ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور
اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور
اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Book 3 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 3 of Musnad Ahmad, with 16 chapters and 129 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا: کون سا دین اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت ابراہیم ؑکی ملت، جو کہ سہولت والی ہے۔
Takhreej
(۱۰۴) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ عبد بن حمید: ۵۶۹، والبخاری فی الادب المفرد : ۲۸۷، وعلقہ البخاری فی صحیحہ فی الایمان: باب الدین یسر (انظر: ۲۱۰۷)
Explanation
فوائد:… لغت میں اس شخص کو حنیف کہتے ہیں، جو حضرت ابراہیم ؑکی ملت پر ہو اور حضرت ابراہیمؑ کو اس لیے حنیف کہتے ہیں، کہ وہ باطل سے حق کی طرف مائل ہو گئے تھے، حنف کے اصل معانی مائل ہونے اور ایک طرف جھک جانے کے ہیں۔
اس حدیث کے مفہوم کو قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا: {وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ} … اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی، اپنے باپ ابراہیم (ؑ) کے دین کو قائم رکھو۔ (سورۂ حج: ۷۸) یعنی ایسا حکم نہیں دیا جس کا متحمل نفس انسانی نہ ہو، ورنہ تھوڑی بہت محنت و مشقت تو ہر کام میں ہی اٹھانی پڑتی ہے، بلکہ پچھلی شریعتوں کے بعض سخت احکام بھی اس نے منسوخ کر دیئے، علاوہ ازیں بہت سی ایسی آسانیاں مسلمانوں کو عطا کر دیں، جو پچھلی شریعتوں میں نہیں تھیں۔
اگر اسلام کے تمام ارکان اور فرائض و مستحبات اور محرمات و مکروہات پر غور کیا جائے تو سلیم الفطرت اور غیر جانبدار شخص کا فیصلہ یہی ہو گا کہ جس جس شعبے میں جتنی جتنی مقدار کا مطالبہ کیا گیا ہے، وہی کسی حکیم اور دانا کی حکمت اور دانائی کا فیصلہ ہو سکتا ہے، اس اعتبار سے اسلام کی کسی شق کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
سیدنا عروہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اور وضو یا غسل کی وجہ سے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے لگے کہ اے اللہ کے رسول! کیا اس طرح کرنے میں ہم پر کوئی حرج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کا دین آسانی والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ جملہ ارشاد فرمایا۔
فوائد:… حقیقت میں دین کے تمام ارکان میں آسانی کی سہولت کو مد نظر رکھا گیا، لیکن اس حقیقت کو وہ شخص تسلیم کرے گا، جو اسلام پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہے، اس بیچارے نے دینِ اسلام کی آسانی کا ادراک خاک کرنا ہے، جس کا نماز میں دل ہی نہیں لگتا، جو لوگ اسلام کے ارکان سے غافل ہیں، ایسے لوگوں کے مزاج بگڑ گئے ہیں اور ان کے نفسوں میں ایسی نحوست اور بے برکتی پیدا ہو گئی ہے کہ یہ اپنی ذات کا اندازہ لگانے سے قاصر ہو گئے ہیں۔
سیدنا مقداد بن اسودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روئے زمین پر اینٹوں والا گھر بچے گا نہ خیمے والا، مگر اللہ تعالیٰ اس میں کلمۂ اسلام کو داخل کر دیں گے، یہ عزت والے کی عزت کے ساتھ ہو گا یا ذلت والے کی ذلت کے ساتھ ہو گا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو اس طرح عزت دے گا کہ ان کو اہل اسلام بنا دے گا اور بعض لوگوں کو اس طرح ذلیل کرے گا کہ وہ بھی (بالآخر) اس کے مطیع ہو جائیں گے۔
فوائد: … عزت والے کی عزت کے ساتھ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو توفیق دے گا اور وہ قید و قتال سے پہلے ہی برضا و رغبت مشرف باسلام ہو جائیں گے۔ ذلت والے کی ذلت کے ساتھ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ قید یا قتال کے نتیجے میں اسلام قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں، دل سے راضی ہوں یا نہ ہوں، بہرحال دیکھا یہ گیا ہے کہ عام طور پر ایسے لوگ بہترین مسلمان بن کر اچھے انجام سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا یہی مفہوم بنتا ہے: {ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا۔} … وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، اور اللہ تعالیٰ گواہی دینے والا کافی ہے۔ (سورۂ فتح: ۲۸)
اس حدیث ِ مبارکہ میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے، وہ آخری زمانہ میں اس وقت پوری ہو گی، جب عیسیؑ آسمان سے نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے، اس وقت سطح زمین پر کوئی دار الکفر باقی نہیں رہے گا، بلکہ تمام لوگ مسلمان ہو جائیں گے اور جو مسلمان نہیں ہوں گے، ان کو قتل کر دیا جائے گا، درج ذیل روایت سے اس نظریے کی تائید ہوتی ہے:
سیدہ عائشہ ؓکہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((لَایَذْھَبُ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُ حَتّٰی تُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزّٰی)) … اس وقت تک شب و روز کا سلسلہ ختم نہیں ہو گا، حتیٰ کہ لات اور عزی کی عبادت کی جائے گی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت {ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ…} نازل کی تو میں نے سمجھا کہ یہ دین اب مکمل ہونے والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے جتنا اللہ تعالیٰ چاہے گا تو عنقریب ایسے ہی ہو گا (یعنی اسلام غالب اور نافذ رہے گا)، پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا، جس کی وجہ سے ہر وہ آدمی فوت ہو جائے گا، جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو گا، اس کے بعد ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے، جن میں کوئی خیر نہیں ہو گی، وہ اپنے آباء کے دین کی طرف لوٹ آئیں گے۔ (صحیح مسلم : ۵۲/۲۹۰۷)
سیدنا تمیم داریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا، جہاں تک دن رات پہنچے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ اینٹوں والے یا خیمے والے کسی گھر کو نہیں چھوڑے گا، مگر عزت والوں کی عزت کے ساتھ اور ذلت والوں کی ذلت کے ساتھ اس میں اس دین کو داخل کر دے گا، عزت اس طرح کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا کرے گا اور ذلت اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کفر کو ذلیل کر دے گا۔ سیدنا تمیم داریؓ کہتے ہیں: میں نے (عزت و ذلت والے اس معاملے کو) اپنے گھر والوں میں دیکھ لیا، ہم میں سے مشرف باسلام ہونے والوں نے خیر، شرف اور عزت کو پا لیا اور ہم میں سے جو لوگ کافر رہے، ذلت و حقارت اور جزیہ ان کا مقدر بنا۔
سیدنا ابوبکرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ذریعے اس دین کی مدد کرے گا، جن کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔
فوائد: …اللہ تعالیٰ نے دین کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچانے کے لیے مختلف لوگوں کو استعمال کیا، ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہوئے، جو خود اس دین سے استفادہ نہ کر سکے، مثال کے طور پر لوگوں کو فائدہ پہنچانے والے اور شرعی احکام کو ثابت کرنے والے وہ علما، جو خود اپنے علم پر عمل نہ کر سکے، یا جن کا مقصد ریاکاری، نمودو نمائش اور صدارت و سربراہی تھا۔
اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کافر اور بے دین لوگ اسلام کی مخالفت کرتے ہیں اسلام، قرآن اور صاحب قرآن پر اعتراضات کرتے ہیں۔ جس سے بہت سے کافروں کے ذہن میں اسلام اور قرآن کے بارے تجسس پیدا ہوتا ہے اور وہ تحقیق کر کے مشرف باسلام ہو جاتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
فوائد: …اس کی کئی صورتیں موجود ہے، بعض کا تعلق عہد ِ نبوی سے بھی ہے، فاجر حکمران کا اسلام کے بعض امور کی خدمت کرنا، کسی فاجر آدمی کا مسجد و مدرسہ تعمیر کر دینا، اسی قبیل کی مثالیں ہیں۔
سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں: ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دنیوی چیز کے لیے آتا تھا اور وہ اسے دے دی جاتی تھی، لیکن ابھی تک شام نہیں ہوتی تھی کہ دنیا و ما فیہا کی بہ نسبت اسے اسلام سب سے زیادہ محبوب اور پیارا بن چکا ہوتا تھا۔
سیدنا انس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسلام پر جو چیز بھی مانگ لی جاتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ دے دیتے تھے، ایک دفعہ ایک آدمی آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بہت ساری بھیڑ بکریاں دینے کا حکم دیا، یہ زکوۃ کی بکریاں تھیں اور دو پہاڑوں کے درمیان والی گھاٹی ان سے بھر جاتی تھی۔ وہ بندہ اپنی قوم کی طرف لوٹا اور ان سے کہا: اے میری قوم! اسلام قبول کر لو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح کثرت سے دیتے ہیں کہ ان کو فاقے کا ڈر بھی نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۱۱۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۱۲(انظر: ۱۲۰۵۱)
Explanation
فوائد: …یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتیاز تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شخصیت پر خرچ کیا اور بڑی مقدار میں خرچ کیا، جبکہ مسجد نبوی اور صفہ سمیت عمارتوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ کفر سے اسلام کی طرف مائل ہونے لگے، دورِ حاضر کے مسلمان اس سنت ِ نبوی کو ترک کر چکے ہیں، بالخصوص مساجدو مدارس کے منتظمین اور فنڈز جمع کرنے والی دوسری تنظیمیں، ہر ایک کی فکر یہ ہے کہ اس کے ادارے اور مسجد کی عمارت شاندار ہونی چاہیے، اس قسم کی ٹائلیں لگنی چاہئیں، مرکزی دروازے پر کشش ہونے چاہئیں، علی ہذا القیاس۔ لیکن اس محلے کے غریب اور فقیر لوگوں کی کسی کو معرفت تک نہ ہو گی اور ائمہ و خطباء و مدرسین کی کفالت کے وقت بخل اور شکووں کا بھوت رقص کرنے لگے گا اور صبر و برداشت کی تلقین شروع ہو جائے گی، اگرچہ یہ لوگ اپنے آپ کو خادمینِ اسلام سمجھتے ہیں، لیکن اِن کو خدمت ِ اسلام کا شعور تک نہیں ہے۔
سیدنا انسؓ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: تو مسلمان ہو جا۔ اس نے کہا: میں اپنے آپ کو اسلام کو ناپسند کرنے والا پاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو مسلمان ہو جا، اگرچہ تو اس کو ناپسند کر رہا ہو۔
فوائد: …اسلام اور اسلامی احکام پر عمل کرتے وقت ذاتی پسند یا ناپسند، ظاہری مفاد یا نقصان اور عزت یا ذلت کو مد نظر نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم سمجھ کر اس پر عمل شروع کر دینا چاہیے۔
اتباعِ سنت اور اسلامی احکام پر عمل کرنے سے دلی کراہت آہستہ آہستہ دور ہو جائے گی اور آدمی شرح صدر کے ساتھ اسلام کا پیرو کار بن جائے گا۔ (عبداللہ رفیق)
نصر بن علی اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس شرط پر مسلمان ہوا کہ وہ صرف دو نمازیں ادا کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی یہ شرط قبول کر لی۔
Takhreej
(۱۱۳) تخریج: رجالہ ثقات (انظر: ۲۳۰۷۹)
Explanation
فوائد: …نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تبلیغ میں حکمت ودانائی، دور رسی،عاقبت اندیشی، مزاج شناسی، لوگوں کا بھلا، یہ تمام صفات بدرجۂ اتم نظر آتی ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ ایک مشرف باسلام ہونا چاہتا ہے، لیکن پانچ نمازوں کے مسئلے پر اڑ گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دانائی نے یہ فیصلہ کیا کہ فی الحال اس کی ضد کو مان لینا چاہیے، بعد میں جب اسلام کی حقیقت کا ادراک کر لے گا تو تمام ارکانِ اسلام کا قائل ہو جائے گا، اسی قسم کی دو مثالیں اور ان کی وضاحت درج ذیل ہیں: سیّدنا فضالہ لیثی ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کچھ امور کی تعلیم دی، ان میں سے ایک امر یہ بھی تھا: ((حَافِظْ عَلٰی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ۔)) فَقُلْتُ: إِنَّ ھٰذِہِ سَاعَاتٌ لِی فِیْھَا أَشْغَالٌ، فَمُرْنِی بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُہٗ أَجْزَأَعَنِّی، قَالَ: ((حَافِظْ عَلٰی الْعَصْرَیْنِ: صَلَاۃٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَصَلَاۃٍ قَبْلَ غُرُوْبِھَا)) … پانچوں نمازوں کی محافظت کیا کر۔ میں نے کہا: ان گھڑیوں میں تو میں مصروف رہتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسا جامع و قسم کا حکم دیں کہ میں اس پر عمل کرتا رہوں اور وہ مجھے کفایت کرتا رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو نمازوں یعنی طلوع آفتا ب سے پہلے والی اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نمازوں کی محافظت کرتا رہ۔ (ابوداود: ۴۵۳، صحیحہ: ۱۸۱۳)
کسی آدمی کے دماغ میں یہ نکتہ سرایت نہ کر جائے کہ دو نمازوں پر اکتفا کرنا بھی درست ہے، علمائے حق کے نزدیک اس حدیث کے دو معانی مراد لینا ممکن ہیں: (۱) اس آدمی کو اس کی مصروفیت کی وجہ سے جماعت سے پیچھے رہنے کی رخصت دی گئی تھی، نہ کہ ترکِ نماز کی اور (۲)وہ کوئی نو مسلم آدمی تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت نے اس بات کا تقاضا کیا کہ فی الحال اس کو رخصت دی جائے، جب ایمان میں رسوخ پیدا ہو جائے گا تو اس کے لیے پانچ نمازوں کی ادائیگی ممکن ہو جائے گی اور یہی بات اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی مبلّغ کسی بے نمازی کو پانچ نمازوں کی ادائیگی کی تلقین کرتا ہے، لیکن وہ اس بات پر مصرّ ہے کہ وہ صرف دو تین نمازیں پڑھے گا تو اس حدیث کی روشنی میں اسے کہا جا سکتا ہے کہ چلو تم دو تین ہی پڑھتے رہو۔ (واللہ اعلم بالصواب)
درج ذیل روایت کو دیکھا جائے تو دوسرا معنی راجح اور درست معلوم ہوتا ہے:
ابوزبیر بیان کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر ؓ سے ثقیف قبیلہ کی بیعت کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ اس قبیلے نے (بیعت کرتے وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ شرط عائد کی تھی کہ ان پر صدقہ ہو گا نہ جہاد۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَیَتَصَدَّقُوْنَ وَیُجَاہِدُوْنَ اِذَا اَسْلَمُوْا۔)) … عنقریب جب یہ لوگ (پکے) مسلمان ہو جائیں گے تو صدقہ بھی دیں گیااور جہاد بھی کریں گے۔ (مسند احمد: ۳/ ۳۴۱ ، صحیحہ: ۱۸۸۸)
یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کسی بڑی مصلحت کی خاطر کسی کو عارضی طور پر اسلام کے بعض احکام سے مستثنی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثقیف قبیلہ والے لوگوں کی شرطیں تسلیم نہ کرتے تو ممکن تھا کہ وہ کفر پر اڑے رہتے، جو کہ بہت بڑی مفسدت تھی، اس مفسدت سے تو وہ ناقص اسلام ہی بہتر ہے، جس میں جہاد اور صدقہ نہ ہوں، جبکہ رخصت دینے والے کو یہ امید بھی ہو کہ عنقریب یہ لوگ تمام اسلامی احکام کو تسلیم کر لیں گے۔ یہی معاملہ اس باب کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پانچوں نمازیں نہ پڑھنے سے بہرحال دو ادا کر لینا بہتر ہے، ان دو کے ذریعے آہستہ آہستہ پانچ کا قائل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ قربان جائیے حکیم و دانا پیغمبر کی حکمت و دانائی پر۔
سیدنا تمیم داریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر اہل کِتَابُ یا اہل کفر میں سے کوئی آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے تو اس کے بارے میں کیا سنت ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اس کی زندگی اور موت میں اس کا سب سے زیادہ مستحق ہو گا۔
Takhreej
(۱۱۴) تخریج: قال الالبانی: حسن صحیح (ابوداود: ۲۹۱۸)۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۱۸، الترمذی: ۲۱۱۲، وابن ماجہ: ۲۷۵۲(انظر: ۱۶۹۴۸)
Explanation
فوائد: …اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے امام عبد اللہ بن مبارک نے کہا: دوسرے تمام ورثاء کی عدم موجودگی میں ایسا آدمی وارث بنے گا اور امام ثوری نے کہا: یہ وارث بنے گا اور یہ دوسروں (اجنبی غیر وارث لوگوں) سے زیادہ حقدار ہو گا۔ (مصنف عبد الرزاق)
سعید بن منصور کی روایت میں یَرِثَہٗ وَ یَعْقِلُ عَنْہُ کی زیادتی ہے، لیکن اس کی سند میں احوص بن حکیم راوی ضعیف الحفظ ہے، جس کے متعلق امام البانی نے کہا: فَیُسْتَشْھَدُ بِہٖ (صحیحہ: ۲۳۱۶)
امام مبارکپوری نے کہا: دو احتمال ہیں: (۱)یہ حدیث توارث بالاسلام پر دلالت کرتی ہے، جو کہ منسوخ ہو گیا ہے۔ (۲) اس حدیث کا یہ معنی ہے کہ وہ زندگی میں اس کی مدد کرے اور موت کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کرے۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۱۸۵)
امام خطابی نے کہا: ممکن ہے کہ یہ حدیث میراث سے متعلق ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث کا مدلول عہد و پیمان، ایثار و قربانی اور برّ وصلہ ہو۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۱۸۵، عون المعبود: ۳/ ۸۷)
لیکن سیدنا تمیم کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا تعلق ابتدائے اسلام سے نہیں ہے، اخیر اسلام کے دور سے ہے، کیونکہ سیدنا تمیم ؓ ۹ ھ میں مسلمان ہوئے تھے اور اس حدیث کے بارے میں انھوں نے خود سوال کیا تھا۔ اس لیے یہی مناسب ہے کہ اس سے مراد حقِّ وراثت لیا جائے۔ رہا مسئلہ نصرت و تائید اور نماز جنازہ میں شرکت وغیرہ کا، توان حقوق کی ادائیگی میں سب مسلمان برابر ہیں۔ (واللہ اعلم)
سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کے نیچے کھڑا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑی خوبصورت اور حسین باتیں ارشاد فرمائیں تھیں، ایک بات یہ بھی تھی: اہل کِتَابُ میں سے جو آدمی مسلمان ہو گا، اس کے دو اجر ہوں گے اور پھر جو حق ہمارا ہے، وہ اس کا بھی ہو گا اور جو ذمہ داری ہم پر ہے، وہ اس پر بھی ہو گی۔ اور جو آدمی مشرکوں میں سے مسلمان ہو گا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور پھر جو حق ہمارا ہے، وہ اس کا بھی ہو گا اور جو ذمہ داری ہم پر ہے، وہ اس پر بھی ہو گی۔
سیدنا ابو موسی اشعریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنی لونڈی کو تعلیم دے اور اچھی تعلیم دے اور اس کی اخلاقی تربیت کرے اور اچھی تربیت کرے اور پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کرے تو اس کو دو اجر ملیں گے، (اسی طرح اس کے لیے دو اجر ہیں) جو غلام اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا کرے اور اپنے آقا کا بھی اور اہل کتاب کا وہ آدمی جو پہلے حضرت عیسی ؑکی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا، اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔
سیدنا عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کا خیال ڈال دیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیعت کرنے کے لیے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری طرف پھیلادیا، لیکن اس وقت میں نے کہا: میں اس وقت تک آپ کی بیعت نہیں کروں گا، جب تک میرے سابقہ گناہ بخش نہیں دیئے جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرو! کیا تو نہیں جانتا کہ ہجرت پہلے والے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، عمرو! کیا تجھے یہ علم نہیں ہے کہ اسلام بھی پہلے والے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
Takhreej
(۱۱۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۱۷۸۲۷)
Explanation
فوائد: …ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنْ یَّنْتَھُوْا یُغْفَرْ لَھُمْ مَا قَدْ سَلَفَ} … آپ کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ لوگ باز آ جائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں، سب معاف کر دیئے جائیں گے۔ (سورہ ٔانفال: ۳۸)
معلوم ہوا کہ اسلام اور ہجرت کی وجہ سے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں (اسلام قبول کر کے)اس دین میں نیکیاں کرتا رہوں تو کیا جاہلیت والی میری برائیوں کی وجہ سے میرا محاسبہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو بظاہر اور بباطن اسلام قبول کرے گا تو جاہلیت میں جو کچھ کیا ہو گا، اس کی بنا پر تیرا مؤاخذہ نہیں ہو گا، لیکن اگرتو بظاہر اسلام قبول کرے گا، نہ کہ بباطن تو اگلی پچھلی یعنی ہر برائی پر مؤاخذہ کیا جائے گا۔
امام نووی نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہا: اس کے بارے میں محققین کی جماعت نے جو بات کہی ہے، وہی صحیح ہے کہ احسان سے مراد بظاہر اور بباطن اسلام قبول کرنا ہے، یعنی جب کوئی حقیقی مسلمان بن جاتا ہے، تو اس کی حالت ِ کفر میں کی ہوئی برائیاں معاف ہو جاتی ہیں۔ قرآن و حدیث اور اجماع امت اسی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں۔ اور وَاِذَا اَسَاْتَ سے مراد یہ ہے کہ دل سے اسلام میں داخل نہ ہوا جائے، یہ دراصل منافق ہوتا ہے، جو اپنے کفر پر برقرار رہنے والا ہوتا ہے، ایسے شخص کی اظہارِ اسلام سے پہلے والی اور بعد والی، دونوں حالتوں کی برائیوں پر اس کا مؤاخذہ ہوتا ہے، کیونکہ در حقیقت اس کے کفرکی حالت ہی جاری رہتی ہے۔ (شرح مسلم للنووی: ۲/ ۱۳۶)
سیدنا سلمہ بن یزید جعفیؓ کہتے ہیں: میں اور میرا بھائی، ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری اماں جان مُلیکہ صلہ رحمی کرتی تھی، مہمانوں کی میزبانی کرتی تھی اور اس قسم کی کئی نیکیاں کرتی تھی، لیکن دورِ جاہلیت میں ہی فوت ہو گئی ہے، تو کیا یہ اعمال اسے فائدہ دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ ہم نے کہا: اس نے دورِ جاہلیت میں ہی ہماری ایک بہن کو زندہ درگور کر دیا تھا، تو یہ چیز اس کو نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زندہ دوگور کرنے والی اور زندہ درگور ہونے والی، دونوں جہنمی ہیں، الا یہ کہ درگور کرنے والی اسلام کو پا لے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے۔
Takhreej
(۱۱۹) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین غیر داود بن ابی ہند فمن رجال مسلم، وصحابیہ روی لہ النسائی، وفی متنہ نکارۃ ۔ أخرجہ النسائی فی الکبری : ۱۱۶۴۹، والطبرانی فی الکبیر : ۶۳۱۹ (انظر: ۱۵۹۲۳)
Explanation
فوائد: …کفر کی حالت پر مرنے والے کی تمام نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔
سیدنا عدی بن حاتمؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ صلہ رحمی کرتا تھا اور اس کے علاوہ بھی کئی نیک کام کرتا تھا، تو اس کو ان کا اجر ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تیرا باپ (شہرت اور تعریف کی صورت میں) جس چیز کا طلبگار تھا، وہ اس کو مل گئی تھی۔
Takhreej
(۱۲۰) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۴۳۶۱(انظر: ۱۹۳۸۶)
Explanation
فوائد: …حاتم طائی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی ذات نہیں تھا، بلکہ وہ تو شہرت اور تعریف کا طلبگار تھا اور یہ چیز اس کو زندگی میں بھی مل گئی تھی اور موت کے بعد بھی، دین اسلام کی قبولیت کے بعد اپنے افعال و اقوال میں اخلاص پیدا کرنا نہایت ضروری ہے، وگرنہ نہ صرف نیک عمل ضائع ہوتا ہے، بلکہ وبال جان بھی بنتا ہے۔
سیدنا حکیم بن حزامؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلاموں کی آزادی اور صلہ رحمی جیسے ان امور کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو میں دورِ جاہلیت میں عبادت کے طور پر کرتا تھا، کیا مجھے ان کا اجر ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو جو امورِ خیر سرانجام دے چکا ہے، اس سمیت مسلمان ہوا ہے۔
فوائد: …اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی آدمی دینِ حق کو اختیار کرتا ہے اور پھر اس کو اسی دین پر موت آتی ہے تو اس کی دورِ جاہلیت کی نیکیاں بھی قبول کر لی جاتی ہیں، یہ ایک اختلافی موضوع ہے، اس لیے ہم اس پر سیر حاصل بحث کرتے ہیں:
محقق علمائے اسلام کے مسلک کے مطابق درست بات یہ ہے کہ جو کافر حالت ِ کفر میں صدقہ و خیرات اور صلہ رحمی جیسی نیکیاں سر انجام دینے کے بعد مسلمان ہوتا ہے تو اس کی سابقہ نیکیوں کا ثواب بھی محفوظ رکھا جاتا ہے۔ بعض نے تو اس رائے پر مسلمانوں کے اجماع و اتفاق کا دعوی کیا ہے۔
جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مسلک شرعی قواعد کے مخالف ہے۔ لیکن یہ مسلک غیر مسلم ہے، کیونکہ دنیا میں کافر کے بعض افعال کا اعتبار کیا جاتا ہے، جیسے اگر کوئی کافر حالت ِ کفر میںظہار کا کفارہ ادا کرتا ہے تو قبولیت ِ اسلام کے بعد دوبارہ ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
حافظ ابن حجر نے کہا: اس حدیث میں ثواب کے لکھے جانے کا ذکر ہے، نہ کہ ان کے قبول ہونے کا۔ ممکن ہے کہ قبولیت کو اسلام کے ساتھ معلق کر دیا گیا ہو، یعنی اگر وہ کافر مسلمان ہو گیا تو اس کی نیکیاں قبول بھی کی جائیں اور اس کو ثواب بھی دیا جائے گا، وگرنہ نہیں۔ یہی مذہب قوی ہے۔ قدماء میں سے امام نووی، ابراہیم حربی ا ور ابن بطال وغیرہ نے اور متاخرین میں سے امام قرطبی اور ابن منیر وغیرہ نے اسی مسلک کی تائید کی۔
ابن منیر نے کہا: کوئی مانع نہیں کہ کافر کفر کی حالت میں خیر و بھلائی کے جو کام خیر و بھلائی کی نیت سے کرتا ہے، قبولیت ِ اسلام کے بعد اللہ تعالیٰ اس کو سابقہ نیک امور پر ثواب عطا فرما دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ عاجز مسلمان (مریض یا مسافر وغیرہ) کو ان اعمال کا ثواب عطا کرتا رہتا ہے، جو وہ طاقت و قدرت کے زمانے میں سرانجام دیتا تھا اور عاجزی کے دوران نہیں کر سکتا۔ اگر کسی عمل کو ادا کیے بغیر اس کا ثواب مل سکتا ہے، تواس عمل کا ثواب بھی دیا جا سکتا ہے، جس میں مکمل شرطیں نہ پائی جاتی ہوں۔
بعض علمائے اسلام نے اس مسئلہ کو ثابت کرنے کے لیے اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ جب اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی اسلام قبول کرتے ہیں تو ان کو دو گنا اجر دیا جاتا ہے، جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہوتا ہے، لیکن اگر وہ یہودیت اور عیسائیت پر ہی مر جائیں تو ان کو ان کے نیک اعمال کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا کہ کافر کے نیک اعمال لکھے جاتے ہیں، لیکن اس کے لیے حصول ثواب کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ اسلام قبول کرے۔ غور فرمائیں کہ جب سیدہ عائشہ ؓ نے ابن جدعان کے اعمالِ صالحہ کے بارے میں سوال کیا کہ آیا ان سے اس کو فائدہ ہو گا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: ابن جدعان نے تو ایک دن بھی یہ نہیں کہا: اے میرے ربّ! قیامت کے روز میری خطائیں بخش دینا۔ اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ اسلام قبول کر لیتا تو حالت ِ کفر میں سر انجام دیئے گئے اعمالِ خیر اس کے لیے مفید ثابت ہوتے۔
یہی مسلک مختلف احادیث کی روشنی میں برحق ہے، کسی کو اس کی مخالفت زیب نہیں دیتی۔ علامہ سندھی نے سنن نسائی پر اپنے حاشیے میں کہا:یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کافر کی نیکیاں موقوف ہوتی ہیں، اگر وہ مشرف باسلام ہو جائے تو وہ مقبول ہو جاتی ہیں، وگرنہ مردود۔ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ارشاد کو ان کافروں پر محمول کیا جائے گا، جو کفر کی حالت میں مر جائیں گے: {وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَعْمَالُہُمْ کَسَرَابٍ } (سورۂ نور: ۳۹) … کافر لوگوں کے اعمال تو سراب کی طرح (بے حقیقت) ہیں۔
ظاہر بات تو یہی ہے کہ درج بالا مسلک کی مخالفت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان بہت وسیع ہے۔
علامہ سندھی رحمتہ اللہ علیہ نے جو آیت ذکر کی ہے، اس قسم کی تمام آیات کا یہی مفہوم ہے، جن میں شرک کی وجہ سے عمل ضائع ہونے کی وعیدیں بیان کی گئی ہیں، مثلا ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَقَدْ اُوحِیَ اِِلَیْکَ وَاِِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ} (سورۂ زمر: ۶۵) … (اے محمد!) آپ کی طرف اور آپ سے پہلے والے (انبیا و رسل) کی طرف یہ وحی کی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو ضرور ضرورر تیرے عمل ضائع ہو جائیں گے اور تو ضرور ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔
ان اور اس موضوع سے متعلقہ تمام آیات کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا، جو شرک کی حالت میںمرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْن} (سورۂ بقرہ: ۲۱۷) … اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے مرتد ہوئے اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر ہوں، تو دنیا و آخرت میں ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور یہی لوگ جہنمی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اس بحث پر ایک اور فقہی مسئلہ مرتّب ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ایک مسلمان حج ادا کرنے کے بعد مرتد ہو جاتا ہے، پھر ارتداد کے بعد مشرف باسلام ہو جاتا ہے، تو اس کاسابقہ حج ضائع نہیں ہو گا اور دوبارہ حج کرنا اس پر فرض نہیں ہو گا۔ امام شافعی کا یہی مسلک ہے، لیث بن سعد کا ایک قول بھی اسی کے حق میں ہے۔ امام ابن حزم نے اسی مسلک کو ترجیح دی اور اس کے حق میں بہت عمدہ اور مضبوط کلام کیا ہے۔ میں اس کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں:جو مسلمان حج و عمرہ کی ادائیگی کے بعد مرتد ہو جائے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے کر جہنم سے بچالے اور وہ مسلمان ہو جائے تو دوبارہ حج اور عمرہ کی ادائیگی اس پر عائد نہیں ہو گی، امام شافعی کا یہی مسلک ہے اور لیث بن سعد کا بھی ایک قول یہی ہے۔
جبکہ امام ابوحنیفہ، امام مالک اور ابوسلیمان کا خیال ہے کہ اس کا سابقہ حج یا عمرہ ضائع ہو جائے گا اور اسے یہ فریضہ دوبارہ ادا کرنا پڑے گا، انھوں نے اپنی رائے کے حق میں یہ آیت پیش کی: {لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ }(سورۂ زمر: ۶۵) … اگر تونے شرک کیا تو تیرے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔ اس مسلک کے قائلین نے صرف یہ دلیل پیش کی ہے، لیکن در حقیقت یہ دلیل ان کے لیے حجت نہیں ہے ، کیونکہ اس آیت میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اگر مشرک شرک کی حالت میں مر جاتا ہے تو اس کے اعمال ضائع ہو جائیں گے، لیکن اگر وہ مسلمان ہو جاتا ہے تو اس کے سابقہ اعمال صالحہ محفوظ کر لیے جائیں گے۔ یہی حق ہے، اس میں کوئی شائبہ نہیں۔ ہاں یہ بات مسلم ہے اگر مشرک حالت ِ شرک میں حج، عمرے، نماز، روزے اور زکوۃ جیسے اعمال کرتا ہے تو یہ واجبات اس سے کفایت نہیں کریں گے، (کیونکہ ان اعمال کا شرعی احکام کے مطابق شروط و قیود کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے)۔ اس آیت کے آخری جملے {وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْن} (اور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔ ) پر غور کریں۔ اس جملے سے بھی یہ استدلال کرنا درست ہے کہ اگر مرتد مشرف باسلام ہو جاتا ہے، تو قبولیت ِ اسلام سے پہلے والے سر انجام دیئے گے اعمالِ صالحہ ضائع نہیں ہوں گے، بلکہ ان کو لکھ لیا جائے گا اور ان کا ثواب دیا جائے گا، کیونکہ امت ِ مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ اگر مرتد دوبارہ اسلام قبول کر لیتا ہے تو یقینا فلاح پانے والوں اور کامیاب و کامران ہونے والوں میں سے ہو جائے گا اور خسارہ اٹھانے والوں میں سے نہیں رہے گا۔ پس معلوم ہوا جس مشرک کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں وہ وہ ہوتا ہے جو کفر و شرک اور ارتداد کی حالت میں مر جاتا ہے۔
غور فرمائیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْن} (سورۂ بقرہ: ۲۱۷) … اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے مرتد ہوئے اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر ہوں، تو دنیا و آخرت میں ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے او ریہی لوگ جہنمی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس آیت ِ کریمہ میں یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ مرتد کے اعمال اس وقت ضائع ہو جائیں گے، جب وہ کفر کی حالت میں مر جائے گا۔ نیز اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرمودات نیک اعمال کے باقی رہنے کے بارے میں عام ہیں: {اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی } (سورۂ آل عمران: ۱۹۵) … میں کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، وہ مرد ہو یا عورت۔ {فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہ} (سورۂ زلزلہ: ۷) … جو ذرہ برابر نیک عمل کرے گا، وہ اسے دیکھ لے گا۔ نیک اعمال کی حفاظت اور ضائع نہ ہو جانے کے بارے میں یہ عام آیات ہیں، کسی قرینہ کے بغیر ان کی تخصیص نہیں کی جا سکتی، سو معلوم ہو ا کہ جب مرتد دوبارہ اسلام قبول کر لیتا ہے تو اس کا سابقہ حج و عمرہ محفوظ ہو جاتے ہیں۔
سیدنا عمرو بن عبسہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بوڑھا آدمی لاٹھی کے سہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں نے دھوکے، خیانتیں اور برائیاں کی تھیں، کیا پھر بھی مجھے بخش دیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو یہ شہادت نہیں دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، بلکہ میں تو یہ گواہی بھی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے دھوکوں، خیانتوں اور برائیوں کو بخش دیا گیا ہے۔
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب تک لوگ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا اقرار نہیں کریں، میں ان سے لڑتا رہوں، جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں گے تو اپنے خون اور مال بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ جب سیدنا ابو بکر ؓ کے زمانے میں زکاۃ کے انکار کا سلسلہ شروع ہوا اور (سیدنا ابو بکر ؓ نے ایسے لوگوں سے لڑنا چاہا تو) سیدنا عمر ؓ نے ان سے کہا: آپ ان لوگوں سے کیسے قتال کریں گے، جب کہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا (کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے بعد مال اور خون محفوظ ہو جاتے ہیں)، لیکن سیدنا ابو بکرؓ نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ایسے لوگوں سے لڑیں گے، میں نماز اور زکوۃ میں کوئی فرق نہیں کرتا اور میں اس سے لڑوں گا جو ان کے درمیان فرق کرے گا۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: پھر ہم نے سیدنا ابو بکر ؓ کے ساتھ مل کر ایسے لوگوں سے قتال کیا اور ہمیں یہ سمجھ آ گئی تھی کہ یہی معاملہ ہدایت والا ہے۔
فوائد: …سیدنا ابو بکر صدیق کے دورِ خلافت میں دو قسم کے مرتدین پیدا ہو گئے تھے، ایک وہ جو اسلام سے مرتد ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا ہی انکار کر دیا، جیسے مسیلمہ اور اسود عنسی اور ان کے پیروکار، خلیفۂ اول نے ان سے جہاد کیا، یہ دونوں قتل ہو گئے اور ان کا شیرازہ بکھر گیا، دوسرے وہ جنھوں نے نماز اور زکاۃ میں فرق کیا اور زکاۃ کی فرضیت کا انکار کر دیا، سیدنا ابو بکر ؓنے ان سے بھی قتال کیا، شروع میں سیدنا عمر ؓنے اس پر موافقت نہیں کی تھی، لیکن بعد میں وہ قائل ہو گئے تھے۔