینے کا جو انداز بتایا گیا ہے، عوام و خواص اس سے غافل ہیں، بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ دروازے پر معمولی دستک دے کر دروازہ کھول دیتے ہیں اور اندر گھس آتے ہیں، یہ ان کا خود ساختہ انداز ہے، شریعت کا تقاضا نہیں ہے، اسی طرح آخری حصے سے پتہ چلا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عالم الغیب نہیں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو جس چیز کی بذریعہ وحی تعلیم دی جاتی تھی، اس کا علم ہوتا تھا۔
72
Sahih
عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا
۔ (۷۳)۔ عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا بَرَزْنَا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ إذَا رَاکِبٌ یُوْضِعُ نَحْوَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((کَأَنَّ ہَذَا الرَّاکِبَ إِیَّاکُمْ یُرِیْدُ۔)) قَالَ: فَانْتَہَی الرَّجُلُ إِلَیْنَا فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَا عَلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مِنْ أَیْنَ أَقْبَلْتَ؟)) قَالَ: مِنْ أَہْلِیْ وَوَلَدِی وَ عَشِیْرَتِیْ، قَالَ: ((فَأَیْنَ تُرِیْدُ؟)) قَالَ: أُرِیْدُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((فَقَدْ أَصَبْتَہُ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِیْ مَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((تَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَ تُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَ تُؤْتِیْْ الزَّکَاۃَ وَ تَصُوْمُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ۔)) قَالَ: قَدْ أَقْرَرْتُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ بَعِیْرَہُ دَخَلَتْ یَدُہُ فِی شَبْکَۃِ جُرْذَانٍ فَہَوٰی بَعِیْرُُہُ وَہَوَی الرَّجُلُ فَوََقَعَ عَلٰی ہَامَتِہِ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیَّ بِالرَّجُلِ۔)) قَالَ: فَوَثَبَ إِلَیْہِ عَمَّارُبْنُ یَاسِرٍ وَحُذَیْفَۃُ فَأَقْعَدَاہُ فَقَالَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُبِضَ الرَّجُلُ، قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، ثُمَّ قَالَ لَہُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَا رَأَیْتُمَا إِعْرَاضِیْ عَنِ الرَّجُلِ فَإِنِّی رَأَیْتُ مَلَکَیْنِِ یَدُسَّانِ فِیْ فِیْہِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّۃِ فَعَلِمْتُ أَنَّہُ مَاتَ جَائِعًا۔)) ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہَذَا وَاللّٰہِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالَ لَہُمُ اللّٰہُ فِیْہِمْ: {اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ أُوْلٰئِکَ لَہُمُ الْأَمْنُ وَہُمْ مُہْتَدُوْنَ}۔)) ثُمَّ قَالَ: ((دُوْنَکُمْ أَخَاکُمْ۔)) قَالَ: فَاحْتَمَلْنَاہُ إِلَی الْمَائِ فَغَسَّلْنَاہُ وَ حَنَّطْنَاہُ وَکَفَّنَّاہُ وَحَمَلْنَاہُ إِلَی الْقَبْرِ، قَالَ: فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی جَلَسَ عَلٰی شَفِیْرِ الْقَبْرِ، قَالَ: فَقَالَ: ((اِلْحَدُوْا وَلَا تَشُقُّوْا، فَإِنَّ اللَّحْدَ لَنَا وَالشَّقَّ لِغَیْرِنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۹۰)
سیدناجریر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلے، جب ہم مدینہ منورہ سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک سوار ہماری طرف آنے کے لیے اپنی سواری کو جلدی چلا رہا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس سوار کا ارادہ تم لوگ ہو۔ جب وہ ہمارے پاس پہنچا تو اس نے سلام کہا اور ہم نے اس کا جواب دیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے پوچھا: تم کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا: جی اپنے اہل و اولاد اور رشتہ داروں کے پاس سے آ رہا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہو؟ اس نے کہا: جی اللہ کے رسول کو ملنا چاہتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو نے اپنے مقصد کو پا لیا ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایمان کی تعلیم دیں کہ وہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کر، زکوۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ اور بیت اللہ کا حج کر۔ اس نے کہا: جی میں اقرار کرتا ہوں۔ اتنے میں اس کے اونٹ کی اگلی ٹانگ چوہوں کے بلوں میں گھس گئی، جس کی وجہ سے اونٹ گر گیا اور وہ آدمی بھی اپنے سر کے بل گرا اور فوت ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: اس بندے کو میرے پاس لاؤ۔ سیدنا عمار اور سیدنا حذیفہؓجلدی سے گئے، اس آدمی کو بٹھایا اور کہا: اے اللہ کے رسول! بندہ تو فوت ہو گیا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے اعراض کیا اور پھر فرمایا: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ میں اس بندے سے اعراض کر رہا تھا، پس بیشک میں نے دیکھا کہ دو فرشتے اس کے منہ میں جنت کے پھل ڈال رہے تھے، اس سے مجھے پتہ چلا کہ بھوکا مرا ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ ان لوگوں میں سے ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ أُوْلٰئِکَ لَہُمُ الْأَمْنُ وَہُمْ مُہْتَدُوْنَ} (جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہِ راست پر چل رہے ہیں۔) (سورۂ انعام: ۸۲) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اپنے اس بھائی کو سنبھال لو۔ پس ہم اسے اٹھا کر پانی کی طرف لے گئے، اس کو غسل دیا، خوشبو لگائی، کفن دیا اور قبر کی طرف اٹھا کر لے گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور قبرکے کنارے پر بیٹھ گئے اور فرمایا: لحد بناؤ، شَق نہ بناؤ، کیونکہ لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسرے مذاہب والوں کے لیے ہے۔
Takhreej
(۷۳) تخریج: ھذا اسناد ضعیف لضعف ابی جناب یحییٰ بن ابی حیۃالکلبی، وقولہ اَللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَیْرِنَا حسن بطرقہ۔ أخرجہ ابو نعیم فی الحلیۃ : ۴/ ۲۰۳ (انظر: ۱۹۱۷۶)
Explanation
فوائد: …لحد اور شق کی بحث کتاب الجنائز میں آئے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
73
Zaeef
عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا
۔ (۷۴) (وَعَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَیْنَا نَحْنُ نَسِیْرُ إِذْ رُفِعَ لَنَا شَخْصٌ، فَذَکَرَ نَحْوَہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ: وَقَعَتْ یَدُ بَکْرِہِ فِی بَعْضِ تِلْکَ الَّتِیْ تَحْفُرُ الْجُرْذَانُ، وَقَالَ فِیْہِ: ((ہَذَا مِمَّنْ عَمِلَ قَلِیْلاً وَأُجِرَ کَثِیْرًا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۹۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا جریرؓ نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلے، ہم چل رہے تھے کہ ہمیں ابھرتا ہوا ایک شخص دکھائی دیا…، پھر اسی قسم کی روایت کا ذکر کیا، البتہ یہ الفاظ بھی کہے: اس کے اونٹ کی اگلی ٹانگ چوہوں کے کھودے ہوئے کسی بل میں گھس گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا: یہ ان لوگوں میں سے ہے، جو عمل تو تھوڑا کرتے ہیں، لیکن اجر بہت زیادہ پاتے ہیں۔
Takhreej
(۷۴) تخریج: حدیث حسن بطرقہ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۳۲۸، والطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۲۸۲۹(انظر: ۱۹۱۷۷)
74
Sahih
عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا
۔ (۷۵) (وَعَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)أَنَّ رَجُلًا جَائَ فَدَخَلَ فِی الْاِسْلَامِ، فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُہُ الْاِسْلَامَ وَہُوَ فِی مَسِیْرِہِ فَدَخَلَ خُفُّ بَعِیْرِہِ فِی جُحْرِ یَرْبُوْعٍ فَوَقَصَہُ بَعِیْرُہُ فَمَاتَ، فَأَتٰی عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((عَمِلَ قَلِیْلاً وَأُجِرَ کَثِیْرًا۔)) قَالَہَا حَمَّادٌ ثَلَاثًا، ((اَللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَیْرِنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۷۱)
۔ (تیسری سند) ایک آدمی آیا اور اسلام میں داخل ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے ایک سفر میں اسے اسلام کی تعلیم دے رہے تھے، اتنے میں اس کے اونٹ کا پاؤں چوہے کے بل میں گھسا، (جس کی وجہ سے اونٹ گر گیا ) اور اس نے اس آدمی کی گردن توڑ دی اور وہ فوت ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے پاس آئے اور فرمایا: اس نے عمل تو تھوڑا کیا، لیکن اجر بہت زیادہ پایا۔ تین دفعہ یہ جملہ دوہرایا اور پھر فرمایا: لحد ہمارے لیے ہے اور شَق دوسرے لوگوں کے لیے ہے۔
Takhreej
(۷۵) تخریج: حدیث حسن بطرقہ ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۳۳۰(انظر: ۱۹۱۵۸)
Explanation
فوائد: …قبولیت ِ اسلام سے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
75
Sahih
عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا
۔ (۷۶)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ أَعْرَابِیًا جَائَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! دُلَّنِیْ عَلٰی عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُہُ دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ، قَالَ: ((تَعْبُدُاللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلَاۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ وَتُؤَدِّی الزَّکَاۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ۔)) قَالَ: وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَا أَزِیْدُ عَلٰی ہٰذَا أَبَدًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْہُ، فَلَمَّا وَلّٰی قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَنْظُرَ إِلٰی رَجُلٍ مِنْ أَہْلٍ الْجَنَّۃِ فَلْیَنْظُرْ إِلٰی ہٰذَا۔)) (مسند أحمد: ۸۴۹۶)
سیدناابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میرے لیے ایسے عمل کی نشاندہی کر دیں کہ اگر میں وہ عمل کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرضی نماز قائم کرو، فرضی زکوۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی جان ہے! میں نہ ان عبادات پر زیادتی کروں گا اور نہ ان میںکمی ہونے دوں گا، جب وہ چلا گیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس کو یہ بات بھلی لگے کہ وہ اہلِ جنت میں کوئی سے آدمی دیکھے تو وہ اس آدمی کو دیکھ لے۔
Takhreej
(۷۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۳۹۷، ومسلم: ۱۴(انظر: ۸۵۱۵)
Explanation
فوائد: …یہ وہ احادیث ہیں، جن میں آنے والے مختلف وفود اور لوگوں کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کیا گیا، اگرچہ ان میں سارا اسلام بیان نہیں کیا گیا۔ قارئین کرام!کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غور کیا کہ جو وفد یا آدمی اسلامی تعلیمات کے حصول کے لیے پہلی دفعہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مختلف احکام کے ساتھ ساتھ اس کو نمازکا حکم ضرور دیا، لیکن اس وقت محتاط اندازے کے مطابق (%۹۳) مسلمان اس اہم فریضے کو ادا کرنے سے غافل ہیں، دراصل ایسے لوگ اسلام اور روح اسلام سے بہت دور ہیں، ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حقوق کا شعور تک نہیں ہے۔ نماز ہی مسلمان کی علامت اور پہچان ہے۔
76
Sahih
اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان
۔ (۷۷)۔عَنْ أَبِی سُوَیْدِ نِ الْعَبْدِیِّ قَالَ: أَتَیْنَا ابْنَ عُمَرَؓ فَجَلَسْنَا بِبَابِہِ لِیُؤْذَنْ لَنَا، قَالَ: فَأَبْطَأَ عَلَیْنَا الْاِذْنُ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَی جُحْرٍ فِی الْبَابِ فَجَعَلْتُ أَطَّلِعُ فِیْہِ فَفَطِنَ بِیْ، فَلَمَّا أَذِنَ لَنَا جَلَسْنَا فَقَالَ: أَیُّکُمُ اطَّلَعَ آنِفًا فِی دَارِیْ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: بِأَیِّ شَیْئٍ اسْتَحْلَلْتَ أَنْ تَطَّلِعَ فِی دَارِیْ، قَالَ: قُلْتُ: أَبْطَأَ عَلَیْنَا الْاِذْنُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَعَمَّدْ ذَالِکَ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلُوْہُ عَنْ أَشْیَائَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صِیَامِ رَمَضَانَ۔)) قُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! مَا تَقُوْلُ فِی الْجِہَادِ؟ قَالَ: مَنْ جَاہَدَ فَإِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفْسِہِ۔ (مسند أحمد: ۵۶۷۲)
ابوسوید عبدی کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرؓکی طرف گئے اور ان کے دروازے پر اجازت کے انتظار میں بیٹھ گئے، جب ہم نے دیکھا کہ ہمیں اجازت دینے میں بہت تاخیر ہو گئی ہے تو میں دروازے میں موجود ایک سوراخ کی طرف اٹھا اور وہاں سے اندر کی طرف جھانکنے لگا، وہ سمجھ گئے اور ہمیں اجازت دے دی اور ہم ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔ انھوں نے کہا: تم میں سے کون ہے، جو ابھی میرے گھر میں جھانک رہا تھا؟ میںنے کہا: میں تھا، انھوں نے کہا: تو نے کس دلیل کی روشنی میں میرے گھر میں جھانکنے کو حلال سمجھ لیا؟ میں نے کہا: ہمیں اجازت دینے میں تاخیر کر دی گئی تھی، اس لیے میں نے دیکھ لیا، جان بوجھ کر تو میں نے نہیں کیا، پھر ہم لوگ سیدنا ابن عمرؓ سے سوال کرنے لگ گئے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ جہاد کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جو جہاد کرے گا، وہ اپنے لیے کرے گا۔
Takhreej
(۷۷)تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال برکۃ بن یعلی التیمی وشیخِہ ابی سوید العبدی، وھما من رجال التعجیل (انظر: ۵۶۷۲)
77
Zaeef
اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان
۔ (۷۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ بِشْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: بُنِیَ الْاِسُلَامُ عَلٰی خَمْسٍ، شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ إِقَامِ الصَّّلَاۃِ وَإِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صَوْمِ رَمَضَانَ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: وَالْجِہَادُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: الْجِہَادُ حَسَنٌ، ہَکَذَا حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۴۷۹۸)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے کی شہادت دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ ایک آدمی نے کہا: اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد؟ انھوں نے کہا: جہاد اچھی چیز ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں یہ حدیث ایسے بیان کی تھی۔
Takhreej
(۷۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، فیہ علتان: انقطاعہ، لأن سالما لم یسمعہ من یزید، وجھالۃ حال یزید بن بشر السکسکی (انظر: ۴۷۹۸)
78
Zaeef
اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان
۔ (۷۹)۔عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صَوْمِ رَمَضَانَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۴۳۹)
سیدنا جریر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے کی شہادت دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
Takhreej
(۷۹) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابویعلی: ۷۵۰۷، والطبرانی فی الکبیر : ۲۳۶۴(انظر: ۱۹۲۲۶)
Explanation
فوائد: …اس حدیث کا متن مشہور ہے اور تقریباً ہر خاص و عام کو یاد بھی ہے، کاش! ہمارے اندر عملی رجحان بھی پیدا ہو جاتا اور ہم اسلام کے ان پانچ ستونوں کو تعمیر کر کے اپنے سروں پر اسلام کی چھت کا سایہ کر لیتے۔
79
Sahih
اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان
۔ (۸۰)۔عَنْ زِیَادِ بْنِ نُعَیْمِ نِ الْحَضْرَمِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرْبَعٌ فَرَضَہُنَّ اللّٰہُ فِی الْاِسْلَامِ فَمَنْ جَائَ بِثَلَاثٍ لَمْ یُغْنِیْنَ عَنْہُ شَیْئًا حَتَّی یَأْتِیَ بِہِنَّ جَمِیْعًا، اَلصَّلَاۃُ وَ الزَّکَاۃُ وَ صِیَامُ رَمَضَانَ وَ حَجُّ الْبَیْتِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۹۴۲)
زیاد بن نعیم حضرمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: چار چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام میں فرض کیا ہے، جو بندہ ان میں تین ادا کرے گا، تو وہ اسے اس وقت تک کچھ کفایت نہیں کریں گی، جب تک وہ اِن سب کی ادائیگی نہیں کرے گا، وہ چار امور یہ ہیں: نماز، زکوۃ، رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج۔
Takhreej
(۸۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ سییء الحفظ، ثم ان الحدیث مرسل، فان زیاد بن نعیم الحضرمی تابعی (انظر: ۱۷۷۸۹)
80
Zaeef
اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان
۔ (۸۱)۔ عَنْ عَلِیٍّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّی یُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ حَتَّی یَشْہَدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ وَ حَتَّی یُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَ حَتَّی یُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۸)
سیدنا علیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک ان چار چیزوں پر ایمان نہیں لائے گا: یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان لائے۔
Takhreej
(۸۱) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۱۴۵، وابن ماجہ: ۸۱ (انظر: ۷۵۸)
81
Sahih
اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان
۔ (۸۲) (وَعَنْہُ بِلَفْظٍ آخَرَ)۔قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَنْ یُؤْمِنَ عَبْدٌ حَتَّی یُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ أَنَّ اللّٰہَ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ وَ یُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَیُؤْمِنُ بِالْقَدْرِ خَیْرِہِ وَ شَرِّہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۲)
۔ (دوسری روایت) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو گا، جب تک ان چار چیزوں پر ایمان نہیں لائے گا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس چیز پر کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان لائے، وہ اچھی ہو یا بری۔
Takhreej
(۸۱) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۱۴۵، وابن ماجہ: ۸۱ (انظر: ۷۵۸)
Explanation
فوائد: …یہ چار امور دوسرے اعتقادات اور ایمانیات کو بھی مستلزم ہیں، مثلا: سابقہ انبیاء و رسل پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، کتابوں پر ایمان وغیرہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر ایمان لانے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی تمام ہدایات کو بھی تسلیم کیا جائے۔
82
Sahih
اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان
۔ (۸۳)۔عَنِ السَّدُوْسِیِّ یَعْنِی ابْنَ الخَصَاصِیَّۃِ ؓ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأُبَایِعَہُ فَاشْتَرَطَ عَلَیَّ شَہَادَۃَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ وَ أَنْ أُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَ أَنْ أُؤَدِّیَ الزَّکَاۃَ وَ أَنْ أَحُجَّ حَجَّۃَ الْاِسُلَامِ وَ أَنْ أَصُوْمَ شَہْرَ رَمَضَانَ وَ أَنْ أُجَاہِدَ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ۔ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَمَّا اثْنَتَانِ فَوَاللّٰہِ مَا أُطِیْقُہُمَا الْجِہَادُ وَ الصَّدَقَۃُ، فَإِنَّہُمْ زَعَمُوْا أَنَّ مَنْ وَلَّی الدُّبُرَ فَقَدْ بَائَ بِغَضَبٍ مِنَ اللّٰہِ فَأَخَافُ إِنْ حَضَرَتُ تِلْکَ جَشِعَتْ نَفْسِیْ وَ کَرِہَتِ الْمَوْتَ، وَ الصَّدَقَۃُ فَوَاللّٰہِ مَا لِیْ إِلَّا غُنَیْمَۃٌ وَ عَشْرُ ذَوْدٍ، ہُنَّ رِسْلُ أَہْلِی وَحُمُوْلَتُہُمْ، قَالَ: فَقَبَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَدَہُ ثُمَّ حَرَّکَ یَدَہُ ثُمَّ قَالَ: ((فَـلَا جِہَادَ وَلَا صَدَقَۃَ فَلِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِذًا؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَا أُبَایِعُکَ، قَالَ: فَبَایَعْتُ عَلَیْہِنَّ کُلِّہِنَّ۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۹۸)
سیدنا ابن خصاصیہ سدوسیؓ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیعت کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھ پر یہ شرطیں عائد کر دیں: یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، حجۃ الاسلام ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اللہ کے راستے میںجہاد کرنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ جو دو چیزیں جہاد اور زکوۃ ہیں نا، ان کی مجھ میں طاقت نہیں ہے، کیونکہ جہاد کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ جو وہاں سے پیٹھ پھیر جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے ساتھ لوٹتا ہے، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میدانِ جہاد میں میرا نفس گھبرا جائے اور موت کو ناپسند کرنے لگے اور رہا مسئلہ زکوۃ کا، تو اللہ کی قسم ہے کہ میرے پاس تھوڑی سی بکریاں ہیں اور دس اونٹ ہیں، میرے اہل کے لیے دودھ والے اور سواری والے یہی جانور ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھ کو بند کیا اور اس کو حرکت دی اور فرمایا: اگر جہاد بھی نہ ہو اور زکوۃ بھی نہ ہو تو پھر تو جنت میں کیسے داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ٹھیک ہے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیعت کرتا ہوں، پھر میں نے ان سب امور پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیعت کی۔
Takhreej
(۸۳) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین غیر ابی المثنی العبدی، فلم یروِ عنہ غیر جبلۃ بن سُحیم، وذکرہ ابن حبان والعجلی فی الثقات۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۲۳۳، وفی الاوسط : ۱۱۴۸، والحاکم: ۲/ ۷۹، والبیھقی: ۹/ ۲۰(انظر: ۲۱۹۵۲)
Explanation
فوائد: …اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ حکمت و دانائی اور مزاج شناسی سے بدرجۂ اتم متصف تھے، اِس موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اِس آدمی کی جہاد اور زکوۃ کو مستثنی کر دینے کی شرط قبول نہیں کی، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اِس آدمی کے مزاج سے یہ سمجھ رہے تھے کہ اگر اس کو ان چیزوں کی رخصت نہ دی گئی تو پھر بھی یہ اسلام کو قبول کر لے گا، جبکہ بوقت ِ بیعت بعض امورِ اسلام کو مصلحۃً مستثنی کر دینا بھی درست ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے: ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ؓ سے ثقیف قبیلہ کی بیعت کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے کہا: اِشْتَرَطَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ أَنْ لَّا صَدَقَۃَ عَلَیْھَا وَلَاجِھَادَ۔ قَالَ: وَأَخْبَرَنِیْ جَابِرٌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ قَالَ: ((سَیَتَصَدَّقُوْنَ وَیُجَاھِدُوْنَ إِذَا أَسْلَمُوْا۔)) … اس قبیلے نے (بیعت کرتے وقت) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر یہ شرط عائد کی تھی کہ ان پر صدقہ ہو گا نہ جہاد۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: عنقریب جب یہ لوگ (پکے) مسلمان ہو جائیں گے تو صدقہ بھی دیں گیااور جہاد بھی کریں گے۔ (ابوداود: ۲/ ۴۲، صحیحہ: ۱۸۸۸) یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حکمت و دانائی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر کوئی قبیلہ یا فرد مشرف باسلام تو ہونا چاہتا ہے، لیکن اسلام کے ایک دو اجزا یا شقوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، تو حکمت یہ ہے کہ دونوں گھروں کی مصلحت کا خیال رکھتے ہوئے اس امید پر اس کی شرطیں قبول کر لی جائیں کہ کچھ عرصہ تک ایمان و ایقان میں پختہ ہو کر اسلام کے ہر جزو اور شقّ کو تسلیم کر لے گا، مبلغینِ اسلام کا حکیم و دانا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
83
Sahih
اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان
۔ (۸۴)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَی الْیَمَنِ قَالَ: ((إِنَّکَ تَأْتِیْ قَوْمًا أَہْلَ کِتَابٍ فَادْعُہُمْ اِلٰی شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوْکَ لِذَالِکَ فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِفْتَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ وَ لَیْلَۃٍ، فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوْکَ لِذَالِکَ فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ اِفْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً فِی أَمْوَالِہِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِیَائِہِمْ وَ تُرَدُّ فِیْ فُقَرَائِہِمْ، فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوْکَ لِذَالِکَ فَإِیَّاکَ وَ کَرَائِمَ أَمْوَالِہِمْ وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ فَإِنَّہَا لَیْسَ بَیْنَہَا وَ بَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۷۱)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جب سیدنا معاذؓ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا: تم اہل کِتَابُ لوگوں کی طرف جا رہے ہو، پس ان کو سب سے پہلے یہ دعوت دینا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے اور میرے رسول اللہ ہونے کی شہادت دیں، اگر وہ اس معاملے میں تیری اطاعت کر لیں تو ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دن رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ یہ بات بھی تسلیم کر جائیں تو ان کویہ تعلیم دینا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں پرزکوۃ فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے فقیروں میں تقسیم کی جائے گی،ا گر وہ یہ بات بھی مان جائیں تو پھر تم نے ان کے عمدہ مالوں سے بچ کر رہنا ہے اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا ہے، کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین کوئی پردہ نہیں ہے۔
Takhreej
(۸۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۳۹۵، ۲۴۴۸، ومسلم: ۱۹(انظر: ۲۰۷۱)
Explanation
فوائد: …جو کوئی کلمہ ٔ شہادت کا اقرار کر کے مشرف باسلام ہو جاتا ہے تو اس پر عائد ہونے والا پہلا فرض نماز ہوتا ہے، یہ اسلام کی پہلی اور آخری علامت ہے، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت اس فرض سے اس قدر غافل ہے کہ اس کو اس جرم کا احساس تک نہیں ہے۔ اس وقت مظلوم اورفقیر مسلمانوں کے حقوق کو بھی ادا نہیں کیا جا رہا۔
84
Sahih
ایمان کے شعبوں اور اس کی مثال کا بیان
۔ (۸۵)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَ لْاِیْمَانُ أَرْبَعَۃٌ وَ سِتُّونَ بَابًا، أَرْفَعُہَا وَ أَعْلَاہَا قَوْلُ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَدْنَاہَا إِمَاطَۃُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ۔)) (مسند أحمد: ۸۹۱۳)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان کے چونسٹھ شعبے ہے، ان میں سب سے بلند اور عالی شعبہ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ کہنا ہے اور سب سے کم مرتبہ شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے۔
Takhreej
(۸۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۹، ومسلم: ۳۵(انظر: ۸۹۲۶)
85
Sahih
ایمان کے شعبوں اور اس کی مثال کا بیان
۔ (۸۶)۔وَ عَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَ سَبْعُوْنَ بَابًا، أَفْضَلُہَا لَاإِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَدْنَاہَا إِمَاطَۃُ الْأَذَی عَنِ الطَّرِیْقِ، وَالْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِنَ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۹۳۵۰)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان کے پچھہتر چھہتر شعبے ہیں، ان میں افضل شعبہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور کم تر شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔
Takhreej
(۸۶) تخریج: انظر الحدیث المتقدم
Explanation
فوائد: …ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ایمان کا اعمال کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے، حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ شعبے کون سے ہیں؟ اس کا جواب دیتے ہوئے حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: قاضی عیاض کہتے ہیں: بعض علماء و فقہاء نے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق ان شعبوں کا تعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہرحال کسی کے اجتہاد کے حق میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ حدیث کے مرادی معانی کے عین مطابق ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اگر ان شعبہ جات کی تفصیل کا علم نہ ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑھتا۔ (میں ابن حجر کہتا ہوں:)ان شعبوں کا تعین کرنے والے کسی ایک انداز پر جمع نہ ہو سکے، البتہ امام ابن حبان کا طریقہ اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے: یہ شعبے اپنے مصدور و منبع کے لحاظ سے تین قسم کے اعمال منقسم ہوتے ہیں۔ (۱) قلبی اعمال (۲)قولی اعمال اور (۳) بدنی اعمال قلبی اعمال میں اعتقادات اور نیّات داخل ہیں، جو درج ذیل چوبیس خصلتوں پر مشتمل ہیں: اللہ تعالیٰ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، کتابوں پر ایمان، رسولوں پر ایمان، تقدیر پر ایمان، یوم آخرت پر ایمان، اللہ تعالیٰ سے محبت، اس کی ذات کی خاطر کسی سے محبت یا نفرت، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے محبت اور آپ کی تعظیم اور آپ کی سنت کی پیروی بھی داخل ہے، اخلاص (اس میں ریاکاری و نفاق کو ترک کرنا بھی داخل ہے)، توبہ، خوف، رجا، شکر، وفا، صبر، رضا بالقضا، توکل، رحمت، تواضع، تکبر اور عجب کو ترک کرنا، حسد اور کینہ ترک کرنا اور غیظ و غضب کو ترک کرنا۔ قولی اعمال سات اجزاء پر مشتمل ہیں: توحید کا اقرار، تلاوتِ قرآن، علم شرعی سیکھنا اور سکھانا، دعا، ذکر و استغفار، لغو سے اجتناب۔ بدنی اعمال اڑتیس خصائل پر مشتمل ہیں: ان میں سے درج ذیل پندرہ اعیان کے ساتھ خاص ہیں: حسی اور حکمی طہارت (نجاستوں سے اجتناب کا تعلق بھی اسی شقّ کے ساتھ ہے)، پردہ، فرضی و نفلی نماز، فرضی و نفلی صدقہ و زکوۃ، غلاموں کو آزاد کرنا، سخاوت، نفلی و فرضی روزے، حج و عمرہ، طواف، اعتکاف، شب ِ قدر کی تلاش، دین کی حفاظت، نذر پورا کرنا، بہتر قسم کا انتخاب اور کفاروں کی ادائیگی۔ درج ذیل چھ کا تعلق اتباع سے ہے: نکاح اور اہل و عیال کے حقوق کی ادائیگی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، تربیت ِ اولاد، صلہ رحمی، آقاؤں کی اطاعت اور غلاموں سے نرمی۔ اور درج ذیل سترہ امور عوام الناس سے متعلقہ ہیں: عدل والی امارت کا قیام، جماعت کی پیروی، امراء کی اطاعت، لوگوں کے مابین اصلاح کروانا، نیکی والے امور پر معاونت، نفاذِ حدود، جہاد، ادائیگی ٔ امانت، قرضہ چکانا، پڑوسی کی عزت کرنا، حسنِ معاملہ، مال کو اس کے مناسب مقام پر خرچ کرنا، سلام کا جواب، چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہنا، لوگوں کو تکلیف نہ دینا، لغو سے اجتناب کرنا اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا۔ یہ کل انہتر خصائل ہیں، اگر بعض امور کو بعض میں ضم نہ کیا جائے تو ان کی تعداد اناسی بن سکتی ہے۔ واللہ اعلم۔ (فتح الباری: ۱/ ۷۲) یہ حدیث مبارکہ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اعمال، ایمان کا جز ہیں، اس حدیث سے مرجئہ جیسے باطل فرقوں کا ردّ ہو تا ہے جنہوں نے اعمال صالحہ کو ایمان کی حقیقت سے خارج کر دیا، نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ممکن ہے، کیونکہ ان تمام شعبوں اور شاخوں پر عمل پیرا ہونے یا نہ ہونے میں مسلمانوں میں یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ جو کہ ایمان کی سب سے افضل شاخ ہے، سے توحیدِ الوہیت ثابت ہوتی ہے، یعنی کائنات میں بسیرا کرنے والوں کا ایک ہی سچا اور برحق معبود ہے، جس کا نام اَللّٰہ ہے، اس کے علاوہ جن معبودوں کا تصور دنیا میں پایا جاتا ہے وہ بے بنیاد، بے تأثیر، بے اختیار، بے حقیقت اور باطل ہیں۔ انسانیت کو کسی قسم کی تکلیف اور نقصان وغیرہ سے بچانا، اتنا عظیم عمل ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے ایمان کا ایک حصہ قرار دیا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کسی وقت کی بات ہے کہ ایک آدمی کسی راستے سے گزر رہا تھا، اس راستے پر جھکی ہوئی ایک کانٹے دار شاخ تھی (جس سے گزرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی) اس آدمی نے اسے کاٹ دیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدر فرمائی اور اسے بخش دیا۔ (بخاری: ۶۵۲، مسلم: ۱۹۱۴) عصر حاضر میں اس بابرکت عمل کے بر عکس بالعموم اور بالخصوص شادی بیاہ کے موقع پر گزرگاہوں کو تنگ یا بند کر دیا جاتا ہے یا بعض دوکاندار اور کوٹھیوں کے مالک تجاوزات سے کام لیتے ہیں یا بعض اوباش کھیلنے اور مجلس لگانے کیلئے سڑکوں کا انتخاب کرتے ہیں، ان تمام قابل مذمت حرکتوں سے گزرنے والوں کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ (فَاِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن) یہ حرکتیں اللہ کی رحمت سے دوری کا سبب اور اخلاقی پستی کی آئینہ دارہیں۔
86
Sahih
ایمان کے شعبوں اور اس کی مثال کا بیان
۔ (۸۷)۔عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْأَنْصَارِیِّ ؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِیْمًا وَ عَلٰی جَنَبََتَیِ الصِّرَاطِ سُوْرَانِ فِیْہِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَۃٌ، وَ عَلٰی الْأَبْوَابِ سُتُوْرٌ مُرْخَاۃٌ، وَعَلٰی بَابِ الصِّرَاطِ دَاعٍ یَقُوْلُ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اُدْخُلُوْا الصِّرَاطَ جَمِیْعًا وَلَا تَتَفَرَّجُوْا، وَدَاعٍ یَدْعُوْ مِنْ جَوْفِ الصِّرَاطِ، فَإِذَا أَرَادَ یَفْتَحُ شَیْئًا مِنْ تِلْکَ الْأَبْوَابِ قَالَ: وَیْحَکَ لَا تَفْتَحْہُ فَإِنَّکَ إِنْ تَفْتَحْہُ تَلِجْہُ،وَالصِّرَاطُ الْاِسْلَامُ وَالسُّوْرَانِ حُدُوْدُ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالْأَبْوَابُ الْمُفَتَّحَۃُ مَحَارِمُ اللّٰہِ تَعَالٰی وَ ذَالِکَ الدَّاعِی عَلٰی رَأْسِ الصِّرَاطِ کِتَابُ اللّّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَالدَّاعِی فَوْقَ الصِّرَاطِ وَاعِظُ اللّٰہِ فِی قَلْبِ کُلِّ مُسْلِمٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۸۴)
سیدنا نواس بن سمعان انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی ہے، ایک صراطِ مستقیم ہے، اس راستے کے دونوں اطراف میں دو دیواریں ہیں، جن میں کھلے ہوئے دروازے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں، راستے کے دروازے پر ایک داعی یہ کہہ رہا ہے: لوگو! سارے کے سارے راستے میں داخل ہو جاؤ اور اس سے زائل نہ ہو جاؤ اور جب کوئی آدمی کسی دورازے کو کھولنا چاہتا ہے تو راستے کے بیچ میں سے ایک داعی یوں آواز دیتا ہے: تو ہلاک ہو جائے، اس کو نہ کھول، اگر تو نے اس کو کھول دیا تو اس میں گھس جائے گا۔ (اس مثال کی وضاحت یہ ہے کہ) راستہ، اسلام ہے اور دیواریں، اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں اور کھلے دروازے، اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور ہیں اور راستے کے سرے پر داعی، اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور راستے کے بیچ والا داعی ہر مسلمان کے دل میں موجود اللہ تعالیٰ کا واعظ ہے۔
Takhreej
(۸۷) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۸۵۹، والنسائی: ۹/ ۶۱(انظر: ۱۷۶۳۴)
87
Sahih
ایمان کے شعبوں اور اس کی مثال کا بیان
۔ (۸۸) (وَ عَنْہُ فِی أُخْرَی)۔قَالَ: قَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ ضَرَبَ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِیْمًا عَلٰی کَنَفَیِ الصِّرَاطِ سُوْرَانِ، فِیْہِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَۃٌ، وَ عَلٰی الْأَبْوَابِ سُتُوْرٌ، وَ دَاعٍ یَدْعُوْ عَلٰی رَأْسِ الصِّرَاطِ وَ دَاعٍ یَدْعُوْ مِنْ فَوْقِہِ وَاللّٰہُ یَدْعُوْ اِلٰی دَارِ السَّلَامِ وَ یَہْدِی مَنْ یَشَائُ اِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ، فَالْأَبْوَابُ الَّتِی عَلٰی کَنَفَیِ الصِّرَاطِ حُدُوْدُ اللّٰہِ لَا یَقَعُ أَحَدٌ فِی حُدُوْدِ اللّٰہِ حَتَّی یَکْشِفَ سِتْرَ اللّٰہِ، وَالَّذِی یَدْعُوْ مِنْ فَوْقِہِ وَاعِظُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۸۶)
۔ (دوسری روایت) سیدنا نواسؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی ہے، ایک صراطِ مستقیم ہے، اس کی دونوں جانبوں میں دیواریں ہیں، ان میں کھلے ہوئے دروازے ہیں، جن پر پردے لٹک رہے ہیں اور ایک داعی راستے کے سرے پر ہے اور ایک داعی بندے کے اوپر اوپر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سلامتی والے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے، راستے کے دونوں جانبوں میں جو دروازے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں، جب تک آدمی اللہ تعالیٰ کے پردے کو چاک نہیں کرتا، اس وقت تک وہ اس کی حدوں میں نہیں گھستا اور جو داعی اوپر سے بلا رہا ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا واعظ ہے۔
Takhreej
(۸۸) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد: …مثال واضح ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود اور حرام کردہ امور کے قریب نہ جایا جائے، وگرنہ ایمان کے ناقص ہو جانے کا یا اس سے محروم ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ راستے کے بیچ والا داعی ہر مسلمان کے دل میں موجود اللہ تعالیٰ کا واعظ ہے۔ یہ قانون اس شخص کے لیے ہے جو اسلام کے حلال و حرام کا اجمالی علم رکھتا ہو، سنجیدہ مزاج ہو، آخرت کی فکر کرنے والا ہو اور برائیوں کے ذریعے اپنے نفس کو غیر معیاری نہ بنا چکا ہو۔
88
Sahih
ایمان کی خصلتوں اور اس کی نشانیوں کا بیان
۔ (۸۹)۔عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الثَّقَفِیِّ ؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْ لِیْ فِیْ الْاِسُلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْہُ أَحَدًا غَیْرَکَ، قَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ: بَعْدَکَ، قَالَ: ((قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۹۴)
سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں کہ آپ کے علاوہ (ابو معاویہ نے آپ کے بعد کے لفظ بولے ہیں) کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم کہو کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ہوں اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔
Takhreej
(۸۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۸(انظر: ۱۵۴۱۶)
89
Sahih
ایمان کی خصلتوں اور اس کی نشانیوں کا بیان
۔ (۹۰) (وَ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حَدِّثْنِیْ بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِہِ، قَالَ: ((قُلْ رَبِّیَ اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَیَّ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِہِ ثُمَّ قَالَ: ((ہٰذَا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۹۶)
۔ (دوسری سند) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بیان کرو کہ اس کے ساتھ چمٹ جاؤں (اور اس کا اہتمام کروں)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم کہو کہ میرا ربّ اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میری کس چیز سے سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں؟ جواباً آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اس سے۔
Takhreej
(۹۰) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۹۷۲ وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۱۵۴۱۸)
Explanation
فوائد: …کہنے کو تو استقامت ایک لفظ ہے، لیکن یہ ایسا جامع لفظ ہے، جو اوامر اور نواہی کو شامل ہے، جب کوئی آدمی کسی فرض کو ترک کرتا ہے یا حرام کام کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ راہ مستقیم سے ہٹ جاتا ہے اور استقامت کو چھوڑ بیٹھتا ہے، استقامت کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے اوامر و نواہی پر نہایت ثابت قدمی سے عمل کرنا اور فرائض و سنن اور مستحبات و مندوبات کو بجا لاتے رہنا اور محرمات و منہیات سے اجتناب کرنا۔ محض زبان سے اظہار کر دینے کا نام ایمان نہیں ہے، بلکہ اصل ایمان وہی ہے جس کے ساتھ عمل بھی ہو، اس لیے کہ عمل ایمان کا ثمرہ اور نتیجہ ہے۔ جس طرح بے ثمر درخت کی کوئی اہمیت نہیں، اسی طرح عمل کے بغیر ایمان کی کوئی حیثیت نہیں اور استقامت کمالِ ایمان کی علامت ہے۔ زبان کی حفاظت اور زبان کی آفتیں، یہ اپنی نوعیب کا مستقل اور انتہائی اہم باب ہے، دورِ حاضر کے اکثرخواتین و حضرات کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنی زبانوں کی حفاظت کے سلسلے میں انتہائی نااہل ثابت ہوئے ہیں، بدگوئی، فحش گوئی، طعن و تشنیع، چغلی و غیبت، سب و شتم اور گالی گلوچ ان کا معمول بن چکا ہے، ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری جس چیز کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سب سے زیادہ ڈر تھا، ہم اس کا مصداق بن گئے۔
90
Sahih